Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode08

Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode08

شفق کا آج یونیورسٹی میں پہلا دن تھا وہ اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف جا رہی تھی جب اس کی ہیل کی وجہ سے پیر مڑا اور وہ دائیں طرف اپنے برابر سے گزرتے لڑکے پر گری
ارقم جو عالی کو اس کے ڈیپارٹمنٹ میں چھوڑ کر واپس اپنے ڈیپارٹمنٹ میں جارہا تھا کہ شفق کے قریب سے گزرتے ہوئے شفق کے خود پر گرنے کے لیے بلکل تیار نہ تھا اس وجہ سے سیدھا اسنے گر کر زمین کو سلامی دی
شفق نے خود کو لڑکے پر گرا دیکھا تو جلدی سے اس پر سے کھڑی ہوگئ جبکہ شرمندگی سے اس کے گال سرخ ہو چکے تھے
سوری ۔۔۔۔۔
شفق جلدی سے ارقم کو کھڑے ہوتے دیکھ کر بولی
شٹ اپ۔۔ نان سنس۔۔۔۔۔ اگر چلنا نہیں آتا تو ہیل مت پہنا کرو ۔۔۔۔۔۔
ارقم اس کی ہیل کو دیکھتے ہوئے غصے سے اس سے بولا اور شفق کی بات سنے بغیر اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف بڑھ گیا
جبکہ اس کی باتیں سن کر شفق کو انتہا سے زیادہ سبکی ہوئی اور وہ بھی جلدی سے اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف چل دی اس کا پہلا دن ہی خراب شروع ہوا تھا اب آگے کیسا دن گزرتا ہے یہ تو بعد میں پتا چلے گا
وہ کلاس میں داخل ہوئی تو فرنٹ پر موجود ایک لڑکی کے ساتھ بیٹھ گئی اس لڑکی نے پرپل اور سفید رنگ کا ٹراؤزر اور شرٹ پہنی ہوئی تھی اور سفید دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا جس میں اس کا گورا رنگ دمک رہا تھا
ہائے میں شفق اور آپ ؟
شفق نے اپنے ساتھ بیٹھی لڑکی سے پوچھا
علیشبہ نام ہے میرا ۔۔۔۔
عالی نے شفق کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جس نے جینز کے ساتھ بلیک کرتا پہنا ہوا تھا اور دوپٹہ گلے میں سکارف کی صورت میں ڈالا ہوا تھا
نائیس نیم آپ کی پرسنیلٹی پر سوٹ کرتا ہے اور آپ مجھے شفی پکار سکتی ہیں مجھے پیار سے سب یہی بلاتے ہیں۔۔۔۔
شفق علیشبہ کا نام سن کر بولی۔۔۔۔
شکریہ شفی اور آپ مجھے عالی پکار سکتی ہیں ۔۔۔۔
عالی شفق کی بات سن کر مسکرا کر بولی
اوکے عالی کیا آپ میری دوست بنو گی ۔۔۔۔۔
شفق اپنا ہاتھ عالی کے سامنے بڑھاتے ہوئے بولی جسے عالی نے فورا تھام لیا اور مسکرا کر بولی
ضرور بنو گی ۔۔۔۔۔
ابھی وہ دونوں کوئی اور بات کرتی کہ کلاس میں سر داخل ہوئے تو وہ دونوں خاموش ہوگئیں
عینی برتن دھو رہی تھی جب شاہزین کچن میں داخل ہوا اور فریج سے بوتل نکال کر پانی گلاس میں ڈال کر پینے لگا جبکی نظریں عینی ہر جمی تھیں
عینی جو اپنے دھیان سے کام کر رہی تھی اور اسے شاہزین کے کچن میں داخل ہونے کی خبر نہ ہوئی تھی خود پر کسی کی نظریں محسوس کر کے اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو شاہزین اسے ہی دیکھ رہا تھا
عینی کے دیکھنے پر شاہزین نے اسے آنکھ ماری جبکہ عینی کو اس کی حرکت پر جی بھر کر غصہ آیا اور اس کا دل کیا اس کی آنکھیں نوچ لے مگر بےبسی کے احساس کے ساتھ وہ شاہزین کو نظرانداز کر کے دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگئی جبکہ دل اس کا زور سے دھڑک رہا تھا
شاہزین نے اس کا نظرانداز کرنا محسوس کیا تو غصے سے گلاس عینی کو پکڑانے آگے بڑھا اور عینی کے آگے گلاس کیا
اسے اپنے قریب کھڑے دیکھ کر عینی تھوڑے فاصلے ہر کھڑی ہوئی اور اس سے گلاس پکڑنے لگی کہ شاہزین نے اس کے پکڑنے سے پہلے گلاس نیچے گرا دیا
جلدی نہیں پکڑ سکتی تھی تمھاری وجہ سے میرا ہاتھ تھک گیا تھا اور یہ گلاس چھوٹ کر گر گیا
شاہزین نے غصے سے اس کا ہاتھ زور سے پکڑتے ہوئے کہا اور مزید بولا
آئندہ مجھے اگنور کرنے کی کوشش بھی مت کرنا تمھاری اتنی اوقات نہیں کہ مجھے شاہزین تیمور کو اگنور کرو سمجھی تم
عینی نے اپنے ہاتھ پر شاہزین کی وحشی گرفت محسوس کرکے جلدی سے اپنا سر ہلایا جبکہ اس کی آنکھوں میں آنسوؤں جمع ہوگئے تھے
کسی کے قدموں کی آواز سن کر شاہزین اس کا ہاتھ چھوڑ کر جلدی سے تھوڑے فاصلے پر کھڑا ہوا اور جلدی سے کشن سے باہر نکل گیا اسے عینی کو تنگ کر کے سکون ملتا تھا تبھی اس نے عینی کو تنگ کرنا شروع کیا تھا
شاہزین کے کچن سے جاتے ہی دو آنسو عینی کی آنکھوں سے ٹوٹ کر بے مول ہوئے تھے رزیہ کو کچن میں داخل ہوتے دیکھ وہ جلدی سے اپنا رخ موڑ کر بازو سے اپنی آنکھوں کو صاف کرکے نیچے گرے کانچ کو چننے لگی
ہاشم جو اس وقت ایک میٹنگ میں مصروف تھا اپنے موبائل پر میسج آتے دیکھا تو اسے بعد میں کھولنے کا سوچا مگر میسج پر احمر زمان کا نام دیکھ کر اس نے میسج کھولا تو اس میں حمنا اور شاہزیب کی تصویر موجود تھی جس میں شاہزیب نے حمنا کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور حمنا اس کی بات پر ہنس رہی تھی۔۔۔۔
تصویر دیکھ کر ہاشم نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچی جبکہ آنکھیں اس کی ضبط کرنے کی وجہ سے سرخ ہوگئ تھیں
ہاشم میٹنگ کے ختم ہوتے ہی لمبے لمبے ڈھگ بھرتا اپنے آفس میں گیا مگر جاتے ہوئے اپنی سیکرٹری سے ڈسٹرب نہ کرنے کا کہنا نہیں بھولا
اسے سخت نفرت تھی حمنا کا دوسرے مردوں کے ساتھ گھومنا پھرنا اور حمنا نے بھی اس کی ناپسندیدگی دیکھتے ہوئے ایسا کرنا چھوڑ دیا تھا مگر آج پھر اس کو شاہزیب کے ساتھ دیکھ کر اسے بے حد غصہ آیا
اس نے سگریٹ سلگاتے ہوئے اپنے موبائل سے حمنا کا نمبر ملایا جو چوتھی بیل پر اٹھا لیا گیا
ہیلو ہاشم کوئی کام تھا تمھیں یا میری یاد آرہی تھی ؟
حمنا فون اٹھاتے ہی بولی ۔۔۔۔
تم بھولتی ہی نہیں تو یاد کیا کروں گا اور ایک کام تھا کیا تم سٹڈی روم میں دیکھو گی کہ میری بلیک فائل پڑی ہے ؟
ہاشم حمنا سے بولا۔۔۔۔
سوری ہاشم میں اس وقت گھر نہیں ہوں تم گھر کسی ملازم کو فون کر کے پوچھ لو۔۔۔۔
حمنا ہاشم کی بات سن کر بولی
اچھا ٹھیک ہے ویسے کہاں ہوں تم اس وقت ؟
ہاشم نے سگریٹ کا کش لیتے ہوئے پوچھا
میں اپنی ایک کالج کی دوست کے ساتھ لنچ پر آئی ہوئی ہوں کیوں کوئی پروبلم ہے ؟
نہیں کوئی پروبلم نہیں ہے سوئٹ ہارٹ میں بعد میں بات کرتا ہوں تم سے
ہاشم نے اس کا جھوٹ سن کر اپنے غصے کو ضبط کرتے ہوئے کہا اور فون بند کر دیا وہ فلحال دیکھنا چاہتا تھا کہ اور کونسے جھوٹ حمنا بولتی ہے ۔۔۔۔۔
ہاشم نے ایک آدمی کو کال ملائی اور اس سے بولا
میں چاہتا ہوں تم حمنا ہاشم میری بیوی پر نظر رکھو وہ کہاں جاتی ہے کیا کرتی ہے کس سے ملتی ہے مجھے ساری رپورٹ چاہیے اور اسے خبر بلکل بھی نہیں ہونی چاہیے
دوسری جانب سے کچھ کہا گیا جس کے جواب میں ہاشم بولا
تم پیسوں کی فکر مت کرو منہ مانگی قیمت دوں گا
ہاشم نے جواب دے کر فون بند کیا اور کرسی پر بیٹھ گیا وہ حمنا سے محبت ضرور کرتا تھا مگر اتنی بھی نہیں کہ اس کے جھوٹ بولنے پر اندھا اعتماد ہی کرتا رہتا ۔۔۔۔۔۔ اگر وہ اسے دھوکا دے رہی ہوئی تو وہ حمنا کے ساتھ جو کرے گا وہ حمنا سوچ بھی نہیں سکتی۔ ۔۔۔۔
حمنا نے ہاشم کی کال بند کر کے اپنے سامنے بیٹھے شاہزیب کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا
لگتا ہے تم ہاشم سے بہت ڈرتی ہو تبھی اس سے جھوٹ بولا ہے تم نے ۔۔۔۔۔۔
زیبی نے حمنا سے پوچھا جس کے جواب میں حمنا منہ بگاڑتے ہوئے بولی
بلکل بھی نہیں میں ہاشم سے بلکل بھی نہیں ڈرتی اسے پسند نہیں کہ دوسرے مردوں کے ساتھ گھوموں پھروں اور میرا اس وقت بلکل بھی موڈ نہ تھا اس کی دقیانوسی لیکچر سننے کا یہ بات چھوڑو تم بتاؤ کیا کہہ رہے تھے
میں کہہ رہا تھا کہ میں کل ایک ہفتے کے لیے اپنے بزنس کے سلسلے میں اسلام آباد جا رہا ہوں۔۔۔۔۔
شاہزیب اس کی بات سن کر بولا
اچھا۔۔۔۔ مگر ایک ہفتے بعد آجانا تمھارے ساتھ ٹائم گزار کر اچھا لگتا ہے
حمنا اداس سی بولی
ہاں ضرور ایک ہفتے بعد یہاں ہوں گا ۔۔۔۔۔
شاہزیب نے جواب دیا تو حمنا نے اپنا سر ہلایا اور وہ اپنی دوسری باتوں میں مصروف ہوگئے
ماضی :
دورید اور حدید دو بھائی تھے ان کے والدین کی وفات ایک ایکسڈینٹ میں ہوگئی تھی ان کے بعد دورید گاؤں کا سردار بنا اور اپنے بھائی حدید کو سنبھالا اور اس کو پڑھایا بھی خود وہ بھی پڑھنا چاہتا تھا مگر گاؤں کی ذمےداری کی وجہ سے پڑھ نہ سکے دورید صاحب بڑے تھے اور ان کی شادی ان کی کزن زارا سے ہوئی اور شادی کے ایک سال بعد ان کے ایک بیٹا ہوا جس کا نام حدید نے ہاشم دورید بخت رکھا
ہاشم جب دو سال کا ہوا تو حدید صاحب نے اپنی پسند کی شادی رمنا بیگم سے کر لی
ان کی شادی کے دو سال بعد ارقم پیدا ہوا ہاشم ارقم سے بے حد پیار کرتا تھا اور اس کے ساتھ ہی سوتا کھیلتا تھا
وقت کام گزرنا ہے وہ گزر جاتا ہے جب ہاشم چھ سال کا ہوا تو ایک رات زارا بیگم سوئی تو پھر نہ اٹھ سکیں یہ سب کے لیے صدمے کی بات تھی اپنی ماں کی وفات کے بعد ہاشم خاموش رہنے لگا۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *