Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes NovelR50820 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode26
Rate this Novel
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode01 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode02 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode03 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode04 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode05 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode06 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode07 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode08 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode09 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode10 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode11 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode12 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode13 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode14 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode15 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode16 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode17 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode18 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode19 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode20 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode21 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode22 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode23 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode24 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode25 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode26 (Watching)Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode27 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode28 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode29 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode30 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode31 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode32 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode33 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode34 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode35 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode36 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Last Episode
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode26
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode26
ہاشم تھوڑی دیر حویلی رک کر حدید صاحب سے بات کر کے واپس آچکا تھا اور کسی نے اس سے بات نہیں کی تھی رمنا بیگم نے بھی بس تھوڑی بہت بات ہی کی تھی ۔۔۔۔۔
وہ واپس آکر دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گیا تھا لیکن اب اسے حدید صاحب کی وجہ سے تھوڑا سکون ہو گیا تھا۔۔۔۔
صبح عینی اپنے معمول کے مطابق اٹھی اور نماز پڑھ کر ہادی کے کمرے میں اسے ایک نظر دیکھنے گئی اسے سوتا دیکھ کر وہ واپس اپنے کمرے میں آگئی اور شاہزین کو سوتا دیکھ شاپنگ بیگز اٹھا کر ان میں سے چیزیں نکال کر الماری میں رکھنے لگی ہادی کی چیزیں وہ پہلے ہی الگ کر چکی تھی۔۔۔۔۔۔
ساری چیزیں رکھنے کے بعد اس نے ایک اچھا سا ڈریس نکالا اور شاور لے کر چینج کر کے کانوں میں بالیاں پہن کر اور ہلکا سا میک اپ کر کے وہ تیار ہو کر اب شاہزین کو اٹھا رہی تھی ۔۔۔۔۔
شاہزین اٹھ جائیں نو بج گئے ہیں۔۔۔۔۔
افف ۔۔۔۔ حور یار تھوڑی دیر سونے دو بس آج کا دن ہی ہے پھر کل سے تو مجھے آفس جانا ہے اور پھر جلدی اٹھنا پڑنا ہے۔۔۔۔۔
وہ بنا اپنی آنکھیں کھولے حور سے بولا اور دوسری طرف کروٹ لے کر دوبارہ سونے لگا کہ اس کے کانوں میں دوبارہ حور کی آواز پڑی۔۔۔۔
شاہ پ۔۔۔پلیز اٹھ جائیں نہ ۔۔۔۔۔۔
اس کی منت بھری آواز سن کر آخر وہ اٹھ ہی گیا
وہ اٹھ کر بیٹھا اور آنکھیں کھول کر عینی کو گھورنے لگا تھا کہ اسے تیار ہوا دیکھ کر اس کی آنکھیں پوری کھل گئیں اور پھر اس نے مسکراتے ہوئے عینی کو اوپر سے نیچے تک دیکھا وہ سفید شارٹ فراک اور پجامے میں ملبوس شاہزین کا صبح صبح ہی دل دھڑکا گئی تھی۔۔۔۔
ش۔۔۔شاہزین ایسے مت دیکھیں ا۔۔۔اور جلدی تیار ہو جائیں ۔۔۔۔
وہ شاہزین کو مسلسل خود کو دیکھتے پا کر سرخ ہوتی ہوئی بولی۔۔۔۔۔
سویٹ ہارٹ تم تو بہت ہی شرمیلی ہو ۔۔۔۔۔
تو شاہزین قہقہہ لگاتا ہوا بولا
و۔۔وہ آپ تیار ہو جائیں میں ہادی کو جگا کر آتی ہوں۔۔۔۔
وہ سرخ پڑتی جلدی سے کمرے سے جانے کے لیے پرتولتی بولی تو شاہزین نے جلدی سے بیڈ سے اٹھ کر عینی کو پیچھے سے اپنے حصار میں لیا جو دروازے کی طرف رخ کیے باہر جانے لگی تھی۔۔۔۔
ارے یار اتنی پیاری تیار ہوئی اپنی تعریف سنے بغیر ہی چلی جاؤ گی ۔۔۔۔۔
وہ اس کی گال چوم کر شرارت سے بولا۔۔۔۔
و۔۔۔وہ میں آ۔۔۔۔پ۔۔۔۔
وہ کنفیوز ہوتی اسے کوئی جواب نہیں دے پارہی تھی
آج تم میرے لیے تیار ہوئی ہو نہ تو مجھے بے حد اچھا لگا ہے ایسے ہی روز اچھا سا تیار ہو کر مجھے اٹھایا کرو اور میں روز تمھاری ڈھیر ساری تعریف کیا کروں گا۔۔۔۔
وہ اس کا دوسرا گال چوم کر بولا۔۔۔۔۔
ش۔۔شاہ آپ بہت بدتمیز ہیں ۔۔۔۔۔۔
وہ اپنا سرخ چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر بولی تو شاہزین نے قہقہہ لگایا
لو اس میں کیا بدتمیزی والی بات ہے میں تو صرف اپنی خوبصورت بیوی کی تعریف کر رہا تھا تم ایویں مجھ معصوم پر الزام لگا رہی ہو۔۔۔۔۔۔
وہ اس کا رخ اپنی جانب کیے اس کے منہ پر رکھے ہاتھوں پر بوسہ دے کر بولا۔۔۔۔
ابھی عینی اسے کوئی جواب دیتی کہ کسی کہ دروازہ بجانے کی آواز پر اس نے جلدی سے اپنے منہ سے ہاتھ ہٹائے اور شاہزین سے تھوڑا سا فاصلے پر کھڑی ہو کر دروازے کی جانب دیکھا جہاں سے ہادی اندر داخل ہوا تھا۔۔۔
چھوٹے سالے صاحب سوئے تو ٹھیک تھے رات کو ؟؟؟
شاہزین نے ہادی سے مسکراتے ہوئے واشروم کی طرف جاتے ہوئے پوچھا
بھائی مجھے بہت اچھی نیند آئی ورنہ ہوسٹل میں تو مجھ سے صحیح سے سویا ہی نہیں جاتا۔۔۔۔
شاہزین اس کی بات سن کر اپنی جگہ پر رک گیا اور عینی کی طرف دیکھا جس کی مسکراہٹ ہادی کی آخری بات سن کر سمٹ گئی تھی۔۔۔۔
تم فکر مت کرو اب سے تم نے یہاں ہی عینی اور میرے ساتھ رہنا ہے کل ہم تمھارا ایڈمیشن کسی دوسرے سکول میں کروا دیں گے۔۔۔۔۔
اس کی بات سن کر ہادی نے عینی کی طرف دیکھا جو خود حیرانی سے شاہزین کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
عینی اپی کیا شاہزین بھائی سچ بول رہے ہیں ؟؟ کیا اب میں آپ کے ساتھ رہوں گا۔۔۔۔۔
ہاں بلکل ابھی تو شاہزین نے تمھیں بتایا ہے۔۔۔۔
وہ نم آنکھوں سے مسکرا کر ہادی کا سر چوم کر بولی تو وہ خوش ہوتا ہوا اس کے گلے لگ گیا۔۔۔۔
عینی نےباس سے الگ ہو کر اسے صوفے پر پڑے اس کے شاپنگ بیگز میں سے اسے ایک سوٹ نکال کر دیا اور اسے جلدی سے فریش ہونے بھیجا جب ہادی چلا گیا تو عینی شاہزین کا انتظار کرنے کے لیے بیڈ پر بیٹھ گئی اور اس کے شاور لے کر آنے کا انتظار کرنے لگی ۔۔۔۔۔
شاہزین شاور لے کر آیا اور عینی کو ایک نظر بیڈ پر بیٹھے دیکھ کر جلدی سے اپنے بال ڈرائے کرکے بال سیٹ کیے اور عینی کی طرف دیکھا جو اس سے کچھ پوچھنے کو پرتول رہی تھی وہ جانتا تھا یقینا جو اس نے ہادی سے کہا ہے وہ ہی عینی نے پو چھنا ہے۔۔۔۔۔
ک۔۔کیا واقعی ہادی اب ہمارے ساتھ رہے گا۔۔۔۔
عینی نے دھیمی آواز میں پوچھا ۔۔۔۔۔
سویٹ ہارٹ کیا تمھیں لگ رہا تھا کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں۔۔۔۔ وہ اب یہیں رہے گا رزیہ سے ساتھ والا کمرہ ہادی کے لیے سیٹ کروا لینا بلکہ میں اسے خود کہہ دوں گا اور اب اٹھو ہادی کو کمرے سے لے کر نیچے ناشتہ کرنے چلتے ہیں۔۔۔۔۔
وہ عینی سے بولا اور آخر میں عینی کے سامنے ہاتھ پھیلایا جسے عینی نے مسکراتے ہوئے تھام لیا تھا۔۔۔۔
وہ ہادی اور عینی کے ساتھ نیچے گیا جہاں آج سحر بیگم بھی تیمور صاحب اور شفق کے ساتھ ہی موجود تھیں۔۔۔۔
انھیں ڈائننگ ہال میں داخل ہوتے دیکھ سحر بیگم نے نخوت سے اپنا رخ موڑا
جبکہ تیمور صاحب اور شفق نے عینی کے سلام کا جواب دیا جس نے آتے ہی سلام لیا تھا۔۔۔۔
ڈیڈ یہ عینی کا بھائی ہادی ہے اور اب ہمارے ساتھ ہی رہے گا۔۔۔۔۔
شاہزین نے ہادی کو عینی کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا کر تیمور صاحب سے خود بھی بیٹھتے ہوئے کہا۔۔۔
یہ کوئی یتیم خانہ نہیں جو تم ہر کسی کو اٹھا کر میرے گھر لا رہے ہو نکالو اسے فورا میرے گھر سے باہر۔۔۔۔
سحر بیگم کو تو شاہزین کی بات سن کر پتنگیں لگ گئی اور تیمور صاحب کے کچھ بولنے سے پہلے ہی بول پڑیں جبکہ شفق جو ہادی سے بات کرنے لگی تھی سحر بیگم کی بات اسے سخت ناگوار گزری جبکہ شاہزین اور تیمور صاحب نے بھی سحر بیگم کی بات سن کر انھیں ناپسندیدہ نگاہوں سے دیکھا اور عینی تو خاموشی سے بیٹھی اپنے لب کاٹ رہی تھی اور ہادی سحر بیگم کی طرف دیکھ رہا تھا وہ اتنا بھی بچہ نہیں تھا کہ ان کی بات نہ سمجھ پاتا ۔۔۔۔۔
سحر یہ گھر تمھاری اکیلی کا نہیں ہے اور ابھی میں زندہ ہوں کہ فیصلہ کرسکوں کہ کون یہاں رہے گا اور کون نہیں اور مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔۔۔
تیمور صاحب سخت لہجے میں بولے ۔۔۔۔۔
بلکل نہیں تیمور ایک کام والی کو تو آپ پہلے ہی شاہزین کی بیوی بنا رہے ہیں اب اس کا بھکاری بھائی یہاں میں بلکل بھی برداشت نہیں کروں گی۔۔۔۔۔
حور ہادی کو لے کر کمرے میں جاؤ ۔۔۔۔۔
شاہزین نے سحر بیگم کی بات سن کر ضبط سے سرخ پڑتے چہرے سے عینی سے کہا جو سحر بیگم کی بات سن کر اسے ساتھ لگائے بیٹھی تھی شاہزین کی بات سن کر وہ فورا ہادی کو لے کر کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔
اب تم حد سے بڑھ رہی ہو سحر۔۔۔۔۔
ایک منٹ ڈیڈ میں موم سے بات کرتا ہوں ۔۔۔۔۔ آپ کیا چاہتی ہیں چلا جاؤ یہاں سے چھوڑ دو یہ گھر تا کہ آپ اپنے گھر میں سکون سے رہ سکیں۔۔۔۔۔
مجھے قطعی منظور نہیں کہ آپ حور کی اور ہادی کو ہر وقت بے عزت کرتی رہیں وہ اب یہی حور کے ساتھ اس گھر میں رہے گا اگر آپ کو مسئلہ ہے تو ابھی بتا دیں میں حور کو اپنے ساتھ یہاں سے لے جاؤ گا۔۔۔۔۔
شاہزین تیمور صاحب کو روکتا ہوا خود سحر بیگم سے بولا جن کا غصہ اس کے گھر چھوڑنے کی بات پر جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔
تمھیں یہاں سے جانے کی ضرورت نہیں ہے ایک ہی تو تم میرے بیٹے ہو اور اسے بھی میں کسی غیر کے پیچھے نہیں چھوڑ سکتی ۔۔۔۔۔
وہ بول کر اپنے کمرے میں چلی گئی تو تیمور صاحب بھی اسے حوصلہ دیتے ہوئے باہر چلے گئے جبکہ شاہزین کے جانے کے بعد شفق بھی اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔
شاہزین رزیہ کو ناشتہ کمرے میں لانے کا بول کر اپنے کمرے میں چلا آیا تھا۔۔۔۔
وہ کمرے میں داخل ہوا تو کمرے کا منظر دیکھ کر اس کا دل میں درد سا اٹھا۔۔۔۔۔
عینی ہادی کو ساتھ لگائے رو رہی تھی جبکہ ہادی بھی رو رہا تھا ۔۔۔۔۔
شاہزین نے عینی کے قریب جا کر ہادی کو عینی سے الگ کر کے اس کے آنسو صاف کیے اور اسے اپنے ساتھ بیٹھا کر بولا۔۔۔۔
چھوٹے سالے صاحب مرد رویا نہیں کرتے ایسی باتوں کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ تمہیں تو اپنی آپی کو بھی رونے نہیں دینے چاہیےِ تھا ۔۔۔۔
وہ ہادی کو سمجھا کر بولا جو اب چپ کر گیا تھا جبکہ اس نے آخری بات پر عینی کی طرف دیکھا جو اپنے آنسو صاف کرکے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
تھوڑی دیر دونوں کو سمجھانے کے بعد اس نے ہادی اور حور دونوں کو فریش ہونے بھیجا رزیہ ناشتہ بنا کر کمرے میں دے گئی تھی ۔۔۔۔۔
حور اور ہادی کے آنے کے بعد انھوں نے ناشتہ کرنا شروع کیا۔۔۔۔۔
علیزے ہال میں بیٹھی بظاہر تو رمنا بیگم کی باتیں سن رہی تھی جبکہ وہ خود تو سوچوں میں گم تھی اس کے ذہن میں ہاشم کے جانے کے بعد کل سے صرف ایک خیال آرہا تھا کہ کیا اب ہاشم حمنا کے چھوڑنے کے بعد کیا اس کے نصیب میں ہوگا ۔۔۔۔۔
اسے لگتا تھا کہ ہاشم کبھی بھی اسے پسند نہیں کرے گا اور اگر وہ کر بھی لیں تو ارقم کبھی بھی اس کی ہاشم سے شادی نہیں ہونے دے گا۔۔۔۔۔
عالی۔۔۔۔
وہ رمنا بیگم کے ہلانے سے اپنی سوچوں سے باہر آئی۔۔۔
تم میری بات سن بھی رہی تھی عالی یا نہیں ؟؟؟
وہ سوری امی سن نہیں سکی آپ کیا کہہ رہی تھیں۔۔۔۔
علیشبہ نے جواب دیا تو رمنا بیگم نفی میں سر ہلاتی دوبارہ بولیں۔۔۔۔
میں کہہ رہی تھی کہ میں نے کچھ کھانے لا سامان بھی پیک کر دیا یے وہ بھی ساتھ لے جانا اور ارقم کے کچھ نئے کپڑے میں نے سلوائے تھے وہ بھی یاد سے رکھ لینا ارقم تو پتا نہیں کہاں گم ہے۔۔۔۔
میں رکھ لوں گی امی۔۔۔ بھائی نے مجھے تین بجے تک تیار ہونے کا کہا تھا اور دو تیس بھی ہوگئے ہیں امی آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا اتنا ٹائم ہو گیا ہے۔۔۔۔
اس کی اچانک گھڑی پر نظر پڑی تو جلدی سے اٹھتی رمنا بیگم سے بولی۔۔۔۔
تمھیں ہی ہوش نہیں تھا پتا نہیں کیا کیا سوچے جا رہی تھی ورنہ میں نے تو دو تین مرتبہ تمھیں بتایا بھی تھا
وہ رمنا بیگم کی بات سن کر جلدی سے اپنے کمرے میں تیار ہونے بھاگی۔۔۔۔
شفق اپنے کمرے میں بور ہو رہی تھی ارقم سے اس کی دو دن سے بات نہیں ہوئی تھی تو اس نے ارقم کو کال کرنے کا سوچا۔۔۔۔۔
ارقم اس وقت زمینوں پر موجود حدید صاحب کے کہنے پر حساب کتاب کرنے آیا تھا اور اب واپس جا رہا تھا جب اسے شفق کی کال آئی وہ چونکہ پیدل ہی آیا تھا اس وجہ سے وہ کال اٹھا کر حویلی کی طرف جاتا ہوا شفق سے بات کرنے لگا۔۔۔۔۔
اسلام و علیکم۔۔۔۔۔۔ارقم !
وعلیکم اسلام ۔۔۔۔ شفق خیریت جو کال کی ؟؟؟
اسے تنگ کرنے کے لیے اس نے پوچھا تو شفق گڑبڑا گئی۔۔۔۔
و۔۔وہ میں و۔۔وہ آپ نے کہا تھا کہ عالی کے نوٹس تیار کر دو میں نے باقی بھی تیار کر دیے ہیں ۔۔۔۔
وہ اس کا گھبرانا محسوس کر کے مسکرایا
ہمم۔۔۔ مجھے لگا شاید تم مجھے یاد کر رہی تھی اسی وجہ سے تم نے کال کی تھی مگر تم نے یہ بات کر کے میری ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا۔۔۔۔
تو آپ نے بھی تو مجھے کال نہیں کی میں دو دن سے انتظار کر رہی تھی اب میں نے کی ہے تو آپ مجھے تنگ کر رہے ہیں۔۔۔۔
وہ روانی میں کیا بول گئی اسے پتا ہی نہیں چلا بات تو اسے تب سمجھ آئی جب اسے ارقم کا ہلکا سا قہقہہ سنائی دیا اور اپنی بات پر غور کیا۔۔۔۔۔
و۔۔۔وہ میرا و۔۔وہ مطلب نہیں تھا۔۔۔۔
وہ جلدی سے بولی۔۔۔۔
تو کیا مطلب تھا پھر مجھے بتا دو ۔۔۔۔ ویسے میں نے اس لیے کال نہیں کی تھی میں تھوڑا مصروف تھا اور اب نہیں تنگ کروں گا کیا تم نے واقعی میرے فون کا انتظار کیا ؟؟
وہ واقع دو دن مصروف تھا حدید صاحب کے ساتھ اسی وجہ سے اسے کال نہیں کر پایا تھا۔۔۔۔
و۔۔۔وہ ہاں میں نے کیا تھا مگر آپ نے کال ہی نہیں کی ۔۔۔۔۔
اس نے دو دن کافی دیر ارقم کی کال کا انتظار کیا تھا مگر ارقم کے کال نہ کرنے پر تنگ آکر اس نے خود ہی کال کر لی اس کا دل اب ارقم سے بات کرنے کو کرتا تھا اس کے ساتھ وقت گزارنے کو کرتا تھا مگر وہ اپنے دل کی حالت سمجھ نہیں پا رہی تھی۔۔۔۔
اچھا تو کیا کر رہی تھی کیسے گزرے دو دن بتاؤ۔۔۔۔
وہ اس کا جواب سن کر مسکراتا ہوا بولا تو شفق بیڈ پر لیٹ کر اسے اپنے دو دن کی تفصیل بتانے لگی ۔۔۔۔۔
حمنا رات کے وقت گھر میں اکیلی تھی اس کے موم ڈیڈ ایک پارٹی میں گئے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں تھی جب نیچے سے اسے آوازیں سنائی دیں گھر میں بس ملازمہ تھی وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور ہال میں جانے لگی کہ دیکھ سکے کہیں ملازمہ نے تو کوئی چیز نہیں توڑ دی ۔۔۔۔
وہ باہر آئی تو ہال میں ملازمہ ڈر کر ایک کونے میں دبکے کھڑی تھی جبکہ اس کے سامنے کوئی نقاب پوش گن لیے کھڑا تھے۔۔۔۔
حمنا کی اسے دیکھ کر چیخ نکل گئی تو دو اور نقاب پوش جو گھر کے کمرے چیک کرنے والے تھے ان میں سے ایک نے آے بڑھ کر جلدی سے حمنا کو پکڑا جو بھاگنے کی کوشش میں تھی۔۔۔۔
حمنا مسلسل خود کو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی جبکہ نقاب پوش جس کے ہاتھ میں گن موجود تھی اسے پتا نہ چلا کہ کب گن کا ٹریگر دبا اور حمنا کے پیٹ میں گولی لگی۔۔۔۔۔
گولی کی آواز سن کر ملازمہ نے چیخ مار کر حمنا کی طرف دیکھا جس کے پیٹ سے خون نکل رہا تھا جبکہ تینوں نقاب پوش جو صرف چوری کرنے آئے تھے اور ان کا کسی کو مارنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا حمنا کے گولی لگتے ہی وہ گھر سے فرار ہوگئے ۔۔۔۔۔
ملازمہ نے جلدی سے نقاب پوشوں کے جاتے ہی ایمبولنس کو کال کی اور ساتھ ہی حمنا کے والدین کو بھی کال کی۔۔۔۔
جبکی حمنا فرش پر گری تکلیف سے دوہری ہو رہی تھی۔۔۔۔
حمنا کو ہاسپٹل لے جایا گیا جہاں پر اس کے والدین بھی پہنچ گئے تھے اور ملازمہ سے انھیں ساری بات پتا چل گئی تھی وہ پریشانی میں بیٹھے تھے جب ڈاکٹر باہر آئی انھیں پتا چلا تھا کہ اسے اس جگہ پیٹ میں گولی لگی تھی کہ اب وہ مشکل سے ہی کنسیو کر سکتی ہے جب کہ اب اس کی حالت بہتر تھی۔۔۔۔۔
اس کے والدین یہ سن کر ہی سکتے میں چلے گئے تھے لیکن اس کے ٹھیک ہونے کی خبر نے انھیں راحت بخشی تھی۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
