Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode30

Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode30

وہ آج ایک ہفتے بعد سب کے ساتھ ناشتہ کر رہا تھا ورنہ تو منہ اندھیرے آفس کے لیے نکل جاتا اور رات کو واپس آتا جب سب سو جاتے تھے۔۔۔۔۔
شاہزین اب تو وہ چلی گئی ہے چھوڑ دو اس کی جان اپنی حالت دیکھو تم نے کیا بنا لی ہے وہ بھی کس کی خاطر ایک معمولی سی کام والی کی خاطر جو پتا نہیں اب کہا گل کھلا رہی ہو گی۔۔۔۔۔
بسس۔۔۔۔۔ موم وہ میری بیوی ہے وہ جہاں بھی ہے میں اسے ڈھونڈ لوں گا آپ کو میری خاطر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے اگر آپ کو میری اتنی ہی فکر ہوتی تو حور کو میری بیوی ہونے کی خاطر کم از کم عزت ہی دے دیتیں۔۔۔۔۔
سحر بیگم کے حور کے خلاف بات کرنے پر بھڑک ہی اٹھا۔۔۔۔
مجھے تمھاری فکر ہے اسی لیے تو میں چاہتی ہوں کہ تم عشا سے شادی کرلو خوش ہوجاو گے اور بھول جاؤ اسے۔۔۔۔
وہ شیریں لہجے میں بولیں۔۔۔۔
میں پہلے سے ہی شادی کر چکا ہوں اور اب میری زندگی میں مزید کسی اور کی گنجائش نہیں ہے یہ آپ جتنی جلدی سمجھ جائیں اتنا اچھا ہے۔۔۔۔۔
وہ ان کی بات سن کر طنزیہ مسکرا کر بولا ۔۔۔۔۔۔۔
سحر اب اس پر مزید کوئی بات نہیں ہوگی ۔۔۔۔۔۔
تیمور صاحب کرخت لہجے میں بولے تو سحر بیگم نے غصے سے اپنے لب بھینچے۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے اگر آپ کو اس پر بات نہیں کرنی تو پھر مجھے آپ سب سے ایک ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔
کل مجھے مسز حاشر کی کال آئی تھی وہ اپنے بیٹے حزیفہ کے لیے شفق کا رشتہ لانا چاہتی ہیں مجھے ان کا بیٹا بھی کافی اچھا لگا تھا میں ملی تھی ان سے شفق کی برتھ ڈے پارٹی پر اس وجہ سے میں نے انہیں ہاں کر دیا ہے وہ اتوار کو رشتہ لے کر آئیں گی۔۔۔۔۔۔
سحر بیگم بولیں تو ان کے ساتھ بیٹھی شفق کا رنگ لٹھے کی مانند سفید ہو گیا تھا۔۔۔۔۔
سحر تمہیں پہلے مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا اور سب سے بڑی بات تمھیں شفق سے بھی رائے لینی چاہیے تھا۔۔۔۔۔
وہ شفق کا اڑا رنگ دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے بولے۔۔۔۔
ڈیڈ بکل ٹھیک کہہ رہے ہیں موم اگر آپ شفق سے پوچھ لیتی تو اچھا ہوتا۔۔۔۔۔
وہ شفق کو خاموشی سے اٹھ کر کمرے کی طرف جاتا دیکھ کر بولا ۔۔۔۔۔
بلکل نہیں تم نے تو اپنی مرضی کر لی ہے لیکن شفق کا رشتہ میں اپنی مرضی سے کروں گی۔۔۔۔۔
موم جہاں میری بہن کہے گی اس کی وہیں شادی ہوگی میں بلکل برداشت نہیں کروں گا کہ شفی کو زبردستی کسی رشتے سے باندھا جائے۔۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے بولتا ہوا اٹھا اور شفق سے بعد سے بات کرنے کا سوچ کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔۔
وہ میری بیٹی ہے اس کی شادی میں اپنی پسند سے ہی کروں گی۔۔۔۔۔
وہ نخوت سے بولیں۔۔۔۔
میں تمھاری ضد کی وجہ سے اپنی بیٹی کی زندگی نہیں خراب کرسکتا اس لیے انھیں فورا فون کر کے منع کر دو ویسے بھی ان کا بیٹا مجھے بلکل بھی پسند نہیں ہے اور جو چیز مجھے نہیں پسند وہ میری بیٹی کو کیسے ہو سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔
تیمور صاحب کرخت لہجے میں بولتے ہوئے اٹھ کر اندر چلے گئے۔۔۔۔۔۔۔
****************
ہاشم آج ہمت کر کے ارقم سے بات کرنے اس کے گھر آیا تھا وہ تقریبا ایک گھنٹے سے باہر کھڑا اندر جاکر کیا کہنا ہے وہ سوچ رہا تھا۔۔۔۔۔
پھر آخر ہمت کرکے اس نے دروازے کی بیل بجائی تو گارڈ نے دروازہ کھولا وہ گارڈ اسے جانتا تھا جب وہ شہر آیا تھا تب اسی گھر میں رہتا تھا۔۔۔۔۔۔
گارڈ نے اسے اندر آنے دیا تو وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اندر کی جانب بڑھنے لگا وہ ہال میں داخل ہوا تو اسے کام والی دکھائی دی اس نے اسے ارقم کو بلانے کہا اور خود ہال میں موجود صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
ارقم جو ابھی اپنی اسائنمنٹ بنا کر فارغ ہوا تھا کہ کمرے کا دروازہ ناک کر کام والی اندر داخل ہوئی اور اسے نیچے ہاشم کے آنے کا بتایا تو وہ غصے سے اپنی جگہ سے اٹھا اوہ تنی ہوئی رگوں کے ساتھ نیچے کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔
تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟؟ فورا نکلو یہاں سے بابا نے صرف تمہیں معاف کیا ہے مگر ہم نے نہیں اس سے پہلے کے میں تمھارا منہ توڑ دوں فورا نکل جاؤ یہاں سے۔۔۔۔
وہ ہال میں داخل ہوتا غصے سے دھاڑتا ہوا بولا۔۔۔۔
ارقم مجھے تم سے بات کرنی پہلے میری بات تحمل سے سن لو ۔۔۔۔۔۔
وہ اطمینان سے بولا تھا اسے ایسے ہی رد عمل کی امید تھی۔۔۔۔۔
مجھے تمھاری کوئی بکواس نہیں سننی تم جیسے مطلب پرست انسان کو میں اچھے سے جانتا ہوں جو صرف اپنے سکون کی خاطر بابا سے معافی مانگنے آیا تھا۔۔۔۔
وہ اس کے مطمئن انداز پر تپ ہی تو گیا تھا۔۔۔۔
انسان اپنی غلطیوں سے ہی سیکھتا ہے اور میں نے سیکھ لیا کے اسی وجہ سے چچا جان سے معافی مانگی تھی ۔۔۔۔۔
ہاشم نے کہا تو ارقم نے صرف ہنکار بھرا۔۔۔۔۔
ارقم دیکھو میری بات سنو ۔۔۔۔ وہ علیشبہ مجھے پسند ہے میں اس سے۔۔۔۔
اس کے منہ سے علیشبہ کا نام سن کر ارقم نے غصے سے اس کا گریبان پکڑا۔۔۔۔
اپنی گندی زبان سے میری بہن کا نام بھی مت لو سنا تم نے اب تمھاری بیوی چھوڑ گئی تو تمہیں میری بہن یاد آگئی وہ کوئی گری پڑی چیز نہیں ہے جو تمھیں پسند آگئی ہے تو ہم تمہیں دے دیں۔۔۔۔۔
میری وجہ سے ہی اس کے کردار پر الزام لگا تھا اب میں ہی وہ مٹانا چاہتا ہوں اور تم ابھی غصے میں ہو اس وجہ سے تمہیں میری بات سمجھ نہیں آرہی ۔۔۔۔
وہ اس کے ہاتھوں کو اپنے گریبان سے جھٹک کر بولا
علیشبہ جو ہال سے آوازیں سن کر باہر آئی تو ارقم اور ہاشم کو ایک دوسرے کے روبرو دیکھ کر وہ اپنی جگہ پر ہی جم گئی وہ اچھے سے جانتی تھی کہ ہاشم یہاں کس وجہ سے موجود ہے۔۔۔۔۔
میں اس کی کسی بھی شخص سے شادی کروا دوں گا مگر تم سے نہیں۔۔۔۔
ارقم غصے سے بولا۔۔۔۔
تم دوبارہ اپنی بہن کی زندگی برباد کر رہے ہو ایک بار اس سے تو پوچھ لو یقین مانو وہ میرے لیے کبھی بھی انکار نہیں کرے گی ۔۔۔۔۔۔
ہاشم علیشبہ کو ارقم کے پیچھے کھڑا دیکھ کر بولا ۔۔۔۔
میں اچھے سے جانتا ہوں کہ میری بہن کے لیے کیا بہتر ہے اس لیے فورا یہاں سے دفع ہو جاؤ۔۔۔۔
میں دوبارہ آؤں گا جب تمھارا غصہ ٹھنڈا ہو جائے گا۔۔۔۔
ارقم کا جواب سن کر وہ نفی میں سر ہلاتا بولا اور چلا گیا۔۔۔۔۔
ارقم نے غصے سے اس کی پیٹھ کو گھورا اور پیچھے مڑا تو علیشبہ کو دیکھ کر اس کا سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا جو پر امید نظروں سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔۔۔لیکن وہ اس کی نظروں کے معنی کو نظر انداز کر کے کمرے میں چلا گیا فلحال وہ سکون سے سوچنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔
•••••••••••••••••••••••••
وہ کمرے میں آئی تو سحر بیگم کی بات یاد کر کے آنسو اس کی آنکھوں سے روانی سے بہنے لگے۔۔۔۔۔
اس کے خیال میں اس نے مزید پڑھنا تھا پھر شادی کے بارے میں سوچنا تھا مگر جان تو اس کی اس وجہ سے جا رہی تھی کہ ارقم کو جب پتا چلا تو وہ کیا کرے گا ۔۔۔۔۔
اس کے دل میں عجیب سا درد اٹھ رہا تھا یہ سوچ کر وہ جانتی تھی کہ تیمور صاحب اس کی رائے ضرور ایک بار پوچھیں گے مگر پھر بھی اسے ڈر لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
اس نے اپنے آنسو صاف کر کے ارقم کو فون کرنے کا سوچا
اس نے فون کیا تو ارقم نے پہلے تو فون اٹھایا ہی نہیں لیکن وہ بھی ڈھیٹ بنی فون پر فون کیے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔
دوسری طرف ارقم جو ہاشم کے جانے کے بعد اپنا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ فون بجنے پر پہلے تو اس نے اگنور کیا لیکن پھر مسلسل کال آنے پر اس نے چڑتے ہوئے بنا کالر آئی ڈی دیکھے کال اٹھا ہی لی۔۔۔۔۔
کون بات کر رہا ہے ؟؟؟
اس نے تھوڑا غصے میں پوچھا کہ دوسری طرف سے شفق اس کی غصے سے بھری آواز سن کر سہم گئی اور جلدی سے بنا کچھ کہے کال کاٹ دی اور فون بند کر کے دوبارہ بیڈ پر لیٹ کر اپنی آنکھیں موند لی جبکہ آنسو اس کی آنکھوں سے دوبارہ بہنا شروع ہوگئے تھے۔۔۔۔
ارقم نے کال اچانک کٹ جانے پر کالر آئی ڈی دیکھی تو شفق کا نام دیکھ کر اس کا سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا اور اس نے ایک پر سکون سانس خارج کرتے ہوئے شفق کو دوبارہ کال ملائی جو اب کال اٹھا ہی نہیں رہی تھی۔۔۔۔۔
ارقم جس کا غصہ ابھی ختم ہی ہوا تھا شفق کے فون دوبارہ نہ اٹھانے پر اس نے فون غصے سے بیڈ پر پھینکا اور گاڑی کی چابی اٹھا کر گھر سے ہی نکل گیا۔۔۔۔۔۔
•••••••••••••••••••••••••
حمنا نے ڈاکٹر حمزہ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ مصروف رہنا شروع کیا اور اپنی فیملی کے ساتھ وقت گزارنے لگی اور نماز بھی باقاعدگی سے ادا کرنے لگی تھی جس کی وجہ سے اب وہ پہلے سے تھوڑی پرسکون تھی مگر نیند اور کھانے پینے کا مسئلہ اسے اب بھی تھا۔۔۔۔۔۔
وہ آج پھر سیشن لینے ڈاکٹر حمزہ کے پاس آئی تھی لیکن اپنے ٹائم سے ایک گھنٹہ پہلے ہی آگئی تھی تاکہ وہ عنایہ سے دوبارہ مل سکے مگر اسے عنایہ کہیں دکھ نہیں رہی تھی پھر آخر مایوس ہوکر وہ اپنی جگہ پر بیٹھ گئی۔۔۔۔
ابھی اسے بیٹھے کچھ دیر ہی ہوئی تھی کہ عنایہ اسے بھاگ کر اپنی طرف آتے یوئے دکھائی دی۔۔۔۔
حمنا آنٹی ۔۔۔۔۔میں نے آپ کا پورا ہفتہ انتظار کیا مگر آپ آئی نہیں۔۔۔۔
وہ پھولی سانسو کے ساتھ اپنے موٹے موٹے گالوں کو پھولاتی ناراض سی بولی کہ حمنا اسے دیکھ کر مسکرا اٹھی اور جھک کر اس کے دونوں گالوں کو چوم کر بولی۔۔۔۔
اگر مجھے پتا ہوتا کہ میرا یہ چھوٹا سا بےبی فرینڈ میرا انتظار کر رہی ہے تو میں روز پ سے ملنے آتی اب آپ نے بتا دیا ہے تو میں روز اپ سے ملنے آیا کروں گی۔۔۔۔۔
سچی۔۔۔۔ میں آپ کا انتظار کروں گی۔۔۔۔
وہ خوش ہوتی اس کی طرف جھکی ہوئی حمنا کے گردن میں باہیں ڈال کر بولی تو حمنا نے ہلکا سا قہقہہ لگا کر اپنا سر ہاں میں ہلایا۔۔۔۔۔
عنایہ کی کئیر ٹیکر بھی اس کے ساتھ ہی حمنا کے قریب بیٹھ کر مسکراتے ہوئے اس کی باتیں سن رہی تھی۔۔۔۔
حمنا اسے کئیر ٹیکر کے ساتھ ہاسپٹل کے گارڈن میں لے آئی تھی جہاں اس نے عنایہ کے ساتھ ہنستے مسکراتے ہوئے ایک اچھا وقت گزارا اور پھر اپنا سیشن لے کر عنایہ سے آخری بار مل کر گھر چلی گئی۔۔۔۔۔
لیکن عنایہ کے ساتھ وقت گزار کے اس کے دل کو سکون میں مل گیا تھا یا یہ کہا جائے کہ اس کی پیاسی ممتا کو راحت مل گئی
••••••••••••••••••••••••••••••
شاہزین شام کو اپنے کمرے سے گاڑی کی چابی لے کر نکالا تو راستے میں اسے سحر بیگم نے اسے روک لیا۔۔۔۔۔
کہاں جارہے ہو اس وقت ؟؟؟
جہاں پہلے جاتا تھا اپنے دوستوں کے ساتھ جا رہا ہوں اور رات ان کے ساتھ ہی گزاروں گا ویسے بھی اپ ہی چاہتی تھی کہ حور چلی جائے اب وہ چلی گئی ہے تو میرا گھر میں روکنے کی کوئی وجہ بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔
وہ سحر بیگم کو جواب دیتا اپنی گاڑی لے کر نکل گیا۔۔۔۔
ایک گھنٹے بعد وہ ایک اپارٹمنٹ کے باہر موجود تھا اس نے آہستہ سے اپنی جیب سے چابی نکالی اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا ۔۔۔۔۔
اپارٹمنٹ میں داخل ہوتے ہی اس لزیز کھانوں کی خوشبو سے اس کے منہ میں پانی آگیا ۔۔۔۔۔
شاہزین آہستہ آہستہ اپنے قدم اٹھاتا کیچن کی طرف گیا جہاں ایک وجود دوپٹے سے بے نیاز کھانا بنانے میں مصروف تھا۔۔۔۔۔
وہ اس کے قریب جاکر اسے ڈرانے ہی لگا تھا کہ اسی وقت وہ وجود اس کی طرف مڑا۔۔۔۔۔
شاہزین آپ آج پھر مجھے ڈرانے لگے تھے۔۔۔۔۔۔
حور اس کی طرف مڑتی خفگی سے بولی تو شاہزین قہقہہ لگاتا اس کے قریب آیا اور پیچھے سے اسے اپنی باہوں میں بھرتے اس کے گال کو شدت سے چوما۔۔۔۔۔
سویٹ ہارٹ تمھیں ڈرانے میں مجھے بہت مزا آتا ہے۔۔۔۔۔
وہ حور کا دوسرا گال بھی چوم کر بولا ۔۔۔۔۔
آپ کا کچھ نہیں ہو سکتا بلکل بچے ہیں آپ۔۔۔
وہ میٹھی مسکان لبوں پر سجائے گلنار چہرے کے ساتھ نفی میں ست ہلاتی بولی۔۔۔۔۔
اور یہ بچا اس سویٹ ہارٹ کا دیوانہ ہے۔۔۔۔ ویسے ہادی کہاں ہے دکھائی نہیں دے رہا؟
وہ سو رہا ہے ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی اسے دوائی دی ہے اس کے سر میں ہلکا ہلکا درد ہو رہا تھا۔۔۔۔۔
اس نے شاہزین کو جواب دیا۔۔۔۔
سویٹ ہارٹ پریشان نہ ہو کل اس کو ڈاکٹر کے پاس دوبارہ لے کر جائیں گے وہ بلکل ٹھیک ہو جائے گا بلکہ اب تو وہ کافی زیادہ ٹھیک ہو گیا ہے۔۔۔۔۔
وہ اس کی پریشان آواز سن کر اس کا رخ اپنی جانب موڑتا اس کے سر کو عقیدت سے چوم کر بولا تو حور نے بھی سکون کا سانس لیا وہ جانتی تھی جب تک شاہزین اس کے ساتھ ہے اسے کوئی مشکل نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *