Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode20

Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode20

وہ عینی کو اپنے ساتھ لیے گاڑی تک آیا اور اس کو اندر بیٹھاتے ہوئے دوسری طرف کا دروازہ کھول کر وہ ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھا اور گاڑی سٹارٹ کرکے وہ اسے اپنی منزل کی جانب لے جانے لگا۔۔۔۔۔
اس کا نازک سا دل پکڑے جانے کے ڈر سے ہولے ہولے کانپ رہا تھا لیکن اس سے بھی زیادہ ڈر اسے اپنے ساتھ بیٹھے شاہزین کے غصے سے لگنا تھا اگر وہ اس کے ساتھ آنے سے منع کر دیتی وہ خاموشی سے اپنی گود میں رکھے ہاتھوں سے کھیلنے لگی۔۔۔۔۔
ہم ک۔۔۔کہاں جارہے ہیں۔۔۔
کانپتی آواز میں پو چھا گیا ۔۔۔۔
تمہیں جلد ہی پتا چل جائے گا
شاہزین نے اسے ایک نظر دیکھ کر دوبارہ اپنا رخ سامنے کی جانب کیا۔۔۔۔
اس کے جواب کے بعد عینی نے اپنا منہ بند ہی رکھا تھا ۔۔۔۔
شاہزین نے گاڑی ایک جگہ روکتے ہوئے اسے اپنا ہاتھ دے کر باہر نکالا۔۔۔۔
عینی نے اپنے سامنے ایک ریسٹورنٹ دیکھا تو اس کی سمجھ میں کچھ کچھ آنے لگا ۔۔۔۔۔
مگر اندر داخل ہوتے ہی اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ نمودار ہوئی اسے لگا تھا یہ ایک عام سا ڈنر ہوگا مگر۔۔۔
سارے ریسٹورنٹ کو سجایا گیا تھا اور ہلکی لائٹنگ کی گئی تھی جبکہ پورا ریسٹورنٹ خالی تھا اس کی نظر ریسٹورنٹ کے درمیان میں موجود ٹیبل پر گئی اس پر چھوٹی چھوٹی کینڈلز اور پھول کو رکھے سجایا گیا تھا ۔۔۔۔۔
اس نے مسکراتے ہوئے شاہزین کو دیکھا جو اسے مسکراتے دیکھ خود بھی مسکرا رہا تھا وہ عینی کی مسکراہٹ دیکھ کر جان گیا تھا کہ اسے یہ سب بہت اچھا لگا ہے ۔۔۔۔۔
شاہزین اس کا ہاتھ پکڑے اسے آہستہ آہستہ ٹیبل کی جانب لے جانے لگا ٹیبل کے قریب جاکر عینی کو ٹیبل پر چھوٹا سا کیک پڑا دکھا وہ قریب گئی تو اس پر سوری لکھا ہوا تھا۔۔۔۔
وہ اسے دیکھ رہی تھی جب شاہزین اس کے کان کے قریب جھک کر آہستہ سے بولا۔۔۔۔۔
سوری ہر اس اذیت کے لیے جو تمھیں میری طرف سے ملی ہو لیکن اب میں تمھارے ہر لمحے کو حسین بنانا چاہتا ہوں تمھیں زندگی کے خوبصورت رنگ دکھانا چاہتا ہوں لیکن کچھ وقت درکار ہے امید ہے تم بس تھوڑی دیر اور صبر کر لو گی۔۔۔۔۔
اس نے ہلکا سا اس کی کان کی لو کو چوما اور پیچھے ہو کر عینی کا چہرہ دیکھا جو مسکرا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
شاہزین کی بات سن کر اسے امید تھی شاید اس کی آنے والی زندگی اب سکون سے گزرے مگر جیسی امید کی جائے ضروری تو نہیں ویسا ہو جائے۔۔۔۔
شاہزین نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کیک کاٹ کر تھوڑا سا اس کے منہ میں ڈالا اور اپنا منہ کھولا تاکہ عینی اس کے منہ میں کیک ڈال سکے مگر وہ تو چمچ سے کیک اپنے منہ میں ڈال رہی تھی۔۔۔۔۔
اس نے اپنا منہ بند کر کے اس کو بٹھانے کے لیے چیئر کھیچنے لگا کہ عینی نے کیک کا چھوٹا سا ٹکرا اس کی جانب بڑھایا جو اس نے فورا ہی منہ کھول کر کھا لیا عینی کو بٹھانے کے بعد وہ خود بھی بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
شاہزین اور عینی نے کھانا آرڈر کیا خوشگوار ماحول میں باتیں کرتے ہوئے کھایا۔۔۔۔کھانا کھانے کے بعد شاہزین نے ٹائم دیکھا تو گیارہ بج رہے تھے اس نے عینی کو اپنے ساتھ لیا اور گھر چلا گیا کیونکہ وہ جانتا تھا تھوڑی دیر بعد سب نے واپس گھر آجانا ہے اور وہ ابھی کسی کو کچھ بتانا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔۔
اس نے گاڑی گھر میں روکی تو شاہزین نے عینی کے گال پر بوسہ دیا تو وہ جلدی سے گاڑی سے نکل کر تیز تہز انیکسی کی جانب چل دی
وہ اپنے کپڑے چینج کرنے گئی جبکہ سوچوں کا مرکز شاہزین تھا اسے اپنی کہانی بلکل سنڈریلا جیسی لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔
شفق واپس پارٹی میں آئی تو ارقم بھی اس کے پیچھے ہال میں آگیا تاکہ علیشبہ سے واپس جانے کا پوچھ لے ۔۔۔۔۔
اسے علیشبہ ایک کونے میں کھڑی نظر آئی تو وہ شفق کے پیچھے اس طرف چل دیا اس کے چہرے سے ہاشم کو وہ کچھ پریشان لگی تو وہ لمبے لمبے ڈھگ بھرتا شفق سے پہلے علیشبہ کے پاس پہنچا ۔۔۔۔
کیا ہوا ہے ؟ عالی پریشان لگ رہی ہو ؟ کیا کسی نے کچھ کہا ؟ طبیعت تو ٹھیک ہے نہ تمھاری ؟
اسے یہاں دیکھ وہ تھوڑا گھبرا گئی حالانکہ اس نے تو کچھ غلط نہ کیا تھا لیکن وہ اسے ہاشم کو دیکھنے سے پہلے یہاں سے لے جانا چاہتی تھی۔۔۔۔
جی بھائی تھوڑی طبیعت نہیں ٹھیک میری سر میں درد ہو رہا ہے گھر جانا چاہتی ہوں آپ کو ہی میسج کرنے والی تھی بس شفق کا انتظار کر رہی تھی کہ اسے ایک بار بتا دوں پھر چلتے ہیں۔۔۔۔
تم بتا دو پھر چلتے ہیں گھر جا کر میڈسن لینا اور سو جانا پھر صبح تک ٹھیک ہو جاؤ گی۔۔۔۔
شفق کے قریب پہنچنے پر اس نے شفق کو اپنے جانے کا بتایا جبکہ نظریں ارقم پر تھیں کہ وہ کہیں ہاشم کو نہ دیکھ لے شفق سے مل کر وہ ارقم کو اپنے ساتھ لیے باہر کی جانب چل دی
مگر ارقم کے اچانک رک جانے پر وہ بھی رک گئی اور اس کی جانب دیکھا جو اپنے دائیں طرف موجود ہاشم کو دیکھ رہا تھا ارقم کی اچانک ہی نظر ہاشم پر پڑی تھی۔۔۔۔
ہاشم کو دیکھ کر اس کا خون کھول اٹھا تھا اس نے اپنے لُب غصے سے بھینچ لیے۔۔۔۔
کیا اس نے تمہیں کچھ کہا ہے علیشبہ ؟؟؟ اور یہ یہاں موجود تھا تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا ورنہ میں تمھیں ایک پل کے لیے بھی اس پارٹی میں رکنے نہ دیتا۔۔۔۔
وہ دھیمی آواز میں غرایا تو علیشبہ کانپتی آواز میں بولی۔۔۔۔
بھائی پ۔۔پلیز چلے یہاں سے اور اس نے مجھے کچھ نہیں کہا میں بس یہاں سے جانا چاہتی ہوں ابھی اور اسی وقت ۔۔۔ میری ذات کا تماشہ بھرے مجمعے میں مت بنائے گا بھائی۔۔۔
وہ آخر میں رندھی ہوئی آواز میں بولی تو اس نے اپنی آنکھیں ایک پل کو بند کر کے خود پر ضبط کیا اور اسے اپنے ساتھ لیے تیزی سے وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔۔
ہاشم نے بھی ارقم کو دیکھ لیا تھا مگر ظاہر نہ کیا وہ جانتا تھا کہ اگر اس نے ارقم کی طرف دیکھ بھی لیا تو وہ اسے بھرے مجمعے میں اس سے لڑنے پر گریز نہ کرے گا۔۔۔۔
وہ بھی پارٹی اٹینڈ کر کے گھر واپس آیا تو اسے اس گھر سے ناجانے کیوں وحشت سی محسوس ہوئی اس نے اپنے دوست سے عینی اور ہادی کو ڈھونڈنے کا بول تو دیا تھا مگر پھر بھی اسے بار بار عینی اور ہادی کی آوازیں اس گھر میں سنائی دیتی تھیں ۔۔۔۔۔
وہ اپنا سر جھٹک کر کمرے میں گیا اور فریش ہو کر سونے کے لیے لیٹ گیا وہ صبج اٹھا اور بھاری دل کے ساتھ شاور لے کر آفس کے لیے تیار ہو کر نیچے آیا تو میڈ نے اسے ناشتہ لگا کر دیا ۔۔۔۔۔۔
سر یہ پارسل کل آپ کے لیے آیا تھا ۔۔۔۔۔
اس نے ایک پارسل اس کے آگے بڑھایا جو ناشتہ کرکے بس جانے ہی والا تھا۔۔۔۔
اس نے پارسل پکڑ کر دیکھا تو بھیجنے والے کا نام نہیں لکھا تھا بس دو انگریزی حروف اے اور زی لکھے ہوئے تھے۔۔۔
اس نے پارسل کھولا تو اس میں سے کچھ تصویریں نکلیں اور ایک لفافہ نکلا پہلے اس نے تصویروں کو دیکھا تو غصہ کی زیادتی سے اس کے کانوں سے دھواں نکلنے لگا
وہ تصویریں حمنا کی شاہزیب کے ساتھ ہوٹل کے کمرے میں لی گئیں تھیں وہ مختلف تصویریں تھیں جن میں کبھی حمنا نے شاہزیب کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا تو کبھی شاہزیب اس کا ہاتھ چوم رہا تھا۔۔۔۔
اسنے غصے سے تصویریں رکھتے لفافہ کھولا تو اس میں سے کوئی رپورٹ نکلی رپورٹ پر حمنا کا نام لکھا ہوا تھا
اس نے جلدی سے رپورٹ کھولی تو اسے پڑھ کر اسے لگا کہ وہ آج حمنا کو جان سے مار دے گا ۔۔۔۔۔
وہ غصے سے اپنی کرسی سے اٹھا تو اس کے زور سے اٹھنے پر کرسی زمین پر جا گری ۔۔۔۔
وہ لمبے لمبے ڈھگ بھرتا حمنا کے کمرے کے قریب گیا اور باہر پڑے ٹیبل سے چابی اٹھا کر اس نے دروازہ دھاڑ سے کھولا اور اندر داخل ہوا تو اسے حمنا بیڈ پر سوئی ہوئی ملی
وہ اس کے قریب گیا اور اسے دونوں بازؤں سے جھنجوڑ کر اٹھایا جبکہ تصویریں اور رپورٹ اس کے ہاتھ میں ہی موجود تھیں۔۔۔۔۔
حمنا ہاشم کے جھنجھوڑنے پر ہڑبڑا کر اٹھی تو ہاشم کا سرخ چہرہ اور آنکھوں کو دیکھ کر اسے بے ساختہ ہاشم سے خوف محسوس ہوا۔۔۔۔۔
تم اتنی گھٹیا عورت ہو میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا تمھاری ہمت کیسے ہوئی میرے بچے کو اس دنیا میں آنے سے پہلے ختم کرنے کی کس سے پوچھ کر تم نے ابورشن کروایا اور تم نے میرے بچے کے قتل کا الزام اس معصوم عینی پر لگایا میں کیسے نہ سمجھ سکا تم تو ایک سپولن ہو جو اپنے بچے کو بھی نگل گئی ۔۔۔۔
وہ اس کے منہ پر رپورٹ پھنکتے ہوئے بولا
ہاں میں نے اس پر الزام لگایا اس لیے کیونکہ مجھے یہ بچہ نہیں چاہیے تھا سنا تم نے میں فلحال اس ذمےداری کے لیے تیار نہیں تھی میں جانتی تھی کہ تمہیں جب پتا چلے گا تو تم مجھے کبھی بھی ابورشن نہیں کروانے دو گے اس لیے میں نے یہ سب کیا ۔۔۔۔۔
ہاشم نے اس کے گھٹیا باتیں سن کر اس کا منہ تھپڑوں سے لال کر دیا تھا
تم جتنی غلاظت سے بھری ہو مجھے سب پتا چل گیا ہے اب میں ایک پل بھی تم جیسی عورت کے ساتھ نہیں گزار سکتا تمہیں مجھ سے طلاق چاہیے تھی نہ تو لو ابھی میں تمھیں طلاق دیتا ہوں۔۔۔
میں ہاشم دروید اپنے پورے ہوش و حواس میں حمنا کو طلاق دیتا ہوں۔۔۔
طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔۔
طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔۔۔
حمنا جو اپنے منہ پر ہاتھ رکھے بیٹھی تھی اس کے طلاق دینے پر وہ بلکل بھی دکھی نہ ہوئی کیونکہ وہ بھی تو یہی چاہتی تھی۔۔۔
ہاشم نے طلاق دینے کے بعد اسے بازو سے پکڑا اور کمرے سے باہر دھکا دیتے ہوئے بولا۔۔۔
دس منٹ کے اندر اپنا گندا وجود میرے گھر سے باہر لے جاؤ۔۔۔۔
حمنا اس کی بات سن کر جلدی سے اپنے کمرے میں گئی اور اپنے کپڑے بدل کر اپنے سوٹ کیس میں اپنی چیزیں رکھیں اور اس کے گھر سے چلی گئی۔۔۔
حمنا کے جانے کے بعد وہ فرش پر گھٹنوں کے بال بیٹھا اپنے بالوں کو ہاتھوں میں لیے اپنا غصے کم کرنے لگا جبکہ عینی اور ہادی کے بارے میں سوچ کر اور اپنے بچے کے بارے میں سوچ کر بہت ضبط کرنے کے باوجود بھی ایک آنسو اس کی آنکھ سے نکل کر زمین پر گرا۔۔۔۔۔
وہ ضبط کی انتہا پر تھا محبت جس عورت سے اسے کبھی تھی وہ سانپ کی طرح ڈس کر جا چکی تھی اپنے بہن بھائی کو اس نے خود اپنے سے دور کردیا تھا علیشبہ کا وہ مجرم تھا حویلی میں کوئی اس کی شکل دیکھنا پر تو کیا اس سے بات کرنے پر بھی راضی نہ تھا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *