Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode10

Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode10

عالی کل کہیں گھومنے پھرنے کا پلان بناؤ میں گھر میں رہ کر بور ہوچکی ہوں کیوں نہ ہم شوپنگ پر چلیں۔۔۔۔
شفق علیشبہ کے سامنے کھڑی ہوتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔
ہممم۔۔۔۔ آئیڈیا تو اچھا ہے تمھارا لیکن بھائی سے پوچھنا پڑے گا۔۔۔۔
علیشبہ نے جواب دیا تو شفق کے سامنے مغرور سے ارقم کا چہرہ نمودار ہوا اس سے دوسری بار ملاقات علیشبہ نے کروائی تھی جس دن ان کا لیکچر فری تھا تب ارقم عالی سے بات کرنے آیا تھا جب شفق کو پتا چلا کہ وہ علیشبہ کا بھائی ہے تو اس کو اپنی پہلی ملاقات ارقم کے ساتھ یاد کرکے شرمندگی محسوس ہوئی مگر جب اسے خود کو اگنور کرتے دیکھا تو پھر اس نے بھی اسے دوبارہ نہیں بلایا تھا اور ساری شرمندگی بھی وہ بھول گئی تھی
ہمم ۔۔۔۔ تمھارا وہ سڑو بھائی ہمیں کبھی بھی نہیں جانے دے گا عالی یہ بات تم مجھ سے لکھوا لو۔۔۔۔۔
شفق پانی پیتے ہوئے بولی اس کی بات سن کر علیشبہ نے اسے مصنوعی گھوری سے نوازا وہ اچھے سے جانتی تھی کہ شفق ارقم کو بلکل بھی نہیں پسند کرتی اور اس کی وجہ شفق نے اسے اپنی پہلی ملاقات راقم کے ساتھ بتا کر بیان کی تھی
ایسی بھی کوئی بات نہیں شفی بھائی بس تھوڑا سریس رہتے ہیں ویسے بہت اچھے ہیں ۔۔۔۔
علیشبہ نے شفق سے کہا تو اس نے منہ بگاڑتے ہوئے کہا
ہاں جانتی ہوں تمھارے ارقم بھائی بہت اچھے ہیں لوگوں کی مشکل میں مدد کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔
شفق نے بات کرتے ہوئے اپنے ہاتھ میں موجود بوتل سے پانی کا گھونٹ منہ میں بھرا کہ اپنے پیچھے کسی کہ گلا کھنگارنے پر مڑی اور ارقم کو دیکھتے ہی اس کے منہ میں موجود پانی فورے کی صورت میں ارقم کی شرٹ اور گردن پر گرا لمبا قد ہونے کی وجہ سے ارقم کا منہ بچ گیا تھا
ارقم نے اپنی گیلی شرٹ اور گردن پر پانی کے چھینٹے محسوس کرکے اسے خونخوار نظروں سے گھورا جب کہ عالی کا یہ سب دیکھ کر قہقہہ گونجا۔۔۔۔۔
شفق خود پر اس کی نظریں محسوس کرکے الٹا اس پر ہی الزام ڈالتے ہوئے گویا ہوئی
یہ آپ کی غلطی ہے آپ کو کسی کے پیچھے کھڑے نہیں ہونا چاہیئے مجھے کیا پتا تھا پیچھے آپ کھڑے ہیں ورنہ میں پانی پی کر مڑتی ۔۔۔۔۔۔
تم ایسا کیوں نہیں کرتی اپنے اردگرد ایک چار دیواری بنا کر پھیرا کرو تاکہ تمہیں کوئی مسئلہ نہ ہو کبھی تمھارے قدم لڑکھڑا رہے ہوتے ہیں تو کبھی تمھارا منہ لیک کر رہا ہوتا ایک دفعہ گھر جا کر اپنی مرمت کروا لینا ۔۔۔
ارقم اس کی بات سن کر بکواس باتیں سن کر بولا
آپ خود کو سمجھتے کیا ہیں اپنی مرمت کروائیں آپ کے دماغ کے نٹ بولٹ سب ڈھیلے ہوئے پڑے ہیں اور اپنے منہ کی بھی جب دیکھو سڑے ہوئے کریلے جیسی اس سے بو آتی ہے ہنہ۔۔۔۔۔
شفق اس کی بات سن کر اپنا منہ بگاڑتے ہوئے
تمھیں بڑا پتا ہے خود کہ منہ سے تو تمھارے جیسے پھول جھڑتے ہیں سڑی ہوئی مرچی کہیں کی اور آئندہ میرے ساتھ تمھیں بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور عالی میرا آخری لیکچر فری ہے میں گاڑی میں تمھارا انتظار کر رہا ہوں آج جانا۔۔۔۔۔
ارقم پہلے غصے سے شفق اور پھر عالی سے بولو جو اپنی ہنسی روکنے کے چکر میں سرخ ہوئی پڑی تھی علیشبہ نے ارقم کی بات سن کر اپنا سر ہلایا تو ارقم تن فن کرتا اپنی گاڑی کی جانب چل دیا
تمھارا سڑا ہوا بھائی مجھے سڑی ہوئی مرچی بول کر گیا
شفق عالی کی طرف اپنا رخ کرکے غصے سے بولی جبکہ اس کی بات سن کر عالی جو کب سے اپنی ہنسی روک رہی تھی ایک بار جو ہنسنا شروع ہوئی تو ہنستی چلی گئی
مجھ سے بات مت کرنا عالی جا رہی ہو میں ۔۔۔۔۔
شفق نے اسے ہنستا ہوا دیکھ کر دھمکی دی
اچھا اچھا سوری ویسے تم دونوں کی لڑائی دیکھ کر مجھے بڑا مزا آیا اور میں تم سے کل بات کروں گی بھائی میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔۔۔۔۔ اور تم سڑی ہوئی نہیں میٹھی مرچ ہو
عالی شفق کو گلے لگا کر جلدی سے بولی اور دور جاتے ہوئے آخری بات بولی تو شفق جھنجھلا کر بولی
میں مرچ نہیں ہو ہنہ۔۔۔۔۔
اپنے ڈرائیور کو آتا دیکھ وہ بھی اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گئ اور اپنے دل میں ارقم کو برا بھلا کہتے ہوئے گاڑی میں بیٹھی ۔۔۔۔۔
شاہزین اپنے کمرے میں موجود تھا جب رزیہ اس کے کمرے میں ناشتہ لے کر داخل ہوئی ناشتہ ٹیبل پر رکھ کر رضیہ جانے لگی تو شاہزین نے اسے روکتے ہوئے پوچھا
رزیہ کل کیا حور نے چھوٹی کی تھا ؟
جی سر وہ اپنے بھائی سے ملنے گئی تھی ۔۔۔۔۔
رزیہ نے شاہزین کو جواب دیا
اچھا اس کا بھائی بھی ہے ۔۔۔۔۔ ویسے کہاں رہتا ہے وہ۔۔۔۔
شاہزین نے اس کا جواب سن کر پوچھا تو رزیہ نے اس کو ایک مشکوک نظر سے دیکھا تو شاہزین نے اس کے آگے کچھ پیسے بڑھائے جسے پکڑتے ہوئے وہ جلدی سے بولی
اس کا چھوٹا بھائی ہوسٹل میں رہتا ہے سر اس سے ہر دو ہفتے بعد حور ملنے جاتی ہے ۔۔۔۔
شاہزین نے اس کی بات سن کر مزید پوچھا
کیا اس کے ماں باپ نہیں ہے ؟
نہیں سر وہ اور اس کا چھوٹا بھائی ہی ہیں اور رشتے داروں میں کوئی نہیں ہے
رزیہ نے جواب دیا تو شاہزین نے اسے جانے کا شارہ کیا تو رزیہ کمرے سے چلی گئی
شاہزین نے سگریٹ سلگائی اور بیڈ پر بیٹھتے ہوئے حور کے بارے میں سوچنے لگا تھا اب صرف ایک چیز رہ گئی تھی وہ تھا حور کا رنگ جو اس نے دیکھنا تھا۔۔۔۔
ماضی :
ہاشم اپنے ماں باپ کی وفات پر حویلی واپس آیا تو حورالعین اور حیدر کو ضد کر کے واپس اپنے ساتھ شہر والے گھر میں لے گیا وہ ان دونوں کو بے حد چاہتا تھا اور اب انہیں کھونا نہیں چاہتا تھا
احد صاحب تو حورالعین اور حیدر کو اپنے ساتھ ہی حویلی رکھنا چاہتے تھے کیونکہ ان کے مطابق رمنا بیگم ان دونوں کی اچھی تربیت کر سکتی تھیں جبکہ ہاشم کے پاس اتنا وقت نہ تھا کیونکہ اس نے اپنا نیا بزنس بھی شروع کیا تھا ہاشم خود گرز ہو کر اپنی تنہائی کو دور کرنے کے لیے حورالعین اور حیدر کو اپنے ساتھ شہر لے گیا جبکہ وہاں جاکر تو اس کے پاس ان کے ساتھ گزارنے کے لیے بلکل بھی وقت نہ ہوتا تھا
ارقم اور علیشبہ حور اور حیدر کے جانے کے بعد اداس ہوگئے تھے مگر وہ بھی کیا کرسکتے تھے۔۔۔ اور تب علیشبہ دل ہی دل میں ہاشم کی پرسنیلٹی سے مرعوب تھی شاید محبت کی پہلی کونپل اس کے دل کی سرزمین پر اگنے والی تھی
ہاشم کی دوستی احمر زمان سے یونیورسٹی میں آکر ہوئی تھی اور دونوں ایک دوسرے کے جگری یار تھے احمر ہاشم کے ہر مشکل وقت میں ساتھ تھا
حورالعین نے جب ہاشم کو حیدر اور خود پر توجہ دیتے نہ دیکھا تو وہ حیدر کو اپنے ساتھ ساتھ رکھتی اس کا ہر کام خود کرتی تھی دونوں ایک دوسرے کی جان تھے
ہاشم ان سے صرف ڈنر پر یا پھر ناشتے پر ہی بات کرتا تھا وہ بھی اگر کبھی گھر ہوتا۔۔۔۔۔
اس کے رویہ سے وہ دلبرداشتہ ہوکر ایک دن حورالعین نے ہاشم سے بات کرنے کا فیصلہ کیا ہاشم اس وقت اپنے کمرے میں تھا جب وہ اس کے کمرے میں داخل ہوئی
بھائی مجھے آپ سے بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔ حور ہاشم کے پاس جاکر بولی جو بیڈ پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر کچھ کر رہا تھا اسے دیکھ کر ہاشم نے اپنا لیپ ٹاپ بند کیا اور اسے اپنے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولا
ہاں کیا بات کرنی ہے عینی سب ٹھیک تو کوئی پریشانی تو نہیں بچے ۔۔۔۔۔
جی ۔۔۔ بھائی سب ٹھیک ہے میں ۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔ ہادی (حیدر) اور میں واپس ح۔۔۔۔۔حویلی جانا چاہتے ہیں ہمارا یہاں دل نہیں لگتا ۔۔۔۔۔
حورالعین ڈرتے ڈرتے بولی تو اس کی بات سن کر ہاشم غصے سے بولا
کبھی بھی نہیں اب تم لوگ میرے ساتھ یہاں ہی رہو گے اور تم لوگوں کو یہاں کسی چیز کی کبھی کمی نہیں ہوئی تو واپس کیوں جانا چاہتے ہو ؟
بھائی جو چیزیں یہاں ہمیں ملتی ہیں وہ حویلی میں بھی مل جاتی ہیں مگر بات چیزوں کی نہیں بات محبت اور توجہ کی ہے جو ہمیں حویلی میں ملتی ہے آپ کے پاس تو ہمارے ساتھ وقت گزارنے کا ٹائم بھی نہیں ہے یہاں تک کہ ڈنر بھی آپ کبھی کبھار ہی ہمارے ساتھ کرتے ہیں
حور کی بات سن کر ہاشم کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا اور وہ اس سے بولا
بچے میں تھوڑا مصروف تھا اس وجہ سے آپ دونوں کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ہی نہیں ملتا تھا لیکن اب سے میں آپ لوگوں کے ساتھ ہی وقت گزاروں گا اور موم اور ڈیڈ کے جانے کے بعد میں تم دونوں کو خود سے دور نہیں کرنا چاہتا بچے اس وجہ سے مجھے ایک موقع دو تم لوگوں کو مجھ سے اب بلکل بھی شکایت نہ ہوگی
ہاشم کی بات سن کر حور بولی
ٹھیک ہے بھائی ۔۔۔۔۔۔
اس کے بعد ہاشم حور اور حیدر کے ساتھ وقت گزارنے لگا تھا ان کا ہر طرح کا خیال خود رکھتا تھا۔۔۔۔
حال :
ڈنر کے بعد شاہزین نے عینی کو اپنے کمرے میں موجود پانی کا جگ بھر کر لانے کا کہا اور اپنے کمرے میں جا کر اس کا انتظار کرنے لگا
عینی پانی کا جگ اس کے کمرے میں رکھنے آئی اور جگ کو اس کی جگہ پر رکھنے لگی کہ شاہزین نے آگے بڑھ کر اس سے جگ پکڑتے ہوئے اس کے ہاتھ پر ہلکا سا پانی گرایا تو عینی نے اپنے ہاتھ پر پانی گرتے ہوئے محسوس کر کے بوکھلا گئی اور جلدی اپنا ہاتھ اپنے دوپٹے کے پیچھے کر لیا
جبکہ شاہزین کی تیز نظروں نے اس کے ہاتھ کی رنگت کو ویسے ہی دیکھا مگر اس کا گھبرانا وہ صاف محسوس کر چکا تھا جس سے اس کو کچھ گڑبڑ لگی مگر اس نے ایسے ظاہر کروایا کہ جیسے غلطی سے پانی گرا ہو
عینی اس کی بات سنے بغیر جلدی سے کمرے سے باہر چلی گئی اس نے شکر ادا کیا کہ اس نے واٹر پروف فاؤنڈیشن استعمال کیا تھا ورنہ اس کا راز آج شاہزین کو پتا چل جانا تھا
جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *