Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode11

Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode11

ہاشم اپنے آفس میں بیٹھا تھا جب ایک شخص اس کے آفس میں داخل ہوا اور ہاشم کے اشارے پر اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے ایک فائل اس نے ہاشم کی طرف بڑھائی جسے ہاشم نے پکڑا اور اس میں موجود حمنا کی مختلف جگہ لوگوں کے ساتھ لی گئیں تصویریں تھیں
ایک تصویر پر تو اس کا خون ہی کھول اٹھا جس میں حمنا تنگ سا لباس پہنے کلب میں موجود تھی ۔۔۔۔۔
ایک تصویر میں وہ شاہزیب کے ساتھ ریسٹورنٹ میں بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔
ایک تصویر اس کی اپنی دوستوں کے ساتھ تھی ایسی کئی بہت سی تصویریں اس فائل میں موجود تھی
ہاشم نے فائل بند کرکے اپنے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھا اور چیک لکھ کر اسے دیا اور اسے مزید حمنا پر نظر رکھنے کا کہ کر اسے جانے کا اشارہ کیا اور اپنی کرسی کو موڑتے ہوئے سگریٹ سلگا کر حمنا کے بارے میں سوچنے لگا
وہ جب اس سے ملا تھا تو وہ اسے بےحد معصوم لگی تھی مگر اب اسے احساس ہو رہا تھا وہ اس کے سامنے کچھ اور ہے اور اس کا اصل چہرہ کچھ اور ہے
اس نے سگریٹ کا کش لیتے ہوئے اپنی آنکھیں بند کی تو اسے حورالعین اور ہادی کا معصوم چہرہ دکھا اور ان کی آوازیں اس کے کانوں میں گونجنے لگیں
بھائی پلیز ۔۔۔ہمیں گھر سے مت نکالیں ہم کہاں جائیں گے ۔۔۔۔
بھائی میں نے ایسا نہیں کیا ۔۔۔۔۔
بھائی حیدر کو رکھ لیں اپنے ساتھ میں چلی جاؤں گی ۔۔۔۔
بھائی اپی نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔۔
اس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور غصے سے اپنے میز پر موجود چیزیں ہاتھ مار کر نیچے گرادیں وہ ان کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا تھا حمنا کی بات پر اندھا یقین کر کے اس نے اپنے ہی بہن بھائیوں کو گھر سے نکال دیا
اب اتنے مہینوں بعد اسے احساس ہو رہا تھا کہ اس نے اپنے ہی بہن اور بھائی کو گھر سے نکال دیا ہے کیوں ؟! کس کی باتوں میں آکر ؟! وہ اتنا بچا تو نہ تھا کہ سچ جھوٹ کا پتا نہ لگا سکے ۔۔۔۔۔۔
وہ اضطراب کی کیفیت میں اپنی کرسی سے اٹھا اور آفس سے باہر نکل کر سڑکوں کی خاک چھاننے چلا گیا وہ بھی اپنے مطلب یعنی اپنے سکون کے لیے ۔۔۔۔۔۔
علیشبہ اور شفق اس وقت مال میں موجود شاپنگ کر رہے تھے شاپنگ کم اور آوازہ گردی وہ دونوں زیادہ کر رہی تھی
شفق نے عالی کو کچھ نئے ڈیزائن کے کپڑے لے کر دیے جبکہ خود کے لیے اس نے جینز اور شرٹس خریدیں۔۔۔۔
اب وہ دونوں تھک کر بھوک سے نڈھال ہو کر کچھ کھانے کے لیے پیزا شاپ میں گئے
چونکہ عالی کو ارقم نے اسی جگہ میں ملنا تھا تو وہ دونوں پیزا کھا کر آرام سے بیٹھی اب آئس کریم کھا رہی تھیں جب ارقم انھیں ڈھونڈ کر ان کے ساتھ بیٹھا اور عالی سے پوچھا
عالی اگر شاپنگ کر لی ہے تو چلیں مجھے ایک ضروری لام سے جانا ہے ۔۔۔۔۔۔
ہاں بھائی کر لی ہے بس یہ آئس کریم کھالوں پھر چلتے ہیں ۔۔۔۔۔
علیشبہ نے منہ میں آئس کریم ڈالتے ہوئے کہا جبکہ ارقم کے آنے سے شفق خاموش ہی بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔ ویسے بھی وہ ارقم سے بول کر اپنی بےعزتی نہیں کروانا چاہتی تھی ۔۔۔
عالی تھوڑی دیر اور رک جاؤ میرے ڈرائیور نے تھوڑا لیٹ آنا ہے اس نے راستے میں سے ڈیڈ کی کوئی میڈسن لینی ہے۔۔۔۔
شفق نے علیشبہ سے کہا تو عالی جھٹ سے بولی ۔۔۔۔۔
تم فکر مت کرو بھائی اور میں تمھیں گھر چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔کیوں بھائی آپ چھوڑ دیں گے نہ۔۔۔۔۔
ہممم چھوڑ دو گا لیکن پھر تھوڑا جلدی کرو ۔۔۔۔
ارقم اپنے موبائل پر میسج لکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔
لیکن تم لوگوں کو دیر ہوجائے گی تم چلی جاؤ میں انتظار کر لوں گی
شفق علیشبہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولی اور تو جواب ارقم کی طرف سے آیا۔۔۔
جب میں نے کہہ دیا ہے کہ چھوڑ دوں گا پھر اتنے نخرے کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔۔
عالی میں پارکنگ لاٹ میں تمھارا انتظار کر رہا ہوں اگر تمھاری دوست کے نخرے ختم ہوجائیں تو اسے لے آنا ۔۔۔۔
ارقم اپنی کرسی سے اٹھتا ہوا بولا ۔۔۔
شفق نے اس کی بات سن کر اسے جاتے ہوئے دیکھ ایک گھوری سے نوازا اور کچھ سوچتے ہوئے بولی۔۔۔
عالی چلو میں تم لوگوں کے ساتھ ہی جاؤں گی ۔۔۔۔۔۔ آخر کو تمھارے بھائی کو ابھی نخرے بھی دکھانے ہیں ۔۔۔۔۔
عالی نے اس کی بات سن کر ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھا تو شفق نے اسے چلنے کا اشارہ کیا تو اس کی بات کو نظر انداز کر کے عالی اس کے پیچھے چل پڑی ۔۔۔۔
چونکہ پہلے علیشبہ اور ارقم کا گھر آتا تھا اس وجہ ارقم نے پہلے علیشبہ کو گھر چھوڑنے کا سوچا چونکہ اس گھر میں گاؤں کے ملازم کام کرتے تھے اور وہ سب وفادار تھے اس وجہ سے اسے علیشبہ کو گھر اکیلے چھوڑنے کی فکر نہیں تھی
گھر کے سامنے آکر ارقم نے گاڑی روکی تو علیشبہ شفق سے مل کر گاڑی سے نکل گئی چونکہ عالی ارقم کے کہنے پر فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی اب عالی کے جانے کے بعد فرنٹ سیٹ خالی ہوئی تو ارقم نے شفق کو آگے آکر بیٹھنے کا یہ کہہ کر کہا کہ وہ اس کا ڈرائیور نہیں اس لیے چپ چاپ آگے آکر بیٹھ جائے وہ بھی خاموشی سے اگلی سیٹ پر آکر بیٹھ گئی۔۔۔۔
ارقم نے اسے ایڈریس دوبارہ پوچھا تو شفق نے اپنی شرارت سے چمکتی آنکھوں سے اسے جواب دیا
جو ایڈریس شفق نے دیا تھا وہ ان کے گھر سے ایک گھنٹے کے فاصلے پر تھا مگر وہ یہ سوچ کر پرسکون تھا کہ اس نے وہاں ہی جانا تھا شفق کے بتائے گئے ایڈریس پر ارقم نے گاڑی روکی تو شفق جلدی سے معصوم صورت بنا کر بولی۔۔۔۔
یہ آپ مجھے کہاں لے آئے ہیں میرے گھر یہ تو نہیں بلکہ یہ علاقہ بھی نہیں ہے میرے گھر کا ۔۔۔۔۔
یہ ایڈریس تم نے ہی بتایا تھا اب چلو اترو اور نکلو گاڑی سے باہر
اس کی بات سن کر ارقم نے اسے خونخوار نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
یہ جگہ تم نے ہی بتائی تھی اب شرافت سے باہرنکلو اور اپنے گھر جاؤ۔۔۔۔
ارقم کی بات سن کر وہ تھوڑا پریشان ہوگئی کہ اب گھر کیسے جائے گی وہ ارقم کی طرف دیکھ کر معصومیت سے بولی۔۔۔۔
میرا گھر پچھلے بلاک میں ہے پلیزززز۔۔۔۔ مجھے وہاں چھوڑ آئیں ۔۔۔۔۔
پلیز لفظ پر تو خاصا زور دیا شفق نے ۔۔۔۔۔۔
اس کی بات سن کر ارقم نے ایک نظر اپنی گھڑی پر ٹائم دیکھا اور اس سے غصے سے بولا
اب مجھے صحیح ایڈریس دو اس سے پہلے کہ میں تمھیں گاڑی سے باہر پھینک دوں۔۔۔۔۔۔
شفق نے اس کی غصے سے بھری آواز سن کر اسے جلدی سے اپنے گھر کا صحیح پتا بتایا وہ اسے بس تنگ کرنا چاہتی تھی اور وہ کربھی چکی تھی
اس کو گھر چھوڑ کر ارقم اپنے ایک دوست زوریز سے ملنے گیا جسے اس نے حور اور حیدر کو ڈھونڈنے کا کہا تھا
ارقم زوریز سے ہاتھ ملا کر اس کے سامنے کرسی پر بیٹھا اور اس سے حور اور حیدر کے متعلق پوچھا۔۔۔۔۔
میں ان کو ڈھونڈنے کی پوری کوشش کر رہا ہوں مگر کسی دارالامان میں بھی ان کا نام و نشان نہیں اور سب سے بڑی بات وہ اپنے کسی دوست کے گھر بھی نہیں گئے اور نہ ہی کسی ہوٹل میں ان کے نام کی اینٹری ہے ۔۔۔۔۔
زوریز بولتا ہوا رکا اور پھر مزید بولا۔۔۔۔
ارقم مجھے ڈر ہے کہ کہیں کسی گینگ وغیرہ نے نہ انھیں پکڑ لیا ہو تم جانتے ہو نہ آج کل کتنا یہ سب کچھ عام ہے اور وہ تھی بھی اکیلی حیدر کے ساتھ۔۔۔
بس ۔۔۔۔ میں یہ فضول باتیں سننا بھی نہیں چاہتا تم ان کو ڈھونڈنے کی کوشش جاری رکھو مجھے امید ہے تم کامیاب ہو جاؤ گے ۔۔۔۔۔
ارقم زوریز کی بات سن کر ضبط سے بولا ورنہ اس کا دل کر رہا تھا کہ ہاشم کو جاکر شوٹ کردے جس نے ایک بھی مرتبہ انھیں گھر ست نکالتے یہ نہ سوچا کہ وہ کہاں جائیں گے ۔۔۔۔۔
تم فکر مت کرو میں نے اپنے جاننے والے لوگوں سے کہا ہوا ہے جیسے ہی ان کی خبر ملے گی میں سب سے پہلے تمھیں ہی بتاؤ گا۔۔۔۔
زوریز اس کا سرخ چہرہ دیکھتے ہوئے بولا
ہممم ۔۔۔ ٹھیک ہے پھر میں چلتا ہوں بعد میں ملاقات ہوتی ہے جیسے ہی ان کے بارے میں کوئی بھی خبر ملے تم فورا مجھے بتاؤ گے
ارقم کرسی سے اٹھتا ہوا بولا تو زوریز نے اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے اپنا سر ہلایا ۔۔۔۔۔
ماضی :
ہاشم حورالعین اور حیدر کے ساتھ تین ماہ بعد ایک چکر حویلی لگا آتا تھا اس کی ملاقات وہاں علیشبہ اور ارقم سے ہوتی تو ان کے ساتھ بھی وہ اچھا وقت گزار لیتا تھا
علیشبہ آہستہ آہستہ ہاشم کو پسند کرنے لگی اور اپنے احساسات کے بارے میں وہ اپنی ایک ڈائری میں لکھنے لگی مگر ہاشم تو اسے بس اپنی کزن سمجھ کر ہی تھوڑی بات کر لیتا تھا جس سے وہ خوش ہو جایا کرتی تھی
اسی طرح تین سال گزر گئے تھے ہاشم ایک دفعہ ایک پارٹی میں گیا تو وہاں اس کی ملاقات حمنا سے ہوئی حمنا کونے میں کھڑی تھی جب ہاشم نے اسے پہلی دفعہ دیکھا تھا اسے وہ پہلی ہی نظر میں پسند آگئی تھی
اس ملاقات کے بعد اکثر جگہوں پر اس کا ٹکراؤ حمنا سے ہونے لگا پہلے دوستی ہوئی اور اس کے بعد کب محبت ہوئی اسے پتا نہ چلا
پھر اس نے چھ ماہ بعد حمنا کو شادی کے لیے پرپوز کیا جو اس نے اسی وقت قبول کر لیا تھا
ہاشم نے سب سے پہلے فون کر کے حویلی میں احد صاحب کو اطلاع دی اس بارے میں اور پھر حور کو بتایا کہ وہ جلد ہی شادی کرنے لگا۔۔۔۔
احد صاحب ہاشم کی بات سن کر تھوڑا افسردہ ہوگئے انھوں نے علیشبہ کے لیے ہاشم کو ہی سوچ رکھا تھا
جب احد صاحب کمرے میں بیٹھے رمنا بیگم کو یہ بتا رہے تو کمرے کے باہر سے گزرتی علیشبہ نے ساری بات سن لی
ان گزرے ماہ و سال میں وہ ہاشم سے محبت کرنے لگی تھی مگر اسے کیا پتا تھا کہ وہ اس کا نصیب نہیں تھا اس دن وہ اپنے کمرے میں رہ کر بے حد روئی اور اس نے اپنی ڈائری کے آخری صفحے پر اس محبت کا اختتام لکھ کر ڈائری اپنی الماری میں موجود ایک ڈبے کے اندر رکھ دی۔۔۔۔۔
ہاشم نے احد صاحب سے کہہ کر حمنا کے والدین سے بات کر کے دو ماہ کے دوران ہی شادی کر لی
ہاشم شادی کے بعد بے حد خوش رہنے لگا اور اب اپنا زیادہ سے زیادہ وقت بھی وہ حمنا کے ساتھ گزارتا حور اور حیدر کو تو وہ جیسے بھول ہی گیا تھا جب وقت ملتا تو ان سے بات کر لیتا ورنہ ہاشم نے انھیں ان کے حال پر چھوڑ رکھا تھا
علیشبہ ہاشم کی شادی کے بعد خاموش ہی رہنے لگی لیکن کیوں یہ کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔۔
ہاشم کی شادی کے ایک سال بعد جب علیشبہ نے انٹر پاس کر لیا تو اگے پڑھائی کرنے سے انکار کر دیا انھی دنوں میں اس کے لیے دوسرے گاؤں کے سرادار کے بیٹے کا رشتہ آیا جو ان سب کو پسند آیا اور علیشبہ کی رضامندی سے اس کی شادی عمر سے طے پا گئ
احد صاحب کے کہنے پر ہاشم نے حور اور حیدر کو پہلے ہی گاؤں بھجوا دیا تھا اور خود شادی سے ایک دن پہلے حمنا کے ساتھ گاؤں آیا
علیشبہ کی مہندی تھی جب رمنا بیگم نے حمنا سے علیشبہ کے کمرے میں موجود الماری سے سرخ دوپٹہ لانے کا کہا جو ان کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوئی
حمنا نے الماری کھول کر جیسے ہی دوپٹہ نکالا تو اس کے نیچے موجود کپڑوں میں سے ایک ڈائری گری اس نے ویسے ہی وہ اٹھا کر کھولی اور پہلا صفحہ ہی پڑھا تو اس کے تن بدن میں شرارے سے دوڑنے لگے علیشبہ کی ہاشم کے بارے میں محبت جان کر وہ اس سے بلا شبہ زیادہ خوبصورت تھی مگر حمنا نے خود کو زیادہ مینٹین کیا ہوا تھا جس سے وہ خوبصورت دکھتی تھی
اس نے غصے میں جا کر سب کے سامنے علیشبہ کے کردار پر الزام لگانا شروع کیے اور اسے بدکردار اور پتا نہیں کیا کہنے لگی ارد گرد لوگوں کو اکٹھے ہوتے دیکھ ہاشم حمنا کے پاس آیا اور اس سے وجہ پوچھی تو اس نے سب کے سامنے علیشبہ کے سامنے اس کی ڈائری پھینکی جبکہ ڈائری دیکھ کر ہاشم نے ایک ناگورا نظر علیشبہ پر ڈالی جو مہندی کی دلہن بنی آنسو بہارہی تھی اس نے تو کبھی ایسا نہ سوچا تھا
حمنا اسے برا بھلا کہہ کر جب خاموش ہوئی تو دوسرے گاؤں سے شگن کی چیزیں دینے آیا لڑکے کے بھائی نے سب سن کر اپنے گھر والوں کو اطلاع دی تو انھوں نے ساتھ ہی رشتہ ختم کرنے کا کہا
احد صاحب نے غصے میں ہاشم اور حمنا کو حویلی سے بے دخل کر دیا جبکہ ساتھ ہی حور اور حیدر کو بھی ہاشم کے ساتھ بھیج دیا
یہ بات پورے گاؤں میں آگ کی طرح پھیل گئی تھی ارقم کو بھی ہاشم اور اس کی بیوی سے بے حد نفرت محسوس ہوئی وہ تو موقع پر ہی حمنا کو قتل کر دیتا جس نے اس کی بہن پر گھٹیا الزام لگائے تھے مگر اسے احد صاحب نے روک دیا تھا
اس واقعہ کے بعد علیشبہ اپنے کمرے میں بند ہوگئی۔۔۔۔۔
حال :
شاہزین نے اپنے کمرے سے انیکسی میں حور کے کمرے کی لائٹ جلتی دیکھی تو اسے دیکھنے کے لیے انیکسی کی طرف جانے لگا۔۔۔
اس نے حور کے کمرے کے قریب جا کر آہستہ سے کمرے کی کھڑکی سے اندر جھانکا تو اسے حور کہیں دکھائی نہ دی وہ واپس جانے کے لیے مڑنے لگا کہ اسے حور واشروم سے نکلتے ہوئے دکھائی دی
وہ اسے دیکھ کر اپنی جگہ ساکت رہ گیا وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی میک اپ دھونے کے بعد اس کا اصل سفید رنگ دکھائی دے رہا تھا شاہزین نے اس کی آنکھوں کو غور سے دیکھا تو سبز رنگ کی آنکھیں دیکھ کر اس کا دل زور سے دھڑکا
اس کا شک یقین میں بدل گیا تھا اسے تنگ کرنے کا ارادہ اب اس کا اور پختہ ہوگیا تھا جسے سوچ کر اس کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ نمودار ہوئی اور وہ آہستہ سے کھڑکی سے ہٹ کر گھر کے اندر چلا گیا
جاری ہے۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *