Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes NovelR50820 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode21
Rate this Novel
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode01 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode02 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode03 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode04 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode05 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode06 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode07 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode08 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode09 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode10 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode11 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode12 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode13 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode14 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode15 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode16 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode17 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode18 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode19 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode20 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode21 (Watching)Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode22 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode23 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode24 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode25 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode26 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode27 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode28 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode29 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode30 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode31 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode32 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode33 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode34 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode35 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode36 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Last Episode
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode21
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode21
وہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھا ہوا تھا جب اسے عینی اور ہادی کے ساتھ کی گئی زیادتی یاد آئی۔۔۔۔۔
ماضی :
حمنہ شروع سے ہی عینی اور ہادی سے بات چیت کم ہی کرتی تھی اسے عینی تو بلکل بھی پسند نہ تھی ۔۔۔۔۔
عینی اس کی ناپسندیدگی دیکھتے ہوئے خود بھی حمنا سے دور ہی رہتی تھی اور ہادی کو بھی دور ہی رکھتی تھی ان کی صرف ڈنر پر کبھی کبھار ہاشم سے بات ہوتی تھی وہ بھی زیادہ تر حمنا کے ساتھ یا تو پارٹی میں گیا ہوتا یا پھر کسی ہوٹل میں۔۔۔۔۔۔
حمنا کو ایک سال ہو گیا تھا ان لوگوں کے ساتھ رہتے ہوئے مگر پھر بھی عینی یا ہادی کو بلانا پسند نہیں کرتی تھی ۔۔۔۔۔
ایک دن اس کی طبیعت خراب ہونے پر اس نے اپنا چیک اپ کروایا تو اسے اپنی پریگنسی کا معلوم ہوا ۔۔۔۔۔
وہ ابھی فلحال کوئی بچہ نہیں چاہتی تھی وہ جانتی تھی کہ ہاشم کبھی بھی اسے ابورشن نہیں کروانے دے گا ۔۔۔۔۔
اس نے عینی اور ہادی سے پیچھا چھڑانے کے ساتھ ساتھ خود کو مظلوم ظاہر کرنے کے لیے ایک پلین بنایا اور اس پر عمل کرنے کے لیے اس نے پہلے ہی ڈاکٹر کو پیسے کا لالچ دے کر ابورشن کروالیا ۔۔۔۔۔۔۔
وہ اتوار کا دن تھا جب ہاشم اپنے کمرے میں شاور لے رہا تھا اس نے ہاشم کو واشروم سے باہر نکلتے دیکھا تو جلدی سے ٹی وی لاؤنچ میں صوفے کے قریب گئی جہاں عینی ہادی کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
وہ اس کے قریب گئی اور ایسے گری کے ہاشم جو اس طرف آرہا تھا اسے لگا عینی نے اپنا پاؤں آگے کر کے حمنا کو جان بوجھ کر گرانے کی کوشش کی ہے وہ حمنا کے نیچے گرتے اور اس کی چیخ سن کر جلدی سے اس کے پاس گیا۔۔۔۔
جبکہ عینی اسے گرتے دیکھ پریشانی سے اپنی جگہ سے اٹھی۔۔۔۔
آہ۔۔۔۔ ہاشم مجھے بہت درد ہو رہی پیٹ میں پلیز ڈاکٹر کے پاس لے جاؤ ۔۔۔۔۔۔
وہ پیٹ پر ہاتھ رکھے نکلی آنسو بہاتے بولی تو ہاشم جلدی سے اسے اٹھا کر باہر کی جانب بھاگا اور ڈرائور کو گاڑی سٹارٹ کرنے کا کہا۔۔۔۔۔
ڈرائیور اسے ایک قریبی پرائیویٹ ہوسپٹل لے آیا جہاں پہلی ہی ایک ڈاکٹر موجود تھی جس نے پہلے ہی اس کا ابورشن کیا تھا۔۔۔۔
اس نے ہاشم کو بتایا کہ حمنا ون ویک پریگیننٹ تھی مگر پیٹ کے بل نیچے گرنے سے بچہ بچ نہ سکا۔۔۔۔۔۔
وہ تو یہ سن کر ہی صدمہ میں چلا گیا ۔۔۔۔
یہ سب تمھاری بہن کی وجہ سے ہوا ہے پتا نہیں اس کی کیا دشمنی تھی جو اس نے مجھے نیچے گرایا جب سے میری شادی ہوئی یے وہ تو مجھے سیدھے منہ بلاتی بھی نہ تھی اور اب تو اس نے میرے بچے کو بھی مار دیا ہے۔۔۔۔۔۔
ہاشم اگر تم چاہتے ہو کہ میں واپس گھر جاؤں تو تمہیں انھیں گھر سے نکالنا ہو گا میں بلکل بھی ایسی جگہ پر نہیں رہ سکتی جہاں میری جان کو خطرہ ہو ابھی تو اس نے تمھاری موجودگی میں میرا یہ حال کیا تم خود سوچو اگر تم موجود نہ ہوئے کبھی وہ تو مجھے مار ہی دے گی ۔۔۔۔۔
حمنا نے ہاشم کے سامنے بڑا واویلا مچایا ۔۔۔۔۔
اور تمھاری بہن بھائی بس شکل سے ہی معصوم لگتے ہیں پہلے بھی ایک دو بار عینی نے مجھ سے بدتمیزی کی تھی مگر میں تم لوگوں میں لڑائی نہیں کروانا چاہتی تھی اسی وجہ سے نہیں بتایا مگر اب میں خاموش نہیں رہو گی تمھیں ان دونوں کا یا پھر مجھے چننا پڑے گا۔۔۔۔۔
ہاشم جو پہلے ہی غمگین تھا اس کی بات سن کر اسے شدید غصہ آیا اور وہ حمنا کو ان دونوں کو گھر سے نکالنے کا بول کر واپس گھر لے گیا جہاں ہادی اور عینی پر یشان بیٹھے تھے۔۔۔۔۔
وہ ہادی کے ساتھ پریشان سی بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی جب ہاشم آندھی طوفان بنے حمنا کو ساتھ لے کر گھر میں داخل ہوا۔۔۔۔
انھیں آتا دیکھ عینی اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تو ہاشم نے حمنا کو صوفے پر سائیڈ پر بیٹھایا اور غصے سے عینی کے پاس گیا جبکہ ہاشم کو غصے میں دیکھ کر ہادی بھی کھڑا ہو کر ڈر کر تھوڑا عینی کے پیچھے چھپ گیا۔۔۔۔۔
تم اپنا سامان باندھو اور نکلو یہاں سے فورا ۔۔۔۔۔
ی۔۔یہ کیا کہہ رہے بھائی میں نے کیا کیا ہے ؟؟
تم نے میرے بچے کو مار دیا اور تم پوچھ رہی ہو کہ تم نے کیا کیا ؟؟ تمھارے اس معصوم چہرے کے پیچھے چھپا مکار چہرہ میری نظروں کے سامنے آگیا ہے ۔۔۔۔۔
بھائی میں نے کچھ نہیں کیا آپ جھوٹ کیوں بول رہے ہیں میں کیوں آپ کے بچے کو ماروں گی ؟؟
وہ ناسمجھی سے بولی۔۔۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی اور فورا میرے گھر سے نکلو مجھے تمھارا کوئی جھوٹ نہیں سننا ۔۔۔۔۔
بھیا آپ بہت برے ہیں ۔۔۔۔۔۔ عینی اپی سچ بول رہی ہیں۔۔۔
ہادی عینی کے پیچھے سے نکل کر بولا
چٹاخ۔۔۔۔۔
تم بھی اس کے جیسے ہو اس کو بھی لو اور یہاں سے دفعہ ہو جاؤں ۔۔۔
آپ کی ہمت کیسے ہوئی میرے بھائی کے تھپڑ مارنے کی آپ نے کہہ دیا ہے تو ہم جا رہے ہیں لیکن یاد رکھیے گا روزِمحشر آپ اس سب کے جواب دہ ہوں گے۔۔۔۔۔
اور سچ اور جھوٹ کیا ہے جلد ہی آپ کو پتا چل جائے گا مگر یاد رکھیے گا بھائی آپ کے پاس دولت شہرت سب کچھ ہوگا لیکن سکون آپ کو کبھی بھی میسر نہ ہوگا۔۔۔۔
عینی اپنے کمرے میں گئی اور سب سے پہلے اس نے ایک ڈائری میں لکھا ارقم کا نمبر ڈھونڈا اور اسے کال ملانے لگی جب چار بار مسلسل فون کرنے کے بعد ارقم نے کال اٹھائی تو عینی کی آواز سن کر اس کی بات سننے سے پہلے ہی کال کاٹ دی۔۔۔۔
عینی نے پریشانی سے جلدی سے اپنے پاس موجود پیسے نکالے جو ہاشم نے اسے اور ہادی کو نئے کپڑے لینے کے لیے دیے تھا مگر وہ لینی نہ جا سکی تھی اس نے وہ پیسے اپنے بیگ میں ڈال کر اپنے کچھ جوڑے بیگ میں رکھے اور ساتھ ہی ہادی کا بھی چھوٹا سا بیگ پکڑ کر اس میں اس کے کپڑے رکھے۔۔۔۔
وہ گھر سے ہادی کے ساتھ نکلی تو اسے نہیں پتا تھا کہ وہ اب کہاں جائے گی چلتے چلتے تو اب وہ دونوں تھک گئے تھے اور وہ لوگ گھر سے بھی کافی دور آچکے تھے ۔۔۔۔۔
عینی کو لگا تھا شاید ہاشم اسے روک لے مگر نہیں وہ تو بے حس بنا اپنی بیوی کے پہلو میں بیٹھا ان دونوں کو جاتے دیکھ کر بھی خاموش ہی رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
وہ ایک پارک میں تھوڑی دیر رکے تھے وہاں پر ہی انھیں اماں جنت ملی جو انھیں اپنے ساتھ لے گئی اور عینی سے پوچھ کر ساتھ والا گھر کرائے پر دلوا دیا۔۔۔۔
حال :
وہ خود کو سنبھالتا ہوا اٹھا اور اپنے آفس چلا گیا اور خود کو آفس کے کام میں مصروف کرنے کی ناکام سی کوشش کرنے لگا
وہ خوشی سے کھڑی اپنے ڈیپارٹمنٹ کے باہر کھڑی علیشبہ کا انتظار کر رہی تھی جو آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی دراصل وہ ایک نظر ارقم کو بھی دیکھنا چاہتی تھی ورنہ اس کا انتظار وہ کلاس کے باہر ہو کر بھی کر سکتی تھی۔۔۔۔۔
جب تھوڑی دیر تک علیشبہ نہ آئی تو وہ اس کا انتظار کرکے تھکتی اپنا لیکچر لینے چلی گئی مگر علیشبہ نہ آئی اسے پتا چل گیا تھا کہ آج علیشبہ یونیورسٹی نہیں آئی ورنہ اب تک اس نے کلاس میں موجود ہونا تھا۔۔۔۔
وہ منہ بسورتے ہوئے کلاس لے کر اٹھی اور کینٹن میں چلی گئی اس نے صبح ناشتہ صحیح سے نہیں کیا تھا جس وجہ سے اب اسے بھوک لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔
وہ کینٹین سے برگر اور چیپس لے کر آئی اور ایک ٹیبل پر بیٹھ کر کھانے لگی ۔۔۔۔۔
اپنے سامنے چئیر پر کسی کو بیٹھتے دیکھ وہ جو بڑے مزے سے منہ نیچے کیے جلدی جلدی کھا رہی تھی اس نے نظریں اٹھا کر اپنے سامنے بیٹھے شخص کا چہرہ دیکھا تو ارقم کو دیکھ کر اس نے جلدی سے اپنے منہ میں موجود نوالہ نگلا اور تھوڑا سا پانی پی کر تہزیب سے سیدھی ہو کر بیٹھ گئی ۔۔۔۔
اسے اپنی جانب دیکھتا پاکر شفق نے خود ہی بات کا آغاز کیا ۔۔۔۔۔
علیشبہ کیوں نہیں آئی آج میں کافی دیر ڈیپارٹمنٹ کے باہر کھڑی اس کا انتظار کرتی رہی تھی۔۔۔۔۔
اس کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی اس وجہ سے وہ آج آ نہ سکی۔۔۔۔ ویسے تم مجھ سے پوچھ لیتی ایک بار تو تمہیں میں بتا دیتا ۔۔۔۔۔۔۔
میرے پاس آپ کا نمبر نہیں ہے اور ڈیپارٹمنٹ آپ کا دوسری طرف ہے اگر آپ کے ڈیپارٹمنٹ جاکر پوچھتی تو بھی اتنا ہی وقت لگنا تھا۔۔۔۔
ہمم۔۔۔ تم ایسا کرو میرا نمبر سیو کر لو اور مجھے اپنا نمبر دے دو اس طرح تم کبھی بھی مجھ سے رابطہ کر سکو گی ۔۔
وہ خوشگوار لہجے میں بولا تو شفق نے تھوڑا ہچکچاتے ہوئے اسے اپنا نمبر دے ہی دیا اور اس کا بھی اپنے موبائل میں سیو کر لیا۔۔۔۔۔
تم پارٹی میں تھکی نہیں تھی جو آج بھی یونیورسٹی آگئ ہو۔۔۔۔۔
وہ مزے سے اس کی پلیٹ سے چیپس اٹھا کر کھاتا ہوا بولا
نہیں تھک تو گئی تھی میں لیکن عالی کی وجہ سے آگئی میں نے سوچا اگر میں نہیں گئی تو وہ اکیلی پورا دن بور ہوگی۔۔۔۔
وہ اسے اپنی چیپس کھاتے دیکھ بولی اور خود بھی کھانے لگی۔۔۔۔
آہاں۔۔۔۔ لگتا ہے کچھ زیادہ ہی عالی کی فکر ہے تمھیں مجھے تمھاری بات بہت پسند آئی۔۔۔۔
وہ مسکراتا ہوا چیپس کھا کر بولا اسے واقعی اس کی بات پسند آئی تھی۔۔۔
کیا آپ کے آج کوئی دوست نہیں آیا جو آپ اکیلے یہاں بیٹھے ہیں ؟؟
کیا میرے یہاں بیٹھنے سے تمھیں کوئی اعتراض ہے ؟؟ اگر تمہیں برا لگ رہا ہے تو میں چلا جاتا ہوں ۔۔۔۔۔
وہ سنجیدگی سے بولا تو شفق جلدی سے بولی۔۔۔۔۔
ن۔۔۔نہیں میرا ایسا کوئی مطلب نہیں تھا میں تو و۔۔۔ویسے ہی پوچھ رہی تھی ۔۔
وہ لیکچر لے رہے ہیں میرا دل نہیں کر رہا تھا آج لیکچر لینے کو تو اس وجہ سے میں یہاں موجود ہوں۔۔۔۔۔لیکن اب لیکچر ختم ہو گیا ہوگا تو میں چلتا ہوں اور اسی اؤلی چیزیں کم کھایا کرو ورنہ شادی تک تم نے موٹی ہو جانا ہے۔۔۔۔
وہ اس کی ساری چیپس کھا کر اس سے بولا اور آخری بات معنی خیزی میں کرتا اپنی جگہ سے اٹھا اور چلا گیا۔۔۔۔۔
موٹا کہیں کا ساری چیپس خود کھا گیا ہے اور بول مجھے رہا تھا۔۔۔۔
میں کہں سے بھی موٹا نہیں ہوں۔۔۔۔۔ اور تم موٹی نہ ہو جاؤ اسی وجہ سے میں نے چیپس کھالی ۔۔۔۔ ایک تو آج کل کے لوگ بہت احسان فراموش ہوگئے ہیں۔۔۔۔
شفق جو اس کے جانے کے بعد خود سے بولی رہی تھی تو ارقم جو ابھی اس کے پیچھے ہی کھڑا تھا فورا بول اٹھا تو شفق نے اپنی آنکھوں کو پھیلا کر پیچھے دیکھا جو اسے احسان فراموش کہہ کر جا چکا تھا۔۔۔۔ وہ بھی منہ بسورتی اپنی جگہ سے اٹھی اور اپنی کلاس میں چلی گئی۔۔۔۔
سحر بیگم اس وقت سو رہی تھیں اور اپنی کل کی تھکن اتار رہی تھیں جبکہ عینی اپنے معمول کے مطابق کام کر رہی تھی۔۔۔۔
شاہزین نیند سے بیدار ہوا اور رات کے بارے میں سوچ کر اپنی جگہ سے اٹھا اور مسکراتے ہوئے فریش ہونے چلا گیا ۔۔۔۔
وہ فریش ہو کر نیچے آیا تو ہال میں کوئی موجود نہ تھا وہ آرام سے سحر بیگم کے کمرے میں گیا اور آہستہ سے دروازہ کھول کر دیکھا تو سحر بیگم کو سوتے پا کر وہ بنا آواز پیدا کیے دروازہ بند کر کے کچن کی طرف گیا ۔۔۔۔۔
وہ جانتا تھا کہ عینی زیادہ تر کچن میں ہی پائی جاتی اور آج کل رزیہ بھی یہاں نہیں ہے جس کا وہ بھر پور فائدہ اٹھا کر عینی کو تنگ کرنے کچن میں چلا گیا ۔۔۔۔۔
وہ معمول کے مطابق دوپہر کے کھانے کا انتظام کر رہی تھی۔۔۔۔
اسے پورا دن کام کرتا دیکھ اسے بہت برا لگتا تھا وہ جلد ہی اپنے نکاح کے بارے میں تیمور صاحب کو بتانا چاہتا تھا مگر وہ جب بھی ان سے بات کرنے جاتا تو وہ اسے دوسری باتوں اور بزنس جوائن نہ کرنے کا طعنہ دینے لگتے تو وہ بات کیے بغیر ہی آجاتا۔۔۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس کے قریب گیا اور پیچھے سے اسے اپنے حصار میں لیا تو عینی اچانک ڈر گئی مگر پیچھے مڑ کر شاہزین کو دیکھ کر جہاں وہ پر سکون ہونے لگی تھی وہی سحر بیگم کا سوچ کر اس کے پسینے چھوٹنے لگے تھے
پ۔۔پلیز سحر میم آجائیں گی شاہ ۔۔۔۔
کس نام سے تم نے ابھی مجھے پکارا ؟؟ زرا دوبارا پکارنا ۔۔۔
وہ اس کے منہ سے اپنے لیے شاہ سن کر اپنی مسکراہٹ دبا کر بولا جبکہ دوسری بات تو سرے سے ہی نظر انداز کر گیا تھا۔۔۔۔
و۔۔۔وہ غ۔۔غلطی سے نکل گ۔۔۔۔۔
ششش۔۔۔۔ صرف جو کہا ہے وہ کرو مجھے دوبارہ اسی نام سے پکارو ۔۔۔۔۔
وہ اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھے بولا تو اس کا لمس اپنے ہونٹوں پر محسوس کر کے ہلکا سا کپکپانے لگی۔۔۔۔ اور اپنی دھیمی میٹھی آواز میں اسے پکارا۔۔۔۔
ش۔۔۔شاہ۔۔۔
شاہزین کے دل کی دھڑکن ایک دم تیز ہوئی اس کے منہ سے اپنا نام سن کر ۔۔۔۔ اس نے بے ساختہ اس کا رخ اپنی جانب موڑا اور اس کے ماتھے کو چوما۔۔۔۔۔
یہ کیا ہو رہا ہے یہاں ؟؟؟
وہ ابھی عینی کو اپنے حصار میں لیے اس کے ماتھے پر ہونٹ رکھے کھڑا تھا جب سحر بیگم کی غصے سے بھری آواز دونوں کو سنی تو شاہزین فورا عینی کو چھوڑ کر پیچھے ہوا اور سحر بیگم کو دیکھا جن کا چہرہ غصے سے سرخ تھا جبکہ عینی تو سحر بیگم کو دیکھ کر خوف سے کانپنے لگ پڑی تھی۔۔۔۔۔
موم۔۔۔۔۔
تم لڑکی تمھیں زرا شرم نہ آئی میرے بیٹے کو پھنساتے ہوئے اور ہماری پیٹ پیچھے یہ سب کرتی ہو اپنی اوقات بھول گئی تم اور تم شاہزین نکلو یہاں سے اس کو تو آج میں چھوڑوں گی نہیں ۔۔۔۔۔
وہ شاہزین کو نظر انداز کر کے عینی کی طرف بولتے ہوئے بڑھیں اور آخر میں شاہزین کو جانے کا بول کر عینی کو تھپڑ مارنے لگی تو شاہزین نے فورا آگے بڑھ کر سحر بیگم کا ہاتھ پکڑا۔۔۔۔۔
اس کی اوقات کیا ہے یہ میں آپ کو بتاتا ہوں ۔۔۔۔ آپ جاننا چاہتی ہیں اس کی حیثیت کیا ہے تو میں آپ کو بتاتا ہوں بیوی ہے یہ میری نکاح کیا ہے میں نے اس اور میں ہر گز برداشت نہیں کروں گا کہ آپ اس کے کردار پر الزام لگا کر اس پر ہاتھ اٹھائیں۔۔۔
اس کی باتیں سن کر سحر بیگم کے کانوں سے غصے سے دھواں نکلنے لگا۔۔۔۔۔
بکواس کر رہے ہو تم میں کبھی بھی اس کو اپنی بہو نہیں مانو گی بلکہ یہ ابھی اس گھر سے جائے گی ۔۔۔۔ اپنا بوریا بسترا اٹھاؤ اور یہاں سے دفع ہو جاؤ۔۔۔۔۔
آپ مانے یا نہ مانیں وہ بیوی ہے میری اور وہ کہیں نہیں جائے گی اور تم حور کمرے میں جاؤ میرے ابھی۔۔۔۔۔
وہ سحر بیگم سے بول کر عینی کو کانپتے دیکھ اسے فورا کمرے میں بھیجا۔۔۔۔
میں ابھی تیمور کو فون کرتی ہوں وہ آکر تمھاری عقل ٹھکانے لگاتے ہیں اور اسے بھی نکالتے ہیں یہاں سے۔۔۔۔۔
وہ غصے سے تن فن کرتی تیمور صاحب کو فون کرنے چلی گئی
جاری ہے۔۔۔۔۔
