Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes NovelR50820 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode24
Rate this Novel
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode01 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode02 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode03 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode04 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode05 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode06 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode07 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode08 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode09 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode10 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode11 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode12 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode13 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode14 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode15 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode16 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode17 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode18 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode19 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode20 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode21 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode22 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode23 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode24 (Watching)Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode25 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode26 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode27 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode28 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode29 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode30 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode31 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode32 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode33 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode34 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode35 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode36 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Last Episode
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode24
علیشبہ بالکونی میں ایک کونے میں بیٹھی ہلکی ہلکی بارش ہوتے دیکھ رہی تھی برشکے کچھ قطرے اس پر بھی گر رہے تھے وہ اس وقت اکیلی گھر پر تھی ساتھ اس کےایک ملازمہ تھی جو اپنا کام کر رہی تھی ارقم یونیورسٹی گیا ہوا تھا۔۔۔۔
وہ دو دن سے بخار سے نڈھال رہنے کےبعد وہ آج بیڈ سے اٹھی تھی اور تھوڑی دیر بارش میں اینجوائے کرنے کا سوچتے ہوئے بالکونی میں آگئی۔۔۔۔
ہاشم کو پارٹی میں دیکھنے کے بعد سب پرانی یادیں تازہ ہوگئیں تھیں وہ جتنا اسے بھولا جانا چاہتی تھی وہ اتنی ہی اس کی سوچوں پر قابض ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔
وہ ابھی تک وہ اذیت بھرا واقعہ نہ بھول سکی تھی مگر دل کا کیا کرتی جو صرف اس کے لیے ہی دھڑکتا تھا اس کے خیال میں تو وہ اسے اسی دن چاہنا چھوڑ چکی تھی جس دن اس نے حمنا سے شادی کی مگر سوچنے سے کیا ہوتا ہے اس کے جزبات ہاشم کے لیے کبھی ختم نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ اس کی بچپن کی خالص محبت تھا۔۔۔۔
ہاشم کی سوچوں کو جھٹلا کر اس نے کل رات کے بارے میں سوچا وہ پانی پینے اپنے کمرے سے نکلی تھی جب ارقم کے کمرے کا دروازہ کھولا ہونے کی وجہ سے اسے ارقم کی کسی سے باتیں کرنے کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی وہ بنا دھیان دیے گزرنے لگی کہ اس کے نے حور اور ہادی کا نام سنا تو دروازے کے باہر کھڑی ہوگئی۔۔۔۔
وہ بس ارقم کی باتوں سے اتنا ہی سمجھ پائی تھی کہ ہاشم نے انھیں گھر سے نکال دیا ہے اور اب وہ کہیں نہیں مل رہے ۔۔۔۔۔
وہ اس کی باتیں سن کر خاموشی سے کچن میں آگئی اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ ہاشم نے حور اور ہادی کو گھر سے نکال دیا۔۔۔۔۔
اسے پتا تھا کہ وہ سنگ دل ہے مگر اتنا کہ اپنے بہن بھائی کو ہی گھر سے نکال دے یہ نہیں پتا تھا ۔۔۔۔۔۔
وہ اس کی سوچوں کو جھٹک کر اپنے کمرے میں واپس آئی اب بس اسے حور اور ہادی کی فکر ہی تھی۔۔۔۔
وہ تھوڑی دیر بالکونی میں بیٹھنے کے بعد اٹھی اور کمرے میں جا کر شاور لینے کے بعد فریش ہو کر کچن میں گئی جہاں نوری (ملازمہ ) کھانا بما رہی تھی وہ اس سے اپنے لیے چائے بنانے کا بول کر کچن میں ہی موجود کر سی پر بیٹھ گئی اور نوری کے چائے بنا کر دینے پر وہ چائے لے کر واپس اپنے کمرے میں آگئی اور دوبارہ بالکونی میں کھڑی ہو کر چائے پینے لگی۔۔۔۔۔
عینی شاہزین کا انتظار کرتے ہوئے رات کو کب سوئی اسے پتا ہی نہ چلا وہ خود پر کسی چیز کا وزن محسوس کرکے اٹھی تو شاہزین کا ایک بازو اپنے پیٹ پر پڑا دیکھا جب کہ اس کی ایک ٹانگ عینی کی ٹانگوں کے اوپر پری ہوئی تھی گویا شاہزین اسے اپنا سلیپنگ پیلو سمجھ کر سویا ہوا تھا۔۔۔۔
اس نے اس کا بازو ہٹانے کی ایک بار ناکام کوشش کی مگر شاہزین اس پر مزید پھیل گیا ۔۔۔۔۔
شاہزین۔۔۔۔۔
شاہزین چھوڑیں مجھے نماز پڑھنی ہیں ٹائم بہت کم رہ گیا ہے۔۔۔۔۔
وہ اسے زور سے ہلاتے ہوئے بولی۔۔۔
شاہزین نے اپنی نیند سے بھری آنکھیں کھول کر اسے گھورا تو عینی جلدی سے بولی۔۔۔۔
سوری پ۔۔۔پلیز کیا آپ اپنا بازو اٹھائیں گے شاہزین۔۔۔
شاہزین نےمنہ بگاڑتے ہوئے اس پر سے اپنا بازو اور ٹانگ ہٹائی اور دوسری طرف کروٹ لے کر دوبارہ سو گیا تو عینی جلدی سے اٹھ کر فریش ہو کر نماز پڑھنے لگی ۔۔۔۔
نماز پڑھنے کے بعد اس نے اپنے کپڑے انیکسی سے لانے کا سوچا کیونکہ ابھی تک وہ کل والے کپڑوں میں ہی ملبوس تھی۔۔۔۔۔
وہ شاہزین کو ایکنظر دیکھ کر کمرے سے نکلی اور سڑھیاں اتر کر انیکسی کی طرف جانے لگی کہ کسی کو ہال میں داخل ہوتے دیکھ کر وہ ڈر گئی۔۔۔۔
عینی بچے آپ کہیں جا رہے ہو ؟؟؟
تیمور صاحب نماز پڑھ کر ابھی گھر میں داخل ہوئے تھے کہ عینی کو ہال میں دیکھ کر پوچھا
ج۔۔جی وہ میں انیکسی سے اپنے کپڑے لینے جا رہی تھی سر۔۔۔۔
عینی تم بھی اب مجھے شاہزین کی طرح ڈیڈ بلایا کرو اور آؤ تھوڑی دیر لان میں واک کرتے ہیں مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے۔۔۔۔
ج۔۔جی ڈ۔۔ڈیڈ ۔۔۔۔
وہ ہچکچاتے ہوئے بولی اور ان کے پیچھے لان میں چلی گئی۔۔۔۔۔
شاہزین کے بارے میں میں تم سے بات کرنا چاہتا ہوں عینی ۔۔۔۔میں جانتا ہوں یقینا شاہزین نے تم سے زبردستی شادی کی ہے ۔۔۔تم شاہزین کو برا مت سمجھنا وہ پہلے ایسا نہیں تھا یہ اسی سال اس کے کچھ نئے دوست بنے اور یہ آوارہ بن گیا میں نے اسے کئی بار سمجھایا کہ وہ اپنے نئے اور اچھے دوست بنائے مگر اس کے دماغ میں تو بھوسہ بھرا ہوا ہے زرا عقل نہیں اس لڑکے کو مگر اب وہ مجھے لگتا ہے تمھاری وجہ سے پہلے جیسا ہو جائے گا تمھیں بس میری تھوڑی مدد کرنی ہوگی۔۔۔۔
اور ایک تو اس کا غصہ وہ شروع سے ہی غصے کا تھوڑا تیز ہے اور غصے میں کیا کرجائے اسےخود نہیں پتا چلتا دوسری بات اسے اگنور کبھی مت کرنا پتا نہیں اسے کیا مسئلہ ہے جب بھی کوئی اسے اگنور کرتا ہے وہ اسے تکلیف پہنچاتا ہے شفق کے پیدا ہونے کے بعد سحر بیگم نے اس پر توجہ دینا کم کردی تو اس نے سارا گھر سر پر اٹھا لیا تھا عجیب ہی کوئی سائیکو بیٹا ہے میرا مجھے خود اس کی سمجھ نہیں آتی کبھی تو میرا حد سے زیادہ فرمانبردار بیٹا بن جاتا ہے تو کبھی حد سے زیادہ نافرمان ۔۔۔۔۔
بس دو چیزیں کبھی مت کرنا ایک تو اسے اگنور کبھی مت کرنا اور دوسرا اسے غصہ کبھی مت دلانا۔۔۔۔
جی ڈ۔۔ڈیڈ میں آپ کی باتوں کو یاد رکھوں گی اور آپ کی م۔۔مدد بھی ضرور کروں گی۔۔۔
عینی ان کی بات سن کر بولی وہ ویسے بھی اسے کبھی دوبارہ اگنور کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی اس نے پہلے ہی دو بار اسے اگنور کرنے پر سزا دے دی تھی اور غصے میں اس نے سحر بیگم سے اسے تھپڑ پڑوایا تھا واقعہ وہ ایک سائیکو ہی تھا
یہ تو اچھی بات ہے کہ تم میری مدد کرو گی پہلے تواسے باقاعدہ میرے ساتھ آفس بھیجنے کی عادت ڈالنے کی کوشش کرنا اور پھر اسے اس کے دوستوں کے ساتھ باہر کم ہی جانے دینا تاکہ اس کی بری عادتیں بھی ختم ہوں۔۔۔۔
اور عینی سحر تمہیں کچھ بھی کہے پہلے تم نے مجھے بتانا ہے اور اس کی باتوں پر زیادہ دھیان مت دینا اور تمھیں اب گھر کا کوئی کام کرنے کی ضرورت نہیں میں نے سحر سے کہہ دیا ہے آج ہی نئی کام والی آجائے گی کیونکہ رزیہ نے ابھی واپس نہیں آنا ۔۔۔۔۔
عینی بس یہ ہی باتیں میں نے تم سے کرنی تھیں اب تم جا کر اپنا کام کرسکتی ہو اور اگر کوئی بھی پریشانی اس گھر میں آپ کو ہو تو مجھے سب سے پہلے بتانا ٹھیک ہے ؟
جی ڈیڈ ٹھیک ہے میں آپکو ہی بتاؤں گی۔۔۔۔۔
وہ ان کی بات سن کر اور جواب دے کر تیمور صاحب سے اجازت لے کر انیکسی میں چلی گئی
وہ جلدی سے پہلے اپنے سارے جوڑے اٹھائے اور اپنے بیگ میں رکھتی کمرے میں آئی اور ایک سائیڈ پر بیگ رکھ کر شاہزین کو دیکھا جو ابھی تک سو رہا تھا وہ جلدی سے شاور لے کر کپڑے بدل کر کمرے میں آئی اور اپنے بال سکھا کر صوفے پر بیٹھ گئی پھر کچھ سوچتے ہوئے وہ اٹھی اور شاہزین کو ایک نظر دیکھ کر کمرے سے نکل گئی
وہ چونکہ فری تھی اس وجہ سے اس نے سب کے لیے ناشتہ بنانے کا سوچا وہ نیچے آئی اور ناشتہ تیار کرنے لگی اس کی نظر اچانک کھڑکی سے باہر پڑی باہر بارش ہوتے دیکھ کر وہ اپنے ہاتھ جلدی جلدی چلانے لگی تاکہ تھوڑی دیر بارش اینجوائے کر لے پہلے وہ ہادی کے ساتھ اپنے گھر میں کرتی تھی مگر جب سے ہاشم نے انھیں نکالا تھا وہ ایک بار بھی بارش میں نہیں نہائی تھی بلکہ یہ تو ان کے لیے عزاب بن گئی تھی کیونکہ وہ کس جگہ رہتے تھے وہاں بارش ہونے پر گٹروں کا سارا پانی باہر گلی میں جمع ہو جاتا تھا۔۔۔۔
اب ناشتہ بناتے اس کی سوچوں کا رخ ہادی کی طرف گیا وہ کافی دنوں سے اس نہ تو مل سکی تھی اور نہ ہی فون پر بات کر سکی تھی اس نے شاہزین سے اجازت لے کر کل ہادی سے ملنے کا سوچا ۔۔۔۔۔
وہ ناشتہ تیار کرچکی تھی اور ڈائننگ ٹیبل پر لگا رہی تھی جب شفق نے ڈائننگ ہال میں داخل ہو کر اسے سلام کیا۔۔۔۔
اسلام و علیکم۔۔۔۔ بھابھی !
شفق نے مسکراتے ہوئے عینی کو دیکھا جو اس بھابھی کہنے پر آنکھیں پھیلائے اسے دیکھ رہی تھی پھر خود کو سنبھالتے یوئے جلدی سے عینی نے شفق کو جواب دیا۔۔۔۔
وعلیکم السلام۔۔۔۔امم۔۔
شفق آپ مجھے میرے نام سے پکار سکتیں ہیں وہ اس کی ہچکچاہٹ محسوس کر کے بولی۔۔۔۔
اوکے شفق تو ک۔۔کیا آپ ایک کام کرو گی م۔۔۔میں شاہزین کو اٹھا کر لاتی ہوں آپ ڈیڈ اور سحمر میم کو بلا لو۔۔۔۔
بھابھی مجھ سے فارمل ہونے کی ضرورت نہیں ہے آپ مجھے ‘ تم ‘ کہہ کر بھی بات کر سکتی ہیں۔۔۔ اور آپ جائیں شاہزین بھائی کو بلا لائیں میں ڈیڈ اور موم کو بلا کر لاتی ہوں۔۔۔۔
وہ کمرے میں داخل ہوئی تو بیڈ خالی تھا اس نے چاروں طرف نظر گھمائی تو واشروم کا بند دروازہ دیکھ کر اسے پتا چلا کہ وہ واشروم میں ہے۔۔۔۔
وہ صوفے پر بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگی دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے واشروم کی طرف دیکھا تو شاہزین کو شرٹ لیس دیکھ کر اس کی آنکھیں پھیل گئیں اور چہرہ سرخ ہو گیا اس نے شاہزین کے چہرے کی طرف دیکھا تو وہ اسے خود کی طرف دیکھتا پاکر مسکرا رہا تھا ۔۔۔۔
وہ جلدی سے اپنی نظریں اس سے ہٹا کر اٹھتے ہوئے بولی۔۔۔
و۔۔۔وہ نیچے سب ناشتے پر انتظار کر رہے ہیں آپ جلدی سے تیار ہو کر آجائیں ۔۔۔۔۔
وہیں رک جاؤ حور اور میرے تیار ہونے تک تم کمرے میں ہی موجود رہو گی۔۔۔۔
وہ اسے جاتے دیکھ کر سنجیدہ آواز میں بولا تو عینی اپنی جگہ رک گئی شاہزین اپنے بال تولیہ سے صاف کرتا ہوا اس سے مزید بولا۔۔۔۔۔
حور مجھے الماری سے شرٹ نکال کر دو ۔۔۔۔۔
حور اس کی بات سن کر ہچکچاتے ہوئے الماری کی طرف گئی اور اسے کھول کر کالے رنگ کی ایک ٹی شرٹ اسے نکال کر اپنی نظریں جھکا کر اس کے قریب جا کر اس کی طرف بڑھائی ۔۔۔۔
عینی کیا تم نے ناشتہ بنایا ہے ؟؟
وہ شرٹ پہن کر اس کی طرف مڑتا ہوا بولا۔۔۔۔۔
ج۔۔۔جی میں نے ناشتہ بنایا ہے وہ م۔۔میں فارغ تھی تو سوچا سب کے لیے ناشتہ بنا دوں۔۔۔۔۔
اس نے دھیمی آواز میں جواب دیا۔۔۔۔
تمہیں کوئی کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن تم صرف میرے کام کرسکتی ہو اس کے علاوہ کسی کے نہیں اور اب چلو یہاں سے ناشتہ ٹھنڈا بھی ہو گیا ہوگا۔۔۔۔
وہ اس کے سر کو چوم کر بولا اور بات ختم کرکے عینی کا ہاتھ پکڑ کر اسے نیچے لے گیا۔۔۔۔
سحر بیگم کے علاوہ باقی سب ڈائننگ ٹیبل پر موجود تھے۔۔۔۔
خوشگوار ماحول میں ناشتہ کرکے تیمور صاحب اپنے آفس چلے گئے اور شفق اپنی یونیورسٹی۔۔۔۔
عینی جو ناشتے کے برتن دھونے کا سوچ رہی تھی مگر شاہزین اسے اپنے ساتھ کھینچ کر کمرے میں لے آیا ۔۔۔۔
آج ہم باہر گھومنے پھرنے جائیں گے اور تمھارے بھائی سے بھی مل کر آئیں گے اگر تم کہو گی تو اسے بھی اپنے ساتھ لے جائیں گے اور آج کا دن بھرپور طریقے سے اینجوائے کریں گے کیونکہ پھر تو میں نے اگلے ہفتے سے مصروف ہو جانا ہے۔۔۔۔
عینی کی آنکھیں اس کا پلان سن کر چمک اٹھی زیادہ چمک ہادی سے ملنے اور اس کے ساتھ گھومنے پھرنے کی تھی۔۔۔۔۔
سچی۔۔۔۔ ہم ہادی کو بھی پھر اپنے ساتھ لے کر جائیں گے۔۔۔۔
وہ مسکرا کر بولی ۔۔۔۔
ہاں اس لیے اب جلدی سے تیار ہو جاؤ میں تمھارا انتظار کر رہا ہوں۔۔۔۔
وہ اس کی مسکراہٹ دیکھ کر خود بھی مسکراتے ہوئے بولا تو عینی اس کی بات سن کر جلدی سے تیار ہونے لگی۔۔۔۔
وہ اپنے لیکچر لینے کے بعد کینٹین میں گئی تو ارقم کو کینٹین میں اکیلے بیٹھے دیکھ کر وہ اس کے پاس گئی۔۔۔
وہ شوراما کھا رہا تھا جبکہ اس کے سامنے چیپس پڑی ہوئی تھی اور سامنے کسی چیز کے نوٹس بھی پڑے ہوئے تھے وہ اس کے ساتھ والی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔
ارقم نے کسی کو اپنے ساتھ بیٹھتے دیکھ کر اپنی نظریں اٹھائیں تو شفق کو بیٹھا دیکھ کر وہ مسکرایا۔۔۔
یہ لیں عالی کے نوٹس میںنے بنا دیے ہیں ۔۔۔
وہ اپنے بیگ میں سے نوٹس نکالتی اسے پکڑا کر بولی۔۔۔۔
واہ اتنی مجھے امید نہیں تھی کہ تم بنا دو گی مجھےلگا تھا کہ شاید تم کل بنا کر دو ۔۔۔۔
وہ نوٹس کو دیکھ کر بولا تو شفق اس کی چیپس کھاتے ہوئے بولی۔۔۔۔
آپ کو تو ویسے بھی مجھ سے کسی چیز کی بھی امید نہیں ہوتی۔۔۔۔
نہیں میری بات کا یہ مطلب نہیں تھا غلط سمجھ رہی ہو۔۔۔۔۔
آپ کی بات کا یہی مطلب تھا اب جا رہی ہوں میں آج کل دوبارہ نوٹس بنا کر دے دوں گی۔۔۔
وہ منہ بگاڑتے ہوئے اس کی چیپس کی پلیٹ اٹھا کر بولی اور چیپس کھاتے ہوئے اس سے دور چلی گئی۔۔۔۔
افف ایک تو یہ لڑکی بھی نہ کبھی جو میری بات کا غلط مطلب نہ نکالے۔۔۔۔۔
وہ منہ میں بڑبڑاتا ہوا اٹھا اور اسے اپنی چیپس لے جانے کا سوچ کر ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
