Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes NovelR50820 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode16
Rate this Novel
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode01 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode02 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode03 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode04 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode05 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode06 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode07 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode08 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode09 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode10 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode11 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode12 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode13 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode14 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode15 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode16 (Watching)Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode17 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode18 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode19 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode20 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode21 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode22 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode23 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode24 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode25 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode26 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode27 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode28 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode29 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode30 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode31 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode32 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode33 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode34 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode35 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode36 Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Last Episode
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode16
Sitamgar Mehboob Mera by Zanoor Writes Episode16
ہاشم اپنے کمرے میں بیٹھا اپنا موبائل استعمال کر رہا تھا جب آٹھ سالہ ہادی اس کے کمرے میں بھاگتے ہوئے داخل ہوا ۔۔۔۔۔۔
بھیا۔۔۔۔۔
ہاں بولو ہادی ۔۔۔۔۔
ہاشم اسے اپنے ساتھ بٹھاتا ہوا لاڈ سے بولا
مجھے آج سکول میں ایک لڑکے نے مارنے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔۔
ہادی نے معصومیت سے اسے بتایا۔۔۔۔
کیا مطلب کس نے مارا ہے ہادی کو بتاؤ مجھے بلکہ تمھیں بھی اسے مارنا چاہیے تھا۔۔۔۔
بھیا میں نے بھی یہی کیا تھا میں نے اسے زور سے دھکا دیا تو وہ نیچے گر گیا تھا اور پھر ٹیچر نے میری شکایت عینی اپی کو لگا دی اب وہ مجھ سے بول نہیں رہی آپ انھیں کہیں مجھ سے بات کریں اب میں کبھی کسی کو دھکا نہیں دوں گا۔۔۔۔۔
اوہ یہ تو بڑا مسئلہ ہے بھئ ویسے تم اس سے معافی کیوں نہیں مانگتے۔۔۔۔
بھیا میں نے معافی مانگی ہے مگر وہ مان نہیں رہی ۔۔۔۔۔۔ لیکن میں دوبارہ آپ کی بات مان کر عینی اپی کو سوری بول کر آتا ہوں وہ اس کے قریب سے اٹھ کر دروازے کی جانب بھاگا۔۔۔۔۔
اچانک وہ ہاشم کو خود سے دور جاتا ہوا لگا اس نے ہادی کو پکارنے کی کوشش کی مگر وہ اس کی بات نہیں سن رہا تھا
اچانک اسے ہادی کی آواز دور سے سنائی دی
بھیا آپ بہت برے ہیں ۔۔۔۔۔ عینی اپی سچ بول رہی ہیں ۔۔۔۔
اس نے ایک تھپڑ کھینچ کر ہادی کے گال پر مارا
اب اسے عینی کی آواز سنائی دے رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
آپ کی ہمت کیسے ہوئی میرے بھائی کے تھپڑ مارنے کی آپ نے کہہ دیا ہے تو ہم جا رہے ہیں لیکن یاد رکھیے گا روزِمحشر آپ اس سب کے جواب دہ ہوں گے۔۔۔۔۔
ہاشم اچانک گھبرا کر اپنی نیند سے بیدار ہوا اسے لگا اس کا سانس بند ہو رہا ہے اس نے اپنی سائیڈ سے پانی کا گلاس اٹھا کر منہ کو لگایا تو تھوڑا اسے سکون ملا اس نے ایک نظر اپنے ساتھ سکون سے سوئی حمنا پر ڈالی اور بیڈ سے اٹھ کر اپنا سگریٹ کا پیکٹ اٹھا کر وہ بالکونی میں چلا گیا۔۔۔۔۔۔
سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے اس کے ذہن میں دوبارہ ہادی اور عینی کی باتیں گوجنے لگیں اور وہ واقعہ یاد کرکے اسے ہادی کی یاد آئی وہ تب کا واقع تھا جب عینی نے اسے احساس دلایا کہ انھیں اس کے پیار اور توجہ کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔
اس نے صبح حویلی فون کر کے ہادی اور عینی سے بات کرنے کا سوچ کر سگریٹ کا کش لیا کیونکہ اس کے خیال میں ہادی اور عینی حویلی میں موجود ہیں۔۔۔۔۔۔
ارقم اپنے بیڈپر چت لیٹا چھت کو گھورتے ہوئے شفق کے بارے میں سوچ رہا تھا
اسے بس یہ افسوس ہورہا تھا کہ اس نے شفق سے بات ہی کیوں کی لیکن چونکہ اب وہ اس سے بات کر چکا تھا تو اس نے اسے اب اگنور کرنے کا سوچا بے شک وہ اپنی غلطی مان چکا تھا مگر معافی مانگنا اس کی شان کے خلاف تھا ۔۔۔۔۔
اور ویسے بھی جاگیرداروں کا خون اس کی رگوں میں دوڑتا تھا وہ اسے کبھی بھی جھکنے نہیں دیتا تھا۔۔۔۔۔
اسے لگتا تھا کہ وہ صرف شفق کی پرسنیلٹی اور سٹائل وغیرہ کی وجہ سے اسے اچھی لگتی ہے مگر اسے کیا پتا یہ تو آغازِ محبت ہے۔۔۔۔۔
اس کی سوچوں کا اچانک رخ حورالعین کی طرف گیا احد صاحب اس کی شادی حورالعین سے کروانا چاہتے تھے وہ اس کی منگ تھی مگر جب ہاشم اور اس کی بیوی نے علیشہ پر الزام لگائے تو اس نے بھی حورالعین کو ٹھکرا دیا ۔۔۔۔
حورالعین بلاشبہ شفق سے زیادہ خوبصورت تھی مگر اس میں کنفیڈنس شفق جتنا نہ تھا۔۔۔۔۔وہ اب صرف اس وجہ سے حیدر اور حورالعین کو ڈھونڈ رہا تھا کیونکہ وہ گلٹ کا شکار تھا اور نہیں چاہتا تھا کہ اب ہاشم کے کیے کی سزا وہ حور کو دے مگر یہ بات تو وہ خود جانتا تھا اگر وہ اس دن حور پر غصہ نہ کرتا تو آج حور اور ہادی حویلی میں ہوتے۔۔۔۔۔
سحر بیگم شاہزین کے ساتھ لان میں بیٹھی باتیں کر رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔
شاہزین میرے خیال میں اب تمھیں آفس جوائن کر لینا چاہیے۔۔۔۔
موم اب آپ بھی ڈیڈ کی طرح ایک ہی بات بار بار مت کریں میں نے پہلے بھی کہا تھا اب دوبارہ کہہ رہا ہوں کہ میں آفس اپنی مرضی سے جاؤ گا ۔۔۔۔۔۔
شاہزین بےزاریت سے بولا ۔۔۔۔۔
میرے ساتھ تمیز سے بات کرو شاہزین میں نے کچھ برا بھی نہیں کہا اور دوسری بات تمھاری خالہ بار بار فون کر کے عشا کا تمھارے ساتھ رشتہ پکا کرنے پربضد ہے مگر تمھارے خالو چاہتے ہیں کہ تم پہلے بزنس سنبھالو اسی وجہ سے وہ بھی مجھ پر زور دے رہی کہ میں تمھیں بزنس جوائن کروا دوں اب۔۔۔۔
سحر بیگم نے اسے پہلے تھوڑا سخت اور پھر تھوڑا آرام سے کہا۔۔۔۔۔
موم آپ نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں اس پلاسٹک کے منہ والی جس نے پتا نہیں کتنی سرجریاں کروائیں ہوئی ہیں سے شادی کروں گا ۔۔۔۔۔
شاہزین ماتھے پر بل ڈالے بولا جب کہ اس کی نظریں چائے لاتی عینی پر تھیں جسے سحر بیگم کی تیز نظروں نے بھی دیکھ لیا تھا۔۔۔۔۔۔
شاہزین یہ بکواس میرے ساتھ مت کرو تمھاری شادی عشا سے ہی ہوگی اور یہ فائنل ہے۔۔۔۔۔
سحر بیگم عینی کے ٹیبل پر چائے رکھتی ہوئیں بولی۔۔۔۔۔
جبکہ نے عینی ان کی بات پر دھیان دیے بغیر چائے سحر بیگم کو پکڑائی تو شاہزین اسے ہی دیکھ رہا تھا جو اس کی شادی کا ذکر سن کر کیسے پر سکون تھی اس نے ایک بار بھی نظر اٹھا کر شاہزین کو نہ دیکھا تھا جس سے اچانک ہی شاہزین کو غصہ آیا اور وہ سحر بیگم سے بولا۔۔۔۔
اس بارے میں بعد میں بات کریں گے موم اور تم میرے کمرے میں کافی دے کر جاؤ۔۔۔۔۔
وہ آخر میں عینی کی طرف اشارہ کر کے بولا۔۔۔۔۔اور اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔۔
جبکہ سحر بیگم اب اپنے سامنے کھڑی عینی کو گھور رہی تھیں۔۔۔۔۔
اپنی اوقات میں رہنا لڑکی اور میرے بیٹے پر تم نے ایسا کیا جادوں کیا جو وہ کافی دنوں سے تم سے ہی کام کرواتا ہے ۔۔۔۔۔ یاد رکھنا اگر میرے بیٹے کو پھسانے کی کوشش کی تو تمھارے ساتھ جو ہوگا وہ تمھاری سوچ میں بھی نہیں ہوگا اور یہ مت بھولو میں تو تمھیں کب سے کام سے فارغ کر چکی ہوتی اگر تم نے میری منتیں نہ کی ہوتی ورنہ تمہیں کام سے فارغ کرتے مجھے دیر نہ لگتی ۔۔۔۔ میری ان باتوں کو یاد رکھنا اور جاؤ اسے کافی دے کر آؤ ۔۔۔۔۔
وہ چائے پیتے ہوئے نخوت سے بولیں تو عینی سبکی محسوس کر کے جلدی سے کافی اٹھا کر شاہزین کے کمرے کی طرف لے جانے لگی مگر اس کا دل سوکھے پتے کی طرح کانپ رہا تھا یہ سوچ کر کہ اگر شاہزین نے اسے کچھ کہا یا پھر اس کا ہاتھ جلانے کی کوشش کی تو وہ کیا کرے گی ۔۔۔۔
وہ یہاں سے دور چلی جانا چاہتی تھی مگر جاتی کہاں ؟ یہ سوال اسے اس زلت بھرے کام کرنے پر مجبور کرتا تھا اور اب تو وہ یہ بھی جان گئی تھی کہ شاہزین اسے کبھی بھی اپنی قید سے آزاد نہ کرے گا ۔۔۔۔۔۔۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی شاہزین کے کمرے میں داخل ہوئی تو شاہزین کو کمرے میں نہ پا کر وہ کافی رکھ کر جانے ہی والی تھی جب شاہزین واشروم سے نکل کر اس کے قریب آنے لگا ۔۔۔۔۔
اسے اپنے قریب آتا دیکھ وہ اپنے قدم پیچھے کو اٹھانے لگی پیچھے ہوتے ہوئے وہ دیوار سے جا لگی تو شاہزین نے اس کے قریب آکر دونوں اطراف بازو رکھ کر جھک کر اس کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔۔
تم نے مجھے پھر نظرانداز کیا اور میرے کمرے سے بغیر میری اجازت کے جانے لگی تھی ۔۔۔۔۔ رات کو یہ میک اپ دھو کر اپنے اصلی حولیے میں میرا انتظار کرنا آخر تمھیں سزا بھی تو دینی ہے ۔۔۔۔۔۔
شاہزین کے قریب آنے پر وہ سانس روکے اس کی بات سن رہی تھی مگر اس کی آخری بات سن کر اس نے بے اختیار اس کی جانب نظر اٹھائی تو وہ بھی سیدھا ہو کر اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
عینی نے ہمت کر کے اسے زور سے دھکا دے کر دور کرنے کی کوشش کی شاہزین اس کی کوشش کو دیکھ کر اسے چھوڑ کر پیچھے ہوا تو عینی کی غصے سے کانپتی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔۔۔۔۔۔
مجھ سے دور رہیں اور ہاں میں نے آپ کو اگنور کیا جانتے ہیں کیوں تاکہ آپ کی والدہ مجھے بدکردار نہ کہیں یہ نہ کہیں کہ میں نے ان کے عظیم بیٹے کو پھنسا رہی ہوں جانتے ہیں وہ کہہ رہیں تھی میں اپنی اوقات میں رہوں مگر میں اتنی بھی گری پڑی ہر گز نہیں ہوں کہ آپ مجھے اپنی حوس کا نشانہ بنائیں مجھے شدید نفرت ہے آپ سے سنا آپ نے مجھے شدید نفرت ہے ۔۔۔۔۔۔
جب جب آپ مجھے چھوتے ہیں تو میرا مرنے کو دل کرتا ہے سنا آپ نے گھن آتی ہے خود سے یہ نکاح جو ہے نہ صرف اپنے بدلہ کے لیے آپ نے کیا ہے نہ مجھے تکلیف پہنچانا چاہتے ہیں نہ آپ ۔۔۔۔۔
وہ ہزیانی انداز میے بولتی ہوئی شاہزین کے قریب سے گزر کر گرم کافی اٹھا کر اپنے ہاتھ اور بازو پر گرانے لگی کہ شاہزین جو کب سے اپنا غصہ ضبط کر رہا تھا اس نے آگے بڑھ کر اس سے کافی پکڑ کر ایک تھپڑ کھنچ کر اسے مارا ۔۔۔۔۔۔
ہاں تمھیں تکلیف پہچانا چاہتا ہوں میں مگر وہ بھی خود پہنچاؤ گا یاد رکھنا اور تمھاری اوقات تمھیں بہت جلد پتا چل جائے گی اور تمھیں میرے چھونے سے گھن آتی یے نہ رات کو دیکھو گا کہ تم خود کو کیسے میرے لمس سے آزاد کرواتی ہو اگر دروازہ کو لاک لگانے کا سوچا بھی تو یاد رکھنا کسی کا بھی لحاظ کیے بغیر دروازہ توڑ کر تمھیں باہر نکالوں گا ۔۔۔۔۔۔
وہ ساکن کھڑی عینی کو جھنجوڑ کر بولا۔۔۔۔
پ۔۔۔پلیز س۔۔۔سوری می۔۔۔میرا ایسا م۔۔۔مطلب نہ ت۔۔تھا و۔۔وہ ب۔۔۔بس غصے میں غ۔۔غلطی سے بول گئی۔۔۔
عینی اس کی بات سن کر ہوش میں آتے بولی۔۔۔۔
بلکل بھی نہیں یہ سوری اپنے پاس رکھو اور جاؤ جا کر اپنا کام کرو ۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسے دروازے کی جانب دھکا دیتا ہوا بولا تو عینی مردہ قدموں سے اس کے کمرے سے باہر چلی گئی ۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
