Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam NovelR50472 Shehr-e-Sahr Episode 33
No Download Link
Rate this Novel
Shehr-e-Sahr Episode 33
Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam
تمام تیاریاں کروا لی گئی تھیں تمام تحائف اور کچھ سامان بھی بگھی میں رکھوا دیا گیا تھا طلسم فاریہ کے کمرے میں آئی ” یہ ہم کیا سن رہے ہیں فاریہ آپ جارہی ہیں ابھی ایک ہی دن ہوا ہے آپکی صحت ٹھیک ہوئے.”
“ابا بکر ڈر گئے ہیں اسلیے واپس جانا چاہتے ہیں وہ کہہ رہے ہیں شہر سحر اب محفوظ نہیں رہا اور صیاد چچا بھی ناجانے کہاں غائب ہیں اسلیے وہ آج ہی واپس جانا چاہتے ہیں ۔”۔۔۔۔” لیکن فاریہ ایسے کیسے اپ نے سناش سے بات کی ؟”
” ابا نے انھیں سے بات کی کچھ کہنا تو دور انھوں نے ہمیں دیکھا بھی نہیں پوچھا بھی نہیں کہ آپ رہنا چاہتی ہیں یا نہیں ۔” فاریہ کی بات سن کر وہ سیدھا سناش کے پاس آئی ” سناش آپ نے فاریہ کو روکا کیوں نہیں؟”
” انھیں کیوں روکنا چاہیے اور ہم کس حق سے روکیں انھیں ماموں جان جانا چاہتے ہیں تو ہمیں منظور ہے ” ۔۔۔۔” مگر سناش ….” اسکی بات اسنے سنی بھی نہیں .” طلسم ہمیں بہت کام ہے بعد میں کریں گے .”بلاآخر فاریہ چلی گئی تھی ۔طلسم تھوڑی سی اداس تھی مگر بعد میں ٹھیک ہوگئی تھیں وہ اس وقت راہداری میں سے گزر رہی تھی جب اسے چکر آیا اور وہ گر گئی ۔اسیر وہاں سے گزرا تو اسکی نظر طلسم پر پڑی اسنے بھاگ کر اسے اٹھایا اور طبیب خانے لے آیا سناش بھی وہاں پہنچ گیا تھا وہ دونوں باہر ہی کھڑے تھے اندر طبیب طلسم کا معائنہ کررہا تھا اور اب طلسم کے ہوش میں آنے کا انتظار جب اسے ہوش آیا تو طبیب حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا “ شہزادی میری بات سنیے آپ ۔۔۔اپ امید سے ہیں !” اسکی بات سن کر پہلے تو وہ منہ کھولے اسے دیکھتی رہی پھر خوش ہوگئی ہنسنے لگی ۔” شہزادی آپ ہنس رہی ہیں میں آپ کو یہ بتا رہا ہوں اپ۔….”…..طبیب تم جاؤ اور اسیر کو مادر بھیج دو !”
“ لیکن شہزادی شہزادے سناش کو کیا ۔۔۔۔۔” وہ خوشی کے مارے اسکی بات سن بھی نہیں رہی تھی ” طبیب جاؤ اسیر کو اندر بھیج دو وہ اٹھ کر باہر آگیا اور اسیر کو اندر بھیج دیا جسے دیکھتے ہی وہ بستر سے اٹھ گئی اور اسکے دونوں ہاتھ پکڑ کر گھومنے لگی ۔” اسیر ہم امید سے ہیں ؟” اور وہ حیرت سے اسکی حرکتیں دیکھ رہا تھا ” کس امید سے ہو میں نے تمہیں کچھ نیا نہیں بتایا .” اسیر کی بات پر رک اسنے ماتھے پر ہاتھ مارا ” اللہ کس کے پلے پڑ گئی ہوں اسیر آپ ابا بنے والے ہیں .”
“ اچھا تو ایسا کیوں ۔۔۔۔کیا !!! پہلے تو اسے سمجھ نہیں آئی لیکن جب آگئی تو اس سے زیادہ خوش ہوگیا اور یہ خبر باہر سناش نے بھی سن تھی اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا وہ خوش ہو یا افسردہ لیکن اسنے ستون کے پاس حیران پریشان طبیب سے کہا ” شہزادی طلسم۔کے بارے میں یہ خبر کی کسی کو بھنک بھی لگی تو تمہاری شہ رگ سے ہوا گزر بند ہوجائے گا بھول جاؤ تمہیں کچھ بھی معلوم بھی ہے ۔”
جج۔۔۔جو حکم شہزادے ! طبیب ڈرتا چلا گیا اور سناش خود بھی انھیں انکی خوشیاں مناتا چھوڑ کر ۔
“ادھر صیاد کا اتنا لمبا انتظار آخر ختم ہوگیا تھا اسنے۔ چاندنی کو ایک بار پھر بل لیا تھا اس بار اسکا تصور توڑنے والا کوئی نہیں پہلے منظر کو بعد اب باری دوسرے منظر کی تھی جس میں سے پہلے طلسم۔ آمد کا دروازہ پار کر نے گئی تھی اور دوسری بار وہ کسی لڑکے کے ساتھ واپس آئی تھی ۔اسے سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ لڑکا ہے کون پھر اسے یاد آنے لگا محل میں ایسے تمام تر کام اسی غلام کے آنے کے بعد ہوئیں ہیں یعنی وہ کوئی غلام نہیں ۔۔” اپنا کام ختم کرکے وہ محل واپس آگیا تھا سناش ایک دن کے لیے دوسرے علاقے میں گیاتھا اسلیے صیاد کو موقع مل گیا اسیر اور طلسم دونوں ہی باغ میں تھے جب سپاہیوں نے آکر اسیر کو پکڑ لیا ۔” یہ کیا کر رہے ہو چھوڑو اسے ۔۔” طلسم نے انھیں حکم دیا مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئے ” شہزادی راجہ کا حکم اسے بندی بنا لیا جائے ۔” وہ ان کی بات سن ہی راہی تھی جب چند کنیزوں نے اسے پکڑ لیا ” کیا کر رہے ہو تم لوگ چھوڑو مجھے !”شہزادی راجہ نے کہا ہے اپکو آپکے کمرے میں بند کردیا جائے ۔” وہ دونوں جھٹپٹاتے رہے مگر وہ دونوں کو مخالف سمت میں لے گئے طلسم کو اس کے کمرے میں بند کردیا گیا اور اسیر کو قید خانے۔ میں لاکر تختہ دار پر باندھ دیا گیا ۔یہ سب سناش کی غیر موجودگی میں ہورہا ۔صیا نے آکر بڑے تحمل اور آرام سے اس سے پوچھا ” کون ہو تم ؟”
“ راجہ میں ۔۔۔میں غلام اسیر طلسم ۔۔۔” ۔۔ ” یہ جھوٹی کہانی میں جان چکا ہوں حقیقت بتاؤ کیا ہے تمہاری ؟”
راجہ یہی حقیقت ہے میری اسیر طلسم ہوں میں اور کچھ نہیں ۔۔وہ تو سچ ہی بتا رہا تھا ۔لیکن صیاد نے سپاہی کو اشارہ کردیا جس نے اسکی پشت پر کوڑے برسانا شروع کردیا ہر ایک کوڑا اسکے جسم پر بھیانک سرخ داغ دیتا جارہا تھا مگر مجال ہے جو اسکے منہ سے اف بھی نکلا ہو کچھ بتانا تو دور کی بات سپاہی نے اسے ہر تکلیف دے کر دیکھ کی تھی اسے چابک سے مارا گیا تلوار سے زخم دیے گئے مگر وہ سب کچھ برداشت کرتا خاموش تھا ۔ادھر طلسم کو اپنے ہی کمرے میں نظر بند کردیا گیا تھا وہاں کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں تھی اسکا رو رو کر برا حال ہوگیا تھا سوچ سوچ کر کیا صیاد اسیر کے ساتھ کیا سلوک کر رہا ہوگا ۔
شمس دونوں حالتوں سے واقف تھا وہ سب سے پہلے غفران کے پاس گیا اسے سب کچھ بتایا ” اسیر نے شہر سحر کے لیے بہت کچھ کیا ہے اب شہر سحر کی باری ہے اسیر کے لیے کچھ کرنے کی شمس تم میری بات سنو سب سوچ کر وہ دونوں باہر نکل گئے غفران شہر سحر کے چوراہے میں کھڑا تھا ۔” آج میں تم لوگوں کو ایک ایسے انسان کے بارے میں بتاؤ گا جو پوشیدگی میں رہ کر آپ لوگوں کی فلاح کے لیے کام کرتا رہا ہے وہ جس نے آپ سب کی بھلائی کے لیے اپنی جان تک داؤ پر لگا دی وہ آپ سب میں سے ہی ایک تھا اسیر جس نے اپنی سمجھ اور بوجھ سے آپ سب کے لیے وہ کیا جو آج تک کوئی بادشاہ کوئی حکمران یا شہزادہ سناش نے بھی کرنے کا نہیں سوچا تھا ۔ آپکی اچھی زندگی سے لیکر اپکی جانوں کی حفاظت تک اسکی ایک مہربانی کی وجہ سے ہے شہباز سے وہ ہیرا چوری کروانے سے لیکر سناش کے ہاتھوں آپ لوگوں کی ڈوریاں دینے تک وہ اکیلا کھڑا ہے شہباز اور زبیر جیسے ظالم لوگوں جو آپ ہی لوگوں کے اپنوں کو بیچ دیتے تھے انھیں ہٹوانے والا وہ واحد قیدی اسیر اسیر طلسم ہے آج اگر آپ خوشحال زندگی گزار رہے ہیں تو اسیر کی وجہ سے اگر وہ سناش کے ہاتھوں وہ سب نہ کرواتا تو تم لوگ گھٹ گھٹ کر مر جاتے ۔۔۔” اور لوگ اسکی باتیں سن سن کر حیرت کا شکار ہورہے تھے ۔
” قید خانے میں محل غلاموں سے قیدیوں سے جانوروں سے بدتر سلوک کیا جاتا تھا اسنے آپ سب کے لیے اواز اٹھائی آپکے تن پر لباس آپکی زندگی اسکی امانت ہے اور آج صیاد کی اسی قید خانے میں اسکی اپنی جان خطرے میں ہے تم لوگ اسے بچا سکتے ہو جس نے تم لوگوں کے لیے اتنا کچھ کیا کیا تم اس کے لیے اس ظالم صیاد کے خلاف نہیں جاسکتے ؟” ان سب غلام میں وہ بوڑھا بزرگ اور وہ کوچوان بھی تھا جنہوں نے پہلی آواز اٹھائی تھی ۔” میں جانتا ہوں اسے میں لڑو گا صیاد کے لیے اس قیدیوں غلاموں کی آوازوں سے آوازیں ملنے لگیں
” اگر آج تم لوگ خاموش رہے اور وہ مر گیا تو ان سب کے زمہ دار تم ہوگے ایک انسان نے تم لوگوں کے لیے اتنا کچھ کیا تم لوگ اسکی جان نہیں بچا سکے ۔۔” غفران ہاتھ پھیلائے انکے سامنے کھڑا تھا جب ایک انسان آگے آیا میں دوں تمہارا ساتھ میں جاؤں گا صیاد کے خلاف اور آہستہ آہستہ پورا شہر سحر ایک ساتھ ہوگیا ۔
سناش اگلی صبح واپس آیا تھا جب سارا ماجرا اسے بتادیا گیا جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا تھا وہ ایک دن محل میں نہیں تھا اور اسیر کی جان پر بن آئی تھی ۔وہ سیدھا صیاد کے کمرے میں گیا اس بات اسنے اجازت بھی نہیں مانگی تھی ۔” ابا آپ نے اسیر کو قیدی کیوں بنایا ہے ؟”
” سناش وہ شہر سحر کا باشندہ نہیں ہے وہ دوسری دنیا سے آیا ہے اور اسے تمہاری لاڈلی طلسم لائی ہے ۔”
” کیا صرف یہی وجہ تھی اسے قید کرنے کی ؟” ۔۔۔” سناش کیا یہ چھوٹی بات ہے وہ دوسری دنیا سے آیا ناجانے کی ارادے ہیں اسکا کیا چاہتا ہے کہا نہیں اسے مار دینا ہی بہتر ہے ۔”
” وہ کافی وقت سے ہے یہاں کیا کیا برا ہوگیا جو بھی ہوا ہے اچھا ہی ہوا اور وہ ۔۔۔۔۔” وہ ابھی یہ باتیں کر ہی رہے تھے جب سپاہی بھاگتا ہوا آیا ۔” راجہ وہ ۔۔۔راجہ وہ شہر سحر کے باشندے آپکے محل کے بارے انقلاب برپا کیے ہیں وہ کہہ رہے اسیر کو آزاد کرو۔” وہ چند لوگ ہونگے تم زیادہ ہو بھاگا دو انھیں ۔
” راجہ پورا شہر سحر محل کے باہر کھڑا ہے حد نگاہ تک جہاں تک جارہی ہے لوگ ہی لوگ ہیں ۔۔۔” سپاہی کی بات سن کر سناش اور صیاد دونوں ایک ساتھ باہر آئے ۔وہاں سب ہی موجود تھے بچے بوڑھے عورتیں مرد کوئی نہیں تھا جو اپنے گھر میں ہو سب ایک ہی نعرا لگا رہے تھے ” اسیر کو آزاد کرو ! اسیر کو آزاد کرو ” صیاد حیران تھا اسکی ہیروں کے نیچے رہنے والی عوام آج اسکے سر پر چڑھ رہی تھی ۔” کیا چاہیے تم لوگوں کو ؟” ۔۔۔۔۔” اسیر کی آزادی ! ایک نوجوان نے آگے بڑھ کر کہا ” جانتے ہو وہ اسیر کون ہے وہ شہر سحر کا باشندہ نہیں ہے دوسری عام انسانوں کی دنیا سے آیا ہے ۔”
تبھی ایک ادھیڑ عمر انسان ان میں سے باہر آیا ” راجہ صاحب جب شہر سحر کا جادو اکٹھا کیا گیا تھا تو ہم بھی عام انسان ہی بن گئے تھے اسلیے ہم ایک عام انسان کی رہائی کانگ رہے ہیں ۔” یہ غفران تھا جسے صیاد پہچان نہیں پایا ۔
” کیوں ایسی کیا خاص بات ہے اس غلام میں جو میرا اپنا شہر میرے خلاف کھڑا ہے ۔” اسنے تن کر جواب دیا ۔” وہی خاص بات راجہ جو آپ میں نہیں ہے وہ آپکے نہیں ہمارے بارے میں سوچتا ہے ہمیں اسکی آزادی چاہیے آج ہم جس کی وجہ سے آزادی اور خوشحالی سے سانس لے رہے ہیں ۔۔” صیاد انکے سوالوں سے تنگ آگیا تھا ۔ اسنے سپاہیوں کو ان سب پر حملہ کرنے کے لیے کہہ دیے ” خبردار جو کسی نے ایک قدم آگے بڑھایا تو !!! سناش نے اپنی تلوار میان سے نکال لی تھی ” سناش کیا کر رہے ہو ؟ ۔۔۔۔۔۔۔” ابا آپ کیا کر رہے ہیں ؟” پہلے بات سناش نے صیاد سے اتنے اونچے لہجے میں بات کی تھی ۔ وہ اسکا منہ تکتا رہ گیا ۔” ابا کیا کر رہے ہیں آپ کیوں اس کی جنا کے درپے ہیں کیوں چھوڑ نہیں دیتے اسے ۔”
” سناش ہم نے آج تک تم سے کچھ نہیں مانگا آج مانگ رہا ہوں ۔۔”….” ابا ہم اپکو اس کی اجازت نہیں دیں گے ۔۔۔۔سناش تمہیں دینا ہوگا !……نہیں ابا ہم نہیں دیں گے ۔۔۔۔” سناش تمہیں اسیر سے مقابلہ کرنا ہوگا !” صیاد کی اس بات پر اسنے حیرت اور سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔” تمہیں اسیر سے تلوار بازی کا مقابلہ کرنا ہوگا ہم تمہاری بات مان کر اسکی جان نہیں لیں گے تہیں ہماری بات مان کر اس سے لڑنا ہوگا بتاؤ کرو گے یا نہیں؟” ۔۔۔”مگر ابا !…وہ جانتا تھا اسیر کو تلوار بازی نہیں آتی وہ ہار جائے گا مگر ہار جائے گا تو اسکی جان تو بچ جائے گی ۔” ٹھیک ہے ابا ہم کریں ۔”
” سناش اور اسیر کے درمیان تلوار بازی کا مقابلہ ہوگا اگر سناش جیتا تو آپ سب اسیر کی حمایت چھوڑ دیں گے اور اگر اسیر جیتا تو اسیر کی آزادی کے ساتھ میں شہر سحر کی گدی چھوڑ دوں گا ۔” صیاد نے بڑے غرور اور مان سے یہ فیصلہ کیا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا اسیر کبھی بھی سناش سے جیت نہیں پائے گا اسکی موت طے ہے لوگوں نے بھی بنا کچھ سوچے سمجھے حامی بھر دی یہ جانے بغیر کہ میدان جنگ کا اصول کیا ہے کیونکہ شہر سحر میں پہلے کبھی ایسا مقابلہ ہوا ہی نہیں تھا ۔یہ خبر قید خانے میں موجود زخمی اسیر کو بھی مل گئی تھی اور اپنے ہی کمرے میں نظر بند طلسم کو بھی ” کیا سناش اور اسیر کا توار بازی کا مقابلہ اور سناش نے ہاں کردی اسیر کو تلوار بازی بلکل نہیں آتی اور سناش کو آج تک کوئی ہرا نہیں پایا اور شہر سحر کے اصول کے مطابق جو میدان جنگ میں ہارے گا اسکی موت طے ہے او میرے خدایا صیاد اتنا بڑا کھیل کھیل گیا اور سناش نے سوچا بھی ہاں کردی اب کیا ہوگا اسیر زندہ نہیں رہے گا ۔” وہ تو وہیں نیچے بیٹھ کر رونے لگی تھی ۔” یا میرے مالک کچھ تو رحم کردے ان دونوں کو ایک دوسرے کے مقابل آنے سے روک لے ۔”
نورِ خدا کرم کی نظر ہو۔۔۔
مولا میری دعا میں اثر ہو ۔۔۔۔
یہ معجزا دیکھائے خدایا ۔۔۔۔۔
میری تڑپ ہی انکو خبر ہو ۔۔۔۔
حالِ دل یا نبی آپکے سامنے ۔۔۔
سر جھکا کر کہیں گے ہم ۔۔۔۔
تاجدارِ حرم ۔۔۔تاجدارِ حرم ہو۔۔
نگاہیں کرم۔۔۔ہم غریبوں کے دن بھی سنور جائیں گے ۔۔۔۔
اسیر کی تھوڑی بہت مرہم پٹی کردی گئی تھے کچھ وقت بعد اسے سنا کو آمنے سامنے آنا تھا اسیر جانتا تھا آج اسکی موت طے ہے لیکن وہ خدا سے بس ایک دعا مانگ رہا تھا ” یا میرے مالک جو تیری رضا وہ میری رضا اگر میری موت ہی تیرا فیصلہ ہے مجھے منظور ہے بس طلسم اور میری اولاد کا خیال رکھیے گا جب تک سناش ہے مجھے انکی فکر نہیں ہے وہ کبھی بھی طلسم کے ساتھ کچھ غلط نہیں ہونے دے اسلیے آج مجھے میرے موت پر کوئی افسوس نہیں ہے ۔
سن لو عرض نبی جی خدارا ۔۔۔۔۔۔
کوئی نہیں جہاں میں ہمارا ۔۔۔۔۔۔
خاموشیوں کی سن لو صدائیں ۔۔۔
دل میرے ہے تک کو پکارا ۔۔۔
آپ نے بھی اگر نہ ہماری خبر ۔۔۔
تو بتاؤ جہاں جائیں ہم تاجدار حرم ۔۔۔
تاجدارِ حرم ہو نگاہیں کرم ہو کرم ۔۔۔۔
وہ تلوار بازی کے لیے تیار ہوچکا تھا وہ خوش تھا کہ ابا نے ہم سے کہا تھا کہ وہ ہماری بات مان کر اسیر کی جان نہیں لیں گے اسلیے ہم بھی انکے کہنے پر ان سے لڑنے جارہے ہیں وہ ہار بھی گئے تھے سب ٹھیک ہو جائے گا ابا کی ضد بھی رہ جائے گی اور اسیر کی جان بھی بچ جائے گی اور پھر میں اسے کسی طرح باہر نکلوا لوں گا ۔لیکن صرف خدا جانتا تھا کہ صیاد کیا کرنے والا تھا بس اب وہی تھا جو کچھ کرسکتا تھا ۔
اب تو چہرے سے پردہ ہٹا دی جیئے ۔۔۔۔
دردِدل کی ہمارے دعا کیجیے ۔۔۔۔۔
آپ کے ہاتھ میں ہے میری زندگی ۔۔۔۔
مٹاا دیجئے یا بنا دیجئے ۔۔۔۔۔۔۔
اسکو کیسے ستائیں کے دنیا کے غم آپ جیسا ملا ہو جسے محترم ۔۔۔۔
سن لو عرض اے میرے مصطفیٰ ۔۔۔۔
ہونے سے پہلے اب آنکھ نم ۔۔۔۔
تاجدارِ حرم ہو ۔۔۔
نگاہیں کرم ہو کرم ۔۔۔
تاجدارِ حرم۔۔۔۔
وہ دونوں میدان جنگ میں پہنچ چکے تھے صیاد بڑے غرور سے کرسی پر بیٹھا تھا طلسم کر بھی لے آیا گیا اسیر کی حالت تو سناش نے اب دیکھ تھی ابا نے اسے اتنا مارا ہے اوپر سے مقابلہ ۔۔۔” وہ ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ میدان جنگ کے اصول بولے جانے لگے ۔
” میدان جنگ کھیل بلکل صفائی اور ایمانداری سے کھیلا جائے گا نہتھے پر وار نہیں کیا جائے اور تیسرا آخری اصول شکست خوردہ کو مار دیا جائے گا ۔” یہ اصول تو سناش نے اب سنا تھا اسنے صیاد کی طرف دیکھا جو پر اسرار طریقے سے مسکرا رہا تھا سناش کا ایک بات دل کیا کہ قدم واپس لے مگر پھر رک گیا ابا اتنا بڑا دھوکہ دے گئے ہمیں ہم نے انھیں اسیر کو مارنے سے روکا تو انھوں نے اسیر ہو میرے ہی ہاتھوں مارنے کا سوچ لیا اور وہ اب اپنے کیے وعدہ پر پچھتا رہا تھا لڑنا تو اب تھا اسے ۔” مقابلہ شروع کیا جائے ! صیاد نے حکم جاری کردیا تھا ڈنکے پر چوٹ بھی پڑ گئی تھی مگر دونوں میں سے کوئی بھی تلوار نہیں اٹھا رہا تھا کہ اچانک اسیر اپنے ہاتھوں سے تلوار چھوڑتا ہوا نظر آیا ” نہیں اسیر تم ایسا نہیں کرسکتے تم ہار نہیں مان سکتے تمہیں لڑنا ہوگا ۔۔۔”
” سناش مجھے نہیں چاہیے ایسی جیت جو اپنے دوست کے مقابل آنے سے ملے میں ہار مانتا ہوں تم مجھے مار دو۔”
