Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam NovelR50472 Shehr-e-Sahar Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Shehr-e-Sahar Episode 14
Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam
حنا اور علی کر ساتھ ان دونوں کی شادی کی بھی تیاری شروع ہوچکی تھی ۔وہ خوش تھی روباش کی شطانیاں بڑھتی جارہی تھی ۔ہیبت دوبارہ سے اسیر کو نظر آرہا تھا پہلے وہ صرف کام کے وقت باہر آتا تھا مگر اب طلسم اسیر کو تنگ کرنے کے لیے بھی اسے اسکے سامنے کرتی تھی پھر بعد میں اسکا مذاق بناتی تھی کہ اسیر آپ شاید اپنی تصویر دیکھ لی ہوگی ۔جیسے تیسے کر کے نکاح کا دن بھی آگیا ۔دونوں دوستوں نے تعلیم ایک ساتھ حاصل کی کام ایک جگہ کی اور آج شادی بھی ایک ہی دن کرنے جارہے تھے ۔علی نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ شادی کے بعد حنا کے ساتھ امریکہ شفٹ ہو جائے گا ۔شادی سے ایک رات پہلے طلسم نے اسیر جس اپنے نام کی حقیقت بتا دی تھی۔
” اسیر مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے ۔” وہ پیلے جوڑے میں ملبوس لمبے بالوں کو پراندے میں باندھے پھولوں کا زیور زیب تن کیے جھولے پر بیٹھے تھے ۔
کیا بات ہے سحر سب ٹھیک ہے ؟وہ اسکا سنجیدہ چہرا دیکھ کر پریشان ہوگیا ۔
” اسیر وہ ۔۔۔میرا نام سحر نہیں ہے ” ۔ کیا مطلب سحر نہیں تم پھر سے مجھے تنگ کر رہی ہوں ؟ اسے لگا شاید وہ مذاق کر رہی ہے ۔
نہیں اسیر میں مذاق نہیں۔ کر رہی میرا نام حقیقت سحر نہیں طلسم ہے کل ہمارا نکاح اسلیے آج بتارہی ہوں۔
کیا !! تمہارا نام طلسم ہے اسکے چہرے کے تو رنگ اڑ گئے تھے ۔
ہاں طلسم زولفشان میرا نام تھوڑا سا عجیب ہے اسلیے میں نے اسکا مترادف ڈھونڈا تھا سحر لیکن سحر اصلی نہیں ہے ۔اسکی بات سن کر وہ خاصا پریشان ہوگیا تھا پھر اچانک بولا ۔۔” اب تو کوئی شک رہا ہی نہیں ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے ہی بنے تمہارا نام بھی عجیب اور میرا بھی تم ایک جادوگر اور میں قیدی تو ہوئے نا ہم اسیر طلسم یعنی تمارے جادو نے مجھے قیدی بنا لیا ۔پتا ایسا کیوں لگ رہا ہے جیسے ہم دونوں بہت پہلے سے ایک دوسرے سے جڑے ہیں کہیں بہت پہلے ہمارا ساتھ لکھ دیا گیا جو کل پورا ہوجائےگا کل پورے حق سے تم میری ہوجاو گی سب ٹھیک ہو جائے گا ۔یہ کہ کر اسنے اسکے ماتھے پر لب رکھ دیے ۔
” آپ سہی کہ رہے ہیں اسیر ہمارا ساتھ ہمارے پیدائش کے پہلے ہی لکھ دیا گیا تھا آپکو پہلے ہی اسیر طلسم قرار دے دیا گیا بے۔غفران نے سہی کہا تھا وہ خودبخود تمہاری طرف کھینچا چلا آئے گا ۔” اسنے اسکے سینے پر سر رکھ کر آنکھیں بند کرلیں ۔
نکاح کی تمام تیاری مکمل کر دی گئی تھی ۔پورا ہال گلاب کے پھولوں سے سجا ہوا تھا ۔بہت بڑے سٹیج پر جوڑوں کو بیٹھانے کا انتظام کیا گیا تھا ۔اسیر نے لال اور علی نے کریم کلر کی شیر وانی پہنی تھی ۔تمام لوگ وہاں موجود تھے شگفتہ بیگم نعم صاحب انکی بیگم علی کے والدین انکے دوست سب ہی وہاں موجود تھے ۔جوڑوں کی اینڑی کے لیے بہت ہی خوبصورت راہداری بنائی گئی تھی۔ جس کے ہر قدم پر فرنگی پانی کے پھول لگے تھے جگنو اب بھی شہزادی کو دیکھنے کے لیے جھمگھٹا بنائے پھولوں پر بیٹھے تھے ۔روباش طلسم کے لاکٹ میں قید آج خاموش تھی اور اسکی خاموشی کی وجہ طلسم جانتی تھی مگر وہ پوچھنا نہیں چاہتی تھی اسلیے اسنے روباش کو لاکٹ سے آزاد کر دیا اور کوند کر باہر آیا ۔
” شادی مبارک ہو طلسم ۔۔” ۔۔۔روباش تم مجھ سے ناراض ہو ؟
نہیں طلسم میں تم سے ناراض نہیں ہوں مجھے بس سناش کا دکھ ہسنے نہیں۔ دے رہا اسے پتا چلے گا تو اسے کتنا دکھ ہوگا اور جب وہ مجھے سوالیہ نگاہوں سے دیکھے گا تو میں اسے کیا جواب دوں گا کہ میں اسکی طلسم کا کسی اور کا ہونے سے نہیں روک سکا ۔
” سناش کو کچھ نہیں ہوگا میں اسے سب سچ بتا دوں گی اسے سمجھا لوں گی اور آج میں تم سے وعدہ کرتی ہوں شہر سحر ج کر میں اسکی بچپن والی طلسم بن جاؤں گی اسکی اچھی والی دوست جس سے وہ خوش ہوجائے گا ۔۔” طلسم کی اس بات پر وہ خوش ہوگیا تھا ۔
” ہو مبارک آج کا دن ۔۔۔
شام آئی ہے سہانی ۔۔۔۔۔
شادمانی ہو ۔۔شادمانی ۔۔۔
وہ ہوا میں لہرا لہرا کر گا رہا تھا ۔ دولہے سٹیج پر پہنچ چکے تھے ۔سکھیاں سہیلیاں سب دلہنوں کو لینے گئیں تھی مگر خالی ہاتھ ہی لوٹ آئیں جس پر اسیر اور علی کی خوشی غائب ہوگئی تھی ۔لڑکیوں نے بتایا کہ انھوں نے آنے سے منع کردیا ہے وہ اس طرح نکاح کرنا نہیں چاہتی
” مگر کیوں کوئی بات ہوئی ہے لڑکوں ؟ ” نعیم صاحب بڑی سنجیدگی سے پوچھ رہے تھے ۔
” نہیں چاچو ایسا تو کچھ نہیں مہندی تک تو سب ٹھیک تھا پتا نہیں کیا ہوگیا ۔۔”
نہیں نعیم صاحب سحر میری اپنی بیٹی نہ سہی بیٹی جیسی تو ہے میں اسکا نکاح ایسا نہیں ہو دے سکتی ۔شگفتہ بیگم کا رویہ اچانک بدل گیا ۔” میں بھی حناکا نکاح اسیے نہیں ہونے دوں گی ۔حنا کی ماں نے بھی اپنا غصہ نکالا ۔
” اسیر اور علی کی تو جان حلق میں آگئی تھی ۔”
” سحر وہ ہے جو کبھی ہنگامہ کیے بغیر رہ نہیں سکتی ۔۔۔۔اور حنا تھوڑی سے فلمی ہے ۔۔۔شگفتہ بیگم اور حنا کے ماں نے باری باری کہا ۔
” تو ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ اس شادی میں تھوڑا سا ہنگامہ اور تھوڑی سی ایکٹنگ نہ ہو۔۔۔” اب کی باری نعیم صاحب بولے تھے اور اسی کے ساتھ ہی اینٹریس پر بہت سارے سکوٹو جما ہوگئے تھے جن پر لڑکیاں بیٹھی تھیں ۔اور ان سب کے بیچو بیچ وہ دونوں بھی سکوٹر پر تھیں لال جوڑے میں ملبوس سحر اور کریم کلر کے جوڑے میں حنا دونوں نے آنکھوں پر چشمہ لگا رکھا تھا ۔مہندی والے ہاتھوں سے ہینڈل پکڑے جس سے ہاتھ میں پہنے کلیرے نیچے لٹک رہے تھے ۔میوزک بجنا شروع ہوا اور ایک ایک کر کے سکوٹر چلنے لگے ۔سکوٹروں کو ایک سائیڈ پر کھڑا کر کے وہ سٹیج کے بلکل آنے آگئیں جہاں علی اور اسیر دونوں ہاتھ منہ پر رکھے آنکھیں پوری کھولے انھیں دیکھ رہے تھے ۔انھوں نے ڈانس کرنا شروع کیا ۔
وہ ہینڈسم سونا سب سے ۔۔۔۔
میرے دل گیا لیکر ۔۔۔۔
میری نیند چترالی اسنے اور خواب گیا دے ۔۔۔۔۔
نیناں یہی بولیں یار ۔۔۔۔۔
بولیں یہی لگاتار ۔۔۔۔
کوئی چاہے جتنا روکے ۔۔۔۔
کروں گی پیار ۔۔۔۔
میرے سئیاں سپرسٹا ر ۔۔۔
میرے سئیاں سپر سٹار ۔۔۔
میں فین ہوئی انکی میرے سئیاں سپر سٹار۔۔۔۔۔
وہ ٹھمکے لگاتی ہاتھ ہلاتی ایک دوسرے کے گرد گھومتی اتنی پیاری لگ رہی تھیں کہ کسی کی نظر ان سے ہٹ ہی نہیں رہی تھی ۔ہاتھوں کی حرکت سے کلیرے بھی ہل رہے تھے جن کی کھنک پورے ہال گونج رہی تھی دولہے تو سانس لینا بھول گئے تھے ۔
وہ چاروں سٹیج پر پہنچ چکے تھے۔حنا اور علی کا نکاح پڑھا جا چکا تھا ۔اب اسیر اور طلسم کی باری تھی ۔نکاح خواہ نے پہلے اسیر سے پوچھا اسیر شاہنواز ولد زاہد شاہنواز کیا آپ کو یہ نکاح طلسم زولفشان ولد زولفشان کے ساتھ بحق مہر پندرہ لاکھ سکہ رائج الوقت قبول ہے ۔
اسکی تو خوشی کی انتہا نہیں تھی ۔
قبول ہے ۔
قبول ہے ۔
قبول ہے ۔
طلسم زولفشان ولد زولفشان کیا آپکو یہ نکاح اسیر شاہنواز ولد زاہد شاہنواز کے ساتھ بحق مہر پندرہ لاکھ سکہ رائج الوقت قبول ہے ۔
قبول ہے ۔۔۔
قبول ہے ۔۔۔
قبول ہے ۔نکاح کی تقریب مکمل ہوچکی تھی ۔یہاں اس وقت چار لوگ دو جسم ایک جاں ہوچکے تھے ۔ مہمان جانا شروع ہوگئے تھے ۔وہ لوگ بت بنے سٹیج پر بیٹھے تھے کھا نا کھایا جا چکا تھا ۔
کب جائیں گے یہ مہمان کب جائیں گے ہم روم میں ؟ اسیر طلسم کے کان میں کہ رہا تھاوہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی ادھر علی کا بھی یہی حال تھا ۔
اے ایس ایسا نہیں لگ رہا جیسے تماشائی خود تماشا بن کر بیٹھے ہیں ۔یار مجھے تو لگ رہا ابھی تھوڑی دیر تک یہ ہم لوگوں کو فریم کردیں گے ہلنے بھی نہیں۔ دے رہے ۔ اسیر نے پوری نظر دوڑا کر چاروں طرف دیکھا جہاں ایک لڑکا طلسم کو گھورے جا رہا تھا ۔اسنے طلسم کو مڑ کر دیکھا جو لال جوڑے میں سون پری لگ رہی تھی اور پھر اسکے سامنے کھڑا ہوگیا جس سے طلسم اسکے پیچھے چھپ گئی اسیر نے اس لڑکے کو اپنے پاس بلایا ۔
” میرا خیال ہے محترم یہ انتہائی زلیل حرکت ہے کہ آپ میرے ہی نکاح پر آکر میری ہی بیگم کو تکے جارہے ہیں ۔۔۔۔” اسنے مسکراتے ہوئے اسے زلیل کیا تھا ۔جس سے وہ شرمندہ سا ہوکر وہاں سے چلا گیا ۔
ہاہا اے ایس باقیوں کے ساتھ بھی یہی کر یہ جانہیں رہے نہ انھیں نکال ۔۔۔” آخرکار تمام مہمان چلے گئے تھے دلہنوں کو انکے کمروں میں پہنچا دیا گیا تھا ۔وہ دونوں نیچے ڈائنگ ہال میں بیٹھے تھے ۔علی کے والدین بھی سونے چلے گئے تھے اور نعیم انکل اپنے گھر علی کی کل کی فلائیٹ تھی ۔
” میں نے سنا تھا کہیں کہ دوستی وہ رشتہ ہوتا ہے جو خلوص محبت اور وفا سے بنتا ہے انمول ہوتا اور تمہارے روپ میں مجھے یہ بات کنفرم ہوئی ہے ۔علی تو نہیں جانتا تو میرے لیے کیا ہے میرا دوست میری جان میرا سب کچھ ۔۔۔” وہ اسکے ہاتھ پکڑے اسے کہ رہا تھا علی نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا ۔
” علی تو کیوں جارہا ہے یہ کیا تیرا گھر نہیں ہے تو اور حنا یہی رہ لو کیا ضرورت ہے جانے کی ؟..
نہیں اسیر میں تیرے ساتھ اسلیے تھا کہ تو اکیلا ہے مگر اب طلسم بھابھی ہی۔ تیرے ساتھ تو اسکے ساتھ رہے گا ۔۔۔
” آہ کیا یاد کروایا ہے چل بھئی تیری والی بھی اور میرے والی بھی انتظار کر رہی ہوں گی ۔۔۔۔”
” ہاں چل شادی کا لڈو کھا تو لیا اب پچانا بھی تو ہے ۔۔۔” وہ دونوں اپنے اپنے کمروں کی طرف بڑھ گئے ۔
پورا کمرا پھولوں سے سجا تھا نائٹ بلب کی مدھم سی روشنی میں موم بتیاں جل رہیں تھی ۔چنبیلی کے پھولوں کی خوشبو پورے کمرے میں پھیلی تھی ۔بیڈ پر وہ اپنا لہنگا پھیلائے گھونگھٹ نکالے بیٹھی تھی ۔
وہ آہستہ قدموں سے آیا اور صوفے پر بیٹھ گیا ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر ۔۔
طلسم اٹھو میرے لیے چائے بنا کر لاؤ ۔۔۔،” اسنے چائے کا کہ کر اپنا فون نکال لیا تھا ۔اسنے حیرت سے گھوگھٹ اٹھایا ۔
” اسیر یہ کیا کہ رہے ہیں آپ ؟”۔۔کیا میں نے کچھ غلط کہا چائے مانگی ہے چائے لادو ۔۔۔”اسنے کندھے آچکا کر کہا ۔
” اسیر آج ہماری شادی کی فسٹ نائٹ اور آپ مجھے چائے بنانے کا کہ رہے ہیں ۔۔۔”
نکاح ہوئے پانچ گھنٹے ہوگئے ہیں تم پانچ گھنٹے پرانی دلہن ہو اسلیے اٹھو اور میرے لیے چائے بناؤ کام دھندہ کرو میں نے تو شازیہ کو بھی منع کردیا ہے کہ کل سے نہ آئے کپڑے برتن جھاڑو صفایاں سب میرے بیوی کیا کرے گی ۔۔۔۔”اور وہ حیرت سے منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی ۔طلسم اٹھو چائے بناو میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو ۔۔۔” وہ اتنے پختہ لہجے سے کہ رہا تھا کہ اسے مجبوراً اٹھنا پڑا اپنا لہنگا سنبھالتی وہ باہر کی جانب بڑی ہی تھی جب اسنے اسے کھینچ کر صوفے پر گریا اور اس پر جھک کر بولا ۔۔۔
کہاں جا رہی ہو؟…چچ چائے بنانے ۔۔۔۔اسکی گرم سانسیں اسے اپنے چہرے پر محسوس ہورہی تھیں ۔
” کیوں؟ ۔۔۔”
” آپ ہی نے تو کہا تھا چائے کا ۔۔۔پینے کے لیے ۔۔۔”
” مجھے تو تمہں پینا بوند بوند۔۔”اسکے ہاتھ پکڑے ڈریسنگ کے سنے آیا اور اسکو اپنی باہوں میں بھر کر کہا ۔
” طلسم دیکھو آئینے میں کیا دکھ رہا ہے ؟” اسکے کندھے پر ٹھوڑی رکھے وہ سامنے اشارہ کر رہا تھا ۔
” آپ اور میں ۔۔۔اسکا جواب سن کر ایک دلفریب مسکراہٹ اسکے چہرے پر آئی تھی ۔
” نہیں اب میں میں نہیں رہا تم تم نہیں رہی اب ہم ہوگئے ہیں ۔قدرت نے ہمیں اس رشتے سے باندھا ہے جو ہر رشتے کی حقیقت ہے اسنے ہمیں ایک کیا ہے دنیا کی کوئی طاقت اب ہمیں الگ نہیں کرسکتی ۔۔۔۔”
اسنے بڑی آہستہ سے اسکے دوپٹے کی پن نکال کر اسے اتارا ۔۔۔” تمہارا بناؤ سنگھار سب میرے لیے ہے یہ بال ۔۔۔۔” اسنے اسکا جوڑا بھی کھول دیا تھا جس سے اسکے بال جھرنے سے بہتے پانے کی طرح نیچے گرے ۔۔۔”اس کالی گھٹا میں سرسراہٹ کوئی شور کوئی سایہ ہوگا تو وہ میرا ہوگا ۔۔۔تمہاری بندیا ! بالوں سے بندیا بھی اتر چکی تھی ۔۔” یہ سجے گی چمکے گی تو صرف میرے لیے ۔۔۔۔تمہاری چوڑیاں ۔۔۔چوڑیوں والا ہاتھ اسکے ہاتھ میں تھا جس سے ایک ایک چوڑیاں آہستہ آہستہ اتر رہی تھی ۔” انکی کھنک میں کوئی نام ہے تو میرا ہے چڑھے گی تو میرے لیے ٹوٹے گی تو میرے ہاتھوں میں۔۔۔۔۔۔۔گردن سے بال پیچھے ہونے لگے تھے ایک جھمکا اتر چکا تھا ۔وہ آئینے کے سامنے نروس ہورہی تھی تیری محبت کا جنوں ہے یہ ۔۔
یا تیری قربت کا فتور ۔۔۔
بہک جاؤں تیری جسم کی خوشبو میں ۔۔۔
مدہوشی ہے تو نہیں۔ میرا قصور ۔۔۔
اسکے دوسرے کان سے جھمکا اتارتے ہو اپنی لے میں بولے جارہا تھا اور سامنے شیشے میں اسکی کاروائی دیکھ رہی تھی ۔روباش والا لاکٹ اسنے اتار کر پہلے ہی رکھ دیا تھا ۔اسکی سانسیں اسکے قریب آتے ہی اسالجھ گئی تھیں ۔اپنی گردن پر اسکا بھیگا لمس اسے محسوس ہوچکا تھا ۔
سمٹ جاؤ تیرے پہلو میں ۔۔
بکھر جاؤں تم میں کہیں ۔۔۔
چھولوں تجھے تیری روح تلک۔۔
مل جائے مجھے سکون وہیں ۔۔۔۔لفظوں سے کھیلتا وہ اسکا ایک ایک زیور اتار رہا تھا ۔گردن سے شروع ہوئے لب کندھے تک کی مسافت طے کر چکے تھے اسکے ہر عمل کے ساتھ اسکے لفظ بھی اسکی سانسوں کی رفتار تیز کررہے تھے ۔اسنے گھما کا اسکا چہرا اپنی جانب کیا۔باری باری اسکی دونوں آنکھوں کو اپنے لبوں سے چھوا ۔وہ اسکے ہونٹوں پر انگوٹھا پھیر رہا تھا ۔
تیری آنکھوں میں جو جہان ہے میرا ۔۔۔۔
تیرے ہونٹوں پر جو جام ہے میرا ۔۔۔۔۔
جی لوں تجھے میں زرا زرا ۔۔
پی اسے میں قطرا قطرا ۔۔۔۔۔۔۔۔
بڑی آہستہ سے اسنے اسکے لبوں کو اپنے حصار میں لیا ۔انکھیں دونوں کی بند تھیں ۔وہ ایک دوسرے کے ساتھ تھے پاس تھے اور یہ محسوس وہ کرنا چاہتے تھے ۔ناجانے وقت انھیں جب اور کیسے جدا کردے لیکن اس سے پہلے وہ ایک دوسرے میں جذب ہونا چاہتے تھے تاکہ دور ہونے پر بھی یہ نہ لگا کہ وہ ہم سے دورہے وہ اندر موجود رہے اسکا لمس اندر موجود رہے ۔رات کافسو ہر طرف ایک جیسا تھا ۔دوونں محبتیں اپنی کاملیت پر تھیں ۔رات خوبصورت تھی مکمل تھی محبت مکمل ہونی تھی خوش تھی چاند اس عشق کا نکاح کا گواہ بنا تھا لیکن وہیں چاند کے اس پار کال جنگل میں تھا جس کی آنکھیں آج بھی کسی کی منتظر تھیں ۔چڑیاں جگنو سارے جانور اسے دیکھ کر آنسو بہا رہے تھے ۔اسکے اپنے آنسوں تو سوکھ چکے تھے سچ اسے بھی نہیں پتا تھا پر دل تھا کے کہیں نہ کہیں یہ ماننے پر راضی ہی نہیں تھا کہ وہ جاچکی ہے اور دل کبھی جھوٹ نہیں بولتا ۔پھر بھی وہ کر روز کال جنگل آتا تھا آٹھ ماہ سے کوئی دن ایسا نہیں گزرا تھا جب اسنے اسے یاد نہیں کیا تھا اسکے لیے کوئی پیغام نہیں دیا تھا ایک ایک لمحے کا سارے سارے دن کا حال نہیں سنایا تھا ۔ہر روز رات کے دوسرے پہر ڈھیر سارے جانور حشرات پرندے اسے دیکھنے آتے تھے اسے سننے آتے تھے ۔
“ طلسم دغا کر گئی آپ یہ وقت تو نہیں تھا جانے کتنا کچھ کہنا تھا آپ سے کتنا کچھ بتانا تھا کہ پچس سال تھا اس دل نے صرف خون نہیں آپکی محبت کو بھی میرے انگ انگ میں بھرا ۔میری آنکھوں نے دیکھا ہر خوبصورت منظر آپکے کے وجود میں گم ہوتا دیکھا ہے بیش قیمت عطروں کی خوشبو آپ سے میل نہیں کھاتے آپکی آنکھوں زلفوں جتنی سیاہی رات میں نہیں ہے ۔بتانا تھا آپکو کہ ہم ۔۔۔۔۔۔اسکا سانس اب اٹکنے لگا تھا آنسوں خود بخود گرنے لگے تھے ۔۔۔۔بتانا تھا آپکو کہ ہم آپ سے بے پناہ عشق کرتے ہیں ۔ہمیں آپ پر کسی کی نظر برداشت نہیں تھی آپکی ایک خروش کو بھی ہم اپنا درد بنانا چاہتے تھے اور کال جنگل آپ کو کھا گیا اور ہم کچھ کر بھی نہیں سکے ۔سب جانوروں سے پوچھ چکا ہوں سب کہتے ہیں ہمیں نہیں معلوم شہزادی کہاں ہے ۔اسنے ایک بار پھر تمام کو سوالیہ نگاہوں سے دیکھا جس پر وہ سب سر جھکا گئے امید ایک بار پھر ٹوٹ گئی تھی ۔
بھری محفل میں مجنوں نے پکارا۔۔۔
میرے لیلہ کو دیکھا ہے کسی نے ۔۔۔
دلِ امید توڑا ہے کسی نے ۔۔ ۔
سہارا دے کر چھوڑا ہے کسی نے ۔۔۔۔
وہ ٹوٹے قدموں سے اٹھ کر پھر چل دیا جب ایک باز اسکے کندھے پر بیٹھ گیا ۔۔۔” شاہین کچھ پتا چلا ؟…” اسنے بھی نفی میں سر ہلا دیا ۔ایک اور آنسوں ٹوٹ کر جال جنگل کی مٹی میں سما گیا نجانے کب سے یہ زمیں سناش کو آنسوں اپنی گود میں بھر رہی تھی جیسے اسکے ایک ایک آنسو کا حساب اسے طلسم سے لینا تھا ۔
سمندر تو یہاں پہلے نہیں تھا ۔۔۔
یہاں آنسو گرایا ہے کسی نے ۔۔۔
دلِ امید توڑا ہے کسی نے ۔۔۔
کوئی بات زبان گواہ نہیں تھا طلسم کی حیات کی سوائے ہوا کے اور ہوا بول نہیں سکتی احساس دلا سکتی جو اس دنیا میں اور اُس دنیا میں مسافت طے کرتی تھی ۔وہ روز اس دنیا سے طلسم کی خوشبو لاتی اور سناش کے ارگرد گھومنے لگتی اسکی خوشبو کو وہ محسوس کرتا تھا مگر ہوا کی پہیلی وہ سلجھا نہیں پایا تھا ۔
قفل کی تیلیاں رنگیں کیوں ہیں ۔۔۔
یہاں پر سر کو پھوڑا ہے کسی نے ۔
دلِ امید توڑا ہے کسی نے۔۔۔۔
وہ وہاں سے چلا گیا تھا ۔اور چاند کے اس پار کوئی طلسم اپنے محبت کے حصار میں تھی ۔اس بات سے ناآشنا کہ کوئی اسکی یاد میں کس قدر تڑپ رہا ہے ۔اسے صرف غرض تھی جو اسے بوند بوند پی رہا تھا ۔وہ تھوڑی سی لالچی ہوگئی تھی اسیر کے لیے یا شاید شہرِ سحر کے لیے لیکن اس وقت وہ سب بھول چکی تھ
