Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam NovelR50472

Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam NovelR50472 Shehr-e-Sahar Episode 35 (Last Episode)

334.6K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shehr-e-Sahar Episode 35 (Last Episode)

Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam

“ ابا ! آپ ہیں نہ یہاں مجھے پتہ ہے آپ ہیں اپ مجھے بچپن سے یاد دلاتے تھے میرا کیا مقصد مجھے یہاں بلاتے تھے میں نے اپنا کام کردیا ابا مگر مجھے آپکی ضرورت ہے صیاد کا ظلم سناش کو نگلنے والا ہے اسے بچانا ہے ابا آپکا جادو چاہیے اطم کہاں ہے صرف اب بتا سکتے ہیں بتائیں ابا اطم کہاں ؟” وہ سارے گھر میں گھوم رہا تھا مگر کوئی جواب نہیں آیا پھر اچانک انکے سامنے ایک کتاب گری طلسم کو ڈر کر اسکے پیچھے چھپ گئی مگر اسیر نے آگے بڑھ وہ کتاب اٹھائی جس کے کھلے پنے پر لکھا تھا شہر سحر کی تاریخ ۔۔” طلسم میں نے کہا تھا ابا یہاں ہیں ہماری مدد ضرور کریں گے ۔اسیر نے ان پنوں کو پڑھنا شروع کیا ۔۔

زولفشان پیدائش سے ہی خاص طاقتیں رکھتا گا جسے عام الفاظ میں جادو کہا جاتا تھا آدم بھی اس جیسا ہی تھا اور بہت سارے لوگ ہونگے تو آدم اور زولفشان نے ایسی جگہ تلاشی جہاں وہ ایک ایسا جہاں بنا سکے جہاں ان جیسے لوگ ہوں اور یہ عام دنیا میں ممکن نہیں تھا پھر زولفشان نے اپنے علم کے ذریعے چاند کے پار ایک جگہ کھوج نکالی جہاں شیروں کی حکومت ہوا کرتی تھی تب زولفشان اور آدم دونوں کی غیر شادی شدہ تھے ۔شیروں کا بادشاہ اور اسکا خاندان پتھروں کے بنائے اطم میں رہتا تھا ان کے پاس ایک جادوئی ہیرا تھا آدم اور زولفشان کو وہ جگہ پسند آگئی مگر شیروں نے اسے دینے سے انکار کردیا لیکن پھر ان دونوں نے انھیں جنگ کے لیے للکارا اور جادو استعمال کر کے آدم اور زولفشان ان سے وہ جنگ جیت گئے تھے شیروں کا سار خاندان مر گیا تھا راجہ نے وہ ہیرا زولفشان کو دے دیا اور کہاں اس سے جیسا جہاں بنانے کے لیے کہو گے ویسا بنا دے مگر یاد رکھنا ہیرا آگر ٹوٹ گیا تو سب ختم ہو جائے گا ہم سے کوئی باقی نہیں رہا لیکن جب ہمیں لگا کہ ہیرے کا غلط استعمال ہو رہا ہے ہم اسے لینے واپس آجائیں گے ۔اور شیر بھی مر گیا اس طرح آدم اور زولفشان نے مل کر شہر سحر کی بنیاد رکھی جس میں انکی مدد اس ہیرے نے کی وہاں جادو کرنے والے خاص طاقتوں والے لوگ آتے گئے اور شیر سحر آباد ہوتا گیا ۔شہر سحر اپنے آپ میں ایک الگ دنیا ہے جو بہت وسیع ہے جس کے اپنے اصول اور قانون ہے شہر سحر کو بھی ریاستوں میں بانٹا گیا ہے جس کا اپنا ایک راجہ ہے یہاں وہ تمام لوگ ہیں جو یا تو جادو جانتیں ہیں یا اپنی اپنی طاقتیں رکھتے ہیں آپسی مڈبھیڑ کی وجہ سے کئی راستیں الگ ہوگئی زولفشان نے اپنا محل جس ریاست میں چنا تھا وہاں سب سے بڑے اور طاقتور جادوگر اور خاص طاقتیں رکھنے والے لوگ تھے اسلیے اسے ہی پورا شہر سحر گنا جاتا ہے کافی ریاستوں نے جادو پہلے ہی ترک کرکے عام زندگی شروع کردی تھی زولفشان اور آدم بھی یہی چاہتے تھے اسلیے انھوں بھی جادو اکٹھا کرنے کا فیصلہ کیا اس سے آگے پنے خالی تھی۔ اسیر نے کتاب بند کردی ” شیروں کے گھر جو اطم کہتے ہیں شہر سحر پر پہلے شیروں کی حکومت تھی پھر انکا خاندان ختم ہوگیا اور یہاں شہر کی بنیاد پڑی اس ہیرے کی وجہ جسے ہم نے شہباز سے چوری کرایا تھا شیر ہیرا اسیر کو کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اچانک اسے کچھ یاد آیا طلسم بھی سوچ رہی تھی ” میں تم لوگوں کی مدد تب کروں گا جب تمہیں لگے گا تمہیں میری مدد کی ضرورت ہے ” ان دونوں کے ایک ساتھ کہا ” سورانچھ !”

“ چلیں اسیر سورانچھ ہمیں بتا سکتا ہے کہ اطم کہا ں ہے ؟” مگر وہ نہیں اٹھا ” نہیں طلسم سورانچھ ایسے ہماری مدد نہیں کرے گا ۔”

“لیکن کیوں اسنے کہا تھا وہ ہماری مدد کرے گا ؟”…وہ ہماری مدد تب کرے گا جب ہم اسکی مدد کریں گے تم نے پڑھا نہیں۔ ہیرے کے حکمران کون ہیں شیر یعنی سورانچھ ہیرے کا حکمران ہے اور شہباز زبیر صیاد اس ہیرے کا غلط استعمال کرنا چاہتے تھے اسلیے سورانچھ وہ ہیرا چاہتا ہے ہم اسے وہ ہیرا دیں گے تو وہ ہماری مدد کرے گا ۔”

ہاں تو ٹھیک ہے اسے ہیرا دے دیتے ہیں ۔” طلسم کی بات پر اسنے حیرت سے اسے دیکھا ” وہ شہر سحر کو تباہ بھی کر سکتا ہے !”

” سناش کے بنا شہر سحر چاہیے بھی کسی کو نہیں چلیں شاہی خزانے سے وہ ہیرا میں لیکر آؤ گی ۔” وہ باہر کی طرف بڑھ گئی اور اسیر اسکے پیچھے شاہی خزانے سے اسے ہیرا آسانی سے مل گیا تھا اسے شہزادی طلسم ہونے کا لقب استعمال کرنا پڑا وہ ہیرا لیکر وہ کال جنگل آئے جو شہر سحر سے کچھ ہی دور تھا ۔” سورانچھ ! سورانچھ ! انکے دو بار بلانے پر وہ انکے پیچھے پہنچ گیا ” تو تم لوگوں کو پتہ چل گیا کہ اطم کے لیے تمہیں میری ضرورت ہے شہزادے سانش کا بہت افسوس ہے اسنے مجھ سے کہا تھا کہ وہ اپنی جان تمہاری لیے قربان کردے گا وعدہ نبھا گیا وہ ۔” سورانچھ سناش ابھی زندہ اسے بچانے کے لیے ہمیں پھول چاہیے جو اطم میں ہے اور اطم کہاں ہے صرف تم بتا سکتے ہو.”

” معاف کرنا میں تھوڑا خود غرض ہورہا ہوں مگر اس کے بدلے مجھے کیا ملے گا ۔” سورانچھ کی بات پر اسیر نے طلسم کو دیکھا ٹولڈ یو !

” کیا چاہیے تمہیں ؟” ۔۔۔۔” شہر سحر کی بنیاد وہ ہیرا ” اسنے تحمل سے جواب دیا ” تم کیا کرو گے اس ہیرے کا ؟”

“ فکر مت کرو شہر سحر کو تباہ تو نہیں کرو گا ہاں اسکا غلطا استعمال ہوا ہے اسلیے مجھے وہ واپس چاہیے میں شہر سحر میں آ نہیں سکتا تھا اسلیے تمہیں استعمال کرنا پڑا تم کافی سمجدار ہو اطم بھی ہیرے کے بغیر نہیں ملے گا ۔” اسیر نے وہ ہیرا سورانچھ کو دے دیا اسنے وہ ہیرا اپنے تاج میں خالی ایک جگہ میں لگا لیا جو چمکنے لگا اور کچھ پڑھنے لگا اس ہیرے سے نکلتی روشنی کی وجہ سے کال جنگل کی زمین میں ایک دراڑ آئی اور زمیں کے نیچے سے پتھروں کا ایک منار نکلنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ بلند ہوتا گیا .” آدم نے اسے محفوظ رکھنے کے لیے شہر سحر کی زمیں نے نیچے چھیا دیا تھا کیونکہ یہاں آج بھی ان شیروں کی قبریں ہیں جاؤ اسیر اطم سے پھول لے لو ۔اسیر اور طلسم دونوں آگے بڑھے ” نہیں طلسم آپ نہیں اسیر اکیلا جائے گا ؟” وہ کچھ پریشان ہوگئی ” فکر مت کرو اسیر اطم۔کے نگہبان اسیر کو کچھ نہیں کہیں گے انھیں معلوم ہے آدم کی اولاد امانت لینے آئے گا ۔” اسیر اطم کی جانب بڑھ گیا اطم کا دروازہ بند تھا اسنے صرف ایک بار آواز لگائی ” اسیر ابن آدم آیا ہے ؟” بس یہی سنا تھا کہ دروازہ کھل گیا اور ایک کالا سیاہ جن جو ہیبت سے بھی زیادہ ڈراؤنا تھا باہر آیا اور اسیر کو سونگھنے لگا ۔پھر اسکے سامنے جھک گیا ” خوش آمدید ابن آدم جائیں اور اپنی آمانت لے جائیں ۔” اسنے اسے اندر جانے کا اشارہ کردیا وہ اندر آیا وہاں ہر طرف لال سرخ سا سایہ تھا جابجا مٹی کے انبار لگے تھے وہ آگے بڑھتا جارہا تھا شیروں کے پنجے انکے نقش دیواروں میں گڑھے ہوئے تھے آیت الکرسی کا ورد اسے جاری کر رکھا تھا ۔

وہاں کی نم مٹی میں وہ بیج ملے گا

ابن آدم کے دست ہر وہ پھول کھلے گا ۔۔

اسکے زہن میں پہیلی کے جملے گھوم رہے تھے مگر وہاں نم مٹی تو تھی ہی نہیں اسنے ادھر ادھر نظر دوڑائی پھر ایک کونے میں اسے لال مٹی کا گوشی نظر آیا اسنے وہاں جاکر دیکھا ہاتھ پھیرا ایک جگہ سے اسے ایک کشش سی محسوس ہوئی آنے وہ مٹی اپنے ہاتھ پر اٹھائی بیج اسی مٹی میں تھا ۔

ابن ادم کی خون کی بوند سے وہ پھول کھلے گا ۔۔۔

پانا ہے کچھ تو چکھ کھونا پڑے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکے جسم سے نکلنے والے زخموں سے خون جم چکا تھا اسکے ایک میں مٹی تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیسے خون کی بوند نکلتی پھر اسنے اسی جن کو اپنے پاس بلایا ” مجھے کوئی زخم دو خون نکلنا چاہیے ۔”

ہم آپ پر وار نہج کرسکتے آپ آدم کے بیٹے ہیں وہ میرے مالک ہیں میں نہیں کرسکتا ۔میں بھی تمہارا مالک ہوں میں نہیں حکم دیتا ہوں ۔اسنے اپنا ہاتھ اسکے سامنے کیا اسنے اپنے ہتھیار سے اسکے ہاتھ پر زخم دے دیا تھا اسیر نے فوراً گرنے والی پہلی خون کی بوند اس مٹی پر ڈالی اسکے ہر عمل کے ساتھ اسکے دل کی دھڑکن بڑھتی جارہی تھی کہ اچانک اس سے ایک کونپل نکلی اور پھر ایک خوبصورت پانچ پتیوں والا پھول بنا دیا اسکی روشی اس قدر تیز تھی کہ ایک لمحے کے لیے اسیر خود اسے دیکھ نہیں پایا جب اسکی روشنی کم ہوئی تو اسنے دیکھا وہ پانچ گلابی رنگ کی پتیاں تھیں جن میں سے ایک مسلسل چمک رہی تھی ۔وہ پھول لیکر فورا باہر آیا جیسے ہی وہ باہر آیا اطم پھر زمین کے اندر چلا گیا ۔طلسم بھاگ کر اسکے گلے سے لگی ” اور اتنا وقت میں تو ڈر ہی گئی تھی کہیں آپ کو کچھ ہو تو نہیں گیا .” اگلا دن چڑھ چکا تھا اطم کے اندر وقت اتنی مدھم رفتاری سے چل رہا تھا اور اہم کے باہر اتنی تیزی سے اسے لگا وہ جلد کام ختم کر کے آیا ہے مگر وہ تو کافی دیر بعد آیا تھا۔ وہ پھول لیکر غفران کے پاس آگئے غفران نے سناش کے جسم کو ایک شیشے نما حفاظتی تہ میں رکھا تو جو ٹوٹتا جارہا تھا ” یہ لو غفران ! اسنے پھول لاکر فورا غفران کو تھما دیا اسنے اسے پکڑنے سے انکار کردیا ” میں اس پھول کا کچھ نہیں۔ کرسکتا یہ تمہارا ہے اور یہ ایسے اثر نہیں کرے پھول کی پتی مسل کر لگائی تو سارا جادو ایک ساتھ زائل ہوجائے گا ۔”

تو پھر ؟….. ” پتی کھالو اسیر آدم کے جادو کی پتی کھالو اس سے انکا سارا جادو اس پھول تم میں آجائے گا ۔” طلسم نے کچھ سوچ کر جواب دیا ۔

” صرف ادم۔کے پھول کی پتی کیوں تم پورا پھول ہی کھا لو .” یہ غفران نے کہا تھا جس پر اسیر کچھ دیر سوچ میں پڑ گیا ۔

” نہیں اسیر ہمیں سارا جادو نہیں چاہیے وہ ساری طاقتیں جو آدم نے لعنت سمجھ کر اکٹھی کی تھیں وہ ہمیں صرف آدم کا طاقت وہ بھی سناش کو بچانے کے لیے ۔”

روباش اس شیشے کی اردگرد گھوم رہا تھا جس میں سناش بند تھا ۔” اسیر جو بھی فیصلہ کرنا ہے جلدی کرو شیشہ ٹوٹ رہا ہے شیشہ ٹوٹ گیا تو سناش کی روح چلی جائے گی ۔”

” لیکن اس میں سے پتہ کیسے چلے گا بابا والی پتی کونسی ہے؟” وہ پھول کو دیکھ رہا تھا جس کی پانچ پتیوں میں سے ایک پتی مسلسل چمک رہی تھی ۔غفران نے اسکے ہاتھ سے وہ پھول لیا ج سپر طلسم نے غور کے ” اسیر پھول جب تمہارے ہاتھ میں تھا تو یہ والی پتی چمک رہی تھی اور جب غفران کے ہاتھ میں ہے تو یہ والی پتی چمک رہی ہے ایسا کیوں ؟ اسنے دو پتیوں کی طرف اشارہ کر کہا اسیر کے دوبارہ پھول پکڑ لیا پھر سے وہی پتی چمکنے لگی اس بات کی سمجھ غفران کو آگئی ” جو جس کی پتی ہے وہ اسے کے ہاتھ میں چمک رہی ہے تمہارے ہاتھوں سے جو پتی چمک رہی ہے وہی آدم کہ پتی ہے اسے توڑو اور کھا لو ۔” اسیر نے وہ پتی توڑ لی اور منہ میں ڈال لی ایک عجیب سا اثر تھا جیسے اسکے جسم کو کسی نے جکڑ لیا ہو پھر تھوڑی دیر بعد وہ ٹھیک ہوگیا اتنی دیر میں پھول کی باقی پتیاں خودبخود ٹوٹ کر ہوا میں تحلیل ہوگئی ” پتیاں کہاں گئی ؟”

” اسیر باقی پیتوں کو بعد میں ڈھونڈ لینا تم تو سب کرلیتے ہو ابھی سناش کو ٹھیک کردو شیشہ ٹوٹ جائے گا ۔” اسیر پہلی بار روباش کے منہ سے اپنی تعریف سن رہا تھا اسنے آگے بڑھ کر شیشے کے اندر سے سناش کے زخم پر ہاتھ رکھا زخم والا حصہ چمکنے لگا اور پھر اس میں سے ایک سیاہ سایہ نکلا اور غائب ہوگیا ۔اسیر نے اپنا ہاتھ اٹھا دیا سناش کا زخم بھر چکا تھا ۔” سناش ک جسم سے وہ جادو نکل گیا .” غفران نے اس سائے کو دیکھ کر کہا ۔” یعنی سناش خطرے سے باہرہے ؟” یہ سوال اسیر نے ہی کیا تھا روباش اور طلسم کی نظر تو سناش پر ہی تھی جس نے ابھی تک آنکھیں نہج کھولی تھیں۔ ۔” وہ اب بلکل ٹھیک ہے .” وہ اسکے ہوش میں آنے کا انتظار کررہے تھے سناش کی فکر میں وہ سب یہ بھول ہی گئے تھے پتیاں کہاں چلی گئیں ۔” کچھ دیر سناش نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں سامنے چھت تھی جو کالے نشانوں سے بھری پڑی تھی اسنے نظر گھما کر دیکھا ” سناش فکر مت کرو مر کر جہنم نہیں آئے ہو تم یہ غفران چچا کے گھر کا جادوئی کمرا ہے ۔” اسیر کی آواز سن کر وہ ایکدم اٹھا ” آرام سے آرام سے !”طلسم اسکے بستر کے سرہانے بیٹھی تھی ۔” سناش تم ٹھیک ہو ؟”

ہم زندہ ہیں ؟ اسنے پہلے خود کو دیکھا اور پھر باقیوں کو اسیر مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا ” ہاں آپ ٹھیک زندہ ہیں اسیر کی وجہ سے !” غفران اور روباش نے ایک ساتھ کہا طلسم اٹھ کر وہاں سے دوسرے کونے میں کھڑی ہوگئی تھی ۔” اسیر تم نے بتایا نہیں آپ دونوں کو پھول ملا کیسے ؟”

” بابا نے بتایا تھا میں طلسم گھر گئے تھے اور وہاں سے ۔۔۔۔۔۔” اسنے سارا حال سنا ڈالا ۔” سناش آپ زندہ سہی سلامت ہیں یہ بات ہم سب کو بتا کر آتے ہیں محل بھی پیغام بھجوا دیتے ہیں ۔” وہ باہر جانے والا تھا جب سناش نے اسے روک دیا ” نہیں اسیر کسی کو مت بتانا ہم زندہ ابا کو تو بلکل نہیں انھوں نے اپنی ضد کو پورا کرنے کے لیے ہمیں بھی معاف نہیں کیا ہمیں لگتا تھا کہ شاہد طلسم کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی مگر آج سب ثابت ہوگیا کہ وہ بہت برے ہیں ہم دوبارہ انکے سامنے نہیں جانا چاہتے فلحال تو نہیں ۔۔”

” ٹھیک کوئی بات نہیں تم کچھ دن سوچ لو پھر جو فیصلہ ہوگا بہتر ہو گا لیکن تم ایسے سب سے چھپ کر رہ تو نہیں سکتا اسلیے ک ج وقت لیکر اچھے سے سوچ لو ۔۔” اسیر نے اسکی حالت سمجھتے ہوئے اس پر زیادہ زور نہیں دیا ۔

” اسیر مجھے ایک بات سمجھ نہیں آئی اگر سورانچھ ہیرے کا حکمران تھا تو جب ہیرا چوری ہوا اسکا غلطی استعمال ہوا تو سورانچھ اسے لینے کیوں نہیں آیا ؟” طلسم نے ہر پہلو پر سوچ کر یہ سوال ڈھونڈ نکالا ۔

” یہ بات تو مجھے بھی سمجھ نہیں آئی کہ سورانچھ ہیرا لینے کیوں نہیں آیا اس کا جواب تو وہ خود ہی دے سکتا ” اسکے کے قدموں کا رخ باہر کی جانب تھا جسے دیکھ کر سناش نے اس سے پوچھا ” سورانچھ سے پوچھنے جارہے ہو اسکی وجہ ؟” اسکی بات پر اسیر نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا تمہیں کیسے پتا؟

” پتہ چل جاتا قدموں کے رخ سے ۔۔۔” اسنے مسکرا کر طلسم کو دیکھا جس کے قدموں کے رخ سے ہمیشہ وہ جان لیتا تھا وہ کہاں جارہی ہیں مگر اسنے غصے سے رخ پھیر لیا سما شکوہ اسکا رویہ اچھا نہیں لگا یہ ہم سے اب بھی ناراض ہیں ؟”

اسیر سورانچھ سے بات کرنے کے لیے گھر سے نکل آیا تھا کال جنگل پہنچ کر اسنے سورانچھ کو آواز لگائی ایک ہی پکار پر وہ وہاں آگیا ۔” اب کیا چاہیے تمہیں پھول تمہیں مل گیا تمہارے چہرے کے اطمینان سے لگ رہا ہے سناش بھی ٹھیک ہے تو اب کیا کام تمہں میں سے؟”

” کام کوئی نہیں ہے مجھے تم ایک سوال پوچھنا تھاکہ اگر تم ہیرے کے حکمران تھے اور صیاد ہیرا چوری کرکے اسکا غلطی استعمال کر رہ تھا تو تم ہیرا لینے کیوں نہیں تمہں۔ شہر سحر آنا چاہیے تھا ؟”

” میں شہر سحر نہیں آسکتا .” اسنے ایک ہیں جملے میں بات کردی ” لیکن کیوں ؟” ۔۔۔۔۔۔۔۔” صیاد نے جب ہیرا چوری کیا تو اسے معلوم تھا کہ ہیرے کے حکمران کون ہیں اسلیے اسنے مجھے شہر سحر سے دور رکھنے کے لیے اسکے داخلہ دروازے ہر اپنے جادو سے ایک لکیر کھینچ دی جسے میں پار کرو گا تو جل۔کر راکھ ہوجاو گا مجھے اسلیے تم سے ہیرا لینا پڑا ۔” اسکی بات سن کر اسیر کو کچھ دیر سوچ میں پڑ گیا ” اگر وہ لکیر مٹ جائے تو تم شہر میں آسکتے ہو ؟”

” ہاں اگر کوئی اس لیکر کو مٹا دے تو آسکتا ہوں اسیر پھول کا کیا ؟”

” بابا یعنی آدم والی پتی تو میں نے کھا لی تھی مگر باقی چار پتیاں خودی ٹوٹ کر ہوا میں تحلیل ہوگئیں!” سورانچھ کے یاد دلانے پر اسے یاد آیا کہ پتیاں تو خودی کہیں چلی گئیں ۔

” کیا !! پتیاں غائب ہوگئیں اور تم یہ بات اتنے تحمل سے بتا رہے ہو وہ صرف پتیاں نہیں تھیں جادوئی پتیاں تھیں ۔”

” میں خود بہت پریشان ہوں پتہ نہیں کہاں چلی گئیں اس بارے میں غفران یا کسی کو بھی کچھ پتا نہیں ۔”

” ان پیتوں کا پتہ لگاؤ اسیر کسی کو کچھ نہیں پتا ان پتیوں کا ہوا میں تحلیل ہونے کا کیا مطلب ہے ؟” یہ کہہ کر سورانچھ وہاں سے چلا گیا مگر اسیر وہاں روکا نہیں شہر سحر آیا داخلہ دروازے پر کھڑے ہوکر اسنے غور سے اسے دیکھا اخر اسے وہاں ایک لال باریک سی لکیر نظر آئی اسنے اسے ہاتھ سے مٹایا مگر وہ نہیں مٹی وہ اسے نہایت غور سے دیکھ رہا تھا کہ اچانک اسکی آنکھوں سے سبز روشنی نکلی اور اس لکیر کو مٹا دیا ۔وہ ڈر کر پیچھے ہوگیا” شاید بابا کی پاورز میں سے کوئی ایک ہوگی ! ” وہ وہاں سے ان سب کو بتانے کے لیے چکا گیا وہیں اس جگہ ایک سفید چوغہ پہنے آدمی کھڑا تھا جس کی گردن سے خون نکل رہا تھا ” یہ میری نہیں اب تمہاری طاقتیں ہیں اسیر !” وہ آدم کی روح تھی ۔

” طلسم آپ ہم سے بات کیوں نہیں کرہیں آپ ہم سے کیوں ناراض ہیں ؟”آخر سناش کے اسکے رویے کو دیکھ کر پوچھ ہی لیا .

” نہیں سناش ہم آپ سے ناراض نہیں ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ کیا سوچ کر آپ نے سورانچھ اپنی موت سودہ کیا تھا میدان جنگ تلوار چھوڑ دی تھی ۔” طلسم نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا ” یہ تو بلکل سوچ کر نہں تھا کہ وہ موت میرے ہاتھوں ہونے والی ہے یا اس بات کا تو ہرگز علم نہیں تھا کہ ہمیں ابا ہی مار دیں .”

” اور اگر ہم اپکو نا بخا پاتے تو کیاہوتا ؟”……” مر ہی جانا تھا آپ کے راستے سے بھی کٹ جاتے ۔۔۔” وہ دونوں ابھی یہ باتیں کرہا تھا جب اسیر بھی وہاں آگیا ۔”سںاش اپکو پتہ ہے ہمیں آپ پر کتنا غصہ آرہا ہے کہ ہم ایسے ہاتھ گھمائے اور ہماری ہاتھ سے کوئی چیز نکل کر آپکے لگ جائے ۔” یہ کہہ کر اسنے ہاتھ گھمایا اور اس ہاتھ میں سے سب میں للبلیڈز نکل کر سامنے کھڑے غفران کی طرف اٹھ گئے جسے آتا دیکھ غفران نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور وہ چھریاں نیچے گر گئے ۔اسیر اور سناشنہ کھولے طلسم کا حملہ اور غفران کا بچاؤ دیکھ رہے تھے ۔اسیر بھاگ کر طلسم کے پاس آیا اسکے ہاتھ کو الٹ پلٹ کر دیکھا ” یہ کہاں سے نکالی ہیں ؟” اور اسنے نفی میں سر ہلایا ” پتہ نہیں ؟” غفران آپنے ہاتھوں دیکھ رہا تھا کہ یہ اسنے کیسے کیا پھر اسے اچانک کچھ یاد آیا پتیوں کا خودبخود ٹوٹ کر ہوا میں تحلیل ہوجانا ” شہزادی طلسم ایک بار پھر سے کریں !”

” ہمیں نہیں پتہ غفران یہ کیسا ہوا ہم نے تو بس ایسے ہی ہاتھ گھمایا تھا ۔”

اس لیے کہہ رہا ہوں جیسے پہلے کیا تھا پھر سے کریں .” اسکے کہنے پر طلسم نے ایک بات پھر اسی طرح ہاتھ گھمایا پھر سے بلیڈز نکل کر غفران کی طرف بڑھ گئے مگر اس بات غفران نے پورے عزم سے دونوں ہاتھ اوپر کیے اور غفران کے قریب آتے ہی وہ چھریاں پھر زمیں پر گر گئیں ۔”

” مجھے سمجگ آگئی اسیر پتیوں کا ہوا میں تحلیل ہونا اس ہوا کا شہر سحر میں چلنا شہر سحر کو اسکا جادو واپس مل گیا جس سے میری طاقت بھی واپس آگئی ہے اور شہزادی طلسم کو بھی طاقت ملی ہے میری طاقت کسی بھی ہتھیار کے خلاف حفاظتی تہ بنانی تھیں جو واپس آگئی ۔”اسکی بات سن کر اسیر کے کچھ سوچ کر کہا ” مطلب طلسم کے ہاتھوں سے بلیڈز نکلے اور ان بلیڈذ کو غفران کی پروٹیکشن شیلڈ نے ختم کردیا یعنی میں نے جو ابھی کیا میری آنکھوں سے وہ ہری روشنی نکلنا سب شہر سحر کے جادو کا کمال ہے تو پھر شہر سحر کے لوگوں کو بھی پاورز ملی ہونگی ۔” یہ سوچتا وہ باہر آگیا وہ گلیوں میں گھومنے لگا کہ کیا واقعے ہی جو سوچ رہا ہے وہ سچ ہے یا نہیں وہ لوگوں کو دیکھنے لگا کہ وہ کیا کر رہے ہیں کیا انھیں اس بات کا علم ہوگیا کہ انکا جدو انھیں واپس مل گیا ہے ۔ وہاں ایک اوباش لڑکا ایک لڑکی کو تنگ کررہاں تھا اسے چھو رہا تھا آخر اس لڑکی نے اسے دور کرنے کے لیے ہاتھ جھٹکا چند بلیڈ نکل کر اس لڑکے کے جسم میں لگے وہ خود دیکھ کر حیران رہ گئی ۔وہ لڑکا دوبارہ اسکے قریب آنے لگا کہ اسنے پھر سے ہاتھ گھمایا اور تین چار بلیڈ اور اسکے جسم۔می۔ پیوست ہوگئے اسے دیکھ ک ایک ضعیف عورت اسکے پاس آئی ” لڑکی تم نے جادو کیا یہ ۔۔یہ طاقت تو ہم عورتوں کی تھی ہماری حفاظت کے لیے مگر شہر سحر میں تو اب جادو ہی نہیں کہیں شہر سحر کا جادو واپس تو نہیں آگیا کسی وہ پھول ڈھونڈ لگتا ۔اس بوڑھی عورت نے ہر طرف شور مچا دیا تھا شہر سحر کا جادو واپس آگیا ! شہر سحر کا جادو واپس آگیا ! اور اسیر بڑی دلچسپی سے یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا اس کی بات سن کر نوجوان تو نہیں لیکن ادھیڑ عمر لوگ اپنی طاقتوں کو دیکھنے لگے تھے ۔” ایک بوڑھے آدمی نے اپنے سے بڑھے اور بھاری صندوق کو کھینچنا تھا اسنے اپنا ہاتھ بڑھایا اس سے رسیاں نکل کر اس صندوق سے لپٹ گئیں اور اسنے اسے کھینچ لیا ۔” وہ بڑھیا سچ کہہ رہی ہے جادو واپس آگیا میری طاقت واپس آگئی ۔”

ایک بوڑھا آدمی اینٹ لاد رہا تھا جب اسے یہ پتہ چلا تو انسے اپنا ہاتھ اٹھا یا اور وہ تمام اینٹیں خودبخود اڑتی ہوئیں ریڑھی پر چلیں گئ ۔اسیر ان سب کے بیچ کھڑا سب کو دیکھ رہا تھا اتنا جادو اتنی پاورز تھیں ان لوگوں کے پاس اور اسکے بغیر یہ کیسے زندگی گزار رہے تھے ان سے انکا جادو نہ چھینا جاتا تو شاید یہ آج ویسے نہ ہوتے جیسے ہیں ۔

” آپ سب کا جادو واپس آگیا آپ سب کو آپ کی طاقتیں مل چکی ہیں !” وہ بلند آواز میں کہہ رہا تھا جس پر تمام لوگ متوجہ ہوگئے وہ سب اسے پہچانتے تھے ۔” لیکن اس لیے نہیں کہ اسے آپ سب غلط طور پر استعمال کریں ہمیں اس طاقتوں کے ساتھ صیاد سے لڑنا اس سے بدلہ ہے آپکے ساتھ ہوئیں زیادتیوں کا راجہ رانی کے ساتھ ہوئے ظلم کا تو کیا آپ سب میرا ساتھ دیں گے صیاد کے خلاف اس سے نجات حاصل کرنے میں ۔۔” وہ سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھ رہے تھے کہ ایک لوہار ان میں سے باہر آیا ” صیاد نے میری زمین لینے کے لیے میرے باپ کو قید میں رکھا اس پر ظلم کیا میں اس کے خلاف آپکے ساتھ ہوں ۔ایک بزرگ باہر آیا ” میری جوان بیٹی کو اسنے اپنے علم کی بھینٹ چڑھا دیا میں اسے مار دوں گا ۔” لوگ آگے آتے جارہے تھے آوازیں ملتی جارہی تھیں اسکی فوج تیار ہوگئی تھی ۔انھیں سب بتا کر وہ واپس غفران کے گھر آیا ” اسیر آپ کہان چلے گئے تھے ؟”

” چچا سارے باشندوں کو جادو واپس مل چکا ہیں شہر سحر کی تمام عورتوں کی طاقت وہ طلسم جو تمہیں ملی ہے چچا صیاد کے خلاف فوج تیار ہے ۔”

ان سب میں سناش چپ چاپ بیٹھا تھا اسے ابھی تک خود نہج پتا تھا اسکے پاس کونسی طاقت ہے وہ تو باہر دیکھے جارہا تھا ایک چڑیا اپنے گھونسلے میں بچوں کا کھانا کھالا رہی تھی بچے پھدک پھدک کر اس سے چوغہ مانگ رہے تھے اسے اپنی امی کی یاد آرہی تھی کہ اچانک ان میں سے ایک بچہ پھدکتا گھونسے سے نیچے گر گیا سناش اسے بچانے کے لیے اس طرف بھاگا اور فورا اسے پکڑ لیا اسے پکڑنے کے بعد اسے احساس ہوا کہ وہ درخت اس کمرے سے کچھ فاصلے پر تھا جہاں وہ بیٹھا تھا اتنی جلدی وہاں کیسے پہنچ گیا وہاں اسنے مڑ کر دیکھ تو طلسم غفران اور اسیر منہ کھولے اسے دیکھ رہے تھے پھر کچھ سمجھ کر اسیر اسکے پاس آیا تمہیں ہوا سے بھی تیز بھاگنے کی طاقت ملی سناش تم ہوا کے ایک جھونکے کی طرح یہاں آئے ہو اور وہ حیرت سے اپنے پیروں کو دیکھا رہا تھا ۔اور اسیر ان سب کو اسنے سر اٹھا کر ” تھینک یو اللہ میاں تھینک بابا ؟

موجودہ دن۔۔۔۔۔

صیاد تمہیں سالوں لگ گئے زولفشان اور آدم کو ہرانے میں اور میں نے سات دن میں تمہارے خلاف طوفان کھڑے کردیے تم گناہ کرتے گئے یہ سوچے کی بغیر کے گناہوں کی سزا بھی ہوتی ہے شہر سحر چاہے عام انسانوں دنیا سے الگ ہے لیکن تم یہ بھول گئے کی وہ نیلا آسمان ایک ہے جہاں بیٹھا خدا گوشے گوشے دیکھ رہا ہے پھر چاہے وہ تمہاری دنیا ہو یا ہماری ایک برائی ضرور ختم ہوتی ہے ۔” اسیر کی ساری حقیقت سن کر صیاد بلکل خاموش تھا پھر ہنس کے کہنے لگا ” سب پتا لگا کیا سب ڈھونڈ لیا لیکن یہ پتا نہیں لگا سکے کہ آدم کے میں نے نہیں مارا تھا آدمی کی موت کا زمہ دار کون تھا ؟”اسکی بات سن کر اسیر نے مسکرا کر اس سے کہا ” مجھے پتہ ہے بابا کو تم نے نہیں مارا بابا کو تو شمس نے مارا ہے ۔” ان سب نے ایک ساتھ مڑ کر شمس کو دیکھا جو وہاں سے بھاگ نکلا مگر کسی نے اسے رسیوں سے جکڑ کر واپس اسی جگہ صیاد کے قریب لاکر بیٹھا دیا صیاد بھی حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا ۔

” بابا کو کیوں اور کیسے مارا میں بتاؤ یا تم بتاؤ گے ؟”

” غلامی ! غلامی ! پہلے زولفشان کا غلام پھر صیاد غلام پھر اسکے بیٹے کا غلام نہیں تھی مجھے منظور اسلیے وہ پھول چاہتا تھا اس رات جب آدم نے وہ پھول چھپایا تو میں تم اسکا پیچھا کیا وہ پھول لینے کے لیے مگر آدم نے وہ پھول اہم میں چھپا دیا میں نے آدم کو مارنے کے لیے بھری اسکی گردن پر رکھی ۔۔۔”اسکی بات ابھی نامکمل تھی جب طلسم بول پڑی ” مگر یہ کرتے تمہیں اطم کے نگہبان نے دیکھ لیا مگر تب تک اہم زمیں میں چلا گیا اطم کو بارہ یا تو آدم کا سکتا تھا یا وہ ہیرا ہیرا چوری ہوگیا تھا اور آدم نے مار دیا تھا اسلیے وہ پھول حاصل کرنے کے لیے تم نے ہمارے ساتھ دیا ۔

” نہیں نہیں میں نے آدم کو نہیں مارا میں نے چھری گردن پر رکھی ضرور تھی مگر آدم نے مجھے پکڑ لیا اندھیرے کی وجہ سے وہ میرا چہرا نہیں دیکھ پا یا اور میں ہاتھ چھڑا کر بھاگ گیا مجھے نہیں پتا اکسے بعد آدم کے ساتھ کیا ہوا میں نے آدم کو نہیں مارا سچ بول رہا ہوں ۔” اسکے لہجے میں سچائی اسیر نے محسوس کی تھی ” اگر تم نے بابا کو نہیں مارا تو کیا ہوا تھا بابا کے ساتھ ؟”

“آدم کہیں زندہ تو نہیں ؟” غفران نے دل میں سوچ کر پوچھا تھا کاش اسکا بھائی زندہ ہو ۔

” نہیں بابا زندہ نہیں ہیں انکی روح اس جلے گھر میں موجود ہیں ہم نے انھیں خوابوں میں بھی دیکھا ہے سفید کپڑوں میں گردن خون نکلتے ہوئے وہ زندہ نہیں ہے ” یہ کہتےہوئے اسیر کی آنکھیں نم ہوگئی تھیں اور اسکے بائیں جانب وہی سفید کپڑوں میں آدم کی روح موجود تھی ” خدا کرے تمہیں میری موت کا راز کبھی پتہ نہ چلے ۔”

” خیر چھوڑیں کوئی نہیں جانتا بابا کے ساتھ کیا ہوا انھیں کس نے مارا ہے مگر صیاد تم تو زندہ ہو ابھی بھی وقت ہے اپنے گناہوں کی مغفرت کرلو معافی مانگ لو اور اپنی زندگی گزار لو ۔”

” موت قبول ہے ایک غلام سے معافی نہیں ! یہ کہہ کر اسنے اپنی گردن پر خود ہی تلوار چلا دی اور مر گیا اسیر نے افسوس سے سر جھٹکا ۔” چچا !! صرف طلسم تھی جو اسکی لاش پر چڑھ کر رو رہی تھی سناش نے آکر بس اسکی آنکھیں بند کردیں تھی ۔اسی کے ساتھ صیا دکی روح کے ساتھ آدم کی روح بھی آسمان میں پرواز کرگئی ۔ایک ظلم کا آج انت ہوگیا تھا شہر سحر آزاد ہوگیا تھا سناش نے اپنا فرض نبھا لیا تھا صیاد کے جنازے کو کندھا دیا تھا شمس کو قید کردیا گیا تھا ۔زرینہ بیگم بھی ٹھیک ہوگئی تھیں ۔” اسیر طلسم اور سناش شہر سحر کے لوگوں سے مخاطب تھے “آپ سب کے پاس اب آپ کا جادو ہے لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کہ آپ اسے بے ضرورت دوسروں کو تکلیف پہنچائے اگر کبھی آپ کو ایک دوسرے سے گلے شکوے ہوں تو بیٹھ سلجھائیں ظلم سہنے والا ظلم کرنے والے سے زیادہ گناہگار ہوتے ہیں ہماری آزادی کی طاقت کی محتاج نہیں ہے ہماری سب سے بڑی طاقت ہم خود ہیں کبھی کبھی ہمیں خود لڑنا پڑتا ہے ہر بار دوسری دنیا سے کوئی مسیحا بچانے نہیں آتا ۔اس آگے کچھ بھی ہو جائے تو اس مشکل سے نکلنے کے لیے یہ سوچنا کہ ایک وقت ہم نے مل کر خود کو بچایا تھا تو آگے بھی آپ خود کو خود بچا سکیں گے ۔” اسیر کی بات ختم ہونے پر ایک بوڑھا بزرگ باہر آیا اسکے سر پر ہاتھ کر رکھ کر کہا ” بیٹا تو ہے کون ؟” اسکا سوال سن کر اسے کچھ حیرت ہوئی انھیں ابھی تک پتہ نہیں چلا طلسم بتانے لگی تھی مگر اسنے اسے منع کردیا بابا میں اسیر طلسم ہوں طلسم کا غلام !” اسنے مسکرا کر جواب دیا اسکے جواب پر سناش اور طلسم نے حیرت سے اسے دیکھا ” کیا جھوٹ بول رہا ہوں نہیں اسیر طلسم ؟” اسکے جواب پر طلسم کی آنکھیں نم ہوگئیں تھیں تمام لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے تھے وہ بھی جانے لگے تھے جب سناش گھوڑے پر کہیں اور چل دیا سناش کہاں جارہے ہیں ؟” طلسم نے اسے جاتا دیکھ کر سوال کیا ۔

” ہم سے کسی نے کہا تھا کہ اگر اسے نہ پا سکو جس سے تم محبت کرتے ہو تو اسے ضرور پا لینا جو تم سے محبت کرتا ہے بس اسے ہی پانے جارہا ہوں ۔” اسنے مسکرا کر اسیر کو دیکھا اور چلاگیا ۔

شام گئے وہ شہزادی فاریہ کے محل پہنچا تھا پورے محل میں خبر پھیل جاتی اگر وہ سیدھے دروازے سے آتا وہ اپنی طاقت کا استعمال کرتا ہوا کے جھونکے کی طرح اسکے کمرے میں پہنچا تھا جہاں وہ کھڑکی میں بیٹھی چاند کو دیکھ رہی تھی ایک پاؤں اوپر تھا دوسرا نیچے نیچے والے پاؤں سے جوتا نیچے اتر گیا تھا اسنے آگے بڑہ کر وہ جوتا اسکے پاؤں میں پہنانا چاہا ” کون ہے ؟” وہ ڈر گئی جب چاند کی روشنی میں اسکا مسکراتا چہرا نظر آیا ” سناش !! اس کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا ۔سناش نے اسے جوتا پہنایا ” فاریہ اپکو پتہ ہے ہم طلسم سے کتنے محبت کرتے تھے ؟’ اسکا سوال سن کر وہ پریشان ہوگئی اور اداس بھی ” اتنی کے دل کرتا تھا انکے پیروں کا کانٹا راستے سے ہٹا دوں مگر آپ سے اتنی ہوگئی ہے کہ دل کرتا ہے آپنے پیروں پر آپ کے پیر رکھ کر اس طرح چلو کی آپکے قدم زمیں پر پڑے ہی نہ ” اسنے حیرت سے اسکی جانب دیکھا جو نہایت رومانوی انداز سے کہہ رہا تھا دل کرتا ہے آپکے پیروں کی پائل بن کر آپ کے روم روم کو چھنکا دوں یہ کہتا وہ اسکے قریب ہوتا جارہا تھا دل کرتا ہے آپکے ہاتھوں کی چوڑیاں بن کر ہمیشہ چھنکتا رہوں ۔اسنے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھو میں لیا وہ حیرت سے اسکی تمام باتیں سن رہی تھا آپکے ماتھے کی بندیا بن ہمیشہ چمکتا رہوں باتیں کرتا کرتا ہوا وہ اسکے قریب آتے جارہا تھا جب اسنے اسکے ہونٹوں پر ہاتھ کر اسکے چپ کرویا ” پہلے نکاح کرلیں ؟” اور اسنے اثبات میں سر ہلا دیا پورے محل میں سناش کے آنے کی خبر پھیل گئی تھی ۔فاریہ اور سناش کا نکاح قصر زولفشان میں ہی ہوا تھا سناش بے حد حسین لگ رہا تھا تو فاریہ بھی کم حسین نہیں لگ رہی تھی ۔نکاح دھوم دھام سے ہوا تھا نکاح سے اگلے دن سناش فاریہ طلسم اور اسیر جس نے شاہی لباس پہنا ہوا تھا جس میں وہ نہایت حسین لگ رہا اتھا اسکی داڑھی بھی واپس آگئی تھی زخم بھی بھر گئے تھے ۔ ان سے مل ے کے بعد سب واپس محل۔کی جانب گئے مگر وہ نہیں ” اسیر چلو ! ” سناش نے اسے پکارہ ۔” کہاں ؟ اسنے نہایت معصومیت سے سوال کیا ” محل اور کہاں ؟”

” نہیں سناش اب محل نہیں گھر جانا ہے وقت آگیا ہے میرے یہاں آنے مقصد بھی پورا ہوگیا اسلیے اب بس .” اسنے طلسم کو دیکھ کر کہا جو اسے مسکرا کر دیکھ رہی تھی ۔

” کیا تم جانا چاہتے ہو پر کیوں یہاں تمہیں اچھا نہیں لگتا ؟” سنا ش کو اسکا جانا اچھا نہیں لگا تھا ۔

” نہیں یہ بات نہیں ہے بس اپنی دنیا میں جانا چاہتا ہوں جہاں کا میں عادی ہوں میں شہر سحر کا باشندہ نہیں ہوں میں عام دنیا کا ہوں جہاں میرا گھر ہے کاروبار ہے تمہارے جیسا دوست ہے جو یرا انتظار کر رہا ہے . آ ج اسے علی کی یاد آرہی تھی ۔

” میں تمہارا دوست نہیں ہوں ؟” سناش اداس ہوگیا تھا اسلیے نہیں کے طلسم بھی جارہی تھی اسلیے کہ اسکا اتنا اچھا دوست جارہا تھا ۔

” تم جیسا دوست قسمت والوں کو ملتا ہے مگر میں یہاں نہیں رہ سکتا میں وعدہ کا پابند ہو میں کسی سے وعدہ کرکے آیا ہوں “

” ٹھیک ہے میرے ایک فیصلے کا احترام تم نے کیا تھا ایک کا ہم کرتے ہیں ۔مگر تم وعدہ کرو تم ہم سے ملنے آؤ گے “

” قسمت نے چاہا تو پھر ضرور ملیں گے ۔طلسم تم جانا چاہتی ہو نہ ؟” اسنے طلسم سے سوال کیا کہ شاید اسے منظور نہ ہو ۔” جہاں اسکا ساون کا اندھا رہے گا وہی اسکی مس ڈاؤن ٹو ارتھ رہے گی ۔

” ٹھیک ہے اسیر اگر تم جانا چاہتے ہو تو آج رات پرا چاند ہے تم چلے جاؤ اور چاند کی چوکھٹ پارہوئے تم اس جگہ کو دل میں اچھی طرح سوچ لینا وہ تمہیں وہاں کے جائے ورنہ وہ دروزی دوسری طرف کہیں بھی کھل جائے گا ۔” طلسم کو اب بات سمجھ آئی تھی جب وہ دوسری دنیا میں گئی تھی تب اسے کچھ نہیں پتا تھا نہ سوچا تھا اسلیے وہ لاہور پہنچ گئی تھی ۔رات تک وہ تینوں ساتھ ہی تھے خوش رہے پھر وہ وقت آ ہی گیا وہ دونوں چاند کے پاس کھڑے تھے سناش فاریہ غفران کو اب وزیر بن چکا تھا زرینہ بیگم اور سورانچھ سب انھیں ملنے آئے تھے ان سے ملنے کے بعد وہ چاند کے سامنے کھڑے تھے ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ کر شہر سحر کے نظم پڑھی

ایک اجنبی سا احساس ہے ۔۔۔

لگتا کوئی ہر پل۔میرے ساتھ ۔۔۔۔

تم بن بنجر سی راہوں پر ۔۔۔۔

رہت کا کر زرہ اداس ہے۔۔۔

اسیر طلسم ہوں میں ۔۔۔۔۔

وہ طلسم ساز ہے ۔ ۔

شہر سحر کے باشندے ہم۔۔۔

بے جرم نے قید کا کوئی جواز ہے ۔