Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam NovelR50472 Shehr-e-Sahar Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
Shehr-e-Sahar Episode 19
Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam
میں ہر جگہ دیکھ چکا ہوں پورا شہرِ سحر مگر وہ نہیں ملا ۔۔۔۔۔ تو ابا اس جگہ کا نام لے گے ہی کیوں جو ہے ہی نہیں وہ ہوگی لازماً ہوگی “
وہ گلیوں میں گھوم رہے تھے لباس اسنے تبدیل کرلیا تھا اسنے کھلا سا خاکی رنگ کا کرتا پہنا تھا جس میں معصوم اور جھلا لگ رہا تھا غفران نے ایک نظر اسکے چہرے کو دیکھا اور نظر گرے آنکھوں پر رک گئی ۔
تو آدم کی اولاد کو ملی بخشش چاند نے پوری کر ہی دی ” وہ اسکی آنکھوں کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔
کیا مطلب چچا؟ ۔۔۔۔۔” تمہاری آنکھیں اسیر جانتے ہو ایسی کیوں ہیں ۔اسنے نفی میں سر ہلا دیا ” اسلیے کہ ۔۔۔۔۔بات شروع ہونے سے پہلے ہی انھیں کسی کے چیخنے کی آواز آئی وہ بھاگ کر اس طرف گئے وہاں کوئی سپاہی کسی ضعیف انسان کو مار رہا تھا اسنے جا کر چابک کو روک دیا
” کیوں مار رہے ہو اسے ؟ “
تم کون ہو اور تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری چابک پکڑنے کی ۔”
تم اسے مار کیوں رہے ہو ؟ چابک ہاتھ میں پکڑے اسکا سوال نہیں بدلہ تھا ۔” یہ ہمارا غلام ہے ہم جو چاہیں کریں تو کون ہو پہلے تو تمہیں یہاں نہیں دیکھا ۔سپاہی انتہائی مشکوک نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔وہ کچھ بولنے ہی والا تھا جب اسکے کانوں میں اس بوڑھے کی آواز پڑی ۔
” آئے گا ہمارا نجات دہندہ بھی آئے اور پھر سب کو آزادی مل جائے گی ” وہ انکے پاس نیچے بیٹھ گیا ” بابا آپ ٹھیک ہیں ؟”.آدم آئے گا ہمارا مسیحا آئے گا ۔۔”وہ بوڑھا اپنی ہی رو میں روتا جارہا تھا اور بولتا جارہا تھا ۔
اس بوڑھے کی جلد جھلس چکی تھی جگہ جگہ زخموں کے نشان تھے چہرا جھریاں زدہ تھا ۔” آئے گا نہیں آگیا ہے بابا آدم نہیں ابنِ آدم آیا ہے آپکو نجات دلانے ۔وہ ایک دم کھڑا ہوا ” کیا غلطی ہوئی تھی ان سے ؟”
تم نے بتایا نہیں تم ہو کون ؟ ۔۔۔” میرا بھتیجا ہے سرکار ابھی ابھی دریا پار سے آیا ہے انجان ہے ۔” غفران کو فکر لاحق ہوگئی تھی کہ کہیں وہ اسے کچھ کر نا دیں۔ نام کیا ہے تمہارا ؟ ۔۔۔۔اسیر اسیر نام ہے میرا “
اسیر تم تو پہلے ہی قیدی ہو تو کام کرنے میں کیسی شرم آب اس بوڑھے کا کام تم کرو گے وہ زیر تعمیر عمارت دیکھ رہے ہو یہ ساری اینٹیں وہاں پہچانی ہیں ۔” اسیر نے ایک نظر اینٹوں کے انبار کو دیکھا پھر اس بوڑھے کو جو سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا اور پھر سوا نیزے سورج کو ۔” مجھے منظور ہے ! اسنے سر بلند کر کے کہا ۔
” متاثر کن ! چلو لگ جاؤ کام پر یہی کھڑا ہوں تمام مزدور پیچھے ہو جائے یہ کام یہ اکیلا کرے گا ۔”
اسنے ایک ایک کرکے اینٹیں ہاتھ گاڑی پر لادنی شروع کی غفران آگئے آیا مگر اسنے منع کر دیا ۔چپملاتی دھوپ میں وہ ہاتھ گاڑی کھینچ رہا تھا اور پندرہ قدم دور لے کر جارہا تھا ۔وہ اینٹیں کوئی دوہزار کے قریب تھیں اور وہ اکیلا تھا ۔پسینے کی ایک ایک بوند اسکی پیشانی سے گر رہی تھی ۔کرتہ اسنے اتار دیا تھا ۔اسکی باڈی اور سکسپیک ایپس دیکھ کر سپاہی بھی دنگ رہ گئے تھے اسکے کندھوں بازوں اور سینے سے گرتیں پسینے کی بوندیں اسے اور بھی ہاٹ بنا رہی تھیں وہاں سے گزرنے والی ہر لڑکی ہوہی نہیں سکتا تھا کہ اس مزدور کو بنا دیکھے گزر جائے ۔لیکن وہ ہر بات سے بے خبر اپنے کام میں لگا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دربار برخاست کرنے کے بعد سناش طلسم سے ملنے اسکے کمرے میں آیا تھا ۔وہ سر گھٹنوں میں دیے وہیں نیچے بیٹھی تھی وہ بھی اسکے ساتھ نیچے ہی بیٹھ گیا تھا ۔
” طلسم آپ ٹھیک ہیں ا۔۔۔۔۔” اسکا پورا چہرا آنسوؤں سے تر ہوچکا تھا وہ غصے میں بھی تھی ۔
” تیس سال میں پہلی دفعہ میں اس دربار میں گئی ہوں جہاں کسی شخص کو میرے کسی لفظ پر یقین نہیں ہے ۔” اسکا لال آنسوں سے تر چہرا دیکھ کر سناش کے تو حواس باختہ ہوگئے تھے ۔اسنے بے ساختہ اسکا چہرا اپنے ہاتھوں میں لیا اسکے آنے کے بعد اسے یاد نہیں تھا کہ وہ اسے ہاتھ سے چھوتا نہیں تھا ۔
” طلسم آپ سے کس نے کہا آپ پرکسی کو یقین نہیں ہےمجھے آپکے ایک ایک حرف پر یقین ہے اور مجھے اس بات کی تصدیق بھی نہیں چاہیے آپ واپس آگئی ہیں میرے لیے اتنا ہی بہت ۔۔”
” وہاں میرے جانے کے بعد میرے کردار پر بھی انگلیاں اٹھی ہونگی ہے نہ ۔۔۔۔”
” ہمت نہیں ہے کسی کی میرے ہوتے ہوئے آپکے کردار پر انگلی اٹھا سکے جس نے اٹھائی تھی الفاظ اسکی زبان سے نکلنے سے پہلے ہی اسکی گردن میں قید کر دیے گئے تھے ۔ ” طلسم نے حیرت سے اپنے چہرے کے گرد حائل اسکے ہاتھوں کو دیکھا جسے دیکھ کر وہ بھی بوکھلا گیا اور ہاتھ پیچھے کرلیے ۔” مم ۔۔معذرت وہ پتہ ہی نہیں چلا ..” وہ شرمندگی سے نظر جھکا گیا ۔
” تصدیق آپ نہیں چاہتے لیکن چچا اور باقی سب تو چاہیں گا نہ وہ پھر مجھ سے سوال کریں گے ۔ “
” کوئی سوال نہیں کرے گا میں سب کو منع کردوں گا ابا میری بات ضرور سنے گے یہ معاملہ یہی ختم کردیا جائے گا میں وعدہ کرتا ہوں آپ سے ۔۔”اسنے ایک دوستانہ نظر اس پر ڈالی اور پھر آہستہ سے اپنے ماتھے سے پسینہ صاف کیا جسے سناش نے دیکھ لیا ۔
گرمی بہت ہوگئی ہے دھوپ بھی بہت تیز ہے “اسنے کھڑکی سے باہر جھانک کر دیکھا اور ہاتھ بڑھا کر پکارہ ” شاہین!! اور شاہیں اسکے ہاتھوں میں اتے ہی چھڑی بن گیا “اور اسی کے ساتھ سورج بہت سارے بادلوں کی اوٹ میں آگیا تھا ٹھنڈی ہوا چلنے لگی تھی جو کھڑکی سے سیدھی طلسم کے چہرے پر پڑی تھی ۔اور یہی ٹھنڈی ہوا مزدوری میں لگے اسیر کو بھی چھو رہی تھی جو ایک ہزار اینٹیں عمارت میں پہنچا چکا تھا ۔
” لڑکے لگتا ہے موسم بھی تمہاری ہمت کا مداح ہوگیا تیرے جسم کی گرمی دیکھ کر وہ ٹھنڈا پڑ گیا ۔۔۔۔” اسیر نے آنکھیں بند کرکے چہرا آسمان کی طرف اٹھا یا اور ہوا کو محسوس کیا ” طلسم !!” سچ کہتے ہیں محبت چاہے سات سمندر پار کیوں نہ ہو یا شہ رگ کے قریب وہ اپنے ہمسر کو سکون دینا نہیں بھولتی ایک نے موسم اپنی عشق کی راحت کے لیے تبدیل کیا تھا مگر اسکی تاثیر کسے کے معشوق کو بھی تسکین دے رہی تھی ۔جب تین لوگ ایک ہی بیڑی سے بندھے ہوں تو انکے دکھ درد مشکلیں کجا سکھ بھی سانجھے ہوجاتے ہیں ۔
طلسم آپ آرام کریں ہم آپ سے ملتے ہیں ” پھر اچانک کچھ یاد آنے پر مڑا ” آپ نے کچھ کھایا ہے ۔۔” اسنے نفی میں سر ہلادیا ناشتہ بھی اسنے نام نہاد کیا تھا اور دپہر سر پر آگئی تھی ۔” میں آپکے لیے کچھ کھانے کو لاتا ہوں ۔” سناش کے کمرے سے جانے کے بعد اسنے ایک شاطرانہ مسکراہٹ کے ساتھ آنسو صاف کیے ” معذرت سناش ہمیں آپکی سامنے یہ ایموشنل ڈرامہ کرنا پڑا ۔مگر اس مشکل سے صرف آپ ہمیں نکال سکتے تھے کیونکہ چچا آپکی بات کبھی نہیں ٹالتے لیکن یہ احساس کے ہم نے آپکی مخلصی کا فائدہ اٹھایا ہمیں شرمندہ کرتا رہے گا ۔۔۔۔وہ آنسو صاف کر کے بستر پر لیٹ گئی تھی لیکن اچانک اٹھ بیٹھی ۔” پتا نہیں اسیر کیا کررہے ہونگے انھوں نے کچھ کھایا بھی ہوگا یا نہیں۔ادھراسے وہ اینٹیں عمارت میں پہنچاتے شام ہوگئی تھی ۔رات کا سرمئی ااندھیرا آہستہ آہستہ پھیل رہا تھا ۔وہ ایک دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا تھا سر بھی دیوار کے ساتھ ٹکا کر آنکھیں بند کر رکھی تھیں جب اسے اپنے پیروں پر کسی کے لمس کا احساس ہوا اسنے ایکدم آنکھیں کھولیں وہی بوڑھا آدمی اسکے پاؤں پکڑے بیٹھا تھا .” بابا آپ یہ کیا کر رہے ہیں آپ ؟ ” اسنے ان کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے ۔” تمہارا بہت شکریہ بیٹا تم نے میری مدد کی میں تمہارا احسان کبھی نہیں بھولوں گا ” وہ ہاتھ جوڑے اسکے سامنے بیٹھا تھا ۔
“ایسا نہ کہیں بابا میرا فرض تھا آپکی مدد کرنا ۔۔۔”
یہ لوگ بہت ظالم ہیں بیٹا کسی کی تکلیف درد کا احساس انہیں نہیں ہے بس اپنے کام سے مطلب ہے ۔
بابا آپ کب سے قید ہیں یہاں ؟ اسیر کے سوال سے ایک بے کس سی مسکراہٹ اسکے چہرے پر آئی تھی ۔” بیس سال سے ! اسکا جواب سن کر اسیر کے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے ۔اور آپکی عمر کتنی ہے ؟
پچاس سال ! تیس سال کا تھا جب اپنے دو سال کے بچے کی بھو ک مٹانے کے لیے دودھ چرایا تھا کیونکہ کچھ تھا نہیں جسے بیچ کر خرید سکتا زمینوں پر صیاد نے زبردستی قبضہ جما لیا کام کوئی تھا نہیں گھر میں اناج بھی نہیں تھا بیوی میری مر چکی تھی اپنی بچے کی بھوک شانت کرنے کے لیے اس چوری کیے دودھ کی سزا پچس سال تک کاٹ رہا ہوں میں کیونکہ صیاد کی قید میں گئی اسیروں کو وہ آزاد کرنا بھول جاتا ہے ۔
اور آپکا بچہ ؟ اس بوڑھے آدمی نے کرب سے آنکھیں بند کیں ” مجھے تو لے آئے تھے کال کوٹھری میں وہ بھوکا رو رو کر مر گیا ہوگا ۔
اس بوڑھے کی کہانی سے اسیر کی روح تک کانپ گئی تھی ۔وہ کانپنے لگا تھا۔
” ڈرو نہیں بیٹا یہاں ناجانے میرے جیسے کتنے ہیں جو بے جرم قید ہیں جن کی کہانیاں مجھ سے بھی درد ناک ہے کوئی سالوں سے قید ہے تو کوئی صدیوں سے غلام نسل در نسل یہ سانپ سب کو ڈستا جا رہا ہے ۔” پھر اچانک اسنے اسکا ہاتھ تھاما اسکے سر پر پیار دے کر کہا ” میرا بیٹا زندہ ہوتا تو بلکل تمہارے جیسا ہوتا تم اپنا خیال رکھنا کوئی غلطی مت کرنا تاکہ یہ لوگ تمہیں وہاں نہ لے جائے جہاں میں ہوں “
” ابے او بوڑھے چل آرام کر کر کے تھکا نہیں تو چل اٹھ ۔۔۔۔” ایک سپاہی اسے دھکیلتا ہوا وہاں سے لے گیا ” اور لڑکے تم تمہیں تمہاری سزا مل گئی ہے آئیندہ دھیان رکھنا مہمان ہو اسلیے بخش دیا ۔۔۔۔۔” وہ اس بوڑھے کو لے گئے تھے مگر اسکے کانوں میں ایک ہی جملہ گھوم رہا تھا ” اسیر اسیروں کا نجات دہندہ !”
” اسیر بیٹا یہ لو یہ کھا لو تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا ۔” لیکن وہ ڈرا ہوا تھا پریشان تھا ۔” چچا وہ بوڑھا بیس سال سے قید ہے ایک بوند دودھ کی چوری کے لیے چچا میں انکی مدد کیسے کرو گا انھیں نجات کیسے دلاوں گا ۔” وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا ۔
” اسیر تم فکر نہ کرو کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا ہمیں بس اطم کو ڈھونڈنا ہے ۔”
چچا بس اطم وہ بس نہیں ہے اطم وہ جگہ جو شہرِ سحر میں ہے ہی نہیں تو اسے کیسے ڈھونڈے گے ۔
اسیر تم فکر نہ کرو سب ٹھیک ہو جائے گا چلو گھر چلتے ہیں بہت دیر ہوگئی ہے ۔۔وہ اسے بازو سے پکڑ کر گھر لے گیا تھا ۔
وہ اپنے کمرے میں بیٹھی تھی اسیر کا ہی سوچ رہی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی ۔
” آئے سناش ! ” دروازے میں وہ کھڑا تھا پہلے سے کافی بہتر بال اور داڑھی اسنے مناسب طریقے سے بنوا لی تھی مسکراہٹ واپس آگئی تھی ایک جوگی نے اپنا جوگ چھوڑا تھا تو وہ خوبصورت نہ ہو ہو ہی نہیں سکتا ۔
” آپ جاگ رہی ہیں وہ ہمیں آپ سے ایک اجازت چاہیے تھی “
مجھ سے مجھ سے کیسی اجازت چاہیے آپکو ؟…..” کیا ہم آپسے کچھ وقت بیٹھ کر باتیں کرسکتے ہیں اگر آپ کو کوئی اعتراض نہ ہو تو ۔۔
بیٹھیں سناش بولے کیا کہنا چاہتے ہیں آپ ؟ وہ وہیں کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا ۔
” طلسم آپ جانتی ہیں جب آپ یہاں نہیں تھی تو کیا کیا ہوا ؟” اسنے مسکرا کر انتہائی معصوم سوال کیا ۔جس پر اسنے نفی میں سر ہلا دیا ۔
” مجھے بھی نہیں پتا کیا کیا ہوا مجھے تو آپ اپنے ساتھ لے گئیں تھیں ۔طلسم آپکو یاد ہے اپ نے مجھے سے بچپن میں کہا تھا کہ کبھی آپ کال جنگل میں گم گئی تو تم کیا کرو گے ؟ اور میں نے جواب دیا تھا کہ میں کال جنگل سے کہوں گا کہ مجھے میری طلسم واپس کردے اور جب آپ وہاں گم ہوگئی تو میں نے کال جنگل سے کہا مجھے واپس کرو اسنے نہیں کی آپ اسکے پاس ہوتی تو وہ مجھے دیتا نہ سب کہتے تھے آپ چلی گئی ہیں میرا دل نہیں مانتا تھا مجھے لگتا تھا آپ کہیں نہ کہیں ضرور موجود ہیں مجھے ہوا میں آپکی خوشبو آتی تھی ۔اپکے ہونا کا احساس مجھے ہمیشہ بیگانہ رکھتا تھا ۔اپکی یادیں فرصت ہی نہیں دیتی تھیں اسلیے کچھ خبر نہیں کہ محل میں کیا کیا ہوا لیکن تائی جان کا خیال میں نے پورا رکھوایا ہے اسے میں نہیں بھولا تھا ۔۔” یہ بتاتے اسکی آنکھوں میں نمی آگئی تھی جسے دیکھ کر طلسم حیران رہ گئی تھی وہ اتنی جلدی رونے والوں میں سے نہیں تھا ۔” سناش !”
” نہیں طلسم یہاں تک ! اسنے اپنی گردن پر ہاتھ کر کہا ” یہاں تک بھرا ہوا ہوں بول لینے دیں کہ آپ کے بغیر ایک ایک لمحہ قیامت خیز گزرا ہے مجھ پر کوئی ایسا دن کوئی رات ایسی نہیں تھی جس میں مجھے سکون ملا ہو ایسے لگتا تھا جیسے میری شہ رگ کسی کے ہاتھ میں ہے نہ کاٹ رہا ہے نہ سانس لینے دے رہا ہے ۔الفاظ نکلنے مشکل ہوگئے تھے میرے گلے سے پھر بھی آپکے آنے کی امید نے مجھے زندہ رکھا اور آج آپکی واپسی ایسے ہے جیسے مرتے انسان کو آبِ حیات مل گیا ۔”طلسم اسے انتہائی شرمندہ نظروں سے دیکھ رہی تھی جو نم آنکھوں سے بھی مسکرا کر بات کر رہا تھا ۔
تیری یاد مینوں تڑپاوے ۔۔۔۔
مینوں تے چین نہ آوے ۔۔۔
میرے جسم چو میرے جانی ۔۔۔
تیرے جسم دی خوشبو آ وے ۔۔۔
میں چاہے جاگا میں چاہے سواں ۔۔۔
تنگ کردے نے خیال تیرے ۔۔۔۔۔
او فقیرا ۔۔او فقیرا مینوں لے جا تو نال تیرے ۔۔
تیرے بنا کون پُچھے گا میرے سجنا وے حال میرے
“ہر رات جب میں بستر پر لیٹتا تھا تو میرا روم روم اس قدر تکلیف میں ہوتا تھا کہ میں بیان نہیں کرسکتا تب بھی آپ ہی میری راحت کا سامان بنتی تھیں ۔میں آنکھیں بند کرتا تھا تو آپکا مسکراتا چہرا میرے سامنا آجاتا تھا میرا ہر درد مٹ جاتا تھا ۔اپکو سوچتا تھا تو رات کیسے گزرجاتی تھی پتہ ہی نہیں چلتا تھا کبھی آنکھ لگ بھی جاتی تو آپکی پائل کی آہٹ سی ہوتی جو پھر بیدار کردیتی سب تھے ابا شمس تائی جان پورا محل لیکن سب ادھورا تھا آپکی کمی ہر احساس میں محسوس ہوتی تھی۔ سب کے باوجود میں کہیں کھو سا گیا تھا جیسے کسی نے گہرے کنوئیں میں ڈال دیا اور میں بھی نکلنے کی کوشش نہیں کررہا تھا کیونکہ وہاں آپ نظر آتی تھیں آپکے نہ ہوتے ہوئے بھی آپکی ذات تک محدود تھا میں ۔۔”یہ سب کہتے ہوئے وہ اسے دیکھ بھی نہیں رہا تھا بس نظریں جھکائے وہ روتا مسکراتا بولے جارہا تھا ۔
دنیا دی اس بھیڑ چ آویں کھو جا گے یارا ۔۔۔
تیرے بنا اسی پاگل واگل ہوجاں گے یارا ۔۔۔۔
جے میرے تو دور گیا تو ۔۔۔۔۔
لینے سوے میں بال میرے ۔۔۔۔۔
او فقیرا ۔۔۔او فقیرا ۔۔۔مینوں لے جا تو نال تیرے ۔۔۔۔
تیرے بنا کون پُچھے گا مینوں میرے سجنا وے حال میرے ۔۔۔۔
ایک وقت تو ایسا آیا آنسوں بھی ساتھ چھوڑ گئے حلق میں کہیں پھنس کر رہ گئے سارا دن ایک چیز میرے ساتھ ساتھ چلتی تھی لیکن رات کاٹنے کے لیے وہ بھی ساتھ نہیں دیتا تھا سایہ بھی چلا جاتا تھا اور اس تنہائی میں آپ ہوتی تھیں میری ہمسر میرے ساتھ آپکی یادیں تھپکی دیتی ضرور تھیں مگر سونے نہیں دیتی تھیں کبھی کوئی کہتی تھی میری بات سنو تو کبھی کوئی کان کے قریب گنگنانے لگتی ہر طرف بس آپ ہی آپ ہوتی مگر میں آپکو چھو نہیں پاتا تھا آپ چلی جاتی تھی پھر اس ڈر سے میں نے آپکو چھونا ہی چھوڑ دیا اور آج بھی جب میں نے آپکو دیکھا مجھے لگا میں آپکو ہاتھ لگاؤ گا تو آپ چلی جائیں گی مگر جب آپ نے میرا نام لیا مجھے پتا ہی نہیں چلا میں کب آپ میں سمٹ گیا اور آپ غائب نہیں ہوئیں آپ سچ میں تھیں میری باہوں میں دل کررہا تھا اپنے اندر جذب کرلوں آپکو تاکہ آپ کہیں جا ہی نہ سکیں ۔” اسکی باتوں سے صرف طلسم نہیں روباش چاند تارے کجا موسم بھی اشکبار تھا اسلیے کھل کر برس رہا تھا ۔یہ بارش اپنی بوندوں میں صرف ان دونوں کو نہیں جھلسا رہی تھی کوئی تھا جو شہر کے دوسرے کونے میں بستر سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا ۔جو دن بھر کی تھکن کے باوجود بھی سو نہیں پا رہا تھا ۔
” طلسم آپ اس وقت کہاں ہیں مجھے آپکی ضرورت ہے میں ۔۔۔۔میں بہت تکلیف میں ہوں مجھے آپکے پہلو میں اپنا دکھ بانٹنا ہے آپکی آغوش میں سر رکھنا ہے بارش میں بھیگنا ہے یہ شہر ۔۔۔۔یہ شہر آپکو مجھ سے چھین تو نہیں لے گا مجھے اسکی ہوا میں جدائی کی خوشبو آتی ہے یہ ہماری سانسوں میں تحویل تو نہیں ہوجائے گی کہیں سناش ہمیں الگ تو نہیں کردے گا ۔”
پیڑاں ساڈے اندر ۔۔۔
غم تھلے آ دبے ۔۔۔۔
دکھ دین نو لگدا ۔۔۔۔
سب نو آپا ای لبے ۔۔۔
او میرے اندر مر گئے سارے ۔۔۔
جو تیتھوں پوچھنے سی سوال میرے ۔۔۔
او فقیرا ۔۔۔او فقیرا مینوں لے جا نال تیرے۔۔۔
تیرے بنا کون ئگا مینوں میرے سجنا وے حال میرے ۔۔۔۔
او فقیرا ۔۔او فقیرا مینوں لے جا تو نال تیرے۔۔۔
” نہیں ایسا نہیں ہوگا آپ صرف میری ہیں آپکو مجھ سے کوئی جدا نہیں کرسکتا میں کرنے نہیں دوں گا میں آپ سے ملنے صبح ضرور آؤں گا ۔” اپنے دل کو یہ دلاسہ دے کر وہ لیٹ گیا تھا نیند بھی آہستہ سے لوری دینے آگئی تھی تھکن سے نیند اسے پہلے بھی آتی تھی مگر اس نیند میں جو سکون تھا وہ شاید وہ بیان نہ کر پاتا ۔
” آپ اتنا کچھ اپنے اندر دبا کر جیتے رہے اور کسی کو بھنک بھی نہیں لگنے دی ” احساسِ ندامت جو اسے اندر سے کھا رہا تھا وہ اسے بولنے بھی نہیں دے رہا تھا ۔
” جی کہاں رہا تھا بس سانس لینے کی رسم ادا کر رہا تھا جینا تو اب شروع کیا ہے جب آپ آئی ہیں ۔اسکا ہاتھ پکڑے وہ اسے محبت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔
” سناش ہمیں سونا ہے ” اسنے ایک دم سے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ سے چھڑا لیا جس پر اسنے ایک سرد آہ لی اور مسکرا کر سر اٹھایا ۔
” ہم چلتے ہیں آپ آرام کیجئے لیکن اس سے پہلے ایک التجا تھی آپ سے .”اسنے سوالیہ نگاہوں سے اسکی جانب دیکھا ۔
اپنا پاؤں اگر آپ اس کرسی پر رکھ دیں ۔۔۔۔
سناش نہیں وہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔” طلسم مہربانی ہوگی ۔” وہ اسے التجایا نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔اسنے مجبوراً اپنا پاؤں کرسی پر رکھ دیا تھا وہ مسکرا آکر جھکا اور اسکے پاؤں کے انگوٹھے کر اپنے لبوں سے چھو کر بنا کچھ کہے چلا گیا ۔
” تم نے یہ اچھا نہیں کیا طلسم وہ کس قدر تکلیف میں رہا ہے ” روباش کے آنسوں ابھی بھی نہیں تھمے تھے ۔
” میں مر رہی ہوں پل پل مر رہی ہوں مجھے سناش سے ڈر لگنے لگا ہے وہ جس قدر میرے عشق میں گرفتار ہوچکا ہے وہ اسیر کے ساتھ کیا کرے گا نہیں میں سناش کو نہیں بتاؤں گی اسیر کے بارے میں میں اسے کبھی محل نہیں آنے دوں گی سناش کی نظر کبھی اس پر نہیں پڑے گی ۔” وہ چڑھی سانس کے ساتھ خودکلامی کر رہی تھی مگر کہنے سے کیا ہوتا ہے جب جب جوجو ہونا ہے تب تب سو سو ہوگا ۔۔
آرزو میں تمنا میں جھلستا رہا دل میرے ۔۔
کبھی تو نہ ملا کبھی وقت نہیں
