334.6K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shehr-e-Sahar Episode 28

Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam

کییا مگر وہ ہیرا تو پہلے ہی چوری ہوچکا تھا ؟’ اسکے سوال پر سناش نے اسے سب بتا دیا تھا ۔مگر اس بات نے تو اسیر کے بھی کان کھڑے کردیے تھے ۔وہ دونوں حیران پریشان ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ۔

“ سناش اگر یہ بات ہے تو ہمیں اس ہیرے کو ڈھونڈنا ہوگا اگر اسے ک ہوگیا کسی نے اسے توڑ دیا تو شہر سحر تباہ ہوجائے گا .”

“ اسی بات کی رو پریشانی ہے طلسم کے اسے اتنی محفوظ جگہ پر رکھا گیا تھا جہاں زبیر اور اسکے دو غلام ہمیشہ جاتے ہیں ۔”

“ ان غلاموں سے پوچھ گچھ کی گئی یا نہیں ؟”

ہم نے پوچھا ہے پورے محل کے غلاموں کی تلاشی کے لی گئی ہے ہیرا کسی کے پاس نہیں ہے

تو ہمیں اس جگہ جاکر دیکھنا چاہیے جہاں وہ ہیرا تھا “۔۔۔ہمارا خیال ہے طلسم سہی کہ رہی ہیں ہمیں ایک دفعہ وہاں جاکر دیکھنا چاہیے ۔”

“ شہزادی اگر اجازت ہو تو میں ایک مشورہ دوں ۔” التجا اسیر نے کی تھی جس پر سب متوجہ ہوئے تھے مگر صیادنے اسے مشکوک نظروں سے دیکھا تھا جس نے چہرے کی داڑھی اتروا دی تھی کیونکہ اب اسے صیاد کے سامنے جانا تھا ۔ڈاڑھی میں وہ حسین تھا مگر بغیر داڑھی کے بھی وہ اچھا لگ رہا تھا ۔اسکی آدم سے زیادہ مشابہت ساڑھی کی وجہ سے تھے لیکن اپنے مقصد کو پانے کےلیے اسنے اسے بھی قربان کردیا تھا ۔ادم کی آنکھیں کالی تھیں مگر اسیر کی گرے یہ بھی اسکا فایدہ تھا

۔” تم کون ہو ؟” سوال شہباز نے کیا تھا

“ یہ ہمارا غلام ہے سمجھدار ہے یہ اچھا مشورہ دے گا ۔بولو اسیر !”

“ شہزا دی ہیرا کس طرح کی جگہ پر تھا میرا مطلب اگر وہاں زمیں کچی ہوئی تو وہاں قدموں کے نشان ضرور ہونگے ہمیں ایک کھوجی کو لے جانا چاہیے ۔” ان سے زیادہ تو اسے جاننے کا اشتیاق تھا ہیرا چوری ہو کیسے گیا ۔

” طلسم اس محل کے ذاتی معاملات میں غلام کب سے بولنے لگے ؟”صیاد غصے میں بول رہا تھا ۔

” لیکن ابا اسیر کا مشورہ غلط نہیں ہے قدموں کے نشانات سے پتہ چل سکتا ہے ہمیں لگتا ہے ہمیں کھوجی کو بُلوا لینا چاہیے ۔ابا وہ جگہ ہے کیسی جہاں ہیرا رکھا گیا تھا ؟”

” وہ ایک غار ہے میں ہر روز وہاں جاتا ہے غار کے باہر کی جگہ کچی ہے مٹی پر میرے اور غلاموں کے قدموں کے علاؤہ جس کے نشان ہونگے وہی چور ہوگا کیونکہ وہاں اورکوئی نہیں آتا جاتا ۔” جواب زبیر نے دیا تھا ۔وہ صیاد سناش شہباز چند سپاہیوں اور کھوجی کہ ہمرا اس غار تک پہنچ گئے تھے ۔کھوجی نے آتے ہی سب سے پہلے تمام لوگوں کے کچی مٹی پر قدم دیکھے تھے اور انھیں غار سے کچھ دور رہنے کا اشارہ کردیا تھا وہاں کافی قدموں کے نشانات تھا جو غار کے اندر جاتے تھے جو زبیر اور اسکے غلاموں کے تھے مگر ان قدموں کے علاؤہ بھی کسی کے قدموں کے نشانات تھے ان کو دیکھ کھوجی واپس آیا تھا وہاں جہاں سب کھڑے تھے اسنے پہلے شہباز کے قد کاٹھی اور وزن کو دیکھا پھر سب کو آگے لے آیا ۔” راجہ یہ قدموں کے نشان دیکھ رہے ہیں یہ زبیر ان دو غلاومں کے ہیں جو تازہ ہیں غالباً صبح آئے ہونگے لیکن یہ قدم دیکھیں یہ تھوڑے پرانے ہیں کل رات جیسے یہ جس آدمی کے قدموں کے نشان ہے وہ درمیانے قدم کا بھاری بھرکم انسان ہے اسلیے قدموں کے نشان گہرے ہیں اور یہ قدموں کے نشان وزیر شہباز کے ہیں !” زبیر سناش اور صیاد نے شہباز کی طرف دیکھا جس کے چھکے چھوٹ گئے تھے ۔” ہمارے ہمارے قدموں کے نشان کیسے ہوسکتے ہیں ہم تو اپنے محل میں تھے کل رات ہم کیسے ہوسکتے ہیں یہ کام تو زبیر کا کھوجی جھوٹ بول رہا ہے ۔”

” شہباز اپنی جگہ چھوڑ دیں !” سناش نے اسکے قدموں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔” مگر شہزادے ..” ۔۔۔ ” شہباز ہم نے کیا اپنی جگہ چھوڑ دیں !” اس بار اسنے چیخ کر کہا تھا اور ایک قدم آگے بڑھا تھا جب شہباز ڈر کر دو قدم پیچھے ہوگیا کھوجی نے نظریں اسکے قدموں پر جما لیں ” غلطی کی گنجائش ہی نہیں سرکار قدموں کے نشان وزیر شہباز کے ہی ہیں “

” راجہ یہ نہیں ہوسکتا ہم ہم چوری کیوں کریں گے ہم سب نے تو مل کر اسے غائب کیا تھا اسے چھپایا تھا تو میں کیوں ۔۔۔۔” اس پہلے وہ آگے کچھ بولتا صیاد نے خود اسکی طرف برچھی اچھال دی جسے سناش نے اسکے بے حد قریب سے پکڑ لیا اسے بچا لیا ” نہیں ابا ابھی نہیں پہلے یہ ہمیں بتائے گا ہیرا کہاں سپاہیوں وزیر شہباز کے محل کی تلاشی لی جائے پھر اسے سزا دی جائے گی جرم ثابت ہونے سے پہلے اسے ایک خروش بھی نہیں آنی چاہیے ۔” تمام سپاہی صیاد زبیر اور شہباز کو بندی بنا کر اسی کے محل میں لے جایا گیا تھا جہاں تمام سپاہی محل کی تلاشی لے رہی تھے آخر کار ایک سپاہی ایک چمکدار ہیرا اپنے ہاتھوں میں لیے آرہا تھا جس کی چمک دور سے آنکھوں کو خیرا کر رہی تھی اور لاکر سناش کے ہاتھوں میں تھما دیا ۔” یہ کہاں سے ملا ؟”.

” شہزادے یہ وزیر شہباز کی تجوری سے ملی ہے !” شہباز تو بس گرنے ہی والا تھا صیاد اور زبیر کی تو حیرت سے گردن نہیں ہل رہی تھی ۔” یہ ہم نے چوری نہیں کیا ہمیں نہیں پتا یہ یہاں کیسے آیا ہم تو رات کو اپنے محل سے باہر ہی نہیں گئے آپ چاہے تو ہمارے خاص غلام سے پوچھ لیں ۔” فرحان !!”وہ اپنے خاص غلام کو بلا رہا تھا جو ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا ۔” فرحان بتاؤ ہم سچ کہہ رہے ہیں نہ ہم کل رات اپنے محل میں ہی تھے نہ ؟”

” سناش نے اسکی گردن پر تلوار رکھ کر کہا ۔” سچ بولنا ورنہ ہم سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔،” اور وہ ڈر کے مارے کانپ رہا تھا .”سرکار وزیر ۔۔۔وزیر جھوٹ بول رہے ہیں یہ کل رات محل سے باہر گئے تھے ہم نے انھیں روکا بھی تھا مگر یہ بنا کچھ کہے چلے گئے ۔” فرحان کے علاو دربانوں نے بھی یہی کہا تھا ۔شہباز تو سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا صیاد اور زبیر ماتھا پیٹ رہے تھے ۔ ” شہباز کو بندی بنا لیں اور زبیر کو بھی گرفتار کرلیا جائے ” حکم سناش نے دیا تھا ۔

” کییا ہم کیوں ہم نے کیا کیا ہے ۔؟” ۔۔۔۔۔

” آپکی کی لاپرواہی کی ابا آپ نے آپکو ہیرے کی نہیں شہر سحر کی حفاظت سونپی تھی یہ نت بھولیں یہ ہیرا اگر کاٹ دیا جاتا یا بیچ دیا جاتا تو شہر سحر ختم ہوجاتا اور آپ اس غار کے باہر دو محافظ کھڑے نہیں۔ کرسکے “

” شہزادے محافظ اسلیے نہیں کھڑے کیے گئے کیونکہ وہ غار بہت محفوظ تھی وہ صرف میرے شہباز اور راجہ کے پنجے سے کھلتی ہے اسکے علاوہ کوئی اسے کھول نہیں سکتا ۔”

” اور بس آپکی اسی لاپرواہی کا شہباز نے فائدہ اٹھایا ہے سپاہی گرفتار کریں انھیں !” سناش حکم سنا کر باہر کی جانب بڑھ گیا ۔

” راجہ ! صیاد ! کچھ کی جئیے آپ تو جانتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے کیا ہوا تھا ہم ہیرا۔ کیوں چوری کریں گے !” وہ دوہایاں دے رہے تھے مگر صیاد کیا جواب دیتا سب کچھ ایسے کھل کر سامنے آگیا تھا کہ وہ انکا ساتھ دیتا بھی تو کیسے کیسے انھیں بے گناہ ثابت کرتا ۔

” بیڑیوں میں جکڑے زبیر اور شہباز دربار میں کھڑے تھے تمام لوگ دوبسرہ اکٹھے ہوگئے تھے سب کے ذہنوں میں ایک ہی سوال تھا کہ سالوں پہلے کھو جانے والا ہیرا اب منظر عام پر آیا بھی تو ایسے اور اگر ان سب نے مل کر ہیرا چھپایا تھی تھا تو شہباز نے ہیرا چوری کیوں کیا کیا اسکی نیت خراب ہوگئی تھی یا اسنے اسکا سودہ کر دیا ۔”

” تمام ثبوت شہباز کے خلاف ہیں اسلیے انھیں چوری کے الزام میں قید خانے میں ڈالنے کا حکم دیا جاتا ہے اور ساتھ ہی زبیر کو نشے کی حالت میں اتنی بڑی لاپرواہی کی وجہ سے چھے مہینے قید اور ہزار سونے کے سکوں کا جرمانہ کیا جاتا ہے ۔ ” حکم صیاد نے جاری کیا تھا اور اسکے پیچھے سناش زینہ تانے کھڑا تھا ۔طلسم اور اسیر بھی وہیں موجود تھے اسیر حیرت سے شہباز کو دیکھ رہا تھا ” اس نے ہیرا کیوں چوری کیا ؟ کیا یا کروایا گیا ؟” خیر وہ ایک شاطرانہ مسکراہٹ سے طلسم کے ساتھ آگے بڑھ گیا ۔طلسم نے اسے کمرے میں لاکر دروازہ بند کردیا اور ہاتھ سینے پر باندھے اسے دیکھنے لگی ۔اسے ایسے دیکھ کر وہ کچھ ہچکچا سا گیا ۔” کیا ہے !”

” اسیر ! ” وہ مسکراہٹ کہ ساتھ اسے دیکھ رہی تھی بتاؤ یہ کیسے ہوا ؟”

” طلسم میں نے ہیرا چوری نہیں کیا یار شہباز نے کیا مجھے بھی ابھی پتہ چلا ہے ۔” وہ صفایاں دے رہا تھا مگر طلسم ابھی بھی اسے دیکھے جارہی تھی ۔” اسیر !”

” اچھا بتایا ہوں .” اسنے ایک گہرا سانس لیکر کہا ” شہباز نے ہیرا چوری کیا ہے مگر خود نہیں اس سے کروایا گیا ہے ۔”

” وہ تو مجھے پتہ ہے مگر کیسے ؟”

” طلسم میرے زخم لگنے سے کچھ دنوں پہلے میں ہر روز صبح زبیر کے محل کے باہر جاتا تھا اس پر نظر رکھنے ان سب میں جو ایک چیز ہر روز کی جاتی تھی وہ تھا اسکا اپنے دو غلاموں کے ساتھ غار میں ہیرا دیکھنا جانا پھر ایک دن انکا پیچھا کیا چھپتے چھپاتے میں وہاں تک پہنچا جہاں وہ ہیرا تھا مگر اس غار کا دروازہ کوئی عام انسان نہیں کھول نہیں سکتا کیونکہ اس غار کے باہر تین پنجوں کے نشان ہیں جو غالباً صیاد زبیر اور شہباز کے تھے تو اس غار جو کھولنا میرے لیے ناممکن تھا پھر مجھے ایک خیال آیا ایک تیر سے دو شکار کا “

” اور پھر وہ دروازہ شہباز نے کھولا مگر خود کیسے ؟”طلسم کر اشتیاق اس بات کا تھا ۔

” ہیپنوتیزم یعنی توجہ سے نیند میں لانے کا عمل اور اس میں میری مدد غفران چچا نے کی تھی ۔کل رات میں پہلے غفران چچا کے پاس گیا تھا ۔

گزشتہ رات ۔

وہ دروازے کے باہر منہ چھپائے دستک دے رہا تھا جب نیند سے نہال آنکھیں لیے غفران باہر آیا ۔” اسیر تم اس وقت کیا بات ہے سب ٹھیک ہے ۔”

“چچا مجھے آپکی مدد چاہیے !”اسے اندر آ کر دروازہ بند کردیا ۔

” ہاں بولو کیا کرسکتا ہوں میں ؟” ۔۔۔۔چچا آپ جادوگر تھے نہ آپکو کسی انسان کے دماغ پر قابو کرنا تو آتا ہوگا !”

” ہہلے تھا مگر اب تو میرا جادو میرے پاس ہے ہی نہیں بتاتا تو تھا جادو اکٹھا کرلیا گیا تھا ۔ ” وہ پریشان ہوگیا تھا پھر اچانک کچھ یاد آنے پر بولا ۔” چچا آپکو ہیپنوتیزم یعنی توجہ سے نیند میں لانے کا عمل تو آتا ہوگا اس میں کسی انسان کی توجہ کسی چیز پر مرکوز کرکے اسکے دماغ پر قابو پانا “

” گھڑیال کے گھنٹے سے کسی کو نیند میں لانا !”

” ہاں چچا وہی پینڈولم سے ۔۔” ۔۔۔۔ہاں وہ مجھے آتا ہے پر کرنا کسے ہے .”

وزیر شہباز کو !….کیا مگر اسے کیسے کریں گے وو تو اس وقت اپنے محل میں ہوگا ۔

” وہیں کریں گے اٹھیں چلیں میرے ساتھ ۔” وہ اسکا ہاتھ پکڑے اسے باہر لے آیا جیسے وہ آیا تھا اسی طریقے سے وہ اسے شہباز کے محل تک لے آیا سپاہیوں سے بچتے بچاتے وہ سیدھا کھڑکی سے شہباز کے کمرے میں اترا تھا جس کا پتہ اسنے پہلے سے لگا رکھا تھا ۔توقع کے مطابق وہ سو ہی رہا تھا ۔اسیر اسکے سرہانے کھڑا تھا اسے اٹھا رہا تھا جیسے ہی اسکی آنکھ کھلی غفران اسکے سامنے بیٹھا تھا اس سے پہلے وہ چیختا اسیر نے پیچھے سے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا غفران نے اسکے سامنے پینڈولم ہلانا شروع کیا وہ پینڈولم کو نہایت غور سے دیکھ رہا تھا کہ اچانک اسے غنودگی سے ہونے لگی اوراسکا دماغ ماؤف ہوگیا ۔

” تم کون ہو ؟؟ سوال غفران نے کیا تھا ۔” میں شہر سحر کا وزیر شہباز ہوں۔ “

اسیر اشاروں سے اس سے پوچھ رہا تھا اور وہ اسے تحمل سے کام لینے کا کہہ رہا تھا ۔” شہباز تم ابھی نیچے محل سے باہر جاؤ گے .”غفران آہستہ سے اختیاط سے اسے چیک کررہا تھا مگر وہ کمبل ہٹا کرکھڑذ ہوگیا اور باہر کی طرف چلا گیا ۔یس!! اسیر تو خوشی سے نہال ہوگیا تھا ” او آئی لو یو چاچو !” اس سے گلے مل کر وہ وہ دونوں دروازے تک اسے دیکھنے آئے تھے جو سیڑھیاں اتر رہا تھا ۔” چچا اس سے آگے میرا کام ہے آپ یہاں سے چلے جائیں میں نہیں چاہتا اگر کوئی مسئلہ ہو تو آپ بھی مشکل میں پھنس جائیں ۔”

” لیکن اسیر تو اکیلا کہیں وہ ہوش میں آگیا تو ؟” وہ ہوش میں آگیا تو میں سنبھال اور ویسے بھی جس جگہ مجھے اسے لے جانا ہے وہ جگہ یہاں سے زیادہ دور نہیں ہے ۔وہ اسے بحفاظت کھڑکی سے نیچے لے آیا تھا ۔ادھر شہباز اپنے محل سے باہر جارہا تھا جب فرحان اسے راستے میں ملا تھا ۔” سرکار آپ اس وقت کہاں جارہے ؟” پر وہ بنا کچھ کہے سنے باہر چلا گیا اور فرحان اسے حیرت سے دیکھ کر اپنے کام کرنے چلا گیا ۔اسے محل سے باہر جاتا سپاہیوں نے بھی دیکھا تھا ۔

محل سے کچھ دور جاکر اسیر اسکے پاس آیا تھا ۔” شہباز تمہیں ہیرا چوری کرنا ہے !”اور وہ سامنے کی طرف گم سم کھڑا تھا ۔ ” شہباز تمہیں۔ کیا کرنا ہے ۔” وہ ڈرتے ڈرتے پوچھ رہا تھا کہ کہیں اسے ہوش نے اجائے ۔” مجھے ہیرا چوری کرنا ہے !” اسنے سکھ کا سانس لیا

” تو جاؤ کرو چوری !” یہ کہ کر اسنے اسے راستے کی طرف دھکیل دیا تھا وہ خود بھی اسکے پیچھے تھا شہباز تو ہوش میں نہیں تھا اسلیے اسے کچھ پتہ نہیں تھا مگر اسیر پورے ہوش و حواس میں تھا اسلیے وہ اختیاط سے ادھر ادھر دیکھ کر جارہا تھا ۔شہباز غار کے باہر کھڑا تھا اسنے ان تین پنجوں کے نشان میں سے شہباز نے اپنا پنجہ ڈھونڈ کر اس پر ہاتھ لگایا دروازہ کھلتا چلا گیا شہباز اندر آگیا تھا وہ غار بھی عام غاروں جیسے ہی تھی مگر اندر سے بلکل چٹانی تھی ۔تھوڑی دور اندر جانے کے بعد انھیں ہیرا نظر آگیا تھا جو ایک ایک پلر کے درمیاں ہوا میں لٹک رہا تھا اسکی چمک پوری غار وہ روشن کیے تھے ۔ہیرے سے رنگ برنگی شعائیں بھی نکل رہی تھیں ۔شہباز نے آگے بڑھ کر ہیرا نکلا لیکن جیسے ہی اسنے ہیرا نکالا ایک ساتھ بہت سارے تیر چلے لیکن اس سے پہلے ہی اسیر نے اسے کھینچ لیا ۔کھینچنے سے اسے ہوش آنے لگا تھا اسکی آنکھیں۔ ابھی بند تھیں جب اسنے کھولی وہ پینڈولم دوبارہ اسکے سامنے گھوم رہا تھا جسے وہ پھر نہایت غور سے دیکھ رہا جس وہ پھر غنودگی میں چلا گیا ۔ اسیر کے گلے میں اٹکی سانس خارج ہوگئی تھی ۔ شہباز پھر باہر کی جانب چلا گیا وہ بھی پیچھے پیچھے آگے دروازے تک پہنچ کر جیسے ہی وہ دونوں باہر نکلے دروازہ دوبارہ بند ہوگیا ۔اسیر نے اسکے ہاتھ سے ہیرا نہیں لیا تھا ۔” شہباز اب تمہیں واپس اپنے محل جانا ہے کہاں جاناہے ؟” ” محل جانا ہے !” اسنے اسکی بات دہرا دی ۔” ہاں تو جاؤ نہ روکا کس نے ہے .”

شہباز کی محل واپسی تک وہ اسکے ساتھ آیا تھا اسی طریقے سے شہبار کے کمرے میں گھس کر وہ ہیرا اسکی تجوری میں رکھا جو اتفاقاً کھلی تھی ۔اسنے رکھ کر تجوری بند کردی شہباز اپنے بستر پر لیٹا تھا صبح تک اسنے ٹھیک ہو جانا تھا ۔

” اب سالوں پہلے چوری ہوا ہیرا وزیر شہباز کے پاس برآمد ہوگا زبیر ہیرے کی چوری کو صیاد کو بتائے گا بوکھلا جائے گا اور سب کچھ کھل باہر آجائے گا ۔غار کے باہر قدموں کے نشان شہباز کے ملیں گے کیونکہ میں تو اپنے مٹا آیا چوری شہباز پر ثابت ہوگی اور وہ اپنے عہدے سے فارغ اور پھر جائے گی شہر سحر کی باگ ڈور کچھ وقت کے لیے سناش کے پاس اور پھر صیاد کا کھیل ختم .”

موجودہ دن ۔۔ اسیر اتنا حطرناک منصوبہ اگر اسے ہوش آجاتا وہ آپکو دیکھ لیتا تو ؟” وہ تو سب کچھ سن کر حیران رہ گئی تھی ۔مگر وہ تو مسکرائے جارہا تھا ۔” کچھ ہوا تو نہیں نہ کچھ اچھا کرنے کے لیے تھوڑا سا خطرا اٹھانا پڑتا ہے اور ویسے بھی کچھ ہوا تو نہیں ۔”

وہ سب تو ٹھیک مگر اب اس سے کیا ہوگا ؟…..” اس سے یہ ہوگا اگلا وزیر ملنے تک شہر سحر کی باگ ڈور کسی کو تو سونپنی پڑے گی اور تمہیں سناش کو اس بات پر آمادہ کرنا ہے کہ وہ اس وقت کے لیے شہر سحر کی باگ ڈور سنبھالے اس سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ زبیر صیاد اور شہباز نے جو لوگوں کا محصول لے لے کر خون چوسا وہ سب سناش کے سامنے آجائے گا شہباز نے اور زبیر نے اپنے اپنے عہدوں کا غلط فائدہ اٹھایا ہے وہ س۔ سناش کو معلوم ہوگیا تو وہ شہر سحر کے حالات کی بہتری کے لیے اقدامات اٹھائے گا اصطلاحات بنائے گا اور ویسے بھی وہ اگلا راجہ بھی ہے اسے بھی تو معلوم ہو جو شہر اسکی ملکیت بننے والا ہے اسکے حالات کیا ہیں ۔”

ادھر صیاد سر پکڑے بیٹھا تھا یہ کیا ہورہا ہے سالوں پہلے چھپا راز یوں اچانک کھل گیا ہے اور شہباز نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا کیا اسکے دل میں لالچ آگیا تھا مگر اس کے بارے میں ہم تینوں کے علاوا کسی نہیں پتا تھا تو پھر کہیں ان سب کے پیچھے سازش تو نہیں کہیں آدم واپس تو نہیں آگیا مجھے جلد سے جلد چاند کا راز جاننا ہوگا پتہ لگانا ہوگا کیا جو میں سوچ رہا ہوں وہ سچ تو نہیں ۔” ابا! وہ ابھی یہ سب سوچ ہی رہا تھا جب سناش اسکے کمرے میں آیا ۔وہ چونک سا گیا ” بولو سناش کیا بات ہے ۔” وہ بھی کافی پریشان لگ رہا تھا ۔

” ابا وہ ہمیں آپ سے بات کرنی تھی کہ اب شہر سحر کا اگلا وزیر کون ہوگا ہمیں جلد سے جلد فیصلہ لینا ہوگا ورنہ حالات خراب ہوسکتے ہیں .”

” مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا سناش جن پر اعتبار تھا وہی اتنا بڑا دھوکا دے گئے اور کوئی اتنی جلدی کیسے ملے گا۔”

“کیا ہم اندر آسکتے ہیں چچا جان ؟” دروازے میں طلسم کھڑی تھی ۔

آئیں طلسم کیا بات ہے آپ اس وقت یہاں ؟” پوچھا سناش نے تھا صیاد اسے کم ہی منہ لگاتا تھا ۔” وہ ہم یہاں سے گزر رہے تھے تو آپکی باتیں سنی آپ شہر سحر کے اگلے وزیر کو لیکر پریشان ہیں نہ ؟”

” جی طلسم شہباز ابا کے بہت قابل آدمی تھے اور اعتبار والے بھی مگر وہ اتنا بڑا کھیل کھیل گئے ویسے اسیر کا مشورہ بہت مفید تھا اسکے ذریعے سے ہم شہباز کو پکڑ سکے ۔”اسکے بارے میں تو صیاد کو اب یاد تھا ۔” طلسم وہ غلام ہے کون اور وہ اسیر طلسم بنا کیسے ؟”

” وہ چچا وہ ۔۔۔۔” اسے توقع نہیں تھی کہ صیاد یک سوال بھی کر لے گا ۔” ہم بتاتے ہیں ابا اسیر خاکروب تھا اسنے طلسم کے گیہنوں کی چوری کی تھی اسلیے انھوں نے اسے قیدی بنا کر اسیر طلسم کی مہر لگوا دی تھی ۔طلسم کو اپنے ذاتی کچھ کاموں کے لیے ایک خاص غلام چاہیے تھا جیسے شمس ہے تو انھوں نے قیدیوں میں سے اسے اپنے غلام کے طور پر چنا تھا ۔وہ کافی محنتی اور سمجھدار غلام ہمیں یہ اب تک سمجھ نہیں آیا اسنے وہ چوری کی کیوں تھی یا شاید وہ تب سچ بول رہا تھا وہ اسکے پاس غلطی سے آیا تھا ۔”وہ صیاد حیرت اور مشکوک نظروں سے انھیں دیکھ رہا تھا ۔

” اور اس غلام کے بارے میں ہمیں کیوں نہیں بتایا گیا ؟”

” ابا پہلے بھی محل میں رکھے جانے والے غلاموں کا آپ کو نہیں بتایا جاتا یہ ہماری زمہ داری ہے اور طلسم نے ہم سے پوچھ کر رکھا تھا ۔”

وہ خاموش ضرور ہوگیا تھا مگر ایک شبہ اسے لیکر اسکے دل میں آگیا تھا ۔” طلسم آپ یہاں کیوں تھیں ؟” صیاد نے بڑے روکھے سے انداز میں پوچھا ۔

” چچا ہم آپکو ایک مشورہ دینے آئے تھے وہ یہ سناش اگلا ہونے والا راجہ ہے لیکن ابھی تو آپ ہیں تو میرا خیال کہ جب تک اگلا وزیر نہیں مل جاتا تب اگر شہر سحر کی باگ ڈور سناش سنبھالیں تو میرا خیال بہتر رہے گا اس سے فائدا یہ ہوگا کہ ایک تو شہر سحر کے تمام حالات کاروباری تجارتی سب کے بارے میں سناش کو علم بھی ہوجائے گااور الگ الگ عہدوں پر فائز تمام حکمرانوں کے بارے میں اور انکے کام کے بارے میں بھی انھیں آگاہی ہوجائے گی تو اگلا وزیر ڈھونڈنے میں شاید آسانی پیدا ہوائے ۔” اسکے مشورے نے صرف سناش کو نہیں صیاد کو بھی سوچ میں ڈال دیا تھا ۔” طلسم ہم ۔۔ہم تو پہلے سے سپہ سالار ہیں تو ہم شہر سحر کو کیسے سنبھال سکتے ہیں ؟”

” سناش جب آپ راجہ بنے گے تو تب بھی تو آپکو اسے سنبھالنا ہے اگر آپ ابھی اسے دیکھ لیں گے تو بعد میں زیادہ آسانی رہے گی اور جہاں تک رہی لشکر کی بات تو اسے آصف دیکھ لے گا ۔”

سناش نے اگر باگ ڈور سنبھال لی تو پچھلے کیے زبیر کے سارے کام اسے نظر آجائیں گے وہ تو پہلے ہی ان کے خلاف ہوگیا ہے اور وہ جائے گا اس طرح انھیں قید نکالنا اور بھی مشکل ہوجائے گا ۔” نہیں سناش آپ اپنے کام پر توجہ دیں ہم دیکھتے ہیں کسی اور کو .”

” پر ابا ہمارا خیال ہے طلسم سہی کہہ رہی ہیں جب ہم راجہ بنے گے تب۔بھی ہمیں ہی یہ سب دیکھنا ہے تو اب سے کیوں نہیں اور ویسے بھی ہم کونسا وزیر بن رہے ہیں ہم تو بس وقتی طور میں معاملات دیکھ رہے ہیں اور ہمیں یہ منظور ہے ۔”

” لیکن سناش تم۔۔۔”صیاد کی بات ابھی ادھوری تھی جب سناش نے اسکے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر کہا ” آپ فکر نہ کریں ابا ہمیں کچھ نہیں ہوگا آپکے سر پر پہلے سے بہت زمہ داریاں ہیں ہم تو بس کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو آج سے شہر سحر نے ضروری معاملات اور زمہ داری ہم سنبھالیں گے ۔” صیاد خاموش ہوگیا مگر مطمئین نہیں ہوا تھا اسکی اپنے بیٹے سے محبت اسے مجبور کیے تھی ۔مگر وہ وقت قریب تھا جب یہی محبت اسکا سب سے بڑا امتحان بن جانی تھی ۔طلسم اور سناش وہاں سےچلے گئے تھے لیکن صیاد کی سوچ تو وہیں اٹکا گئی تھی کہ یہ اسیر اچانک سے وہ بھی طلسم کا خاص غلام ۔

” اسیر جیسا آپ نے کہا تھا ویسا ہوگیا اسیر !” وہ اسکے کمرے میں ہی کچھ کام کر رہا تھا جب اسنے اندر آتے ہی اسے خبر دی اسنے ۔ مسکرا کر اسے دیکھا ۔” ویری گڈ !”

اب آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جائے گا اور ہم ہمیشہ کے لیے شہر سحر میں رہ جائے گے جہاں کوئی خطرا نہیں ہوگا ۔”اسکی بات پر اسیر نے حیرت سے اسے دیکھا پھر لمبا سانس لیکر کہا پہلے سب ٹھیک ہو جائے پھر دیکھیں گے ۔” وہ مسکرا کر اسکے گلے لگ گئی ۔