416.8K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shehr-e-Sahar Episode 2

Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam

اسلام علیکم تائی جان !دیکھیے تائی جان میں شریف بچہ ہوں نہ دستک دے کر آتا ہوں یہ طلسم دروازہ توڑ کر آتی ہے ۔۔۔” اسنے آتے ہی شکایتیں شروع کردیں ۔

” ہاہاہا ۔۔۔۔شریف اور آپ آپکی شرافت کی قسمیں تو لوگ ایسے کھاتے ہیں جیسے گرگٹ کی ۔۔۔۔” ایسا ہی تھا طلسم اور اسکا رشتہ پل میں الجھن پل میں دوست ۔۔۔۔۔۔

” ہاں تو پھر کیا ہوا اگر گرگٹ رنگ بدلتا ہے تو یہ اسکی فطرت ہے خصوصیت ہے مگر انسان بدلے تو دوغلہ لگتا ہے اور میں دوغلہ نہیں میں اپنے ساکن ایک رنگ کے ساتھ کسی کا ہوں اور مجھے امید ہے میرے عشق کا رنگ اس پر ضرور چڑھے گا ۔۔۔اسنے اٹھا کر طلسم کو دیکھا جو اسے دیکھ کر رخ پھیر گئی ۔۔۔

” سناش امی ہماری باتوں کو نہ تو سن سکتی ہیں نہ جواب دے سکتی ہیں پھر بھی آپ ہر روز ان سے اتنی باتیں کیوں کرتے ہیں ؟…”

” ان کی حسیات بیدار رکھنے کے لیے تاکہ ان کا نیم مردہ دماغ مکمل مردہ نہ ہو جائے ۔اور ویسے بھی اگر کوئی بیماری کی وجہ سے سن بول نہیں سکتا تو کیا اسے اکیلا چھوڑ دیں ۔کوئی بیماری انسان کو اس قدر نہیں مارتی جتنا لوگوں کا رویہ اور اکیلا پن مار دیتا ہے ۔میں چاہتا ہوں جب تائی جان آنکھیں کھولیں تو میں آپ یا ابو کوئی تو ان کے پاس ہوں تاکہ انھیں یہ نہ لگے کہ انھیں اکیلا چھوڑ دیا گیا تھا اور طبیب کہتا تو ہے کہ اس حالت میں مریض کچھ کچھ سن سکتا مگر جواب نہیں دیتا اور ایک دن وہ بھی دیں گی ۔” اسنے مسکرا کر طلسم کو دیکھا اسکی مسکراہٹ دیکھ کر طلسم کا دل دھڑک اٹھا تھا کسی اور جذبے سے نہیں ایک دُکھ سے ۔وہ مسکراہٹ مدھم خالص ایسے جیسے کُہرے میں سورج کی پہلی کرن ۔۔۔۔۔

“سناش امی کو اس حالت میں پہنچانے والے بھی آپ ہی کے والد ہیں جب آپ کو سچ پتا چلے گا تو کتنا دُکھ ہوگا میری طرح ۔۔۔۔”

” اچھا چلیں آپ تائی جان سے باتیں کریں ہم شمس سے کہ کر آپکے جانے کی تیاری کرواتے ہیں ۔۔” وہ یہ کہ کر چلا گیا ۔

” ابا سمیت ان چار جادوگروں کو صیاد نے مارا تھا یہ بات آپ کو بھی معلوم ہے اور مجھے بھی مگر اب صیاد کی طاقت اور ہیبت اتنی بڑھ گئی ہے کہ کوئی کچھ بولتا ہی نہیں ۔وہ اس شہر کو برباد کر رہا ہے ۔امی جِسے ابا نے اتنے پیار سے سجایا تھا ۔مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا میں کیا کروں میری تو اپنی جان محفوظ نہیں ہے ۔۔۔” ایک آنسو ٹوٹ کر زرینہ بیگم کے ہاتھ پر گرا تھا ۔

” شہزادی بگھی تیار ہے “…شمس کی آواز پر وہ چونک گئی ۔

” ہم آتے ہیں ۔ آپ چلیں ۔۔۔” وہ چلا گیا ۔

” چلتی ہوں امی دعا کیجیے گا خیریت سے لوٹ آؤں یا صرف یہی کہ دیں کہ جب آپ کے پاس آؤ تو سانس چل رہی ہو۔فی امان اللہ ۔۔۔۔۔۔

“طلسم بگھی تک پہنچ چکی تھی اس نے ایک نظر اس بلند و بالا محل کو دیکھا .” خدا حافظ قصرِذولفشان ” جو اب قصرِ صیاد بن گیا تھا ۔وہ بگھی میں بیٹھ چکی تھی جب اسکی نظر سناش پر پڑی ۔وہ کوچوان کو کوئی تاکید کر رہا تھا وہ اسکے پاس آیا ۔

“طلسم پہنچ کر خط لکھیے گا اپنا خیال رکھیے گا تائی جان کی فکر مت کیجیے گا اور۔۔۔۔اور جلدی آجائیے گا ۔۔۔۔۔”

” جی ۔۔۔۔۔چلو کوچوان ! بگھی چل پڑی وہ وہیں کھڑا اسے دیکھ رہا تھا جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہوگئ مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ طلسم کا آخری بار دیکھ رہا ہے ۔

…………………

شمس میرا کام ہوگیا ؟؟ صیاد نے آتے ہی شمس کا بلایا ۔

” جی راجہ وہ تو صبح ہی ہوگیا تھا ..” وہ نظریں جھکائے کھڑا تھا ۔

” شاباش !! اسنے فتح مندانہ نظروں سے شمس کا دیکھا ۔

” ابا کیا ہم اندر آسکتے ہیں ؟.” اسنے ہاتھوں میں چند کاغذ تھے

” سناش آپ کو اجازت کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔”

” ابا یہ زمین ۔۔۔یہ تو وہ لوہار دینے کے لیے تیار ہی نہیں تھا اب کیسے ۔۔۔۔”

” تمہیں یہ زمین چاہیے تھی نہ ۔۔” صیاد نے مسکرا کر اسے دیکھا ۔

” ہاں مگر وہ تو دے ہی نہیں رہا تھا میں نے کہا تھا منہ مانگی قیمت لے لے مگر نہیں مانا ۔۔۔اپ نے زبردستی تو نہیں کی اس کے ساتھ ۔۔۔۔” اسکے ماتھے پر فکر کے آثار تھے ۔

” نہیں شہزادے ہم۔۔۔”صیاد نے اسے ہاتھ اٹھا کر منہ کر دیا ۔

” ایس کیسے ہوسکتا ہے سناش کسی چیز کو چاہے اور صیاد اسے پورا نہ کرے اسکے بدلے اسکے خاندان کی کفالت کا زمہ لیا ہے ۔۔۔”

” ابا آپ کتنے اچھے ہیں ۔۔۔” اسنے محبت پاش نظروں سے اسے دیکھا ۔

” سناش تم جس چیز پر بھی ہاتھ رکھو گے صیاد اسے تمہارے حق میں لکھوا دے گا چاہو تو آج طلسم سے تمہارا نکاح کر وا دوں مگر تم مانتے ہی نہیں ۔۔۔۔اسنے حیرت سے اپنے والد کو دیکھا ۔

” ابا طلسم کوئی چیز نہیں ہے وہ زندہ وجود ہے جو سانس لیتا ہے جس کے اپنے خیالات ہیں احساسات ہیں دل ہے میں اسے حاصل نہیں کرنا چاہتا مجھے اسے فتح کرنا ہے اور وہ میں کر لوں گا اسکے لیے مجھے چاہے تا قیامت صبر کیوں نہ کرنا پڑے ۔۔۔۔”

” ہمم ..” اسنے مسکرا کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔

” راجہ !راجہ ! ایک سپاہی بھاگتا ہوا آیا ۔

کیا بات ہے سپاہی ؟ اسے شمس نے مخاطب کیا ۔

” ایک بُری خبر ہے سرکار ۔۔۔۔” اسکا سانس اکھڑ رہا تھا ۔

” کیا ؟ سناش اسے ایسے دیکھ کر پریشان ہوگیا تھا ۔

” سرکاد وہ شہزادی طلسم ۔۔۔۔۔۔”

کیا ہوا طلسم کو ؟ سناش کی تو کسی نے شہ رگ پر انگلی رکھ دی تھی ۔

” سرکار وہ ۔۔۔ان کی بگھی کھائی میں گر گئی ہے اور نیچے ۔۔۔۔نیچے کال جنگل تھا شہزادی کا کچھ پتہ نہیں ۔۔۔۔۔سناش کی شہ رگ پر رکھی انگلی نے دباؤ بڑھا کر سانس کا راستہ منقطع کر دیا ۔

شمس نے نظر اٹھا کر صیاد کو دیکھا جسے صبح کا منظر پھر یاد آیا ۔۔۔

( اجازت ہے۔۔۔۔طلسم کو اجازت دے کر وہ باہر آیا

شمس طلسم ۔۔۔۔۔۔اسنے سنجیدہ نظروں سے شمس کو دیکھا

جی راجہ ؟…

لوٹ کر نہیں آنی چاہیے ۔۔۔” شمس نے صدمے سے اسے دیکھا پھر نظر جھکا گیا ۔

” جو حکم سرکار !

صیاد کے کہنے پر شمس نے طلسم کی بگھی کا دُھرا نکالا تھا ۔

اور سانش کے آنے سے پہلے وہ نہ اسی کام کی بات کر رہے تھے ۔”)

صیاد نے چور مسکراہٹ سے دل میں سوچا ۔۔۔” شطرنج کی بساط میں صیاد کے حریف کا آخری پیادہ بھی مارا گیا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔

سناش سپاہیوں سمیت طلسم کو ڈھونڈنے کال جنگل آیا تھا حواس تو برابر نہیں تھے مگر پھر بھی نظر صرف طلسم کو ڈھونڈ رہی تھی ۔۔اسکے سامنے بچپن سے لے کر اب تک کا ہر منظر چل رہا تھا کہیں وہ اسکے پیچھے بھاگ رہا تھا کہی وہ تائی جان سے اسکی حصے کی مار کھا رہا تھا تو کہیں اسے اپنے سے سینے سے لگائے تیر سے بچا رہا تھا ایک منٹ میں دو بار سانس بھی لینا مشکل ہوگیا تھا ۔۔۔

” ایس تو ڈاڈا دُکھ نہ کوئی۔۔۔۔

دلدار نہ وچھڑے ۔۔۔۔۔۔

کِسے دا یار نہ وچھڑے ۔۔۔۔۔۔۔

انھیں وہاں پہنچتے پہنچتے شام ہوگئی تھی وہ اسے ہر جگہ ڈھونڈ رہا تھا آوزیں دے رہا تھا اسکے کان میں اچانک ایک آواز گونجی تھی ۔۔۔

” سناش اگر میں کبھی کال میں گم گئ تو ؟؟؟.”

” تو میں تمہیں ڈھونڈ لوں گا ۔۔۔۔”

“،ارے کیسے ڈھونڈے گا مجھے تو جانور کھا جائے گے۔۔۔۔۔۔”

” تو میں کال جنگل سے کہوں گا مجھے میری طلسم واپس دے دو وہ دے گا ۔۔۔۔۔”

ایسے وقت میں نجانے کہاں سے اسے طلسم کی یہ بات یاد آگئی ۔رات کا اندھیرا تھا کہ بڑھتا جارہا تھا مگر طلسم کا کوئی اتہ پتہ نہیں تھا کوئی درخت کوئی جھاڑی نہیں تھی جسے اسنے نہ دیکھا نہیں پورے جنگل میں مشعلوں کی روشنی تھی مگر جو اندھیرا سناش کی زندگی میں آیا تھا اسے کوئی نہیں بھر سکتا تھا ۔۔

” ناگن بن کے ڈنگ دیا راتاں ۔۔۔۔

پت جھڑ لگدیاں نے برساتاں ۔۔۔۔۔۔

غم لوندے نے دل وچ ڈیرے ۔۔۔۔۔

سارے پاسے دیسَن ہنیرے ۔۔۔۔۔۔۔۔

دنیا وچھڑے نئی پر وار پیار وچھڑے ۔۔۔۔۔۔۔۔

کِسے دا یار نہ وچھڑے۔۔۔۔

آخر کار اسکی ہمت جواب دے گئی تھی وہ غصے سے اٹھا اور جنگل کے بیچ و بیچ کھڑا ہو کر اپنی تلوار نکال کر چلا کر کہا تھا ۔۔۔۔

” میری طلسم مجھے واپس کرو کال جنگل ورنہ تمہاری تباہی کا منظر پورا شہرِ سَحر دیکھے گا !!!!!۔۔۔۔۔” وہ غصے سے لال ہوچکا تھا ۔

” شہرِ سَحرکے شیر کو کال جنگل کے شیر سے کیا بیر ہوگیا شہزادے ۔۔۔۔۔۔۔۔” اپنے عقب سے آئی آواز پر سناش نے پلٹ کو اپنے پیچھے کھڑے ببر شیر کو دیکھا اور غصے سے اسکی جانب بڑھا اسکی گردن پر تلوار رکھ کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا ۔۔۔

“میری طلسم کہاں ہے سورانچھ ؟”

” مجھے نہیں معلوم شہزادے ۔۔۔۔۔۔۔”

تمہارا کال جنگل میری طلسم کو چھین رہا ہے اسے کہوں مجھے واپس دے ورنہ اچھا نہیں ہوگا ۔۔۔”

” یہ ناممکن ہے شہزادے جان دینا اور لینا خدا کے ہاتھ میں ہے اگر اسے کسی جانور نے کھالیا ہوا تو وہ واپس نہیں آسکتیں ۔۔۔۔”

” میں اس جنگل کے ایک ایک جانور کا پیٹ چیر ڈالوں ۔۔۔۔۔۔”

” اس سے فائدا کیا ہوگا سب جان سے جائے گے کیا طلسم واپس اجائے گی اور اگر ایسی بات ہے تو آج ایک شیر کو دوسرے شیر سے لڑنا ہوگا کیونکہ یہ میرا جنگل ہے ۔۔۔۔۔۔۔” سورانچھ نے بڑے تحمل سے جواب دیا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا سناش قدرت سے کتنی محبت کرتا تھا وہ ایسا کبھی نہیں کرے گا ۔۔۔۔

سناش نے تلوار گِرا دی وہ زارو قطار رونے لگا تھا ۔۔۔

” یہ شیر آج ڈھیر ہوگیا ہے سورانچھ میری طلسم چلی گئی یہ جنگل کھا گیا اسے میں کیسے واپس لاوں اسے میں زندہ کیسے رہوں گا اسکے بغیر ۔۔۔۔۔۔۔”

یار جِنا دے پون جودایاں ۔۔۔۔۔۔

لُٹ جاندے نے وانگ شدایاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رانجھے ورگے عشق دے روگی ۔۔۔۔۔۔۔۔

کن پڑ وا کے بن دے جوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لکھ واری آیے کرا دعا ۔۔۔۔

غم خوار نہ وچھڑے ۔۔۔۔۔۔

کِسے دا یار نہ وچھڑے۔۔۔۔۔۔

” وہ تمہارا نصیب نہیں تھی سناش وہ پاک روح تھی پاکیزہ احساس تھا محبت تھی اور یہ سب خدا کی صفات ہیں اسنے بلا لیا اسے اپنے پاس صبر کرو وقت کا پہیہ گھومنے دو ابھی تو ایک بہت بڑا راز کھلنا باقی ہے ابھی اُطم ٹوٹنا باقی ہے ۔۔۔۔۔آدم کا جنا ابھی باقی ہے۔۔۔۔۔

سناش نے حیرت سے اسے دیکھ کر کہا ۔۔۔۔

” آدمکا جنا ۔!!!!!۔۔۔۔۔”