Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam NovelR50472 Shehr-e-Sahar Episode 5
No Download Link
Rate this Novel
Shehr-e-Sahar Episode 5
Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam
بروز اتوار ۔۔۔۔۔
صبح 10:20…..
” ہاں علی تو کدھر ہے؟ میں بور ہو رہا ہوں اکیلا ….” وہ کسی ہوٹل میں کھڑا تھا اسنے علی ہو بلانے کے لیے فون ملایا ۔۔
” او بھئی تین دن بعد منگنی ہے میری حنا کو لیکر شاپنگ پر ایا ہوں ۔۔۔۔۔”
“یار شادی کے بعد اسی کے ساتھ رہنا ابھی تو میرے ساتھ رہ لے آزادی انجوئے کر لے ۔۔۔۔۔۔”
” ابے چُپ کر اتنی مشکل سے آئمہ بیگ والی بات سے ٹلی اسکے بدلے اسکے فیورٹ مال میں شاپنگ کروانے لایا ہوں اسے ۔۔۔۔۔”
” ابھی سے ڈرتا رہی کوئی فائدہ ہی نہیں تجھ سے بات کرنے کا ۔۔۔۔۔” اسنے اکتا کر فون بند کر دیا ۔۔۔۔”
” ایکسکیوزمی کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں ۔۔۔۔” پورا ہال گھوم کر جو سیٹ اسے خالی نظر وہ وہاں کھڑا وہاں بیٹھی کسی لڑکی سے پوچھ رہا تھا ۔
” بیٹھ جائیں میں کونسا ۔۔۔۔۔سحر کی ابھی ادھوری تھی جب دونوں نے بیک وقت کہا “تم پھر سے نہیں ۔۔۔۔”
” تم یہاں کیا کر رہی ہو ؟.سحر کو دیکھ کر اسکا موڈ کافی خراب ہوگیا تھا ۔
” ایکسکیوزمی میں یہاں پہلے سے ہوں تم میرا پیچھا کیوں کر رہے ہو ۔۔۔۔”
” اللہ تمہارے پیچھے آنے سے اچھاہے میں کسی جانور کے پیچھے چلا جاؤں ۔۔۔”
” تم نے مجھے جانور کہا ؟”وہ حیرت سے منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی ۔
” اب کسی کی سوچ پر تو پابندی نہیں لگا سکتے جو سمجھنا ہے سمجھ لو ۔۔۔۔۔”
” ایکسکیوزمی سر میم کوئی پرابلم ہے ۔۔۔۔۔۔” سٹاف میں سے کسی نے آکر پوچھا ۔
” جی پرابلم تو ہے آپ اس جیسے جاہلوں کو بھی یہاں اینڑی دیتے ہیں ۔۔۔۔۔”سحر کی بات پر اے۔ایس حیرت سے منہ کھولے اسے دیکھ رہا تھا ۔
ایکسکیوزمی مس زہر آئی مین سحر آپ جہاں ہو اپنی طریف شروع کر دیتی ہیں مانا آپ جاہل ہیں مگر ہر جگہ تھوڑی نہ بتاتے ہیں ۔۔۔۔۔”
” او اچھا میں جاہل اس دن جاہلوں والی حرکت کون کر رہا تھا سڑک پر اتنا گھٹیا پلان اففف تمیں تو بدلہ بھی نہیں لینا آتا مجھ سے سیکھو کیسے بدلہ لیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔”
” اچھا تم نے اس مکینک سے یہ نہیں کہا تھا کہ تم میری وائف ہو اور اس لیے تم نے ٹائرز بیچ دیے ۔۔۔۔۔” سحر نے نظروں کو رُخ پھیر لیا او تو یہ اس مکینک کے پاس بھی ہو آیا ہے ۔۔۔۔۔۔
” سر اگر کوئی ہیلپ چاہیے تو میں کیا کر سکتا ہوں ؟۔۔۔”
” دیکھ بھائی تو نہ مجھے کوئی اور ٹیبل دے دے اسکے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا ۔۔” اسنے کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا ۔
” سوری سر آج سنڈے ہیں تو پوار ہوٹل بھرا ہوا ہے فیملی ہال میں فنکشنز ہیں تو صرف یہی ٹیبل خالی ہے ۔تو آپ پلیز ان کے ساتھ بیٹھ جائیں ۔۔۔” ویٹر نے پشیمان سا منہ بنا کر کہا ۔
اسنے ایک نظر سحر کو دیکھا جو کاغذ پر کچھ بنا رہی تھی ۔اور پھر پورے ہال کو جو بھرا ہوا تھا ۔
” چلو بیٹھ جاتے ہیں اس شہر کے ساتھ ہی ویسے بھی ڈر چکی ہے مجھ سے ۔۔۔۔” اسکی بات پر سحر نے کوئی خاص ردِعمل نہیں دیا وہ کچھ پل حیران ہوا پھر بیٹھ گیا ۔
” تو کیالیں گے آپ ؟..” ویٹر نے دونوں کو مخاطب کیا
” میرے لیے چائینیز نوڈلز اور رشین سلاد ۔۔۔۔پہلا آرڈر اے۔ایس نے دیا ۔
” میرے لیے ریڈ انار جوس لے آئیے۔۔۔۔”ویٹر دونوں کا آرڈر لے کر ابھی کچھ دور ہی گیا تھا جب پیچھے سے کسی نے آواز دی ۔
” ویٹر!!!” وہ اس ٹیبل کی جانب گیا جہاں دو تین کنوارے لڑکے بیٹھے تھے ۔
” اوئے سن یہاں کیا صرف سافٹ ڈرنک ہی ملتی ہے یا کسی اور چیز کا بھی انتظام ہے مطلب تو سمجھ رہا ہے نہ ۔۔۔” ان میں سے ایک لڑکے نے کہا ۔
” ارے!! آہستہ بولو کسی نے سن لیا تو ہاں وائن ہے ۔۔۔۔”
” تو لے آ صرف میرے لیے یہ نہیں پیتا ۔۔۔۔۔”اسکا آرڈر لے چلا گیا ۔
” ٹیبل نمبر 4 پر نوڈلز اور رشین سلاد اور انار کا جوس دینا ہے اور ٹیبل نمبر 6 پر ایک گلاس وائن اور مینگو جوس ۔۔۔۔۔”
آرڈر سرو کردیا گیا تھا مگر ایک گڑبڑ ہوگئی وائن اور انار جوس کا رنگ ایک جیسا ہونے کی وجہ سے گلاس بدل گئے تھے سحر کے پاس جوس نہیں وائن چلی گئی تھی ۔اسنے پہلا سِپ لیا کڑوا تھا مگر وہ نظر انداز کر کے پی گئی ۔اے ۔ایس اپنا کھانا کھانے میں لگا تھا جب اسنے نظر اٹھا کر سحر کو دیکھا جو اسے بڑی عجیب نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔
” کیا ہے ؟……”
زرا سا جھوم لوں میں ۔۔۔۔۔۔
واٹ !!!! اسکی بات سن کر اسکو حیرت کا جھٹکا لگا ۔
زرا گھوم لوں میں ۔۔۔۔۔۔
” مس زہر آئی مین سحر آر یو او کے؟…..”
آ تجھے چوم لوں میں ۔۔۔۔۔۔
” ابے پاگل تو نہیں ہوگئی تم ۔۔۔۔۔” اسکے جواب میں وہ کرسی پر چڑھ گئی۔
میں چلی بن کے ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔
ربا میرے مینوں بچا۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی حرکت نے اے۔ایس کے حواس گُم کردیے تھے سارے لوگ اسے دیکھ رہے تھے ۔اسنے گلاس کو سمل کیا ۔۔۔
” او شِٹ !!!!!! یہ تو۔گئی۔۔۔۔۔” اسنے ایک نظر گلاس کو دیکھا پھر اسے جو کرسی پر چڑھی اُڑ رہی تھی ۔
” ویٹر !!!” اسنے غصے سے پکارہ ۔۔۔۔
یس سر!…
” یہاں یہ بھی سرو ہوتی ہے قانونی طریقے سے کرتے ہو یا غیر قانونی تمہاری ایک غلطی نتیجہ دیکھو ۔۔۔۔”
مگر ویٹر کے جواب دینے سے پہلے وہی لڑکا آگیا ۔
” سوری برو مجھے لگتا ہے گلاس بدل گیا ہے جوس میرے پاس آگیا اور وائن میم کے پاس سوری ۔۔۔۔۔”
” تمہاری سوری کا جواب تو میں بعد میں دوں گا مگر ملحال میں اسے سنبھال لوں۔۔۔۔”اسنے سحر کا ہاتھ۔ پکڑ کر کھینچا ۔
” چھوڑو مجھے اُڑنا ہے ۔۔۔۔” وہ اسے سے اپنا ہاتھ چھڑا رہی تھی ۔
” سحر چلو یہاں سے پلیز ۔۔۔۔”
” نہیں مجھے اڑنا ہے تم اڑاؤ گے مجھے ؟؟؟؟
“ہاں اڑاؤ گا جہاز میں اڑاؤ گا ابھی چلو ۔۔۔۔۔۔ “
“نہیں جہاز میں نہیں وہ رکتا نہیں ہے مجھے سبزی لینی ہے نہیں لے کر گئے تو وہ کرنانی چڑیل چیخے گی ۔۔۔”اسکا معصوم سا چہرا دیکھ کر اے ۔ایس کا دل دھڑک اٹھا تھا ۔
” تو اڑتے ہوئے سبزی کیسے لو گی ؟؟؟”
” پتا نہیں ۔۔۔۔” اسنے افسردہ سا چہرا بنا کر کہا ۔
“تو اک کام کرتے ہیں پیدل چلتے ہیں تم سبزی بھی لے لینا اور وہ۔۔۔وہ پتا نہیں کونسی چڑیل چیخے گی بھی نہیں تو اڑنا کینسل ہی کر دیتے ہیں ۔”
” ہاں صحیی ہے چلو ۔۔۔۔۔” وہ اس سے پہلے اتر کر چل دی ۔اے ایس نے سکھ کا سانس لیا اسکی سپیڈ اتنی تھی کہ اے ۔ایس کے بل ہے کرتے کرتے وہ پتہ نہیں کہاں چلی گئی ۔وہ اسے ڈھونڈ رہا تھا جب اسکی نظر سامنے پڑی وہاں کسی کا جنم دن منایا جارہا اور وہ وہیں جنم دن والے بچے کے ساتھ کھڑی تھی گاتی ہوئی ۔۔
” ہیپی برتھ ڈے ٹو یو کہ دیا ہے جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
” تم اور بھی بڈھے ہوگئے ۔۔۔” یہ گاتے گاتے اسنے کیک اٹھا کر بچے کے منہ پر دے مارا سارا کیک خراب کر دیا اے ایس نے بے ساختہ کہا ” او تیری !!”
وہاں موجود تمام لوگ سحر کو گھور گھور کر دیکھ رہے تھے ۔
“مم۔۔معذرت دراصل اسکی طبعیت خراب ہے معاف کیجیے گا اور یہ لیں پیسے اور کیک لےلیجیے گا سوری اگین ۔۔۔۔۔” وہ ابھی یہ مسئلہ ابھی حل کر ہی رہا تھا کہ وہ پھر کہیں چلی گئی ۔وہ اسے ڈھونڈتا ہوا باہر آیا جہاں وہ اسکی ہی گاڑی کے بونٹ پر بیٹھی تھی
” اسے کیا میری گاڑی کی خوشبو آجاتی ہے؟؟؟؟؟” اسنے فون نکال اسکی دو تین تصویریں بنائیں ویڈیو بنائی اور بھگتا ہوا اس تک پہنچا ۔۔
” آج میں اوپر ۔۔۔۔۔۔۔
آسمان نیچے ۔۔۔۔۔۔
آج میں آگے ۔۔۔۔
زمانہ ہے پیچھے ۔۔۔۔
ٹیل می او خدا ۔۔۔۔
اب میں کیا کروں ۔۔۔
چلو آگے کے پیچھے چلو ۔۔۔۔۔۔”
گاتی گاتی وہ بونٹ سے کھسکتی جارہی تھی وہ گرنے والی تھی جب اسنے آکر سنبھالا
” سحر تمہارا سکوٹر کدھر ہے ؟……”
کیا ؟؟؟.اسنے اسکے قریب کان کر کے پوچھا
” سکوٹر کدھر ہے ۔۔۔” وہ ہاتھوں اور پیروں کے سکوٹر چلانے کے انداز میں گھما رہاتھا ۔” سکوٹر کدھر ہے ؟…”
” سکوٹر !!! اسنے رونا شروع کردیا ۔۔” ہائے میرا سکوٹر اسکا تو اس ساون کے اندھے نے پوسٹ مارٹم کردیا وہ میرا نہیں۔ تھا حنا کا تھا ۔۔۔۔”
” حنا ۔۔۔۔۔کون حنا ؟…” اسنے سوچا کے جیسا وہ سوچ رہا ہے ویسا تو نہیں ۔
حنا نہ میری ۔۔۔۔۔حنا نہ میری ۔۔۔۔۔وہ سوچنے لگی ۔۔۔۔” حنا میری کیا لگتی ہے ۔۔۔ وہ الٹا اسے سے پوچھنے لگی ۔اے ۔ایس نے حیرت سے ایک نظر اسے دیکھا
” تمہارا سکوٹر نہیں ہے نہ چلو میں تمہیں گھر چھوڑ دوں۔۔۔۔۔” وہ گاڑی کا دروازا کھولے کھڑا تھا ۔
” نہیں میں نہیں جاؤں گی مجھے یہاں ہی بیٹھنا ہے ۔۔۔۔۔۔” مگر وقت ضائع کرنا تو اسے ایس کی عادت تھی ہی نہیں تھے اسکے کچھ بھی کہنے سے پہلے اسنے اسے اٹھا کر گاڑی میں پٹخااور دروازہ بند کردیا مگر اسنے ونڈو سے سر باہر نکال لیا ۔
” اپنا کدو اندر کر ۔۔۔۔۔۔” اسکے سر اندر کرنے کر بعد وہ اپنی سیٹ پر آکر بیٹھ گیا ۔
” چلو چلیں متوا ۔۔۔۔۔۔۔
ان ٹیڑھی میڑھی راہوں پر۔۔۔۔۔
نیند سے جاگے کبھی ہم کھو جائے ۔۔۔۔۔”
اسکا گانا سن کر اے ایس حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا
” اسنے کیا پوری پلے لِسٹ تیار کی ہے کیا موقع پر چوکا گانا گاتی ہے ۔۔۔۔۔”
” آتے جاتے خوبصورت آوارہ ۔۔۔۔۔۔۔
سڑکوں پر ۔۔۔
کبھی کبھی اتفاق سے ۔۔۔
کتنے حسین لوگ مل جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
اس سے آگے وہ گانا بھول گئی تھی جسے اے ایس نے مکمل کیا تھا
” ان میں سے کچھ لوگ بھول جاتے ہیں ۔۔۔۔
کچھ یاد رہ جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔”
اسکے سامنے اسکی اور سحر کی پہلی ملاقات سے لیکر اب تک کا ہر منظر چل رہا تھا اسنے سر جھٹک گاڑی چلانا شروع کی ۔
وہ کچھ دور ہی پہنچے تھے جب وہ زور سے چیخی
” روکو !!!!!!” ۔۔۔۔
کیا ہوا تم ٹھیک ہو؟……وہ پریشان ہوگیا ۔
” وہ دیکھو سامنے کیا ہے ۔۔۔۔۔” اسنے بچوں کی سی خوشی سے کہا اے ایس نے اسکے ہاتھ کے تعاقب میں دیکھا
” فن لینڈ !!!!” اسنے حیرت سے کہا ۔
” مجھے جانا ہے وہاں ۔۔۔۔۔۔”
” نہیں وہاں نہیں جانا گھر تمہاری طبعیت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔” وہ گاڑی سے اترنے والی تھی جس اسنے ہاتھ سے پکڑ کر کھینچا ۔
” مجھے جانا ہے پلیز پلیز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ منِنتیں کرنے لگی اے ایس نے فون نکال کر اسکی فوٹو کھینچی ۔۔۔” اب بتاؤ گا تمہیں مس ڈاؤن ٹو ارتھ کیسے میری ریکوسٹ کر رہی تھی ۔
وہ اسے لیکر اندر آگیا سنڈے ہونے کی وجہ سے وہاں معمول سے زیادہ رش تھا اسنے چارو طرف نظر دوڑا کر دیکھا ڈریگن سکائی ویل بمپر کار آکٹوپس سوینگر سب ہی خطرناک رائڈ تھیں ۔مجھے اس پر بیٹھنا ہے وہ کسی رائڈ کی طرف اشارہ کر کے کہ رہی تھی ۔اے ایس نے اسکے ہاتھ کے تعاقب میں دیکھا وہ ڈریگن کی طرف اشارہ کررہی تھی
” نہیں تم اس پر نہیں بیٹھ سکتی اپنی حالت دیکھی ہے تم نے ۔۔۔۔۔”
” مجھے نہیں پتا مجھے اسی پر بیٹھنا ہے ۔۔۔” وہ آلتی پالتی مار کر وہیں زمین پر بیٹھ گئی ۔اسنے ہاتھ سے پکڑ کر اسے اٹھایا مگر وہ نہیں اٹھی سب لوگ اسکی طرف متوجہ ہوگئے ۔اخرکار وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسے سمجھانے لگا ۔” دیکھو سحر تمہاری طبعیت ٹھیک نہیں ہے وہ خطرناک ہے تم گِر گئی تمہیں چوٹ لگ جائے گی ۔۔۔۔”
اب تک شاید پہلی بار اے ایس نے کسی سے اتنی نرمی سے بات کی ہو ۔۔۔۔
” تو تم سنبھال لینا مجھے تم ہو نہ میرے ساتھ ۔” نشے کی حالت میں بھی وہ کتنی بڑی بات کر گئی تھی اسکا جواب وہ کیا دیتا یہ تو مان تھا جِسے وہ توڑ نہیں سکا ۔
” اچھا اٹھو ٹکٹ لیتے ہیں ۔۔” ٹکٹ لے کر وہ ڈریگن میں بیٹھ گئے ۔شروع شروع میں تو وہ انجوئے کرتی رہی مگر جیسے ہی سپیڈ تیز ہوئی اسنے منہ اے ایس کے کوٹ میں چھپا لیا وہ اسکی اس حرکت پر حیران رہ گیا ۔۔
” آئی مجھے چھپا لو میں نے گر جانا ہے ۔۔”
اے ایس نے بڑے پیار سے اسے خود سے الگ کیا
” کیوں اب کیوں چھپنا ہے تمہیں اب دیکھو ڈریگن وہ دیکھو میل ڈریگن فی میل ڈریگن آنے چھوٹے چھوٹے بچے ۔۔۔” وہ بھی ہوا میں بونگیاں چھوڑ رہا تھا ۔
” ہاں دِکھ رہے ہیں ۔۔۔۔” اسنے حیرت سے سحر کو دیکھا ۔۔” مطلب نشے میں ٹُون بندے کو جو کہ دو وہ مان لے گا ۔۔”
” ڈریگن کے بچے پیدا ہوتے ہی اُڑنے لگتے ہیں ؟…” معصوم سا سوال ۔
” مجھے کیا پتا میں کیا ان کی ڈیلیوری کروا کر آیا تھا۔۔اسنے زیرِلب کہا ” بولو نہ “وہ اسکا کندھا ہلا ہلا کر پوچھ رہی تھی ۔” ہاں پیدا ہوتے ہی اُڑنے لگ جاتے ہیں ۔۔۔”اسکی بات سن کر وہ کچھ دیر سوچ میں پڑگئی ۔” تو انسان کے بچے پیدا ہوتے ہی چلنے کیوں نہیں لگ جاتے ؟….” اسکا سوال سن کر اے ایس نے اسکا منہ پھر اپنے کوٹ میں چھپا دیا ۔” ادھر آؤ میں تمہیں چھپا ہی لوں کہیں ڈریگن تمہیں ہی نہ لیجائے ۔”وہ اسکے کوٹ میں منہ چھپائے بیٹھی تھی اے ایس نے فون نکال کر اسکی اور اپنی سیلفی لی ۔” ہائے مس ڈاؤن ٹو ارتھ کل تمہاری شکل دیکھنے والی ہوگی ۔رائڈ ختم ہونے کے بعد وہ اسے واپس لے آیا ۔
” اب گھر چلو ۔۔۔” وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچ رہا تھا مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی ۔
” میں ہلے ہور وی چوٹے لینے آ۔۔۔۔۔۔” ششدھ پنجابی میں۔ کہا گیا تھا۔
“چوٹیاں دے چاہ چ تو سَٹ پِٹ لوا لینی آ۔۔۔۔۔۔” وہ درشتی سے بولا جس پر وہ منہ بسور کر کھڑی ہوگئی ۔
” اب چلیں ؟….” لیکن جواب نفی میں آیا تھا
” کیوں ؟”
” میں ہلے ہور وی چوٹے لینے آ۔۔۔۔۔۔” وہ سر جھکائے اداس سے انداز میں بولی جس پر اے ایس کی ہنسی چھوٹ گئی
” چل یار دوا واں تینوں ہور چوٹے ۔۔۔۔۔” وہ اسکا ہاتھ پکڑے سکائی ویل کی طرف چلا گیا ۔سکائی ویل چل پڑی تھی وہ دونوں آہستہ آہستہ بلندی پر جارہے تھے جہاں اندر بیٹھے سحر سے ایس کا سر کھا رہی تھی ۔
” تارے بے شمار کیوں ہوتے ہیں؟ ۔سانپ کی ٹانگیں کیوں نہیں ہوتی ؟زرافہ کی گردن اتنی لمبی کیوں ہوتی ہے ؟صحرا میں پانی کیوں میں ہوتا ؟ ہم پانی پر چل کیوں نہیں سکتے ؟ جانور بول کیوں نہیں سکتے؟” اس طرح کے عجیب و غریب سوالات کیے جارہے تھے جس پر اے ایس سر پکڑ کر بیٹھا تھا
” ادھر آؤ تم ڈر نہیں لگ رہا میں تمہیں چھپا لوں …..”
” نہیں پہلے تم مجھے بتاؤ ….”
” مجھے نہیں پتا خدا کے لیے چُپ ہوجا ۔۔۔۔” وہ اسکے سامنے ہاتھ جوڑ رہا تھا ۔
” ہووووووو !!!!!! ” سحر نے منہ پر ہاتھ رکھ کر کہا” چو چو تمہیں نہیں پتا ہووووووو!!!!!”
” اچھا تو تمہں بڑا پتا ہے ؟۔۔۔”
“مجھے پتا ہے ” سحر نے اپنے آگے آئے ہوئے بال پیچھے کر کے کہا ۔
” تو بتاؤ ….”
“کیا بتاؤ؟ ۔۔۔۔”
” یہی جو تم مجھ سے پوچھ رہی تھی ۔۔۔”
“کیا پوچھ رہی تھی ؟….”
” یہی کہ تارے بے شمار کیوں ہوتے ہیں ؟ سانپ کی ٹانگیں کیوں نہیں ہوتی ؟صحرا میں پانی کیوں میں ہوتا ؟ فلاں فلاں ۔۔۔۔۔۔”
” اوئے تم پاگل کیسے عجیب سوال کر رہے ہو اللہ میں کہاں پھنس گئی ۔۔۔” اسکے جواب نے اے ایس کے حواس گُم کر دیے ۔مگر وہ خاموش رہا ۔۔۔”
سکائی ویل کے بعد وہ اسے ٹرین پر بیٹھا کر گیا تھا اور خود کچھ کھانے کے لیے لینے گیا مگر ٹرین چل پڑی وہ اسکے ڈبےکی طرف بھاگا مگر ٹرین کی سپیڈ کافی تیز تھی جب وہ ٹرین کے دروازے میں کھڑی اسے بھاگتا دیکھ کر گا رہی تھی ۔
” کوئی حسینہ جب روٹھ جاتی ہے تو ۔۔۔۔۔
اور بھی حسین ہوجاتی ہے ۔۔۔۔۔
سٹیشن سے گاڑی جب چھوٹ جاتی ہے تو ۔۔۔
” ایک دو تین ہوجاتئ ہے ۔۔۔۔۔”
” سحر اندر بیٹھ جاؤ !!! وہ اسے آوازیں دے رہا ۔وہ فن لینڈ کے بیچ و بیچ کھڑا تھا ٹرین اسکے گرد پورے فن لینڈ کر چکر لگا رہی تھی جب اسنے لپک کر اسکے ہینڈل کو پکڑا اور اس پر چڑھ گیا ۔اتے ہی اسنے سحر کو گھور کر دیکھا جو اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی ۔
” اوئے تم راج ہو ؟….”
” کون ہوں ؟…”
” راج ۔۔۔دل واے دلہنیا لے جائیں گے میں وہ بھی اپنی سمرن کے لیے ایسے ہی ٹرین پکڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔”
” sehar will you please just shut up”
وہ اکتایا سا اسے لیکر کر بیٹھ گیا ٹرین کا بعد وہ اسے کھینچتا ہوا باہر لایا ۔
” اب اپنی زبان بند رکھنا تمہارا گھر کہاں ہے؟ ۔۔۔۔۔”
” وہاں ۔۔۔۔” اسنے آ سمان کی طرف اشارہ کر کے کہا جہاں مدھم سا چاند چمک رہا تھا ۔
” چاند پر !!!!!” اسنے حیرت سے اسکی جانب دیکھا ۔
” ہممممم!!!!!!”
” اے ایس کس سے پوچھ رہا ہے .” اسنے دل میں سوچا وہ اسے لیکر گاڑی میں بیٹھ گیا ۔سامان ہوٹل سے وہ اٹھا لایا تھا جس میں اسکی سی وی پڑی تھی وہاں سے اسنے ایڈریس دیکھا ۔ابھی وہ کچھ دیر ہی گئے ہوں گے جب گاڑی خودبخود رُک گئی ۔ وہ گاڑی دیکھنے کے لیے باہر آیا جب وہ چپکے سے نکل گئی گاڑی کا بونٹ بند کر نے کے بعد اسنے اندر دیکھا وہ وہاں نہیں تھی ۔
” یا اللہ اب یہ بلا کہاں چلی گئی ؟؟؟؟” وہ اسے دیتا باغ میں چلا گیا جہاں سامنے کا منظر دیکھ کر اسکی آنکھیں ساکن ہوگئی۔
تتلیاں جگنو سب اسکے اردگرد موجود تھے ۔ان سب کے بیچ وہ گھوم رہی تھی لانگ وائیٹ میکسی کھِلے پھول کی طرح لگ رہی تھی آنکھیں جھپکنا بھول گیئیں تھیں وہ اسے دیکھ رہا تھا جب وہ اسکے قریب آکر رُک گئی اس سے پہلے وہ کچھ کہتا سحر نے ایک جھٹکے ہاتھ اسکے کندھے پر رکھا اور دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں انگلیاں پھنسا کر اوپر اٹھایا ۔وہ مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی اے ایس کا ہاتھ بے ساختہ اسکی کمر پر چلا گیا قدم خودبخود تھِرکنے لگے رقص شروع ہوگیا ۔
” یہ راتیں یہ موسم ندی کا کنارہ ۔۔۔۔۔۔۔
یہ چنچل ہوا ۔۔۔۔۔۔
کہا ہم دو دلوں نے کے مل کر کبھی ہم ۔۔۔۔۔۔
نہ ہونگے جدا ۔۔۔۔۔۔
یہ راتیں یہ موسم ندی کا کنارہ ۔۔۔
یہ چنچل ہوا۔۔۔۔۔۔”
وہ دونوں عشق میں محوِ رقص تھے کبھی قریب جاتے کبھی دور کبھی پھر پلٹ کر قریب آتے اٹھکیلیاں کرتے قدم قدموں کے ساتھ چلرہے تھے ہاتھ ہوا میں خود راستہ بنا رہے تھے ۔انکے عشق کا رنگ ہر طرف پھیلا تھا پھول جھوم رہے تھے پرندوں نے اپنی نیند قربان کر دی تھی وہ اپنے گھونسلوں میں ان دو دِلوں کو دیکھ رہے تھے جو بہت جلد قید ہونے والے ۔۔۔۔۔”
” یہ کیا بات ہے آج کی چاندنی میں ۔۔۔۔۔
کہ۔ہم کھو گئے پیار کی روغنی میں ۔۔۔۔۔۔
یہ موسم جواں ہو ۔۔۔۔۔
کُھلا آسماں ہو ۔۔۔۔۔
لو آنے لگا ۔۔زندگی اک مزا۔۔۔۔۔
یہ راتیں یہ موسم ندی کا کنارہ۔۔۔یہ چنچل ہوا ۔۔
یہاں صرف یہی دونوں اپنی مستی میں نہیں تھے دور کہیں شہرِسحر کا ببر شیر ایک خوبصورت سارس بنے اپنی طلسم کے لیے جھوم رہا تھا وہاں بھی سارے جگنو تتلیاں پرندے چڑیاں اسے دیکھنے آئی تھیں وہ جیسے ہاتھ گھماتا چڑیوں کی قطار چوں چوں کرتی اسکے پیچھے گھوم جاتی ہونٹ گول کر کے سیٹی بجاتا تو سُر بکھر جاتے سارے جگنو ٹھہر کر اسے سنتے وہ جھوم جھوم کر طلسم سے ایک وعدہ مانگ رہا تھا ایک وعدہ کر رہا تھا ۔
” قسم ہے تمہیں تم اگر مجھ سے روٹھے ۔۔۔۔
رہے ساتھ جب تک یہ بندھن نہ ٹوٹے ۔۔۔۔۔
تمہیں دل دیاہے ۔۔۔یہ وعدہ کیا ہے ۔۔۔۔۔
صنم میں تمہارا رہوں گا صدا ۔۔۔۔
یہ راتیں یہ موسم ندی کا کنارہ۔۔۔۔
یہ چنچل ہوا ۔۔۔۔۔
یہ تینوں اپنی مستی میں اس قدر چور تھا کہ انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ محبت کی مثلث کی لکیریں بڑھتی جارہی ہیں ۔۔
