416.8K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shehr-e-Sahar Episode 31

Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam

میری محبت ہے ” اور وہ سانس روکے اسے سن رہا تھا اسکے ہاتھ سے تلوار گر گئی تھی ۔اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کہے کیا بولے اسے تو ابھی تک طلسم کے کہے الفاظ پر یقین نہیں آرہا تھا ۔ ” آپ مجھ سے ہمیشہ پوچھتے تھے طلسم آپ اتنی بدل کیوں گئی تو سنیے آج آپکو سب سنا پڑے گا ۔”

” نہیں طلسم ابھی نہیں !” اسیر نے اسے روکا ۔” نہیں اسیر آج انھیں سب پتا لگنے دیں ایک نہ ایک دن تو سب کچھ پتا لگنا ہی آج تو خدا وسیلہ بنا دیا ۔” وہ غصے سے لال ہوگئی تھی ۔” آپ کے عزیز تایا جان اور میرے والد کے قاتل اور کوئی نہیں آپ کے ابا جان ہیں !” اس بات پر اسنے حیرت سے اسے دیکھا طلسم آپ جانتی ہیں آپ کیا کہہ رہی ہیں ؟”

” ہم اپنے پورے ہوش و حواس میں آپسے یہ کہہ رہے ہیں کہ سناش آبا جان کا قتل تایا جان نے کیا ہے اور صرف ابا جان کا نہیں آدم اور شہوار کو بھی انھوں نے مارا ہے “

” طلسم اپنی بکواس بند کریں آپ اس غلام کی غلطی چھپانے کے لیے بے تقی باتیں بول رہی ہیں .”

” یہ غلام نہیں ہے کہا ہم نے یہ غلام نہیں ہے شوہر ہے میرا اور ۔۔۔اور آپ جانتے ہیں یہ کون ہے یہ اس کا بیٹا ہے جس نے اپنی غلامی کو حلال کرنے کے لیے وزیر کا عہدہ ٹھکرا دیا تھا ۔یہ اسکا بیٹا ہے جس کی تلوار میان سے نکلتی تھی تو صیاد بھی کانپنے لگتا تھا یہ اسکا بیٹا جو جس پر نظر ڈال لیتا تھا وہ چیز اسکا حکم ماننے لگتی تھی ۔یہ اسکا بیٹا جس کا ہاتھ چومتے لوگ تھکتے نہیں تھے یہ اسکا بیٹا جسے شہر سحر اپنا باپ کہتا تھا یہ اسیر صرف اسیر نہیں اسیر ابن آدم ہے آدم کی بیٹا آدم کی اولاد آدم کا جنا ہے یہ !” وہ سر جھکائے اپنے باپ کی تاریخ سن رہا تھا اور سناش کے کانوں میں سورانچھ کی آواز گونج رہی تھی ۔” وقت کا پہیہ گھومنے دو سناش ابھی تو بہت بڑا راز کھلنا باقی ہے اطم ٹوٹنا باقی آدم کا جنا ابھی باقی ہے !”طلسم کے منہ سے نکلتے ہر لفظ کے ساتھ اسکا سانس لینا مشکل ہوتا جارہا تھا ۔

“ صیاد صرف میرے والد کا نہیں اسکے باپ کا بھی قاتل ہے اس سلطنت کو پانے کےلیے اس پھول کو پانے کے لیے صیاد نے سب ختم کردیا سب کا سب ختم کردیا ۔”

“ طلسم آپ کہہ رہی ہیں یہ آدم یعنی شہر سحر کے مشہور جادوگر میرے استاد آدم کا بیٹا ہے یہ یہ دھوکہ دے رہا ہے آپکو اس رات آدم کا پورا گھر جل راکھ ہوگیا تھا کچھ نہیں بچا تھا آدم اسکی بیوی اسکا بچہ سب مر گئے تھے ۔”

“ اور وہ آگ کیا لگتا ہے وہ خودبخود لگی تھی وہ آگ لگوائی تھی اچھا آپکو میرے بات پر یقین نہیں ہے نہ اس پر تو جو ان سب عینی شاہد ہے غفران ان پانچ جادوگروں میں سے ایک غفران زندہ ہے آپ چلیں میرے میرے ساتھ ۔” وہ اسکا ہاتھ پکڑے محل سے باہر لے گئی اسیر چپ چاپ انکے پیچھے چلا گیا ۔کچھ بعد وہ خاکروبوں کے بستی میں کھڑے تھے جہاں سناش پہلی بار آیا تھا غفران گھر پر ہی تھا اسنے دروازہ کھولا تو سامنے اسیر اور طلسم کھڑے تھے اسیر شہزادی آپ اس وقت یہاں وہ بھی ایک ساتھ ؟”

“ غفران آج تم سے کوئی بہت خاص ملنے آیا ہے !” اسی کے ساتھ سناش دروازے کی اوٹ سے اسکے سامنے آیا جسے دیکھ کر اسکی گردن جھک گئی ” سلام شہزادے آپ یہاں !” ساکشی حیرت سے اسکو دیکھ رہا تھا جب یہ سارا واقعہ ہوا تھا تب اسکی عمر پانچ سال تھی یعنی وہ اسیر سے پانچ سال بڑا تھا ۔اسلیے غفران کو پہچاننا ناممکن تھا اسنے تو اپنا حلیہ بھی بدل لیا تھا۔

“ غفران تمہیں سناش کو سب بتانا ہوگا کہ اس وقت کیا ہوا تھا جب آدم نے شہر سحر کا سارا جادو اکٹھا کیا تھا کیوں اسی رات زولفشان کی موت ہوگئی آدم کا گھر جل گیا شہوار کا قتل ہوگیا تھا ۔” طلسم کی بات سن کر غفران نے ایک گہرا سانس لیا اسیر نے بھی اثبات میں سر ہلا دیا ایک ایک لفظ حرف بہ حرف اس رات کا غفران کی منہ زبانی یاد تھا اسنے سب کچھ اسے بتا دیا کے اس رات زولفشان کے کھانے میں زہر صیاد نے ڈلوایا تھا آدم کو سب پتا چل گیا تھا صیاد نے وہ پھول حاصل کرنے کے لیے زولفشان کو مارا اس پھول کو بچانے کے لیے آدم نے اسے چھپا دیا اور اسکے بعد آدم نے اس پھول کو اس طریقے سے چھپایا کے سوائے اسکے بیٹے کے اسے کوئی کھوج نہ سکے لیکن صیاد کو یہ بات تب پتا چلی جب وہ اسکے گھر کو جلا چکا تھا جس میں اسکا بیٹا بھی مر لیکن اس رات پھول چھپانے سے پہلے آدم نے اپنی دوسری اولاد اسکا جڑواں دوسرا بیٹا یعنی اسیر کو چھپانے کے لیے چاند سے دوسری دنیا کا دروازہ کھولا تھا ۔لیکن یہ بات صیاد کو آدم نے نہیں بتائی تھی اسکے بعد صیاد نے آدم اور شہوار کو مار دیا مگر آدم نے وہ پھول کی جگہ ایک پہلی کی صورت میں مجھے دی تھی صیاد کے بڑھتے ظلم اور انکے باپ کے قتل کا علم شہزادی طلسم کو ہوگیا تھا انھوں نے ہمیں غصے ۔یں صیاد کے خلاف یہ کہتے سن لیا تھا کہ جادوگروں کے قتل ہرجانہ تمہیں بھرنا پڑے گا اور پھر ہمیں انھیں سب بتانا پڑا انھیں بھی بہت مشکل سے یقین آیا تھا کہ انکے باپ کو انکے سگے چچا نے مارا ہے پھر شہر سحر پر اس کے ظلم دیکھ کر وہ میرے پاس آئیں مدد کے لیے اور پھر ہم نے انھیں پھول کا بتایا کہ اس پھول کو حاصل کرنے ہمیں ادم کی اولاد چاہیے اور پھر جب طلسم۔کی بگھی کھائی میں گری جو شمس نے صیاد کے کہنے پر گرائی تھی کیونکہ وہ طلسم کے رویے سے جان گئے تھے انہیں سب پتا چل گیا ہے اسے بھی مروا دینا چاہتے تھے طلسم پر وہ پانچ قتلانے حملے بھی بھی صیاد نے کروائی تھی ۔جب طلسم کی بگھی کھائی میں گر گئی تھی شہر سحر کی نظر میں شہزادی طلسم مر چکی تھیں تو وہ شہر سحر سے غائب ہوکر چاند کے زریعے دوسری دنیا میں گئی تھیں اسیر ابن آدم کو لانے ۔”

” آ ٹھ مہینے لگے مجھے اسے دھوڈنتے ڈھونڈتے لگ گئے اور پھر جب یہ۔ملا تو اس مقام پر کے مجھے اسے سمجھانا مشکل ہو جاتا اسلیے مجھے اسکی نظروں میں آنا پڑا اسکے قریب رہنا پڑا اور پھر پتہ نہیں کب مجھے اس سے محبت ہوگئی اور میں نے اس دنیا میں اس سے نکاح کرلیا ۔” آ گے کی یہ داستان طلام۔نے سنائی تھی جس پر سناش کے قدم لڑکھڑا گئے تھے ۔

” اور پھر طلسم نے مجھے سب کچھ بتایا کہ مجھے سالوں صدیوں سے قید شہر سحر کے بے قصور اسیروں کی نجات کے لیے آدم نے چنا تھا اور میری پہچان بابا لکھ گئے تھے کہ میں اسیر طلسم ہوں گا مگر میری یہ غلامی میری کمزوری نہیں میرا سب سے بڑا ہتھیار بن گئی میں شہر سحر آیا جان بوجھ کو صیاد کے محل کا اسیر بنا اور پھر اسیر طلسم اور وہاں سے میں نے اپنا کھیل شروع کیا غلاموں کے لیے وہ تمام چیزیں کروائی آپکے ہاتھوں جو انکے لیے کروائی جاسکتی تھیں کیونکہ صیاد آپکو کو کبھی بھی ان پر توجہ نہ دینے دیتا میں نے آپکی توجہ انکی طرف کی اور پھر زبیر اور شہباز کا سچ آپ کے سامنے لانے کے لیے شہباز سے وہ ہیرا چوری کروایا تاکہ آپ شہر سحر کو سنبھالنے اور آپکو پتا چلا کے کیسے شہباز زبیر اور صیادنے مل کر شہر سحر کو لوٹا اور وہ کتنا لوٹ چلیں اس بات کا اندازہ آپ کو بھی ان سب میں ملوث تھا صیاد اسے سب علم تھا اور آج دیکھں اپنے والد کے بنائے شہر سحر میں اور آپکے سدھارے شہر سحر میں کتنا فرق ہے جو آپ نے کیا وہ صیاد بھی کرسکتا تھا مگر اسنے نہیں کیا ۔” وہ دم سادھے سن رہا تھا کچھ بھی بول نہیں رہا تھا ۔ طلسم اسکے پاس آئی ” سناش کچھ بولیں کچھ تو بولیں ؟”

کیا بولے ہم بچپن سے ہمیں لگتا تھا ہم بہت اہم سب کے لیے سب ہم سے محبت کرتے ہیں خوش قسمت ترین انسان ہے جس کے والدین تایا جان تائی ہم اس سے اتنی محبت کرتے ہیں طلسم جیسی انسان ہماری ہمسفر ہوگی شہر سحر کے باشندے ہم سے اتنی محبت کرتے ہیں مگر یہ سب تو ہمارا استعمال کر رہے تھے ۔ابا ہمارے ہنر کا استعمال اپنا غرور بنانے کے لیے کر رہے تھے آپ ہماری مخلصی کا فائدہ ہر مصیبت سے بچنے کے لیے کرتی رہی اور یہ ۔۔۔اسنے اسیر کی طرف انگلی کرکے کہا “یہ نجات دہندہ ہمیں مہرا بنا کر استعمال کرگیا ان سب میں سناش تو کہیں کھو گیا آپ کچھ غلط نہیں کیا آپ نے تو ہمارا بھرم توڑ دیا کچھ بھی نہیں بچا آج سب ختم ہوگیا ہم تو ہمیشہ سے خالی ہاتھ اور ہمیں لگتا تھا کہ ہم اتنے سارے لوگوں کی محبتیں سمیٹ کر چل رہے ہیں ۔” پہلی بار وہ طلسم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال۔کر بول رہا تھا ۔

” سناش ایسا کچھ نہیں سب آپ سے محبت کرتے ہیں !” وہ اسکے چہرے پر ہاتھ رکھنے لگی جب وہ خود پیچھے ہوگیا طلسم کا ہاتھ وہاں میں ہی رہ گیا ۔

” طلسم کسی جانور کو بھی رکھے نہ تو کچھ دن بعد اس سے ہمدردی ہونے لگتی وہ اچھا لگنے لگتا محبت ہونے لگتی ہے اس سے اور ہم آپ سے پچس سال سے محبت کرتے ہیں آپ نے ہمیں جانورں سے کم تر سمجھ لیا ۔اس سے نکاح کرتے ہوئے آپ کے سامنے ایک بات بھی ہمارا چہرا نہیں آیا ترس نہیں آیا ہم پر ! اسکی بات سن کر وہ اسکی جانب بڑھی لیکن وہ قدم پیچھے لیتا جارہا تھا “مت آئے میرے پاس آپ کسی اور کا حق ہیں دور رہیں مجھ سے !” اسنے ہاتھ اٹھا کر منع کردیا

میری آنکھوں کو بخشے ہیں آنسوں ۔۔۔

دل کو داغِ زخم دے گئے ہیں ۔۔۔

اس عنایت کے قربان جاؤں ۔۔۔۔

پیار مانگا تھا غم دے گئے ہیں ۔۔۔۔۔

وہ الٹے قدموں واپس جانے لگا تھا جب اسکی نظر اسیر پر پڑی اس نے ایک نظر حیرت سے اسکی جانب دیکھا پھر اپنے آپ کو مجھ میں کیا کمی تھی اور جاتا جاتا اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ گیا ۔

یہ کہہ دیے میری قسمت میں نالے ۔۔

تمہاری امانت تمہارے حوالے ۔۔۔۔۔

پیار مانگا تھا غم دے گئے ہیں ۔۔۔۔

وہ باہر چلا گیا اور وہ دونوں وہیں اسے جاتا دیکھتے رہے ” مجھے پتہ تھا اسے پتہ چلے گا تو بہت دکھ ہوگا مگر وہ ٹوٹ ہی جائے گا یہ نہیں سوچا تھا ۔وہ باہر آگیا تھا قدموں نے تو چلنے سے انکار کردیا تھا ایک دو بار لڑکھڑا بھی گئے مگر وہ گرا نہیں اندھیرا پھیل رہا تھا اسے ایک لمبا راستہ طے کرکے محل پہنچنا تھا لیکن راستہ کٹنا کیسے تھا آج ان گلیوں سے گزرتے ان سے کیا کہے گا کہ طلسم کسی اور کی ہوگئی ۔

غم کی فرقت میں کوئی مولِ سو ہمدم نہ رہا ۔۔۔

ایک شبِ غم ہے جو تنہا میرے گھر ہوتی ہے ۔۔۔

پیار مانگا تھا غم دے گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔

شہر سحر کی اس رات میں ایک عجیب سا دکھ اداسی اتر آئی تھی وہ محل نہیں آیا تھا کال جنگل آگیا تھا جہاں تمام جانور اسے دیکھ کر خوش ہوگئے تھے انکی آنکھیں بھی کسی اور کو کھوج رہی تھیں جس کا انھیں انتظار تھا کہ وہ اگلی بات اسکے ساتھ آئے گا مگر اسنے انھیں دیکھ کر نفی سر ہلا دیا ۔” کسی اور کی ہوگئیں وہ وہ ہماری فکر دلاسہ سمجھانا سب اپنے فائدے کے لیے کیا انھوں نے ہماری طلسم اسی جنگل میں کھو گئی تھیں جو واپس ائی وہ کسی اور کی ہیں اسلیے اب کوئی نہیں ہے اگر وہ کسی اور کی تھیں تو ہمارے پاس کیوں آنے لگی تھیں کیوں ہماری ہمدردر بنتی جارہی تھیں ؟”

زمانے ہے انکے کرم دیکھتے ہیں ۔۔۔

مگر اپنی قسمت کو ہم دیکھتے ہیں ۔۔۔

پیار مانگا تھا غم دے گئے ہیں ۔۔۔۔۔

تمام جانور خاموش اسے دیکھنے لگے جو زمیں پر بیٹھا تھا ۔” ہم نے کبھی کسی کا دل نہیں دکھایا کسی کو تکلیف نہیں دی کبھی کسی کی حق تلفی نہیں کی تو ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہوا ؟”

” کیا آپ نے سچ میں کسی کی حق تلفی نہیں کی شہزادے ؟” وہ سورانچھ تھا جس کے آتے ہی تمام جانور وہاں سے چلے گئے تھے ۔سناش نے نفی میں سر ہلایا ۔

” یہ جانتے ہوئے بھی کی طلسم آپ کا حق نہیں رہی پھر بھی اسکے لیے رونا تکلیف سہنا خدا سے گلے کرنا تٹپنا اسے مانگنا کیا اسیر کی حق تلفی نہیں ۔” اسنے حیرت سے اسکی جانب دیکھا ۔

” حق تلفی تب نہیں ہوتی جب زبردستی کسی سے اسکا حق چھینے حق تلفی تب بھی ہوتی ہے جب آپ کسی کی حق کی چیز مانگ رہے ہوتے ہیں کیا اسیر نے آپکو آپکا حق دیا تھا نہیں نہ تو آپ اس کے ساتھ حق تلفی کررہے ہیں ناصرف اسیر سے بلکے اس سے بھی جو آپکی قسمت میں ہے جو آپکا انتظار کررہا ہے جو آپ سے اتنی محبت کرتا ہے جتنی آپ طلسم سے .”فاریہ اپنے کمرے کی کھڑکی میں بیٹھی آدھے چاند کو دیکھ رہی تھی یہ آج میری طرح ادھورا ہے مگر کچھ دن بعد پورا ہوجائے گا مگر میرا پیار ادھورا ہی رہ جائے گا ۔اسیر ابھی تک غفران کے گھر میں رو رہی طلسم کو سنبھال رہا تھا جو اسیر کے گلے لگی ناجانے کب سے رو رہی تھی۔” سب ختم ہوگیا اسیر سب ختم ہوگیا اب سناش کبھی نہیں ہنسے گا .”

” ہماری قسمت میں طلسم کے علاوا کوئی نہیں ہے ہم نے اسکے علاؤہ کسی کو نہیں سوچا بس وہ تھیں اور کوئی نہیں کسی کے بارے میں احساس ہم محسوس نہیں کرسکتے ” یہ اسنے چیخ کر کہا تھا ۔

” سوچنے سے قسمتیں طے نہیں ہوتی سناش سوچنے سے قسمت میں آنے والے حالاتوں سے نکلنے کے راستے ملتے ہیں جو کبھی کبھی کامیاب کردیتی ہیں کبھی تباہ اور آپ اپنی قسمت جاننے کے بعد تباہی کا راستہ چن رہے ہیں طلسم آپکی قسمت نہیں ہے ہوتی تو وہ پچس سال پہلے آپکی ہوجاتی یہ بات آپ مان کیوں نہیں لیتے ایک انسان پر دنیا ختم نہیں۔ ہوتی ۔”

” کیا کرو کیا کرو میں اب کچھ سمجھ نہیں آرہا ؟” بلآخر اسنے سوالیہ نگاہوں سے سورانچھ کو دیکھا ۔

” جو جیسے ہے اسے اپنا لیں سناش آپکو یاد ہے آپ نے طلسم سے وعدہ کیا تھا کہ آپ اس سے جڑی پر چیز کی حفاظت کریں گے تو طلسم کے سہاگ کی ذمہ داری آپکی ہے اپنا وعدہ نہیں نبھاؤ گے ؟” سناش نے حیرت اور افسوس کے ملے جلے تاثرات سے اسے دیکھا

” سورانچھ تمہیں لگتا ہے کہ ہم اس انسان کی حفاظت کریں گے جو ہماری دنیا لے گیا ؟”

” میں بس پوچھ رہا ہوں کیا آپ اپنا وعدہ نبھائیں گے کیونکہ سانسیں گنی جاچکی ہیں آپ دونوں میں سے کسی ایک تو کیا کریں گے اسیر کی سانسوں کی حفاظت کیا لے گے اسکی موت اپنے سر یا کردیں گے اپنی دنیا اپنی طلسم کو بے رنگ ؟”

” کیا !!! کیا کہا تم نے اسیر کی جان خطرے میں ہے کس۔۔۔کس سے خطرا ہے اسے ؟”

” وقت خود بتائے گا آپ بتائیں وعدہ نبھائیں گے ؟” سورانچھ کی بات سن کر وہ کچھ دیر سوچ میں پڑ گیا ۔” ہاں میں اپنا وعدہ نبھاؤ گا اگر ہماری جان جانے سے طلسم خوش رہ سکتی ہیں تو ہمیں اسیر کے حصے کی موت بھی قبول ہے آج تک طلسم کی ہر تکلیف برداشت کرتے آئیں ہیں آج انکی خوشی کے لیے مر بھی جائیں گے ویسے بھی اب ہمیں جینے کی تمنا نہیں ہے ۔” سورانچھ کو سنے بنا وہ وہاں سے چلا گیا ۔

ادھر صیاد نے پورا شہر چھان مارا تھا مگر اسے آدم کہیں نہیں ملا تھا جس کے آخر میں اسنے ایک بار پھر چاندنی کو بلانے کا فیصلہ کیا تھا اس بار محنت تھوڑی زیادہ لگنی تھی مگر اسے خود کو بچانے کےلئے یہ کرنا تھا اس بار اسنے محل سے کچھ فاصلے پر جگہ چنی تھی اور عمل شروع کردیا تھا ۔

رات گئے وہ دونوں محل واپس آگئے تھے سناش پہلے سے محل میں آگیا تھا فاریہ اسکے پاس تھی ۔

” سناش آپ بہت تھکے لگ رہے ہیں آپ آج کل بہت زیادہ کام کرتے ہیں کچھ وقت آرام بھی کرلیا کریں ” وہ اسکے لیے کھانا لائی تھی مگر اسنے کھانے سے انکار کردیا تھا ۔

” سناش شہر سحر کی زمہ داری ہے آپ پر بیمار ہوگئے تو کیا کریں گے کچھ کھالیں آپ نے صبح بھی سہی کچھ کھایا نہیں تھا ۔”

” ہم ٹھیک ہیں فاریہ آپ کیوں کرتی ہیں ہماری فکر ؟” اسکے سوال پر فاریہ بے بسی سے مسکرائی ” آپ طلسم کی فکر کیوں کرتے ہیں ؟” اسکے سوال پر سناش کے گلے میں آنسوں کا ایک گولا آیا جو اسنے اندر ہی دبا لیا ۔” ” کیونکہ وہ ۔۔۔ہماری بچپن کی دوست ہے اور دوست تو فکر کرتے ہیں .” اسکی دوست والی بات پر فاریہ نے حیرت سے اسے دیکھا مگر کچھ کہا نہیں جو اسے برا لگے ۔” مجھے بھی اپنا دوست ہی سمجھ لیں ۔” اسنے نوالہ بنا کر اسکی جانب کیا جو وہ اسکا مان رکھنے کے لیے اسکے ہاتھوں سے لیکر کھا گیا اور فاریہ کا وہ ہاتھ خالی میں وہیں اٹکا رہا ۔اسنے ایک گہری سانس لی ۔

” سناش اگر آپ کو اسیے شخص سے بے پناہ محبت ہو جو کسی اور سے محبت کرتا ہو تو کیا کرنا چاہیے ۔” اسکے سوال پر سناش نے اداس سے ایک نظر اس پر ڈالی ” اس سوال کا جواب اگر آپ کو ملا تو ہمیں بھی بتائیے گا ۔” اور وہاں سے اٹھ چلا گیا ۔

اگلی صبح اسیر طلسم کی اداسی دور کرنے کے لیے اسے باغ میں کے آیا مگر وہ وہاں بھی خاموش ہی بیٹھی تھی وہاں سکے لیے درخت سے انگور اتار رہا تھا ۔سناش بھی وہاں آیا تھا جب اسکی نظر ان دونوں پر پڑی سناش بخور اسیر کی جانب دیکھا اور اپنا خنجر نکال کر اس پر وار کردیا وہ خنجر سیدھا جاکر اسیر کے قریب درخت پر رینگتے سانپ کو لگ گیا اور وہ حیرت سے کبھی سانپ جو دیکھ رہا تھا کبھی سناش کو جو اسکے پاس پہنچ چکا تھا ۔

” دھیان سے کام کیا کرو یہاں اکثر گھنے درختوں پر زہریلے جانوروں کا بسیرا ہوجاتا ہے ۔” اسنے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا ۔

” شک۔۔شکریہ شہزادے ! ۔۔۔.” سناش ۔۔۔سناش نام ہے ہمارا ہمیں اچھا لگے گا اگر آپ ہمیں ہمارے نام پکارے ” طلسم بھی وہاں آگئی تھی ۔

” سناش میرے دوست بنو گے ؟” اسیر کے سوال پر اسنے طلسم کی جانب دیکھا جو شرمندگی سے سر جھکائے کھڑی تھی ۔” بنو گے؟”

اسنے پھر پوچھا ” جس پر اسنے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی مگر ناکام رہا اثبات میں سر ہلا دیا ۔سناش نے اپنا وہی خنجر نکال کر دوبارہ اسیر کے پیچھے چلا دیا جو جھاڑیوں میں چھپتے تیرباز کے لگ گیا اور وہ گر گیا ۔ وہ بھاگ کر اسکے پاس آئے اور اسکا نقاب اتار ۔” میں نے کہا تھا نہ آصف جس دن ہمارا نشانہ چوک گیا سمجھ لینا وہ چوکے گا نہیں کس کے کہنے پر کیا تھا .” آصف جو آخری سانسیں لے رہا تھا بس یہی بول پایا ” صص۔۔۔صیاد نے !” سناش کے ہاتھ سے اسکا گریبان چھوٹ گیا تھا یعنی صیاد کو سب پتا چل گیا یہ اسیر اور طلسم کی سوچ تھی مگر سناش ” ایک ہی دن میں دو بار جان جاتے جاتے بچی آگے کیا ہوگا اگر ہم کسی وقت نہ ہوئے تو؟”