Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam NovelR50472 Shehr-e-Sahar Episode 8
No Download Link
Rate this Novel
Shehr-e-Sahar Episode 8
Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam
” محبت نہیں ہے عشق ہے کتنا کبھی میرے گھر میرے کمرے میں آکر دیکھنا جہاں ہر طرف تمہاری تصوریں ہیں تمہاری باتوں کی ریکارڈنگ موسیقی کی طرح چلتی ہے ۔تمہارے حسن کا مداح تو تب سے ہوں جب تمہیں اس پارٹی میں حنا کے ساتھ دیکھا تھا ریڈ میکسی کُھلے بال سیاہ آنکھیں گلابی ہونٹ اسنے انگلی ہونٹوں پر رکھ کر ایک نظر شیشے سے باہر دیکھا ۔۔۔” چاہتا تو اسی وقت تمہیں کہ دیتا مگر تم کبھی سمجھ نہیں پاتی پاگل ہوگیا تھا تمہارے لیے جب ہسپتال میں ایک غریب عورت کی مدد کے لیے تم نے بغیر کچھ سوچے سمجھے اپنا گولڈ پنڈنٹ دے دیا تھا۔ دل سینے سے نکل گیا تھا جب تمہیں اس یتیم خانے میں ان بچوں کے ساتھ دیکھا جن سے روز ملنے میں جاتا ہوں تمہاری مسکراہٹ دل پر چھپ گئی تھی ۔تمہیں یہ بھی معلوم نہیں کے جس بچے کی گال پر تم نے کس کیا تھا اسے میں نے بھی اسی جگہ کس کیا تھا اور پھر خودی حیران رہ گیا ۔رستے میں تم پر کیچڑ اچھالنے سے لیکر آج تمہارا اور میرا ڈانس سب جذبات یا وقت کا اتفاق نہیں میرا کھیل تھا ۔تمہں خود کو سب سے الگ جو دیکھانا تھا کیا نہیں کیا تمہاری نظروں میں آنے کے لیے کیچڑ اچھالا اگلے دن آفس سے لیٹ کروایا مگر مجھے نہیں پتا تھا تم میری گاڑی کے ٹائر ہی بیچ دو گی ہاہاہاہاہاہاہاہا افف !!! فین ہوگیا تھا تمہارا اسکے بعد تو سب خود بخود ہوتا چلا گیا جیسے قدرت بھی میرے ساتھ تھی نشے کی حالت میں میرا وہاں موجود ہونا قدرت کا کھیل تھا ورنہ پتا نہیں کیا ہوجاتا اس رات تمہاری اس حالت کا غلط فائدہ اٹھا سکتا مگر نہیں میری محبت پاکیزہ اور آج تمہارے اتنے قریب ہوکر بھی تمہیں چھونے کی ہمت نہیں کر سکا آج تم نے کر بھی حد تھی ۔۔۔” گاڑی چلاتا وہ خودکلامی کر رہا تھا ۔۔۔” یار سب کے سامنے جوس سر میں ڈال دیا محبت اپنی جگہ مگر میں اتنا بڑا بزنس مین تھا یار.مجھے میرے غصے پر کنڑول نہیں رہا اور کتنا بڑی غلطی کردی صد شکر وقت پر پہنچ گیا مگر اب وہ بلڈنگ مکمل ہوگئی تو میرا نام بھی اسیر نہیں ۔۔۔۔۔” یہ اسنے غصے میں کہا تھا۔
” اتنی جلدی تو تمہیں۔ اپنے دل کا حال نہیں بتاؤ گا پہلے تمہیں خود سے محبت کرواؤں گا ۔وہ کیا شعر تھا ہاں ۔۔
تیرے عشق نے سجایا ہے مجھے اس قدر ۔۔۔۔
اب اہلِ نظر ہمارے رنگ دیکھیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔” اسنے مسکرا کر یوٹرن لیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسکی گاڑی کے ہیڈ لائٹس توڑ کر سیدھی اپنے کمرے میں آئی تھی اور آتے ہی بیگ غصے سے بیڈ پر پھینکا تھا اور کچھ دیر بعد ایک پراسرار مسکراہٹ کے ساتھ آئینے کے سامنے آئی تھی ۔
” تو آخر بن ہی گئی میں اس دنیا کے اسیر شاہنواز کے لیے ضروری ہاہاہا!! جو میں نے سوچا وہی کرتا گیا یار کتنی محنت کی اور سب سے بڑا اتفاق تو یہ نکلا حنا تمہاری ہی کزن نکل آئی کتنا کچھ آ سان ہوگیا تم پر نظر تو تبھی پڑ گئی تھی جب حنا کے ساتھ اس پارٹی میں گئی تھی اسکے بعد میرا اس عورت کو اپنا پنڈنٹ دینا یتیم خانے جانا سب تمہاری نظروں میں آنے کا طریقہ تھا ۔تم اتنے رحم دل جو ہو کتنا ڈدھونڈا تمہیں تو آخر شکار میرے پاس آنے ہی لگا۔ کیا نہیں کیا تمہاری گاڑی کے ٹائر بیچے اپنا سکوٹر تڑوایا شراب تک پی لی ۔ مگر ایک غلطی کر بیٹھی ہوں تم سے محبت سچی والی کر بیٹھی ہوں مگر اتنی جلدی کہ دہیتی تو تم بھی مجھے باقیوں جیسے سمجھ لیتے مگر سحر آفندی عام نہیں ہے وہ تو اتنی خاص ہے کہ اسیر شاہنواز تمہارے فرشتوں کو بھی اندازہ نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔” وہ اسے مسکراہٹ کے ساتھ واش روم میں گھس گئی ۔
کھیل شروع ہوچکا تھا کوئی نہیں۔ جانتا تھا کون کس کو دھوکا دے رہا تھا ۔وقت نے پاسے پھینک دیے تھے انظار تھا تو بس اگلی چال کا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دن معمول پر تھے ایک ہفتہ ہوگیا تھا دوبارہ ایک دوسرے کا سامنا کیے ہوئے دونوں ہی ایک دوسرے کو جان بوجھ کر نظر انداز کر رہے تھے ۔آخر وہ دن آ ہی گیا جب اگلی چال چلی جانی تھے ۔۔۔
” اسلام علیکم نعیم چاچو کیسے ہیں آپ ؟…” جی میں آپ ہی کی کمپنی کے باہر کھڑا ہوں آرہا ہوں ۔۔۔۔” یہ کہ کر اسنے فون بند کردیا ۔” چل علی نعیم چاچو انتظار کر رہے ہیں ۔وہ دونوں ہی اندر چلے گئے اندر تمام سٹاف اپنے کام میں لگا تھا بس ایک وہ ہی نظر نہیں آرہی تھی جسے وہ ڈھونڈ رہا تھا دیکھتا دیکھتا وہ آفس میں پہنچ چکا تھا ۔
” جی چاچو خیریت ہے آج اچانک ہمیں یہاں بلایا ۔۔۔۔۔”
” ہاں بیٹا سب خیریت ہے ایک منٹ بتاتا ہوں ۔۔۔” انھوں نے فون اٹھایا ۔۔” ہاں دو کپ چائے ایک بلیک ٹی لے آؤ ۔۔۔۔”
” بیٹا بات یہ ہے کہ میں اب تھک چکا ہوں ریٹائرمنٹ لینا چاہتا ہوں اور تم لوگ تو جانتے ہوں میرا کوئی بیٹا نہیں ہے ایک بیٹی ہے جو اب تمہاری ہے ۔۔۔” انھوں نے مسکرا کر علی کو دیکھا ۔۔۔
” اچھا تو آپ چاہتے ہیں کہ ہم یہ کمپنی سیل کرنے میں آپ کی مدد کریں ۔۔۔” اے ایس نے فوراً سوچ کر کہا
” ارے نہیں میرے دو بیٹے ہیں تو سہی تم دونوں سنبھالو اس کمپنی کو ۔۔۔” وہ مسکرا کر انھیں دیکھ رہے تھے اور وہ دونوں ایک دوسرے کو علی کچھ کہنے ہی والا تھا جب اے ایس بول پڑا ۔
” ٹھیک ہے انکل مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے علی میری کمپنی دیکھ لے گا اور میں آپ کی کیوں علی تجھے کوئی مسئلہ یا اشفاق انکل کچھ کہیں گے ۔۔۔”علی نے حیرت سے اسے دیکھا پھر نفی میں سر ہلا دیا وہ سمجھ گیا کہ وہ یہ کیوں کر رہا ۔۔۔” ٹھیک ہے انکل میں دیکھ لوں گا کوئی بات نہیں مگر اے ایس تو اس کمپنی پر بھی نظر رکھنا ۔۔۔”
“ہاں ۔۔ہاں کیوں نہیں مجھے لگتا نہیں۔ مجھے کچھ زیادہ محنت کرنی پڑے گی ۔۔۔”
” ہاں بیٹا میرا سارا سٹاف ہی بہت قابل ہے ۔۔۔”
” جی کتنا قابل ہے اسکا اندازہ مجھ سے بہتر کسے ہوگا ۔۔” اسی کے لیے تو اسنے ہامی بھری تھی ۔
” سر آپ کی چائے ۔۔۔” چپڑاسی چائے لیکر آگیا تھا اور اسے کہ پیچھے سادہ بلو کلرکے شلوار قمیض میں وہ اندر آئی تھی بل آخر انتظار ختم ہوا نظروں کی تشنہ دہی ختم ہوئی ۔۔۔
” سر یہ مسٹر سنجرانی والی فا۔۔۔۔۔۔” سامنے ان دونوں کو بیٹھا دیکھ کر اسکا جملہ آدھا ہی رہ گیا تھا ۔اسکا کھلا منہ دیکھ کر اے ایس کی تو چائے باہر آگئی تھی وہ کھلکھلا کر ہنس پڑا تھا ۔
” او سحر اس سے تم دونوں مل ہی چکے ہو یہ میری ہی امپلوئے ہیں بہت اچھی امپلوئے ہیں میری ۔۔۔اور سحر یہ میرا بھتیجا اسیر شاہنواز اور یہی آج سے آپکے نئے باس ہونگے ۔۔” انھوں نے اسکی طرف اشارہ کر کے کہا جو مسلسل اسکا کھلا منہ دیکھ کر ہنس رہا تھا اب تو اسکا پیٹ دُکھنے لگا تھا ۔
” میری ہنسی کیسی لگی رہی ہے مس سحر ۔۔۔۔” اسکے ٹیبل کے قریب آتے ہی اسنے آہستہ آواز میں کہا ۔۔
” زہر لگ رہی ہے ۔۔۔۔” اسنے دانت پیس کر کہا
” خاموش ایم یور باس ۔۔۔۔” اسنے تنبہ کی ۔ جس پر سحر نے ٹیبل پر پڑی چائے غلطی سے اس پر گرا دی ۔۔
” او سر سوری ۔۔۔سوری سر غلطی سے گر گئی ۔۔۔۔۔” اسنے حیرت سے دیکھا جو معصوم سا منہ بنائے کھڑی تھی ۔۔
” کوئی بات نہیں میں اسے صاف کر کے آتا ہوں۔۔۔۔۔” اسکا معصوم سا چہرا دیکھ کر اسے پیار آگیا تھا اس پر وہ کنڑول نہیں کرسکتا تھا اسلیے باہر واش روم آگیا تھا ۔وہ پانی سے اپنا کوٹ صاف کر رہا تھا جب اسنے نظر اٹھا کر آئینہ میں دیکھا اور ایک زوردار چیخ ماری وہ کانپنے لگا تھا ۔اسکی آواز سن کر وہ سب وہاں پہنچ گئے تھے ۔
” اے ایس کیا ہوا ہے ؟….” علی نے اسے پوچھا جو پھٹی پھٹی نظروں سے سامنے دیکھ رہا تھا اسنے کانپتے ہاتھ سے سامنے اشارہ کیا ۔۔۔” جج۔۔۔۔جن۔۔۔۔۔سامنے جن ہے ۔۔۔” علی نے اسکے تعاقب میں دیکھا وہاں کوئی نہیں تھا کسی کو کچھ نظر نہیں آرہا تھا مگر سحر وہ صرف اے ایس کو دیکھ رہی تھی ۔
” اے ایس وہاں کوئی نہیں تجھے کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ۔۔۔۔”
” علی میں جھوٹ بول رہا ہوں کیا وہ دیکھ سامنے تجھے نظر نہیں اتنا بڑا جن کھڑا بڑی بڑی لال آنکھوں والا۔۔۔۔۔” وہ علی کو حیرت سے دیکھ رہا تھا مگر جب اسنے دوبارہ وہاں دیکھا وہاں کوئی نہیں تھا ۔
” یہاں تھا علی تھا میں نے جن دیکھا پہلے بھی دیکھا تھا تجھے یاد ہے حنا کی برتھ ڈے پارٹی پر وہاں بھی دیکھا تھا میں نے اب یہاں اسی جگہ تھا ۔۔۔۔” وہ اس جگہ کھڑا تھا ۔
” سر وہ بلکل ٹھیک کہ رہے ہیں” سحر نے بڑی سنجیدگی سے کہا تھا جس پر سب اسکی جانب متوجہ ہوگئے تھے ” سر وہاں آئینے میں سچ میں جن کھڑا ہے ۔۔۔۔” اے ایس سمیت سب نے آئینے کی طرف دیکھا جہاں صرف اے ایس کا چہرا نظر آرہا تھا ۔” ہے نہ سر سب سے بڑا جن ۔۔۔۔” وہ ہنسنا شروع ہوگئے تھے علی سمیت باقیوں کی بھی ہنسی نکل گئی تھی سوائے اے ایس کے جو کھانے والی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔پھر کچھ دیر بعد خود بھی ہنسنا شروع ہوگیا تھا ۔علی اسے سمجھا بجھا کر لے گیا مگر ان کے جانے کا بعد وہ جن واپس وہیں کھڑا تھا بڑی بڑی لال آنکھوں والا قدآور مونچھوں والا کالا سیاہ جس کا نام ہیبت تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“بابا میرا نام اسیر کیوں ہے ۔؟…” وہ شاہنواز صاحب کا گھٹنا پکڑے بیٹھا تھا۔
” کیوں اسیر کیا ہوا کیوں پوچھ رہے ؟..”
” بابا یونیورسٹی میں سب میرا مذاق اڑاتے ہیں کیسا نام ہے میرا اسیر قیدی کس کا قیدی ہوں میں کیوں رکھا آپ نے میرا نام ایسا ؟….”
” اسیر تمہارا نام ہم نے رکھا ہی نہیں ہے ؟” اس بات نے اسے اور حیران کر دیا ۔
” آپ نے نہیں رکھا مطلب کس نے رکھا ہے پھر ؟..”
” تمہارا نام پہلے سے تہ شدہ تھا ۔۔۔” انھوں نے سوچ لیا تھا وہ اسے سب بتا دیں گے ۔
“مطلب ؟۔۔۔۔”
” اسیر تم ہماری اولاد نہیں ہوں تم ہمیں ملے تھے ۔۔۔” اس بات نے تو اسکے قدم توڑ دیے تھے وہ لڑکھڑا گیا ۔
” ہاں اسیر تم ہماری اولاد نہیں ہم نے سوچا تھا یہ بات ہم تمہیں کبھی نہیں بتائے گے مگر آج بتانا پڑ رہا ہے تم ہمیں ہمارے صحن میں ہی روتے ہوئے ملے تھے سفید کپڑے میں لپٹے اور تمہارے اوپر پڑی تھی وہ تختی ۔۔۔”
تخ۔۔تختی کیسی تختی ؟…
وہ اٹھے کر الماری میں سے ایک تختی اٹھا کر لائے اور اسے تھما دی جس کی تحریر پڑھ کر اسکے ہاتھ کانپ گئے تھے اور تختی اسکے ہاتھ سے گر گئی تھی ۔۔۔” اے ایس !!! علی کے ہلانے پر وہ یادوں سے باہر آیا تھا ۔پانچ سال پہلے کہ یہ بات ایک نقش بن کر اسکے ذہن میں چھپ گئی تھی جو کسی بھی وقت یاد آجاتی تھی ۔شاہنواز صاحب کو اس دنیا سے گئے دوسال ہوگئے تھے ۔” اے ایس کہاں کھو گیا یار ؟..”
وہ دونوں اس وقت ناشتے کے میز پر بیٹھے تھے علی اے ایس کا سب سے گہرا اور پرانا دوست تھا علی کے والدین امریکہ میں سیٹل تھے مگر شاہنواز صاحب کی موت کے بعد وہ اپنے جگری دوست کے پاس رہنے آگیا تھا تاکہ وہ اکیلا نہ رہے انکی موت کے بعد ایک سال تک اے ایس مینٹلی سٹیبل نہیں ہوپایا تھا اسلیے علی ہمیشہ اسکے ساتھ رہتا تھا اسکی کمپنی دیکھی کام دیکھا اور جب وہ سنبھلا تو اسنے اپنے مرحوم باپ کے بزنس کو بلندیوں تک پہنچا دیا مگر علی کو واپس جانے نہیں دیا علی کے والد امریکہ میں سرجن تھے اسلیے انھیں کوئی خاص مسئلہ نہیں ہوا ۔
” کچھ نہیں۔ یار پاپا کی بہت یاد آرہی تھی ۔۔۔”
“انکل کو مس ہم سب کرتے ہیں اللہ انھیں جنت نصیب فرمائے اچھا یہ بتا آج تو آفس میرے ساتھ چلے گا یا نعیم انکل کے ۔۔۔۔” نعیم انکل کی کمپنی کا سن کر ایک دلفریب سی مسکراہٹ اسکے چہرے پر آئے تھی ۔
” میں چاچو کے آفس جاؤں گا ۔۔”
” چل ٹھیک ہے اٹھ پھر دیر ہورہی ہے دس بجنے والے ہیں ۔۔” وہ دونوں اپنے آپنے بیگز اٹھا کر چل دیے ۔۔۔”
آفس میں معمول کے مطابق کام ہورہا تھا سب کو اپنے نئے باس کا پتا تھا اسلیے تمام لوگ اپنے اپنے کام پر مصروف تھے ۔وہ آیاہی تھا جب پہلی نظر سحر پر پڑی جو کمپیوٹر پر کوئی کام کر رہی تھے تمام لوگ اسے دیکھ کر کھڑے ہوگئے تھے مگر وہ اپنے کام میں مصروف تھے وہ سیدھا اسکے پاس آیا تھا ۔
” ایکسکیوزمی مس آپ کو پتا نہیں جب باس آتا ہے تو احترام میں کھڑا ہوا جاتا ۔”
” او سر آپ باس ہیں میں بھول گئی تھی ۔۔۔” اسنے سر کھجا کر کہا ۔
” اچھا بھول گئی تھیں نام کیا ہے آپکا ۔۔۔” اسنے تنظریہ انداز سے پوچھا تھا ۔
” جی وہ بلقیس ۔۔۔۔” اسکے جواب نے تو اسے حیران کردیا ۔
” کیا ۔۔۔”
” میرا نام ۔۔۔وہ واپس سر کھجانے لگی ۔۔” میرا نام آ سیہ ہے ۔۔۔۔”
” یہ کیا کہ رہی ہو ۔۔” وہ حیران نہیں پریشان ہوگیا تھا ۔
” سر وہ کلثوم نام ہے میرا..” اسنے سر کھجا کر دانت نکال کر کہا ۔
اے ایس نے تنگ آ کر اسکے گلے میں پڑا کارڈ دیکھا ۔
” اس پر تو سحر لکھا ہے ۔۔”
” ارے !!! سر بتایا تو ہے مجھے بھولنے کی بیماری ہے میں اکثر اپنا نام بھی بھول جاتی ہوں اسلیے یہ گلے میں ڈالا تھا کہ نام بتا دوں گی مگر یہی بھول گئی یہ بھی گلے میں۔ ڈالا ہے ۔۔۔” سارا سٹاف چپکے چپکے ہنس رہا تھا ۔اسنے ایک نظر چاروں طرف دیکھا سب خاموش ہوگئے ۔
” اچھا مس زہر آئی مین سحر آپ بھول جاتی ہیں تو کام کیسے کرتی ہیں ۔۔۔”
” نہیں سر منافع کی بات مجھے بہت یاد رہتی ہے جیسے کہ لائلپور گیلریاں میں ہونے والی نمائش میں میری بنائی جیولری لگنی ہے ۔۔۔” اسنے دانت نکال کر کہا ۔
” اچھا!!!! تو یہ بات بھئی اگر اتنا ضروری کام آپ کر رہی ہیں تو یہاں میں وہاں بیٹھ کر کریں ۔۔۔۔” اسکے ایک ٹیبل کی طرف اشارہ کیا ۔
” سر مگر وہ تو آصف کی سیٹ ہے ۔۔”
” آصف یہاں بیٹھے کیوں مسڑ آصف کہاں ہیں آپ ۔۔۔۔”
” جی سر مجھے ایشو نہیں ہے ۔۔۔”
” سر آپ کو میں اتنی اچھی لگی کہ آپ ہر وقت مجھے دیکھنا چاہتے ہیں۔” وہ ٹیبل اسکے آفس سے صاف نظر آتی تھی ۔
” اچھی تو تم مجھے اتنی لگتی ہو کہ ہر وقت کیا ہر لمحہ تمہیں دیکھتا رہوں ۔۔” یہ اسنے دل میں سوچا ۔” جی نہیں اسلیے کے آپ کو بھولنے کی بیماری ہے۔ تو آپ کام کرنا بھول نہ جائیں اسلیے آپ ہمارے سامنے بیٹھ کر کام کریں گی میں آپ کو یاد دلایا رہوں گا ۔سو جلدی اس ٹیبل پر شفٹ ہوں ۔۔۔
” چلو یہ تو وہی بات ہوگئی آ بیل مجھے مار اسے تنگ کرنے کے لیے بھولنے کی بیماری کہا اور خود ہی پھنس گئی اب ہر وقت تیرے سامنے رہے گا اسے دیکھوں گی یا کام کرو گی اففففف!!! اسنے غصے سے پیر زمین پر پٹخا ۔
وہ اس ٹیبل پر شفٹ ہوچکی تھی ۔اور وہ مسلسل اسے دیکھا رہا تھا ۔اونچی پونی ٹیل کانوں میں چھوٹے چھوٹے ایررنگ بڑی بڑی پلکیں جو کمپیوٹر پر جھکی ہوئیں تھیں ایک مدھم سی مسکراہٹ ہونٹوں پر گلابی ہونٹ جیسے نرم پھول کی پتی جو کبھی دانتوں تلے دبتے کبھی مسکرا اٹھتے وہاں سے ادا ہونے والے الفاظ جیسے خزاں میں پھول پتی پتی کر کے جھڑتا ہے ۔ جسے اپنے ہاتھوں میں سمیٹنے کو دل چاہے اسے چھونے کو دل چاہے ۔نظر سرکتے سرکتے اسکے پاؤں تک پہنچ گئی جہاں شفاف سفید پیر ہیلز میں قید تھے اور پاؤں میں چاندی کی پائل جس کے چھوٹے چھوٹے ستارے اسکی جلد کے ساتھ لگ رہے تھے مخروطی انگلیاں کمپیوٹر کے کیبورڈ پر چل رہی تھی پیانو چلانے کر انداز میں ۔۔۔اسنے ایک پل کے لیے کمر سیدھی کی اور اسکی جانب دیکھا جو ہاتھ میں ایک کاغذ لیے اسے گھور رہا تھا اسنے غور سے کاغذ کا دیکھا جس پر لکھا تھا ۔۔” مس بھلکڑ آرام نہیں کام کریں” وہ منہ بنا کر واپس کام میں لگ گئی کچھ دیر اسنے اسے اندر بلایا ۔۔۔
” مس سحر یہ فائل ہے میں نے تیار کی ہےاسے ری چیک کریں ۔۔۔”
” اچھا گرامر مسٹیکس نکالنی ہے ۔۔۔”
” جی نہیں یہ پریزنٹیشن ہے آپ نے دینی ہے ۔۔۔،”
” کیا!! سر ۔۔میں نے کبھی پریزنٹیشن نہیں دی ہے ۔۔۔”
تو کیا دے گی بھی نہیں یہ بھی دیکھیں اور یہ ساری بھی ریچیک کریں ۔۔۔”
جی سر ۔۔وہ فائلوں کا انبار اٹھا کر باہر آگئی تقریباً ڈیرھ گھنٹہ بعد اسنے فائلز دوبارہ اسکے ٹیبل پر دھڑام سے ماریں ۔۔۔
” اففففف !!! سر گرامر کے ساتھ ساتھ سپیلنگ بھی بہت غلط تھی ۔۔۔”اس نے ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا
اسنے چپڑاسی کو آواز لگائی ۔۔۔” ان ساری فائلز کو سٹور روم میں رکھ دو یا ڈسکارڈ کر دو یہ ان میٹنگز کی فائلز ہیں جو ہو چکی ہیں اب انکی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔” اسنے وہ ساری فائلز اسے تھما دی اور وہ اپنی محنت کا ضائع ہوتا دیکھ رہی تھی ۔
” تو مس سحر میں کہ رہا تھا اتنا کام کرنے کے بعد آپ کا اور کام کرنے کو دل کر رہا ہوگا ۔۔۔۔”
” جی سر اتنا کر رہا ہے کہ دل کررہا ہے آپ ہی کا کام تمام کردوں ۔۔۔” اسنے دانت پیس کر آہستہ آواز کہا
جی کچھ کہا آپ نے ؟؟؟..”
” نہیں ۔۔نہیں یہاں کام کے لیے آتی ہیں اب بتائے ۔۔۔”
ہاں تو ایک کام کرو میرے لیے۔۔۔۔ایک کپ چائے لے کر آؤ ۔۔۔
یہ میرا کام نہیں ہے ۔…” مجھے پتہ ہے مگر میں باس ہوں تو تمہیں میری بات ماننی پڑے گی ۔تو جاؤ ۔۔جاو لیکر جاؤ شوشو ۔۔۔۔۔۔” وہ ہاتھ کے اشارے سے کہ رہا تھا ۔
شو!!!! وہ کھانے والی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔
” جاؤ نہ ٹائم نہیں ہے ۔۔۔۔”یہ کہ کر وہ اپنے لیپ ٹاپ کر بزی ہوگیا ۔
وہ پیر پٹختی باہر آگئی کچن میں آکر اسنے چائے بنائے کہ ایک چیز پر اسکی نظر پڑی ۔۔
” شو!!! اب اگر اس شو کا جواب نہیں نہ دیا تو میرا بھی سحر آفندی نہیں ۔
