Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam NovelR50472 Shehr-e-Sahar Episode 32
No Download Link
Rate this Novel
Shehr-e-Sahar Episode 32
Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam
” سناش آپ کہاں جارہے ہیں ؟” وہ گھوڑے پر بیٹھا ہی تھا جب فاریہ نے پوچھا ۔” ہم شہر کے دورے پر جارہے ہیں ۔” ۔۔۔” ہم بھی جاسکتے ہیں کیا ؟” اسنے معصومیت سے پوچھا طلسم اور اسیر بھی وہاں آگئے تھے ۔ ” آپ وہاں جا کر کیا کریں گی ؟”
” یہ تو غلط بات ہے آپ دونوں نے ابھی تک ہمیں پورا شہرِ سحر نہیں دکھایا ہمیں دیکھنا ہے ۔” ” چلتے ہیں سناش ہمیں بھی جانا ہے ۔” وہ۔مان گیا تھا بگھی تیار کر دی گئی تھی وہ لوگ محل سے روانہ ہوگئے تھے ۔ وہ گلیوں کے دورے کر رہے تھے تمام لوگ بے خوف و خطر ہنستے مسکراتے سناش کا نام لے رہے تھی ۔وہاں چند بچے پھولوں کے ہار لیکر کھڑے تھے وہ تینوں ایک ساتھ نیچے اترے بچے سناش کے گلے میں پھول ڈال رہے تھے کی فاریہ اچانک اسکے سامنے آگئی تیر فاریہ کی کندھے میں لگا تھا ۔” فاریہ !!! وہ سناش کی باہوں میں گری تھی تیر چلانے والا بھاگ گیا تھا جس کے پیچھے سپاہی گئے تھے ۔وہ اسے باہوں میں اٹھا کر طبیب خانے میں لایا .” سلام شہزادے آپ اور یہاں ؟”
” طبیب شہزادی فاریہ کے تیر لگا ان کا علاج کرو ۔” اسنے اسے وہاں بچھے بستر پر لٹا دیا اسکا سفید گاؤن خون سے بھر چکا تھا خون کے کچھ دھبے سناش کے لباس پر بھی لگے تھے طلسم اسکے سرہانے بیٹھی تھی جس کی آنکھیں بند ہوگئی تھیں۔طبیب نے آگے بڑھ کر تیر نکالا اور فاریہ کے چہرے کو دیکھا اسکے ہونٹ نیلے پڑ رہے تھے ۔” شہزادے تیر میں زہر لگا تھا ۔”
کیا!!!! تو ۔۔تو علاج کریں کیا ہے اسکا تریاق ؟” ۔۔۔۔۔” شہزادے یہ یہ زہر خاص طریقے سے بنایا گیا اسکا تریاق صرف وہ تین چوڑی پتیوں والا گلابی رنگ کا پھول ہے جو خون سے سینچا جاتا جس کا بیج اور وہ اس وقت صرف رانی برکھا کے محل میں ہے ۔”
” سناش وہ پھول رانی برکھا کبھی نہیں دیں گی اسے کھلانے کے لیے انھوں نے ہر روز اپنا ایک غلام مارا ہے انھیں وہ پھول اپنی جان سے عزیز ہے ۔ ” طلسم سناش کو بتا رہی تھی جو کچھ سوچ رہا تھا ۔ ” سناش اسیر ۔۔۔۔اسیر اس مسئلے کا حل نکال سکتا ہے ۔” طلسم نے سپاہیوں کو بھیج کر اسیر کو وہاں بلایا ۔” اسیر ہمیں فاریہ کو بچانے کے لیے رانی برکھا سے وہ پھول لینا مگر وہ پھول اسے اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے بتاؤ کیا کریں ۔” طلسم میں نے کبھی اسے دیکھا بھی نہیں ہے میں کیسے بتاؤ اس سے وہ پھول کیسے ملے گا ؟”
” دے گی رانی برکھا وہ پھول دے گی جب سناش خود مانگنے جائے گا ۔”
” لیکن سناش آ پکو تو ان کے محل جانا اچھا نہیں لگتا وہ آپ کو پسند کرتی ہیں اور آپ جانتے ہیں وہ کیسی ہیں ۔” طلسم سناش کو روکا برکھا عمر میں سناش سے بڑی تھی مگر سناش سے محبت کرتی تھی وہ بلاوجہ سناش کے پیچھے پڑی رہتی تھیں انکے محل اور انکا اپنا کردار کچھ زیادہ اچھا نہیں تھا جیسے عام دنیا میں طوائف اوراسکا کوٹھا شہر سحر میں رانی برکھا کا محل اسی کی عکاسی کرتا تھا ۔
” ایک منٹ کیا کہا تم نے وہ سناش کو پسند کرتی ہے تو اسے جانے دو وہ اسے پھول دے دے گی ۔” اسیر نے اپنی سوچ کے مطابق حل نکال دیا تھا ۔” وہ پھول آسانی سے نہیں دے گی سودہ کرے گی ۔” لیکن انھیں باتیں کرتا چھوڑ کر وہ چلا گیا تھا ۔” سناش روکو !” طلسم بھی اسکے پیچھے بھاگی اور گھوڑے پر بیٹھ جاتا دیکھ اسیر حیران رہ گیا ۔” تمہیں گھوڑ سواری آتی ہے ؟” ۔۔۔” مجھے تلوار بازی بھی آتی ہے اس سے پہلے میں آپ کو دیکھاوں بیٹھ جائیں وہ اسکے پیچھے ہی گھوڑے پر بیٹھ گیا۔اپنی دنیا میں جیسے اسیر گاڑی بھگاتا تھا ویسے وہ گھوڑا بھاگا رہی تھی ۔ آخر وہ سناش تک پہنچ ہی گئے ۔” سناش روکیں میری بات سنے روک جائیں مگر وہ سن نہیں رہا تھا آخر وہ تینوں رانی برکھا کے محل کے باہر کھڑے تھے ۔وہ اندر جانے لگا تھا جب طلسم نے اسے کندھے سے پکڑ کر کھینچا ۔” سناش میری بات سنے ! کیا کر رہے ہیں آپ بدنام ہے یہ جگہ یہاں عیاش زبیر جیسے لوگ آتے ہیں آپ جیسے نہیں ۔”
” لیکن طلسم وہ پھول فاریہ مر جائیں گی ۔” میرے پاس ایک طریقہ جس سے آپ کو بس کچھ وقت کے لیے رانی برکھا کو باتوں میں لگانا اور ہم وہ پھول لے آئیں گے ۔” یہ اسیر نے کہا تھا ۔دراوزہ کھل گیا تھا لیکن باہر صرف سناش کھڑا تھا اور پیچھے دو غلام تھے دونوں نے ہاتھ میں بڑے بڑے تھال پکڑے تھے ۔” رانی برکھا سے کہو شہزادہ سناش آیا ہے ۔” دربان نے بنا کچھ کہے اسے اندر آنے دیا وہ غلاموں کو روک رہا تھا مگر سناش نے اسے اندر آنے کا اشارہ کردیا ۔سناش اندر چلا گیا مگر طلسم اور اسیر وہاں سے ہی کہیں غائب ہوگئے اندر رانی برکھا اپنی شاہی کرسی پر بیٹھی تھی جو خوبصورت تو تھی مگر عمر میں سناش سے کافی بڑی تھی ۔ وہاں اس جیسی ناجانے کتنی اور بدنام عورتیں موجود تھی۔ “
ہائے میرا عشق میرا سناش آج میرے محل آیا ہے ” اسکی یہ گھٹیا باتیں فلحال برداشت کرنی تھی ۔” آپ ہی سے ملنے آئے تھے آپ اتنی خوبصورت جو ہیں ہم سے رہا ہے نہیں گیا ۔” وہ آہستہ سے اسکے پاس آیا وہ گھٹنوں پر جھک کر اسکا ہاتھ تھام لیا ۔” کیا ہم آپکے ساتھ اکیلے میں کچھ وقت بِتا سکتے ہیں ۔” اسکی ان حرکتوں پر برکھا کا منہ کھلا رہ گیا تھا مگر اسکی حسیین ترین مسکراہٹ دیکھ کر اسے انکار کرنے کا دل ہی نہیں کیا ۔ وہ مان گئی ۔
” ادھر اسیر اور طلسم سیدھا رانی برکھا کے محل۔میں آئے تھا جہاں لا تعداد سپاہی پھولوں کی رکھوالی کر رہے تھے اور ان سب کے بیچو بیچ وہ وہ تین پتیوں والے گلابی پھول تھا جس کے لیے ناجانے کتنے غلاوموں کو مارا گیا تھا وہ پھول جس جگہ موجود تھا وہاں سے رانی برکھا کا کمرا نظر آتا تھا رانی برکھا اپنے کمرے سے پھول پر نظر رکھتی تھی ۔” روباش !!! روباش کی مدد سے طلسم نے تمام سپاہیوں کے ہاتھ آنکھیں پیر منہ سب باندھ دیا تھا ۔ادھر سناش رانی برکھا کو تمام حالات سے انجان کرنے کے لیے کمرے میں لے آیا تھا ۔برکھا باقی تمام لڑکیوں کو اپنے اپنے کمروں میں بھیج دیا تھا ۔ باقی اپنا اپنا کام کررہےتھے ۔اسیر نے آگے بڑھ کر پھول توڑا مگر وہ ٹوٹ ہی نہیں رہا تھا شاید اسکی جڑیں بہت مضبوط تھی ۔سناش برکھا کی آنکھوں پر ہاتھ رکھے اس کو اسی دیوار کے پاس لایا تھا جہاں سے کھڑکی کے باہر سب نظر آرہا تھا اسیر پھول توڑ رہا تھا مگر وہ ٹوٹ نہیں رہا تھا ۔” سناش آج آپ کو کیا ہوگیا ہے ہمیں پتہ تھا ایک دن آپ بھی ہمارے حسن کے مداح ہوجائیں گے اور آپ کتنے رومانوی ہیں ۔” سناش نے اسے دیوار کے ساتھ لگا لیا اور خود اسکے قریب ہوگیا مگر نظر اسکی کھڑکی سے باہر ہی تھی ۔” آپ کیا دیکھ رہے ہیں ” وہ کھڑکی کی جانب دیکھنے لگی تھی جب اسنے ہاتھ سے اسکا چہرا اپنی جانب کرلیا ” ہم آپکے پاس ہیں اور آپ کسی اور کی طرف دیکھنے کا سوچ بھی کیسے رہی ہیں ۔طلسم کو کسی نے دیکھا نہیں تھا اسنے سادے لباس سے گھوگھٹ کیا تھا مگر سپاہی اپنی طاقت سے کھلنے کی کوشش کررہے تھے ۔اسیر سے پھول ٹوٹ ہی نہیں رہا تھا ۔ادھر سناش کی قربت کا اثر برکھا پر ہوتا جارہا تھا اور وہ خود سوچ رہا تھا یہ کیا کر رہے ہیں ہم ۔” سناش اپکو پتا ہے ہم آپ سے کتنی محبت کرتے تھے ہم تڑپتے تھے آپکی قربت کے لیے .” وہ اسکے قریب ہوتی جارہی تھی اور وہ اسے تھوڑا تھوڑا دور آخر کار اسیر نے پھول توڑ ہی لیا ٹھیک جس جگہ سے جہاں اسیر نے پھول توڑا وہاں طلسم نے اپنے جادو سے ایک ویسا ہی بھول بنایا دیا جو کچھ وقت بعد خود ہی مرجھا جانا تھا ۔ پھول طلسم نے اپنے کپڑوں میں چھپا لیا تھا ۔اسیر وہاں سے جانے لگا تھا جب اسکی نظر کھڑکی کے تھوڑا قریب دیوار پر سناش کو دیکھا ۔” سناش کتنا اچھا لگتا ہے ایسا کام کرتا ۔” اسنے اسے اشارے کیے آخرکار اسکی نظر اس پر پڑ ہی گئی اسنے اسے اشارہ کرکے بتا دیا جس پر اسنے سکھ کا سانس لیا۔ ۔” ٹھیک ہے رانی رکھاہم چلتے ہیں آپ کسی کو مت بتائیے گا ہم آپ سے ملنے آئے تھے ۔” یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گیا برکھا اسے آوازیں دیتی رہی ۔اخرکار وہ تینوں باہر آگئے سپاہی کچھ وقت بعد خودی کھل جاتے یا انھیں کھول دیا جانا تھا برکھا اور سب کو پھول وہیں کا وہیں ملنا تھا جو اصلی نہیں اسکے جیسا دِکھنے والا پھول تھا جو خون پڑتے ہی مرجھا جانا تھا ۔وہ تیز گھوڑ سواری کرتے طبیب خانے پہنچے طبیب نے فوراً اس سے ایک تریاق بنایا اور فاریہ کو پلا دیا جو آدھی نیلی ہوچکی تھی۔ سناش گم سم خاموش وہاں کھڑا تھا۔اسیر نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا “کیا ہوا سناش برکھا کے پاس سے آنے کا افسوس ہورہا ہے ؟” اسنے تو مذاق میں پوچھا تھا جو سناش کو اچھا نہیں لگا تھا ۔اسنے غصیلی نظروں سے اسیر کو دیکھا ۔” ہمیں خود سے گھن آرہی ہے ! ہم کیا کررہے تھے وہ ۔۔۔وہ عورت نہیں ہم گھٹیا بن گئے ۔” یہ کہہ کر وہ باہر چلا گیا ۔شہزادی فاریہ کو محل کے طبیب خانے لے آیا گیا تھا پھول والے واقعے کے بارے میں کسی کو نہیں بتایا گیا تھا ۔ سناش دروازے میں کھڑا اسے دیکھ رہا تھا جسے ابھی تک ہوش نہیں آیا تھا ۔اج فاریہ نے اسے بچانے کے لیے اپنی جان داؤ پر لگا دی جیسے انھوں نے طلسم کو بچانے کے لیے لگائی تھی دونوں منظر آپ میں ملتے جارہے تھے اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ۔ کہ اچانک فاریہ کے ہاتھ ہلنے لگے وہ بھاگ کر اسکے پاس آیا ” شہزادی فاریہ آپ ۔۔۔اپ ٹھیک ہیں ؟”
” سناش آپ تو ٹھیک ہیں ؟” ۔۔۔” جوحرکت آپ نے کی تھی اسکے بعد ہمیں کچھ ہوسکتا تھا کیوں کیا آپ نے ایسا وہ اب مکمل ہوش میں تھی اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کررہی تھی وہ آگے بڑھ کر اسکی مدد کرنے لگا تھا جب فاریہ کی کہانی پھسل گئی اور وہ اسکے قریب آگیا بے حد قریب اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے ہوئے ناجانے کیوں لیکن سما شکی سرکاری سی نظر اسکے پورے چہرے پر پڑی اسکی آنکھیں سیف الملوک کے نیلے پانی سے بھی زیادہ نیلی اور گہری تھیں ۔اسکا چہرا چاند جیسا گول اور پرنور اسکی دائیں گال پر آنکھ سے زرا نیچے ایک چھوٹا سا گڑھا پڑتا تھا مسکرانے سے اسکے ہونٹوں پر مدھم سے مسکراہٹ بھی تھی جو شاید سناش کو دیکھ کر آئی تھی ۔ پلکیں اسکی بھی گھنیریں تھیں مگر طلسم سے کم گلابی ہونٹ مسکرا رہے تھے ۔وہ اسے دیکھ ہی رہا تھا جب طلسم آگئی ” سناش فاریہ کو ہوش آیا ” اور سامنے کا منظر اسے کے لیے غیر متوقع تھا سناش ایک دم سے سیدھا ہوا اور ہچکچاتا ہوا باہر چلا گیا طلسم حیرت سے اسے جاتا دیکھ رہی تھی ۔ ” طلسم وہ ہمیں اٹھنے میں مدد کررہے تھے ..”
تم فکر نہ کرو فاریہ ہم سناش کو اچھی طرح سے جانتے ہیں تم ٹھیک ہو ؟”
ہمم ہم ٹھیک ہے مگر کندھے میں بہت درد ہورہی ہے .”۔۔۔۔۔” فاریہ ہم آپ سے یہ تو نہیں پوچھے گے کہ آپ نے ایسا کیوں مگر آپ کو یہ ضرور بتائیں گے کہ سناش آپکے لیے کیا کیا ۔اسنے اسے آج پورے دن کا حال من و من سنا دیا ۔” سناش ہماری جان بچنے کے لیے اس برکھا کے پاس گئے وہ سب کیا ۔کیوں ؟”
ہم نے انھیں سب برا دیا ہے تو ہوسکتا ہے کہ اب انھیں اپنے خالی راستوں پر تمہارا دھندلا سا چہرا نظر آرہا ہو۔اپ سچ کہہ رہی ہیں طلسم سناش ہمارے ہوسکتے ہیں ؟” اس بات پر طلسم سے اثبات میں سر ہلا دیا لیکن وہ دونوں یہ نہیں جانتی تھیں سناش نے یہ سب کچھ ہمدردی اور انسانیت کے ناطے کیا اور طلسم جسے فاریہ کا کرنا چاہتی تھی وہ تو پہلے ہی اپنی جان کا سودہ کر چکا تھا ۔
رات دیر تک فوارے کے پاس بیٹھا آسمان کو تک رہا تھا جب اسیر اسکی پاس آیا ۔” ہم یہاں یثھ سکتے ہیں” اسنے انسان سے نظریں ہٹا کر اثبات میں سر ہلا دیا اسیر وہیں بیٹھ گیا ” سناش اگر آپ مبرا نہ مانے تو ایک سوال پوچھوں؟”
” جی پوچھیں !” ۔۔” آج آپ نے فاریہ کے لیے اتنا کچھ کیا مطلب آپ بلکل ہی حواس باختہ ہوگئے تھے اور ۔۔۔اسکا سوال مکمل۔ہونے سے پہلے سناش نے اسکا جواب دے دیا تھا ۔” وہ صرف ہم نے اسلیے کیا کیونکہ ایک تو وہ ہماری مہمان ہیں دوسرا انھیں زخم ہماری وجہ سے آیا اور تیسرا ہماری جگہ کوئی بھی ہوتا تو یہی کرتا ۔”اپنا جواب سنا کر وہ اٹھ کر جانے لگا .” سناش اگر اسے نہ پاسکو جس سے تم محبت کرتے ہو تو اسے ضرور پا لینا جو تم سے محبت کرتا ہے ۔” اس بات پر اسنے پلٹ کر اسیر کو دیکھا اور پھر آگے بڑھ گیا جاتاجاتا وہ یہ ضرور کہہ گیا ” اب ان سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔”
