Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam NovelR50472 Shehr-e-Sahar Episode 27
No Download Link
Rate this Novel
Shehr-e-Sahar Episode 27
Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam
وہ اپنے کمرے میں پاؤں پکڑ کر بیٹھی تھی کنیزیں اسکے اردگرد موجود تھیں مگر وہ کسی کو بھی ہاتھ لگانے نہیں دے رہی تھی ۔ اسنے آتے ہی کنیزوں کو جانے کا اشارہ کردیا ۔ اور خود اسکے پاس بیٹھ گیا ۔
” سناش آپ نے اسے سزا دی ؟” ۔۔۔۔” طلسم ہم ….” اسکی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ وہ کھڑی ہوگئی ۔” آپ نے نہیں دی نہ ہم دے کر آتے ہیں !” وہ باہر جانے لگی جب اسنے اسکا ہاتھ پکڑ لیا اسنے پلٹ کر اسے دیکھا اسکا ہاتھ پکڑے وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا ۔” بس کردیں طلسم اور کتنا شرمندہ کریں گی؟”
” سناش کھڑے ہوں ! ایک ہی بات کتنی دفعہ سمجھاؤ آپکو پیار سے سمجھایا غصہ کیا مثالیں دیں آپکا طریقہ اپنایا لیکن پھر بھی آپ نہیں سمجھتے تو بتائیں کیا کریں ہم ؟”
” ہمیں سمجھ آگئی ہے کہ ہم ہمیشہ ایک ہی غلطی دہراتے ہیں اور ہمیشہ آپکو خفا کرتے ہیں لیکن طلسم آپکو لیکر کوئی بھی لاپرواہی ہمیں برداشت نہیں ہے ہم اسلیے اپنے غصے پر قابو نہیں رکھ پاتے ۔”
” غصے میں اور انجام میں کس چیز کا فرق ہوتا ہے ؟ سوال طلسم کا تھا اور وہ سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا ” سوچ کا ” اگر غصے میں کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے یہ سوچ لیا جائے کہ غلط ہے یا سہی یا اسکا نتیجہ کیا ہوگا تو شاید ہم ہمارے غصے کو ٹھنڈا کرسکیں۔ جب غصے کو خود پر حاوی کرلیا جائے نہ تب یہ سوچ کہیں دب جاتی ہے ہمیں بس ایک گہرا سانس لیکر اسے اندر سے تلاشنہ ہوتا ہے آپ ہمیشہ یہ سوچ یہ سبق بھول جاتے ہیں اور غصے میں وہی غلطی کرتے ہیں ۔بے قابو غصہ رکھنا کوئی کمال بات نہیں ہے اور آپکو تو یہ ویسے بھی زیب نہیں دیتا جو انسان دلوں پر راج کرتا اسکے ہاتھ لوگوں کے گریباونوں تک نہیں جانے چاہیے ہم اسلیے چاہتے کہ جیسے لوگ اب آپ سے محبت کرتے ہیں کرتے رہیں کوئی آپ سے نفرت نہ کرے آپ سے ڈرے نہ ایک دوست ہونے کے ناطے ہم آپکو ہر اس بات سے ٹوکے گے جو ہمیں لگے گی غلط ہے اسکے لیے ہمیں جھگڑنا بھی پڑا تو جھگڑے گے کیونکہ ہمیں کسی نے سکھایا تھا کہ جب کوئی انسان غلط راہ پر چل پڑے تو اسکے پیچھے غلط راہ پر نہیں چل پڑتے اسکے پیچھے آتے ہیں اور اسے وہاں سے لیکر الٹے قدموں واپس آجاتے ہیں ہم بھی آپکو اس غصے کے گہرے دلدل سے نکالنے کے لیے آپکو روکتے ہیں تاکہ یہ آپکو نگل نہ جائے آپکی اچھائی رحم دلی کہیں ختم نہ کردے .کسی کو تکلیف دے کر کچھ حاصل نہیں ہوتا آپ اس غلام کو سزا دے دیتے تو کیا ہمارا زخم ٹھیک ہوجاتا نہیں نہ تو کیوں جیسے ہم تکلیف میں ہیں دوسروں کو وہی تکلیف دے کر ہم کہاں تسکین ڈھونڈ رہے ہیں سب کا درد اپنا اپنا ہوتا ہے درد کم کرنا چاہیے بانٹنا چاہیے نہ کہ کسی کو دینا چاہیے او ہوسکے تو اسکے درد کا مداوا بھی کرنا چاہیے شہر سحر کے لوگ ایک دوسرے کا صرف درد نہیں زخم بھی بانٹ لیتے ہیں اچھی بات مگر جو گھاؤ کسی کی قسمت کا وہ چاہے اس سے جتنی مرضی جان چھڑا وہ اسے مل کر رہتی ہے درد بانٹنے کے لیے بھی پہلے درد کا ہونا ضروری ہے جو کسی کی قسمت کا ہوتا جو جس کا ہے اسی کا رہنے دینا چاہیے اسلیے ہم اپنے زخموں کو لینے نہیں دیتے ۔”اور وہ خاموش ۔مسکرا کر اسے سنتا جا رہا تھا جیسے امام خطبہ دے تو ہر نمازی سنتا ہے ۔اور دروازے کے باہر کھڑی ان دونوں کو ساتھ دیکھ کر جل بھن رہی تھی
غصے سے نتھنے پھلانے کے علاؤہ کوئی چارا بھی نہیں تھا ۔اور اس سے کچھ دور اپنے زخم پر ہاتھ رکھے دیوار سے ٹیک لگائے اسیر اسے دیکھ رہا تھا ۔” کیا لگا تھا فاریہ تم آؤ گی ان دونوں کو الگ کردو گی تمہارا مقابلہ ان دونوں سے نہیں اسیر شاہنواز سے ہے اور وہ اڑتی چڑیا کے پر گن لیتا ہے تم نے تو پھر ابھی اڑنا سیکھا ہے ۔وہ وہیں تھا جہاں سناش ان غلاموں سے سوالات کر رہا تھا اسی رہادرای میں جہاں سے باغ نظر آتا تھا وہ چلنے کی کوشش کررہا تھا جب۔ سارا ماجرا ہوا سناش غلاموں پر غصہ کر رہا تھا لیکن طلسم کچھ کہ نہیں رہی تھی اسنے فاریہ کی کمینیی ہنسی بھی دیکھ لی تھی ۔” اگر طلسم ان کے لیے کچھ نہیں بولی تو سناش کا شک یقین میں بدل جائے گا کہ طلسم صرف میرے بارے میں سوچتی ہے اسنے دو تین دفعہ اسے اشارہ بھی کیا مگر وہ متوجہ نہیں ہوئی پھر اچانک اسنے اسکی جانب دیکھا وہ اسے کچھ کہ رہا تھا مگر وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی پھر اسنے کاغذ قلم لیا اور انگلش میں لکھا ۔
Get up talism it’s time to speak up for these servants
اسے سمجھ آگئی تھی ایک بار پھر اسیر نے ان دونوں کی دوستی بچا لی تھی ۔مگر فاریہ پر نظر رکھنا اسکا لازم ہوگیا تھا اسلیے کچھ دیر بعد اسنے شمس کے زریعے طلسم کو اپنے پاس بلایا تھا ۔
” اسیر آپ کیسے ہیں اب ؟” ۔۔۔” طلسم میں ٹھیک ہوں تمہیں زیادہ چوٹ تو نہیں آئی ” وہ جھک کر اسکے پاؤں کو چھونے لگا تھا مگر گھاؤ کی وجہ سے تکلیف ہورہی تھی اسلیے روک گیا ۔
“ اسیر آپ جھکے نہیں درد ہوگا اب آپ ناراض تو نہیں مجھ سے میں نے سناش کو بھی منا لیا “
طلسم میں تم سے پہلے بھی ناراض نہیں تھا بس افسوس ہوا تھا تم میری بات سنو کچھ دن جب تک میں ٹھیک نہیں ہوجاتا تمہیں فاریہ سے تھوڑا دور رہنا ہوگا مطلب وہ تمہیں کہیں جانے کا کہے تو اسکے ساتھ مت جانا ۔”
“ اسیر آپکو پورا یقین ہے فاریہ نے یہ سب کچھ کیا ہے مجھے ابھی بھی لگتا ہے کہ آپ شاید فاریہ کو غلط سمجھ رہے ہیں “
“ نہیں بلکل سہی سمجھ رہا ہوں اسکے آتے ہی تم پر قاتلانہ حملہ ہوگیا آج اسکے ساتھ کھیلتے ہوئے تمہارے پاؤں میں کانٹے دار ٹہنی پیوست ہوگئی ۔وہی کررہی یہ سب ۔”
“ لیکن وہ تو سناش سے محبت کرتی ہے نہ محبت کرنے والے کسی کا برا نہیں چاہتے اسیر .” اسکے اس جملے پر اسیر نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا پھر اپنا کرتا اتار دیا جہاں پیٹ پر اور پیٹھ پر زخموں پر پٹی لگی تھی ۔” اس سے زیادہ تمہیں میں کیا بتاؤ کے محبت اگر ضد پر اجائے تو کیا کرسکتی ہے ۔” اسنے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں ” طلسم فاریہ سناش سے محبت کرتی ہے مگر اسے پانے کے لیے وہ تمہاری جان کی درپے ہے اس پہلے کے وہ تمہیں کچھ اور کرے میرے ٹھیک ہونے تک تم اس سے سنبھل کر رہنا ۔” اور اسنے اثبات میں سر ہلا دیا اور اسنے اسکے ماتھے پر لب رکھ دیے ۔” فاریہ ہمارے ساتھ یہ سب اسلیے کر رہی کیونکہ اسے بھی کہیں نہ کہیں لگتا ہے ہم سناش سے محبت کرتے ہیں اگر ہم انکی یہ غلط فہمی کو دور کردیں تو شاید وہ سمجھ جائیں ہم آج ہی فاریہ سے بات کرتے ہیں پھر اسیر کو اور کوئی تکلیف اٹھانی نہیں پڑے گی ۔”
“ اس طلسم کا کچھ تو سوچنا پڑے گا ایسا بھی کیا دیوانہ پن کہ اسکے آگے کوئی نظر نہیں آتا ایسے تو ہم سناش کو کبھی بھی اپنے ہونے کا احساس نہیں دلوا پائیں گے اور طلسم بھی ہر وقت انکے ساتھ رہتی ہے ان دونوں کو الگ کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے ” وہ اپنے کمرے میں خود کلامی کر رہی تھی جب پیچھے مڑنے پر طلسم پر اسکی نظر پڑی اسکی سانس اٹک گئی ۔” اسنے سب سن تو نہیں لیا !”
“ تم ٹھیک سوچ رہی ہو فاریہ میں نے سب سن لیا ہے ہمیں سب پتہ چل گیا ہے کہ ہم پر سناش کہ خنجر سے حملہ آپ نے کیا تھا باغ میں جان بوجھ کر ہمیں اس طرف لیکر گئیں تاکہ وہ کانٹے دار ٹہنی ہمارے پاؤں میں لگے آپ سنا ش کو ہم سے بدگمان کرنا چاہتی ہیں ۔” بغیر سوچے سمجھے اسنے سب دوہرا دیا تھا ۔جس سے فاریہ کے چہرے پر ایک رنگ آکر گزر گیا تھا ۔” آ۔۔۔آپ ۔۔۔یہ کیا کہہ رہی ہیں طلسم ہم ایسا کیوں کریں گے ۔”
“ سناش کو حاصل کرنے کے لیے وہ ہم سے دور ہوگا تو آ پکے قریب آئے گا نہ آپ ہمیں اس سے الگ کرنا چاہتی ہیں تاکہ آپ کا راستہ صاف ہو جائے ۔” فاریہ کی سانس لڑکھڑانے لگی تھی ۔
“ ڈریے مت فاریہ ہم یہ سب سناش کو نہیں بتائیں گے کیونکہ ہمیں پتا ہے وہ ناجانے آپکے ساتھ کیا سلوک کریں گے ویسے ایک بات بلکہ ایک غلط فہمی دور کرنے آئے تھے ۔” وہ بات کرتی کرتی آگے بڑھ رہی تھی اور وہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی ۔” ہم سناش سے محبت نہیں کرتے ” یہ جملہ کہتے ہوئے طلسم کے دل میں ہلکہ سا درد ہوا تھا جیسے دل پوچھ رہا کیا سچ میں ؟ مگر وہ اس احساس کو نظر انداز کرگئی ۔لیکن فاریہ کو جھٹکا لگا تھا ۔” ہاں ہم سناش سے محبت نہیں کرتے آپ ہمیں راستے سے ہٹانا چاہتی تھیں کہ سناش آپکو مل سکے مگر ہم تو آپکے راستے کی رکاوٹ ہیں ہی نہیں سناش ہمارا دوست ہے بہت اچھا دوست اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔” فاریہ کہ شرمندگی سے آنسوں رواں ہوگئے تھے ۔” مگر وہ تو آپ سے کرتا ہے اتنی جتنی ہم ان سے کرتے ہیں ہماری بات تک وہ آپکے لیے نہیں سنتے آپکے ہوتے ہوئے وہ ہمارے کیسے ہونگے ۔”
“ فاریہ سناش کو پتہ ہے ہم ان سے محبت نہیں کرتے وہ ہمیں اپنی محبت کا احساس دلانے کے کوشش کر رہے ہیں کہ ہم بھی ان سے محبت کرنے لگے لیکن یہ سب کرکے انکا دیونہ پن بڑھاتی جارہی ہو تم ” طلسم کی بات سن کر وہ آنچل ہاتھوں میں پھیلائے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی ۔” میں نے سنا ہے طلسم تم بہت سخی ہو آج تک تم سے مانگنے والا خالی ہاتھ نہیں گیا آج میں تم سے مانگتی ہوں سناش میری جھولی میں ڈال دو ۔” اسکی اس حرکت نے طلسم کا دل میٹھی میں لے لیا تھا ۔یہ کیا مانگ رہی ہو ” فاریہ سناش میرے کشکول میں پڑا کوئی سکہ نہیں جو تمہیں خیرات میں دے دوں وہ فرشتہ ہے پاک روح جس کا دل دھڑکتا ہے سانس لیتا ہے جس کے اپنے فیصلے ہیں ۔”میں جانتی ہوں وہ آپ سے محبت کرتا ہے مگر آپ نہیں کرتیں وہ آپکا انتظار کر رہیں آپ انھیں انکار کردیں گے تو انکا انتظار ختم ہوجائے گا اور پھر میں انھیں اپنا بنا لوں گی ۔”
“ انکار کردوں سناش کو میں اسے کیسے کہ دوں تم اپنی کوشش چھوڑ دو اسی کوشش پر تو مسکراتے ہیں فاریہ میں نے انھیں صاف کہہ دیا کہ ہم آپ سے محبت کر ہی نہیں سکتے ہوگی نہیں تو وہ ہنسنا چھوڑ دے گا ۔سناش کی وہ مدھم مسکراہٹ کا ہی تو کر کوئی مداح ہے میں کیسے چھین لوں ایک بار ہوچکا ہے وہ سب بھول گیا تھا ایک بار پھر نہیں ” وہ گھٹنوں کے بل بیٹھی اسے سمجھا رہی تھی ۔” تو بتاؤ ہم کیا کریں ؟”
“ کوشش جو وہ کررہا ہے تم بھی کرو جس طرح وہ مجھے اپنی محبت کا احساس دلا رہے ہیں اسی طرح تم بھی انھیں احساس دلاو ۔”
“ اور اگر وہ کوشش میں کامیاب ہوگیا آپ کو اس سے محبت ہوگئی تو ؟”
“ ایسا کبھی نہیں ہوگا کیونکہ میں کسی اور سے محبت کرتی ہوں ” یہ تو فاریہ کی حیرت کی انتہا تھی ۔” کس سے ؟”
“ ہے کوئی مگر تم مجھ سے وعدہ کرو تم کوشش کرو گی زبردستی نہیں کرو وعدہ ۔” فاریہ نے پہلے اسکے ہاتھ کو دیکھا پھر اپنے آنسوں پونچھ کر اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا ” ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں طلسم ہم اب برائی کے جال سے نہیں اچھائی کی کوشش سے سناش کو حاصل کریں گے ۔
رات گئے سناش ایک بار پھر کال جنگل آیا تھا ۔تمام جانور ایک بار پھر اسے حیرت سے دیکھ رہا تھے جو پہلے سے کافی بہتر خوبصورت اور مسکرا رہا تھا ۔ شاہین اسکے کندھے پر بیٹھا تھا ۔” آپ سب ہمیں حیرت سے کیوں دیکھ رہیے ہیں ہم تو آپکو ایک بات بتانے آئے تھے ۔” آج وہ بہت زیادہ خوش تھا ۔چڑیوں کی ایک ڈار اسکے سامنے اڑنے لگی چوں چوں کر کے پوچھنے لگی کہ کیا ” آپ سب کو پتا ہے طلسم واپس آگئی ہیں ۔اور سب بڑی بات یہ کہ انھیں ہماری فکر ہے کہیں ہم سے کوئی غلطی نہ ہو جائے ہمارے ہاتھوں کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو وہ ہمیں سمجھاتی ہیں فکر کرنے لگی ہیں پہلے سے زیادہ اور فکر تو وہاں ہی ہوتی ہے نہ جہاں محبت ہو وہ ہم سے تھوڑی تھوڑی محبت کرنے لگی ہیں ہمارے عشق کا رنگ ان پر چڑھتا جارہا ہے اسلیے آج ہم بہت خوش ہیں اور یہی خوشی ہم آپ سے بانٹنے آئے ہیں ۔اب انکے اور ہمارے درمیان کوئی نہیں آسکتا اب صرف وہ ہیں اور ہم جتنی غلط فہمیاں تھیں سب دور ہوگئی طلسم ہمارے سوا کسی کی ہوہی نہیں سکتی اور بہت جلد ہمارا نکاح ہوگا اور اس میں آپ سب ہونگے ۔” اسکی بات پر تمام جانور شور مچا رہے تھے چڑیاں اسکے گرد گھوم رہی تھیں اور وہ خوشی سے چہک رہا تھا اس بات سے انجان کہ طلسم اسے کسی اور کا کرنے کے لیے تیاری کیے بیٹھی تھی اور وہ اس سے نکاح کے سپنے سنجو رہا تھا ۔
دن گزرنے لگے تھے فاریہ اپنے وعدے پر قائل ہوگئی تھی اسنے طلسم کو نقصان پہنچانا بند کردیا تھا وہ بس سناش کے آس پاس زیادہ رہتی تھی ۔سناش اپنے جنگی فنون میں بہت زیادہ مصروف ہوگیا تھا لیکن طلسم کے لیے وہ ہمیشہ وقت نکال ہی لیتا تھا اور محبت بھری باتوں۔ میں الجھا لیتا پہلے کی طرح وہ ڈر کر یا ہڑبڑا کر اسے چھوڑ کر جاتی نہیں تھی بات بدل لیتی تھی ۔اسیر آہستہ آہستہ ٹھیک ہورہا تھا چلنے بھی لگا تھا ۔صیاد کی مشکل اب بھی نہیں سلجھی تھی اسنے شہر سحر کی تمام جادوئی کتابیں پڑھ لی تھیں جس سے اسے چاند کے راز جاننے کی طریقے ملے تھے چاندنی سے بات کرنے کا بھی طریقہ اسنے نکال لیا تھا اب وہ ایک مناسب وقت کا انتظار کر رہا تھا مگر اس سے پہلے اسے ایک بہت بڑا نقصان ہونے والا ہے ۔
دربار لگا ہوا تھا تمام لوگ موجود تھے شہر کے الگ الگ موزوں پر گفتگو ہورہی تھی سناش صیاد شہباز شمس سب وہاں موجود تھے صیاد کچھ کہ ہی رہا تھا جب زبیر بھگتا ہوا اندر آیا وہ ہانپ رہا تھا جس نے آو دیکھا نہ تاؤ سیدھا بول دیا ” راجہ ہیرا چوری ہوگیا !” باقی سب اس جملے پر تھوڑا حیران ہوئے تھے مگر شہباز اور صیاد کے کان کھڑے ہوگئے وہ حیرت اور غصے سے اسکی جانب دیکھ رہا تھا جو بولے جا رہا تھا ” راجہ مجھے نہیں پتہ میں تو ہر روز اسے دیکھنے جاتا تھا مگر آج جب میں گیا تھا تو وہ وہاں نہیں تھا .”
“ دربار برخاست کیا جاتا ہے ! صیاد کے کہتے ہی تمام لوگ وہاں سے چلے گئے تھے سوائے سناش اور زبیر کے ” ابا یہ زبیر کس ہیرے کی بات کررہا ہے ؟”
“ وہی ہیرا جو شہر سحر کی بنیاد تھی سناش !” بے ساختہ بولے گئے زبیر کی بات پر صیاد اور شہباز نے ماتھا پیٹ لیا تھا ۔
“ کیا ! وہ ہیرا تو تایا جان کی حیات میں ہی چوری ہوگیا تھا تو وہ اب چوری کیسے ہوسکتا ہے ؟”
“ نہیں وہ ہیرا چوری نہیں ہوا تو وہ تو ہم نے ۔۔۔” اس سے پہلے کے زبیر کچھ بولتا صیاد نے اسے تلوار دکھا دی تھی ۔
“ وہ ہیرا ہم نے شہر سحر کی نظر میں چوری کروایا تھا تاکہ کسی کی اس پر نظر نہ پڑے تو زولفشان راجہ نے اسے ایک خاص جگہ پر چھپا دیا تھا ۔”بات کو شہباز نے سنبھالا تھا ۔
“ تو وہ ہیرا اب سچ میں چوری ہوگیا مگر کیسے ؟ ” فکر تو اب سنا ش کو بھی ہونے لگی تھی ۔تبھی طلسم اسیرکو ساتھ لیے دربار میں آئی تھی مگر سب کے چہرے دیکھ کر کچھ حیران رہ گیا ۔
“ کیا ہوا کوئی بات ہوئی ہے چچا ؟”
“ طلسم آپ یہاں کیا کر رہی ہیں ؟”چچا ہمیں پتا چلا تھا دربار ختم ہوگیا ہے تو ہمیں آپ سے کچھ بات کرنی تھی مگر آپ سب اتنے پریشان کیوں ہیں ؟”
“ کچھ نہیں تم جاؤ ابھی ہم تمہاری بات نہیں سن سکتے ؟”اسنے صیاد کے چھوڑ کر سوال سناش سے کیا ” سناش ہم بھی اس محل کا حصہ ہیں اور ہمیں پورا حق ہے جاننے کا کہ محل میں کیا کیا ہورہا ہے بتائیں کیا ہوا ہے ؟”
“ طلسم وہ ہیرا جو شہر سحر کی بنیاد تھی وہ چوری ہوگیا ہے “
