Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam NovelR50472 Shehr-e-Sahar Episode 16
No Download Link
Rate this Novel
Shehr-e-Sahar Episode 16
Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam
ہم تیرے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرح ۔۔
ہم تیرے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرح ۔۔۔۔
اسنے اسے اپنی باہوں میں اٹھا اسنے بھی اپنی باہیں اسکی گردن کی گرد حائل کردیں وہ اسے اٹھا کر بیڈ پر لایا ۔اور اس پر جھک گیا اسکے لبوں کے قریب جاکر وہ بولنے لگا ۔۔۔” مجھے پتا ہے تمہیں کس چیز کا خوف کھا رہا مجھے اور تمہیں کوئی الگ نہیں کرسکتا لیکن یتیمی کا ایک احساس جو زاہد بابا اور امی کے ہونے کے باوجود میں نے محسوس کیا ہے میں اسے بس تسکین دینا چاہتا ہوں میں اپنے بابا کی روح کو سکون دینا چاہتا ہوں اپنی ذمہ داری پوری کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔”
میری منزل ہے کہاں میرا ٹھکانہ ہے کہاں
صبح تک تجھ سے بچھڑ کر مجھے جانا ہے کہاں ۔۔۔۔
سوچنے کے لیے اک رات کا موقع دے دے ۔۔۔
ہم تیرے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرح۔۔
بس ایک بار ملاقات کا موقع دے دے ۔۔۔۔
ہم تیرے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرح۔۔۔۔
اسنے ایک بار پھر اسکے ماتھے کو چوما تھا ۔۔۔” میں وعدہ کرتا ہوں وہاں اپنا کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے میں ایک بار تمہارے بارے میں ضرور سوچوں گا کہ کہیں تم اس سے دکھی تو نہیں کوشش کروں گا ہر لمحہ تمہارے ساتھ رہنے کی تمہارا سایہ بن کر اسیر کبھی بھی اپنی طلسم سے دور نہیں رہے گا اسکے بے پنحا عشق میں غلامی اسے اب بھی قبول ہے اور تب بھی رہے گی ۔میری ہر سانس تمہاری امانت سمجھ کر ادا کروں گا ۔۔۔۔۔اسنے تڑپتے دل کے ساتھ اسکے لبوں کو اپنی گرفت میں لیا تھا ۔وہ چاہتی تھی اسے اپنے اندر جذب کر نا کیونکہ وہ جانتی تھی وہاں ہر پل اسکے ساتھ رہنا کتنا مشکل تھا۔بند آنکھوں سے بھی ایک آنسو طلسم کے چہرے پر گرا تھا اور طلسم کی آنکھ کا پانی نرم بستر میں گم ہوگیا تھا ۔
اپنی آنکھوں میں چھپا رکھے ہیں جگنو میں نے ۔۔۔
اپنی پلکوں میں سجا رکھے ہیں آنسوں میں نے ۔۔۔۔
میری آنکھوں کو بھی برسات کا موقع دے دے ۔۔۔
ہم تیرے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرح۔۔
بس ایک بار ملاقات کا موقع دے دے۔۔۔
ہم تیرے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرح۔۔
کچھ لمحوں بعد وہ اسے سے دور ہوگیا تھا آنکھیں دونوں کی نم تھی ایک ڈر رہا تھا دوسرا دکھی تھا ۔۔” طلسم کیوں رو رہی ہوں تمہیں دیکھ کر تو مجھے ہمت ملتی ہے تم رو گی تو میں ٹوٹ جاؤں گا ۔اسکے جواب میں اسنے مسکرا کر اسکے گال پر ہاتھ رکھا ۔۔۔” مس ڈاؤن ٹو ارتھ اپنے ساون کے اندھے سے بے پنحا محبت کرتی ہے اسکی محبت اتنی ایموشنل ہے کہ مجھے رونا آگیا ۔۔اسکی بات پر وہ مسکرا دیا ۔۔” طلسم جو خواب میں نے آپکے ساتھ دیکھے ہیں وہ میں ضرور پورا کروں گا اور مجھے کوئی صیاد نہیں روک سکتا آج کی رات مجھے بس تم سے پیار کر نا ہے پھر تو پیار پر پہرے لگ جائیں گے ۔۔۔وہ اسکی گردن پر جھک گیا تھا ۔
آج کی رات میرا دردِ محبت سن لے ۔۔۔۔
کپکپاتے ہوئے ہونٹوں کی شکایت سن لے ۔۔۔۔
آج اظہارِ خیالات کا موقع دے دے ۔۔۔
ہم تیرے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرح۔۔
بس ایک بار ملاقات کا موقع دے دے ۔۔۔
ہم تیرے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرح۔۔۔۔
وہ دوبار اسکے چہرے کی جانب متوجہ ہوا ۔۔۔۔” طلسم میں کہتا تھا نہ میں تمہارے ایک ایک نقش پر تفسیر لکھ سکتا ہوں مگر تمہاری آنکھوں سے آگے بڑھ ہی نہیں پاتا طلسم اج بھی میں وہیں اٹکا ہوں اسے آگے نہ تو دیکھنے کی حسرت ہے اور نہ ہمت یہ جادو میں جکڑے جاتا ہے تم وہاں اپنی آنکھوں کو زرا چھپا لینا ورنہ جو میں کرنے جارہا ہوں وہ کر نہیں پاؤں گا ۔۔۔اپنے لبوں سے اسنے اسکی آنکھوں کو چھوا ۔دھیرے دھیرے وہ اس میں گم ہوتا جارہا تھا ۔ایک دوسرے میں گم رات گزر گئی تھی ۔اور دن کو نور ان۔دونوں کے لیے خوف لایا تھا ۔
وہ اسکے سینے پر سر رکھے نیند سے بیدار ہوئی وہ ابھی بھی سو ہی رہاتھا معصوم سا بچہ جسکے بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے ۔جس کے ہونٹوں پر ایک مدھم مسکراہٹ تھی شاید رات کے ایک ایک لمحے کی وجہ سے مگر وہ اب بھی پریشان تھی کہ وہاں جا کر کیا ہوگا سناش !! اس سے آگے وہ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی۔ وہ آنکھیں موندے کر پھر لیٹ گئی ۔حنا اور علی آگئے تھے ۔اسیر اور طلسم نے انھیں سب بتادیا تھا ۔
تو یعنی تیرے خواب بے وجہ نہیں تھے سب سچ تھا ۔وہ چارو ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے ۔طلسم سر جھکائے بیٹھی تھی اور حنا اور علی چوری چوری اسے دیکھ رہے تھے جس سے اسے اور عجیب لگ رہا تھا ۔
ہاں سب سچ تھا چاند میں وہ دروازہ کھلتا میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور آدمی شاید میرے بابا ہیں اور مجھے وہاں جانا ہوگا ۔۔
حنا تو مسلسل اسے دیکھ رہی تھی۔ ” تو میں غلط نہیں تھی تم واقعی ہی شہزادی تھی ؟”
ہاں مگر میں سنووائٹ نہیں تھی تب تو مجھے یہ بھی نہیں پتا تھا کہ وہ ہے کون ۔
ٹھیک ہے اے ایس اگر یہ بات ہے تو تو جا میں یہاں ہوں ” علی نے اسکا ہاتھ تھام کر کہا ۔سارا دن اسنے طلسم سے شہر سحر کے بارے میں کر انفارمیشن حاصل کی تھی لیکن سب کچھ کے باوجود اسنے اسے سناش کے بارے میں نہیں بتایا تھا صرف اتنا بتایا تھا کہ صیاد کا ایک بیٹا ہے جس سے وہ سب سے زیادہ محبت کرتا ہے مگر ہم اسے اسکی کمزوری نہیں کہ سکتے اس سے آگے وہ اسے کیا بتاتی کے وہ کیا ہے ۔رات ہوچکی تھی پورا چاند اب بھی چمک رہا تھا ۔وہ چاروں چھت پر موجود تھے ۔وہ دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے کھڑے تھے ۔
علی اور حنا معذرت کے ساتھ مجھے آپ دونوں سے کہنا پڑے گا کہا آپ کو یہاں سے جانا ہوگا آپ یہاں موجود نہیں رہ سکتے ۔
لیکن کیوں ہم دیکھ کیوں نہیں سکتے ؟مجھے دیکھنا ہے ” حنا اداس ہوگئی تھی ۔
نہیں حنا اسکی بہت بڑی وجہ جو مجھے بتانے کی اجازت نہیں ہے پلیز میری بات کو سمجھو یہاں سے جاؤ ۔۔۔
ہم جارہے ہیں آپ دونوں پریشان نہ میں اسے سمجھا لوں گا ۔۔۔علی نے اسیر کو اپنے گلے لگایا ” اے ایس اپنا خیال رکھنا اور جلدی آنا ” ان دونوں سے مل کر وہ نیچے آگئے تھے ۔
” اسیر ایک بار پھر سوچ لیں آپ چاہے تو ہم نہیں جائے گے ۔”
اب سوچنے کا وقت نہیں ہے یہ میری سوچ نہیں ارادہ ہے ۔تم یہ بتاؤ دروازہ کھولنے کے لیے جو بولنا ہم دونوں کو الگ الگ بولنا ہوگا یا ایک ساتھ ۔”
دونوں کر سکتے ہیں ۔۔۔۔تو ٹھیک ہے ہم ایک ساتھ بولے گے ۔۔۔چاند قریب آگیا تھا وہ دونوں مسکرا کر ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے نہ کی چاند کو ۔۔
ایک اجنبی سا احساس ہے ۔۔
لگتا کوئی ہر پل میرے ساتھ ہے ۔۔۔
تم بن بنجر سی راہوں پر ۔۔۔۔۔
ریت کا ہر زرا اداس ہے ۔۔۔۔
اسیر طلسم ہوں میں ۔۔۔
وہ طلسم ساز ہے ۔۔۔
شہر سحر کے باشندے ہم ۔۔
بے جرم نہ قید کا کوئی جواز ہے ۔۔
دروازہ کھل گیا تھا اس بار وہ ڈرا نہیں تھا وہ منظر بلکل ویسا ہی تھی وہی روشنی وہی دروازہ ان دونوں نے ایک ساتھ چوکھٹ کا پار کیا تھا ۔ہر طرف نور ہی نور تھے کچھ دیرچلنے کے بعد وہ ایک اور دروازے کے سامنے کھڑے تھے۔وہ دروازہ بھی اسی طریقے سے کھلا تھا جیسے پہلے اور وہاں سے قدم باہر رکھتے ہی وہ کسی جنگل میں موجود تھے جو بلکل سنسان تھا کہیں کچھ بھی نہیں تھا ۔طلسم نے ایک نظر چاروں اور دوڑائی ۔۔
” طلسم یہ ہے شہر سحر ؟ وہ بھی چاروں اور دیکھ رہا تھا ۔
نہیں اسیر یہ شہر سے دور کال جنگل ہے ۔چاند کا دروازہ ہر بار اپنی جگہ تبدیل کرتا ہے میں غفران کے گھر سے آئی تھی اور لاہور باغ میں پہنچی تھی اور اب کال جنگل میں آئے راستہ ڈھونڈتے ہیں ۔۔وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر آگے کی طرف بڑھی تھی ۔ابھی وہ کچھ دور ہی گئے ہوں جب آگے اسے جنگل کے تمام جانور ایکساتھ کھڑے تھے ۔وہ اسیر کو لیکر وہیں درخت کے پیچھے چھپ گئی کہ کہیں کسی جانور کی نظر ان پر پڑ نہ جائے ۔ان کے درمیان کوئی بیٹھا تھا جس کی شکل اسے نظر نہیں آرہی تھی وہ کوشش کر رہی تھی مگر اسے کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا جب اسے اپنے عقب سے آواز آئی ۔
” تو آپ لوٹ آئیں شہزادی طلسم ۔۔” نہایت مدھم آواز سے کہا گیا تھا
اسکی تو سانس اٹک گئی تھی وہ ڈرتے ڈرتے پلٹی جہاں پیچھے ببر شیر کھڑا تھا ۔جسے دیکھ کر اسیر کے آنکھیں کھولی رہ گئی تھیں ۔
سورانچھ تم ؟ مگر وہ اسیر کو دیکھ رہا تھا ایک غرور تھا اسکی نظر میں جو اسیر کو دیکھ کر آیا تھا ۔۔۔” شہر سحر کے انقلابی قیدی کو کال جنگل کا بادشاہ خوش آمدید کہتا ہے ۔خوش آمدید ابنِ آدم !
شک۔۔۔شکریہ ۔۔۔اسکی تو سانس اسے دیکھ کر پھول رہی تھی کہ وہ کسی بھی لمحے اس پر حملہ کر دے گا اور اس سے بھی زیادہ اسکا بولنا ۔
” جو خوف دور کرنا آیا ہو اسے خوف زیب نہیں دیتا اسیر ! ابھی سے پریشان ابھی تو بہت کچھ برداشت کر نا ہے ۔”
سورانچھ تم جانتے تھے کہ میں زندہ ہوں اور تمہیں اسیر کے بارے میں کیسے پتہ ؟
اسیر کے بارے میں نہیں سب جانتے ہیں کہ کوئی تو نجات دہندہ آئے گا اور ہمیں صیاد کی اسیری سے نجات دلائے گا اور مجھے سب معلوم ہے کہ زولفشان کا قتل کیسے ہوا شہوار کیسے مرا آدم کا صیاد نے کیا کیا غفران کیسے زندہ بچ نکلا آدم نے اپنی دوسری اولاد کہاں چھپائی بیج کہاں ہے اور شہر سحر میں اطم کیسے ملے گا ۔
سوارنچھ تم پہیلی کے بارے میں جانتے ہو اسے کیسے حل کرنا ہے ۔
” طلسم پہیلی حل ہوچکی ہے اور مشکل پہیلی کو حل کرنا نہیں پہیلی ضرورتوں کا پورا کرنا تھا جن میں سے ابھی ایک ہوئے دوسری ابھی باقی جس کے بغیر اسیر بھی کسی کام کا نہیں اور وہ ہے اُطم ڈھونڈنا ۔
” اطم ہے کیا ؟ ” پہلے کے پہلے حصے کو حل کرنا ابھی باقی تھا ۔
” اسیر پہیلی تمہارے لیے تھی تو اسے حل بھی تم کرو گے میں تمہارے مدد تب کروں گا جب تمہیں لگے گا کہ تمہیں میری ضرورت ہے ۔” اسیر اب اس سے ڈر نہیں رہا تھا وہ اسکی باتوں کو بڑی غور سے سن رہا تھا ۔
” طلسم جاننا نہیں چاہو گی کہ ان جانوروں کے بیچ کون بیٹھا ہے ؟وہ ایک بار پھر اس انسان کی شکل دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی جو درمیان میں بیٹھا تھا ۔” کوشش کر رہی ہوں مگر یہاں سے دکھائی نہیں دے رہا کون ہے ؟”
سناش ! وہ ایک دم اسکی طرف پلٹی اور سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا ۔
” جس روز سے آپ گئی ہیں اس روز سے لیکر اب تک سناش ہر رات یہاں آتا اپنی طلسم کے ساتھ وقت بتانے اسے اپنی دل کی بات کہنے کبھی ہنستا ہے بچپن کی باتیں کرتا ہے کبھی زاروقطار روتا ہے کبھی محوِ رقص ہوجاتا ہے کبھی خاموش بیٹھا رہتا ہے ۔کر جانور اسکی اس حالت سے اداس ہیں شاہین سارے جنگل کا دورہ کر کے دوبارہ اسکے کندھے پر بیٹھ چکا ہے ہمیشہ کی طرح کسی نے بھی طلسم کو نہیں دیکھا ۔شہر سحر میں آٹھ مہینے سے کوئی سہانا موسم نہیں آیا دھنک کے رنگ نہیں بکھرے چڑیوں کی چہچہاہٹ نہیں سنائی دی خوشیوں کی گونج سنائی نہیں۔ دی کیونکہ سناش اپنے حواس میں نہیں رہا وہ اداس ہے تو شہر سحر کا زرہ اداس ہے طلسم تم شہر سحر چھوڑ کر نہیں گئی تھی اسکا ہر رنگ اپنے ساتھ لے گئی تھی ” اور وہ منہ پر ہاتھ رکھے سب سن رہی تھی اور تب ایک جانور کے ہٹنے سے سناش کا چہرا اسکے سامنے آیا تھا اسکی آنکھیں، کھلی رہ گئی تھیں۔” سناش یہ کیا حالت کرلی آپ نے اپنی !” وہ وہ سناش لگ ہی نہیں رہا تھا جس کا رنگ کندن سا تھا جس کے چہرے پر آگ جیسا تیج تھا وہ نظر اٹھا کر دیکھتا تو کسی کا بھی دل فنا کرسکتا تھا یہ تو کوئی عام سا آدمی تھا جو بوسیدہ سے میلے لباس میں بیٹھا تھا ۔بال الجھے بکھرے ہوئے داڑھی کے بڑھے بال اداس بنجر سی آنکھیں جن میں سے اب بھی آنسو نکل کررہے تھے پہلے سے کمزور ۔۔۔۔
” طلسم تمہاری جدائی نے سناش کو روگی بنا دیا ہے وہ اب مسکراتا نہیں ہے ہر روز اسی امید سے یہاں آتا ہے کہ ایک روز اسکی طلسم یہاں سے پلٹ کر آئے گی ۔”آنسوں اسکی آنکھوں سے بھی رواں تھے وہ کیا جواب دے گی روباش لاکٹ میں غصے سے آگ بگولہ ہوئے بیٹھا تھا ۔” میں تمہیں کھی معاف نہیں کروں گا طلسم سناش کی اس حالت کے لیے کھی بھی نہیں وہ اسکی جانب بڑھنے لگی تھی جب اسیر نے اسے پکارہ ۔
” طلسم کہاں جارہی ہو مجھے یہاں چھوڑ کر ؟ اسیر کا خیال تو اس اب آیا تھا ۔اسے اب سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے اسیر کے پاس رہے جسے وہ اپنی محبت کے سہارے لیکر آئی ہے یا اپنے بچپن کے دوست کے پاس جائے جس کی وہ حالت اسکی وجہ سے تھی ۔سورانچھ وہاں سے چلاگیا تھا اسے کشمکش میں چھوڑ کر ۔
اسیر چلیں ہمیں غفران کے پاس جانا ہے ۔اسنے دوستی پر محبت کو ترجیح دی تھی ۔جنگل سے نکلنے راستہ روباش نے دکھایا تھا ۔اسیر پر تو حقیقتیں کھلتی جارہی تھیں ۔روباش کو اسنے اب دیکھا تھا جو جگنو کی طرح آگے آگے چل رہا تھا ۔
” اسیر نے اسے بڑے پیار سے ہائے بولا تھا جسے اسنے نظر انداز کر دیا تھا وہ بھی غصے سے ۔۔۔” میں تمہارا دوست نہیں ہوں .” منہ پھیر کر وہ چلاگیا تھا ۔اسیر عجیب نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔” اسے میں نے کیا کہا ہے ۔۔؟وہ لوگ غفران کے گھر پہنچ گئے تھے ہمیشہ کی طرح دروازہ روباش نے کھولا تھا اور وہ نیچے تیخانے میں تھا وہ اسے لیے نیچے آگئی اور کھڑی ہوگئی موم بتیوں کی روشنی اب بھی کمرے کو منور کیے ہوئے تھی ۔دیوار پر دو سائے دیکھ کر مڑا اور ہکا بکا رہ گیا ۔
“غفران اسیر ابن آدم میں نے ڈھونڈ لیا ۔” لیکن وہ تو صرف اسے دیکھ رہا تھا جو چاروں طرف اس عجیب جگہ کو دیکھ رہا تھا جہاں بہت ساری کتابیں پڑی تھیں موبتیاں آدھی آدھی جل چکی تھی دیواریں کالی ہوچکی تھیں ایک عجیب پراسراریت بھرا ماحول تھا ۔اور وہ آدمی جو دیکھنے میں تو تیس چالیس کا لگ رہا تھا ۔خاکی چوغے میں لمبی داڈھی کندھوں تک بال جو ناجانے کتنے دونوں سے نہیں نہایا تھا ۔وہ مسلسل اسے دیکھ رہا تھا آنکھیں نم ہوچکی تھی وہ بلکل اپنے باپ جیسا تھا وہی چہرا وہی قد وہی حسن وہ ایک دم اسکی طرف بڑھا تھا جس سے وہ ڈر کر پیچھے ہوگیا اور اسے چھونے کے لیے اٹھے ہاتھ ہوا میں ہی معلق رہ گئے ۔
طلسم یہ مجھ سے ڈر رہا ہے طلسم مجھ سے ڈر رہا ہے ! اسے اسکی حرکت پر حیرت ہوئی تھی ۔
غفران اسکے لیے یہ سب نیا ہے وہ سمجھ نہیں پا رہا ۔۔۔اسے بول کر وہ اسیر کی جانب مڑی تھی ۔۔۔” اسیر غفران میں نے بتایا تھا یہ صرف جادوگر نہیں ہے یہ ۔۔۔یہ آپکے سگے چچا بھی ہیں ۔” اسنے حیرت سے پہلے طلسم کو دیکھا اور پھر غفران کو جو نم آنکھیں لیے باہیں پھیلائے کھڑا تھا ۔وہ ایک جھٹکے سے اسکے گلے لگا بنااس بات کی فکر کیے کہ وہ گندہ ہے اسکا لباس پھٹا ہوا بال بکھرے اسے پتا تھا تو بس یہ کہ اسکا اپنا رشتہ اسکا خون ہے ۔غفران سے اسے خود سے الگ کر کے اسکے چہرے کو چٹا چٹ چوم ڈالا تھا ۔
” تم وہی ہو وہی چہرا وہی وہی قد وہی خوشبو میرا بھائی واپس آگیا میرے بھتیجے کی صورت میں ۔۔۔” اسنے پھر اسے گلے لگایا تھا ۔طلسم نے پاس آکر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔
اسیر آپ ٹھیک ہیں ؟ وہ اس سے الگ ہوا چہرا آنسوں سے بھیگا ہوا تھا ” ہاں میں ٹھیک .” آنکھوں سے آنسوں پونچھتے ہوئے جواب دیا ۔
” چچا کیوں کیا آپ سب نے میرے ساتھ کیوں مجھے دوسری دنیا میں بھیج دیا گیا ابو امی بھائی کو صیاد نے مار دیا مجھے کچھ معلوم ہی نہیں تھا۔”
“اگر ہم تمہیں وہاں نہ بھیجتے تو تم بھی ان سب کی طرح مارے جاتے اسی وقت کے لیے تمہاری جان بچائی گئی تھی اب تم سب کو بچاؤ گے ۔۔ “
“غفران اب کیا کیسے کرنا ہے سب مطلب پہیلی آدھی حل ہوگئی ہے آدھی ضرورت پوری ہو گئی ہے ۔۔۔”
” اطم ڈھونڈنا باقی ہے ابھی …”
لیکن یہ اطم ہے کیا؟ طلسم نے وہی سوال دوبارہ پوچھا تھا ۔
اطم پتھروں سے بنے منار کو کہتے ہیں لیکن شہر سحر میں مجھے ابھی تک کوئی منار نہیں ملا پھتروں سے بنا کوئی منار ہے ہی نہیں ۔
لیکن ایسے کیسے ہوسکتا ہے اگر شہر سحر میں پتھروں سے بنا کوئی منار ہے ہی نہیں تو آدم نے وہ بیج کہاں چھپایا ہے وہی ڈھونڈنا مشکل ہے ۔کوئی بات نہیں ابھی تم دونوں تھک گئے ہوگے آرام کرو میں تم دونوں کے لیے کچھ خانے کو لاتا ہوں ۔
نہیں ہمیں بھوک نہیں چچا آپ آئے میرے پاس بیٹھے مجھے ابو کے بارے میں بتائیں ۔وہ اسکے پاس آکر کر بیٹھ گیا پھر اچانک کچھ یاد آنے پر بولا ” شہزادی آپکو کسی نے دیکھا تو نہیں ؟”
غفران مجھے آج تک کوئی دیکھ پایا ہے یہاں آتے ہوئے دروازہ کال جنگل۔میں کھلا تھا اور وہاں سورانچھ ملا تھا بات کرتے کرتے ایک منظر چہرے کے سامنے لہرا گیا جو آنکھیں۔ اشکبار کر گیا ۔۔” غفران سناش کی کیا حالت ہوگئی ہے ۔۔۔”
