Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam NovelR50472 Shehr-e-Sahar Episode 9
No Download Link
Rate this Novel
Shehr-e-Sahar Episode 9
Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam
وہ چائے لیکر اندر آگئی ۔” سر آپکی چائے ۔۔۔۔” وہ مدھم سی مسکراہٹ کے ساتھ دروازے میں کھڑی تھی ۔
اسنے نظر اٹھا کر اسے دیکھا اسکی مسکراہٹ دیکھ کر ایک کھٹکا سا ہوا دل میں ۔۔لے آئیں ۔۔۔۔ اسنے چائے لاکر ٹیبل پر رکھ دی اے ایس نے بغور ایک نظر چائے کو دیکھا دیکھنے میں تو ٹھیک لگ رہی تھی ۔
” سر پی کر بتائیں کیسی بنائی ہے ۔۔۔”
پی لے اے ایس شادی سے پہلے ہی پی کر دیکھ لے پتا نہیں۔ بعد میں بنا کر دے گی بھی یا نہیں ۔۔۔”اسنے چائے کپ منہ سے لگایا اور جیسے وہ اندر گئی تھی اسی سپیڈ سے باہر بھی آگئی تھی اسے ٹھسکا لگ گیا ۔۔” اس میں کیا ڈالا ہے ۔۔۔” اسکا سانس کھانسی کی وجہ سے پھول رہا تھا ۔
” سر ۔۔۔۔وہ ۔۔۔” اپنے ہاتھوں کی انگلیاں مروڑنے لگی ۔۔” سر شگفتہ آنٹی کہتی ہیں مسالہ چائے صحت کے لیے اچھی ہوتی ہے مجھے پتا نہیں تھا کونسا کونسا مسالہ ڈالتے ہیں اسلیے میں نے صرف ہری مرچیں ڈالی ہیں پر اگلی دفعہ آنٹی سے پوچھ لوں گی ۔۔۔۔۔۔”
” ہری مرچیں!!!! تم نے میری چائے میں ۔۔۔۔۔۔۔میری چائے میں ۔۔۔۔وہ کپ کی طرف اشارہ کر رہا تھا اس سے بولا نہیں جارہا تھا اسکی بات بھی اسنے ہی مکمل کی ۔” ہری مرچیں ڈالی ہیں ۔۔۔۔۔
” ہاں ہری مرچیں ڈال دیں تمہارا دماغ تو خراب نہیں ۔۔۔۔” پانی پینے کے بعد وہ کچھ ٹھیک ہوا تھا ۔
” میں نے تو بتایا تھا مجھے چائے بنانی نہیں آتی ۔۔۔۔” وہ کرسی پر۔ بیٹھ کر اپنی سانس بحال کر رہا تھا وہ چپ چاپ وہاں سے کھسکنے والی تھی جب وہ پیچھے سے بولا ۔۔
“اگلی دفعہ پوچھ کر آؤ گی یعنی اگلی دفعہ میرے لیے چائے بنانے کا ارادہ ہے ۔۔۔۔” اسنے پلٹ کر اسے دیکھا جو بڑی گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔وہ اس سے نظریں چرا کر باہر آگئی۔
” ہورےےےےے!!!!!!!!! ” ان دونوں نے ہی اپنی خوشی کا اظہار کیا تھا مگر ایک دوسرے سے چھپ کر ۔۔
۔۔۔۔۔
وہ اس وقت چاند کے سامنے کھڑے تھا وہ اسکے بےحد قریب تھا اسکی روشنی اسکی آنکھوں کو خیرا کر رہی تھی ۔اس چاند کے اندر ایک دروازہ تھا جو کھلتا جارہا تھا جہاں سفید لباس پہنے کوئی آدمی کھڑا تھا جو اسے پکار رہا تھا ۔
” اسیر ! تم مجھے سن رہے ہو نہ اسیر تم اس دنیا کے نہیں ہو اسیر تم ہماری دنیا سے ہو تم ہمارے مسیحا ہو ۔۔۔۔۔” اس آدمی کی گردن سے خون کی بوندیں ٹپک ٹپک کر اسکے سفید لباس کو گندہ کر رہی تھیں مگر وہ پھر بھی ہاتھ بڑھائے اسے پکار رہا تھا جو چوکھٹ کے باہر کھڑا تھا ۔
” ہمیں تمہاری ضرورت ہے اسیر آجاؤ وقت آگیا ہے بچالو ہمیں آجاؤ ۔۔۔۔۔” وہ پیچھے جاتا جارہا تھا اور آخر اس سفید روشنی میں گم ہوگیا منظر بدل گیا وہ کھائی کے قریب کھڑا تھا سامنے سے آتی بگھی اسکا نکلتا پہیہ اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ کھائی میں گر گئی اس بگھی میں بیٹھے وجود نے ایک چیخ ماری ہاتھ باہر نکالا جسے پکڑنے کے لیے اسنے ہاتھا بڑھایا مگر وہ گر گئی اور ہوا میں فقط اڑتا آنچل رہ گیا نیچے گرنے سے بگھی کے ٹوٹنے کی زوردار آواز آئی جس سے اسکی آنکھ کھل گئی ۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں اپنے بیڈ پر تھا پسینے میں شرابور لمبی لمبی سانس لیتا ہوا ۔۔۔
“اسیر بابا !! اسیر بابا آپ ٹھیک ہیں ۔۔۔۔” رحیم اسکے سرہانے کھڑا تھا مگر اسکے حواس کہاں برابر تھے ۔
” میں علی بابا کو بلا کر لاتا ہوں ۔۔۔۔” رحیم فوراً علی کو بلا کر لایا ۔
” اے ایس تم ٹھیک ہو ۔۔۔۔” وہ اسکے پاس ہی آکر بیٹھ گیا ۔
” رحیم پانی !!۔۔۔۔۔” اسنے اسے پانی پلایا جس سے اسے کچھ سکون ہوا ۔علی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔” اے ایس پھر سے وہی خواب دیکھا ” اسنے نظر اٹھا کر اسے دیکھا ۔۔” دو سال بعد آج پھر سے وہی خواب وہی چاند سفید کپڑوں والا آدمی اسکی گردن سے نکلتا خون سفید روشنی میں اسکا گم ہونا سب کچھ وہی تھی اسکا سانس پھر سے پھول رہا تھا پھر اچانک کچھ یاد آنے پر علی کو دیکھا ۔۔۔”مگر۔۔۔مگر اس بار ایک ۔۔۔ایک اور ۔منظر تھا۔ ۔۔۔کسی کی بگھی کھائی میں گری کسی نے مدد کے لیے پکارہ ہاتھ نکالا مگر میں اسے پکڑ نہیں سکا وہ ۔۔۔وہ اس کھائی میں گر گئی اور وہ لال دوپٹہ ہوا میں اڑتا رہ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
” کیا یہ ۔۔۔یہ پہلے بار ہوا ہے کے کوئی اور منظر بھی دیکھا ہے تو نے کون ہوسکتا ہے وہ ۔۔۔۔”
” مجھے نہیں پتا مجھے کچھ نہیں پتا کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔۔۔۔۔” اسنے سر ہاتھوں میں گرا لیا تھا وہ حیران پریشان تھا جب اسکے منہ سے بے ساختہ نکلا “طلسم!”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اسیر!! ” وہ ہڑبڑا کر اٹھی وہ اپنے کمرے میں ہی تھی ۔
” وہ ٹھیک تو ہوگا کیوں مجھے یہ احساس ہو رہا ہے جیسے وہ تکلیف میں ہے مجھے اسکے پاس جانا چاہیے ۔۔۔وہ بستر سے اٹھنے لگی تھی جب رُک گئی ۔۔۔” مگر کچھ نہ ہوا تو جواب کیا دوں گی اسنے گھڑی کی طرف دیکھا رات کے تین بج رہے تھے ۔” اس وقت صبح دیکھ لوں گی ۔۔وہ پھر سے کمبل اوڑھ کر لیٹ گئی مگر جب روح ایک ہے تو سکون الگ کیسے ہوسکتا ہے وہ تو دونوں کا غارت ہوچکا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔
وہ آفس آیا ہی تھا جب تمام سٹاف گڈمارننگ کہتا کھڑا ہوگیا مگر وہ ابھی بھی کمپیوٹر پر ہی لگی تھی وہ جاتا جاتا اسے کہ گیا ” سٹینڈ اپ مس بھلکڑ ” ۔۔۔۔۔اسکا دھیان بلکل بھی نہیں تھا اسلیے بے ساختہ بول گئی ۔
” گڈ مارننگ ساون کے اندھے ..” جس پر اسیر کے قدم رک گئے اور اسے جلد ہی احساس ہوگیا کہ وہ کیا بول گئی ہے وہ کھڑی ہوگئی” گڈ ۔۔گڈ مارننگ سر …! ‘
اسنے سارے سٹاف کو دیکھا جو چوری چوری ہنس رہا تھا
” مس سحر پانچ منٹ کے اندر میرے آفس میں آئے ۔۔۔” یہ کہ کر وہ اندر چلا گیا ۔”
” یہ کیا کہ دیا تونے سحر ۔۔۔۔”اسکے جانے کر بعد شازمہ اسکے پاس آئی تھی ۔
” مجھے پتہ ہی نہیں چلا میں کیا بول گئی ۔۔۔”
” اندر جا باس بلا کر گئے ہیں ۔۔۔”
” شازمہ میں نے نہیں جانا وہ مرڈر کر دے گا میرا ۔۔۔۔”
“نہیں کرتے جا ۔۔۔۔۔” اسنے اسے دروازے طرف دھکیل دیا ۔
” کیا میں اندر آسکتی ہوں سر ۔۔۔” اسنے دستک دے کر پوچھا ۔
” آئے مس بھلکڑ کافی کچھ بھولنے لگی ہیں آپ یہ کیا حرکت تھی ۔۔۔” وہ مصنوعی غصے سے کہ رہا تھا ۔مگر وہ سر جھکائے کھڑی تھی ۔۔” میں آپ سے پوچھ رہا ہوں مس سحر ۔۔۔”
” سر وہ ۔۔۔۔وہ غلطی سے بول دیا ۔۔۔۔” اسکی آنکھوں میں سے آنسوں بہ رہے تھے وہ ایک دم کھڑا ہوگیا ۔
” سحر !..سحر تم رو کیوں رہی ہو کوئی بات نہیں ۔۔۔۔” وہ بے چین ہوگیا تھا اسکے شرارتی سے چہرے پر افسردگی اور آنسو دیکھ کر ۔
” سچ میں سر تھینک سو مچ سر او۔۔۔۔ایک منٹ اسنے اپنی آنکھوں کو انگلیوں سے چھوا ۔۔” سر وہ ایکچولی راستے میں آنکھ میں کچھ چلا گیا تھا تو میں نے رب کر دی تو اس وجہ سے لال ہوگئی اور پانی نکلنے لگا یہ دیکھے پلک کا بال چلا گیا تھا ۔اسکی انگلی کے پور پر ایک چھوٹا سا بال تھا اسیر منہ کھولے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔” تو۔۔تم رو نہیں رہی تھی ۔۔۔” نہیں سر اس میں رونے والی کیا بات ہے میں بچی تھوڑی ہوں ۔۔۔”
اسکی بے ساختہ ہنسی چھوٹ گئی تھی ۔وہ بھی ہنسنے لگی تھی
اسے ہنستا دیکھ کر وہ سنجیدہ ہوگیا ۔۔۔” خاموش !!! “اسنے اچانک اپنی ہنسی کو بریک ماری ۔
مس سحر آپ کو پتہ ہے کل کتنی امپورٹنٹ میٹنگ ہے آپ نے پریزنٹیشن تیار کی ؟..
“جی سر وہ تو کل ہی بنا لی تھی میں نے یہ دیکھے ۔۔” اسنے فائل اسکی طرف بڑھا دی اور خود بیٹھنے لگی ۔۔
” میں نے کہا بیٹھ جائیں ؟ ۔۔۔” وہ بیٹھتی بیٹھتی کھڑی ہو گئی ۔
اسنے پوری فائلز دیکھے اور پھر غصے سے میز پر پٹخ دی ۔۔” یہ کسی کام کی پریزنٹیشن نہیں ہے دوبارہ بنائے “
“مگر اس میں پرابلم کیا ہے میں نے آصف کو دکھائی تھی وہ کہ رہا زبردست ہے ۔۔۔”
” آصف آپ کا باس ہے یا میں ؟”
” سر آپ مگر ۔۔۔۔” اسکی بات ابھی ادھوری تھی ۔
” مجھے اچھی نہیں لگی دوبارہ بنائے اور آج ہی لے جائے اسے جائیں شو ۔۔۔۔”وہ اپنے لیپ ٹاپ پر بزی ہوگیا ۔۔۔
“ فائلز اٹھائے واپس آگئی اور اسے دوبارہ پڑھنے لگی ۔۔۔” ساون کا اندھا ہی ہے کیا مسئلہ ہے اس میں ۔۔۔۔” وہ منہ بنا کر دوبارہ بنانے لگی تین گھنٹے کی سخت محنت کے بعد وہ دوبارہ اسکے پاس گئی ۔۔
“ سر یہ دیکھیں ۔۔۔” اسنے فائلز میز پر رکھ دی فائل اسنے سامنے کھول لی اور خود چائے پینے لگاجب جان بوجھ کر اسنے وہ چائے فائل پر گرا دی۔۔۔۔
“ او سوری غلطی سے گر گئی اوہو آپ کی تو ساری پریزنٹیشن خراب ہوگئے ۔۔۔۔” اور وہ منہ کھولے فائل دیکھ رہی تھی جس پر اتنا بڑا چائے کا دھبہ لگ چکا تھا ۔
“مس سحر اب تو آپ کو یہ دوبارہ بنانی پڑے گی کیونکہ میٹنگ تو کل ہے ۔۔۔” وہ بیچارگی سے اسے دیکھ رہی تھی مگر پھر فائل اٹھا کر باہر آگئی وہ پیچھے ہنستا رہ گیا ۔۔۔
شام ہوگئی تھی تمام سٹاف چلا گیا تھا مگر ابھی بھی اسکا کام رہتا تھا وہ اپنے ٹیبل پر بیٹھی اپنا کام کر رہی تھی جب وہ باہر آیا اب صرف وہ دونوں رہ گئے تھے ۔بالوں کا اسنے جوڑا بنا کر باندھ لیا تھا جس سے اسکی گردن صاف نظر آرہی تھی ۔اسنے تھک کر اپنی انگلیوں کو انگلیوں میں پھنسا کر چٹخا اور گردن دائیں سے بائیں کی کافی تھکاوٹ بھرا دن تھا اور کام ابھی تک مکمل نہیں ہوا تھا ۔دل میں اسکے گالیاں دے رہی تھی ۔جوڑے سے کچھ لٹیں اسکے چہرے پر بکھری تھیں ۔جوتے اسنے اتار دیے تھے ٹراؤزر اسنے تھوڑا سے اونچا کرلیا تھا جہاں اسکی پائل صاف نظر آرہی تھی ۔کمپوٹر کی سکرین اسکے چہرے کو جگمگا رہی تھی ۔وہ اسکے پاس آیا اور اسکی کرسی گھوما کر اپنی جانب کی اور اسکے اوپر جھک گیا اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا جہاں ابھی بھی رات کی سیاہی جیسا سرمہ بھرا ہوا تھا وہ پوری آنکھیں کھولے اسکی اس حرکت کو دیکھ رہی تھی کچھ پیپرز کر پرنٹ آؤٹ نکال کر اسنے ٹیبل پر رکھے تھے وہ اسے حیرانی سے دیکھ رہی تھی جو اس پر جھکا مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا ایک دلفریب مسکراہٹ جس پر سحر کا دل پنجرا توڑ کر باہر نکلنے والا تھا اسنے آہستہ سے اسکے چہرے پر سے آوارہ بالوں کو پیچھے اور اسکا جوڑاکھول دیا کھلتے بال زمیں سے زرا سا اوپر ٹہر گئے۔اسکی گردن بالوں سے چھپ گئی تھی ۔اسنے بڑے پیار سے اسکا کندھے سے نیچے گرتا دوپٹہ ٹھیک کیا پھر جھک کر اسکا جوتا پہنایا پھر اشارے سے اسے پائل چھپانے کو کہا جو اسنے چھپا لی دوبارہ اس پر جھکا اسکی کرسی پر ہاتھ ٹکائے وہ اسے بڑی گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔” اپنا خیال رکھا کریں معصومیت کا شکار اس دینا کا مشغلہ ہے ۔۔۔” وہ بڑی سنجیدہ اور گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔” سحر تمہاری ۔۔۔۔۔وہ ایک دلفریب مسکراہٹ سے اسے کہ رہا تھا مگر اسکی نظروں میں شرارت کی دمک صاف تھی ۔۔۔تمہاری ۔۔۔۔۔۔۔وہ بھی مدھم سا مسکرانے لگی تھی۔۔
میری ۔۔۔۔” سحر تمہاری ۔۔” وہ پھر رک گیا
“ بولیں اسیر میری ۔۔”
سحر تمہاری پریزنٹیشن پر پھر سے پانی گر گیا ہے ۔۔۔بتاتے بتاتے اسکی ہنسی چھوٹ گئی تھی وہ اس سے دور ہوگیا ۔
کییا!! اسنے ایک دم ٹیبل پر دیکھا جہاں ان پیپرز پر پورا پانی کا گلاس گرا ہوا تھا اسنے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا جو پیٹ پر ہاتھ رکھے بے تحاشہ ہنس رہا تھا ۔گرے کلر کی شرٹ جس کی آستینیں اسنے موڑ رکھی تھیں شرٹ کے کھلے تین بٹن نفاست سے بنی ہوئی داڑھی اور بوئے کٹ وہ اس پر سے نظر ہٹا ہی نہیں پائی وہ اپنی ہنسی پر قابو پا کر اسکی جانب متوجہ ہوا ۔۔” بہت دیر ہوگئی ہے پہلے والی پریزنٹیشن کدھر ہے ؟….,”
“ یہ رہی سر ۔۔۔۔” اسنے دراز میں سے فائل نکال کر اسکے حوالے کی ۔۔۔”یہ بہت زبردست تھی اس میں کوئی مسئلہ نہیں تھا ۔۔۔۔” وہ کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” بہت دیر ہوگئی ہے چلو میں تمہیں ڈراپ کر دوں ۔۔۔۔”
” میں چلی جاؤں گی خود ۔۔۔۔۔۔”
” میں نے کہا نہ میں ڈراپ کر دیتا ہوں ” وہ اپنا کوٹ اور لیپ ٹاپ لے آیا تھا ۔
اور میں نے بھی کہ دیا میں چلی جاؤ گی ۔۔۔” وہ اپنا بیگ اٹھا کر باہر آگئی مگر ایک جیپ میں کچھ لڑکے بیٹھے ڈرنک کر رہے تھے ایک نے تو اسے دیکھ کر ہانک بھی ماری تب تک وہ بھی باہر آگیا تھا اسکے مقابل وہ اسکے پیچھے چھپ گئی ۔
اسنے مسکرا کر اسے دیکھا ۔۔” چلے جانا تھا ۔۔۔۔” وہ شرمندہ سی ہوگئی ۔وہ اسکی گاڑی میں بیٹھ چکی تھی اسنے گاڑی چلانی شروع کی ۔۔۔۔اسکی خوشی کو تو ٹھکانہ نہیں تھا وہ اپنے پورے ہوش س حواس میں اسکی فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی وہ ایک ہاتھ سے سٹیرنگ گھما رہا تھا اور دوسرا ہاتھ کی ایک انگلی اپنی منہ پر رکھی تھی وہ سامنے شیشے میں اسے ہی دیکھ رہا تھا جو باہر دیکھ رہی تھی ۔اسنے ریڈویو آن کر دیا ۔ایک سرد ہوا کا جھونکا گاڑی کے اندر سے ہوکر گزرا ۔
تیرے سامنے آجانے سے ۔۔۔۔
یہ دل میرا دھڑکا ہے ۔۔۔۔
یہ غلطی نہیں ہے تیری ۔۔۔۔
قصور نظر کا ہے ۔۔۔۔۔۔
سحر نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا جو کندھے آچکا گیا ۔وہ ٹھنڈی ہوا سرکتی جارہی تھی جس سے اسکے کھلے بال اڑ رہے تھے ٹھنڈی ہوا کی وجہ سے اسکے گال اور ناک لال ہوچکے تھے ۔اچانک سے اسکے ہونٹ بھی کانپنے لگے اسنے اپنے ہی بازو اپنے گرد باندھ لیے وہ وہ یہ تمام کاروائی شیشے میں سے دیکھ رہا تھا اسکا تو دل مچل مچل جارہا تھا اوپر سے میوزک ۔۔۔۔۔
جس بات کا تجھ کو ڈر ہے ۔۔۔۔۔
وہ کرکے دکھا دوں گا ۔۔۔۔۔۔
ایسے نہ مجھے تم دیکھو ۔۔۔۔
سینے سے لگا لوں گا ۔۔۔
تم کو میں چرا لوں گا تم سے ۔۔۔
خود میں چھپا لوں گا ۔۔۔۔
اسنے اپنی اور اسکی دونوں سائڈ سے ونڈو بند کر دی ۔ وہ اب ٹھیک تھی ۔ویسے ایک بات کہوں ؟.اسنے سامنے سڑک پر دیکھتے ہوا کہا ۔” ہممم”.
میں نے تمہارے جتنی بہادری لڑکی پہلے کبھی نہیں دیکھی مطلب اتنی بولڈ سٹریٹ فارورڈ اور۔۔۔اور اس قدر حسین بھی ۔۔۔۔اسکی آخری بات پر وہ اسے پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھ رہی تھی
