416.8K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shehr-e-Sahar Episode 21

Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam

گزشتہ رات ۔۔۔

سناش کے جانے کے کچھ وقت بعد بارش رہ گئی تھی وہ آہستہ سے محل کی کھڑکی سے باہر آئی اور دبے پاؤں وہاں سے جانے لگی تھی جب اسکے پیچھے سے آواز آئی ۔” شہزادی طلسم آپ ؟” گلے کا سانس گلے میں ہی اٹک گیا تھا اسنے ڈرتے ڈرتے پیچھے مڑ کر دیکھا وہاں شمس کھڑا تھا ۔قدآور سفید داڑھی سفید بال لیکن مضبوط ادھیڑ عمر شخص اسے مشکوک نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔

” شمس تم اس وقت یہاں کیا کر رہے ہو؟”

شہزادی طبعیت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی تھی اسلیے باہر کھلی ہوا میں آگیا لیکن آپ یہاں اس وقت کیا کر رہی ہیں ؟

میں بھی باہر کھلی ہوا میں گھومنے آئی تھی ۔لیکن وہ نظریں جھکائے اسکے قریب آیا اور اسکے پیروں میں گر کر رونے لگا جس پر طلسم کے تو حواس گم ہوگئے ۔

یہ ۔۔یہ تم کیا کر رہے ہو شمس ! ۔۔۔۔ہمیں شہزادی !! ہمیں معاف کردیں میں مجبور تھا میں نقصان پہنچانا نہیں چاہتا لیکن راجا کا حکم تھا ہم کچھ نہیں کر سکتے تھے ۔

تم نے کیا کیا ہے شمس اور ۔۔۔اور پاؤں چھوڑو ہمارے کھڑے ہوجاو ۔وہ ہاتھ جوڑے کھڑا ہوگیا اسکا سارا چہرا آنسوؤں سے تر تھا ۔

” شہزادی میں آپکو کبھی مارنا نہیں چاہتا تھا لیکن راجہ کے کہنے پر مجھے آپکی بگھی کا دھرا نکالنا پڑا تاکہ آپ کھائی میں گر کے مر جائیں اسکے بعد پل پل مرا ہوں میں اس احساس جرم نے جینا محال کردیا تھا میرا کہ میں نے ایک معصوم کی جان لے لی روتا رہا تڑپتا رہا آپ سے معافی مانگتا رہا پھر خدا نے میری سن لی اور آپ واپس آگئیں ۔دم گھٹتا تھا۔ اس جرم سے راتوں کو سو نہیں پاتا تھا اپنا جسم جہنم کا ایندھن لگتا تھا اسلیے آپسے معافی مانگنا چاہتا تھا مجھے معاف کردیں شہزادی !

” ہم نے آپکو معاف کردیا ہے آپکا کوئی قصور نہیں اس میں چچا کبھی ہماری زندگی چاہتے ہی نہیں تھے ۔”

” راجہ بہت ظالم ہیں وہ اپنی حکمرانی اپنی دہشت بنانے کے لیے عوام کو کیڑوں کی طرح روند رہے ہیں کاش ۔۔کاش کوئی اسے روکنے والا ہوتا کاش وہ پھول جو آدم چھپا گیا تھا ہم ڈھونڈ پاتے ۔”

” تم واقعی ہی چاہتے ہو کہ صیاد کا راج ختم ہو جائے “

” جس طرح صیاد نے اس شہر کا حال برا کر رکھا ہے جیسے اسنے میرے جگری دوست آدم کو راجہ زولفشان اور باقیوں کو بے رحمی سے مار دیا اسکا راج نہیں میں چاہتا ہوں وہی ختم ہو جائے ۔۔۔”

” اور اگر یہ سب ہوسکتا ہوا تو تم ہمارا ساتھ دو گے ؟”

” اگر آپکو اس بات پر کسی قسم کا بھی ثبوت چاہیے تو یہ رہا خنجر اور کاٹ دیں ہماری شہ رگ !”

اسکی بات پر وہ کچھ دیر سوچ میں پڑ گئی پھر بولی ” تو چلو میرے ساتھ ” اسے لیکر وہ سیدھا غفران کے گھر آئی تھی ۔شمس کو دیکھ کر غفران کچھ پریشان ہوگیا تھا مگر طلسم نے اسے یقین دلا دیا اتنی دیر میں اسیر بھی باہر آگیا تھا جسے دیکھ کر شمس کچھ حیرت میں پڑ گیا ۔

” طلسم ! اسنے محبت بھرے لہجے میں اسے پکارا تھا وہ بھاگ کر اسکے پاس آئی تھی مگر گلے اسے وہ پھر نہیں لگا پائی تھی بس وہ آنکھوں سے محوِ گفتگو تھے ۔

” شہزادی یہ کون ہے ؟” شمس کو اسکی شکل۔میں کسی کی شبی نظر آئی تھی اسلیے پوچھ بیٹھا ۔

” شمس یہی تو ہے وہ صیاد کا کال اسیر ۔۔۔اسیر ابنِ آدم !”

اسیر ابن آدم ! یعنی آدم کا بیٹا ! اسے یقین نہیں آ رہا تھا جو وہ سن رہا تھا پھر غفران نے اسے سب بتایا۔” اسیر میرے جگری دوست کا بیٹا ادم کا بیٹا ۔۔۔” آنکھیں اسکی بھی نم ہوگئی تھیں وہ اسکے چہرے کا تھامے اسے دیکھ رہا تھا ۔

“ طلسم آپ نے سوچا ہے کہ آگے سب کیسے کرنا مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔صیاد کے خلاف اب کیسے ہوگا میں محل جا بھی نہیں سکتا ۔”

“ صیاد کے خلاف اگر کچھ کرنا ہے تو تمہیں پہلے محل کا حصہ بنا ہوگا تاکہ وہ جو کرے جیسے کرے سب تمہاری آنکھوں کے سامنے آپ دونوں کا ساتھ ہونا ضروری ہے ورنہ کوئی ایک اس مسئلے کا حل نکالے ممکن نہیں ۔”

یہی تو مسئلہ ہے شمس ہم ایک ساتھ کیسے رہ سکتے ہیں ؟

” اسیر تم اسیرِ طلسم ہو ! شمس کے بات پر وہ منہ بنا کر رخ پھیر گیا تھا ۔طلسم کو بھی برا لگا تھا یعنی یہ بات سب کو پتہ ہے ۔ ” شمس دوبارہ یہ بات مت کرنا ” اسنے پورے شہزادیوں والے لہجے میں کہا ۔

” ارے نہیں میں تمہں جتا نہیں رہا میں طریقہ بتا رہا ہوں ” شمس کی بات پر غفران اور اسیر دونوں کے کان کھڑے ہوگئے تھے ۔” اسیر تم شہزادی کے غلام ہو اور تمہیں ان کے ساتھ رہنا بھی ضروری ہے کیونکہ جتنا میں نے جانا ہے ایک منزل ہے تو دوسرا اسکا راستہ تو محل میں تم شہزادی کے غلام ہی بن کر رہو گے ۔

” لیکن میں سناش کو یا چچا کو جواب کیا دوں گی کہ یہ کون ہے کہاں سے آیا ؟”

” شہزادی محل کے اکثر غلام قیدیوں میں سے بھی چنے جاتے ہیں۔ اگر اسیر وہاں کا قیدی ہو جائے تو اپ اسے وہاں سے اپنا غلام بنا سکتی ہیں ۔”

تو ٹھیک ہے صبح اسیر پر اسیرِ طلسم کی مہر لگ جائے گی ! اسیر نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا ۔

مگر کیسے ؟ وہ میں نے سوچ لیا ۔اس طرح اگلے دن اسیر کا محل جانا شمس کا طلسم کو اسکے آنے کی خبر دینا اسکا سناش سے ٹکرانا تاکہ وہ سناش کی نظروں میں آ جائے کہ وہ نیا آدمی ہے طلسم کا اسکو چھپانا اپنا بازو بند اسکے کرتے ہیں پھنسانا اسیر کا جان بوجھ کر وہاں سے گزرنا جہاں سناش تھا سناش کی نظر اس بازو بند پر پڑنا اسکا اسے سزا دینا اور پھر طلسم کا اسے اسیر طلسم پکارنا مہر لگوانا اور قیدی بنا کر محل کا حصہ بنانا سب اتفاق نہیں سوچی سمجھیں سازش تھی ۔

طلسم آب آپکو صبع وہ کرنا ہے جس کے لیے یہ سارا کھیل بنایا گیا ۔

جی اسیر آپ فکر مت کریں صبع آپ اس قید خانے میں نہیں ہونگے ۔

اسیر سے مل کر وہ باغ کے راستے اندر جارہی تھی آج وہ خوش تھی اسنے ایک گلاب کا پھول توڑا اس سے کھیلتے لہراتی گنگناتی جارہی تھی اسکے پیروں میں پازیب کی جھنکار رات کی خاموشی میں روکاوٹ پیدا کررہی تھی جس پر کسی اور کے کان بھی متوجہ ہوگئے تھے ۔وہ اپنے دھیان میں جارہی تھی جب چوڑے سینے کے ساتھ ٹکرا کر رک گئی ۔

سناش آپ ؟ وہ نہایت حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا ” طلسم آپ اس وقت یہاں کیا کر رہی ہیں ؟”

میں ۔۔۔وہ ۔۔۔آپ یہاں کیا کررہے ہیں ؟….”طلسم سوال پہلے ہم نے کیا ہے !”

تو ہم نے بھی ایک چھوٹا سا جواب ہی مانگا ہے ” اسنے معصوم سا منہ بنا کر کہا ۔جس پر سناش کا دل منتشر ہوگیا تھا ” اس لہجے سے تو جان بھی مانگے گی تو دوسرے لمحے آپکی ہوگی ویسے ہم یہاں کھلی ہوا میں۔ ٹہلنے آئے تھے اب آپ بتائیں ؟’

“ میں ۔۔وہ آپ سے ملنے آئی تھی آپکو دیکھا تھا میں نے آتے ہوئے ” اسکے جواب پر سناش کے چہرے پر ایک دلفریب مسکراہٹ آگئی تھی ۔

مجھ سے ملنے آپ مجھ ملنے آئی ہیں ! ۔۔ہاں وہ صبح ہم کچھ زیادہ ہی تلخ ہوگئے تھے اسلیے معذرت کرنے آئے تھے ۔

تھوڑی نہیں بہت زیادہ تلخ ہوگئیں تھیں ۔

ہاں تو اسلیے معافی مانگنی تھی لیکن آپ نے ایک دم اس چور کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا مانا قانون میں ایسا ہے لیکن عفو درگزر بھی دین کا حصہ جو زیادہ ضروری ہے آپ نے ایک دفعہ بھی نہیں سوچا وہ چور جوان تھا مضبوط تھا اسکے ہاتھ کاٹ دیتے تو وہ کس قابل رہ جاتا پھر وہ ہمارے کسی کام کا بھی نہیں رہتا اور سوچے اگر اسکے گھر والے ہوئے تو انکی کفالت کیسے کرتا اب وہ ہمارا قیدی ہے جوان خون ہے سوچیں وہ محل کے کتنے ضروری کام سر انجام دے سکتا ہے اسلیے ہمیں آپ پر نہیں آپکے فیصلے پر غصہ آیا تھا سناش آپ اچھے ہیں اور آپکو ایسی سزائیں زیب نہیں دیتیں ۔۔”وہ سر جھکائے اسکی باتیں سن رہا تھا آہستہ آہستہ وہ ایک ساتھ چلنے لگے تھے ۔

طلسم آپ جانتی ہیں ہمیں آپکی اسی سوچ سے محبت ہے اسی اچھائی پر تو ہم فدا ہوجاتے ہیں ۔

“ سناش لیکن ہم آپ سے ۔۔۔اسکی بات ابھی ادھوری ہی تھی جب وہ خود بولنے لگا ” ہمیں پتا ہے آپ ہم سے محبت نہیں کرتی لیکن ہمیں امید ہے ایک دن آپکو ہم ضرور اچھے لگنے لگے گے ۔”

سناش بات اچھے لگنے کی نہیں ہے بات دل۔کی ہے دل پرزور نہیں ہوتا یہ اپنی محبت خود چنتا ہے اسکے زبردستی ممکن نہیں ہے لیکن جس انسان سے آپ محبت کرتے ہیں وہ آپ سے محبت نہ کرتا ہو تو اسکے پیچھے زندگی برباد کرنے کا کوئی فائدا نہیں ہے ۔اس لیے بہتر ہے آگے بڑھ جانا ۔” اسیر کی کہی باتوں کو اسنے دوہرانا شروع کردیا تھا ۔

“ آپ نے سہی کہا دل پر کسی کا زور نہیں لیکن یہ بھی تو سچ ہے یہ ضد پر اڑے جائے تو بھی کسی کی نہیں سنتا آپ ہم سے محبت نہیں کرتی لیکن ہمیں ایک بار موقع تو دیں کہ ہم اپنی محبت آپکے سامنے ثابت کرسکیں اسکے بعد جیت یا ہار وہ میرا مقدر ” اسیر کی بات سچ تھی وہ پھر سے میدان میں اترنا چاہتا تھا ۔

“ ٹھیک ہے سناش آپ کوشش کرسکتے ہیں لیکن آپکو ہم سے ایک وعدہ کرنا ہوگا یہ کہ مستقبل میں اگر آپکے اور میرے بیچ کوئی بھی ایسا رشتہ نہیں بن سکا تو آپ ہمیں چھوڑ کر آ گے بڑھ جائیں گے ۔”وہ ہاتھ آگے بڑھائے کھڑی تھی ۔وہ اسکے ہاتھ کو نہایت غور سے دیکھ رہا تھا ۔

“ کریں وعدہ !” اسنے ایک بار ہمت کرکے ہاتھ رکھنے کی کوشش کی مگر پھر کھینچ لیا ” نہیں طلسم ہم سے نہیں ہوگا بچپن سے لیکر اب تک جس صورت کو ہم نے اپنا مانا ہے اسکے نقوش کو بدل کر نیا چہرا سامنے لانا ہم سے نہیں ہوگا ۔”

” ٹھیک ہے وعدہ مت کریں لیکن کوشش ضرور کیجئیے گا ۔” سناش نے ایک نے محبت سے بھر کر نظر پر ڈالی ” آپ بھی کوشش کیجئیے گا ۔”

” میں ہر کوشش سے آزاد ہوچکی ہوں اب میں چاہ کر بھی کچھ نہیں کرسکتی .” یہ اسنے دل میں میں سوچا بظاہر تو وہ خاموش تھی ۔

” سناش اگر طلسم نے تم سے شادی نہ کی تو تم مجھ سے شادی کرلینا .! روباش لپک کر انکے بیچ آگیا ۔

” شادی اور تم سے کیوں ؟.” سناش نے مسکرا کر پوچھا ۔

” کیونکہ میں تم سے محبت کرتا ہوں “

آ۔۔اچھا! تم مجھ سے محبت کرتے ہوں میں بھی تم سے محبت کر تا ہوں لیکن ہم شادی نہیں کرسکتے ! سناش نے افسوس سے کہا ۔

کیوں ؟ وہ اداس ہوگیا تھا ۔۔کیونکہ تک بھی ایک مرد ہو اور میں بھی بتاؤ مرد مرد سے شادی کیسے کرے گا ؟۔سناش کی بات سن کر وہ کچھ دیر سوچ میں پڑ گیا پھر طلسم کے بالوں میں جاکر چھپ گیا ” طلسم سناش سے کہو مجھ سے دور رہے یہ مجھے بڑی عجیب نظروں سے دیکھتا ۔” روباش کی بات پر سناش کا منہ کھلا رہ گیا تھا اور طلسم کھلکھلا کر ہنس دی تھی ۔ایسے ہنستے کھیلتے سکون سے رات گزر گئی تھی ۔

کیا ہم اندر آ سکتے ہیں راجہ ؟ اگلی صبح صیاد اپنے کتب خانے میں بیٹھا تھا جب وزیر شہباز اور زبیر اندر آئے ۔

” آؤ شہباز ۔۔۔وہ دونوں اکر اسکے سامنے کرسی پر بیٹھ گئے ۔ ” راجہ یہ پچھلے مہینے کے حساب کتاب ہیں آپ زرا ایک بار دیکھ لیں ” اسنے چند کاغذ اسکے سامنے کیے ۔” زبیر یہ خزانہ ختم کیوں ہوتا جارہا ہے یہ نے کہنا شہر پر لگا رہے کہاں جارہا ہے ؟”

کچھ نہیں سرکار شہر میں دو تین نئی عمارتیں بنوائی ہے کچھ چیزیں دوسرے شہر سے خریدیں ہیں ۔

” کیا میں پوچھ سکتا ہوں کیسی عمارتیں اور کونسی چیزیں ؟”

” زبیر سیدھی طرح بتاؤ مے خانہ بنوایا مے مہنگے دواموں منگوائی ۔”جواب شہباز دیا تھا جس کی اجازت سے یہ سب ہوا تھا ۔

” زبیر اپنی اعیاشیاں کم کرو ورنہ تم اس عہدے سے نکال دیے جاؤ گے ۔” صیاد کو اس پر غصہ آرہا تھا ۔پھر اچانک کچھ یاد آنے پر اسنے پوچھا ” زبیر ہیرا کہاں ہے ؟”

” ہیرا وہی ہے جہاں رکھا گیا تھا محفوظ سب کی نظروں سے دور “زبیر نے سیدھے ہوکر کرسی سے ٹیک لگائی ۔

“یاد رکھنا اتنی قیمتی تمہاری جان نہیں ہے جتنا قیمتی وہ ہیرا ہے اگر اسے کچھ ہوا تو پچھلے تیس سال کی محنت پانی میں پڑ جائے گی اگر اسکے حکمران لوٹ آئے تو ہماری اوقات کُتے جیسے ہوجائے گی انکے سامنے نہ ہم بچے گے نہ ہماری حکومت اور نہ ہی شہر سحر تو کسی کو بھنک بھی نہیں لگنی چاہیے کہ وہ ہیرا کہاں ہے .”

” آپ فکر نہ کریں راجہ ہیرا کسی کو نہیں ملے گا ۔” وہ لوگ اپنی ہی کچھ باتوں میں لگے تھے یہی تھے صیاد کے گناہ کے حصہ دار تھے ۔تین دوست جو اس وقت بھی شہر کو لوٹنے میں لگے تھے ۔

“ابا کیا ہم اندر آسکتے ہیں ؟”سناش دروازے میں کھڑا تھا ۔

آؤ سناش ! سناش کو دیکھ کر صیاد ہر دکھ پریشانی بھول جاتا تھا ۔

” ابا وہ نیزا بازی تلوار بازی اور گھڑ سواری کا کچھ سامان منگوانا تھا لیکن اس بار اتنی رقم نہیں دی گئی جتنی پہلے دی جاتی تھی ؟

سناش اس بار قومی خزانے میں رقم کچھ کم تھی اسلیے مناسب رقمیں پر کام کے لیے نکلوائی گئی تھی ۔

کم کیسے ہوسکتی ہیں زبیر ہم نے شہر کا دورا کیا تمام دوکانیں تمام کاروبار ہم نے خود دیکھا ہے عوام وقت سے محصول دے رہی ہے پھر بھی ۔۔۔”اس بات پر زبیر لاجواب ہوگیا تھا ۔

سناش بیٹا اس بار شہر میں دو تین عمارتیں بنائی گئی ہیں کچھ ادبی اور کچھ کاروباری ۔۔” صیاد ابھی اس سے بات کرہی رہا تھا جب طلسم کے چلانے کی آواز آئی ۔ان دونوں نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا ” یہ طلسم کو کیا ہوا ہے ؟ صیاد نے اکتا کر پوچھا ۔

” پتا نہیں ابھی کچھ وقت پہلے تو ٹھیک تھیں ۔” ۔۔۔اچھا چھوڑو سناش تم بتاؤ کیا بات کررہے تھے ۔لیکن وہ بے چین ہوگیا تھا ۔” ابا بعد۔میں کرتے ہیں بات میں آتا ہوں ۔۔” صیاد آوازیں دیتا رہا مگر وہ چلا گیا ۔

” راجہ آپ نے شہزادی طلسم کی کہی ہوئی بات کی تصدیق کروائی وہ سچ کہ رہی تھی یا نہیں ؟

نہیں سناش نے منع کردیا تھا وہ نہیں چاہتا کہ طلسم کو تنگ کیا جائے اسکے سر پر پہلے سے چوٹ لگے اور زور دیا تو انکی طبعیت خراب نہ ہو جائے ۔

اور آپ نے مان لی ؟…زبیر تم جانتے ہو سناش کی کوئی بات میں ٹال نہیں سکتا سناش صرف میرا بیٹا نہیں میرا غرور ہے ۔اسنے مجھ سے کبھی کچھ نہیں مانگا سوائے ایک چیز کے وہ یہ کہ طلسم کے مطلق ہر فیصلہ وہ خود لے گا ۔

ایک بار سوچ لیں راجہ کہیں سناش کا یہ فیصلہ کہیں کچھ غلط نہ کردیں ۔

” زبیر تم جانتے ہو پورے شہر میں میرے بیٹے جتنا حسین قابل اور سمجھدار کوئی نہیں ہے مجھے پورا بھروسہ ہے اسکا کوئی بھی فیصلہ کسی کو نقصان نہیں پہنچا پائے گا ۔اور ویسے بھی طلسم ہمارا بیگاڑ کیا لے گی ۔

مانا راجہ سناش جیسا خوبصورت سمجھدار قابل اس شہر میں کوئی نہیں مگر وہ ایک بیماری میں مبتلا ہے جسے عشق کہتے ہیں جو تباہی پھیلاتا ہے ۔یہ نہ ہو شہزادی کے لیے بڑھتا انکا عشق آپکو تباہی کے دہانے پر نہ لیجائے ۔شہزادی طلسم دیکھنے میں معصوم لگتی ہیں مگر وہ کس طرح سناش کے کندھے پر رکھ کر تیر چلا رہی ہیں آپکو بھی نظر آرہا ہے۔اپنی بات کہ کر زبیر اور شہباز چلے گئے تھے ۔مگر وہ سوچ میں پڑ گیا تھا اسے غصہ آرہا تھا ” کیا قسمت لکھوا کر لائی ہے یہ لڑکی موت بھی قبول نہیں کرتی ۔”

وہ پریشان ہوتا دوڑتا ہوا اسکے کمرے تک پہنچا جہاں باہر غلاموں کی قطار لگی تھی کنیزیں سب موجود تھیں شمس بھی ہاتھ باندھے کھڑا تھا ۔اور غصے سے لال ہوئی بیٹھی تھی ۔ سارا سامان بکھرا پڑا تھا ۔

” طلسم آب کیا ہوا ہے ؟”وہ غصے سے کھڑی ہوئی ایک غصیل نظر ان سب پر ڈالی جو گردنیں جھکائے کھڑے تھے ۔

سناش ہم نے ان سب سے کل ایک ایک کام تھا کسی غلام نے نہیں کیا ۔

” کیا کام کہا تھا آپ نے ؟ سناش نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا ۔

” ہم نے ان سے نفاس جھیل سے مچھلی پکڑنے کے لیے کہا تھا اب تک کوئی نہیں لایا ۔

” نفاس جھیل سے مچھلی وہ آپ نے کیا کرنی ہے ۔”

” سناش ہم نے سنا ہے وہاں کی مچھلیاں بہت خوبصرت ہوتی ہیں رنگ برنگی ہمیں چاہیے وہ ۔۔۔” اسنے معصوم سا منہ بنا کر کہا جس پر سناش مسکرا اٹھا اور سوالیہ نگاہوں سے شمس کو دیکھا ۔” شہزادے وہ کچھ دن تک پار شہر سے تاجر آنے والے ہیں راجہ نے کہا تھا ان کے آنے سے پہلے سارے محل کی تعمیر و مرمت اور صفائی مکمل کرنے کو کہا تھا تمام غلام اس کام میں لگے تھے شہزادی نے جو کہا تھا وہ اسلیے نہیں ہوسکا ۔

دیکھا سناش شمس کی نظروں میں بھی ہماری کوئی اہمیت نہیں ہے ۔

” کیوں شمس آپ نے ایسا کیوں کیا ؟”

شہزادے نفاس جھیل یہاں سے بہت دور ہے اور مچھلی پکڑنے میں کافی وقت بھی لگ سکتا تھا اسلیے ہم کسی کو بھیج نہیں سکتے تھے ورنہ کوئی نہ کوئی کام رک جاتا ۔”

” دیکھا سناش ہمارا کام کرنے کے لیے کسی غلام کے پاس وقت ہی نہیں ہے ۔”

” شمس محل۔کے کام ہوتے رہے گے پہلے جو طلسم نے کہا ہے وہ کیجئے !”

نہیں سناش ہمیں انکا احسان نہیں چاہیے ہمیں ہمارا ذاتی غلام چاہیے جو صرف ہمارے کام کریں ایسا ہو سکتا ہے نہ ؟ وہ معصوم اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔

” جی ایسا ہوسکتا ہے آپ ان میں سے دیکھ لیں جو آپکو کا قابل لگے “

نہیں ان میں سے نہیں یہ سارے کسی کام کے نہیں ہیں ہمیں کوئی اور چاہیے شمس قید خانے میں چند اچھے قیدیوں کو بلائے ہم ان میں سے چنے گے ۔سناش نے اسکی بات پر ایک گہرا سانس خارج کیا شمس سناش کی طرف دیکھ رہا تھا ۔” شمس سنائی نہیں دیا طلسم نے کیا کہا !”

جو حکم شہزادے ! تمام غلاموں کو وہاں سے بھیج دیا سناش بھی وہاں سے چلا گیا تھا ۔جب طلسم اور شمس نے خوشی سے ہاتھ پر ہاتھ۔ مارا ۔

کچھ دیر بعد شمس چند قیدیوں سمیت باغ میں کھڑا تھا جن میں اسیر بھی شامل تھا ۔سناش اور طلسم بھی وہاں پہنچ چکے تھے ۔طلسم قیدیوں کے سامنے سے گزر کر انھیں دیکھ رہی تھی تمام قیدی سر جھکائے کھڑے تھے صرف وہ تھا جو سر بلند کیے کھڑا تھا اور یہ بات سناش نے بھی محسوس کی تھی