Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam NovelR50472 Shehr-e-Sahar Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
Shehr-e-Sahar Episode 12
Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam
Back to that night at shahr-e-sehar ..
میں آپکی کوئی مدد نہیں کر سکتا شہزادی میں مجبور ہوں ۔وہ شرمندگی سے اسکے سامنے کھڑا تھا ۔
غفران کوئی تو راستہ ہوگا کچھ بھی ؟ وہ منتوں پر اتر آئی تھی ۔
ایک راستہ ہے اور وہ مشکل ہے مگر ناممکن نہیں ہے ۔
کونسا بتاؤ میں ہر کوشش کرنے کے لیے تیار ہوں ۔
صیاد کو ہرایا جاسکتا ہے اگر وہ بیج ہمیں مل جائے اس بیج سے جو پھول کھلے گا اس سے صیاد کو ہرایا جاسکتا ہے ۔
کیسا پھول اس سے کیا ہوگا ؟
” میں بتاتا ہوں شہرِسحر کے پانچ جادوگر سب سے زیادہ مشہور تھے زولفشان یعنی آپ کو والد دوسرا زولفشان کا غلام آدم تیسرا میں چھوتھا شہوار اور پانچواں صیاد یعنی آپ کے چچا ۔سب اپنے اپنے جادو میں ماہر تھا مگر سب سے طاقتور آدم تھا جو ناصرف جادوگر بلکے دانشور بھی تھا اور اسی وجہ سے صیاد اس سے کھندک رکھتا تھا ۔شہر سحر میں جس قدر جادو پھیلتا جارہا تھا عوام عام زندگی میں بھی جادو استمعال کرنے لگے تھے اسلیے شہر کو جادو سے پاک کرنے کے لیے آدم نے شہر کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ جادو چھوڑ دےگے اور عام زندگی گزارے گے ۔تمام شہر مان گیا تھا عوام سمیت ہم پانچ جادوگروں نے بھی اپنا جادو چھوڑ نے کا فیصلہ کیا تھا آدم نے سب کا جادو ایک بیج میں قید کیا تھا ۔لیکن صیاد نے دھوکہ کیا اور اپنا جادو نہیں دیا تھا ۔سارا جادو اکٹھا ہونے کے بعد صیاد نے وہ بیج حاصل کرنے کے لیے جادوگروں کو مارنا شروع کردیا ۔صیاد سے بچانے کے لیے آدم نے وہ بیج کہیں چھپا دیا تھا ۔”
تو وہ بیج کہاں ہے ؟.
یہ نہ مجھے پتہ ہے نہ ہی صیاد کو آدم کو صیاد نے مار ضرور دیا تھا مگر اگلوا نہ سکا ۔
تو وہ بیج ڈھونڈے گے کیسے ؟
آدم نے بیج ایسی جگہ اور اس طریقے سے چھپایا ہے جسے آسانی سے حاصل نہ کیا جاسکے تو اسنے ایک پہیلی چھوڑی تھی اس جگہ اور بیج کے مطلق ۔
کہاں ہے وہ پہیلی ؟ اسکا سوال سن کر وہ ایک صندوق کی جانب بڑھا اور ایک تختی اسکے سامنے رکھ دی اس پر لکھی تحریر کو طلسم نے پڑھنا شروع کیا ۔
تھامو صبر کی ڈور نے چلے گا اُفم
شہر سحر میں دھونڈو وہ اطم ۔۔۔۔۔۔
غرور و تکبر کا وہ اطلال ہے ۔۔۔۔
مقابل سورج کے نہیں اسکا اظلال ہے ۔۔
وہاں کہیں چھپی ہے آدم کی امانت ۔۔۔
فقط آدم کے جنے کو ملے کی اعازت ۔۔۔
وہاں کی نم مٹی میں وہ بیج ملے گا ۔۔۔
ابنِ آدم کے دست پر وہ پھول کھلے گا ۔۔۔
خون کی بوند سے وہ پروان چڑھے گا ۔۔
پانا ہے کچھ تو کچھ کھونا پڑے گا ۔۔۔
“یہ تو بہت مشکل ہے اسے حل کیسے کریں گے ؟,” اسکے طوطے تو پہیلی دیکھتے ہی اڑ گئے تھے ۔۔
” نہیں شہزادی مشکل پہیلی کو حل کرنا نہیں اسکی ضرورتوں کو پورا کر نا ہے ۔
کیا مطلب ؟ اسنے حیرانگی سے اسے دیکھا ۔
” اس پہیلی کے چھٹے اور آٹھویں فکرے میں ابنِ آدم یعنی ادم کے بیٹے کا ذکر آیا ہے اس بیج کو ڈھونڈ کر اسے پھول صرف آدم کی اولاد بنا سکتی ہے ۔
لیکن آدم کا تو ایک ہی بیٹا تھا جسے صیاد نے مار دیا تھا ۔
سب کو یہی لگتا ہے کہ آدم کا ایک ہی بیٹا تھا جسے صیاد نے مار دیا تھا لیکن اس رات آدم کے ایک نہیں جڑواں بیٹے پیدا ہوئے تھے ۔
کیا !! اسکی حیرت سے آنکھیں کھل گئی تھیں ۔
” جی اس رات آدم اپنے دوسرے بیٹے کو چھپا آیا تھا کیونکہ اسے صیاد کے ارادوں کا پتہ چل گیا تھا ۔اپنے بیٹے کو چھپانے کے بعد اسنے وہ بیج چھپایا اور پہیلی مجھے سونپ کرکے وہ چلا گیا اور بچے کا مطلق بھی مجھے بتایا تھا ۔
تو وہ بچہ کہاں ہے؟
” وہ کہیں دور عام انسانوں کی دنیا میں ہے ۔
تو اسے واپس کیسے لائیں گے ؟.
یہی تو میں کہ رہا ہوں کہ مشکل پہیلی کو حل کرنا نہیں پہیلی کی ضرورتوں کو پورا کرنا ہے ۔وہ پھول کوئی عام پھول نہیں ہے اس میں سارے شہر کا جادو ہے جو اس پھول کو کھا لے گا اس میں وہ سارا جادو سما جائے گا وہ صیاد کو آسانی سے ہرا سکتا ہے لیکن۔ اسکے لیے ہمیں وہ پھول ڈھونڈنا ہوگا اور پھول کے لیے آدم کی اولاد کو ۔
” تو اب کریں گے کیا ؟
” شہزادی آپ اسے۔۔۔۔۔میرا مطلب اپ اسے ڈھونڈ کر واپس لاسکتی ہیں ۔
میں !! وہ کیسے ؟ ” شہزادی آدم کی اولاد جب پیدا ہونے والی تھی تب اپ کی عمر ایک سال تھی تب آدم نے اپنے راجا آپکے والد زولفشان سب وعدہ کیا تھا کہ اسکی آنے والی اولاد طلسم کی غلام ہوگی یعنی اسیرِ طلسم کہلائے گا پیدا ہونے سے پہلے ہی اسے آپ کا غلام قرار دے دیا گیا تھا آپکی غلامی اسکے خون میں ہے اسلیے جب آپ وہاں جائیں گی وہ خودبخود آپ کی طرف کھینچا چلا آئے گا ۔
ہاں یا شاید مجھے لگتا ہے کہ آپ ہی اسے واپس لا سکتی ہیں ۔”
لیکن غفران تم نے طلسم کو دیکھا نہیں وہ جس قدر حسین ہے ایک نہیں کئی مرد اسکی طرف کھینچے چلے آئے گے ۔” یہ الفاظ تھے اس چھوٹے سے جن کے جو طلسم کے لاکٹ سے نکلا تھا ۔
” تم چپ رہو روباش بیچ میں مت بولو ” طلسم نے اسے ڈانٹ کر چپ کروادیا ۔
” روباش غلط نہیں کہ رہا شہزادی وہ ٹھیک کہہ رہا ہے ۔
تو پھر کیسے پتا چلے جس کو ہم ڈھونڈنے آئے ہیں وہ کون ہے ؟’
” اسکی تین نشانیاں ہونگی پہلی نشانی یہ کہ وہ شہر سحر کا باشندہ ہے یعنی جادو کی نگری سے وہ جنات کو دیکھ سکے گا اسلیے وہاں آپ کے اور روباش کے ساتھ میرا جن ہیبت بھی جائے گا ۔دوسری اسکی پہچان کی تختی جو آدم اسکے ساتھ چھوڑ کر آیا تھا جو جن کو دیکھ سکے گا تختی اسی کے پاس ہوگی اور تیسری نشانی یہ کہ آپ جانتی ہیں کہ شہر سحر کا دروازہ کھولنے کے لیے ایک مخصوص نظم بولی جاتی ہے ۔
ہاں وہ مجھے آتی ہے ۔اسنے پرجوش ہوکر کہا ۔
” اسے بھی آئےگی یا آتی ہوگی اسے سکھانی نہیں پڑے گی ۔کام مشکل ہے شہزادی کیا آپ کر سکتی ہیں ۔”
” میں ضرور کروں گی میں اپنے ابا کا اور باقی سب کا بدلہ ضرور لونگی ۔” شہزادی وہاں جانا خطرے سے خالی نہیں ہوگا آپ وہاں اکیلی ہوں گی کیونکہ ہیبت آپکی مدد نہیں کرسکے گا اور وہاں آپ کو اپنی شناخت چھپا کر رکھنی پڑے گی حتیٰ کے اپنا نام بھی اور دوسری بات آپ اپنا جادو وہاں استعمال نہیں کرسکتی یہ اپ بھی جانتی ہیں جب جادو اکٹھا کیا گیا تھا تب اپ اور سناش بچے تھے کسی کو بھی نہیں پتا تھا کہ آپ کے پاس بھی جادو ہے ۔” غفران کی یہ بات اسے افسردہ کر گئی تھی ۔
” ہو ہائے طلسم تو جادو کے بغیر زندہ کیسے رہو گی تمہاری تو صبح ہی نہیں ہوتی جب تک تم اپنی چٹکی سے موم بتیاں نہیں بجھا لیتی کھانے کی طشتری کو انگلیوں سے ادھر ادھر نہیں کردیتی جب تک سپاہیوں کی برچھیاں ہوا میں نہیں اڑا لیتی ۔”روباش نے اسے ایسے دیکھ کر کہا ۔
” نہیں شہزادی آپ وہاں جادو نہیں استمعال کریں گی آپ کو وہاں ایک عام انسان بن کر رہنا پڑے گا۔”
” مجھے منظور ہے .”
لیکن شہزادی اس کام میں کافی وقت بھی لگ سکتا ہے تو صیاد کو کیا کہ کر جائے گی آپ ؟
میں سوچ لوں گی اسکے لیے اگر مجھے اپنا آپ مارنا بھی پڑا اسکی نظر میں تو میں مار دوں گی ۔
تو ٹھیک ہے شہزادی ہمیں کل ہی نکلنا پڑے گا کیونکہ شہر سے باہر جانے کے لیے چاند سے جو دروازہ کھلتا ہے وہ چودہویں رات کو کھلتا ہے کل چودہویں کا چاند ہے اسلیے ہم کل ہی جانا ہوگا ۔
ٹھیک ہے میں کل یہاں آجاؤ گی اور تم مجھے وہاں بھیج دینا ۔” غفران نے اسے سب۔سمجھا دیا تھا ساری رات وہ یہی سوچتی رہی تھی کہ وہ جائے گی کیسے پھر آخر کار اسنے ماموں جان کا بہانہ بنایا ۔اس رات اسنے سب سے معافی مانگی تھی سوائے صیاد کے سناش سے معافی اسکی محبت کی وجہ سے مانگی اور امی جان سے جھوٹ بولنے کی
اگلی صبع غفران اور طلسم۔کا کام۔صیاد نے خود اسان بنا دیاشمس کو طلسم کی بگھی کا دھرا نکالتے غفران نے دیکھ لیا تھا ۔بگھی جب جنگل۔میں گری تب غفران وہیں موجود تھا جس نے طلسم کو بچایا اور کوچوان کو وہیں بے ہوش چھوڑ دیا تھا ۔سپاہیوں کے وہاں پہنچنے سے پہلے وہ اسے اپنے گھر لے آیا تھا ۔رات کے پہلا پہر شروع ہوگیا تھا ۔
شہزادی ایک بار پھر سوچ لیں یہ کام اتنا آسان نہیں ہے۔
نہیں غفران اگر میرے شہر کو بچانے کا یہی آخری طریقہ ہے تو میں اسے ضرور کروں گی میں اسے واپس ضرور لاؤں گی ۔عفران نے دروازہ کھول دیا تھا وہ اندر قدم رکھنے ہی والی تھی جب ا اچانک کچھ یاد آنے پر مڑی ۔
” غفران اس تختی پر لکھا کیا ہے ؟”
یہ مجھے نہیں معلوم مجھے بس اتنا معلوم ہے کہ اسکا نام اسیر ہے اور کچھ بھی نہیں ۔
لیکن یہ بھی تو ہوسکتا اسنے اپنا نام بدل لیا ہو یا جس کو وہ ملا تھا اسنے بدل دیا تھا
سو فیصد امید ہے کہ بدل دیا ہو اسلیے تو آپ کو نشانیاں بتائی ہیں .شہزادی آپکا نام کیا ہوگا وہاں ؟
” غفران کسی انسان کی پہچان اسکی اسکا ملک ہوتا ہے میری پہچان بھی میری پہچان ہوگی شہرِ سحر کی طلسم وہاں سحر کہلائے گی ۔”
” تو کیا فرق پڑا طلسم بھی جادو ہوتا ہے اور سحر بھی جادو تو طلسم ہی رہنے دیتی ۔” روباش نے منہ بنا کر کہا ۔
” شہزادی پہلے اس افلاطون کو لاکٹ میں قید کریں یہ پکڑوائے گا آپ کو ۔۔۔”
غفران تیری ہڈیوں کی یخنی نہ بنا کر نہ کھائی تو میرا ناااااام۔۔۔۔۔۔جملہ پورا کرنے سے پہلے ہی طلسم نے اسے لاکٹ میں قید کر دیا ۔
اپنا خیال رکھیے گا شہزادی ۔وہ دروازے کی چوکھٹ پار کرگئ تھی دروازہ بند ہوگیا تھا ۔ہر طرف روشنی تھی وہ چلتی جا رہی تھی جب اسے دروازہ نظر آیا یہاں بھی اسے یہی نظم بولنی تھی اور دروازہ کھل گیا ۔چاند زمین کے بے حد قریب تھی اسنے قدم باہر رکھا جب نرم ٹھنڈی گھاس پر اسکا پاؤں پڑا ۔وہ کسی باغ میں پہنچ چکی تھی ۔ہر طرف اندھیرا تھا ۔اسنے سب سے پہلے لاکٹ کھول کر روباش کو باہر نکالا تھا۔
” اب کیا میں دیکھ رہا ہوں جب سے سڑیل غفران آیا ہے نہ تم میری بات نہیں مانتی ۔۔” وہ چھوٹا سا جن جس کے پیر نہیں تھے اپنی دم ہلاتا سفید رنگ کا دھویں کی مانند اس سے شکایتیں کررہا تھا ۔
” میرا اچھا میرا پیارا روباش میرا گڈا میرا گوگلو ۔۔۔” وہ اسکے پیٹ میں انگلی سے گدگُدی کر رہی تھی جس سے وہ ہسنے لگا تھا ۔” ہاہاہا طلسم رک جاؤ بتاو کیا کرنا ہے ۔۔
“روشنی ڈھونڈ کر لاؤ یہاں بہت اندھیرا ہے تمہیں تو پتا ہے نہ میں جادو نہیں استمعال کر سکتی ۔۔۔”اسکی بات سن کر وہ باغ میں ادھر ادھر گھنونے لگا پھر ناجانے کہاں سے جگنوؤں کی قطار ڈھونڈ لایا جو طلسم کے گرد گھومنے لگے اندھیرا تھوڑا کم ہوگیا تھا ۔
” روباش یہ کہاں سے لائے ہو؟ “
” ادھر ہی درخت میں چھپ کر بیٹھا تھا میں نے اس سے کہا بھائی تمہاری روشنی چاہیے تو کہتا کیوں میں نے کہا میری شہزادی کو اندھیرے میں ڈر لگ رہا ہے تو ہسنے لگا کہتا تم پہلے سے پاگل ہو یا ابھی ابھی ہوئے ہوں ۔میں نے کہاں نہیں یقین تو آجاؤ خود دیکھ لو یہ شہزادی دیکھنے کے لیے اپنا پورا خاندان لے آیا ۔”
ہاہا روباش تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا ۔اسنے افسردہ سامنہ بنا کر کہا ۔
طلسم آب یہاں سے کہاں جائے گے ۔
” میں نہیں جانتی روباش اب کہاں جاؤ ہیبت ! اسنے ایک چھوٹی سی بوتل کھول کر ہیبت کو باہر نکالا ۔وہ سیاہ لال آنکھوں والا جن اسکے پاس آکر کھڑا ہوگیا ۔” ہیبت تم کچھ جانتے ہو کہاں جائیں ۔”
” شہزادی آقا نے کہاں تھا وہ ہمارے پاس خودبخود آئے گا تو انتظار کرتے ہیں شاید آجائے ۔۔۔۔”
” طلسم اسکو دوبارہ بند کرو بوتل میں یہ قید ہی اچھا تھا ۔” وہ ابھی یہ بات کر ہی رہے تھے جب انھیں ایک چیخ سنائی دی ۔وہاں کوئی لڑکی روڑ پر بھاگ رہی تھی ۔طلسم نے ہیبت کو بوتل میں قید کیا اسکے پاس پہنچی وہاں کوئی لڑکا کسی لڑکی سے زبردستی کر رہا تھا طلسم کے ہاتھ وہاں ایک اینٹ آئی جسے اسنے اس لڑکے کے سر پر دے مارا وہ لڑکا بے ہوش کر وہیں ڈھے گیا ۔وہ لڑکی ایک دم سیدھی ہوئی اسکی سانس پھول رہی تھی طلسم نے اسے پاس پڑے بنچ پر بٹھایا ۔
