Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam NovelR50472 Shehr-e-Sahar Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Shehr-e-Sahar Episode 10
Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam
“ Yeah I know what I’m saying but really I admire your beauty you…are ….sorry to say but you are literally snow white…”
اسنے رخ پھیر لیا تھا۔مگر اسکے چہرے پر ایک مسکراہٹ آگئی تھی ۔
“ ویسے میرے چہرے سے پتہ چلتا میں جھوٹ بول رہا ہوں یا نہیں۔ ۔۔۔۔”
وہ حیرت سے اسکی جانب مڑی ” کیا مطلب ؟”
“ مطلب ابھی جو میں نے کہا جھوٹ تھا وہ علی کہتاہے مجھے جھوٹ بولنا نہیں آتا تو میں نے سوچا تم جو اتنی بولڈ ہو تمہیں تو پتہ چل ہی جاتا ہوگا ۔۔۔۔” وہ عجیب نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی اور وہ چور ہنسی ہنستا ہوا سامنے ۔
وہ غصے سے منہ پھیر گئی اسنے ایک محبت بھری نظر اس پر ڈالی
“ تو تم نہیں پکڑ سکی کہ میں جھوٹ کب بول رہا تھا آئی لو یو ۔۔۔۔یہ اسنے بہت آہستہ سے کہا تھا۔
تم سے پہلے تم سا کوئی ہم نے نہیں دیکھا ۔۔۔
تجھے دیکھتے ہی مر جائیں گے۔۔۔۔
یہ نہیں تھا سوچا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گاڑی سے باہر دیکھ رہی تھی وہ اسے پلٹ کر دیکھنا بھی نہیں چاہتا تھا ” اسیر آپ کو واقعی ہی جھوٹ نہیں بولنا آتا پہلے اپنی دل بات میری آنکھوں میں دیکھ کر کی اور پھر نظریں چرا کر بولتے گئے ۔۔” ایک دلفریب سی مسکراہٹ اسکے چہرے پر تھی ۔” اللہ قسم اسیر آج اتنا تھک گئی ہوں دل کر رہا ہے آپ کی باہوں میں ہی چھپ کر سوجاؤ ۔۔۔۔” اسنے جمائی لی۔۔
باہوں تیری میری یہ رات ٹھہر جائے ۔۔۔
تجھ میں ہی کہیں پر میری صبح بھی گزر جائے ۔۔۔
ایسے نہ مجھے تم دیکھو ۔۔۔۔۔
سینے سے لگا لوں گا۔۔۔۔
تم کو میں چرا لوں گا تم سے۔۔۔
خود میں چھپا لوں گا ۔۔۔۔۔
اسکا گھر آگیا۔ تھا ایک منٹ تمہارے پاس کتنے پیسے ہیں ۔وہ گاڑی سے اترنے لگی تھی جب اسنے پوچھا ۔۔۔
“ کیوں ؟.,”
بتاتا ہوں دو سو روپے دو ۔۔۔۔ارے دو نہ ۔۔۔اسنے اپنے پرس میں سے دو سو روپے نکال کر اسے دیے ۔” ہاں اب اتروں ۔۔۔۔” وہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی ۔وہ جانے لگا تھا اسنے کہا ۔” میرے پیسے ؟؟..” ارے واہ کونسے پیسے کرایہ نہیں لینا تھا میں نے آٹو یا ٹیکسی میں آتی تو بھی دینے تھے نہ میں نے لیے تمہارا ڈرائیور تھوڑی ہوں میں ۔۔۔” یہ کہ کر گاڑی بھگا کر لے گیا کہ اس سے پہلے وہ کچھ توڑے ۔۔۔
وہ کھلکھلا کر ہنسی دی پھر چلی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میٹنگ شروع ہونے میں ابھی ایک گھنٹہ باقی تھا وہ اپنے آفس میں ہی بیٹھا تھا آصف اسے کوئی فائل دیکھانے آیا تھا وہ جانے وال تھا جب انسے کہا ” مس سحر کو اندر بھیجیے ۔۔۔”
” سر وہ تو ابھی تک آئی نہیں ہے ۔۔۔”
“ واٹ!! وہ ابھی تک ایک کیوں نہیں ہے ۔۔”
سر انھوں نے لیو بھیجی ہے ۔۔۔۔۔۔
اایسے کیسے لیو بھیج دی انکی پریزنٹیشن ہے آج ۔۔۔
سر انھوں نے پریزنٹیشن مجھے دے دی میں نے کال بھی کی تھی ۔مگر ان کا فون نہیں لگ رہا ۔۔
اللہ یہ لڑکی اسنے اسے فون بھی کیا مگر فون بند تھا ” آصف میٹنگ کی تیاری کرو ۔۔۔۔یہ کہ کر وہ باہر آگیا سارے راستے اسے فون ملاتا رہا مگر فون بند ہی تھا۔ گھر اندر سے لاکڈ تھا اسنے ادھر ادھر دیکھا پھر اسے ایک ونڈو نظرائی اسے توڑ کر وہ اندر آیا اور اسکے بیڈ روم کی طرف گیا سامنے وہ مست تکیہ باہوں میں دیے سو رہی تھی
وہ قدم قدم چلتا اسکے پاس آیا وہ کسی معصوم بچے کی طرح سکون سے سو رہی تھی مسکراہٹ اسکے چہرے پر قائم تھی جیسے کوئی خوبصورت خواب دیکھ رہی ہو۔اسکی خاموشی بھی کتنی خوبصورت تھی کچھ لمحے تو وہ اسے دیکھتا رہا پھر اسکے ماتھے کی طرف بڑھ گیا وہاں لب۔رکھنے ہی والا تھا کہ کسی خیال کے تحت اسکے کان کہ جانب جھک کر بولا ۔۔۔۔” سحر !” اسکی آواز پر وہ تھوڑا سا بے چین ہوئی پھر سو گئی اسنے پھر پکارہ ۔۔۔۔۔” کیا یار یہ ساون کا اندھا سپنے میں بھی آجاتا ہے جی سر ۔۔۔۔وہ غنودگی میں یہ سب کہے جارہی تھی۔
“اٹھو افس نہیں جانا تم نے ۔۔۔۔۔” وہ بغور اسکا چہرا دیکھ رہا تھا مگر اسنے کوئی جواب نہیں دیا بلکےرخ پلٹ گئی اور اسی کا ساتھ ہی اسکا ہاتھ بھی کھینچ گئی جس کی وجہ سے وہ اسکے قریب آگیا اس کی رنگت اتنی صاف تھی کہ اسکی ناڑیں تک نظر آرہی تھی اسکے کلون کی خوشبو پھر سے اسے بہکا رہی تھی وہ ایکدم اس سے دور ہوا تھا ۔سحر ! سحر ! اٹھو جاؤ اسے اب غصے آرہا تھا ” ساری دنیا اٹھ گئی ہے تمہیں نیند کے دھنڈورے پڑے ہیں ۔۔ وہ اسے جھنجھوڑ رہا تھا ۔
” تو تم بھی سو جاؤ ادھر آؤ ۔۔۔” وہ غنودگی اسے کھینچ رہی تھی اور وہ اس سے دور ہورہا تھا ۔
اے بے شرم کیا بول رہی ہے میرے ہونے والی بیگم اٹھ جا پریزنٹیشن نہیں دینی تم نے ۔۔۔۔۔
” ہاں تو وہ دے تو دی تھی آصف کو میں نے یارررررسونے دو میں مجھے ۔۔۔۔۔۔” اسے بلکل بھی ہوش نہیں تھی کی کہ وہ کیا بول رہی ہے بلا آخر اسے وہ کرنا ہی پڑا اسنے پانی کا گلاس بھر کر اسکے منہ پر ڈال دیا جس وہ کرنٹ کھا کر اٹھی اسکے چہرے سے ٹپکتے پانی سے کمبل گیلا ہوچکا تھا اسنے چہرا صاف کر کے سامنے دیکھا جہاں وہ سوٹ بوٹ میں ملبوس دانت نکالے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔” گڈ مارننگ !!”
” تم ۔۔۔۔تم یہاں کیا کر رہے ہوں ؟ اسنے منہ پھلا لیا ۔
” تم یہاں کیا کر رہا ہوں ۔؟ وہ ابھی اسی کا انداز اپنا رہا تھا ۔اسنے حیرت سے اسکی جانب دیکھا ۔۔” تم میری نکل اتار رہے ہوں ؟..”
” تم میری نکل اتار رہے ہوں ۔۔۔”
” اپنا منہ بند رکھو ۔۔۔۔”
اپنا منہ بند رکھو ۔۔” وہ ہو بہو اسکی نقل اتار رہا تھا
” تمہارا دماغ خراب ہے کیا ؟” ۔۔۔۔۔
” تمہارا دماغ خراب ہے کیا ” ۔۔۔۔
وہ منہ پھلا کر بیٹھ گئی پھر کچھ دیر بعد سوچ کر بولنے لگی ۔۔
” تم بندر ہو ۔۔۔۔”اسکے چہرے پر مسکراہٹ آگئی ۔
” تم بندر ہو ۔۔۔” اسنے ویسے ہی بول دیا ۔
” میں ۔۔۔۔بندر ہوں ۔” اسنے سینے پر انگلی رکھ کر زور دے کر کہا
” ہاں مجھے پتہ ہے ۔۔۔” وہ بھی اتنی جلدی اسکے ہاتھ اجائے۔
اسنے غصے سے نتھنے پھلا رہا تھا ۔
” اب یہ بک بک بند کرو تیار ہو آفس چلو پریزنٹیشن ہے تمہاری ۔۔۔۔” یہ کہہ کر وہ باہر کی جانب بڑھ گیا ۔
” میں نے جاب چھوڑ دی ہے کل رات اپنا رزائن میں نے ای میل کردیا تھا ۔
” اسنے حیرت سے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔” تم نے میری ای میل نہیں دیکھی ابھی تک ۔۔۔”
” کیوں آپ نے رزائن قبول نہیں کیا ؟.
” تو تم نے واقعی ہی میری ای میل نہیں۔ دیکھی چلو تمہیں میں بتا دیتا جوں تم نے ہماری مطلب چاچو کی کمپنی سے ایک سال کا کنٹریکٹ کیا ہے اس سے پہلے جاب نہیں چھوڑ سکتی ۔۔۔۔”
اس بار حیرانگی کی باری اسکی تھی ۔” مجھے نہیں پتا جب میں نے جاب جوئن کی تھی تب تو اسیے کوئی بات نہیں۔ ہوئی تھی ۔
” اور جب تم نے لائل پور گیلریاں والا کنٹریکٹ سائن کیا تھا اسے پڑھا تھا پورا ۔۔۔۔” اب اسے سمجھ آیا کہ کیا ہوا تھا وہ بیچارگی سے اسے دیکھ رہی تھی جس کی ہنسی عنقریب چھوٹنے والی تھی ۔۔۔” ایک گھنٹے میں۔ تیار ہوکر آو میں جارہا ہوں ۔۔” اسے کہ کر وہ باہر آگیا اسے اس سے پہلے پہنچنا تھا کانفرنس ہال بھی سنبھالنا تھا ۔
وہ کچھ دیر تو بسترمیں گھسی رہی پھر بے دلی سے اٹھ کر تیار ہوئی ۔
وہ کانفرنس ہال میں پہنچ چکا تھا کلائنٹس اچکےتھے یہ پروجیکٹ سحر کو اسکی قابلیت پر ملا تھا وہ اتنی امپورٹنٹ میٹنگ سے ایک رات پہلے عزائم کر رہی تھی اسے اسکی بے وقوفی پر حیرت ہورہی تھی اسلیے وہ اسے لینے خود گیا تھا کیونکہ وہ اپنی اتنی بڑی اوپرچونیٹی آصف کو دے رہی تھی ۔وہ کانفرنس ہال میں کھڑا اس کا انتظار کررہا تھا جب شیشے میں سے اسے آ تی دیکھائی دی وہ کسی فائل کو دیکھنے میں اس قدر مصروف تھی کہ اسے پتہ ہی نہیں تھا دروازا کہاں ہے اور گلاس وال کہاں مگر وہ اسے بڑی غور سے دیکھ رہا تھا مگر اس سے پہلے کچھ کہتا وہ گلاس وال میں اپنا سر مار چکی تھی
” آئی ماں ۔۔۔۔وہ اپنا ماتھا رگڑ رہی تھی ۔۔۔وہ بھاگ کر باہر آیا اسکے پاس اسے چھونے کے لیے ہاتھ بڑھایا مگر پھر کسی سوچ کے تحت پیچھے ہوگیا ۔۔” آر یو اوکے مس سحر ؟…
اسنے ماتھے رگڑتے ہوئے اسے دیکھا جو فکر بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔
” جی میں ٹھیک ہوں ۔۔۔” وہ اسے نظر انداز کرتی بڑے اعتماد کے ساتھ اندر کی طرف چلی گئی مگر اسے نہیں پتا تھا کہ اج کیا ہونے والا تھا ۔
وہ اندر آگئی تھی مگر آتے ہی اسکی بولتی بند ہوگئی کانفرنس ہال میں کافی لوگ بیٹھے تھے “ان سب کے سامنے بولنا ہے ؟”
وہ بھی اسکے پیچھے پیچھے ہال میں آگیا آج اسنے سفید کرتا جس پر رنگ برنگی کڑاھی ہوئی تھی ۔کرتے میں سے ایک ڈوری اسکی کمر پر بندھی تھی ۔کانوں میں چھوٹے چھوٹے چھوٹے سرخ رنگ کے ایرنگ اور آنکھوں کا تھوڑا سا لمبا لائنر اسے بےحد حسین بنا رہا ۔ بال ایک طرف سے اٹھا کر پِن اپ کیے ہوئے تھے ۔ ۔بلو جینز ٹخنوں تک جہاں سے اسکی پائل نظر آرہی تھی جو ایسر کو اچھی نہیں لگی ۔ اسکے چہرے سے شروع ہوئی مسکراہٹ اسکے برہنہ ٹخنوں اور پائل کو دیکھ کر غائب ہوگئے اسنے آئی غصیل نظر اس پر ڈالی جسے اسنے نہیں۔ دیکھا ۔وہ ڈری سہمی سی پروجیکٹر آن کر رہی تھی ۔وہ اس قدر گھبرائی ہوئی تھی کہ اسکے ہاتھ میں پروجیکٹر کا ریموٹ کانپ رہا تھا ۔اسنے آگے بڑھ کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا جیسے کہ رہا ہو میں ہوں نہ اور اسکے قریب کھڑا ہوگیا وہ کھڑی تھی تو وہ کیسے بیٹھ سکتا تھا ۔کلائنٹ میں سے ایک نے اسے بیٹھنے کا اشارہ بھی کیا جسے اسنے منع کردیا وہ سائے کی طرح اسکے پیچھے کھڑا تھا اسکے ہاتھ کی انگلی کے ایک ایک اشارے کو ایک حرکت کو غور سے دیکھتا ہوا ۔دایاں ہاتھ سینے پر باندھے بایاں ہاتھ منہ پر رکھے اسے بڑی گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔بیچ بیچ میں وہ ایک اچٹتی سی نظر اس پر ڈالتی تو اسکے انداز میں زرا بھی لرزش نہ ہوتی ۔اسکے لب ہلے رہے اسکا دل قربان قربان ہورہا تھا ۔ کانفرنس ہال میں۔ ایک دم خامشی ہوگئی اتنی کے اسے قدموں کی آہٹ اور اسکی پائل کی آواز اسے صاف سنائی دینے لگی ۔وہ سامنے خاموش اسے دیکھ رہی تھی ۔لیکن اسے کچھ ہوش نہیں۔ تھا وہ تو مسلسل اسے دیکھے جارہا تھا ۔وہ مسکراتی ہوئی اسکے پاس آئی اور وہ بنا پلک جھپکے اسے دیکھا وہ بے ساختہ اسے سینے سے لگ گئی اور اسنے بنا کسی چیز کی فکر کیے اسے اپنی باہوں سمیٹ لیا مگر اچانک تالیوں کی آواز سے اسنے آنکھیں کھولیں وہ تو وہیں کھڑی تھی یعنی یہ اسکا خیال تھا۔اسنے مسکرا کر ایک تھپکی اپنے سر پر دی۔
” اب نہیں رہا جاتا یہ خواب تو حقیقت ہونا چاہیے اور یہ آج ہی ہوگا
میٹنگ ختم ہوچکی تھی وہ بھی اپنی فائلز سمیٹ کر باہر جانے ہی والی تھی جب وہ کچھ اور فائلز لے کر اسکے پاس آیا۔” مس سحر یہ کچھ امپورٹنٹ فائلز ہیں آج شام چھے بجے تک مجھے چاہیے تو اسلیے ان کا کام ختم کر کے مجھے گھر پہنچا دیں اور فائلز لیکر آپ خود آئے گا کیونکہ مجھے آپ سے کچھ اور بھی ڈسکس کرنا ہے اسلیے فائلز لیکر آپ خود آئے گی ۔۔۔۔” وہ منہ کھولے اسے دیکھ رہی تو اسے فائلز تھما کر چلا گیا وہ اسے کچھ کہ بھی نہ سکی ناجانے کیوں آج اسے لڑنے کا دل نہیں کر رہا تھا اسلیے چپ چاپ فائلز لے کر گھر آگئی ۔تقریبا ساڑھے پانچ بجے کے قریب اسکا کام ختم ہوا اور کپڑے بدلنے چلی گئی سوچا تو آج اسنے بھی کچھ تھا اسلیے اسنے سب سے پہلے اپنا لباس تبدیل کیا کیونکہ اسے یہ پتہ چل گیا تھا اسے یہ اچھا نہیں لگا ۔الماری میں سے اسنے ایک سادہ سی شلوار قمیص نکالی بلو کلر کی اور باہر آگئی گھٹنوں تک آتی قمیص جس پر گولڈن کلر کے موتے لگے تھے اور گھیرے دار شلوار جس میں اسکے ٹخنے اور پائل چھپ گئی تھی شفون کا دوپٹہ اسی رنگ تھا ۔بالوں کی آ گے سے دو لٹیں نکال کر اسنے پیچھے پن اپ کرلیں تھیں جس سے بال سِمٹ گئے تھے ۔ایررنگ اسنے تبدیل نہیں۔ کیے تھے ۔کسی ملک کو سب سے خوبصورت اور اسکی پہچان اسکے ریت رواج بناتے ہیں اور ان میں سب سے اہم کردار لباس کا ہوتا ہے اور مشرق کے لباس کی تو کیا ہی بات ہے جو سادگی سادہ شلوار قمیص میں ہوتی ہے وہ کسی مہنگے لباس میں نہیں ہوتی اور عورت کا سب سے بڑا گہنہ اسکی چادر ہوتی ہے جس کے بغیر وہ نامکمل لگتی ہے ۔مشرق کے لباس میں صرف سادگی ہی نہیں حیا تہذیب پُرکھوں کی عزت کا بھی عکس دیکھائی دیتا ہے ۔ وہ بھی ایک مشرقی لڑکی لگ رہی تھی ۔سادہ خوبصورت۔
سوا چھے بجے کے قریب وہ اسکے گھر کے باہر کھڑی تھی ۔اسنے شروع سے آخر تک اس بلندو بالا بنگلے کو دیکھا اور پھر گیٹ کھول کر اندر آگئی ۔
” خبیس بولا ہے دھیان سے نہیں چلا سکتے بلکہ تم تو اڑا رہے تھے ۔” وہ ابھی آگے ہی بڑھنے لگی تھی جب اسکے کانوں میں یہ آواز پڑی کوئی عورت ڈرائیور پر برس رہی تھی جس نے اسکے کپڑوں پر گاڈی پارک کرتے کیچڑ اچھال دیا تھا ۔
