Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam NovelR50472 Shehr-e-Sahar Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
Shehr-e-Sahar Episode 13
Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam
” آپ ۔۔۔اپ ٹھیک ہیں ؟ ” اسنے اثبات میں سر ہلا دیا سانس بحال کرنے کے بعد وہ اسکی جناب متوجہ ہوئی اور کچھ لمحے اسے دیکھتی ہی رہ گئی طلسم نے دوبارہ ہاتھ ہلا کر اسے پکارہ محترمہ آپ ٹھیک ہیں جب وہ بے ساختہ بولی
سنو وائٹ! تم سنو وائٹ ہو نہ ” رات کی سیاہی میں بھی اسکا رنگ چمک رہا تھا ۔
” کک ۔۔کون ہوں میں ” اسکے جواب دینے کی بجائے وہ اسے ہاتھ اور گال کو چھو رہی تھی ۔
” تم کتنی خوبصورت ہو ! ااسنے بے ساختہ کہاں طلسم اسے حیرت انگیز نظروں سے دیکھ رہی تھی جب وہ سنبھل کر بولی ” تھینک یو تھینک یو سو مچ مجھے اس لڑکے سے بچانے کے لیے وہ میرا پیچھا کر رہا تھا ۔ہیلو میں حنا ہوں ۔” وہ اسکے سامنے ہاتھ بڑھائے کھڑی تھی جسے طلسم نے تھام لیا ” میں سحر ہوں ؟”
” تم نہ خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ بہادر بھی لیکن تم اس وقت یہاں کیا کررہی ہوں ۔۔۔”
” میں ۔۔۔وہ ۔۔میں یہاں …” اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا وہ کیا کہے۔
” مجھے چل گیا پتہ تم یہاں کیا کر رہی ہوں ۔۔۔” حنا ایک دم بول پڑی ۔
کک کیا پتہ چل گیا ؟ وہ ڈر گئی ۔” یہی کہ تم اپنی شادی سے بھاگ کر آئی ہوں ۔”
ڈوبتے کو جیسے تنکے کا سہارا مل گیا اسکا لال لباس اور زیور دیکھ کر حنا نے اندازہ لگایا تھا ۔
ہاں۔۔۔۔۔۔میں شادی بھاگ کر آئی ہوں میرے والدین نہیں ہے تو چچا کسی پاگل سے میری شادی کروا رہے تھے اسلیے میں بھاگ آئی ۔
بہت اچھا کیا ایسا ہی کرنا چاہیے تھا تواب تم کہاں جاؤ گی ؟”
پتا نہیں بھاگنے سے پہلے یہ سوچا تھا ہی نہیں کہ جاؤ گی کہاں بس بھاگ آئی ۔
ہو تم اتنی رات کو کہاں جاؤ گی چلو میرے ۔” وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچنے لگی ۔
آپ کے گھر ؟ نہیں میرا گھر نہیں ہوسٹل میں یہاں پڑھتی ہوں گھر تو میرا فیصل آباد میں ہے ۔
ہو س۔۔۔ہوسٹل وہ کونسی جگہ ہوتی ہے ؟ تمہیں ہوسٹل کا نہیں پتا کہاں سے آئی ہوں تم ؟
میں وہ ۔۔۔۔یہ۔۔۔یہ کونسی جگہ ہے ۔؟ یہ شہر ہے لاہور تم کہاں سے آئی ہوں ۔
میں گاؤں سے آئی ہوں کچھ دور ہی ہے یہاں سے ۔۔وہ تو بلکل بوکھلائی گئی تھی ۔
“ہوسٹل جو لڑکیاں کسی اور شہر میں کچھ کام یا پڑھنے آتی ہیں وہ ایک جگہ جہاں رہتی ہیں ایک ساتھ اسے ہوسٹل کہتے ہیں تو تم میرے ساتھ میرے ہوسٹل چلو ابھی بہت رات ہوگئی ہے ۔وہ اسے لیکر اپنے ہوسٹل آگئی تھی سارے راستے وہ اس عجیب و غریب شہر کو دیکھتی رہی ہوسٹل پہنچ کر سب لڑکیاں اسے ایسے دیکھ رہیں تھی جیسے چڑیاں گھر میں نیا جانور ۔
” طلسم تیار ہوجاو عنقریب ہے کہ تمہیں عجائب گھر چھوڑ آئیں گی کیسے دیکھ رہی ہیں تمہیں ۔” یہ آواز لاکٹ میں سے آئی تھی جو صرف اسے سنائی دی ۔ایک لڑکی اسکے پاس آئی ۔
” تمہاری ڈریس تمہاری جیولری کتنی مہنگی لگ رہی ہے خریدیں تھی یا خود بنوائی تھی ؟”وہ ساتھ ساتھ اسکے ہاتھ میں موجود کنگن کو دیکھ رہی تھی ۔
” یہ آپ کو اچھا لگا آپ لے لیں ۔” اسنے وہ کنگن اتار کر اسے دے دیے جیسے وہ لڑکی پکڑنے ہی والی تھی جب حنا نے اسکا ہاتھ روک دیا۔
” آپ لوگ اپنے کمروں میں۔ جائیں رات بہت ہوگئی ہے ۔اسنے ایک منٹ میں سب کو بھگا دیا ۔
” تم پاگل ہو یہ کیا کر رہی تھی ؟.”
وہ انھیں پسند تھا تو میں نے سوچا انھیں دے دیتی ہوں ۔وہ معصوم سا منہ بنا کر بولی ۔
,کل کو کوئی لڑکا اکر یہ کہے گا مجھے تم پسند ہو تو تم کہوں گی لے جاؤ یہ تمہاری شادی کے زیور ہیں اٹھو تم یہ کپڑے اور زیور اتارو ۔حنا نے اسے اپنے کپڑے دیے ۔اس طرح اسکی اور حنا کی دوستی ہوئی تھی ۔حنا اسے اپنے ساتھ ساتھ رکھنے لگی حنا اسے جہاں کہتی وہ ساتھ چل پڑتی ہر بھیڑ بھاڑ والی جگہ پر وہ اسکے ساتھ جاتی ہیبت کو بوتل سے وہ تب نکالتی جب وہ کسی رش والی جگہ پر ہوتی ۔حنا نے اپنی ہوسٹل میں بات کرکے اسے وہاں رہنے کی اجازت دلوائی تھی ۔ہوسٹل میں قیام کے دوران اسنے ہر چیز سیکھی تھی فون چلانا اانگلیش اسنے حنا کے ساتھ ملکر بھارت کی ہر مووی ہر گانا سنا تھا اسے یہ دنیا بہت اچھی لگنے لگی تھی ۔مگر اپنا مقصد وہ نہیں بھولی تھی اسنے لاہور کی ہر پبلک پلیس پر دیکھا تھا ۔مگر ہر کوشش کے باوجود لاہور میں اسے کچھ نہیں ملا تھا ۔حنا کی تعلیم ختم ہوچکی تھی اسے اب فیصل آباد جا نا تھا تین ماہ میں اسنے حنا کے علاوا کوئی دوست نہیں بنایا تھا اسلیے وہ اجے ساتھ ہی فیصل آباد آگئی جہاں حنا نے شگفتہ بیگم کے ہاں اسے رہائش دلوائی پہلے تین چار ماہ کا کرایہ تو اسنے پانی جیولری جو وہ پہن کر ائی تھی اسنے دے دیا تھا ۔اسی دوران وہ فارغ وقت میں کپڑوں کے اور جیولری کے ڈیزائن بنایا کرتی تھی ۔دن مہینے گزرتے جارہے تھی مگر ابھی تک اسے کوئی سراغ نہیں ملا تھا غفران سے بھی بات کرنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا وہ پریشان تھی جب اسی حنا کی سالگرہ کی تقریب سے انویٹیشن آیا ہمیشہ کی طرح اسنے یہ سوچ کر انکار نہ کیا کہ شاید وہاں وہ اسے مل جائے مگر یقین نہیں تھا لیکن اس بار قسمت اس پر واقع ہی مہربان ہونے والی تھی ۔وہ لال میکسی میں ملبوس پارٹی میں ایک ٹیبل پر بیٹھی تھی ۔
” طلسم چلو واپس چلتے ہیں یہاں نہیں ہے وہ بہت مشکل اسے ڈھونڈنا ۔” اتنے عرصے میں روباش کی ہر امید ٹوٹ گئی تھی ۔
” نہیں روباش مجھے اسے ڈھونڈنا ہے چاہے کچھ بھی ہو جائے ۔” ہیبت بوتل سے باہر اسکے ساتھ کھڑا تھا مگر اسے کوئی نہیں دیکھ پا رہا تھا ۔
” طلسم تم نہ مجھے وہ عورت لگ رہی ہو جو اپنے نمونوں کو رشتے کےلیے ہر شادی بیاہ میں لیکر جاتی ہے مگر اسکے نمونوں کو کوئی دیکھتا بھی نہیں جیسے اس بھدے ہیبت کو کوئی دیکھ رہا ۔”
” روباش میں بند رکھو وہ جن ہے اور حنا کی باتیں سن سن کر تمہاری زبان بہت زیادہ چلنے لگ گئی ہے ۔”
” طلسم ایک کام کرو اپنے اس کالے سیاہ جن کو فائزہ بیوٹی کریم لگا کر دیکھو ہوسکتا ہے اسکا رنگ چمکے تو کسی کی اس پر نظر ہی پڑ جائے نہیں فئیر اینڈ لولی بھی استعمال کر کے دیکھ لو ہوسکتا ہے کوئی فرق پڑ جائے ۔”
روباش کی بات پر وہ کھلکھلا کر ہنس دی جب اسکی میکسی ہر جوس گر گیا۔وہ اسے صاف کرنے کے لیے واش روم میں گئی جب اسے باہر سے چیخنے کی آواز آئی وہ باہر آئی کوئی لڑکا دیوار کے ساتھ کھڑا تھا ڈرا سہما سا ۔
” بھوت ۔۔۔۔۔بھوت جن ہے یہاں ۔۔۔” وہاں واقع ہی ہیبت کھڑا تھا طلسم کا تو حیرت سے منہ کھل گیا ۔کافی سارے لوگ اس سوٹ بوٹ میں ملبوس لڑکے کو دیکھ رہے تھے اور سمجھا رہے تھے یہاں کوئی نہیں ہے پھر بھی وہ کہے جارہا تھا ۔طلسم نے آگے بڑھ کر ہیبت کو بوتل میں بند کیا ۔اسکا سانس پھولا ہوا تھا علی نے باقی لوگوں کو سمجھا بجھا کر وہاں سے بھیج دیا تھا ۔وہ بھی جانے لگی تھی جب اسکے کانوں میں آواز آئی
” اسیر تم ٹھیک ہو وہاں کوئی نہیں ہے ” علی اسکے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے پوچھ رہا تھا ۔
” طلسم اگر میں نے غلط نہیں سنا تو اسنے اسیر کہا ! روباش حیرت سے اسے پوچھ رہا تھا جو خود آنکھیں بنا جھپکائے اسے دیکھ رہی تھی ۔
یا ہووووو!!!!!! طلسم ہمیں وہ مل گیا ہمیں وہ مل گیا ۔” وہ لاکٹ میں قید ہی بھنگڑے ڈال رہا تھا ۔
طلسم اب بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی وہ چلا گیا تھا اسنے طلسم کو دیکھا بھی نہیں تھا جو اسے خاصا برُا لگا تھا لیکن یہ اسکا وہم تھا کہ اسنے اسے نہیں دیکھا اسکا پیچھا کرتے کرتے ہی تو وہ واش روم گیا تھا مگر وہ ہیبت کو دیکھ کر اسکی چیخ نکل گئی تھی ۔پارٹی کے دوران بھی وہ ایمیل دوسرے کو دیکھتے رہے تھے مگر دونوں کو یہی لگا کہ وہ اسے نوٹس نہیں کر رہا وہاں سے ضد ہوئی شروع ایک دوسرے کے لیے ضروری بنے کی ۔طلسم نے۔اسکےبارے میں ہر قسم کی انفارمیشن نکال لی تھی ۔وہ بہت سارے فلاحی ادارے چلاتا تھا ۔وہ اسکا پیچھا کرتی تھی جہاں وہ ہوتا وہ وہاں ضرور ہوتی اسکی نظروں میں آنے کے لیے اسنے ہر وہ چیز کی جو اسے اچھی لگتی تھی ۔وہ تھی رحم دلی اسکے بعد کی کہانی تو زبانِ ضدِ عام ہوگئی تھی۔ لیکن اس تلاش میں وہ ایک اور چیز دریافت کرچکی تھی وہ تھی کہ وہ اسیر سے سچ مچ میں محبت کرنے لگی تھی پہلے اسکا مقصد صرف اسے لے جانا تھا لیکن اسے سمجھانے کے لیے اسکے قریب جانے کی جنگ میں وہ دل ہار بیٹھی تھی ۔اور اپنے مقصد میں کامیابی ہونے کے بعد وہ اس دنیا میں اسکے نام ہونے جارہی تھی ۔
Present night…
طلسم مقصد میں کامیابی بہت مبارک ہو۔ روباش کے تو دانت چھپ ہی نہیں رہے تھے۔
” تمہیں بھی مبارک کو روباش اور تمہیں بھی ہیبت ۔تو یعنی اب تم اسیر کو جو کچھ بھی بتاؤ گی وہ مان جائے گا اور پھر ہم اسے شہر سحر کے جائے گے ۔۔بات کرتے کرتے وہ اچانک اداس ہوگیا۔
کیا ہوا روباش تم چپ کیوں ہوگئے ؟ طلسم تم سچ میں اسیر سے شادی کر لو گی ؟
روباش ضروری ہے مجھے اگر اسکے گھر میں وہ دوسری نشانی ڈھونڈنی ہے تو مجھے اسکے پاس رہنا ہوگا ۔
طلسم یہ تو تم چھپ کر بھی کر سکتی تھی جیسے ہم غفران سے ملنے جاتے تھے پھر اس سے شادی کرنا کیوں ضروری ہے ۔مجھے پتا ہے تم اس سے محبت کرنے لگی ہو نا اسلیے کر رہی ہو۔
” ہاں میں نہیں جانتی کیسے ہوئی کیوں ہوئی خودی ہوگئی ایک عجیب سی کشش کھینچتی ہے مجھے اسکی طرف اسکی آنکھیں میرے دل کی دھڑکن الجھا دیتی ہیں اسکی مسکراہٹ دیکھ کر ایسا لگتا ہے سب کچھ ٹھیک مطمئین ہے ۔اسکی قربت ایسے جیسے جھلساتی دھوپ میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ۔اسکا لمس جلتے پر مرہم جیسا ہے ۔ اسکے ساتھ ہوتی ہوں تو لگتا ہے جیسے میں اسی دنیا سے ہوں ۔اگر مجھے اپنے شہر کو بچانا نہ ہوتا تو میں اسے کبھی وہاں لیکر نہیں جاتی میں کسی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی مگر میرا شہر اگر اسیر میرا دل ہے تو شہر سحر میری جان کوئی ایک بھی ختم ہوگیا تو میں ختم ہوجاوں گی ۔ ” وہ ایک لفظ کھوئی کھوئی سے بول رہی تھی اور روباش افسردہ سا اسے دیکھ رہا تھا ۔
” تو پھر طلسم سناش کا کیا ہوگا ؟” بس یہی ایک بات تو وہ یاد نہیں کرنا چاہتی تھی ۔وہ شرمندہ سی ہوگئی تھی ۔
” روباش وہ بہت اچھا بہت زیادہ مگر میں اس سے محبت نہیں کرتی “
اور وہ جو پچیس سال سے تم سے عشق کرتا ہے اسکا کیا تمہیں اس پر ترس نہیں آتا ۔
روباش دل پر زور نہیں ہوتا میں کیا کروں میرا دل صرف اسیر کے لیے دھڑکتا ہے ۔اور ویسے بھی میں اسکے قابل نہیں ہوں اسکے لیے تو کسی جنت کی حور کو ہونا چاہیے میں اسکے لائق نہیں ہوں ۔۔
یہ فیصلہ کرنے کا حق تمہارا نہیں تھا کہ تم اسکے لائق ہو یا نہیں یہ حق صرف اسکا ہوتا ہے جو محبت کر رہا ہے کہ اسکا محبوب کس قدر قابل ہے ۔
” جو بھی ہے میں صرف اسیر سے محبت کرتی ہوں اور میں اس سے نکاح لازمی کروں گی اور اب پلیز اسکے بارے میں بات نہ کرنا مجھے شرمندگی ہوتی ہے ۔
” غفران کو کیا جواب دو گی ۔؟
غفران کو صرف آدم کی اولاد چاہیے تھی اسیر سے نکاح میرا ذاتی فیصلہ ہے اسے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے
” تو پھر ٹھیک ہے طلسم میرے لیے بھی کپڑے خرید لینا تمہاری شادی میں میں سب سے اچھا لگو گا ۔روباش کی اس بات پر ہیبت اور طلسم نے سر سے دم تک اس سفید دھویں جیسے جن کو دیکھا اور پھر ایک دوسرے کو ۔” تم پہلے کپڑے پہنتے تھے روباش ۔”اسکی اس بات پر اسنے خود کو حیرت سے دیکھا اور انگلی دانتوں تلے دبا کر بولا ۔
” ہووو میں تو بنا کپڑوں کے ہی گھومتا ہوں ” وہ کھلکھلا کر ہنس رہے تھے وقت کا پہلا پاسا انکے حق میں آیا تھا باقی دوانت میں کون جیتا کون ہارتا اگلے وقت کے پاسے نے بتانا تھا جو شہر سحر کے میں کھیلا جانا تھا ۔
