416.8K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shehr-e-Sahar Episode 23

Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam

“ وہ ہم یہاں سے گزر رہے تھے تو پتہ ہی نہیں۔ چلا کیسے لگ گئی ہاتھ یہی جھٹک کر ہم اپنے کمرے میں چلے گئے تھے پھر یاد آیا چچا کو محل کے کسی بھی چیز پر کوئی داغ دھبہ پسند نہیں بہت صفائی پسند ہیں نہ اس پہلے وہ کسی غلام پر غصہ کرتے ہم بتانے آگئے “

طلسم آپکی اسی اچھائی کی وجہ سے ہم نے ، یہ کیا اور خدارا دھیان سے رہا کریں آپکی تکلیف ہمیں برداشت نہیں ہے ورنہ آپکا چلنا پھرنا ہم بند کروا دیں گے کہیں بھی آتی جاتی چوٹ لگوا لیتی ہیں ۔”

“ درد ہورہا ہوگا نہ ؟ اسکا دھیان اسکی انگلی سے نکلتے خون پر تھا ۔

“ نہیں ایسے ناجانے کتنے زخم ہر روز لگتے ہیں آج بھی لگا ہے ہم طبیب کے پاس ہی جارہے تھے۔اسنے اپنی برہنہ بازو سامنے کر کے دیکھا جہاں تلوار کی ضرب سے گہرا گھاؤ لگا تھا خون نکل نکل کر جم گیا تھا ۔طلسم۔نے ایک جھٹکے سے اسکی بازو کو اپنے ہاتھوں سے پکڑا اور فکر مندی سے دیکھنے لگی ۔” سناش اتنی چوٹ آپکو لگی اور آپ میرے تکلیفیں لیتے پھر رہے ہیں آپ ادھر آئیے میرے ساتھ بیٹھے یہاں ” اسکا بازو پکڑے اسنے اسے ایک کرسی پر بٹھا دیا ۔اسیر بھی وہاں آگیا تھا ۔سناش اسکے چہرے کو حیرت سے دیکھ رہا تھا جو اسکے گھاؤ کو دیکھ کر پریشان ہوگئی تھی ۔” اسیر طبیب کو بلاؤ !” اسیر کو اسکے لہجے پر حیرت ہوئی تھی ” جی شہزادی !”

اسیرِ طلسم ہم نے کہا طبیب کو بلا ۔۔۔۔جملہ مکمل کرنے سے پہلے ہی اسے احساس ہوگیا کہ وہ کیا بول گئی اسنے اسکی جانب دیکھا جو دکھ اور حیرت کے ملے جلے تاثرات سے دیکھ رہا تھا لیکن سناش ابھی بھی اسکا چہرا ہی دیکھ رھا تھا مسکرا کر حیرت سے پھر اسیر کے جانب متوجہ ہوگیا ” طبیب کو بلانے کا کہا گیا ہے !”

وہ گردن جھکا کر حکم کی تکمیل کرنے چلا گیا ” جو حکم شہزادی !”

اسکے جانے کے بعد طلسم کو اپنے اندر کچھ ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا اتنے تکلیف ہورہی تھی جیسے کوئی دل پر قدم رکھ کر اٹھانا بھول گیا ہو لیکن وہ جاتے ہوئے بھی گہرا مسکرا کر گیا تھا ۔” عشق تیرا ستیاناس !” کچھ دیر بعد وہ طبیب کو لیکر وہاں آگیا تھا اور خود ایک طرف گردن جھکا کر کھڑا ہوگیا ۔طلسم بھی سر جھکائے افسردہ سی کھڑی تھی آنسو کسی بھی وقت نکلنے والے تھے ۔طبیب نے سناش کا گھاؤ دیکھ لیا تھا گھاؤ کافی گہرا ہے تلوار بہت اندر تک کاٹ کرگئی ہے یہ مرہم میں انکے لگا دیتا ہوں چونکہ زخم کافی گہرا ہے تو مرہم جب زخم کے اندر جائے گی تو بہت تکلیف ہوگی صبر رکھیے گا ” یہ کہ کر طبیب نے وہ لیپ سناش کے بازو پر لگایا جو اسکے اندر تک بھر گیا تکلیف سے اسکے منہ سے ایک ٹیس نکلی تھی ۔طلسم اسکی حالت دیکھ کر کافی پریشان ہوگئی تھی بلکے رونے بھی لگی تھی طبیب پٹی کرنے والا تھا جب طلسم نے اسکے زخم پر ہاتھ رکھنے لگی لیکن سناش نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا اور نفی میں سر ہلادیا ” لیکن سناش آپکو اتنی تکلیف ہورہی ہے !”

” اور آپکو لگتا ہے یہ زخم آپ لے لیں گی تو مجھے سکون مل جائے گا آپکی ایک خروش برداشت نہیں ہے مجھے اور آپ یہ ۔۔۔یہ سوچ بھی کیسے سکتی ہیں آپ ۔۔” اور اسیر حیرت سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا جو ایک دوسرے کے حصے کا درد برداشت کرنے میں ایک لمحہ بھی تاخیر نہیں کر رہے تھے پھر کیسے ہوسکتا ہے کہ طلسم سناش سے محبت نہیں کرپائی۔طبیب نے پٹی کردی تھی ۔شہزادے آپ آرام کریں اور کچھ روز تلوار بازی کی مشق سے دور رہیں کرتے رہیں گے تو زخم ناسور بھی بن سکتا ہے ” سناش اٹھ کر کمرے کی طرف چلا گیا وہ بھی اسکے پیچھے تھے۔اسیر نے اسے بلایا مگر اسنے اسے منع کردیا ” اسیر میں آپ سے بات کرتی ہوں ابھی سناش کے پاس جانا ہے مجھے وہ بہت تکلیف میں ہے ۔” اسیر نے اس سے بات کرنے کے لیے جو ہاتھ اٹھایا تھا وہ خاموشی اور نا محسوس انداز سے نیچے کرلیا اور مسکرا کر اثبات میں سر ہلا دیا۔

وہ اسکے پیچھے پیچھے اندر آگئی باقی ملازموں کو اسنے بھیج دیا تھا مگر اسے وہ کچھ نہیں کہہ پایا ۔” سناش آپ نے چچا کو اس زخم کا کیوں نہیں بتایا ۔”

” طلسم میں نے محسوس کیا ہے ابا چند دنوں سے بہت پریشان ہیں ایسے میں وہ میرا یہ زخم دیکھ لیتے تو اور پریشان ہوجاتے اسلیے نہیں دکھایا اور ویسے بھی اتنا بڑا نہیں ہے ۔اپ بھی جائیں اور آرام کریں میں ٹھیک ہوں ۔”

نہیں میں ادھر ہوں آپکے پاس آپکو کسی بھی چیز کی ضرورت ہوئی تو ۔وہ اسکے سامنے بیٹھ گئی اور وہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا ۔ وہ اسکے سامنے کوئی کتاب لیکر بیٹھ گئی تھی اور وہ مسلسل مسکرا کر اسے دیکھے جارہا تھا کتنے سال بعد وہ اسکے ساتھ اسکے کمرے میں بیٹھی تھی ۔آنکھیں مسلسل اسی کا طواف کر رہی تھیں جو اپنی نظر کتاب پر مرکوز کیے بیٹھی تھی ۔بیچ میں کہیں وہ اسے دیکھتی تو وہ نظریں چرا کر باہر دیکھنے لگتا اور جب وہ پھر مصروف ہوجاتی وہ اسے پھر دیکھنے لگتا ۔ پھر اچانک اسنے کتاب بند کردی اور اسکے پاس بستر پر آکر بیٹھ گئی اور اسکے زخم پر انگلی رکھ کر تھوڑا سا دبایا ۔” سناش یہ دُکھتا ہے !” سناش نے حیرت سے اسے دیکھا اسنے پھر انگلی رکھ کر تھوڑا سا دبایا اسے معلوم تھا اتنے درد سے اسے کچھ نہیں ہوگا ۔” سناش یہ دُکھتا ہے !” اسکی اس بات پر سناش کھلکھلا کر ہنس پڑا تھا اور وہ بھی کیونکہ وہ اسے جو یاد دلا رہی تھی اسے یاد آگیا تھا ۔” یاد ہے سناش بچپن میں کبھی آپکو چوٹ لگ جاتی تھی اور آپکے پٹی کی جاتی تھی تو میں آپ کا وہ زخم دُکھا دُکھا کر آپ سے پوچھتی تھی کہ سناش یہ دُکھتا ہے اور آپ کیا کہتے تھے ۔طلسم نے پوچھا تھا جواب تو دینا تھا ۔” طلسم اتنا پہلے نہیں دُکھتا جتنا آپ دُکھا دیتی ہیں ۔” اور سناش آپکو یاد ایک بار آپ مجھے جھولے دے رہے تھے اور آپ نے اتنی زور سے جھولا دیا کہ میں منہ کے بل نیچے گر گئی تھی اور میرے اٹھنے سے پہلے آپ درخت پر چڑھ گئے تھے ۔پھر کیا ہوا تھا بھلا ۔” میں بتاتا ہوں سناش وہاں موجود ایک بڑے سے میز پر چڑھ گیا اور طلسم نیچے ہاتھ کمر پر رکھے کھڑی تھی اور غصے سے اسے دیکھ رہی تھی سناش نیچے او !

نہیں۔ طلسم میں نہیں او گا تم مجھے مارو گی ۔”…….میں نے کہا نیچے آو ۔۔۔۔۔۔نہیں میں نے آؤں گا میرا قصور نہیں تھا تم کھا کھا کر اتنی موٹی ہوگئی ہو جھولا تمہارا وزن برداشت نہیں۔ کرسکا اسلیے اسنے تمہیں گرا دیا ۔وہ ٹیبل پر چڑھا منہ بنا بنا کر جواب دے رہا تھا اور وہ نیچے منہ کھولے کھڑی تھی ۔” سناش تم نے مجھے موٹی کہا ۔” ” دیکھو غلط بیانی نہ کرو میں نے موٹی نہیں کہا میں نے کہا وزن بڑھ گیا ہے تمہارا ۔

” آہ!!! وہ اچانک درد سے کراہ رہی تھی جب وہ ایکدم نیچے آیا اور آتے ہی طلسم نے اسکا کان پکڑ لیا ۔” اب بتاؤ آگئے نہ نیچے !”لیکن بچپن کے برعکس وہ چیخا نہیں تھا بلکہ محبت بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔” کیا ہوا سناش ؟”

” طلسم آپ بچپن سے جانتے تھیں کہ ہم آپکی تکلیف برداشت نہیں کر پاتے اسلیے ہمیشہ آپکے ہاتھ آجاتے تھے ۔”

پھر میں کیا کرتی تھی ۔اسی کے ساتھ اسنے اسکی کمر میں لگی تلوار نکا لی اور وہاں سے بھاگ نکلی ۔” طلسم ہماری تلوار چھوڑ دیں وہ خطرناک ہے بچپن میں بھی آپ ہمارا خنجر لے کر بھاگ جاتی تھی اور

لڑائی میں کسی کے لگ بھی جاتا تھا ” وہ بھی اسکے پیچھے بھاگا ۔”

مجھے پکڑ کے دکھاؤ سناش پھر دیکھیں گے ! وہ محل کے برآمدوں میں آگے پیچھے بھاگ رہے تھے راستے میں آنے والے ہر ملازم کے ہاتھ میں جو چیز بھی ہوتی وہ تلوار سے اچھال دیتی ابھی ابھی اسنے پھولوں کی تھال اچھالی تھی جو سناش کے اوپر گرے تھے ۔

مرحمی سا ۔۔چاند ہے تو ۔۔۔

مٹیلا سا میں اندھیرا ۔۔۔۔۔

ایک دوجے کے لیے ہیں ۔۔۔

نیند میری خواب تیرا ۔۔۔۔

تو گھٹا ہے پھوار کی ۔۔۔میں گھڑی انتظار کی ۔۔۔

اپنا ملنا لکھا اسی برس ہے نہ ۔۔۔۔۔

جو میری منزلوں کو جاتی ہے ۔۔۔۔

تیرے نام کی کوئی سڑک ہے نہ ۔۔۔

جو میرے دل کو دل بناتی ہے ۔۔۔۔

تیرے نام کوئی دھڑک ہے نہ ۔۔۔۔

وہ پھول کی پتیاں سناش کے جسم کو چھو کر زمین بوس ہوگئیں تھی لیکن سناش انھیں اپنے پیروں میں روندتا آگے بڑھ گیا پر ان پتیوں نے اپنی خوشبو اسکے پیروں میں سما دی تھی ۔چڑیاں بھی چہک رہیں تھے تمام ملازم رک رک کر دیکھ رہے تھے کہ کتنے عرصے بعد طلسم سناش کو تنگ کر کے پورے محل میں دوڑا رہی تھی اور وہ اسکے پیچھے بھاگے بھی جارہا تھا اسکے اڑتے آنچل کر پکڑنے کو کوشش کرتا مگر وہ اسکے ہاتھ نہیں آرہا تھا ہوا سرک سرک کر انھیں چھو رہی تھی جسے وہ چیرتے جارہے تھے ۔طلسم کا جوبن اپنے عروج پر تھا پورے نیلے گاؤن میں نیلے امبر کی مانند لگ رہی تھی جسے نظر بھر کر دیکھنے کر بعد ہر چیز میں اسکی نیلاہٹ نظر آتی ہے ویسے ہی وہ بھاگتی نگے پاؤں وہ سہانی تتلی لگ رہی تھی جسے پکڑنے کے لیے سناش جیسا دیوانہ اپنی جان لگا رہا تھا اسیر کی دی گئی پازیب کی جھنکار نے اسیر کے کان بھی متوجہ کردیے تھے کہ وہ اسے طرف آرہی ہے اسکے آنے کی خبر پیغام بن کر وہ پازیب سر بکھیر رہی تھی ۔ شام سی سہانی اسکی آنکھوں میں شرارت سی چمک پنکھڑی سے ہونٹوں کی مسکراہٹ ناگن کی طرح لہراتے بال ۔۔

کوئی باندھنی جوڑا اوڑ کے ۔۔۔

بابل کی گلی آؤں چھوڑ کے ۔۔۔

تیرے ہی لیے لاؤں گی پیا ۔۔۔۔

سولہ سال کے ساون جوڑ کے ۔۔۔

پیار سے تھامنا ۔۔۔

ڈور باریک ہے ۔۔۔۔۔

سات جنموں کی یہ پہلی تاریخ ہے ۔۔۔۔

ڈور کا ایک میں سرا ۔۔۔۔اور تیرا ہے دوسرا ۔۔

جوڑ دے چھوے کوئی تڑپ ہے نہ ۔۔۔۔

جو میری منزلوں کا جاتی ہے تیرے نام کی کوئی سڑک ہے نہ ۔۔

جو میرے دل کو دل بناتی ہے تیرے نام کی کوئی دھڑک ہے نہ

بھاگتے بھاگتے وہ باغ میں آگئے تھے جہاں پھوارے کے پاس سے گزرتے طلسم نے مڑ کر سناش کو دیکھا اور پھوارے سے پانی کی بوندیں اسکے چہرے پر گر گئی تھی اسکے چہرے پر ہونٹوں پر وہ ننھے ننھے قطرے آہستہ آہستہ نیچے گر رہے تھے جیسے آسمان سے گرتے برف سے کھیلنے دل کرے اسیر کا بھی دل کر رہا تھا اسکے چہرے پر گری ایک ایک پانی کی بوند کو وہ پی جائے لیکن یہ خواہش صرف اسیر کی نہیں تھی اسکی بھی تھی جو اسے ایسے دیکھ کر کچھ لمحے رک گیا تھا جو اس پانی کو قطروں کو اپنی انگلیوں پر چننا چاہتا تھا ۔لیکن یہ خواہش اس وقت دونوں ہی پوری نہیں کرسکتے تھے ایک کا حق تھا مگر وہ مجبور تھا دوسرے کا عشق تھا مگر جسموں سے کہیں دور تھا۔” سناش پکڑیں کے تھک گئے !” اسنے زور سے کہا اور پھر بھاگنا شروع کیا اسکی پکار پر سناش نگےے پاؤں گی گھاس پر بھاگنے لگا ۔اسیر وہیں باغ میں لکڑی کاٹ رہا تھا جس طرف طلسم بھاگ کر آرہی تھی کہ اچانک وہ لکڑی کے بڑے سے ٹکڑے سے ٹکرائی اور لڑکھڑا گئی اسے بچانے کے لیے سناش نے شاہین کو بلایا تھا ” شاہین!!” سناش نے چھڑی ابھی سیدھی ہی کی تھی لیکن تب تک وہ اسیر کی باہوں میں سنبھل چکی تھی ۔اسکی باہوں میں گری وہ مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی ۔وہ بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا جب اسکی نظر سامنے سناش پڑی جو غصیل اور حیرت انگیز نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔اسنے ایک دم اسے سیدھا کھڑا کیا اور ہاتھ باندھے گردن جھکا کر کھڑا ہوگیا ۔” سناش وہ میں ۔۔۔۔۔۔میں گر رہی تھی اسلیے اسنے مجھے بچایا ہے جان بوجھ کر نہیں پکڑا اسنے ہمیں ۔۔”

“ اسکی ہمت کیسے ہوئی اسنے آپکو چھوا ” سناش کو بس ایک چیز کرید رہی تھی کہ اسکا ہاتھ اسکی کمر پر تھا ۔

“ سناش بتایا نہ میں۔ گر رہی تھی اسلیے اسیرِ طلسم ہونے کے ناطے ہماری حفاظت اسکا فرض تھی ۔۔” لیکن وہ لال سرخ آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔” اسکی سزا ملے گی یہ غلطی معاف نہیں کیجائے گی ۔”

“ سناش اسنے بچانے کے لیے کیا جو کیا ہم گر جاتے تو ٹھیک تھا” سزا کا سن کر ہی طلسم کی جان نکل گئی تھی ۔

“ طلسم آپکو لگتا ہے ہم آپکو گرنے دیتے !! ” پہلی بار سناش نے اس سے چیخ کر بات کی تھی ۔شاہین !! اسنے شاہین کو دوبارا بلایا تھا جو چھڑی بن چکا تھا ۔،” سناش اسے معاف کردیں اسکی غلطی نہیں ہے “

طلسم پیچھے ہو جائیں اسے سزا مل کر رہے گی !…..

سناش اگر آپ اس پر حملہ کریں گے تو ہم بھی آپ پر کریں گے ! لیکن تب تک سناش نے اسیر پر حملہ کردیا تھا اسنے ایک عجیب سی طاقت میں جکڑ دیا تھا جو اسکی شہ رگ کو دبا رہی تھی اسے سانس نہیں آرہی تھی وہ خود کو چھڑا بھی رہا تھا اور وہ مسلسل اپنی چھڑی کا رخ اسکی جانب کیے اسے تکلیف دے رہا تھا کہ اچانک کسی طاقت نے اسے دھکیلا اور لڑکھڑا گیا چھڑی کا رخ مُڑ گیا اور اسیر آزاد ہوگیا ۔سناش نے حیرت سے سامنے دیکھا وہاں طلسم تھی جس کی ہاتھ میں اپنی چھڑی تھی ضرب بھی طلسم نے کی تھی جو سناش کے اسی بازو پر لگی تھی جہاں تلوار کا زخم تھا ایک ہاتھ سے اپنا بازو پکڑے وہ حیرت سے طلسم کو دیکھ رہا تھا جس نے اس پر حملہ کیا تھا ۔” اسیر آپ ٹھیک ہیں ؟” وہ سناش کو چھوڑ کر اسیر کے پاس آئی تھی جو لمبے لمبے سانس لے رہا تھا اور یہ دیکھ کر سناش نے چھڑی وہیں چھوڑ دی تھی اور اندر کی جانب چلا گیا تھا ۔” ہاں طلسم میں ٹھیک ہوں ۔”

“ اسیر معذرت کے ساتھ میں آپ سے بعد میں بات کرتی ہوں مجھے ابھی سناش سے بات کرنی ہے ۔”

وہ تو ٹھیک ہے لیکن وہ اپنی چھڑی اسیے پھینک کر چلا کیوں گیا ” اسے ابھی بھی اس کی فکر تھی کہ اسنے ایسا کیوں کیا

” اسیر میں نے اور سناش نے بچپن میں ایک دوسرے سے وعدہ کیا تھا کہ ہم کبھی بھی اپنی طاقت ایک دوسرے کے خلاف استمعال نہیں کریں گے کبھی مقابل نہیں آئیں گے مگر آج آپکے لیے مجھے میرا وعدہ توڑنا پڑا مگر وہ اپنے وعدے پر قائم رہا اسلیے چھڑی پھینک کر چلا گیا ۔مجھے اس سے بات کرنی ہوگی ورنہ وہ کسی سے کچھ کہے گا نہیں مگر اندر سے ٹوٹ جائے گا ۔” اسے بتانے کے بعد وہ رکی نہیں سیدھا سناش کے کمرے میں ائی تھی جہاں وہ ایک ٹانگ سیدھی کیے دوسری سینے سے جوڑے نیچے قالین پر بیٹھا تھا ۔سر جھکا ہوا تھا ناجانے آنکھیں نم تھیں یا نہیں مگر ہونٹ ایسے خاموش تھے کہ الفاظ ختم ہوگئے تھے۔وہ بھی اسکے ساتھ نیچے ہی بیٹھ گئی ۔

“ سناش میری بات سنے مجھے کرنا پڑا آپ ایک بے گناہ کو سزا دے رہے تھے اسلیے مجھے یہ کرنا پڑا ۔”

“ طلسم ہمیں آپ سے کوئی صفائی نہیں چاہیے اس وقت آپ جائیں آرام کریں “

نہیں سناش آپکو میری بات سننی پڑے گی ہم غلط نہیں ہے ہم آپکو تکلیف دینا نہیں چاہتے تھے ۔” اسنے اسکا زخمی بازو پکڑ لیا تھا جس سے اسے تھوڑا درد بھی ہوا تھا ۔

“ طلسم ہم نے کہا نہ جائیں ہمیں آپ سے کوئی صفائی نہیں چاہیے ۔” اسنے آہستہ سے اسکا ہاتھ بازو سے ہٹا دیا تھا ۔

“ نہیں اسیر میرا مطلب سناش ۔۔۔۔” اسکے اس جملے پر سناش کا دل چکنا چور ہوگیا تھا اسنے لال سرخ غمزدہ آنکھوں سے اسے دیکھا اور اٹھ کر وہاں سے چلا گیا ۔” سناش میری بات ۔۔۔۔” مگر وہ کمرے سے نکل چکا تھا ۔اسیر نے سناش کو جاتے ہوئے دیکھ لیا تھا اسلیے طلسم کے پاس کمرے میں آیا اور دروازہ بند کردیا ۔اور اسکے پاس جا کر بیٹھ گیا ۔” سحر ! اسکا سر جھکا ہوا تھا اسلیے پہچان کروانے کے لیے اسنے اسے سحر پکارا تھا وہ اسی کیساتھ وہ اسکے گلے سے لگ کر زاروقطار رونے لگی تھی اور بڑبڑانے لگی ۔۔” اسلیے کہتی تھی نہیں آتے واپس مجھے پتا تھا یہ ہوگا سناش آپکو نقصان ضرور پہنچائے گا پھر مجھے اسکے خلاف جانا ہوگا اور میں نہیں جانا چاہتی تھی اسلیے کہتی تھی نہیں آتے واپس جس کا ڈر تھا وہی ہوا نہ …” وہ اسکے بالوں میں ہاتھ پھیر رہا تھا اسے چپ کروا رہا تھا ۔” تئیس سال میں پہلی دفعہ سناش میری بات سنے بغیر چلا گیا میرا ہاتھ اپنے ہاتھ سے جدا کردیا مجھے ایک نظر دیکھا بھی نہیں ۔”

“ تو تم نے کیوں روکا اسے تم کرنے دیتی وہ جو کر رہا تھا مار تو نہیں دیتا نہ وہ مجھے ۔”

“ میں جان نہ لے لیتی اسکی اگر آپ کو کچھ ہوجاتا تھا ۔” اسکا رنگ ایکدم سرخ ہوگیا تھا وہ غصے میں آگئی تھی ۔” سناش بہت اچھا ہے بہت بہت زیادہ مگر آپ محبت ہیں میری عشق ہیں میرا زندگی ہیں میری آپ کے علاوا کوئی اہم نہیں میرے لیے ۔۔۔۔”اور وہ صرف اسکا چہرا دیکھتا رہ گیا تھا ۔

کمرے سے سیدھا وہ میدان میں آیا اپنے بازو سے پٹی اسنے اتار دی تھی تلوار اٹھا کر اسنے مشق شروع کردی وہ اپنے دائیں ہاتھ سے تلوار چلاتا جارہا تھا ۔” کون ہے وہ اسیر جس کے لیے طلسم نے ہم پر حملہ کیا پہلے بھی اسکےلیے ہمارا فیصلہ بدلہ انھوں نے ۔۔۔” خون بازو سے پھر نکلنے لگا تھا ۔۔” طلسم کیوں کرتی ہیں آپ ہمارے ساتھ ایسا ایک لمحے کے لیے اتنے قریب آجاتی ہیں کہ آپ صرف ہماری اور دوسرے ہی لمحے ہمیں خود سے ایسے جدا کردیتی ہیں جیسے جانتی ہی نہیں ۔۔” شہزادے یہ کیا کر رہے ہیں آپ آپکا زخم پھر سے خون نکل رہا ہے اس میں سے ۔۔کسی غلام نے اسے بتایا ۔۔۔” ہمارے نام سے پہلے آپ نے اس اسیر کا نام لیا اتنا اہم ہوگیا وہ آپ کے لیے آخر وہ ہے کون ؟؟۔وہ اسے سن ہی نہیں رہا تھا لیکن وہ غلام جاکر صیاد کو ضرور بُلا لایا تھا

” سناش روکو ! روک جاؤ سناش ! صیاد اسے آوازیں دے رہا تھا مگر وہ سن ہی نہیں رہا تھا بس تلوار چلائی جارہا تھا بازو سے خون اب ٹپکنے لگا تھا ۔صیاد اسکے مقابل کھڑا ہوگیا جس سے اسکی ہوا میں چلتی تلوار رک گئی تھی ۔

” کیا بات ہے سناش اور یہ کیا بے وقوفی ہے ؟” صیاد نے اسے بیٹھا دیا تھا اور طبیب پھر سے اسکی مرہم پٹی کرنے میں لگا تھا ۔

” ابا ویسے ہی آرام کیا نہیں جارہا تھا سکون کہیں مل نہیں رہا تھا تو یہاں وقت صرف کرنے آگیا ۔”

” سناش جب طبیب نے تمہیں منع کیا تھا تو تم کیوں آئے یہاں کیا بات ہے سب ٹھیک ہے ؟

جی ابا ایسی کوئی بات نہیں میں بس اپنا وقت یہاں گزارنے آگیا تھا عادت نہیں ہے نہ ہمیں بیٹھنے کی ۔۔وہ سر جھکائے جواب دے رہا تھا ۔صیاد اسکے پاس بیٹھ گیا پیار سے ہاتھ اسکے سر پر رکھا ” تم جانتے ہو ہماری جان بستی ہے تم میں تمہاری تکلیف ہم سے برداشت نہیں۔ ہوتی اور اپنی تکلیف تم کسی کو دیتے بھی نہیں تم نے کہا سکون کہیں نہیں مل رہا مطلب طلسم نے کچھ کہا جو تمہیں سہی نہیں لگا غصہ کیا تم پر ۔اسنے حیرت سے اسکی جانب دیکھا اور پھر مسکرا دیا ۔” نہیں ابا طلسم ہم سے کیا کہ سکتی ہیں وہ تو خود بہت پریشان تھیں زخم دیکھ کر انھیں پتا چلے گا تو وہ بھی بہت غصہ کریں گی ۔” اسکے جواب میں صیاد نے ایک سرد آہ بھری ۔۔” سناش میں کرو طلسم سے بات ؟”

کس بارے میں ابا جان؟….نکاح کے بارے میں تمہارا اور اسکا نکاح ایک بار نکاح کرلو اسکے بعد تمہیں اسے جو سمجھانا ہے سمجھا لینا اور پھر جب ایک دوسرے سے جُڑ جاؤ گے تو اسے تم سے محبت کرنی پڑے گی ۔

اور اس سے پہلے زبردستی کرلوں زبردستی نکاح کرلوں انھیں تکلیف دے کر اپنا سکون تلاش کرلو ابا میرا سکون ہی وہ ہیں وہ بے سکون ہوگئیں تو مجھے بھی نہیں ملے گا اور میں نے کب کہا ابا مجھے طلسم سے ابھی نکاح کرنا جب وہ رضامند ہونگی نکاح تبھی ہوگا اس سے پہلے میں ان سے زبردستی نہیں کروں گا ۔”اور وہ بے بس سا سر جھکا گیا تھا ۔وہ سناش اور طلسم کا نکاح اسلیے نہیں چاہتا تھا کہ اسے اپنے بیٹے کی محبت چاہیے تھی وہ بس طلسم کو نکاح میں باندھ کر اسکی کاروائیاں روکنا چاہتا تھا