416.8K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shehr-e-Sahar Episode 34

Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam

” یہ کیا کہہ رہے ہو تمہیں اور طلسم کا کیا تمہاری آنے والی اولاد کا کیا تمہیں لڑنا ہوگا اسیر تلوار اٹھاو !”

” آج ہم دونوں میں سے کسی ایک کی جان بچ سکتی ہے لیکن طلسم کےلیے اگر ایک مرے گا تو دوسرا بہتر خیال رکھے گا تم زندہ رہوں انھیں تم سنبھالوں گے ۔،”

” نہیں تم مجھ سے لڑے بغیر نہیں جاسکتے اسیر تلوار اٹھاو اسنے آپ ے تلوار سے پہلے حملہ کیا جب اسیرنے اپنے بچاؤ کے لیے اپنے ہاتھوں میں پکڑی تلوار کر اوپر کیا سناش کی تلوار اسکی تلوار سے ٹکرا گئی ۔ آخر اسیر نے بھی اپنی تلوار اسکے خلاف چلا دی سناش اس پر حملے کر رہا تھا اور وہ دفاع سناش جان بوجھ کر ایسے وار کر رہا تھا جس سے وہ آسانی سے روک سکتا تھا ۔اہک جنگ وہ اپنے ہاتھوں سے لٹک رہا تھا ایک جنگ سناش اپنے دل اور دماغ سے لڑ رہا تھا ۔ ” آج ہم دونوں میں سے کوئی ایک زندہ رہ سکتا اگر آج اسیر مر گیا تو طلسم کا کیا ہوگا ان کی اولاد آنے سے پہلے یتیم ہو جائے مگر وہ یتیم کیسے ہوجائے گی ہم ہیں نہ ہم سنبھالیں گے انھیں طلسم بھی ہماری ہوجائیں گی سب ٹھیک ہو جائے گا پہلے جیسے اور ہم نے مار بھی دیا تو یہ میدان کا اصول ہوگا ہمیں کوئی غلط کیوں سمجھے گا ۔” ایک پل کے لیے تو اسکے دل میں غرض آگیا اسکی بچپن کی خواہش پوری ہوسکتی تھی تلوار کے ایک سہی ضرب سے اسیر ہمیشہ کے لیے اس کے راستے ختم یہ سوشل کر اسنے پیروں پر گھوم کر ایک زور دار ضرب اسیر پر کی جو اسکے بازو کو اندر تک چیرتے چلی گئی ۔” اسیر !!!! کسی اور کی آواز آنے سے پہلے طلسم چیخ اٹھی تھیں سناش نے ایک نظر طلسم پر ڈالی جس کی آنکھیں رو رو کر سوجھ چکی تھیں ” یہ کیا کر رہے ہیں ہم کیا سوچ رہے ہیں وہ ہماری کبھی نہیں ہونگی وہ ہمیشہ ہمیں اسیر کی موت کا زمہ دار سمجھیں گی وہ آپنے بچے کو بھی ہم سے دور رکھیں گی وہ بچہ ہم سے نفرت کرے گا ساری زندگی شرمندگی بن جائے گی ہماری ایسی زندگی کا کیا کرنا ۔” یہ سوچ کر اسنے تلوار پر پکڑ کم کردی اسیر نے اس پر حملہ کیا اور سناش نے جن بوجھ کر بچاؤ کرتے ہوئے تلوار گرا دی اور۔لڑکھڑا کر گرگیا .” صیاد ایک دم اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا ” سناش !”

وہ تلوار نہیں اٹھا رہا تھا خود بھی اٹھنے کی کوشش نہیں کررہا تھا اسنے ہار مان لی تھی ۔وہ اسیر کے سامنے سرجھکائے گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا ایک منٹ لگا تھا شائقین میں شور مچ گیا ” شہزادے سناش ہار گئے سناش ہار گیا ! یہ کیسے ممکن ہے شہزادے ایک غلام سے ہار گئے ۔” صیاد کے اپنے حواس یہ ماننے سے انکار کررہے تھے ۔اصول کے مطابق اسیر کو سناش کو مار دینا تھا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ سناش ہارا نہیں جان بوجھ کر ہارا ہے ۔اسلیے اسنے سناش کے سامنے تلوار گرا دی ۔ ” نہیں مانتا میں تمہارے میدان جنگ کے کھوکھلے اصولوں کو نہیں مارو گا میں شہزادے سناش کو ! اسنے علان کردیا تھا سب خوش ہوگئے تھے طلسم بھی مگر صیاد غصے سے ابل رہا تھا ” جس بیٹے پر مجھے اتنا غرور تھا وہ ایک ایک غلام سے ہار گیا ۔” آخر صیاد کا غصے ابل گیا اسنے اپنے جادو سے اپنی تلوار کی اور میدان کی طرف اچھال دی جو سیدھے کھڑے ہوئے سناش کے سینے سے آرپار ہوگئی اور اسے کاٹ کر ختم ہوگئی وہ ابھی سیدھا ہوا ہی تھا دوبارہ گھٹنوں کے بل گر گیا طلسم تو سکتے میں تھی مگر اسیر اسکی جانب بھاگا وہ زمین پر گرتا جارہا تھااسیر نے صدمے سے صید کو دیکھا اور چیخ کر کہا ” کیسا باپ ہے تو؟” اسکے سینے سے خون نکل رہا تھا زخم کافی گہرا تھا اسے سانس لینے میں دقت ہورہی تھی اسکا سر اسیر کی گود میں تھا ۔” سناش !سناش !” آپ ۔۔۔۔۔اس کو اچھی بھی سانس لینے میں مشکل ہورہی تھی ” سو ۔سورانچھ نے بتایا تھا کہ اسیر کو جان کو خطرا ہے میں نے اس وعا۔۔وعدہ کیا تھا اپنی جان دے کر بھی اسیر کو بچاؤ گا میں۔۔۔میں نے اپنا وعدہ پورا کردیا ۔”

” سناش اپکو کچھ ۔۔۔۔کچھ نہیں ہم آپ ٹھیک کرلیں گے ۔”

” نن۔۔نہیں طلسم میں تھک گیا اب بس جانا چاہتا لیکن خدا ۔۔سے یہ ضرور کہوں گا کہ اگر دوباہ میری روح کو اگر کک۔۔کوئی جسم حاصل ہوا تو میری قسمت طلسم کو پہلے لکھ دے تاکہ پھر کوئی اسیر اسے لے نہ جائے ۔۔۔۔”

” سناش چلو میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا ہم غفران چچا کے پاس جائیں گے وہ ضرور کوئی حل نکال لیں گے ۔۔۔” اسنے اسے باہوں میں اٹھانا چاہا مگر اسنے روک دیا ۔” نہیں اب سب ختم اب میں زندہ رہنا نہیں چاہتا بولا بھی نہیں جارہا دوبارہ زندگی ملی تو اس دنیا میں پیدا ہونا چاہوں گا جہاں تم جیسے لوگ اسیر شہر سحر میں تمہاری دنیا میں رہنا چاہوں گا اور اپنے جنازے میں شرکت کی اجازت میں ابا کو نہیں دے کر جا۔۔جارہا ہارا آخری دیدار بھی انھیں نہیں کروایا جائے گا اور ۔۔ یہ ہماری وصیت ہے ۔اسکی آنکھیں اور اور زبان دونوں بند ہوگئی ۔

” سناش !سناش ! اسیر یہ کچھ بول کیوں نہیں رہا ؟”……وہ بلکل بے سدھ ہوگیا تھا ۔ ” اب یہ نہیں بولے گا طلسم ۔۔۔۔”

” یہ کیا کیا چچا سناش کو مار دیا اس سناش کو جسے دیکھے بغیر آپکی صبح نہیں تھی جس ایک پکار آپ ضروری سے ضروری کام روکوا دیتی تھی اسے مار دیا آپ اتنے سنگدل کیسے ہوسکتے ہیں اپنے کھوکھلے اصولوں کے نبھانے کے لیے سناش کو موت کی گھاٹ اتار دیا ۔”

” صیاد اپنے اصول کسی کے لیے نہیں بدلتا اپنی اولاد کے لیے بھی نہیں ۔۔۔” وہ رخ پھیرے بول رہا تھا مڑ کر سناش کی لاش کو بھی نہیں۔ دیکھ رہا تھا ۔” تو تمہیں اتنی تکلیف کیوں ہورہی ہے اب جب زندہ تھا تب تو تمہاری محبت کے لیے ترستا رہا تمہیں تو خوش ہونا چاہیے چلا گیا ۔۔” اسکی بات پر طلسم نے حیرت اور دکھ کے ملے جلے تاثرات سے دیکھا اسیر اسکے ہاتھ پاؤں سمیٹ رہا تھا جب اسے کسی چیز کا احساس ہوا ۔

” میں جانتی ہوں میں کبھی سناش اس نظر سے نہیں دیکھ سکی مگر اس سے بہترین دوست میں نے کبھی کسی کو تصور بھی نہیں کیا تھا اور آپ نے آج اسکی جان لے لی اور کتنے گناہ کریں گے آپ نبھاتے رہے اپنے اصولوں کو اپنا جنازہ تک حرام کر گیا ہے وہ آپ پر وصیت کر کے گیا ہے ۔۔۔” اور تب پہلی بار صیاد نے رخ پھیر کر دیکھا مگر سناش کا خون آلودہ جسم دیکھ کر وہ پھر نظریں ہٹا گیا ۔ ” طلسم ! وہ صیاد سے لڑ رہی تھی جب اسیر نے اسے پکارہ وہ اسکی جانب متوجہ ہوئی اسیر نے سناش کے جسم کی اپنے بازؤں میں اتھا لیا وہ خود زخمی تھا مگر اسے صرف سناش کی فکر تھی جس نے اسکی جان کا اپنی موت سے سودہ کیا تھا ۔شہر سحر نے تمام باشندے بت ساکن بنے اس ساکن جان کو دیکھ رہے تھے جسکے ہاتھ نیچے لٹک رہے تھے پھر ایک چیخ کی آواز آئی اور جیسے کہرام مچ گیا ہر طرف آہ بکا چیخ پکار مچ گئی آنکھیں آنسوں سے تر ہوگئیں ان کا شہزادہ مردہ انکے بیچ سے جارہے تھے وہ آگے بڑھ بڑھ کر اسکے جسم کو چھو چھو کر رو رہے تھے طلسم نے سناش کاہاتھ پکڑا تھا جو بلکل بے حس وحرکت تھا اسکا مدھم مسکراتا چہرا آج بلکل خوموش تھا کوئی تاثر نہیں تھا اس میں طلسم کی آنکھوں کے سامنے اسکے ساتھ بتایا ہر لمحہ گھوم رہا تھا ۔اج شہر سحر کی باپوں کی کمریں ٹوٹ گئی تھیں ماؤں کے کلیجے پھٹ گئے تھے بہنوں کے سر سے بھائی کا سایہ اٹھ گیا تھا آج شہر سحر ایک بار پھر یتیم ہوگیا ایک گونج یہاں اٹھی تھی جب سناش کا سینہ چھنی ہوا تھا ۔اور ان سب کے درمیان میں سے طلسم غفران اسیر اسکا لہولہان جسم لے گئے تھے ۔ فاریہ اپنے محل میں بیٹھی سفید موتیوں کی ویسی ہی مالا بنا رہی تھی جیسی سناش اپنے لباس میں لگاتا تھا مالا ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی جب اسکا ہاتھ لڑکھڑایا اور مالا نیچے گر گئی تمام موتی ڈور میں سے نکل کر پھیل گئے ان لمحے کے لیے تو اسکا دل دھک سے رہ گیا مگر پھر اسنے سر جھٹک کر موتی اکٹھے کرنے شروع کیے تمام موتی اسنے چن لیے تھے مگر ایک موتی کرسی کے نیچے رہ گیا تھا اسنے مالا دوبارہ پرو لی تھی مگر وہ نامکمل تھی آخر اسکی نظر کرسی کے نیچے موتی پر پڑ ہی گئی اور اسنے وہ آخری موتی بھی مالا بھی ڈال دیا مال مکمل ہوگئی ۔” جب اگلی بار محل آؤ گی تو آپ کے لباس میں میں یہ خود لگاؤ گی ۔۔۔۔” اسنے مسکرا کر اس مالا کو اپنے سینے سے لگا لیا ۔

اس دن شہر سحر کے کسی گھرمیں چولہا نہیں جلا تھا بچوں تک نے نوالے چھوڑ دیے تھے تمام شہر ایسے ویران تھا جیسے سالوں سے وہاں کوئی رہتا ہی نہیں تھا ۔

ایک ہفتے بعد ۔۔۔

” ایک ہفتہ گزر گیا تھا مگر ابھی تک وہ منظر کسی کی آنکھوں سے فنا نہیں ہوا تھا جب سناش نے جان بوجھ کر تلوار چھوڑ دی تھی صیاد نے کیسے اپنی جادوئی تلوار اسکے اندر اتاری تھی بس اس سے آگے کچھ یاد کرنا وہ چاہتے ہی نہیں تھے وہ تو اس وقت کو کوس رہے تھے جب وہ اسیر کو بچانے گئے تھے ایک کو لینے تو دوسرے کو کھونے نہیں محسن کا بچایا تو رکھوالا چلا گیا ۔صیاد تو کمرے میں بند ہوگیا تھا اسے اپنوں ہاتھوں سے نفرت ہوگئی تھی اور سب سے زیادہ نفرت اسے اس قیدی سے ہو رہی تھی جس کی وجہ سے اسے اپنے کی بیٹے پر تلوار چلانی پڑی آخر وہ اسنے ایک ہفتے بعد اپنے کمرے سے باہر قدم رکھا سپاہیوں سے کہلوا کو اسیر کو محل میں بلایا ۔وہ اپنے کمرے میں موجود تھا جب دروازے پر دستک ہوئی وہ اسیر تھا ” آجاؤ !”

وہ آکر اسکے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا اسکے زخم ابھی تازہ تھے مگر وہ پہلے سے بہتر تھا ” میرے بیٹے کو ہرانے والا کوئی عام نہیں ہوسکتا اب سچ سچ بتاؤ تم ہو کون ؟”

وہ سر جھکائے ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہوگیا ” سرکار میں تو آپ سے کہتا رہا میں ایک غلام ہوں اسیر طلسم اور کچھ نہیں اور آپ مجھے مارتے رہے میں معصوم ۔۔۔۔۔” یہ کہتے ہوئے وہ اچانک مسکرانے لگا ۔اس کی اس ادا پر صیا دکے ہوش اڑ گئے تھے “کون ہو تم ؟”

“ سچ ہی بول رہا ہوں اسیر طلسم ہوں طلسم کا غلام لیکن یہ میری کمزوری نہیں ہے میری طاقت ہے طلسم لائی تھی مجھے عام انسانوں کی دنیا سے اپنی مدد کے لیے اسی کی وجہ سے تیرے ہی طریقے سے تیرے ہی محل میں آیا میں تیرے ہی قیدی سے اسیر طلسم بنا میں تری موجودگی میں کھیل کھیلا میں نے اور تو کچھ نہیں کرسکا تیرے ہی بیٹے کو میں نے تیرے خلاف استعمال کیا اس وہ سب کروایا جو تو نہیں چاہتا تھا سناش کے ہاتھوں اسیروں کے لیے غلاموں کے لیے وہ کروادیا جو تو نہ کرسکا تیرے ہوتے ہوئے سناش راجہ کیطرح حکومت کرنے لگا تو پھر بھی کچھ نہ کرسکا کایا پلٹ دی اسنے شہر سحر کی مگر تو نے کیا کیا اس فرشتے کو بھی مار دیا جس طرح تو نے آدم شہوار زولفشان اور غفران کو مارا تھا ۔باپ نہیں پاپ ہے تو میں نے کیا سب پہلے دن جب تیرے محل آیا تجھے تیرے نام سے للکارہ میں نے تیرے قریب رہ کر سب کرتا رہا تجھے شک بھی نہ ہوسکا ایک جھٹکا .” اسکی چٹکی بجا کر کہا ” ایک جھٹکا لگا اور تیرے دونوں ہاتھ کاٹ دیے میں نے تیرے خلاف کردیے شہباز کے ہاتھوں ہیرا چوری کروایا میں نے ۔ تاکہ تو اکیلا رہ جائے سناش کے ہاتھ باگ ڈور دینے کا مشورہ میرا تھا طلسم اور سناش کے کندھے پر پیر رکھ شہر سحر پر راج کرتا رہا اور تو آدم کو ڈھونڈنے نکل پڑا جو ہے ہی نہیں ۔۔” وہ بولتا رہا اور صیاد دم سادھے سنتا رہا ۔۔” میری ایک پھونک اور تیرا تاش کے پتوں سےبنا محل ڈھیر ہوگیا اب تو بلکل اکیلا ہے نہ شہباز تیرے ساتھ ہے نہ زبیر اور نہ ہی سناش ۔۔۔۔” یہ کہہ وہ جانے لگا تھا جب صیاد نے سارے کھڑکیاں دروازہ سب بند کردیا اور اپنی تلوار نکالی اسیر یہ دیکھ کر کچھ گھبرا گیا ” نہیں راجہ مجھے مت مار دیا تو میری موت کا کسی کو پتہ نہیں چلے گا میں نے شہزادی طلسم کے کہنے پر کیا تھا میں تو اپنی دنیا میں ایک چھوٹا سا چور تھا شہزادی مجھے محل کا لالچ دے کر یہاں لے آئی مجھے مت ماریں ۔۔۔” صیاد حیرت سے اسکی جانب دیکھ کر رہا تھا وہ اسکی جانب بڑھا جب اسنے مڑ کر دروازے کو پر غور نگاہوں سے دروازے کو دیکھا ایک شعاع نکلی اس نظر سے اور دروازہ ریت کے زروں کی طرح ٹوٹ کے بکھر گیا ۔ صیاد کی تلوار ہاتھوں سے گرتے گرتے بچی وہی انکھھوں سے نکلی ہری روشنی وہی مسکرانے کا انداز وہی لہجہ صیاد کے منہ سے بے ساختہ نکلا ” آدم !!! دروازے سے باہر جاتے اسیر نے مڑ کر کہا “آدم نہیں ابن آدم کہوں صیاد اسیر ابنِ آدم !”وہ ایک منٹ کے لیے تو صیاد کانپ اٹھا تھا ابن آدم یہ کیسے ہوسکتا آدم کے گھر کو میں نے اپنے ہاتھوں سے جلایا تھا اسکا بچہ اور بیوی میری آنکھوں کے سامنے جلے تھے پھر اسکا بیٹا پھر اچانک اسکے چاند کا وہ منظر نظر آیا وہ ٹوکری کہیں اس میں بچہ تو نہیں تھا یعنی آدم کے ایک نہیں دو بیٹے ہونگے اور وہ دوسری دنیا میں اسے چھپانے گیا تھا ۔اور طلسم اسے ہی لینے واپس گئی تھی لیکن طلسم کو کیسے پتہ چلا اسکے بارے میں ” جنگ کا اعلان ہوگیا تھا ۔اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا لیکن اب اسے جو ایک کام سب سے ضروری کرنا تھا وہ تھی اسیر کی موت وہ زبیر اور شہباز سے ملنے گیا .” جس بات کا ہم سب کو ڈر تھا وہی ہوا ہے آدم نہیں آدم کا بیٹا آیا ہے اسی نے کیا ہے سب ہمیں اسے ختم کرنا ہے چلو مگر وہ چپ کرکے کھڑے تھے اسنے پلٹ کر انھیں دیکھا ” کیا ہوا چلو کیوں نہیں رہے ؟”

” صیاد تم نے سناش کو مار دیا ؟” دل پر لگے زخم پر جیسے کسی نے نمک لگا دیا ہو ۔” بولو صیاد تم نے سناش کو مار دیا اپنی جادوئی تلوار سے ؟”

” ہاں مار دیا اب چلو !” ۔۔۔۔”

” ہاں مار دیا اب چلو !” ۔۔۔۔” نہیں ہم نہیں جائیں گے تناہرے ساتھ تناہرے گناہوں کے اور حصہ دار نہیں بنے گے اسیر نے ہمیں سب سکھا دیا کہ جانوروں کی طرح رہنا کتنا مشکل ہوتا ہے جیسے ہم اپنے غلاموں کی شہر سحر کے باشندوں کو جانوروں طرح رکھتے تھے آج اپنے پر آئی اپنے گھر والوں کا احساس ہوا تو پتہ چل کتنا دکھ دیا سب کو اپنے بچوں سے دور تھے تو معلوم ہوا جنہیں ہم مار دیتے تھے بیچ دیتے تھے انکے بچوں کا کیا ہوتا ہوگا آج جب اپنی ماؤں بہنوں بیویوں کی عزت کا سوچا تو اپنے ہاتھوں سرزد ہوا ہر گناہ یاد آگیا تو رو کر اپنی مغفرت کی دعا مانگی ہے دوبارہ وہ نہیں کرنا چاہتے تو بھی سب بھلا کر معافی مانگ لے وہ خدا معاف کرد گا ۔”

” پاگل تو نہیں ہوگئے تک دونوں کیا بکواس کر رہے ہو ؟”….” نہیں صیاد بکواس نہیں آج ہی تو بولنا سیکھا ہے چھوڑ دے تجھے یاد بھی ہے تو نے کتنے گناہ کیے ہیں اپنے بھائی کو مارا رونے آدم کا بچہ بیوی زندہ جلا دیا رانی زرینہ بیگم کو اپنے جادو کے اثر میں اتنے سالوں سے بے ہوش رکھا ہے اپنی بیوی کو مار دیا سورانچھ کے لیے شہر سحر کے دروازے پر لکیر کھینچ دی شہوار کو مار دیا اپنی طاقت بڑھانے کے لیے کنواری لڑکیوں مارتا رہا اپنی بھتیجی تک کو مارنے کی کوشش کی تو نےاور اتنے گناہوں کے بوجھ کے ساتھ ایک اور گناہ کرنے جارہا ہے ہم تیرے ساتھ نہیں جائیں گے ہمیں ایک سادہ اور ایماندار یا تو موت چاہیے یا زندگی جو بھی ملے ۔۔۔۔” شہباز مسلسل بولے جارہا تھا اور صیاد حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا ۔” تو کہہ رہا ہے میں اس سے معافی مانگ لوں جس نے تجھے یہاں پہنچا دیا ؟”

” وہ نہیں پہنچاتا تو شاید ہم کبھی انکی تکلیفوں کا حساب نہ لگا سکتے ہم نے اسیر سے معافی مانگنے کا سوچ لیا ہے تو بھی مانگ لے وہ سچا ہے ۔”

” نہیں تک لوگ پاگل ہوگئے ہو میں ایک غلام سے معافی نہیں مانگوں گا آدم بھی غلام تھا اسیر بھی غلام ہے میری طاقت اس سے کہیں زیادہ ہے ۔”

” وہ صرف غلام نہیں ہے صیاد انقلاب ہے وہ لوگ جو تیرے سامنے نظر نہیں اٹھاپاتے تھے اسیر کو بچانے کے لیے تیرے مخالف کھڑے تھے سب وہ سب اسکے ساتھ ہیں ۔”

” میں بھی اکیلا نہیں ہوں اگر تم دونوں ساتھ نہیں دو گے تو پورا دس ہزار کا لشکر ہے میرے پاس .” اسنے چلا کرکہا تھا ۔،

” تو لشکر لے کر اس پر ابلے گا تو وہ شہر سحر لیکر تجھ پر چڑھ جائے گا تیری موت کھینچ رہی ہے صیاد اب بھی وقت ہے معافی مانگ لے ۔”

تم لوگ پاگل ہوگئے ہو مجھے تم دونوں سے بات ہی نہیں کرنی چاہیے یہ کہتا وہ چکا گیا اور وہ افسوس سے اسے دیکھتے رہے ۔

صیاد نے پوری تیاری کر لی تھی اسیر کو للکار بھی دیا تھا جنگ کے لیے نگاڑا بجا دیا گیا تھا جسے اسیر نے ہنس کر قبول کیا تھا تو آخر وہ وقت آہی گیا جب صیاد کو اپنے گناہوں کی سزا ملنی تھی وہ بہت طاقت ور تھا مگر ناجانے کیوں پھر بھی لشکر تیار کیے بیٹھا تھا ڈر تو اسکے دل میں بھی تھا کہ کچھ تو ضرور ہونے والا ہے مگر اپنی ضد اور آنا کی تسکین کے لیے بے وقوفی کررہا تھا ۔وہ اسکا میدان میں انتظار کر رہا تھا جب وہ اسے آتا دکھائی دیا وہ اکیلا آرہا تھا کوئی نہیں تھا اسکے ساتھ طلسم بھی نہیں صیاد نے حیرت سے دیکھا ۔” ہر جنگ سے پہلے حریف صلح نامہ بھیجتا ہے میں نے بھی دیا تھا مگر تو نہیں مانا مگر میں تجھے اب بھی کہہ رہا ہوں چھوڑ دے اپنی ضضف معافی مانگ اپنے گناہوں کی اور باقی زندگی سکون سے گزار ۔ “

” جب پتہ چلا کہ مقابلہ نہیں کرسکتا تو بہانے بنانے آگیا بزدل کہاں ہے تیری فوج کہاں ہے جو صیاد سے لڑنے آرہے ہیں ۔”

” تو تو نہیں مانے گا تو ٹھیک ہے ” یہ اسنے بلند آواز میں کہ اور اسی کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں لوگ اسکے پیچھے جمع ہوگئے ۔پورا شہر سحر اسیر کے پیچھے کھڑا تھا ۔” بس اتنے لوگ اس سے ڈرا رہے تھے شہباز اور زبیر مجھے انکے لیے تو میرے سپاہی کافی ہیں ۔اسنے اشارہ کیا جس سے پہلی صف میں کھڑے بیس سپاہی آگے بڑھے اسی وقت اسیر کے پیچھے سے چھے لڑکیاں باہر آکر اسکے سامنے کھڑی ہوگئی تھیں جن میں سے ایک نے چہرا چھپا رکھا تھا ۔

“ہاہا عورتیں اسیر صیاد سے لڑنے عورتوں کی فوج لایا ہے ۔”

” بہت ظلم کیا ہے نہ تو ان پر انکی عزت جان سے بہت کھیلا ہے تو اب دیکھ یہ کیا کرتی ہیں ۔”سپاہی بھاگ کر ان لڑکیوں کی طرف جب ان سب نے اپنے ہاتھوں کو انگلیوں سمیت ایسے گھمایا کہ سب کی ہاتھوں سے نکلتی چھریاں سیدھا ان سپاہیوں کے گلوں میں۔ اتر گئی تھیں صیاد کے طوطے اڑ گئے تھے ۔ سپاہی خود بخود آگے بڑھتے جارہے تھے لڑکیاں ہاتھوں سے نکلتی چھریوں سے سپاہیوں کو ختم کرتی جارہی تھیں ۔صیاد نے ہاتھ کے اشارے سے انھیں روک دیا “کون ہیں یہ لڑکیاں اور کیسے کررہی ہیں یہ سب یہ جادو یہ طاقت انکے پاس کیسے آئی ۔اس نقاب پوش لڑکی نے آپنا نقاب اتار دیا تھا ” یہ ہاں شہر سحر کی جان طلسم بنت زولفشان !” طلسم کو اس طرح سے لڑتے صیاد پہلے چار دیکھ رہا تھا اسکے پاس یہ طاقت بھی ہے ؟”

” اور یہ وہ تمام لڑکیاں ہیں جو ہر روز یہ سوچ کرمرتی تھیں کہ ناجانے کب راجہ کے سپاہی آئیں گے اور انھیں لے جائیں گے ۔”

” ان کے پاس طاقت کیسے آئی ؟ صیاد کا سوال وہیں کا وہیں تھا ۔” بس ڈر گیا میری عورتوں کی فوج دیکھ کر ؟” ان تمام لڑکیوں نے ایک ساتھ صیاد پر حملہ کیا تھا سینکڑوں کی تعداد میں وہ نوکیلی بلیڈ صیاد کی طرف بڑھ رہے جب اسنے انھیں ایک ہاتھ اٹھا کر ہوا میں ساکن کردیا ۔” لڑکیاں کچھ پریشان ہوگئی مگر صیاد مسکرا کر اسیر کو دیکھ رہا تھا اسنے وہیں تمام چھریوں کا رخ انھیں کی طرف موڑ دیا وہ چھریاں پلٹ کر طلسم اور ان باقی لڑکیوں کی طرف ہی اگئ مگر اس سے پہلے وہ تمام لڑکیاں پیچھے چلی گئی تھیں اس چند ادھیڑ عمر مرد آگ آگئے تھے جنہوں نے دونوں ہاتھ ہوا میں اٹھا لیے تھے اور وہ چھریاں قریب آتے ہی تباہ ہوگئیں ان مردوں نے تو کچھ کیا بھی نہیں پھر بھی اسنے تیر چھڑوا دیے تھے مگر وہ ہزاروں تیر بھی انکے قریب جاکر نیچے گر گئے کچھ بھی انکے قریب نہیں جارہا تھا ان میں بھی ایک نقاب پوش موجود تھا ۔صیاد کو غور سے دیکھنے پر پتا چلا اسیر اور باقیوں کے گرد ایک خفاظتی تہ بنی تھی جو کچھ بھی انکے قریب نہیں آنے دے رہی تھی اور وہ تہ ان مردوں نے بنائی تھی مگر اس طرح کی حفاظتی تہ تو غفران بناتا تھا صیاد جب یہ سوچ رہا تھا اس نقاب پوش نے آپنا نقاب اتار دیا صیاد نے آخر اسے پہچان ہی کیا ” غفران !”

دیکھ صیاد جن لوگوں کو تو اپنے پیروں کی جوتی سمجھتا تھا وہ لوگ کیسے تیرے سر پر برس رہے ہیں اپنی حفاظت کرنی آگئی انھیں اب تو انھیں ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا .”

لیکن صیاد کو تو گلہ خشک ہوگیا تھا ” غفران زندہ ہے شہر سحر کے لوگ پھر جادو کررہے ہیں یعنی انھیں وہ پھول مل گیا ہے نہیں میں ن کیڑے مکوڑوں سے نہیں ہار سکتا اسنے اپنی تلوار بلائی اور اس حفاظتی تہ پر ماردی جس نے اسے تباہ کردیا ۔وہ لوگ دوبارہ بنانے والے تھے جب صیاد نے اپنے تلوار باز سپاہیوں کو حملہ کرنے کا کہہ دیا سو کے قریب وہ ایک ساتھ آئے ” بس اتنے صیاد ان کے لیے تو میرا ایک کافی ہے ؟” اسیر یہ کہنا تھا کہ کالے لباس میں ایک اور نقاب پوش اسیر کے آگے چکر کاٹ کر ان سپاہیوں کا انتظار کرنے لگا اور جب وہ قریب آئے تو وہ ان سب کے درمیان سے ایسے گزرا کے وہ اسے ڈھونڈتے رہ گئے مگر دوسرے سرے پر جاکر کھڑا ہوگیا سپاہی خود حیران تھے یہ لڑ کیوں نہیں رہا وہ آگے بڑھنے لگے جب انھیں پتہ چلا وہ درمیان سے کٹ چکے ہیں ٹکڑوں کی صورت وہ زمیں پر گر گئے ۔ انکا حال دیکھ کر صیاد خود کانپ اٹھا باقی سپاہیوں کی سانس اٹک گئ تھے مگر راجہ کے کہنے پر چند سپاہی اور آگے بڑھے اسے گھیر لیا اسنے پہلے ان سب کو دیکھا پھر ایڑی پر ایسا گھوما کے ایک ساتھ سب کی گردنیں کاٹ گیا ۔” زبیر اور شہباز بھی وہاں آگئے تھے صیاد تو ابھی دیکھ ہی رہا تھا جب زبیر چیخ کر بولا ” یہ کیا آفت ہے ؟” زبیر کی بات سن کر اسیر نے باآواز کہا ” با ادب با ملاحظہ ہوشیار یہ ہیں شہر سحر کے چشم وچراغ سناش ابن صیاد !” اسیر کی بات سن کر شہباز آر زبیر حیران تھے مگر صیاد تو سانس لینا ہی بھول گیا سناش زندہ ہے !” سناش نے اپنا نقاب اتر دیا تھا چہرا آگ ہی طرح پر تیجس ہوا تھا آنکھیں غصے سے لال تھیں ایک خون سوار تھا اسکے سر پر صیاد آگے بڑھا ” سناش میرے بچے ۔”

” خبردار ! خبردار جو میرے قریب بھی آئے نہیں ہو میں آپکا بیٹا آپ اپنے بیٹے ہو اپنے اصولوں کی بھینٹ چڑھا چکے ہیں بھیجو اپنے سپاہیوں کو کرو جنگ ۔۔” یہ کہہ کر اسنے اپنی خون سے بھری تلوار ایک سپاہی کے اندر گھسا دی تھیں ۔شہر سحر کے تمام لوگ عورت مرد سب اس دس ہزار کے لشکر سے لڑ رہے تھے ۔ صیاد بیچ میں کہیں غائب ہوگیا تھا ایک ایک کر کے تمام سپاہی مارے جارہے تھے کوئی طلسم کے ہاتھو کوئی غفران کوئی سناش کے ہاتھوں وہ فتح مند ہونے والے تھے جب چند سپاہی ایک عورت کو لیے وہاں آگئے جسے دیکھ کر صیاد نے اب سے کہا رُک جاؤ ! سب کو تلواریں حرکتیں ایک ساتھ رک گئی تھیں ۔” سب کو بچا لیا طلسم سب کو لیکن اپنی امی جان کو بھول گئی .” اسنے اس عورت کی بال کھینچ کر کہا ” امی !! طلسم تٹپ اٹھی تھی ” امی ہ ٹھیک ہوگئیں .”

” یہ بیمار کب تھی اسے تو میں نے اپنے جادو کے اثر میں رکھا تھا چھوڑو ہتھیار ورنہ یہ جان سے جائے گی ۔۔۔” اسیر اپنے دماغ کو کوس رہا تھا اتنی اہم بات وہ کیسے بھول گیا سب اپنے اپنے ہتھیار نیچے رکھنے لگے تھے کہ تبھی ان سپاہیوں اور زرینہ بیگم کی پیچھے سے ایک شیر آیا اور آتے ہی اسنے سب کو چیر پھاڑ دیا اور زرینہ بیگم۔کو آزاد کروا لیا سناش کی گری تلوار ایک بار پھر اٹج گئی تھی شاباش سورانچھ ! طلسم بھاگ کر پہلے زرینہ بیگم سے ملی انھوں نے اسے سینے سے لگائے رکھا اسکے ماتھے پر بوسہ دیا ” میں تمہاری اور سناش کی باتیں سب سنتی تھی مگر کچھ بول نہیں پاتی تھی اسیر کی بارے میں بھی سنا تھا میں نے دیکھنا چاہتی تھی اسی اور آج دیکھو اس کی وجہ سے اس شخص کی تباہی دیکھ رہی ہوں ۔” انھوں نے جھک کر سورانچھ کے۔ الون میں ہاتھ پھیرا ” سورانچھ تو ٹھیک ہے ؟ آ صیاد مار مجھے پکڑ کھینچ میرے بال کر میری تزلیل تو نہیں کرسکتا آج مجھے میرا بیٹا بچانے آیا ہے !” زرینہ بیگم نے اسے للکار کر کہا شہباز اور زبیر سورانچھ کے ہاتھوں اپنا انجام سوچ رہے تھے وہ ڈرے سہمے زبیر نے شہباز سے کہا ” ہیرے کے حکمران آگئے شہباز اب کچھ نہیں بچے گا صیاد بھی نہیں ۔”

تقریبآ تمام سپاہیوں کا سفایا ان تینوں اور شہر سحر کے باشندوں نے کردیا تھا آخر ایک ظالم راجہ اکیلا رہ ہی گیا طلسم اسیر غفران سناش زرینہ بیگم سب صیاد کے سامنے کھڑے تھے اور وہ تن تنہا پھر وہ چاروں پیچھے ہوگئے اور اسیر اکیلا رہ گیا ” آجا صیاد اب ہماری باری !” صیاد اپنی تلوار لیکر آگے بڑھا تو اسیر بھی آگے آگیا صیاد تلوار بازی کا ماہر تھا مگر اسیر کو تو ت بھی نہیں آتا تھا مگر آج وہ اسیر ویسے کر ہی نہیں رہا تھا جیسے سناش کے ساتھ لڑا تھا یہ تو صیاد اگر ایک وار کتا تھا تو وہ دو کرتا تھا صیا کے گھاتک سے گھاتک وار کا مقابلہ وہ آسانی سے کرتا جارہا تھا آج شہر سحر کو اپنے مسیحا کی یاد آئی تھی اسے لڑتا دیکھ کر جیسے اسیر نہیں آدم لڑ رہا ہوں صیاد کی عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ تھک گیا اسلیے تلوار چھوڑ کر دھوکہ دڑی شروع کردی اسنے اپنی جادوئی تلوار بلائی اور سیدھا اسیر میں چلا مگر اس سے پہلے وہ اسیر کو چھو بھی پاتی اسیر نے اسے اپنے آنکھوں کی حصار میں لیکر تباہ کردیا صیاد کی سب سے بڑی طاقت اسکی جادوئی تلوار ختم ہوگئی آخر وہ گھٹنوں کے بل گر ہی گیا اسیر نے اسکی گردن پر تلوار رکھ کر ایک بار سناش کو دیکھا صیاد بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا سناش نے رخ پھیر لیا صرف طلسم تھی جس نے کہا تھا ” چھوڑ دیں اسیر مت ماریں چچا کو معاف کردیں ۔” صیاد اب بھی سر جھکائے کچھ سوچے جاری تھا ‘ مجھے موت منظور ہے اسیر لیکنرنے پہلے تمہیں مجھے یہ بتانا ہوگا کہ شہر سحر کو اسکا جادو واپس ملا کیسے کیسے انکی طاقتیں واپس آئی ہیں سناش کیسے زندہ ہے یہ سب تم نے کیا کیسے ؟”

” کریں گ تیری یہ خواہش تو ضرور ہوتی کریں گے تو سنو یہی کچھ دونوں پہلے یہی کچھ ایک آٹھ دن پہلے جب ہم سب کو لگا سناش مر گیا ہے میں اکسے مرد جسم کو اٹھا کر لے جارہا تھا لوگ اسکے ہاتھ چوم چوم کر رو رہے تھے تبھی ہاتھ چومتے ہوئے غفران نے یہ محسوس کیا کہ سناش کی نبض ابھی مدھم چل رہی ہے ۔۔۔”

ایک ہفتے پہلے ۔۔۔

وہ اسے باہوں اٹھا کر ان سب سے دور لے جارہا تھا سب اسے دیکھ کر چیخ رہے تھے غفران نے اسکا ہاتھ چومنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو ہاتھ کلائی پر پڑ گیا تبھی غفران کو یہ محسوس ہوا کہ وہ ابھی زندہ ہے اسنے یہ بات طلسم اور اسیر کو بتائی ” اسیر ! اسیر میری بات سنو سناش ابھی مرا نہیں ہے زندہ ہے اسے گھر لے چلو تب وہ تینوں اسے غفران کے گھر لے آئے غفران نے اسے دیکھا ” یہ گھاؤ صیاد کی جادوئی تلوار کا گھاؤ ہے یعنی اس پر زخم سے زیادہ جادو کا اثر ہے جو اسے مار رہا ہے اس جادو کو اگر زائل کردیں تو سناش بچ سکتا ہے “

تو کریں نہ چچا بچائے اسے !” اسیر اور طلسم کی خوشی کو انتہا نہ رہی مگر غفران ” جادو نہیں ہے آدم صیاد کے جادو کا زائل کر سکتا تھا مگر ۔۔۔”

“مگر ابا تو ہے ہی نہیں پھر ؟”……آدم نہیں ہے آدم کا جادو تو ہے اس پھول میں اگر وہ مل جائے تو شاید سناش بچ جائے ۔”

“ لیکن پھول کیسے ملے گا ابھی تو اُطم بھی نہیں ملا ؟” طلسم کو ہر امید ٹوٹتی نظر آرہی تھی ۔

“ میں تم لوگوں زیادہ نہیں صرف اتنی مدد کر سکتا ہوں کہ میں اپنے علم سے اسے ایک دن زندہ رکھ سکتا ہے اسکی روح کو پرواز کرنے سے روک سکتے ہوں اس دوران اگر تم لوگ پھول ڈھونڈ لو تو شاید ۔۔”

“ آپ کریں چچا سناش کو بس ایک دن کے لیے روک لیں میں پھول ڈھونڈ لوں گا ۔۔۔” اسیر نے نہایت ہمت سے کہا ” اسیر مگر کیسے اطم نہیں پتہ کدھر ہے ؟”

“ طلسم اس پہیلی میں ہمیں بابا ھنسایا تھا حل بھی بابا ہی کروائیں گے ۔” اسنے پہیلی کو پھر سے ایک بار پڑھا اور طلسم کا ہاتھ پکڑ کا باہر چلا گیا غفران نے اپنا علم شروع کردیا تھا جس میں وہ کامیاب بھی ہوگیا ۔

اسیر طلسم کو لیکر اپنے جلے ہوئے گھر میں آیا ” اسیر ہم یہاں کیوں آئے ہیں یہاں کچھ۔ ہیں ملنا “.

“ طلسم یہاں ابا رہتے ہیں ” اسکی بات پر اسنے حیرت سے اسکی جناب دیکھا ” کیا !” ..” ہاں طلسم یہاں ابا رہتے ہیں جب میں پہلی بات یہاں آیا تھا مجھے احساس ہوا تھا جیسے یہاں کوئی اپنا رہتا بسیرا ہے اسکا وہ ابا ہی ہیں .”