Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam NovelR50472 Shehr-e-Sahar Episode 24
No Download Link
Rate this Novel
Shehr-e-Sahar Episode 24
Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam
اگلی صبح وہ بہت اداس اٹھی تھی کل رات سناش نہیں آیا تھا اسکے انگوٹھے کوچھونے بھی نہیں آیا تھا کجا وہ اسکی بات سنتا اسکا سب سے اچھا دوست اس سے ناراض تھا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کرے پھر بستر سے اٹھی اور تیار ہوکر باہر آگئی کھانا اسنے کھایا نہیں تھا اور ناشتہ کرنے کو دل نہیں کررہا تھا ۔سناش ساری رات سویا نہیں تھا وہ صرف ایک بات سوچتا رہا تھا ” کیا کرو کرلوں طلسم سے نکاح پھر وہ مجھے محبت کرنے لگے گی لیکن اس سے پہلے انکے ساتھ زبردستی نہیں وہ میں نہیں کرسکتا انھیں دکھ ہوگا تکلیف ہوگی لیکن ہمارا کیا کل انھوں نے ایک وعدہ توڑا تو میں بھی تو کر سکتا ہوں لیکن نہیں تونے ان سے محبت شرط تو لگا کر نہیں کی تھی نہ ۔۔۔”
وہ باغ میں طلسم کے کمرے کی میز بنانے کے لیے لکڑیاں تراش رہا تھا لیکن سوچ میں غرق .” یہ کیا ہوگیا اسیر تو آگیا نہ دو دوستوں کے بیچ تو تو سب کو آزاد کروانے آیا تھا سب ٹھیک کرنے آیا تھا اور تونے طلسم کو سناش کو ہی الگ کردیا مجھے انھیں پھر سے دوست بنانا ہوگا پھر ہی مجھے ذہنی سکون مل سکتا ہے ۔انکی انھیں سوچوں میں دوپہر ہوگئی تھی جب سناش برآمدے میں سے گزر رہا تھا کہ اسے آوازیں سنائی دیں ۔۔
” شہزادی طلسم کیا کررہی ہیں ۔۔چھوڑ دیں اسکو وہ مر جائے گا ۔۔۔” انکی بات سن کر وہ باغ میں آیا طلسم ایک کبوتر کو اپنے جادو میں جکڑے ہوا میں لہرا رہی تھی ۔اسکے تو حواس گم ہوگئے اور وہ پرندہ بہت تکلیف بھی تھا ۔” طلسم یہ کیا کر رہی ہیں آپ ؟”
” سناش یہ پرندہ ہمیں بہت دیر سے تنگ کر رہا تھا اسلیے ہم نے اسے سزا دے دی ۔”
تنگ کیا مطلب۔ کیا کیا اسنے؟ “اسکی تو جان نکل رہی تھی اس پرندے کو تکلیف میں دیکھ کر ۔”
” ہم یہاں ٹہل رہے تھے کبھی ہمارے کندھے پر بیٹھ جاتا تھا کبھی ہمارے آنچل سے اٹک جاتا کبھی بالوں سے تاج سے چھیڑ خانی کررہا تھا اسلیے ہم نے اسے سزا دے دی ۔”
طلسم آپکو تنگ نہیں آپکے ساتھ کھیل رہا تھا چھوڑے اسے وہ بے زبان جانور ہے بےگناہ آپ کو کیا ہوگیا ہے مگر وہ سن ہی نہیں رہی تھی ۔
” طلسم ہم آخری بار کہ رہے ہیں چھوڑے اسے !” مگر وہ نظر انداز کیے اسے جکڑے ہوئے تھی اب تو اس پرندے کی حرکت بھی مدھم پڑنے لگی تھی ۔” شاہین!! ” مجبوراً اسنے طلسم کو روکنے کے لیے شاہین کو بلایا تھا جو چھڑی بن چکا تھا اس چھڑی سے سناش نے طلسم کے ہاتھ پر حملہ کیا تھا جس سے اسکا ہاتھ لڑکھڑا گیا اور پرندہ آزاد ہوکر اُڑ گیا ۔”
” سناش آپ نے اپنی چھڑی سے ہم پر حملہ کیا !” وہ حیرت سے اسکی جانب دیکھ رہی تھی ۔
” مجھے کرنا پڑا آپ سن ہی نہیں رہی تھی وہ معصوم بے زبان جانور تھا طلسم جو آپکے ساتھ کھیل رہا تھا اور آپ اسے سزا کے طور پر تکلیف دے رہی تھیں ۔بے گناہ تھا وہ آپ ہیں ہی اتنی خوبصورت تو پرندے آئیں گے کہ آپکے پاس سب کو ماد دیں گی ۔۔” آج اسنے پیچ کلر کا گاؤن پہنا تھا جو زمین تک پھیلا ہوا تھا اس پر گلے سے لیکر بارڈر تک جابجا سفید موتی لگے تھے انچل جیسا کپڑا اسکے ساتھ ہی جڑا ہوا تھا ۔بال کھلے چھوڑے تھے جو آخر سے کرلی کیے گئے تھے سر پر چھوٹا سے کراؤن پہنا تھا جس میں پیچ کلر کا بڑا سا پتھر لگا تھا ۔گلابی ہونٹ کالی سیاہ آنکھیں جس میں سرمہ بھرا ہوا تھا “
” سناش ہم نے پوچھا آپ سے کہ اپ نے ہم پر حملہ کیا !”
” ہمیں کرنا پڑا ہم ایک بے گناہ کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے تھے ۔”
” یہی ہم نے کیا تھا سناش ہم بھی کل ایک بے گناہ کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے تھے ۔”اسنے حیرت سے اسکی جانب دیکھا ۔
” جی سناش آج ہم نے ایک بے گناہ کو سزا دی تو آپ مجبور ہوگئے ہم پر چھڑی سے حملہ کرنے پر اپنا وعدہ توڑنا پڑا کل ہم نے بھی یہی کیا تھا ۔” وہاں کھڑے اسیرنے ایک گہری سانس لی ۔طلسم نے اسکی طرف اشارہ کیا ۔
” یہ اسیرِ طلسم ہمارا غلام جب اسے اسیر طلسم بنایا گیا تھا اسے کہا گیا تھا کہ ہماری ہر زمہ داری ہماری حفاظت اس پر عائد ہے کل اگر ہم اسکے ہوتے ہوئے یہاں گر جاتے ہمارے سر پر لکڑی لگنے سے چوٹ لگ جاتی اسے پھر بھی سزا ملنی تھی کہ تمہارے ہوتے ہوئے شہزادی کو چوٹ لگ گئی اور اگر اسنے ہمیں بچانے کے لیے ہمیں پکڑ لیا بچا لیا تو بھی اسے سزا ملی کیا وہ بے گناہ نہیں تھا ۔” اور وہ گردن جھکائے مسکرا رہا تھا لیکن سناش صرف طلسم کو سن رہا تھا ۔”
ہم سے بھی اس بے گناہ کی تکلیف نہیں دیکھی گئی اسلیے جیسے آج آپ کو اس بے زبان کو بچانے کے لیے ہم حملہ کرنا پڑا اسی طرح ہم بھی کل مجبور تھے ۔اور صرف اسیر نہیں تمام غلام جو ہماری چھوٹی سی چھوٹی ضرورتوں کا خیال رکھتے ہیں ہمارے کھانے کا صحت کا حتیٰ کے لباسوں کا سارا دن ہماری خدمت کرتے ہیں تھک بھی گئے ہوں تو ہمیں انکار نہیں کرتے سر جھکا کر ہر حکم مانتے ہیں کیونکہ کہ ہم انکے مالک ہیں وہ اپنا فرض نبھاتے ہیں اور ہم کیا کرتے ہیں چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر انکو سزا دے دیتے ہیں اسکی سانسیں کل بند ہورہی تھیں اگر ہم حملہ نہیں کرتے تو مر جاتا وہ ۔یہ ہمارے غلام ہیں ہمارے کام کرتے ہیں لیکن اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم نے انکی سانسوں پر بھی حکومت قائم کردی کہ جب چاہا چھوڑ دیا جب چاہا ختم کردیں ۔” اور وہ شرمندہ سا سر جھکائے کھڑا تھا ہلا کہ وہ نا تو غصے میں بول رہی تھی نہ اسے جتا رہی تھی بس پیار سے سمجھا رہی تھی ۔” ہم انھیں دھتکارتے ہیں غصہ کرتے ہیں انکی صحت کا دھیان تک ہمیں نہیں رہتا اور سزا دینے کے لیے سب سے پہلے آجاتے ہیں۔انکی ہمت سے زیادہ ان سے کام لیتے ہیں اور جب وہ تھک کر کچھ وقت بیٹھ جاتے ہیں تو انھیں تلواروں کی نوک سے ہلا کر کہا جاتا اپنا کام کرو اور وہ اپنے مالک کا حکم مان کر اٹھ جاتے ہیں اور مالک کیا کرتا ہے اسکے مرنے کے بعد کفن تک کا انتظام نہیں کرتا ایسے مالک ہیں ہم تو سوچیں اپنے مالک کو کیا جواب دیں گے ہم کہ ہم ظلم کرتے تھے رحم نہیں ۔سناش ہم جس پیمانے سے کسی کو ناپے گے اسی پیمانے سے ناپے جائیں گے جو ہم کریں گے ہمارے ساتھ بھی ویسا ہی ہوگا دیکھے ان سب کو کیا یہ معصوم نہیں کیا یہ بے گناہ نہیں انکا حق نہیں ہے عزت کیا ان سے پیار نہیں کیا جائے انکی صحت کا خیال رکھا جائے ۔ہمیں ایک خروش بھی اجائے تو طبیبوں کی قطار لگ جاتی ہے اور انکے زخم رِس رِس کر ناسور بھی بن جائے تو کسی کو پرواہ نہیں ہوتی اور اسی ناسور کے ساتھ یہ ہمارے لیے دن رات کام کرتے ہیں تو ہمیں انھیں ایک حقارت بھرا تزلیل شدہ نام دیتے ہیں غلام نوکر قیدی حقیقت میں یہ نہیں ہم انکے قیدی ہیں آج اگر یہ محل چھوڑ کر چلے جائیں تو سارا نظام رک جائے گا ریڑھ کی ہڈی ہیں یہ ہماری جو دن بدن ٹوٹتی جارہی ہے اور ہمیں اس بات کا اندازہ تب ہوگا جب یہ ٹوٹ جائے گی اور ہم مفلوج ہو جائیں گے ۔” کوئی آنکھ نہیں تھی وہاں جو رو نہیں رہی تھی حتیٰ کہ اسیر اور شمس بھی رو رہے تھے سناش کی گردن حد تک جھکی ہوئی تھی صرف طلسم تھی جو اپنا آپ سنبھالے بول رہی تھی ۔پھراچانک اسنے سر اٹھایا ” آپ سہی کہ رہی ہیں طلسم ہم کل کچھ زیادہ ہی غصے میں آگئے تھے اور ہم نے اسیر کے ساتھ ہمیں معاف کردیں ۔”جواب میں اسنے صرف اسے مسکرا کر دیکھا تھا ۔
“آپ سہی کہ رہی ہیں طلسم ہم کتنے غلط تھے کل سے آپکو غلط سمجھتے رہے آپکی بات نہیں سنی کیسے سوچ لیا کہ ہماری طلسم نے ہم پر حملہ کیا کیسے سوچ لیا وہ کچھ غلط کرسکتی ہیں آپ ہمیشہ سہی ہوتی ہیں اور ہم ہمیشہ آپکو سمجھنے میں غلطی کرتے رہے آپ بھی ہمیں معاف کردیں۔ ” اسنے اسیر سے کہا تھا جسنے ابھی بھی گردن جھکائی ہوئی تھی ۔
” شمس محل کے جتنے غلام ہیں انکے کھانے پینے کا لباس کا اور صحت خیال آپ رکھے گے انکی ہمت کے مطابق ان سے کام لیا جائے گا۔کسی غلام کی صحت اگر ٹھیک نہیں ہوگی تو اسے کام نہیں کہا جائے گا طبیب کو بلا کر زخمی غلاموں کی مرہم پٹی آپ اپنی نگرانی میں کروائیں گے اور سب صرف محل کے غلاموں کے لیے نہیں کال کوٹھری میں قید تمام اسیروں کے لیے بھی یہی حکم ہے مزدوروں سے زیادہ کام نہیں کروایا جائے اور ضیف قیدیوں کو جیل میں ہی رکھا جائے انکی بھی صحت کا خیال آپ رکھے گے کام کے دوران جو ملازم زخمی ہوگا یا بیمار ہوگا اسے کام سے چھڑوا کر واپس بھیج دیا جائے گا بلکہ ایک طبیب مسلسل کال کوٹھری میں رہے گا اور کال کوٹھری کے قیدیوں کے لباس اور کھانے کا بھی خیال رکھا جائے اور ابھی چند غلاموں سے کہ کر کال کوٹھری کی صفائی کروائی جائے انھیں ڈھنگ کا لباس دیا جائے اور یہ ہمارا حکم ہے جو صرف قصرِ صیاد نہیں بلکہ وزیر شہباز وزیر خزانہ زبیر اور رانی برکھا کے محل تک یہ فرمان پہنچا دیا جائے شمس یہ تمام احکامات مورخ سے کہ کر لکھواو ابا سے مہر ہم لگاوائیں گے اور یہ فرمان جلد سے جلد سب کو دے دیا جائے اور جو اس حکم کی عدولی کرے گا اسے سناش ابنِ صیاد خود سزا دے گا “اسکا فرمان سنتے ہی شمس نے اسیر کو دیکھا تھا جو دونوں ہاتھ چہرے پر رکھے بیٹھتا چلا گیا تھا ۔” الحمدللہ !” اور طلسم کے تو کانوں کو یقین نہیں ہورہا تھا کہ سناش نے ابھی ابھی کیا کہا اور وہ ساکن بت بنے اسے دیکھ رہی تھی جو اسے مخاطب کررہا تھا ۔” آج آپ نے ہمیں ہماری کتنی بڑی غلطی کا احساس دلایا ہے طلسم ہم آپ کے شکر گزار ہیں اور اب ہم آپکے عاشق نہیں رہے دیوانے ہوگئے ہیں .” سناش نے اب تک کی سب سے محبت بھری دیوانہ وار نظر طلسم پر ڈال کر کہا تھا ۔
“
” جو حکم شہزادے ! ” شمس نے گردن جھکا کرکہا تھا ۔مورخ کو بلوا لیا گیا تھا جسے سناش بتا رہا تھا اور شمس اسکے پاس کھڑا تھا تمام غلام اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے تھے ۔جب وہ آہستہ سے اسکے پاس آیا اور سرگوشی کے انداز میں کہا ” تھینک یو !”
” آپ شکریہ کس بات کا کر رہے ہیں اسیر یہ سب آپ ہی کا تو کیا ہے ساری ترکیب سارے لفظ آپ ہی کے تو تھے ۔”
” ترکیب میری تھی الفاظ میرے تھے لیکن انھیں عملی جامہ آپ نے پہنایا طلسم اثر لفظوں میں نہیں بتانے والے کے لہجے میں ہوتا ہے اور آپکا لہجہ سب سے بہترین تھا میں یہ سب کہتا تو شاید سناش کو اس طریقے سے نہیں سمجھا پاتا جس طریقے سے آپ نے سمجھایا ۔”
” شمس سہی کہتا ہے ہم دونوں ایک دوسرے کےلیے ہیں ایک اگر منزل ہے تو دوسرا راستہ۔۔”
” ہمم طلسم میں اگر منزل ہوں تو تم راستہ ۔۔راستے کے بغیرمنزل بے معنی ہوتی ہے ۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام علیکم ابا ! صیاد اپنے کمرے میں موجود آرام کر رہا تھا جب سناش ہاتھ میں ایک فرمان لیے اندر آیا ۔
آئیے سناش خیریت ہے آج ابا کی یاد کیسے آگئی ۔
ابا وہ ہم اسیروں اور غلاموں کو لیکر چند احکمات دیے ہیں ان پر آپکی مہر چاہیے لگا دیں ۔ صیاد نے اسکے ہاتھ سے لیکر وہ احکامات پڑے اور حیرت سے اسکی جاب دیکھا ۔” جی ابا ہم نے دیکھا ہے قیدیوں کو اور غلاموں کو وہ بہت مفلسی کی زندگی جی رہے ہیں انکے مالک ہونے کے ناطے ہمیں انکا خیال رکھنا چاہیے اسلیے آپ اس پر مُہر لگا دیں ۔” لیکن سناش یہ حکم باقی سب کیوں مانے گے غلاموں کے بغیر میرا مطلب ۔”
” ابا آپ راجہ ہیں آپکے حکم کے سب کو تابع ہونا پڑے گا اور ویسےبھی ہم کونسا انھیں غلام چھوڑنے کے لیے کہ رہے ہیں ہم بس انھیں ان کا خیال رکھنے کے لیے کہ رہے ہیں اب بس اس فرمان کی تصدیق کردیں ۔”اسنے مجبور ہوکر اسے اپنی مہر لگانی پڑی اسکی پریشانی دن بدن بڑھتی جارہی تھی ایک تو یہ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ طلسم غائب کہاں رہی دوسرا آدم کی آہٹیں اور اب سناش ملک کے حالات پر توجہ کیسے کرنے لگا وہ جانتا تھا سناش کتنا رحم دل اسلیے اسنے اسے ہمیشہ جنگی مہارتوں میں مصروف رکھا کبھی محل یا اسکے باہر کی دنیا میں اسکی دلچسپی ۔وہ فرمان لیکر جاچکا تھا ” نہیں اتنا سب کچھ اچانک سے میری غلط فہمی نہیں ہوسکتی کوئی تو بات ضرور ہے اتنا سب کچھ طلسم اکیلے نہیں کرسکتی ۔”
فرمان تمام جگہ پہنچا دیے گئے تھے جسے دیکھ کر سب کے کچھ اچھے ردِعمل نہیں آئے تھے ۔ رانی برکھا تو ویسے بھی اپنے ملازموں سے بہت اچھا برتاؤ کرتی تھیں اور اسکی کال کوٹھری اکثر خالی رہتی تھی مگر انکا محل اور قصرِ صیاد کا فاصلہ بہت زیادہ تھا ۔وہ پھولوں کی بہت دل دہ تھیں دنیا کا ایسا کوئی پھول نہیں تھا جڑی بوٹی نہیں تھی جو انکے باغ میں میسر نہیں تھی لیکن وہ سناش پر دل و جان سے فدا تھیں وہ جب بھی انھیں دیکھتی پاگل ہوجاتی تھیں اگے پیچھے پھیرتی تھیں اسلیے سناش وہاں جانے سے اکثر کتراتا تھا ۔لیکن بہت جلد اسے رانی برکھا کے محل بھی جانا تھا اور اسکے کمرے تک بھی ۔شمس چند غلاموں کے ساتھ کال کوٹھری آیا تھا اسیر بھی آیا تھا ۔تمام قید خانوں کی صفائی ہورہی تھی اور وہ حیرت سے انھیں دیکھ رہے تھے آج راجہ کو ہم پر رحم کیسے آگیا تن پر لباس بھی دے دیا گیا ۔اسیر مسکرا کر سب کچھ دیکھ رہا تھا جب اسکی نظر اسے بزرگ آدمی پر پڑی جو سلاخوں سے لگا تمام کاروائی دیکھ رہا تھا وہ بھاگ کر اسکے پاس آیا ۔” بابا پہچانا مجھے میں اسیر ؟” ..تمہیں کیسے بھول سکتا ہوں مگر تو یہاں تجھے بھی یہاں لے آئے میں نے کہا تھا کوئی غلطی مت کرنا ۔”
” جی بابا غلطی ہوگئی تھی یہاں لے آئے اور یہاں سے شہزادی مجھے اپنا خاص غلام بن لیا لیکن بابا سب ایسے نہیں ہیں وہ دیکھیں یہ سب شہزادے سناش نے کیا ہے اور انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ضعیف قیدیوں سے کام نہیں لیا جائے گا اسلیے اب آپ ادھر ہی رہا کریں گے تمام قیدیوں کی صحت کا بھی خیال رکھا جائے اور سب شہزادے کی وجہ سے ہوا ہے ۔”
” شہزادے کی وجہ سے ہوا ہے یا کروایا ہے .” اس بزرگ نے سلاخوں سے ہاتھ باہر نکال کر اسکے گال پر رکھا جو نظریں جھکائے مسکرا رہا تھا ۔” میں نے تو ایک چھوٹی سی کوشش کی تھی جو پوری ہوگئی اب آپ یہاں اچھی صحت اور خوراک کے ساتھ رہے گے ۔”
” یہاں ! ” اس بزرگ نے قید خانے کو چاروں طرف سے دیکھ کر کہا ۔” جی بابا فلحال تو یہاں مگر میں وعدہ کرتا ہوں بہت جلد آپ سب کو یہاں سے نکال بھی لوں گا ۔
