416.8K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shehr-e-Sahar Episode 26

Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam

پھر اسے باہوں میں اٹھا کر اسکے کمرے تک لایا اور بستر پر لیٹا دیا ۔کنیزیں اسکے کپڑے وغیرہ ترتیب دینے میں مگن تھی جب اسنے اشارے سے انھیں باہر نکال دیا ۔اسکا ہاتھ تھامے بیٹھ گیا جو بے ہوش و حواس پڑی تھی ” طلسم کون ہے وہ جس کے زخم دیکھ کر آپ اس حالت میں ہیں ہمارے دل کے گھاؤ آپ کو نظر نہیں آتے “

” سناش طلسم ٹھیک تو ہیں ؟” فاریہ آئی تھی جسے بنے دیکھ کر اسنے اپنے آنسوں صاف کیے اور اثبات میں سر ہلا دیا ۔

” لیکن انھیں ہوا کیا ایسے اچانک بےہوش کیوں ہوگئیں ۔”

” چک ۔۔چکر آگیا دھوپ بہت تھی شاید اسلیے !” اس سے نظریں چراتا اسے بول رہا تھا ۔اسنے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔” سناش ہم جانتے ہیں طلسم کے لیے آپکے جذبات آپ ہمارے سامنے رو سکتے ہیں ہم یہ نہیں کہیں گے کہ شہر سحر کا سب سے مضبوط شہزادہ روتا بھی ہے ۔” اسکی بات پر سناش نے اسکی گہری نیلی آنکھوں میں دیکھا جہاں دوستی کے علاوا ایک اور جذبہ بھی پنپ رہا تھا جسے وہ دیکھنا نہیں چاہتا تھا ۔” کچھ اور نہ سہی تو گزرتے لمحوں میں کوئی راہگیر ہی سمجھ کر بتا دو ۔”

” بچپن سے لیکر آج تک ہم نے کبھی طلسم سے اونچے لہجے میں بات نہیں کی اور آج ہم ان پر چیخے آج انھوں نے ایک غلام کی خاطر ہمیں جھوٹا کہا ہم سے لڑی جھگڑا کیا اور اس حالت میں پہنچ گئیں ۔”

” ایک غلام کی وجہ سے انھوں نے آپ سے جھگڑا کیا؟” اسے حیرت ہوئی تھی سن کر طلسم اور اسکی دوستی سے وہ بخوبی واقف تھی ۔

” اسیرِ طلسم ہے وہ انکا خاص غلام دو تین بار اسکی غلطی پر ہم نے اسے سزا بھی دی ہے تب بھی طلسم ہم پر غصہ کرتی تھیں اور آج کسی نے ہمارے خنجر سے اس پر حملہ کردیا تو طلسم کو لگا ہم نے کیا ہے ہم کہتے رہے ہمیں نہیں پتا ہمارا خنجر مل نہیں رہا تھا ہم نے اسے زخم نہیں دیا لیکن انھوں نے شمس طبیب اور اس غلام کے سامنے ہمیں جھوٹا کہ دیا اسلیے ہم نے غصے میں اس غلام کے پیٹ میں دوبارہ خنجر مار دیا اور اسکی حالت دیکھ کر انھیں صدمہ پہنچا ۔اور اب ہمیں اپنی غلطی کا احساس ہورہا ہے کہ ہم کیا کر آئے ہیں ۔”

” لیکن طلسم کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا جو بھی تھا انھیں آپ سے جھگڑا نہیں کرنا چاہیے تھا آپ شہزادے ہیں اور وہ آپکا موازنہ ایک غلام سے کررہی تھیں یہ ممکن ہی نہیں تھا ۔

” نہیں شہزادی فاریہ وہ ہمارا موازنہ نہیں کر رہی تھیں وہ بس ایک غلط فہمی کا شکار ہیں اور اس غلام کو سخ میں گہرا گھاؤ تھا پتہ نہیں کس نے ہمارا خنجر چرایا اور اسیر پر چلا دیا یا طلسم کے لیے تھا وہ ؟ شہزادی فاریہ آپ طلسم کے ساتھ رہیے گا ہم ابھی آتے ہیں ۔” وہ اسے کمرے میں چھوڑ کر باہر داخلہ دروازے پر آیا ۔

” یہاں ہم کھڑے تھے یہاں طلسم اور طلسم کے پیچھے اسیر تب تک ہمارا خنجر ہمارے پاس تھا پر ماموں جان آئے ہم ان سے ملے پھر ہم سب ساتھ اندر چلے گئے لیکن ہم نے یہ کیوں نہیں دیکھا کہ طلسم نہیں ہیں پھر جب ہم انھیں ڈھونڈنے نکلے ہمیں پتہ چلا کہ ہمارا خنجر غائب ہے اور وہ خنجر طلسم کے پاس تھا جس سے اسیر پر حملہ ہوا تھا یعنی ہمارا خنجر تبھی غائب ہوا جب ہم مہمانوں سے مل رہے تھے لیکن گفتگو کے دوران ہمیں خیال ہی نہیں رہا کہ ہمارا خنجر ہمارے پاس نہیں یعنی اسی وقت کے دوران ہمارا خنجر نکالا گیا مگر کس نے کے معلوم بھی نہیں ہونے دیا پھر کون ہمارے اتنا قریب تھا سوائے شہزادی فاریہ کے کوئی نہیں آیا تھا لیکن وہ ایسا کیوں کریں گی وہ تو گرتے گرتے بچیں ۔”

اسنے تمام افراد کو بلایا تھا چھان بین شروع کروا دی پوچھ گچھ بھی کی گئی مگر کسی نے بھی سناش کا خنجر نہیں لیا تھا سناش نے بھی زیادہ کسی سے پوچھا نہیں تھا کہ کوئی بھی غلام تب اسکے پاس نہیں آیا تھا ۔ شام ہوگئی تھی لیکن طلسم کو ہوش نہیں آیا تھا جبکہ اسیر کو ہوش آگیا تھا مگر تکلیف کی وجہ سے وہ آنکھیں بند کیے لیٹا تھا کہ کسی نے دروازہ کھولا کمرے میں چند موم بتیاں جل رہیں تھے اور آہستہ قدموں سے آگے بڑھا اسکا سایہ دیوار پر پڑ رہا تھا اسنے اسیر کے زخم پر ہاتھ رکھنا چاہا لیکن اسنے ایک جھٹکے سے پکڑ لیا اور آنکھیں کھول لیں ۔” سناش میرا مطلب شہزادے آپ !”۔۔” اسیر ہمیں معاف کر دو ہم یہ کرنا نہیں چاہتے تھے مگر غصے پر ہمارا قابو نہیں رہتا یہ زخم میرا دیا ہے ہمیں لے لینے دیں ۔” اسنے اس سے اپنا ہاتھ کھینچا مگر وہ تکلیف سے اٹھ بیٹھا ۔” نہیں شہزادے آپ یہ کیا کر رہے ہیں میں تو ایک غلام ہوں اسکے لیے آپکو ایسا کرنے کی ضرورت نہیں ۔”

‘ غلام ہو اسکا مطلب یہ تو نہیں کہ بلاوجہ کی تکلیف سہتے رہو ” شہزادہ ہونے کے باوجود بھی وہ اسکے ساتھ اسکے پیروں کی طرف بیٹھ گیا تھا ۔،” اب تم کیسے ہو ؟”

” ٹھیک ہوں شہزادے !شہزادی کیسی ہیں مطلب وہ کافی پریشان تھیں ؟ اسنے ڈرتے ڈرتے ہی پوچھا تھا کہ کہیں پھر سے کوئی تیر تلوار آرپار نہ ہو جائے ۔

” ٹھیک ہیں اپنے کمرے میں ہیں آپکا پوچھ رہی تھیں .” اسنے صاف جھوٹ بولا تھا وہ سے بتانا ہی نہیں چاہتا تھا کہ اسکی حالت دیکھ کر وہ ابھی تک بےہوش ہیں لیکن اسے سب پتہ تھا کہ طلسم اور سکون سے ۔

” اسیر ہم ظالم نہیں ہیں برے بھی نہیں مگر طلسم سے جڑی ہر بات پر چاہتے ہیں ہمارا حق ہو آج آپکی وجہ سے انھوں نے ہم سے جھگڑا کیا ۔ اس لیے ہم غصے میں آگئے معزرت ۔۔۔” اس سے معافی مانگ کر وہ چلا گیا جس سے اسیر کر دل میں ایک ہی جملہ آیا ” یہ واقعی ہی شہزادہ ہے اتنا ڈاؤن ٹو ارتھ ویسے میرے مس ڈاؤن ٹو ارتھ کدھر ہے ۔” وہ بازو آنکھوں پر رکھے لیٹ گیا تھا ۔

” اسیر ! کا نام لیتی وہ بےہوشی سے اٹھی تھی جب فاریہ اسکے پاس بیٹھی ۔،

طلسم تم ٹھیک ہوں ؟ اسنے آنکھیں کھول کر چاروں اور دیکھا سناش شمس فاریہ اسکے ماموں سارے ہی وہاں موجود تھے ۔

” طلسم آپکو کیا ہوا تھا ؟ سوال زاکر نے کیا تھا لیکن اسنے سب سے پہلے شمس کو دیکھا جس نے اسے تحمل کا اشارہ کیا۔

” ماموں جان وہ ہمارے غلام کے خنجر لگ گیا تھا تو وہ خون دیکھ کر ہمیں چکر آگیا ۔” اسکی بات پر سناش نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا جو اسے دیکھ بھی نہیں رہی تھی ۔

” جیسے آپ دیکھنے میں ہیں ویسا ہی دل ہے آپکا چڑیا جیسا معصوم سا کسی تکلیف دیکھ کرگھبرا جاتا ہے “سناش اسے دیکھے جارہا تھا پھر ہمت کرکے بولا ” طلسم آپ اب بلکل ٹھیک ہیں نہ ؟” اسکے سوال کو تو جیسے اسنے نظر انداز ہی کردیا ۔وہ غصے سے باہر آگیا تھا ۔فاریہ بھی اسکے پیچھے آگئی تھی ۔

” ٹھیک ہے شہزادی طلسم آپ آرام کریں صبح اگر آپکی طبعیت ٹھیک ہوگی تو ضرور بات کریں گے ۔” زاکر صاحب مسکرا کر وہاں سے چلے گئے انکے جانے کے بعد وہ شمس کو ساتھ لیکر اسیر کے پاس آئی ۔” اسیر ! وہ آنکھوں پر بازو رکھے سو رہا تھا شمس باہر ہی کھڑا ہوگیا اسنے دو تین دفعہ اسے پکارہ پھر جاکر اسکی آنکھ کھلی اسنے ایک نظر اسے دیکھا پھر منہ پھیر لیا ۔

” اسیر مجھے پتا ہے آپ مجھ سے ناراض ہیں ہونا بھی چاہیے میری وجہ سے آپکو آج اتنی تکلیف جو ہوئی ۔” اسکی بات پر اسنے دکھ بھری نظروں سے اسے دیکھا ۔” ناراض تو میں ہوں اس وجہ سے نہیں کہ آج مجھے دو دو گھاؤ برداشت کرنے پڑے بلکہ اسلیے کہ تم نے سناش کو سب کے سامنے جھوٹا کہ دیا !”

” ہاں تو وہ جھوٹ بول رہا تھا نہ وہ اسی کا خنجر تھا اسکے علاوا اسے کوئی استمعال نہیں کرتا وہ کسی کو نہیں دیتا ہمیشہ اپنے پاس رکھتا ہے ۔”

” خدا کے لیے طلسم میں چند دنوں میں سمجھ گیا ہوں اور تم بچپن سے نہیں جانتی کہ سناش ۔۔جھوٹ نہیں بولتا وہ سچ کہ رہا تھا اسنے مجھ پر حملہ نہیں کیا تھا بلکہ وہ حملہ میرے لیے تھا ہی نہیں میں تو غلطی سے بیچ میں آگیا تھا ۔” اسنے حیرت سے اسکی جانب دیکھا ” کیا مطلب ؟”

” وہ حملہ تم پر ہوا تھا طلسم اور جانتی ہو کس نے کیاتھا ؟” وہ سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔” فاریہ نے وہ خنجر سناش نہیں فاریہ نے چلایا تھا “

” یہ کیا کہ رہے ہیں آپ وہ ایسا کیوں کرے گی ؟” اسکے سوال پر پہلے اسنے حیرت سے اسے دیکھا پھر ہنس دیا ” سچ میں طلسم تمہیں ابھی تک پتہ نہیں چلا اسنے ایسا کیوں کیا ؟ کیا کہا تھا اسنے ہاں طلسم یہ سناش تھا نہ یہ کتنا حسین ہے ۔وہ محبت کرتی سناش ہے اور سناش تم سے ظاہر سی بات ہے تم اس سے زیادہ حسین ہو تمہارے ہوتے ہوئے سناش اسے دیکھا گا بھی نہیں ۔”

” نہیں آپکو کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی سناش وہ ایسا نہیں کرسکتی وہ محبت کرتی ہے مجھے سے بہن ہے میری ۔”

” دکھاوا کرتی ہے اچھا بنے کا اسکی نیلی کانچ سی آنکھوں میں تمہارے لیے حسد اور سناش کے لیے محبت میں نے دیکھ لی تھی یاد ہے جب وہ بگھی سے اتر کر تمہاری طرف آرہی تھی اور لڑکھڑا گئی تھی جب اسے سناش نے سنبھالا تھا وہی وہ وقت تھا جب اسنے اسکا خنجر لیا تھا اور سب کے جانے کے بعد وہ خنجر اسنے یا تو خود چلایا ہوگا یا کسی سے چلاوایا ہوگا ۔سناش کا خنجر استعمال کرکے تمہیں نقصان پہنچانا چاہتی تھی تاکہ تمہیں لگے سناش نے تم پر حملہ کیا اور تمہارے دل میں اسکے لیے کوئی شک کوئی بدگمانی پیدا ہوجائے مگر جب وہ مجھے لگا اسے لگا اسکا پلان فلاپ ہوگیا ۔سناش جب تمہیں ڈھونڈنے نکلا تھا وہ بھی اسکے پیچھے تھے مگر جب اسنے طبیب کے کمرے میں تمہارا اور سناش کا مجھے لیکر جھگڑا دیکھا تو اسنے سوچا اسکا پلان فلاپ نہیں سُپر سکسیس فُل ہوگیا ۔یہی تو چاہتی تھی وہ کہ تمہارے اور سناش کے بیچ اختلاف پیدا کرنا ۔دروازے کے پاس میں نے کسی کا سایہ دیکھا تھا نیلا نیلا آنچل جھانک رہا تھا دوپٹے سے مگر جب تک میں دیکھنے گیا وہ وہاں سے چلی گئی ۔تم اسکے منصوبے کو ناکام کرسکتی تھی سناش کا بھروسہ کرکے مگر تم نے نہیں کیا اسے جھوٹا کہ دیا ایک دن میں اس نے سب بڑی چوٹ کردی ۔وہ سناش کی ہمدرد بنا چاہتی تھی اسکے آنسوں کے لیے کندھا بنا چاہتی ہے اور مجھے پورا بھروسہ ہے اسنے ایسا کیا بھی ہوگا ۔”

سناش کمرے سے نکل کر باغ میں آیا تھا فوارے کے پاس بیٹھا وہ ہاتھ منہ پر رکھے ہوئے آنسوں کو ضبط کررہا تھا ۔مرد ہونا بھی کتنا بڑا جرم ہے نہ کھل کے آنسوں بھی نہیں بہائے جاسکتے ہیں نہ ہی کسی کے سامنے ٹوٹ کر بکھر سکتے ہے کہ مجھے سمیٹ لو گُھٹ گُھٹ کر مر جاتا ہے مگر کھل کر بات نہیں کرتا اندر سے اداسی کی شام ہی کیوں نہ ہو کسی کے سامنے ایسی شان سے مسکراتا ہے جیسا کیا کہا مجھے کوئی دکھ ارے جانے دو !فاریہ نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا ” شہزادے سناش ! اسنے پھر اپنے آنسوں پونچھ لیے ۔

” سناش آپ طلسم کے رویے کی وجہ سے پریشان ہیں نہ ہمیں بھی بہت برا لگا ہمیں بھی لگا وہ اتنی خود غ۔۔۔۔۔” اسکا لفظ اور جملہ ابھی ادھورا تھا ۔

” شہزادی فاریہ معذرت آپ مہربانی ہوگی ابھی چلیں جائیں !”

لیکن سناش ہم تو بس آپکو دیکھنے آئے تھے ۔اپ ٹھیک ہیں ؟..ہم ٹھیک ہیں شہزادی ابھی آپ چلیں جائیں ۔ ” اسکے کہنے پر وہ اٹھ تو گئی لیکن غصے میں آگئی تھی ۔” یہ طلسم مر کیوں نہیں جاتی اتنی کوشش کی کتنی خوش تھی میں جب اسکی گمشدگی کی خبر آئی تھی مگر پھر لوٹ آئی آج بھی اگر وہ غلام بیچ میں نہ آتا تو ختم تھی وہ پتہ نہیں کونسی قسمت لکھوا کر لائی ہے اتنے قاتلانہ حملے کے باوجود زندہ ہے لیکن اب نہیں ان دونوں کے درمیان چنگاری تو لگ گئی ہے آگ بھی لگ جائے گی کتنی مشکل سے سناش کا خنجر لیا تھا کتنی مشکل سے ان سب کی نظروں سے بچ کر نکلے تھے طلسم پر وار بھی کیا مگر وہ غلام ہمیں تو لگا محنت ضائع ہوگئی لیکن آخر جو ہم چاہتے تھے ہو ہی گیا ان دونوں کی دوستی تو سمجھ ٹوٹ ہی گئی اور جہاں تک رہی محبت کی بات وہ بھی ختم ہو ہی جائے گی ۔”

” نہیں ایسا نہیں ہوسکتا فاریہ ایسا کیوں او میرے خدایا میں نے کیا کیا !” وہ شرمندہ سی وہیں بستر پر اسکے پاس بیٹھ گئی۔

” طلسم محبت کتنی ظالم ہوسکتی ہے اسکی زندہ مثال میں ہوں دیکھو میرا چھلنی جسم جس پر دومحبت کرنے والوں نے اپنے غصے کی مہر ثبت کی ہے فاریہ نے اپنی محبت کی جلن تم پر نکالی جو مجھے جھلسا گئی اور سناش نے اپنی محبت کے ہاتھوں ٹھیس کھائی اسکی تسکین کے لیے بھی اسنے مجھے چن لیا میں اپنی محبت کے ہاتھوں اس حال میں پہنچا میں اپنا غصہ کس پر نکالوں ؟” وہ نظریں جھکائے سن رہی تھی ۔

” سناش آیا تھا ۔” اسنے فکر مندی سے اسکی طرف دیکھا ” اسنے پھر کچھ کیا ؟” ۔۔۔ نہیں جو زخم دن کے اجالے میں دے گیا تھا رات کے اندھیرے میں چرانے آیا تھا معافی مانگنے آیا تھا کہہ رہا تھا ظالم نہیں ہوں میں بس یہ چاہتا ہوں کہ طلسم سے جڑی ہر بات پر میرا حق ہوں “

لیکن وہ اسے سن نہیں رہی تھی وہ اسکے زخموں کو دیکھ رہی تھی ۔

” اسیر یہ دکھ رہا ہے ؟” ۔۔۔۔” نہیں طلسم ان سے زیادہ آج یہ دُکھا ہے ” اسنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھ کر کہا ” مجھے سناش کے لیے بہت برا لگ رہا ہے مجھے تمہاری بات اتنی بری لگی تھی اسے کتنی لگی ہوگی پتہ نہیں کس حال میں ہوگا وہ ۔۔۔۔”

اسیر میں ۔۔۔۔۔۔” طلسم فلحال چلی جاؤ یہاں سے بعد میں بات کرتے ہیں ۔”

” اسیر ! لیکن تب تک وہ آنکھیں بند کرکے چہرا موڑ گیا ۔وہ اسکے کمرے سے نکل کر باہر آگئی شمس کو اسنے جانے کا اشارہ کردیا تھا اور خود بھی وہ ٹوٹے قدموں سے اپنے کمرے کی طرف جانے لگی جب اسکی نظر باغ میں بیٹھے سناش پر پڑی ۔وہ اسکی جانب چلی گئی ۔سناش ! اسکی پکار پر اسنے ایک دفعہ اسے دیکھا اور پھر رخ پھیر گیا ۔” سناش آپ ہم سے ناراض ہیں ؟”

” طلسم ہم نہیں آپ ہم سے ناراض ہیں .” ۔۔۔” نہیں سناش ہم آپ سے ناراض نہیں تھے ہمیں برا لگا تھا لیکن ہم سمجھ گئے ہیں ہمیں آپ پر یقین کرنا چاہیے تھا ہمیں معاف کردیں “

” طلسم ہم کون ہوتے ہیں آپکو معاف کرنے والے معافیاں تو ان سے مانگی جاتی ہیں جن پر بھروسہ ہو اور آپکو ہم پر بھروسہ نہیں ہے ۔” یہ کہہ کر وہ وہاں سے چلا گیا وہ جاتے ہوئے اسکی پشت دیکھ رہی تھی ہمت نہیں ہورہی تھی اسے پکارنے کی پکار کر کہتی بھی تو کیا وہ تو سارے لفظ ختم کرگیا تھا ۔وہ جاتے ہوئے سوچ رہا تھا ۔” پکار لیں طلسم کبھی تو ہمیں بھی صدا لگا کر دیکھیں ” مگر اسنے نہیں لگائی اور وہ امید لگاتا چلا گیا ۔

تمہیں معلوم تھوڑی ہے ہمارا قحط کیا شے ہے ۔

تمہیں تو ابھی میری فراوانی میسر ہے ۔۔۔۔۔۔

ایک دن میں کتنا کچھ ہوگیا تھا وہ چوتھے رکن نے آتے ہی مثلث کو کرچی کرچی کردیا تھا تینوں ٹکرٹے الگ الگ تڑپ رہے تھے کو جسمانی تکلیف سے کوئی پشیمانی تو کوئی ٹھیس سے وہ باغ میں کھڑی تھی کوئی نہیں تھا وہاں سوائے اندھیرے کے جو اسے طعنے مار رہا تھا کیا کیا طلسم محبت کا سوچتے سوچتے دوست گنوا دیا اور اس محبت نے بھی تیری نہیں سنی ۔وہ روتی وہیں نیچے بیٹھتی چلی گئی ۔

کِسے پوچھوں ۔۔۔ہے ایسا کیوں ۔۔

بے زبان سا یہ جہاں ہے ۔۔۔

خوشی کے پل کہاں ڈھونڈو بے نشاں سا وقت بھی یہاں ہے ۔۔۔

طلسم کے جانے کے بعد وہ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا تھا ۔” طلسم کیا کیا تم نے مجھے بچاتے بچاتے کسی اور کو تکلیف کے دلدل میں دھکیل دیا یقین چار حرفوں کا یہ لفظ کتا چھوٹا ہے مگر اسے برقرار رکھنا کتنا مشکل ہے اور اگر یہ کسی غلط فہمی کی وجہ سے ٹوٹ جائے تو بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے ۔”

جانے کتنے لبوں پر گلے ہیں ۔۔۔

زندگی سے کئی فاصلے ہیں ۔۔۔۔

کیوں سجتے ہیں اپنے ان آنکھوں میں ۔۔۔

لکیریں جب چھوٹے ان ہاتھوں سے یوں بے وجہ ۔۔۔۔

جو بھیجی تھی دعا وہ جاکے آسماں سے ۔۔۔

یوں ٹکرا گئی کہ آگئی ہے لوٹ کے صدا ۔۔

“نہیں پکارا نہ طلسم اپ نے ہمیں بلاتی تو سہی منا لیتیں مگر نہیں اتنا غیر اہم کردیا آپ نے ہمیں سب کی تکلیف نظر آتی ہے آپکو سوائے میرے بس میری محبت میرا صبرمیرا انتظار آپکو نظر نہیں آتا ۔لیکن ہم آپ سے محبت کرنا نہیں چھوڑے گے ایک دن تو آپکو احساس ہوگا کہ آپ صرف میرے ہیں۔ لیکن اب محبت سے پہلے آپکا یقیقن بھی جتنا پڑے گا یہ نہیں سوچا تھا ۔”اندر کی طرف جاتا وہ گلے شکوے کرتا جارہا تھا ۔

سانوں نے کہاں رخ موڑ لیا کوئی راہ نظر میں نہ آئے ۔۔۔۔

دھڑکن نے کہاں دل چھوڑ دیا چھوٹے ہوں جیسے مورے سائے ۔۔

یہی بار بار سوچتا ہوں تنہا میں یہاں۔ ۔۔۔۔۔میرے ساتھ ساتھ ۔۔۔۔

چل رہا ہے یادوں کا دھواں ۔۔۔۔

جو بھیجی تھی دعا ۔۔وہ جاکے آسماں سے یوں ٹکرا گئی۔۔۔

کہ آگئی ہے لوٹ کے دعا ۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ابھی بھی باغ میں بیٹھی چہرا ہاتھوں سے چھپائے رو رہی تھی جب کسی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔” اسیر ! ” اسکا نام لیکر اسنے اپنے چہرے سے ہاتھ ہٹایا مگر وہ سناش تھا تو جو دکھ اور حیرت کے ملے جلے تاثرات سے اسے دیکھ رہا تھا ۔اسنے اسکا ہاتھا پکڑا اٹھایا اور اندر کی جانب لے گیا ۔

” سناش آپ مجھ سے ناراض نہیں ہیں نہ مجھے پتہ تھا میرا دوست مجھے ضرور معاف کردے گا ۔۔۔” مگر وہ بنا سنے کچھ بولے اسے اسکے کمرے تک لایا اندر بھیجا خود باہر ہی رہا وہ اسے دیکھ رہی تھی جب اسنے آہستہ آہستہ دروازہ بند کرنا شروع کیا جس سے ان دونوں کا چہرا چھپتا چلا گیا اور پھر بلکل ہی چھپ گیا وہ اس پار تکلیف میں تھی اور وہ اِس پار تکلیف تھا ۔

جو بھیجی تھی دعا جو جا کے آسماں سے یوں ٹکرا گئی ۔۔۔

کہ آگئی ہے لوٹ کے صدا ۔

” کسی نے میرا یقین نہیں کیا کسی نے میری بات نہیں سنی ویسے مجھ سے محبت کا داوا کرتے ہیں لیکن میری بات بھی نہیں سنتے میں کیا کرو یا میرے مالک کس مشکل پھنسا دیا ہے مجھے اب اس مشکل سے بھی مجھے آپ ہی نکالو گے ۔

صیاد اپنے کمرے میں بیٹھا تھا “کون ہوسکتا ہے جو طلسم کو مارنا چاہتا ہے ہماری دشمنی تواس۔سے سمجھ آتی ہے مگرکسی اور کو کیا بیر ہوسکتا ہے اور وہ آدم والا معاملہ طلسم اتنا وقت کہاں تھی مجھے پتہ لگانا ہوگا ۔طلسم اتنا وقت بیمار رہیں لیکن انکی صحت اور خوبصورتی میں زرا فرق نہیں آیا جیسے سناش کی صحت میں آیا تھا یعنی طلسم جہاں بھی تھی اچھی حالت میں تھیں مگر کہاں کہیں وہ دوسری دنیا میں ۔۔۔مجھے پتا لگانا ہوگا اور اسکا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ رات کی چاندنی ۔۔۔۔”رات وہ تینوں ہی نہیں سوئے تھے مگر طلسم اپنے کمرے میں ہی بیٹھی تھی باہر نہیں آئی تھی ۔اسیر بھی کمرے میں موجود تھا اسے طبیب نے آرام کرنے اور چلنے پھرنے سے منع کیا تھا ۔شمس اسکے لیے کھانا لیکر آیا تھا ۔

” شمس طلسم کہاں ہے ؟” ۔۔۔” وہ اپنے کمرے میں اسیر تم فکر نہ کرو انھوں نے کھانا کھا۔لیا ہوگا اسیر مجھے تم سے کچھ پوچھنا ہے ۔” ہاں پوچھو ؟”

” تم کچھ دنوں سے ہر روز محل کر جاگنے سے پہلے باہر چلے جاتے ہو اور کافی وقت کے بعد آتے ہو۔”

” ایک ضروری کام کے لیے جاتا تھا شمس جو ان زخموں کی وجہ رُک گیا لیکن جب ٹھیک ہوجاو گا وہ بھی مکمل ہوجائے گا ۔”

کیا کام ؟…” جب ہوجائے گا پتہ چل جائے گا۔”

اسیر کو کھانا دے کر شمس باہر آیا تھا جہاں سناش آصف سے کوئی بات کررہا تھا ۔” شمس ! وہ وہاں سے گزر رہا تھا جب اسے سناش نے روک لیا ۔” جی ! وہ ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا ۔” شمس شہزادی طلسم کدھر ہیں وہ ابھی تک باہر نہیں آئیں ؟”

” شہزادے وہ اپنے کمرے میں ہیں انکی طبعیت بلکل ٹھیک ہے ؟”

ٹھیک ہے تم جاؤ ! اسے جانے کا کہ کر وہ اسکے کمرے کی جانب جانے لگا پھر رُک گیا وہ اپنے کمرے میں ہی اداس بیٹھی تھی جب کنیز آئی ۔”

شہزادی! شہزادی فاریہ آپکو باغ میں بلا رہی ہیں !” طلسم کو اسیر کا کہا گیا ایک ایک لفظ یاد آرہا تھا ۔”انھیں کہ دیں ہماری طبعیت ٹھیک نہیں ہے ہم نہیں آسکتے !” لیکن کنیز کے جانے سے پہلے فاریہ وہاں پہنچ چکی تھی ۔” کیوں طلسم آپ یہاں کیوں بیٹھی رہیں گے بستر سے لگی رہیں گی تو طبعیت خراب ہی رہنی ہے اٹھیں ہمارے ساتھ کھلی ہوا میں چلیں.” وہ اسکا ہاتھ پکڑ کھینچ رہی تھی ۔

فاریہ ہم نے آپ سے ۔۔۔۔۔وہ تھوڑا تلخ ہوئی تھی کہ سامنے سے آتے سناش پر اسکی نظر پڑ گئی۔” سناش نے اگر ہمیں اس سے ایسے بات کرتے دیکھ لیا تو یہ مظلوم بن جائے گی اسکی نظر میں اور سناش مجھ سے اور بدگمان ہو جائے گا ۔”

” ٹھیک ہے شہزادی فاریہ آپ جیسے کہیں گی ہم ویسا ہی کریں گے ۔” وہ اسکے ساتھ باہر آگئی جہاں سناش نے کہ تشنہ آنکھوں کو سیرابی ہوئی تھی ۔

میرے محبوب کی صورت میں جب دیکھوں ۔۔۔

تو کیا سمجھوں یہ ایمان ہے بغاوت ہے جنوں ہے یا حقیقت ہے ۔۔

میرا قبلہ تو کعبہ ہے میرا تعویز ِمنت ہے ۔۔۔۔

خدا کے روپ میں پنہاں میرے دل میں محبت ہے خدا اور محبت ۔۔۔

وہ بھی اسے دیکھ رہی تھی اسکی طرف بڑھی مگر تب تک وہ راستہ بدل کر چلا گیا ۔اور۔وہ اسے جاتا دیکھ رہی تھی ۔

” چلیں طلسم ! وہ اسے لیکر باہر باغ میں آگئی راستے میں وہ اسے ناجانے کیا کچھ سناتی آئی تھی مگر اسکا دھیان ہی نہیں تھا ۔” تو آؤ طلسم دیکھتے ہیں صرف وہ غلام خاص تھا یا باقیوں کے ساتھ بھی تم ویسا ہی سلوک کرتی ہو؟” طلسم کسی سوچ میں غرق تھی تبھی فاریہ کی نظر سامنے گھاس میں چھپی کانٹے دار شاخ پر پڑی ۔” آئیں طلسم وہاں چلتے ہیں جوتا اتار دیں گھاس پر شبنم کے قطروں کو محسوس کرتے ہیں۔ ” اسنے بھی جوتا اتار دیا تھا اور طلسم کا بھی اتروا دیا تھا ۔سماش بھی اپنا کام کرکے واپس جارہا تھا ۔جب اسکی نظر باغ میں بھاگتی فاریہ پر پڑی طلسم بھی اسکے پیچھے تھے ۔فاریہ جان بوجھ کر اس طرف مُڑ گئی جہاں کانٹے دار شاخ گری تھی وہ تو بچ کر نکل گئی مگر طلسم کا پاؤ اس شاخ پر پڑ گیا ۔” آ ہ!! وہ وہیں گر گئی شاخ کے بہت سارے کانٹے پاؤں میں گھس چکے تھے بیل کر طرح وہ اسکے پاؤں سے چمٹ گئی تھی ۔ سناش بھاگتا ہوا اسکے پاس آگیا تھا نیچے بیٹھ کر اسکا پاؤں اپنے ہاتھ میں لیا بڑی آہستہ سے اسکے پاؤں سے وہ ٹہنی نکالی ۔فاریہ دور کھڑی مسکرا رہی تھی ۔” اب دیکھتے ہیں طلسم تم کیا کرتی ہو خاموش رہو گی یا دوسرے غلاموں کے لیے بھی سناش سے لڑو گی ۔”

شہزادی طلسم آپ ٹھیک ہیں ؟ ہم تو کھیل رہے تھے ہمیں کیا معلوم تھا یہاں کانٹے دار ٹہنی بھی ہوسکتی ہے ہمیں تو لگا گھاس صاف ہوگی غلاموں نے کردی ہوگی .”سناش کے ہاتھ میں طلسم کا خون آلودہ پاؤں تھا اور وہ تکلیف سے آنسوں بہا رہی تھی ۔فاریہ کی بات نے اسے اور تپا دیا۔” شمس تمام غلاموں کو اکٹھا کر ابھی !” حکم کی تکمیل کردی گئی تھی ۔” باغ کی صفائی کی زمہ داری کس کی ہے ؟” وہ لال انگارا آنکھوں سے انھیں دیکھ رہا تھا جب دو سرے سہمے غلام آگے آئے ۔” ہماری شہزادے ! ” اسکے آگے بڑھ کر انکی گردن پر تلوار رکھ دی تھی ۔” اپنی غلطی کا انجام دیکھ رہے ہو تمہارے وجہ سے شہزادی طلسم کتنی تکلیف میں ہیں ” وہ نیچے اپنا پیر پکڑ کے بیٹھی تھی ۔” اسکی سزا جانتے ہو اسکی سزا ملی گے ” سناش کی بات سن کر وہ اپنا پیر سنھبالتی اٹھ کھڑی ہوئی ۔” سہی کہا آپ نے سناش انکو سزا ملنی چاہیے کیونکہ انھوں نے یہاں کانٹے دار ٹہنی یہاں جان بوجھ کر رکھی تھی کیونکہ انھیں تو پتا تھا کہ ابھی یہاں شہزادی طلسم نگے پاؤں انے والی ہیں انکا تو بیر ہے نہ ہم سے اسلیے ہمیں تکلیف انھوں نے جان بوجھ کر پہنچائی “سناش حیرت سے اسکی چہرے کی جانب دیکھ رہا تھا لیکن فاریہ کی تو مسکراہٹ غائب ہوگئی تھی ۔” دیں انھیں سزا میں تو کہتی ہوں انکی گردنیں اڑا دیں کیونکہ ہمیں انکی غلطی کی وجہ سے ایک معمولی سی چوٹ آئی ہے مگر یہ تو غلام ہیں اور غلام تو غلطی سے پاک ہوتے ہیں یہ انھوں نے جان بوجھ کے ہی کیا ہوگا لائیں ادھر تلوار اگر آپ نہیں کاٹ سکتے تھے انکا سر ہم قلم کردیتیں کیونکہ یہ تو غلام ہیں ہمارے خلاف کبھی کچھ بولے گے نہیں کیڑے مکوڑے ہیں مار بھی دیں تو کیا فرق پڑتا ہے ۔ہم بھی تھک گئے ہیں آپ کو ایک ہی بات بات سمجھا سمجھا کر اگر آپ نہیں سمجھ رہے تو ہم ہی آپ کا طریقہ اپنا لیتے ہیں اب سے ہم بھی انھیں انکی چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر انھیں سزائیں دیا کریں گے پھر وہ چاہے ہمارا خاص غلام ہو یا یہ سب ہیں تو سب ایک جیسے غلام ہی ۔۔۔” اپنا غصہ نکال کر وہ چلی گئی تھی لڑکھڑاتی کسی کی مدد لینے سے بھی انکار کردیا تھا اسنے ۔شمس نے غلاموں کو جانے کا اشارہ کردیا تھا ۔سناش اسے جاتا دیکھ رہا تھا اور فاریہ سناش کو وہ چل کر اسکے پاس آئے اس سے پہلے کے وہ طلسم کے خلاف کچھ کہتی وہ خود بول پڑا .” ہم کتنا غلط سوچ رہے تھے کہ طلسم صرف اسیر کی وجہ سے ہم سے جھگڑتی ہیں تلخ ہوتی ہیں اسلیے ہم اسیر سے تلخ رہتے تھے مگر انکی سوچ تو سب کے لیے ایک جیسی ہے وہ کسی کو بھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی وہ ہمیں ہمیشہ سمجھاتی ہیں اور ہم ہمیشہ وہی غلطی کرتے ہیں انھیں غلط سمجھتے ہیں کل بھی اسیر کو گھاؤ ہمارے خنجر سے تو انھیں لگا ہم نے دیا کیونکہ وہ بچپن سے جانتی تھیں کہ ہمارا خنجر ہمارا علاوا کوئی استعمال نہیں کرتا وہ اس غلام کی تکلیف کولیکر پریشان تھیں اور ہم نے اسے اور تکلیف دے دی ۔وہ ہم سے بجا خفا تھیں کیونکہ انکے سامنے کئی بار ہم نے اسے تکلیف پہنچائی ہے اور کل پھر سے ۔۔”اور وہ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے حیرت سے سن رہی تھی ۔” سناش !”

” فاریہ ہم آپ سے بات کریں گے لیکن ابھی ہمیں طلسم سے بات کرنی ہے .” وہ آگے بڑھ گیا تھا اور اسکے کندھے پر پڑا اسکا ہاتھ ہوا میں ہی معلق رہ گیا ۔” سناش ! سناش ! وہ اسے آوازیں دیتی رہی مگر وہ چلا گیا ۔” یہ کیا کیا فاریہ یہ تو اپنے پیر پر کلہاڑی مار لی ہم نے !”