416.8K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shehr-e-Sahar Episode 11

Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam

” تم جانتی ہو تم کس سے بات کر رہی ہو۔ ؟ ۔۔۔” ڈرائیور نے غصے سے کہا سحر کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ ائی یہ منظر تو بلکل اسیر اور اسکی پہلی ملاقات کا تھا ۔وہ مسکرا کر آگے بڑھ گئی ۔اگے بینچ پر مالی مالن کا بنایا ہوا مکا اپنے ہاتھوں میں لیے بیٹھا تھا ۔

” کول ڈاؤن بھوکی شیرنی یہ ہتھیار میرا کچھ بیگاڑ سکتا ہے ۔۔” اور مالن نے غصے سے ہاتھ کھینچ لیا اور منہ پھلا کر بیٹھ گئی ۔۔” تم نے دیے تھے نہ اس بس ڈرئیور کو پیسے مجھے جاب کے فسٹ ڈے لیٹ کروانے کے لیے ۔” سحر کو کچھ حیرت ہوئی یہ تو اسکی اور اسیر کی دوسری ملاقات تھی ۔وہ حیرت زدہ سی اگی بڑھ گئی جب اسکی نظر گیراج میں پڑی وہاں کوئی لڑکا منہ کھولے گاڑی کو دیکھ رہا تھا جس کے ٹائرز اترے ہوئے تھے ۔۔

” او یہ گاڑی آپکی ہے مجھے لگا اس کا کوئی والی وارث نہیں ہے میری ڈریس میں سے پیسے کم پڑ رہے تھے اسلیے میں نے اسکے ٹائرز بیچ دیے یہ دو ہزار بچے ہیں ۔۔۔۔”

اسے حیرت پر حیرت ہوتی جارہی تھی ۔۔۔” یہ سب کیا ہورہا؟” یہ سب یہاں ؟؟؟

وہ پریشان سے اندر آگئی جہاں لاوئنج میں کوئی نہیں تھا ۔بس ٹی وی چل رہا تھا جس پر ایک ہی گانا لگا تھا کاجل اور شارخ کا ۔۔

زرا سا جھوم لوں میں ۔۔۔۔

ارے نہ رے نہ ۔۔۔۔۔

زرا سا گھوم لوں میں ۔۔۔

ارے نہ رے نہ ۔۔۔۔اس یاد کو وہ کیسے بھول سکتی ہے مگر یہ سب اسے یاد کیوں دلایا جارہا تھا۔ااسنے کام والی کو آواز دے کر بلایا ۔

” اے ایس سر کدھر ہیں ؟..” وہ کام والی بھاگتی ہوئی اسکے پاس آئی ۔

” جی وہ صاحب اوپر ہیں آپ بھی وہیں چلیے جائیں ۔۔۔” وہ جانے لگی تھی جب وہ دوبارہ بولی ۔۔

” میڈم آپ بہت سندر ہیں آپ کا نام کیا ہے ۔۔۔”اسکی بات پر وہ مسکرا کر بولی ” ۔میرا نام سحر ہے اور تم بھی بہت پیاری ہو تمہارا نام کیا ہے ؟ ۔۔۔”

” جی وہ میرا نام بلقیس ہے ۔۔۔۔” وہ سن کر اوپر جانے لگی تھی جب وہ پھر بولی ۔۔۔” نہیں میرا نام آسیہ ہے ۔۔۔” اسنے حیرت سے اسے دیکھا ” کیا مطلب ؟ “

” جی وہ ۔۔۔۔۔وہ سر کھجانے لگی ۔۔” جی کلثوم ہے میرا نام ۔۔۔۔” سحر کھلکھلا کر ہنس دی اسے فوراً سمجھ آگیا یہ کیا تھا کیونکہ اس کام والی نے بھی گلے میں کارڈ پہن رکھاتھا ۔

“اس پر تو شازیہ لکھا ہے ۔۔”

” وہ میڈم مجھے بھولنے کی بیماری ہے اپنا نام بھی بھول جاتی ہوں اسلیے گلے میں یہ ڈالا تھا مگر یہی بھول گئی یہ بھی گلے میں ڈالا ہے ۔۔۔”

اسنے ایک حیرت زدہ سی نظر اس پر ڈالی پھر آگے بڑھ گئی مگر سیڑھیوں پر قدم رکھتے ہوئے وہ حیران رہ گئی ساری سیڑھیوں پر لفافے پڑے تھے ۔اسنے حیرت سے پہلا لفافہ اٹھایا اسے کھولا جس پر لکھا تھا ۔

” اسلام علیکم مس ڈاؤن ٹو ارتھ ویلکم ٹو مائی ہیوس ۔۔۔” پہلے لفافہ میں بس اتنا ہی لکھا تھا اسنے دوسری سیڑھی پر قدم رکھا اور لفافہ اٹھایا ۔۔

” حیران ہو نہ یہ سب کیا ہورہا ہے ۔” اسنے بے بسی سے سر ہلایا پھر کاغذ پلٹا اور اسکی دوسری سائیڈ پر لکھا تھا ۔۔۔۔” تو دیکھو تمہاری ہر یاد کو میں نے کس طرح اپنے گھر کے کونے کونے میں سنجو کے رکھا ہے ۔سب تمہارے تمہیں بنا دیکھے مداح ہیں میری طرح ۔۔۔وہ اب تیسری سیڑھی پر کھڑی تھی ۔۔”اچھا اب زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہو چھپی رستم ہو تمہیں بھی پتا ہے روڑ والی ملاقات ہماری پہلے نہیں تھی حنا کی پارٹی میں تمہارا مجھے چوری چوری دیکھنا میں نے کیا نوٹس نہیں کیا تھا ۔۔۔” اس بات پر وہ شرم سے لال ہوگئی تھی ۔۔اسنے آگے پڑھا

شرماؤ مت میں بھی دیکھ رہا تھا مگر میں بے شرم ہوں ۔”

اسنے آگے بڑھ کا چوتھا لفافہ اٹھایا ۔۔” ویسے کمال کے ایکڑز ہیں ہم دونوں کیا تماشے کیے جیسے جانی دشمن ہوں تب مجھے یہ معلوم نہیں۔ تھا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ششش کچھ نہیں میں نے کچھ نہیں کہا ابھی آگے بڑھو ۔۔۔”

سیڑھیاں چڑھتے اسکی پائل کی آواز اوپر کمرے میں بیٹھے کسی کی دل کی دھڑکن کو منتشر کر رہی تھی مگر ایسے نہیں اسے آنے دو سحر کو بس یہ معلوم تھا یہ سیڑھیوں پر پیخام ہیں یہ نہیں کہ ہر سیڑھی پر ایک منی مائیکرو فون بھی لگا جس سے اسکی پائل کی آواز اوپر کمرے میں سپیکر پر سنائی دے رہی تھی ۔وہ چھن چھن کرتی پانچویں سیٹھی پر کھڑی تھی ۔

” کیا سوچ رہی مجھے کیسے پتا چلا تمہیں۔ ایک راز کی بات بتاؤ مجھے آنکھیں پڑھنی آتی ہیں میں نے تمہاری آنکھوں میں اپنے لیے عشق دیکھا میں فدا ہوگیا ۔ائی یہ تھوڑا فلمی ہوگیا ۔۔۔”

اسنے آگے بڑھ کر چھٹا لفافہ اٹھایا اس میں ایک تصویر تھی جس میں وہ ایک بچے کو کس کررہا تھا ۔۔۔” یہ بچہ ہائے ہمارے پیار کا کبوتر اسی جگہ کس کیا تھا تم نے بھی اسے میں نے بھی وہیں کیا تھا ۔۔۔ حیران نہ ہو کہا نہ بے شرم ہوں ۔۔۔” پیغامات پڑھ پڑھ کر اسکی ہنسی بند ہی نہیں ہورہی تھی ۔” اچھا تو یہ ڈسکس کا کرنا تھا آپ کو ۔۔۔۔”

وہ ساتویں سیڑھی پر کھڑی تھی اسنے لفافہ کھولا اس میں ایک لاکٹ تھا ۔” یہ لاکٹ تو تم نے اس عورت کو دے دیا تھا نہ میں نے اس سے خریدیں لیا تھا ۔۔۔اب دانت مت نکالو پہن لو اسے ۔۔۔۔ارے نہیں نہیں رکو ابھی نہ پہنو ایسے ہی اوپر آجاؤ ۔۔۔۔”

آٹھویں اور آخری سیڑھی پر وہ کھڑی تھی آخری پیغام اسکے ہاتھ میں تھا جو خالی تھا اسے حیرت ہوئی صرف ایک نقطہ لگا اور ایک قدم کا نشان تھا۔ اس پر کیا تھا جو وہ کہتے کہتے رک گیا سیڑھیوں سے آگے پھولوں سے ایک راستہ بنایا گیا تھا جو ایک کمرے تک جاکر رک گیا ۔ وہاں قدموں کے نشان بنے تھے جو اسیر کے تھے اب اسے اس خالی لفافے کا مطلب سمجھ آیا وہ یہ کہ ہی نہیں پایا کہ وہ اسکے نقشِ قدم پر چل کر اندر آئے اس سے تابع رہنے کی التجا وہ کر ہی نہیں سکا مگر اسنے انھیں قدموں پر قدم رکھ کر آگے بڑھنا پسند کیا وہ جوتا اتار کر ان پر چلنے لگی اسکے قدموں کو ناپتی وہ دروازے تک پہنچ گئی تھی اسنے دونوں ہاتھوں سے دروازہ کھولا ہی تھا جب پھولوں کی بارش شروع ہوگئی اسنے ان میں سے چند پھول اپنے ہاتھوں میں چن لیے اور انھیں لیے وہ اگے آگئی جہاں کوئی نہیں تھاپورا کمرا پھولوں سے سجا تھا درمیان میں ایک ٹیبل پڑا تھا جس میں ایک لفافہ پڑا تھا اسنے وہ لفافہ اٹھایا ۔

اوہ جھانکنا جہاں سے مدھم کرنوں کا ۔۔۔۔

وہ ٹھہرنا جس پر بارش کی بوندوں کا ۔۔۔۔۔

جھکاؤ نظر وہاں سے کہیں ۔۔۔۔۔۔۔

یہی تھا دھونڈو گیا کہاں ۔۔۔۔۔

شاید مل جائے اسکا پتہ ۔۔۔۔۔۔۔

وہ وہاں نہیں تھا مگر وہاں یہ پہیلی تھی جو اسے حل کرنی تھی مگر اسنے بہت آسانی سے وہ پہیلی حل کر لی تھی اسنے فوراً سے کھڑکی سے نیچے جھانکا مگر وہ تو وہاں تھا ہی نہیں وہاں تو علی کھڑا تھا جس نے کاغذ کا ہوائی جہاز اسکی طرف اڑایا جو کمرے میں آکر گر گیا اسنے فوراً وہ اٹھایا کھولا ۔

” کیا ہوا نہیں ملا میں افسوس مجھے ڈھونڈنا ہے تو لفافہ نمبر آٹھ دوبارہ کھولو ..” اسنے لفافہ نمبر آٹھ دوبارہ کھولا جس میں ایک نقطہ اور قدم کا نشان بنا تھا مگر اسکے یہ تو دیکھا ہی نہیں وہ دائیں نہیں بائیں پیر کا نشان تھا اور نقطے کا نشان انگھوٹھے کے اوپر تھا یعنی وہ اسے دائیں نہیں بائیں جانے کا اشارہ کر رہا تھا اور وہ اسکے قدموں کا پیچھا کرتے کرتے غلط جگہ آگئی وہ باہر کی طرف جانے ہی لگی تھی جب لال رنگ اسکے پیر لگنے سے گر گیا اسکے پاؤں اس رنگ میں رنگ گئے مگر وہ اسے نظر انداز کرکے باہر آگئی اور بائیں طرف چل دی سفید فرش پر اسکے قدموں کے ساتھ اسکے قدم بھی بن گئے تھے مگر مخالف سمت میں۔۔۔بائیں طرف بھی ایک راستہ بنا تھا جو ایک کمرے کے سامنے رکتا تھا

اسنے بے صبری سے دروازہ کھولا مگر وہاں ہر طرف اندھیرا تھا ۔وہ اندر آئی اور دیوار پر بورڈ ڈھونڈ کر لائٹ ان کی پورا کمرا اسکی تصویروں سے بھرا تھا ۔سامنے دیوار پر اسکی وڈیوز چل رہیں تھیں جو اسنے فن لینڈ میں بنائی تھی اسکی ہر طرح کی تصویر وہاں موجود تھی

تیرا ہسنا وی جنت اے۔۔

تیرا تعویز جنت اے ۔۔۔

ہو جنت اے تیرا مکھڑا ۔۔

تیری ہر چیز جنت ہے ۔۔۔۔۔

وہ ان تصویروں کو دیکھنے میں اس قدر مشغول تھی جب اسے اپنے پیچھے مڑ کر دیکھا ہاتھوں میں مائیک پکڑے نیلی شلوار قمیص میں ملبوس ۔قمیص کی آستینیں موڑے پہلے تین بٹن کھولے پیروں میں پشاوری چپل نفاست سے بنائی داڑھی ایک مشرقی مرد وہ خود گا رہا تھا ۔اسنے ایک نظر سفید فرش پر دیکھا جہاں اسکے لال قدم چھپ چکے تھے ۔

تیرے پیر وہ جنت اے ۔۔

ہو تیرے شہر وہ جنت اے ۔۔۔

اسی پی جانے اکو ساں۔۔۔۔

تیرےذہر وی جنت اے ۔۔۔۔

او جنت اے تیری گلیاں ۔۔۔۔

تیری دہلیز جنت اے ۔۔۔۔۔۔۔

اور وہ دونوں اتھ منہ پر رکھے اسے دیکھ رہی تھی جو اسکے لیے کتنے مست طریقے سا گا رہا تھا ایک لمحے کے لیے تو اسیر کی اپنی ہنسی چھوٹ گئی تھی مگر وہ رُکا نہیں ۔۔

ہُن تیرے بن ناممکن کرنا گزارا ہوگیا ۔۔۔

اللہ دی قسم اللہ دی قسم تو مینوں اینا پیارا ہوگیا ۔۔۔۔

تیرا لڑنا وہ جنت اے ۔۔۔

او تیری تمیز جنت اے ۔۔۔۔

سڑیا نہیں مریا نہیں ۔۔۔۔

دوپٹہ تیرا جِنو چھو گیا۔۔۔۔

تو چومیا سی جو پرندہ کدے آؤ ۔۔۔۔

میں سنایا امر ہوگیا ۔۔۔۔۔۔

تیری جھانجھر وی جنت اے ۔۔۔۔

تیری تمیز جنت اے ۔۔۔

جنت اے تیرا مکھڑا تیری ہر چیز جنت اے ۔۔۔۔۔۔

گانا ختم ہوچکا تھا اور وہ اسکے گرد چکر کاٹ رہا تھا ۔

” سحر تمہیں پتا ہے مجھےمکھڑا کیسا پسند ہے ؟ ” وہ اسکے گرد چکر کاٹتا یہ سوال کر رہا تھا ۔

” پتا نہیں ؟” اسے اپنے ارگرد گھومتا دیکھ کر اسنے جواب دیا ۔

” تمہارے جیسا ۔۔۔۔” اسنے شرارت بھرے لہجے سے کہا ۔

” تمہیں پتہ مجھے مسکراہٹ کیسی پسند ہے ۔۔۔”

اسنے انجانوں کی طرح کندھے آچکا دیے ۔

” تمہارے جیسی ۔۔۔۔” وہ اسکے گرد گھومتا جارہا تھا ۔

” تمیں پتا ہے مجھے دل کیسا پسند ہے ؟ ۔”

” میرے جیسا ۔۔۔۔” اسنے دانت نکال کر جواب دیا ۔

” نہیں بلکل بھی نہیں دل مجھے میرا اپنا ہی پسند ہے ۔۔۔” اسکی اس بات پر اسکی ہنسی غائب ہوگئی ۔

” ہاں تو میں کہ رہا تھا یہ جو سب میں کیا تمہارے لیے تو کیا لگ رہا ہے میں کیوں کیا ۔۔۔۔”

” کیا سر اب میرے منہ اگلوائے گے ۔۔” وہ شرما گئی تھی ۔

” مس سحر آفندی میں نے پوچھا ہے کچھ ؟…” وہ غصے سے بولا

” اظہارِ محبت کرنے کے لیے ۔۔۔۔” اسنے آنکھیں بند کر کے آہستہ سے جواب دیا ۔عنقریب تھا کہ اسیر کی ہنسی چھوٹنے والی تھی پھر بھی وہ مصنوعی غصہ دِکھا کر اسے تنگ کر رہا تھا ۔

” زور سے بولو ۔۔۔۔

” اظہارِ محبت کرنے کے لیے سر ۔۔۔۔” وہ سر جھکائے بول رہی تھی ۔

وہ اب پھر اسکے گرد چکر لگانے لگا ۔۔

“ہاں تو بلکل ٹھیک کہا تم نے اظہارِ محبت کے لیے تو اگر تم نے ہاں کردی تو ساری زندگی ایسا ہی رہوں گا ۔۔۔”

” یعنی کھڑوس ” اسنے عجیب سا منہ بنا کر کہا

“تم نے کچھ کہا ؟”

” کچھ نہیں میں نے کیا کہا ۔۔۔”

” ہاں تو میں کہ رہا تھا تم بوڑھی ہو جاؤ تمہارے دانت گر جائیں جھریاں پڑ جائیں تم گنجی ہوجاو تمہاری ٹانگیں جواب دیں جائے پھر بھی میں تم اتنی ہی محبت کرو گا ۔۔۔۔”اسکے گرد گھومتا وہ بولے جا رہا تھا ۔

سو سویٹ سر !! اسنے محبت بھری نظروں سے اسے دیکھا ۔

” لیکن !! اچانک وہ سنجیدہ ہوگیا ۔۔” تم نے نہ کر دی تو تم میری نہیں ہوگی میری نہیں ہوگی تو میں کسی اور کی بھی نہیں ہونے دوں گا کسی اور دیکھا تو یہ دو پیارے پیارے کالے کالے نین میں خود پھوڑ دوں گا کسی کی طرف قدم بڑھایا تو ٹانگیں توڑ دوں گا تمہاری ۔اور اسے تو زندہ نہیں چھوڑو گا اسکے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے کتوں کو کھلا دوں گا سوچتی رہ جاؤ گی کہاں سے آیا تھا کہاں چلا گیا تو بتاؤ وہ چکر کاٹتا کاٹتا گھٹنوں ک بل بیٹھ گیا اور ایک باکس اسکے سامنے کر کے گردن جھکا لی

” تو مس سحر آفندی کیا آپ میرے والدین کی بہو حنا اور علی کی بھابھی اور اسیر شاہنواز کی زوجہ محترمہ بنا پسند کریں گی کیونکہ یہ اسیر آپ کے عشق کا اسیر ہو چکا ہے ۔۔۔۔۔” وہ مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا ۔

” اسیر ایک بات کہوں ۔۔۔۔” اتنا محبت بھرا لہجہ اسکے تو دل میں اتر گیا ۔

” بولو نہ ۔۔۔۔۔۔۔”

” یہ اظہارِ محبت تھا یا جگا ٹیکس مانگ رہے تھے ۔۔” اسنے ایک ایک لفظ غصے میں اور چبا چبا کر کہے تھے ۔

” اچھا ڈانٹو تو نہ میں گوگل سے دیکھتا ہوں کیسے کرتے ہوں ۔۔۔۔”

” اسیر !!! ” اسنے حیرت سے پکارا ۔

” سحر میری زندگی میں ناجانے کتنی لڑکیاں آئی اور چلی گئی مگر وہ اک احساس کہ بس یہی ہے وہ جس کا عکس ستاروں میں نظر آتا ہے یہی ہے وہ جسے پانی کی ایک ایک بوند میں پیاسوں کی طرح ڈھونڈا ہے ۔چاندنی رات میں پانی میں پیر ڈالے جس وجود کو باہوں میں سمیٹنے کا دل کرے سرد راتوں میں جس کی آغوش میں سکون ملے نگلے پاؤں گھاس پر چلنے کی تمنا ہو جس کے ساتھ بارش میں بھیگنے کی آرزو ہو ۔کالی راتوں میں درخت کے نیچے بیٹھ کر جس کی باتوں کو سننے کا دل کرے پھولوں کو چن کر جس کے بالوں میں سجانے کا من ہو وہ نہیں ملی کبھی مگرجب تمہیں دیکھا تو لگا جیسے تم تو میرے ہی جسم سے نکلی ہو جس ٹکڑے کو میں نے کھو دیا تھا کہیں آج وہ مجھے مل گیا ۔کپکپاتی راتوں میں گرمائش کی وہ ایک کرن لگی تم مجھے مجھے میرا نام پسند نہیں ہے مگر تم جب لیتے ہو تو لگتا ہے نام تو اب ملا پہچان تو اب کسی نے کروائی تم وہ واحد ہو جس کے منہ سے مجھے میرا نام خوبصورت لگتا ہے ۔میں آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر تمہیں اپنے باہوں میں سمیٹ کر آئینے کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ دیکھوں وہ میرے پاس ہے میں پھولوں کو تمہارے بالوں میں سجانا چاہتا ہوں ۔بارش میں تہارے ساتھ بھیگنا چاہتا ہوں تمہارے باتیں سننا چاہتا ہوں ندی کنارے تمہیں اپنے باہوں میں بھرنا چاہتا ہوں اپنا دکھ تمہاری آغوش میں بانٹنا چاہتا ہوں ۔تمہارے دل کی ایک ایک دھڑکن پر اپنا نام لکھنا چاہتا ہوں ۔اپنے زندگی کا ہر دور تمارے نام کرنا چاہتا ہوں ۔جوانی میں تمہارے حسن کا زیور اور بڑھاپے میں تمہارے سہارے کی لاٹھی تو کیا یہ حق تم دو گی مجھے ؟.”

وہ خاموش اسے دیکھ رہی تھی جس کی آنکھیں نم تھی مگر ایک ایک لفظ سچ تھا محبت تھی اس میں وہ نہ کر ہی نہیں پائی اسنے اثبات میں۔ سر ہلا دیا۔

وہ تو خوشی سے نہال ہوگیا اسنے فوراً سے اسکا پیر اٹھا کر اپنے گھٹنے پر رکھا اور اسکی پائل اتار دی وہ بڑی حیرت سے اسکی جانب دیکھا رہی تھی اسنے ہاتھ میں پکڑا باکس کھولا اور چاندی کی جھانجھر اسکے پیروں میں باندھ دی ۔

” مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی تمہں کیا دوں پھر مجھے ایک خیال آیا اور یہ خرید لیں اب یہ تمہارے آنے کا پیغام مجھے تم سے پہلے دے دیا کریں گی انھیں ہمیشہ اپنے پاس رکھنا ۔۔۔۔” اسے جھانجھر پہنا کر وہ سیدھا ہوا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر لے آیا اسی جگہ جہاں اسکے اور سحر کے پیر لگے تھے مخالف سمت میں وہ اسے بڑی پراسرار نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔

” جانتی ہوں اسکا مطلب کیا ہے ؟..” وہ ان قدموں کی طرف اشارہ کر رہا تھا ۔اسنے نفی میں سر ہلا دیا ۔

” زندگی میں اگر کبھی بھی میں غلط رہ پر چل پڑا تو کیا تم بھی میرے نقشِ قدم پر غلط راہ پر چل پڑو گی نہیں تم میرے پیچھے اس راستے پر اوگی اور مجھے وہاں سے لیکر الٹے قدموں واپس آؤ گی کیونکہ غلط راستے بہت خوبصورت ہوتے ہیں جیسے یہ غلط کمرا جس میں تم پہلے مجھے ڈھونڈتی آئی بہت خوبصورتی سے سجا تھا مگر منزل وہاں نہں تھی منزل اس ااندھیرے کمرے میں تھی جسے تمہاری اور میری یادوں نے محبت نے خوبصورت بنایا۔خوبصورت چییزیں نہں انسان ہوتے ہیں میں اتنا خوبصورت دیکھنے میں نہیں ہوں مگر دل جو تم سے محبت کرتا میں تمہاری قسم کھا کر کہتا وہ بہت خوبصورت ہے تمہیں سب کچھ بتانے سے کہنے سے پہلے یہ سمجھایا کیونکہ یہ ایک وعدہ ہے وعدہ کرو مجھ سے تم ہر موڑ پر میرے ساتھ رہوں گی مجھے غلطی سے بچاؤگی اس ایک وعدے میں محبت کرنے کا وفادار ہونے کا اعتبار کا کجا ہر وعدہ شامل ہے ۔کرتی ہو وعدہ ؟”

وہ ہاتھ اسکے سامنے کیے کھڑا تھا اور اسنے ہاتھ اسکے ہاتھ میں رکھ دیا ” میں وعدہ کرتی ہوں میں ہمیشہ آپ کا ساتھ دوں گی ۔۔۔” وہ اسکا ہاتھ پکڑے نیچے لایا جہاں تمام لوگ رحیم بابا شازیہ مالی مالن علی سب موجود تھے رحیم بابا نے آگے بڑھ کر اسکے سر پر ہاتھ رکھا ۔

“ تو بٹیا بن گئی ہماری بہو بیگم ۔۔۔” اسنے مسکرا کر اثبات میں سر ہلا دیا ۔

” علی اور حنا کے ساتھ آپ دونوں کی بھی شادی کردیں ۔”

“سحر یہ رحیم بابا ہیں یہ ہمارے بہت پرانے ملازم نہیں کہوں گا ابا کے بعد یہی اس گھرکے بڑے ہیں انھوں نے مجھے سنبھالا پالا ہے ۔علی سے تم مل چکی ہوں یہ میرا دوست کم بھائی زیادہ ہے ۔۔۔” وہ ایک ایک کر کے سب کا تعارف کروا رہا تھا ۔” بس یہی ہے میرے فیملی “

رات کا کھانا وہ وہاں سے کھا کر نکلی تھی اسیر اسے گھر چھوڑ گیا تھا کیونکہ رات بہت زیادہ ہوگئی تھی کہیں اور جانے سے اسنے انکار کر دیا تھا ۔تقریباً گیارہ بجے کے قریب وہ گھر واپس آئی تھی ۔اور آتے ہی واش روم میں گھس گئی تھی ۔اسنے پراسرار مسکراہٹ سے آئینے میں اپنے سراپے کو دیکھا ۔ماتھے پر بے کٹ تھوڑا سا الجھ گیا تھا ۔ناک میں نواز پن کے موتی کی چمک اب بھی کم نہیں ہوئی تھی ۔اسنے اپنے گلے میں موجود لاکٹ کو کھولا جس سے ایک چھوٹا سا وجود اسکے سامنے کھڑا ہوگیا جس نے چہک کر کہا ۔۔” کامیابی مبارک ہو شہزادی طلسم .”اسنے مسکرا اسے دیکھا اس رات وہ غفران سے اپنے ہر مسئلہ کا حل لے کر آئی تھی ۔