Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam NovelR50472 Shehr-e-Sahar Episode 18
No Download Link
Rate this Novel
Shehr-e-Sahar Episode 18
Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam
میرے محبوب کی صورت ۔۔۔
میں جب دیکھوں تو کیا سمجھوں۔۔۔
یہ ایمان ہے بغاوت ہے ۔۔۔۔۔
جنوں ہے یا حقیقت ہے ۔۔۔۔
میرا قبلہ تو کعبہ ہے ۔۔۔
میرا تعویز منت ہے ۔۔۔
محبت تو خدا بھی ہے ۔۔
خدا ہی تو محبت ہے ۔۔۔
خدا اور محبت ۔۔۔۔
وہ دونوں ایک دوسرے کے مقابل کھڑے تھے ۔وہ اس سے نظریں نہیں ملا پا رہی تھی اور وہ ٹکٹکی باندھے صرف اسے ہی دیکھ رہا تھا آنکھوں سے آنسوں کب نکل آئے اسے خود بھی پتہ نہ چلا ۔” سناش میں ایک ۔۔۔۔۔” اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اسنے اسے اپنی باہوں میں بھر لیا اور وہ پوری آنکھیں کھولے اسکے سینے سے لگی تھی ۔” طلسم آپ کہاں چلی گئیں تھیں میں نے کتنا ڈھونڈا آپکو سب کہتے تھے آپ اس دنیا چلی گئی ہیں میں نہیں مانتا تھا میں کہتا تھا ایسا نہیں ہوسکتا میری سانس آپ سے بندھی ہے آپ کی سانس ٹوٹ گئی ہے تو میں کیسے زندہ ہوں مجھے یقین تھا آپ واپس آئے گی ۔
” سناش میری بات ۔۔۔۔” ۔۔۔۔۔نہیں طلسم ابھی نہیں ابھی میں صرف آپکو محسوس کرنا چاہتا ہوں کہ میرے پاس ہیں میری باہوں میں باقی سب بعد میں ۔۔” اسنے اسکے گرد اپنی باہوں کا حصار اور مضبوط کرلیا تھا ۔
” ہر روز وہاں جاتا تھا سب سے پوچھتا تھا آپکا کوئی نہیں بتاتا تھا۔طلسم کتنا تڑپا ہوں میں آپ کے بغیر نیندوں نے منہ موڑ لیا مجھ سے دن کے اجالے سیاہ ہوگئے سانس بوجھ بن گئی دل بنجر ہوگیا تارے ٹوٹ کر گر گئے سب ختم ہوگیا آپکے بعد ہمارے بچپن کا وہ جھولا بھی ٹوٹ گیا باغ میں مالی نے گلاب کے پھول لگانے بھی چھوڑ دیے ۔محل میں رنگ اڑنے بھی بند ہوگئے بچے بھی نہیں کھیلتے تھے سب ابا نے بند کروادیا تاکہ مجھے آپکی یاد نہ آئے لیکن آپ ان سب میں نہیں میرے اندر تھیں وہاں سے وہ کیسے نکالتے آپکو لیکن اب آپ آگئی ہیں نہ دیکھیے گا آج سب ہوگا آئیے میرے ساتھ ۔۔” وہ اس سے الگ ہوا اور اسکا ہاتھ تھامے باغ میں لے آیا
شاہین!!! اسنے ہاتھ بڑھا کر شاہین کو بلایا جو اسکے ہاتھ میں آتے ہی باز سے ایک چھڑی بن گیا ۔” اسنے پھولوں کے طرف کرکے یہ ایک لفظ کہا تھا اور تمام پھول گلاب کے ہوگئے تھے پورا باغ گلاب کے پھولوں سے بھر گیا تھا تھا پھولوں سے بنا ایک راستہ بھی اسکا منتظر تھا ۔” طلسم آپ بس چند لمحے یہاں رُکے ہم ابھی آتے ہیں ۔وہ وہیں رہ گئی اور وہ اندر چلا گیا تھا ۔اسکی خوشی دیکھ کر روباش تو خوش تھا مگر طلسم ڈر گئی تھی ۔وہ اسے سب کیسے بتائے گی اسکی خوشی پرجوشی وہ اسے دکھ میں تبدیل نہیں کرسکتی تھی ۔تقریباً بیس پچس منٹ وہ باہر آیا تھا اب اسکی حالت بہتر تھی لباس اسنے تبدیل کرلیا تھا بال بھی سنوار لیے داڑھی بھی ہلکی ہلکی سنوار لی تھی ۔شہزادوں والا لباس بھی پہن لیا تھا سفید اور گولڈن کلر کے اس شاہی لباس میں وہ پرکشش اور باوقار لگ رہا تھا۔پہلے جیسا تو نہیں لیکن حسین وہ اب بھی تھا پہلے جیسا بنے میں وقت لگنا تھا۔ ” آئیے طلسم ! ” وہ اسکا ہاتھ تھامے پھولوں سے بنے اس راستے پر چل پڑا ” طلسم مجھے آپکو کو بتانا ہے کہ مجھے کیسا لگ رہا ہے آپکو دوبارہ دیکھ کر میرے انشاللہ کو الحمدللہ بنتا مجھے کیسا لگ رہا ہے طلسم میں ساری زندگی آپکے ساتھ گزرنا چاہتا ہوں ہر موڑ پر منزل پر ” وہ اسکا ہاتھ تھامے اسکے مقابل چلتا جارہا تھا طلسم اگر سیدھے قدموں سے آگے بڑھ رہی تھی تو وہ الٹے قدم اسے دیکھتا ہوا چل رہا تھا ” آہ! ..” اسکے پاؤں میں کچھ چبھ گیا تھا سناش آپ ٹھیک ہیں ؟ وہ نیچے بیٹھ کر اپنے پیروں سے کانٹا نکال رہا تھا ۔اسے نکال کر اسنے ہاتھ پر رکھ لیا .” آپ سے پہلے آپکےاگے میں چلوں گا تاکہ ہر تکلیف آپ سے پہلے مجھے سہنی پڑے آپ کے راستے میں ہمیشہ صاف رکھوں گا کوئی پتھر کوئی کانٹا آپ کو چھو بھی نہیں سکے گا ۔” وہ کھڑا ہوکر دوبارہ اسکا ہاتھ تھامے آگے بڑھنے لگا .”طلسم اج میں آپکو ہر وہ یاد یاد دلاؤں گا جو کہیں نہ کہیں ہماری زندگی خوبصرت بنانے میں پیش رہی ہیں وہ ایک درخت کے قریب کھڑے تھے جو بلکل ہی ویران تھا بنجر تھا اسکی لکڑی بھی سوکھ چکی تھی شاخ پر پتوں کا نام ونشان نہیں تھا آس پاس گھاس کسی پھول کا بھی کوئی پتا نہیں تھا درخت کی ایک شاخ پر بنا جھولا بھی ایک طرف سے ٹوٹا ہوا تھا جھولے کی رسی بھی بوسید ہوچکی تھی کہ جیسے ابھی وہ چھوئے گی تو زرا سا زور لگنے سے وہ ٹوٹ جائے گی اسکی آنکھوں میں نمی آگیں تھی ” میرا جھولا ! اچانک منظر بدل گیا درخت ہرا بھرا ہوگیا تھا جھولا بھی بلکل نیا ہوگیا تھا ۔جس کی رسی پر پھول دار بیل چڑھی ہوئی تھی ان دونوں کے درمیان سے دو بچے بھاگتے ہوئے گزر گئے اور درخت کے گرد کھیلنے لگے ۔وہ بچہ اپنی چھوٹی سی سہیلی کو پکار رہا تھا ” طلسم رکو ! رکو طلسم ۔۔۔۔”
مجھے پکڑ سکتے ہو تو پکڑ لو سناش تم مجھے نہیں پکڑ سکتے ۔۔”
میں تمہیں پکڑ سکتا ہو بات تو یہ ہے کہ میں تمہیں پکڑنا نہیں چاہتا ۔۔
ہوہائے سناش کتنا جھوٹ بولتے ہو تم پکڑ نہیں سکے تو یہ بول دیا ۔۔۔وہ بھاگنا چھوڑ کے اسکے پاس آگئی اور اسنے اسے اپنے ننھے ننھے ہاتھوں میں دبوچ لیا ” دیکھا طلسم پکڑ لیا نہ میں میں نے کہا تھا “
طلسم !! سناش کی پکار سے وہ خیالوں سے باہر آئی سب کچھ ایسا ہی تھا وہی بوسیدہ بنجر درخت بنا پتوں کے وہی ٹوٹا جھولا ۔
سناش نے ہاتھ بڑھا کر چھڑی سے اس جگہ کو پہلے جیسا بنایا تھا ۔وہ درخت اسکے خیال کی مانند ہرا بھرا ہوگیا تھا جھولا بھی اس پر پھولوں والی بیل بھی ویسی ہی تھی ۔اسکا ہاتھ پکڑے اسے جھولے تک لیا اور اس پر بیٹھا دیا اور خود پیچھے جاکر اسے جھولا جھلانے لگا ۔” یہ جگہ ہماری تھی میں اکیلا اس جگہ کو سنبھال نہیں پایا دیکھوں تم واپس آئی ہو تو بہار بھی لوٹ آئی ہے ۔” لیکن وہ جھولے پر بیٹھی کنفیوز تھی ڈری ہوئی تھی کہ روباش اسکے سامنے آگیا ” طلسم تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تم واپس آکر سناش کی پہلے والی دوست بن جاؤ گی ۔دیکھو وہ کتنا خوش ہے ۔تو تم کیوں خاموش ہو اب ؟
روباش مجھے کچھ سمجھ نہیں میں کیا کروں ؟ وہ التجایا نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔لیکن وہ اڑ کر سناش کے پاس چلا گیا اور اسکے کندھے پر بیٹھ گیا ۔مگر وہ اپنی لگن میں جھولے کو حرکت دے رہا تھا ۔” طلسم آپکو یاد ہے بچپن میں ہمیشہ آپ سے لڑتا تھا کہ جھولا میں ہی کیوں جھولاوں آپکو تو آپ کیا جواب دیتی تھیں ۔
سناش تمہارے علاوا میرا ہے ہی کون ! وہ بنا سوچے سمجھے بول گئی جس کی وجہ سے وہ اور مسکرانے لگا ۔” مجھے پتا تھا میرا علاوا آپکا کبھی کوئی نہیں ہوسکتا آپ میری تھیں اور میری رہے گی ۔” اسکی بات سن کر اسنے حیرت سے اسکی جانب دیکھا اور وہاں سے بھاگ گئی
طلسم !طلسم کیا ہوا ہے ؟ وہ بھی اسکے پیچھے بھاگا مگر وہ اپنے کمرے میں جاکر بند ہوگئی ۔وہ دروازے کے باہر آوازیں دے رہا تھا ۔” طلسم کیا ہوا ہے میری کوئی بات بری لگی ہے آپ ۔۔آپ رو کیوں رہی ہیں ۔
سن۔۔سناش ہمیں کچھ دیر اکیلے رہنا ہے ہماری طبعیت کچھ ٹھیک نہیں ہے .”
” کیا ہوا ہے طبیب کو بلاؤں میں ؟” ۔۔نہیں اسکی ضرورت نہیں ہے آپ بس ہمیں کچھ دیر اکیلا چھوڑ دیں ۔
ٹھیک ہے ہم یہی دروازے کے پاس بیٹھے ہیں کسی چیز کی ضرورت ہوئی تو ” وہ وہیں دروازے کے ساتھ بیٹھ گیا ۔
طلسم تم یہ سب کیا کر رہی ہو اسکے کسی عمل کا ردِعمل کیوں نہیں دے رہی ؟
روباش میں کیا کروں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا اسنے مجھ سے ایک دفعہ بھی نہیں پوچھا میں کہاں تھی کہاں گئی وہ کتنا خوش ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں”
یہ تو اچھا ہے اسنے نہیں پوچھا تمہیں اس سے جھوٹ نہیں بولنا پڑا تو پھر اسکی محبت کا جواب محبت سے کیوں نہیں دے رہی ۔
” روباش میں اسے کچھ نہیں کہ پارہی صرف اسیر کا سوچ کر اس سے دور رہتی ہوں تو سناش کے ساتھ ناانصافی لگتی ہے اور سناش کی طرف قدم بڑھاتی ہوں تو اسیر سے بے وفائی لگتی ہے مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔”
سناش کے ساتھ پہلے جیسا سلوک کرنے سے اسیرکے ساتھ بے وفائی کیسے ہوگی ۔
میں ڈرتی ہوں روباش کہ کہیں میرے ایسے کرنے سے سناش کے دل میں میرے لیے کوئی غلط فہمی ہوجائے میں اسکے قریب نہیں جانا چاہتی بعد میں اگر اسے سچ پتا چلا تو وہ ٹوٹ جائے گا ۔” وہ گھٹنے سینے سے لگائے نیچے دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی اور روباش اسکے سامنا لہرا رہا تھا ۔” میرا اسکے ساتھ رویہ پہلے جیسا ہوگیا تو اسے اس بات کی تصدیق ہو جائے گی کہ میں اسکے لیے واپس آئی ہوں ابھی تو وہ سوچ رہا ہے ۔”
لیکن تمہارے واپس آنے کے بعد تمہارا یہ رویہ اسکے ساتھ اسے بکھیر دے گا ۔
روباش میرا دل نہیں مانتا سناش کے قریب جانے کا اسیر کا کیا وہ اس انجان شہر میں میرے سہارے آیا ہے میں اسے اکیلا نہیں چھوڑ سکتی ۔”
تمہیں اسیر کو چھوڑنے کے لیے کہ کون رہا ہے میں بس یہ چاہتا ہوں تم سناش سے پہلے جیسا سلوک کرو تاکہ وہ اپنی زندگی میں واپس اسکے اور ہوسکتا ہے کہ اس کے بعد جو تم اسے سمجھاؤ وہ بہتر طریقے سے سمجھے ایسے کرو گی اور پھر اسے اسیر کے بارے میں پتہ چلا تو یہ بھی ہوسکتا ہے وہ اسکے خلاف ہو جائے اسے نقصان پہنچائے ۔
نہیں میں ایسا نہیں ہونے دے سکتی تم ٹھیک کہ رہے ہوسکتا ہے جو بات میں اسے روکھے انداز میں بتانے کی سوچ رہی ہوں وہ دوستانہ رویے سے جلدی سمجھ آ جائے “
وہ ابھی بھی دروازے کے باہر ہی بیٹھا تھا ۔پورے محل میں طلسم کی واپسی کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی تھی جسے سن کر صیاد اور شمس کے طوطے اڑ گئے تھے ۔دربار لگ چکا تھا جس میں راجہ وزیر کجا شہر سحر کے ہر شعبے کا حکمران موجود تھا ۔دربار اچانک لگا تھا لیکن وجہ سب کو معلوم تھی ۔
شہزادے دربار لگ چکا ہے راجہ آپکو اور شہزادی طلسم کو وہاں بلا رہے ہیں ۔
” کیا ! شہزادی طلسم اور دربار میں تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے ۔
معزرت کے ساتھ شہزادے راجہ کا حکم ہے وہ شہزادی سے انکی گمشدگی کی وجہ اور حقیقت دریافت کرنا چاہتے ہیں ۔
ہمیں نہیں جاننا وہ کہاں تھیں اور تمہیں دکھ نہیں رہا وہ اس وقت ٹھیک نہیں ہیں ۔
” لیکن شہر جاننا چاہتا ہے شہزادے کہ وہ کہاں تھیں ۔”
ٹھیک ہے تم جاؤ اسے جانے کا کہ کر وہ پھر دروازے پر دستک دینے لگا ۔
طلسم ابا ملنا چاہتے ہیں آپ سے دربار میں وہ آپکی کمشدگی کی وجہ جاننا چاہتے ہیں .
سانس تو اب بھاری ہوئی تھی جب اس شخص کا سامنا اسے ایک بار پھر کرنا تھا اسکے سوالوں کا بھی لیکن وہ بھی سب سوچ کر آئی تھی ۔
آپ چلیں ہم آتے ہیں ۔اسکا جواب سن کر وہ جانے لگا تھا کہ اچانک کچھ یاد آنے پر پھر پلٹا ۔” طلسم ڈریے گا نہیں ہمارے ہوتے ہوئے کوئی آپ کو مشکوک نظرسے دیکھ بھی نہیں سکتا ۔”یہ کہ کر وہ چلا گیا ۔
طلسم تم نے سوچ لیا ہے تم کیا جواب دو گی ۔
سب سوچ لیا باقی خدا کی جو چاہ ہوگی ۔وہ خود کو سنبھالنے کے بعد دربار میں پہنچ گئی جہاں تمام مرد موجود تھے ۔وہاں وزیر خزانہ تاجر سفیر راجہ کجا محل کا ہر کاریندہ موجود تھا۔سامںے سب سے بڑی کرسی پر صیاد بیٹھا تھا اور اسکے ساتھ سناش کھڑا تھا ۔اسکی ساتھ والی کرسی پر وزیر شہباز اور بائیں جانب وزیر خزانہ زبیر بیٹھا تھا جو اسے بڑی عجیب نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔سناش چونکہ سب کی عزت کرتا تھا اسلیے وہ خود کو ان سب کے درمیان بیٹھنے کے قابل نہیں سمجھتا تھا اسلیے کھڑا رہتا تھا ۔
وہ اس دربار کے بارے میں بچپن سے جانتی تھی لیکن کبھی سوچا نہیں تھا کہ ایک دن یو سب کے سامنے اسے اسی جگہ جواب دہ ہونا پڑے گا ۔
” تو بتائیں شہزادی طلسم آپ اتنا وقت کہاں تھیں ۔” سوال شہباز نے شروع کیے تھے ۔
” اس دن جب ہم محل سے نکلے تو کھائی کے قریب جاکر ہماری بگھی کا پہیہ نکل گیا جس کی وجہ سے بگھی کھائی میں گر گئی ہمارے سر پر گہری چوٹ آئی تھی اور جب ہمیں ہوش آیا تو ہمیں کچھ بھی یاد نہیں تھا ہم کون ہیں کہاں سے ہیں ۔”
یعنی آپکے کہنے کا مطلب ہے کہ آپکی یاداشت سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے چلی گئی تھی ۔
جی اسکا ثبوت آپکو میرے سر پر یہ پٹی دیکھ کر بھی آرہا ہوگا ۔
” تو جس جگہ آپکو ہوش آیا وہ جگہ کونسی تھی کون لے گیا تھا آپکو وہاں ۔۔”
وہ کوئی ساحل کے قریب جگہ تھی کسی لکڑ ہارے کا جھونپڑا تھا وہ کوئی ضعیف شخص تھا جو ہمیں نہیں جانتا تھااور ہم اپنی یاداشت کھو چکے تھے ۔
اور آپکی یاداشت واپس آنے میں آٹھ ماہ لگ گئے ۔سوال زبیر نے کیا تھا ۔
اس میں اتنی حیرانی کی بات تو نہیں کبھی کبھی سالوں لگ جاتے ہیں ۔
جی یہ حیرانی کی بات نہیں ہے حیرانی کی بات تو یہ ہے آٹھ ماہ بعد بھی آپکی سر کی چوٹ ٹھیک نہیں ہوئی ۔یہ تو اسنے سوچا ہی نہیں تھا ۔
اور آپکی یاداشت واپس کیسے آئی ؟
چھوٹے چھوٹے خاکے ہمارے ذہن میں۔ بنتے تھے اور پھر اٹھ ماہ بعد وہیں دوبارہ چوٹ لگنے سے ہماری یاداشت واپس آگئی ۔
آپ اس جگہ کی شناخت کر سکتی ہیں جہاں آپ تھیں اور ویسے بھی اگر آپ لکڑ ہارے کو ملی تھیں تو اس لکڑ ہارے نے کسی سے زکر کیوں نہیں کیا آپکا ؟۔
ہم نے کہا نہ وہ ہمیں نہیں جانتا تھا اور وہ ویسے بھی شہر سے دور رہتا ہے ساحل کے کنارے ۔وہ تنگ آگئی تھی ان سوالوں سے ۔
تو وہ لکڑیاں بیچنے شہر تو آتا ہوگا تب بھی اسنے کیوں نہیں بتایا اور اسکا حلیہ بتائے وہ کیسا تھا ۔
” ہم سے اتنے سوال پوچھنے کی بجائے آپ شمس سے کیوں نہیں پوچھتے کے ہمارے جانے کی تیاری شمس کو سونپی گئی تھی ہماری بگھی کا پہیہ نکلا کیسے ؟ اسکے سوال پر شمس کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں ابھری تھیں صیاد نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا ۔
وہ ایک حادثہ بھی ہوسکتا ہے آپ بتائیں آپ اس انسان اس جگہ کا حلیہ بتا سکتی ہیں جس کے ذریعے تصدیق ہوسکے کہ آپ سچ کہ رہی ہیں یا نہیں ۔
یعنی آپکے کہنے کا مطلب ہے ہم جھوٹ بول رہے ہیں اگر آپکو ہماری کسی بات پر یقین ہی نہیں ہے تو ہمیں یہاں بلایا کیوں گیا ہے جو سوچنا تھا خود سوچ لیتے اور ہمیں تو حیرت اس بات کی ہورہی ہے کہ سوال یہ کیوں نہیں اٹھایا جارہا کہ ہماری بگھی کا پہیہ نکلا کیسے ہماری جان خطرے میں پڑی تو پڑی کیسے ؟
سوال یہ نہیں ہے کہ بگھی گری تو گری آپ بگھی میں سے غائب ہوگئی ایک لکڑ ہارے نے آپکو بچایا جا ساحل پر رہتا ہے وہ بھی اتنا بے خبر تک اسے شہر کے حکمرانوں کا پتا نہیں جس نے یہ بتانا ضروری نہیں سمجھا کہ اسے ایک لڑکی ملی ہے ۔۔۔” زبیر تو ناجانے اس سے کس جنم کا بدلہ لے رہا تھا ۔
ہمیں اور سوالوں کے جواب نہیں دینے ہماری طبعیت ٹھیک نہیں ہے ہمیں جانا ہے ۔اسنے اپنا سر پکڑ لیا تھا ۔
شہزادی آپکو بتانا ہوگا کہ آپ سچ بول رہی ہیں یا نہیں؟ انکے سوالوں سے طلسم کی حالت سے سناش بھی بے چین ہوگیا تھا ۔وہ کانوں پر ہاتھ رکھے کھڑے تھی ہر طرف سے سوالوں کا شور آ رہا تھا ۔
ہم نے کہا ہمیں اس دربار سے جانا ہے اور سوال نہیں ۔۔۔۔مگر کوئی نہیں سن رہا تھا سب انگلیاں اٹھا رہے تھے ۔
ہم نے کہا ہمیں یہاں سے جانا ہے سناش !!!! بس اس ایک پکار کی تو ضرورت تھی ۔
” دربار برخاست کیا جاتا ہے ! ” ایک لمحہ نہیں لگا تھا اسے باآواز کہنے میں ۔
مگر سناش !! صیاد کی بات ابھی ادھوری ہی تھی ۔” ابا جان دربار برخاست ہوچکا ہے آپ سب لوگ جاسکتے ہیں طلسم آپ بھی اپنے کمرے میں جائیں ۔اسکی آواز اس تک پہچنے سے پہلے ہی وہ وہاں سے چلی گئی تھی ۔
” شہزادی طلسم جھوٹ بول رہی ہیں ضرور انکے دل میں کوئی کھوٹ ہے وہ کچھ چھیپا رہی ہیں اور کیا ثبوت ہے اتنے عرصہ دور رہنے کے بعد وہ پاکیز۔۔۔زبیر کا لفظ ابھی ادھورا ہی تھاکہ سناش کی تلوار کی نوک اسکی گردن میں کچھ حد تک پیوست ہوگئی تھی ۔” اس سے آگے حلق سے کچھ بھی نکلا تو سر دھڑ سے جدا کردوں گا ۔۔۔”اسکا چہرا لال ہوچکا تھا طلسم کے خلاف وہ پہلے بھی کچھ نہیں سنتا تھا ۔
تمام درباری جانے لگے تھے زبیر بھی اسے گھورتا وہاں سے چلا گیا ۔
لیکن سناش ہمیں اس مسلے کا حل ڈھونڈنا ہوگا آپ طلسم سے بات کریں اگر وہ آپکو کچھ بتا دے تو ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ادھر طلسم کے جانے کے بعد غفران اسے اسکے یعنی ادم کے گھر لایا تھا ۔گھرکیا ایک ٹوٹا پھوٹا جھونپڑا تھا جو بلکل جل چکا تھا ۔تمام سامان راکھ ہوا پڑا تھا ۔دیواریں کالی ہوچکی تھی جو کچھ بچا تھا وہ جالوں اور دیمک کی نظر ہوچکا تھا ۔کچھ بھی ثالم نہیں تھا ۔
وہ دیواروں پر ہاتھ پھیرتا روتا اس جگہ کو محسوس کررہا تھا تھا ۔جسے اسکی پیدائش نے اجاڑ دیا ۔
” آدم کو مارنے کے بعد وجود نے اس گھر کو جلا دیا تھا ۔”
اور امی بھائی ؟ ۔۔۔اسنے لال سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا ۔
وہ ۔۔۔وہ زندہ ہی اس میں جل کر راکھ ہوگئے تھے ۔تمہارے بھائی کو تو صرف ایک ہی کلکاری گونجی تھی ابھی ۔۔” آنسو غفران کے بھی رواں تھے کیونکہ سالوں بعد اسکا کوئی اپنا اسکے اپنوں کا سوگ منانے آیا تھا ماتم کرنے آیا تھا ۔اسیر منہ پر ہاتھ رکھے دیورا کے ساتھ ہی بیٹھتا چلا گیا سانس اس قدر مشکل ہوگئی تھی کہ آنسوں گولہ بن کر حلق میں اٹک گئے تھے نہ نکل رہے تھے نہ ہضم ہورہے تھے۔
” آدم میرا بھائی صرف جادوگر نہیں تھا دانشور بھی تھا عقلمند بھی تھا رحم دلی اسکی خاصیت تھی ہر ایک کا بھلا چاہتا ۔حسد بغض ایسا کچھ نہیں تھا اسکے دل عوام اپنے راجہ سے زیادہ اسکے غلام کی بات سنتی تھی ۔زولفشان بھی صیاد سے زیادہ آدم کی بات مانتی تھی اسلیے صیاد آدم سے حسد کرتا تھا۔صیاد اسکے خاندان سمیت اسے ختم کرنا چاہتا تھا تمہیں وہ کھونا نہیں چاہتا تھا اسلیے تمہیں چھپانا پڑا ۔اسکے پاس بہت سی تاقتیں تھی مگر سب سے بڑی طاقت اسکی آنکھیں تھی وہ جس چیز کو دیکھتا وہ خودبخود ہوجاتی تھی۔”
چچا بس کردیں اس سے آگے نہ میں سن سکتا ہوں نہ آپ بتا سکتے ہیں ” وہ لوگ وہاں سے بہت جلد واپس آگئے تھے لیکن آنے سے پہلے اسے وہاں ایک عجیب سا احساس ہوا تھا جیسے وہاں کوئی ہے کسی کا بسیرا ہو یا شاید غلط فہمی تھی ۔
چچا وہ اطم آپ کہ رہے تھے اپنے ہر جگہ دیکھا ہے مگر وہ ہے نہیں ایسا کیسے ہوسکتا ہے ۔
