Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam NovelR50472 Shehr-e-Sahar Episode 1
No Download Link
Rate this Novel
Shehr-e-Sahar Episode 1
Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam
وہ لال چوغے میں ملبوس جسے رات کے اندھیرے نے اپنے اندر چھپا رکھا تھا۔ہاتھوں میں لالٹین لیے سب سے چھپتی چھپاتی ادھر اُدھر دیکھ کر جارہی تھی ۔اسے شہر سے کچھ دور جانا تھا کسی سے ملنے جس کے بارے میں صرف وہ جانتی ہے کہ وہ زندہ ہے لوگوں کی نظر میں تو وہ سالوں پہلے ہی چلا گیا اس شہر سے جس کا بھلا وہ چاہتا تھا ۔اسے آج اس مسئلہ کا حل ڈھونڈنا ہوگا ورنہ حالات قابو سے باہر ہو جائے گے ۔اور بس ان سب میں وہی اسکی مدد کر سکتا ہے ۔وہ شہر سے کچھ دور خاکروبوں کی بستی تھی جہاں لوگوں کا آنا جانا بہت کم ہوتا تھا اور اسکا وہاں ہونا تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا .وہ ایک دروازے کے سامنے کھڑی تھی جو بند تھا ۔اسنے ایک ہاتھ دروازے پر رکھا اور دوسرے سے اپنے گلے میں پڑے لاکٹ کو کھولا جس میں سے ایک چھوٹا سا وجود نکلا تھا۔جس نے دروازے کے سوراخ میں گھس کا دروازا کھول دیا ۔وہ چپکے سے اندر آئی وہ وہاں نہیں تھا یعنی وہ نیچے تھا اسنے وہاں سے قالین اٹھا کر فرش پر ہاتھ پھیرا ہاتھ پھیرنے سے وہاں ایک راہداری کھل گئی.وہاں سے نیچے آئی وہ وہیں تھا دنیا کے لیے صرف ایک خاکروب تھا ۔ وہ اس وقت موم بتی کی روشنی میں کوئی کام کرہا تھا ۔جب اسے دیوار پر کسی کا سایہ نظر آیا وہ ایک دم پلٹا۔۔۔۔
“کون؟”…..
وہ روشنی میں آئی اسنے چوغے کی ٹوپی اتار کر لالٹین چہرے کی جانب کی جسے دیکھ کر اسنے سکھ کا سانس لیا ۔۔۔۔
” شہزادی طلسم آپ !!!۔۔۔”
” ہاں غفران میں ۔۔” اسنے لالٹین میز پر رکھ دی ۔
” خیریت تو ہے آپ کو اس وقت میری ضرورت کیوں پڑ گئی ؟”..
” یہ تم پوچھ رہے ہو غفران تم جانتے ہوں میں یہاں کیوں آئی ہوں ..”
” اب کیا کیا صیاد نے ؟..”
“وہی جو ہمیشہ کرتا ہے یہ پانچویں کوشش ہے اسکی مجھے مارنے کی ۔۔۔۔۔”
“مگر وہ یہ سب کر کیوں رہا ہے وہ تو آپ کو سناش کی وجہ سے بخش چکا تھا؟.”
” تب میں چھوٹی تھی اب سب سمجھتی ہوں وہ کیا کر رہا ہے خطرا ہوں میں اسکے لیے ۔۔۔”
” آپ کی جان کی امان کا ایک ہی طریقہ ہے آپ سناش سے شادی کرلیں ۔۔۔۔” طلسم نے بغور ایک نظر اسے دیکھا اور تہمکانہ لہجے میں کہا ۔۔۔
” دربارہ یہ مشورہ تمہاری زبان پر نہ آئی غفران .”
” جو حکم شہزادی!!.وہ شرمندگی سے گردن جھکا گیا ۔
“بہتر !! میں یہاں اپنی جان کے امان کے لیے نہیں اس شہر کے امان کے لیے آئی ہوں ۔۔۔”
“شہزادی آپ تو جانتی ہیں ہم پانچ جادوگروں میں صرف صیاد ہی ہے جو اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ برسرِ اقتدار ہے باقی پانچ مجھ سمیت مر چکے ہیں میں بھی کسی کی مہربانی کی وجہ سے زندہ ہوں ۔۔۔۔۔۔”
” یہ سب میں جانتی ہوں مجھے صیاد کو روکنے کا طریقہ بتاؤ؟ ۔۔۔۔۔۔”
” شہزادی میری کوئی بھی طاقت میری پاس نہیں میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا میں مجبور ہوں ۔۔۔۔۔” وہ ایک بار پھر شرمندگی سے نظریں جھکا گیا ۔
” غفران !!”..اسنے ایک افسردہ نگاہ اس پر ڈالی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جیسے گئی تھی ویسے ہی واپس آگئی تھی خالی ہاتھ اور آتے ہی سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔محل مشعالوں کی روشنی سے منور تھا کو بہ کو سپاہی گھوم رہے تھے ۔مگر کسی نے آج تک اسے پکڑا نہیں تھا کچھ اسکی اپنی ہوشیاری تھی کچھ سناش کا خوف جو کسی کو اسکی طرف انگلی بھی نہیں کرنے دیتا۔
سوچ سوچ کر تھک گئی تھی مگر اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ۔صیاد کا ظلم شہر کے لوگوں پر بڑھتا جارہا تھا وہ محصول اپنی مرضی کا لینے لگا تھا حریفوں سے دوستیاں لوگوں پر ظلم زبردستی عورتوں کی بے حرمتی اور اسے کوئی روکنے والا نہیں تھا ۔
وہ تکیے پر سر رکھے لیٹ گئی جب نیند چپکے سے اسکے سرہانے گنگنانے لگی ۔اسنے اپنا لاکٹ اتار کر میز پر رکھ دیا جس میں پڑا وجود بھی خراٹے مار رہا تھا ۔طلسم کمبل لیے سکون سے لیٹی تھی ۔سامنے کھڑکی سے آتی ٹھنڈی ٹھنڈی نم ہوا اور چاند کی روشنی اسکے ناک کے نوز پِن کے موتی سے شرارتیں کررہی تھی ۔ہوا سے اڑتا ریشمی پردا اور موم بتیوں کے پھڑپھڑاتے شعلے اور کمرے میں پھیلی سوندھی سوندھی چنبیلی کی خوشبو ایک الگ ہی رومانوی اور مسرور منظر پیش کر کررہی تھی کوئی بھی اس لمحے کے فسو میں بہک سکتا تھا ۔
تبھی دروازے کھلا کوئی اندر آیا اور طلسم کے سرہانے کھڑا ہوگیا اسنے ایک نظر کھڑکی سے جھانکتے چاند کو دیکھا پھر طلسم کے چہرے کو ۔۔۔۔۔
” اہ !! فرق کرنا مشکل ہے اصلی چاند کونسا ہے ۔۔۔۔”
اسنے ہاتھ بڑھا کر طلسم کے چہرے کی جلد کو نہیں اسکے نوز پن کے موتی کو چھوا تھا ۔ایک نظر اسکے کمبل میں چھپے وجود کو دیکھا پھر اسکے پیروں کی جانب آکر اسکے پیر کے انگوٹھے کا اپنے لبوں سے چھو کر واپس جانے لگا تھا جب طلسم نے کہا ۔۔۔۔
” سناش یہ آپ ہمیشہ کیوں کرتے ہیں ؟..” طلسم کے بات سن کر سناش کے چہرے پر ایک دلفریب مسکراہٹ آئی ۔۔
” بچپن کی عادت ہے طلسم اب اسکے بغیر نیند نہیں آتی ہمیشہ کی طرح معذرت ۔۔۔۔” اسنے پلٹ کر جواب دیا مگر وہ پھر کمبل میں منہ چھپا چکی تھی ۔وہ مسکرا کر واپس چلا گیا ۔
” اپنے وقت کی قدر کرو سناش مجھ پر ضائع مت کرو میں تم سے کبھی محبت نہیں کرسکتی ۔۔۔۔” اسنے آنکھیں موند لیں ۔اسے یاد نہیں بچپن سے لیکر جوانی تک اسنے کبھی اسکے پیر کے علاؤہ کسی اور جسم کے حصے کو چھوا بھی ہو یا چاہ بھی کی ہو وہ اس بات سے انکار نہیں کر سکتی اگر آج وہ زندہ ہے تو صرف سناش کی وجہ ۔صرف ایک بارسناش نے اسے سینے سے لگایا تھا جب اس پر چلنے والے تیر کو اسنے اپنی پشت پر کھایا تھا ۔ اسکو اپنی باہوں میں ایسے بھر لیا تھا جیسے اب تو موت بھی اسے چھو نہیں سکتی اور اسکے بعد تین دن تک وہ اسکے سامنے نظر نہیں اٹھا پایا تھا اور اب تو اسے ہاتھ لگانے سے بھی گریز کرتا تھا کہیں اسے برا نہ لگ جائے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح بھی طلسم کے لیے عام صبح ہی تھی وہ شاہانہ لباس میں تیار ہوئی لال اور کالے جالی دار چوغے میں جس میں اسکی تمام خوبصورتی نمایاں ہورہی تھی وہ بے حد حسین لگ رہی تھی ۔بڑی بڑی غزال آنکھیں سرمے سے بھی آئینے میں اپنا سراپا دیکھ رہی تھی ۔ ماتھے پر بےبی کٹ اور کمر تک پھیلے وہ پیار کے دھاگے رات سے زیادہ سیاہی خود میں رکھتے تھے ۔ناک میں پن کا موتی اب بھی آب و تاب سے چمک رہا تھا ۔گلاب کی پنکھڑی سے ہونٹ کبھی کھلتے کبھی بند ہوتے ۔صبح کا نور اسکے انگ انگ سے پھوٹ رہا تھا ۔اگر اسے دیکھ سناش کا دل دھڑک اٹھتا تھا تو بےجا نہیں تھا ۔
” شہزادی آپ کے لیے خط آیا ہے ۔۔۔۔” لونڈی کی آواز سے وہ حقیقی دنیا میں واپس آئی اسنے ہاتھ بڑھا کر خط پکڑا اور اسکی تحریر پڑھ کر وہ پریشان ہوگئی ۔اسے جلد سے جلد صیاد سے ملنا تھا ۔وہ باہر ائی جہاں وہ اسے نظر آگیا وہ کہیں باہر جارہا تھا ۔۔۔
” چچا ! صیاد چچا !…اسنے پلٹ کر ایک نظر اسے دیکھا وہ انکے پاس آئے ۔۔۔۔
” چچا وہ ابھی ابھی خط آیا ہے کہ ۔۔۔اسکی بات ابھی ادھوری ہی تھی جب اسنے ہاتھ اٹھا کر منع کر دیا ۔۔۔
” ابھی میرے پاس وقت نہیں ہے شام میں بات کریں گے ۔۔۔۔” اپنا فیصلہ سنا کر وہ چل دیا ۔۔۔
” چچا ! چچا میری بات تو سنے ۔۔۔۔۔۔” وہ آوازیں دے رہی تھی مگر وہ سن کہاں رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
” ابّا طلسم کے بات سنی نہیں اپ نے ۔۔۔۔۔سناش کی آواز پر طلسم کی پکار اور صیاد کے قدم دونوں رُک گئے ۔صیاد کی تو جان سناش میں بستی تھی وہ اسے نظر انداز نہیں کرسکتا تھا ۔اپنے لخطے جگر کو دیکھ رہا تھا۔وہ شہزادوں کے سفید اور سنہری لباس میں اپنی بڑی بڑی نیلی آنکھوں سے صیاد کو دیکھ رہا تھا ۔اسکا رنگ کندن سا تھا تھا ۔چہرے پر آگ سا تیج اور مدھم سی مسکراہٹ جو ہمیشہ طلسم کو دیکھ کر آتی تھی ۔رعب ایسا کے عوام تو عوام پرندوں سے لیکر آب وہوا تک اسکی مداح تھی ۔تبھی تو وہ شہزادہ تھا ۔اسنے ایک نظر طلسم کو دیکھا جو اس سے رخ پھیر گئی ۔سناش کے دل ایک ٹیس اٹھی وہ ایسی کیوں ہوگئی ہے ۔۔۔
کیوں خوابوں پے تیرے سائیں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
دل کیوں ہے تنہا میرا ۔۔۔۔۔۔
کیوں خاموشی ہے زبان میری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اشکوں میں کہ پاؤ نہ ۔۔۔۔۔۔
کیوں درد ہے اتنا ۔۔۔۔۔
عشق میں تیرے ۔۔۔۔۔
ربا وے ۔۔۔۔۔ربا وے ۔۔۔۔۔
” ابا طلسم کی بات کیوں نہیں سنی آپ نے وہ کب سے آوازیں دے رہی ہے ؟” اسنے صیاد کو مخاطب کیا جو اس تک پہنچ گیا تھا۔
” میں کسی ضروری کام سے باہر جارہا تھا میں نے کہا تھا شام کو سنو گا ۔۔۔۔”
” اسکی بات بھی ضروری ہوگی اسلیے تو کب سے پکار رہی تھی دو لمحے رک کر اسکی بات سنی جا سکتی تھی آپ جانتے ہیں ہمیں پسند نہیں کوئی انھیں نظر انداز کرے اور ابا آپ ؟اپ سے ہمیں یہ امید نہیں ہے ۔۔۔۔” مدھم مسکراہٹ سے طلسم کی اہمیت کا احساس دلایا گیا تھا ۔
” بولیے شہزادی طلسم کیا بات ہے ؟.” طلسم نے حیرت سے ایک نظر سناش کو دیکھا جو مسکراتے ہوئے زیرِلب بولا ” بولیے “…
” چچا وہ ۔۔۔۔ماموں جان کا خط آیا ہے وہ ملنا چاہتے ہیں بیمار ہیں امی جان جا نہیں سکتیں تو ہمیں جانا ہوگا آپ کی اجازت چاہئیے تھی ۔۔”طلسم کی بات سن کر صیاد سوچ میں پڑ گیا تھا مگر سناش کی تو مسکراہٹ ماند پڑ گئی تھی ۔
“اجازت ہے ۔۔” یہ کہ کر وہ روکا نہیں ۔۔
“اچھا تو آپ ماموں جان کے پاس جارہی ہیں ؟” وہ اداس ہوگیا تھا مگر مسکراہٹ لوٹ آئی تھی ۔
” جی ۔۔۔ضروری ہے جانا پڑے گا ۔۔۔۔”
اکیلی جائیں گی ؟…
” آپ جانے کہاں دیں گے .” طلسم کی اس بات پر وہ مسکرا کر گردن جھکا گیا ۔
” بہت اچھے سے جانتی ہیں آپ ہمیں ہم شمس سے کہ دیں گے وہ آپ کو لے جائیں گے ہم خود ساتھ چلتے ۔۔۔۔اسکی بات ابھی ادھوری ہی تھی ۔
” آپ کو ساتھ چلنے کی ضرورت نہیں ہے ہم چلے جائیں گے”
” ہم جانتے ہیں آپ کو ضرورت نہیں مگر آپکی حفاظت زیادہ ضروری ہے ہم آپ کو لے کر کوئی خطرا مول نہیں لے سکتےاسلیے ہماری بات مان لیا کریں ۔۔۔” نظریں جھکائے وہ کہ رہا تھا ۔
” جو حکم شہزادے ! ۔۔۔۔۔صیاد کو مدِنظر رکھتے ہوئے جیسے اسنے اسکے خلوص اور محبت کو طنز کا کوڑا مارا تھا ۔
سناش نے پیچھے باندھے ہاتھوں میں مٹھی بند کر کے کھولی تھی ۔
” میں شہزادہ آپ کے لیے نہیں ہوں آپ کے لیے وہی بچپن والا سناش ہوں آپکا چچا زاد آپ کا دوست ۔۔۔۔۔”
” بچپن کی دوستی بچپن کے ساتھ ختم تب میں اور آپ ایک جیسے تھے اب کی بات اور ہے چچا راجہ ہیں تو آپ شہزادے ہوئے میں اور امی تو جیسے ابا جان کے ساتھ ہی چلے گئے امی اس صدمے سے اب تک ٹھیک نہیں ہوئیں اور مجھے پرورش کے لیے دائی امی کو سونپ دیا گیا پھر تو میں ایک عام لڑکی ہوئی آپ کو شہزادہ نہ کہوں تو کیا کہوں ؟..”
” یہ آپ سے کس نے کہ دیا کے آپ ایک عام لڑکی ہیں سناش کے دل پر حکمرانی کرنے والی واحد رانی ہیں آپ !!!” اسنے غصے سے ایک مکا پلر پر مارا تھا طلسم کے باتوں پر غصہ اسے کم ہی آتا تھا مگر یہ بات اسے اندر تک جھلسا گئی تھی ۔وہ غصے سے لال ہوچکا تھا ۔طلسم کانپ گئی تھی ۔
” مم۔۔۔معذرت میرا وہ مطلب نہیں تھا مگر آپ غلط سوچ رہی ہیں ابا جتنا پیار ہم سے کرتے ہیں آپ سے بھی کرتے ہیں ۔اپ کیوں ایسی سوچ رکھنے لگی ہیں ہم آپ سے بارہا کہ چکے ہیں ہماری دوستی اس سلطنت وراثت سے دور ہے ۔۔۔۔
“چچا جتنا پیار ہم سے کرتے ہیں وہ تو آپ دیکھ چکے ہیں میری بات سنے تک کا تو وقت نہیں ان کے پاس اس محل میں ہمارا خیال صرف اپ کے خوف کی وجہ سے رکھا جاتا اور کچھ نہیں ۔۔۔
” طلسم آپ کو کیا ہوگیا ہے پچھلے چند ماہ سے آپ بلکل بدل گئی ہیں خاموش رہنے لگی ہیں بات بات پر طنز کرتی ہیں مجھ سے رُخ پھیر لیتی ہیں آخر وجہ کیا ہے ؟ “
” کبھی کبھی انسان پر بہت سارے انکشافات ایک ساتھ ہوجاتے ہیں کہ ان کے رویے بدل جاتے ہیں کچھ شوخ ہوجاتے ہیں اور کچھ خاموش جو خاموش ہیں وہ یا تو ان چیزوں کو اس قدر سمجھ چکے ہیں کی اب الفاظ ضائع کرنا مناسب نہیں سمجھتے مگر کچھ لوگوں کے دماغ پر وہ چیزیں اس قدر حاوی ہو جاتی ہیں کہ کچھ اور سوچنے کا موقع نہیں دیتیں میری خاموشی کی وجہ مت پوچھیں وہ آپ کے لیے ناقابلِ برداشت ہوگی ۔۔۔” وہ اس پر بغیر کوئی نظر ڈالے چلی گئی ۔۔۔
” ہمیں بھی تائی جان سے ملنا ہے ہم بھی چلتے ہیں ۔۔۔۔” وہ بچپن سے اب تک حیران تھی وہ کیسے یہ جان لیتا تھا کہ وہ اگلا قدم کس طرف اٹھانے والی ہیں ۔۔۔وہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی جو نظر جھکائے مسکرا رہا تھا ۔۔۔۔
