416.8K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shehr-e-Sahar Episode 22

Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam

” گردن میں سریہ ہے جو جھکنا نہیں جانتی ۔” سامنے سے گزرتے ہوئے طلسم نے اسے مخاطب کیا ۔

” یہ گردن صرف خدا کے در پر جھکنا جانتی ہے آپ جیسے بے رحم اور غرور اور تکبر کے پُتلوں کے سامنے نہیں ” سر بلند کیے وہ اسے نا دیکھے بولا جس پر طلسم کا منہ کھلا رہ گیا ۔ سناش کی تلوار اسکی گردن ناپ چکی تھی ۔جسے طلسم نے ہاتھ سے پیچھے کیا ” روکو سناش اس جیسے اکھڑ اور بدتمیزوں کو لگام ڈالنا مجھے اچھے طریقے سے آتا ہے ۔ شمس باقیوں کو بھیج دو ہم نے اپنا غلام بنا لیا ہے۔”

سارے غلام چلے گئے تھے سناش بھی کسی کام کی وجہ سے وہاں سے چلا گیا تھا جب جاتے جاتے اسکے کانوں میں ایک آواز پڑی ” شہزادی طلسم اور شہزادہ سناش ایک ساتھ کتنے اچھے لگتے ہیں ” وہ کنیزیں تھیں جو وہاں سے گزر رہی تھیں ۔ اسنے مسکرا کر پلٹ کر طلسم کو دیکھا جو اپنے نئے غلام کے ساتھ کھڑی تھی ۔اورچلا گیا ۔

” تو آخر کار تمہارا میرا ساتھ ممکن ہوہی گیا ۔”

” مجھے تم دونوں کو کچھ بتانا ہے ؟” شمس اچانک سنجیدہ ہوگیا تھا ۔”آج صبح جب میں کتب خانے سے گزر رہا تھا تو میں نے شہباز زبیر اور صیاد کی باتیں سنی شہزادی آپ کو پتہ ہوگا شہرِ سحر کی بنیاد ایک ہیرا تھا جو پہلے راجے یعنی آپکے والد کے پوتے ہوئے ہی چوری ہوگیا تھا وہ ہیرا صیاد کے پاس ہے ۔”

کیا !! لیکن وہ توبہت عرصہ پہلے غائب ہوگیا تھا تلاشیاں بھی لی گئی تھیں مگر نہیں ملا تھا ۔”

کیونکہ وہ صیاد نے چھپا دیا تھا میں سنا وہ بات کر رہے تھے اگر اس ہیرے کے مالک واپس آگئے تو سب تباہی ہوجائے گی ۔”

لیکن اس ہیرے کے حکمران ہیں کون ،؟ سوال اسیر نے کیاتھا ۔” یہ بات ہمیں نہیں معلوم زولفشان نے اسکے حکمرانوں کے بارے میں نہ کبھی خود بات کی نہ کسی کو کرنے دی وہ کن کا ہے کہاں سے آیا کسی کو کچھ پتا نہیں ۔”

وہ ابھی یہ بات کرہی رہے تھے جب طلسم کو صیاد نے پکارا وہ اسیر کے مقابل کھڑی تھی اسلیے اسیر کا چہرا اسے نظر نہیں آرہا تھا اس سے پہلے کے طلسم پلٹتی شمس نے کچھ ڈبے اسیر کے ہاتھ میں تھما دیا جس سے اسکا چہرا چھپ گیا ۔اسے صیاد سے اسلیے چھپایا جارہا تھا کیونکہ اسکی شکل آدم جیسی تھی۔” جاؤ انھیں محل کے اندر لے جاؤ ..” وہ ڈبےلے کر اندر کی جانب بڑھ گیا طلسم مڑ چکی تھی لیکن تب تک صیاد اسکے سر پر کھڑا تھا ۔جس کے سر پر بال نہیں تھے آنکھیں بڑی بڑی اور اکثر بے تاثر رہتی تھیں داڑھی نہیں تھی بس مونچھیں تھیں ۔وہ اس سے بدلہ ضرور لینا چاہتی تھی مگر اسے دیکھ کر سانس اٹک جاتی تھی ۔وہ ڈری سی اسے دیکھ رہی تھی جب اسنے شفقت سے ہاتھ اسکے سر پر رکھ کر اسے گلے سے لگایا وہ حیران رہ گئی اسے اپنے آپ سے جدا کر کے مسکرا کر کہا ” بہت افسوس ہوا تھا ہمیں ۔۔ہمیں سمجھ نہیں آرہی تھی بہت زیادہ دکھ ہوا تھا جب آپ ۔۔۔۔لوٹ کر آئی تھیں ۔اتنی کوشش کی آپکو مارنے کی ہربار کسی نہ کسی طریقے سے بچ جاتی ہیں لیکن اب زرا دھیان رکھیے گا ناجانے کو گھات لگائے بیٹھا ہو ۔” اسکے چہرے پر ہاتھ رکھے آہستہ آواز میں وہ ہر لفظ دبا دبا کر کہ رہا تھا وہ واپس جانے لگا تھا جب وہ پیچھے سے ہنسے ہوئے بولی

روشنی گر خدا کو ہو منظور ۔۔۔

تو آندھیوں میں بھی چراغ جلتے ہیں ۔۔

اور ویسے بھی کہا جاتا ہے اچھائی تب تک نہیں مرتی جب تک برائی زندہ ہے تو اگر آپ ابھی تک زندہ ہیں تو میں کیسے مر سکتی اور ہاں خیال رکھیے گا سچ میں کوئی کسی کی گھات نہ لگا کر بیٹھا ہو ۔ اسکا ردِعمل دیکھے بغیر ہی وہ اندر کی جانب چلی گئی تھی ۔وہ بس غصے سے اسے دیکھ سکتا تھا لیکن ایک سوچ کے تحت اسنے مسکرانا شروع کیا اور اندر چلا گیا ۔اندر وہ غلاموں کے ساتھ کسی کام میں لگا تھا ۔جب اسنے غصے سے اسے پکارا ” اسیر طلسم تم صرف میرے غلام ہو صرف ہمارا کام کرو گے اور کسی کا نہیں “

سب کےسامنے سر جھکائے یہ کہنا اسکی مجبوری تھی ” جو حکم شہزادی ! ” وہ چپ چاپ اسکے پیچھے چل دیا کمرے میں آنے کے بعد وہ ہاتھ باندھے ایک جگہ کھڑا ہوگیا ۔وہاں چند کنیزیں موجود تھیں جو طلسم کو چیزوں کو ترتیب دے رہی تھیں ۔اس نے انھیں بھیج دیا ۔انکے جانے کے بعد وہ بھاگ کر اسکے گلے لگی تھی ” صد شکر اسیر آپ ٹھیک ہیں ۔”

” میں نے وعدہ کیا تھا نہ سائے کی طرح تمہارے ساتھ رہوں گا لیکن مجھے یہ نہیں پتا تھا کہ سالوں پہلے لکھی گئی میری تقدیر جس سے میں نفرت کرتا رہا شرمندہ ہوتا رہا بھاگتا رہا وہ کیوں تھی ۔تمہیں مجھے کوئی الگ نہیں کرسکتا میں تمہارا تھا ہوں اور رہوں گا ۔ہمارا ساتھ ہمیشہ تھا آج تو بس اسے قبول کیا ہے ۔ہماری محبت کبھی کم نہیں ہوگی میری محبت تمہارے لیے ہے اور تمہاری صرف میرے لیے ” یہ ہمارا وعدہ ہے ” یہ ان دونوں نے ایک ساتھ کہا تھا لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ جب تین لوگوں کی ایک جتنی محبت بہک جائے تو کیا کیا رنگ چڑھتے ہیں کس قدر خوبصرت قصہ وجود میں آتا ہے اور انکی محبت کا وہ قصہ اس وقت شہر کے دورے پر نکلا تھا ۔جہاں وہ گھوڑے پر بیٹھا ہر طرف نظر دوڑاتا جارہا تھا وہ جہاں سے گزرتا لاکھوں زبانیں اسکے نام سے زندہ ہوجاتی لوگ اسکے مداح تھے اسکے پاؤں کو چھوتے اسے دعائیں دیتے جارہے تھے ۔جب اسکی نظر اس لوہار ہو پڑی جس کی زمین پر اسنے نیا تلوار بازی کا میدان بنایا تھا ۔گھوڑے سے اتر کر اسکے پاس آیا اسکے ہاتھ ہاتھوں میں لیکر کہا ” ہم آپکے بہت شکر گزار ہیں ابا نے ہمیں بتایا کہ آپ نے وہ زمیں ہمیں دے دی آپکے گھر والوں کی کفالت ٹھیک سے ہورہی ہے نہ ؟”اسنے ایک دکھی نظر سناش پر ڈالی اور پھر ساتھ کھڑے آصف پر جس نے اپنی تلوار ایک بار میان سے نکال کر دوبارہ اندر رکھ لی یعنی یہ اسکےلیے تنبیہ تھی ” جج۔۔جی شہزادے سب ٹھیک ہے راجہ بہت اچھے ہیں ” اسکی بات سن کر وہ آگے بڑھ گیا جب آصف نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تمہارا باپ خانے میں بلکل ٹھیک تب تک تمہاری زبان شہزادے کے سامنے بند ہے ۔”

تمام لوگ اپنے پیاروں کو لے کر غمزدہ اور خاموش تھے بس ایک آ س تھی کہ ایک دن آزادی مل جائے گی ۔

اسکے ساتھ دن کیسے گزر گیا تھا پتا بھی نہیں چلا تھاکہ شام کے اندھیرے ڈیرے ڈال کر بیٹھے تھے ۔سناش دورے سے واپس آگیا تھا اور اس وقت طلسم کے کمرے کے باہر کھڑا تھا ۔دروازہ بند تھا اسنے دروازے پر دستک دی ۔کچھ دیر بعد دروازہ کھل گیا ۔

“آئیے سناش کیا بات ہے ۔۔” دروازے کھولتے ہی وہ الٹے قدموں واپس جارہی تھی وہ بھی آگے بڑھتا جارہا تھا ” طلسم وہ مجھے آپ سے ” اسکی بات ابھی مکمل بھی نہیں تھی کہ طلسم کا پاؤں قالین میں اٹکا اور وہ لڑکھڑا کر بیڈ پر۔گر۔گئی اسے گرنے سے بچانے کے لیے سناش نے ہاتھ بڑھایا لیکن قدم لڑکھڑا جانے سے وہ بھی اسکے اوپر گر گیا ۔وہ دونوں اوپر نیچے ایک دوسرے کے قریب تھے انکے ہونٹوں میں آنکھوں میں بس انگلی کے تیسرے حصے جتنا فرق تھا ۔انکی سانسیں انکے چہروں پر محسوس ہو رہی تھیں کہ اچانک سناش گھبرا کر سیدھا ہوا اور کھڑا ہوگیا وہ بھی کھڑی ہوگئی تھی ۔” وہ ۔۔۔مم۔۔معذرت غلطی سے ہوگیا ۔”

” ہمیں پتا ہے سناش کسی کی غلطی نہیں آپ کہنے کیا آئے تھے ؟”

نن نہیں کچھ کہنے نہیں آیا تھا بس آپکو دیکھنے آیا تھا صبح ۔۔۔صبح بات کریں گے ۔۔۔” وہ شرمندہ سا گھبرایا ہوا وہاں سے چلا گیا ۔اسکے جانے کے بعد طلسم نے دروازہ بند کردیا اور پردا ہٹایا ” آ جائیں اسیر وہ چلا گیا ہے “

” یہ کیا ہوا ہے ابھی ابھی ؟ ” وہ دیکھ کر کچھ حیران ہوا تھا ۔

” آ اسیر وہ۔۔۔غلطی سے ہوا تھا کسی کی غلطی نہیں تھی میں گر گئی تھی اور سناش۔مجھے بچاتے ہوئے ۔۔”

” میں اسکی بات نہیں کر رہا اس میں تو کسی کی غلطی نہیں تھی لیکن وہ کس قدر گھبرا کر ڈرا ہوا سا گیا ہے ۔”

” وہ ایسا ہی ہے بچپن میں ہم ساتھ کھیلتے تھے مگر جیسے جیسے بڑے ہوتے گئے وہ مجھ سے دور ہوتا گیا وہ مجھے ہاتھ لگانے بھی کتراتا ہے ۔اور اگر کبھی غلطی سے بھی وہ مجھے چھو لے پکڑ لے تو ایسے ہی شرمندہ سا ہوجاتا ہے شرما جاتا ہے مجھ پر جب حملے ہوئے تھے سناش نے مجھے تیر سے بچانے کے لیے پکڑا تھا اسکے بعد تین دن تک میرے سامنے نہیں آیا تھا شرمندگی سے ۔”اور وہ مسکرا کر بند دروازے کو دیکھ رہا تھا جہاں سے ابھی ابھی سناش گیا تھا اور اسے سن رہا تھا ۔

” طلسم مجھے یاد ہے تم نے مجھے بتایا تھا کہ یہاں صرف عوام نہیں قدرت بھی سنا ش کی مداح ہے مجھے آج سمجھ آئی ہے کیوں وہ ہے ہی ایسا طلسم ” وہ اسکی جانب متوجہ ہو گیا جو حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی ” طلسم وہ جو کرتا ہےنہ شرمندگی یا شرم نہیں ہے وہ ادب ہے احترام ہے جو محبت کی پہلی سیڑھی ہے محبت کے کرینے وہ بہت اچھے سے نبھاتا ہے ۔”

” اسیر آپ میرے شوہر ہیں اور آپ اس محبت کی اتنی تعاریف کر رہے ہیں جو میرے لیے ہے ۔”

” تو طلسم محبت کسی رشتے کی محتاج نہیں ہے غلط ہے محبت کو کسی رشتے کے پیمانے میں رکھ کر ناپنا محبت لازوال ہوتی ہے اسکی کوئی حد نہیں ہوتی جلن حسد محبت سے کرنا بےواقوفی ہے ۔اور اگر محبت سناش جیسی ہو تو تعاریف کوئی کیوں نہ کرے میں دل سے سناش کی تمہارے لیے محبت کا احترام کرتا ہوں اتنی پاکیزہ میں تمہیں سچ بتاؤ مجھے جب تم سے محبت ہوئی تھی تو میں سوچتا تھا جب تم میرے پاس ہو گی میرے قریب ہوگی تو یہ کروں گا یہ بتاؤ گا یہاں سے شروع کروں گا مگر یہ شخص ۔۔۔اسنے دروازے کی طرف انگلی اٹھا کر کہا ” یہ شخص تم سے صرف عشق کرتا ہے اس سے آگے کچھ نہیں سوچتا کچھ بھی نہیں اسکے لیے تم صرف محبت ہو اس سے آگے وہ سوچنا ہی نہیں چاہتا طلسم ! اگر کبھی تمہیں لگے کے سناش کی محبت میری محبت سے زیادہ خوبصورت ہے تو مجھے بتا دینا میں تمہیں ہر قید ہر ڈور سے آزاد کردوں گا ۔”

” اسیر آپ یہ کیوں کہتے ہیں کیا آپکو مجھ پر یقین نہیں ؟”

” خود سے زیادہ یقین ہے تم پر مگر مجھے لگتا ہے کہیں نہ کہیں میری محبت سناش کی محبت کے آگے چھوٹی پڑ جائے گی ۔یہ بات میں تمہیں نہیں بتاتا خود کو بتاتا ہوں کہ اگر کبھی ایسا ہوا تو میرا یہ ردِ عمل یہ ہونا چاہیے میں بس ڈرتا ہوں اس وقت سے ۔۔”

” تو اسیر آپکو ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے میرے دل نے صرف آپ سے محبت کرنا سیکھا ہے اور اب وہ کسی سے نہیں کرے گا سناش سے بھی نہیں ۔” اسے تسلی دے کر وہ اسکے سینے میں چھپ گئی تھی ۔لیکن یہ تو وقت نے ہی بتانا تھا کہ سناش کی محبت نے اسکے دل کو کتنا مجبور کرنا تھا یا کتنا بہکانا تھا۔

صیاد اپنے کمرے میں ٹہل رہا تھا جب چند سپاہی اور آصف دروازے پر کھڑے ہوگئے ۔” سلام راجہ ..”

” بتاؤ آصف کیا خبر ہے ؟”……” راجہ تصدیق کروا لی گئی ہے شہزادی جھوٹ بول رہی ہیں دریا پار تین کوس تک کوئی لکڑہارا نہیں رہتا بلکہ وہاں تو لوگوں کا آنا جانا بھی بہت کم اور کال جنگل تو جاتا ہی نہیں ہے کوئی “

ٹھیک ہے تم جاؤ ۔۔۔۔سپاہی چلے گئے تھے ” تو طلسم سچ۔میں جھوٹ بول رہی ہے اگر یہ جھوٹ ہے تو اتنا وقت یہ رہی کہاں یہ بھی نہیں سکتے کے کوئی بہروپیا ہے جھوٹ ہوتا تو روباش تمہارے پاس نہ ہوتا ہو تو تم طلسم ہی ہوں مگر تم تھی کہاں ؟ اچانک اسکے کان میں ایک آواز گونجی ” اور خیال رکھیے گا ہوسکتا ہے کوئی سچ میں گھات لگا کر بیٹھا ہو “اور پھر اس کا نام لیا جانا جس طرح آدم لیتا تھا یہ ۔۔یہ میرا وہم نہیں ہوسکتا ۔”

سناش اس حادثے سے شرمندہ سا اپنے کمرے میں آگیا تھا وہ اس قدر شرمسار ہوگیا تھا کہ لال ہوگیا تھا اسکی ہمت بھی نہیں ہورہی تھی کہ دوبارہ اسکے کمرے میں جانے کی ہمت بھی نہیں ہورہی تھی اپنی عادت پوری کرنے بھی نہیں اور بستر پر لیٹ گیا بازو آنکھوں پر رکھے اسنے آنکھیں بند کرلیں لیکن بار بار وہی منظر اسکے سامنے آرہا تھا ۔پھر اکتا کر بیٹھ گیا” طلسم ہم تو آپکو چھونے سے بھی ڈرتے ہیں تو آپکو اپنی محبت کا احساس کیسے دلائیں گے ” وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا

رات کی سرسراہٹ ٹھنڈی ہوا ہر کسی کو چھو کر گزر رہی تھی ۔تارے سب کے حالات سے واقف تھے کہ اسیر اور طلسم ایکساتھ تھے ایک دوسرے کی باہوں میں ہر آنے والی مصیبت اورمشکل کو پسِ پشت ڈال کر سکون سے محبت کی گفتگو میں مصروف تھے۔سناش اپنے کمرے میں سر پکڑ کر بیٹھا تھا پہلے تھا وہ شرمندہ سا ہوگیا تھا لیکن آہستہ آہستہ وہ منظر اسے خوبصورت لگنے لگا تھا اسے سرور دینے لگا تھا اسلیے اسنے سکون سے آنکھیں بند کرلیں اور بار بار اس منظر کو دیکھنے لگا ۔صیاد ابھی بھی اس سوچ میں گم تھا کہ طلسم کہاں تھی اور وہ اس وقت کیا کررہی ہے پہلے سے زیادہ مطمئین ہوگی ہے کہیں اسکے ہاتھ میرے خلاف کچھ مل تو نہیں گیا کیا برسوں پورانا راز اسکے ہاتھ تو نہیں لگ گیا کہیں اسے پتا تو نہیں چل گیا زولفشان کو میں نے مارا تھا شہوار اور آدم کو میں نے۔۔۔۔۔نہیں ایسا نہیں ہوسکتا زولفشان کو تو اسے پتا ہے لیکن آدم اور شہوار کو کیا ہوا تھا وہ کوئی نہیں جانتا اسکے تو گواہ بھی نہیں تھے ۔کہیں آدم ۔۔آدم لوٹ کر نہیں وہ کیسے آسکتا ہے وہ تو اس رات ۔۔۔۔۔خیالات سوالات سوچیں بہت تھیں لیکن کوئی کڑی جُڑ نہیں رہی تھی شہر سحر کی ہوا بھی پر اسرار طریقے سے اسے چھو رہی تھی کیونکہ وہی تو تھی جو گواہ تھی کہ حقیقت میں اس رات شہوار اور آدم کے ساتھ ہوا کیا تھا ۔غفران کھڑکی میں کھڑا چاند کو دیکھ رہا تھا اسکا کوئی خاص کام تھا نہیں لیکن وہ پھر بھی ہر وقت اپنے بھائی اپنے بھتیجے کی سوچ میں لگا رہتا ہر ممکن اسکی مدد کرتا تھا ۔شمس اپنے کمرے میں ایک بہت بڑا بوجھ اتار کر سو گیا تھا اب اسے کسی چیز کی فکر نہیں تھی کیونکہ اب وہ سچ اور سہی کا ساتھ دے رہا تھا ۔تمام قیدی عوام اپنے پیاروں کو ہر رات کی طرح رو رہے تھے ۔لیکن یہ کالی رات انکے لیے کٹ ہی نہیں رہی تھی ۔

اگلی صبح اسیر کیا کام میں لگا ہوا تھا کل سفیر آنے تھے اسلیے سناش کے کہنے پر وہ بھی طلسم کے کاموں کے علاؤہ محل کے کاموں میں لگا تھا طلسم اسے کوئی کام کہتی ہی نہیں تھی ۔وہ دیوار میں کیل ٹھوک رہا تھا جب غلطی سے اسکے ہاتھ میں ہتھوڑا لگ گیا اور ناخن ٹوٹ گیا جس میں سے خون نکل رہا تھا اسنے درد کی وجہ سے ہاتھ زور سے جھٹکا ۔” اسیر تمہیں شہزادی طلسم بلا رہی ہیں انھیں کچھ کام ہے تم سے ۔۔” ہمغلام اسے بلانے آیا تھا ۔وہ وہاں سے نیچے اتر کر چلا گیا تھا لیکن۔ اس بات سے انجان کے اسکے ہاتھ جھٹکنے سے خون کی بوندیں پلر اور زمین پر گر گئی تھیں ۔”آئے اسیر مجھے آپ سے پوچھنا تھا کہ ۔۔۔۔۔۔آپ نے صبح سے کچھ کھایا بھی ہے یا صبح سے ایسے ہی کام میں لگے ہیں ۔” یہ کہتے اسنے ایک لڈو اسکے منہ میں گھُسا دیا اسنے اسے باہر نکالنے کے لیے ہاتھ اٹھایا تھا جب طلسم کی نظر اسکے ہاتھ سے نکلتے خون پر پڑی ۔” اسیر آپ کے ہاتھ پر کیا ہوا ہے ؟” اسنے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ۔ میں لیا اور بستر پر بیٹھ گئی ۔” ہتھوڑا لگ گیا تھا تو انگلی پر چھوٹ لگ گئی زیادہ نہیں ہے تم پریشان ہوں ۔” لیکن اسکی انگلی پر لگے خون اور چوٹ کو دیکھ کر اسکے آنسو نکل آئے تھے ۔” کتنا درد ہورہا ہوگا ۔اسیر آپکو پتا ہے شہرِ سحر کے لوگ صرف جادو نہیں جانتے وہ ایک دوسرے کا درد بانٹنا بھی جانتے ہے درد لینا بھی جانتے ہیں ۔” یہ کہتے کہتے اسنے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ پر پھیرا تھا اور وہ چوٹ اسیر سے طلسم کے ہاتھ پر آگئی تھی لیکن یہ بات اسیر کو نہیں پتا تھی ۔” ارے یہ کیا۔۔۔۔۔چوٹ کہاں گئی ؟”

” اسیر میں جادو گر ہوں میں نے ٹھیک کردی ۔۔”اسنے مسکرا کر اسے گلے لگایا ۔ پھر اچانک طلسم کو کچھ یاد آیا ” اسیر آپکا خون کہیں گرا تو نہیں تھا ؟”

” جہاں کام کررہا تھا وہاں جب چوٹ لگی تھی تو ہاتھ جھٹکا تھا شاید کچھ بوندیں پلر اور زمین پر گری تھیں “

کیا! کک۔۔۔کہاں کام کررہے تھے آپ ؟” ۔۔۔ ” تمہارے کمرے سے بائیں طرف جو کتب خانہ ہے اسکے سامنے پلر پر ۔۔” اسکی بات سنتے ہی وہ باہر کی جانب بھاگی تھی ۔” طلسم کیا ہوا ہے روکو ۔۔! وہ بھی اسکے پیچھے گیا تھا لیکن سامنے سے سناش آرہا تھا تو اسے چھپنا پڑا وہ بھی سناش سے ٹکرا گئی ۔” ارے طلسم کیا ہوا ہے آپ اتنی جلدی میں کہاں جارہی ہیں ؟ سناش بعد میں بات کرتے ہیں مجھے ایک ضروری کام ہے میں آتی ہوں اسنے ہاتھ کے اشارے سے بتایا تھا ۔” طلسم اپکے ہاتھ پر چوٹ کیسے لگی ؟سناش کو اسکی انگلی سے نکلتا خون دکھ گیا تھا ۔”سناش میں نے کہا ہے ہم بعد میں بات کرتے ہیں وہ آگے بڑھ گئی تھی جب لڑکھڑا گئی سناش نے اسکا ہاتھ تھام کر اسے سنبھالا تھا ۔” طلسم دھیان سے ۔۔” لیکن وہ بنا سنے چلی گئی تھی لیکن جب تک وہ وہاں پہنچی صیاد پہنچ چکا تھا اور اسکی انگلی کے پور پر وہ خون تھا جسے وہ سونگھ رہا تھا ۔” آدم کے خون کی خوشبو !” اسی بات کا تو ڈر تھا کہ کہیں صیاد اسیر کے خون کی خوشبو پہچان نہ لے کیونکہ ادم کے خون کو وہ بہت اچھے سے پہچانتا تھا ۔وہ بھاگ کر اسکے پاس آئی ” چچ۔۔چچا یہ میراخون گرا ہے یہاں یہ دیکھے چوٹ لگ گئی تھی ۔” اسنے اپنا ہاتھ اسکے سامنے کیا جو اسے بہت غور سے دیکھ رہا تھا ۔” لیکن طلسم تمہارے ہاتھ پر تو کچھ نہیں ہوا تو خون کیسے نکلا ” اسکی بات سن کر اسنے اپنے ہاتھ پر دیکھا وہاں واقعی کوئی چوٹ نہیں تھی اسنے اپنے دونوں ہاتھ دیکھے ۔” انکا خون تو تب ہوگا نہ ابا جب انھیں چوٹ لگی ہوگی چوٹ تو میرے ہاتھ پر لگی ہے ۔” سناش کا ہاتھ بھی صیاد کے سامنے تھا جس کی انگلی میں سے خون کل رہا تھا طلسم نے اسے حیرت سے دیکھا جو مسکرا کر صیاد کو دیکھ رہا تھا اسے اپنی جانب دیکھتا محسوس کر کے وہ مسکرا کر گردن جھکاگیا ۔اتے ہوئے جب طلسم لڑکھڑائی تھی اسنے اسے سنبھالا تھا تبھی اسنے اسکے درد کو اپنا بنالیا تھا ۔کون کس کی تکلیف برداشت کر رہا تھا کون کسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا کون کس کا درد سہ رہا تھا کوئی نہیں جانتا تھا ایک تکلیف مثلث کے پہلے کونے سے شروع ہوکر تیسرے تک خودبخود پہنچ گئی ۔ ” سناش تمہارے ہاتھ پر چوٹ کیسے لگے ؟”

“ ابا ایسے ہی کچھ کام کر رہا تھا تو چوٹ لگ گئی ہاتھ جھٹکا تو خون گر گیا ۔”

“ دھیان سے کیا کرو سناش ۔” یہ کہ کر وہ وہاں سے چلا گیا ۔” ایسے کیسے ہوسکتا ہے وہ خون سناش کا کیسے ہو سکتا ہے میں غلطی نہیں کرسکتا وہ آدم کا خون ہی تھا مگر ایسے کیسے ہوسکتا وہ واپس نہیں آسکتا یہ اچانک مجھے ایسے کیوں محسوس ہورہا ہے جیسے سب ختم ہونے والا ہے ۔”

“ سناش آپ نے ایسا کیوں کیا ؟” ۔۔۔” یہ آپ پوچھ رہی ہیں طلسم کیا آپ بھول گئیں ہم صرف جادو نہیں درد بانٹنا بھی جانتے ہیں اور آپ مجھے یہ بتائیے آپکے چوٹ کیسے لگی تھی اور آپ ابا کو یہ بتانے کیوں آئی تھیں ؟