334.6K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shehr-e-Sahar Episode 4

Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam

کیا ہوا ہے سحر آج تو اتنی اپ سیٹ کیوں ہے ؟” ۔۔

” کام سے فارغ ہوکر حِنا سے ملنے آئی تھی وہ دونوں کیفے میں بیٹھی تھیں اور سحر کا موڈ کافی خراب تھا ۔

” یار میرے ساتھ مشکلات ایسے جُڑی ہیں جیسے نومولود بچے کے ساتھ امبیلیکل کورڈ ۔۔۔۔۔۔”

“ہاہاہا آج تجھے کیا ہوا ہے ایسی مثالیں کیوں دے رہی ہے ؟…”

” تو اور کیا کہوں تنگ آگئی ہوں میں ان حالات سے روز کوئی نہ کوئی مسئلہ گاؤں سے آنے کے بعد رہائیش کا مسئلہ پھر جاب کا مسئلہ کرایے کا مسئلہ اور اب یہ افلاطون پتا نہیں کہاں سے پیچھے پڑ گیا ہے .”

” کون؟ کس کی بات کر رہی ہے ؟..” اسنے ابھی تک اسے اے۔ایس کے بارے میں نہیں بتایا تھا کیونکہ وہ خود نہیں جانتی تھی وہ کون ہے ۔۔

” بس ہے کوئی تو بتا انکل نے میرا مطلب سر کچھ کہا تجھ سے میرے بارے میں۔۔۔” اسنے صبح والی بات یاد کرتے وہ پوچھا ۔

” ہاں بتا رہے تھے تمہاری دوست آج فسٹ ڈے لیٹ تھی کافی زیادہ ۔۔۔۔”

” یار یہ پاکستان کی لوکل بسیں تجھے پتا تو ہے کبھی وقت پر اتی نہیں اوپر سے اتنے نلے ڈرائیور ۔ ۔۔ “

” تجھے یاد کے دو ماہ پہلے تونے اور میں نے ویسپا چلانا سیکھا تھا ۔ “

” ہاں کیوں کیا ہوا ؟۔۔”

” دیکھ میں نے تو نئی گاڑی لے لی ہے وہ فالتو کھڑا ہے تو لےلے اور جب تو اپنا انتظام کر لے گی مجھے واپس کر دینا ایسے تمہارا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اور وہ بھی چلتی رہے گی ۔۔۔

” تیرے پاپا کو کوئی مسئلہ تو نہیں ہوگا؟ “۔۔۔۔۔۔

” پاپا کیوں غصہ کرے گے وہ میرا ہے اور انھیں تو یاد بھی نہیں میں انھیں بتا دوں گی ۔افٹرآل تو ان کی امپلوئے بھی ہے ۔۔۔۔”

” چل ٹھیک ہے تیرا کون کون سا سا احسان چُکاو گی میں ۔۔۔۔”

” بکواس نہ کر اٹھ گھر چلتے ہیں ۔۔۔۔” وہ وہاں سے گھر لیے چل دی ۔

بس کے ذریعے وہ زاہد ویلا آیا جہاں علی اسی کا انتظار کر رہا تھا ۔

” اے ۔ایس تو نے مجھے فون کر کے گاڑی لے آنے کو کیوں کہا اور تو خود کدھر چلا گیا تھا ؟”

” کسی کو سبق سکھانے گیا تھا سِکھا دیا ۔۔۔۔۔”

” کِسے کس سے پنگا لے کر آیا ہے ؟”

” وہی کل والی لڑکی جسکی وجہ سے امریکہ والا کنٹریکٹ گیا ہاتھ سے آج اسکا جاب کا فسٹ ڈے تھا میں نے لیٹ کروا دیا اور تجھے پتا کس کے آفس میں کام کرتی ہے ۔۔۔۔”

” کس کے ؟…”

” نعیم چاچو کے اور تجھے تو پتا ہے وہ کتنے وقت کے پابند ہیں تجھے تو پتا ہونا چاہیے تو نے بھی تو وقت پر ان کے گھر بارات لے کر جانا ہے ۔۔۔۔”اسنے چائے کا سِپ لیتے ہوئے کہا ۔

“ہم انکل ہے تو وقت کے معاملے میں غصے والے پتا نہیں کیا بنا ہوگا اسکا ۔اچھا تو واپس کیسے آیا ہے ؟..”

” بس سے ۔۔۔۔۔” رسانی سے دیا گیا ۔

” کیا تو اس لڑکی کے لے بسوں میں دھکے کھا کر آیا ہے ۔۔۔۔”

” ارے دھکے نہیں کھانے سکون سے آیا ہوں اسکی ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ۔۔۔۔” اسنے چور نظروں سے علی کو دیکھا جیسے اسکی اپنی چوری پکڑی گئی ہو ۔۔۔۔۔

” سیریسلی !!!اے ۔ایس تو نے یہ کیا ۔”

” اچھا چل چھوڑ تیری اور حنا کی منگنی کب ہے ؟..”

” اگلے ماہ کی کوئی ڈیٹ فکس کرنی ہے ..”

” دیکھ اب بھی وقت ہے سوچ لے حنا نعیم چاچو کی بیٹی ہے اور چاچو تو ۔۔۔۔۔” اسکی بات ابھی ادھوری تھی ۔

” اچھا بس کر پہلے ہی دماغ کھا گئی ہے ہماری منگنی میں آئمہ بیگ کو بلاؤ کہاں سے بلاؤں بھی ۔۔۔۔۔۔”

” ہاہاہاہاہاہاہاہاہا تو تو گیا علی پھر شادی پر تو ارجیت سنگھ مانگے گی ۔۔۔۔۔”

وہ دونوں ہی کھلکھلا ک ہنس پڑے ۔۔۔

……………….

دن گزرنے لگے تھے مگر عشق اتنا وقفہ کہاں دیتا ہے یہ تو سہی وقت کا انتظار کر تا اور سہی وقت پر تیر کمان سے چھوڑتا ہے جو اپنے نشانے تک کا لہو نچوڑ دیتا ہے پہلے ایک ٹھنڈی پھوار بنتا ہے پھر بدن جھلسانے والا لاوا کبھی دھوپ میں سایہ تو کبھی ٹھنڈی چھاؤں میں بھی چبھنے لگتا ہے ۔۔۔۔۔کبھی برستی بوندوں کا ساز ہوتا ہے تو کبھی صحرا میں مدد کی آخری گونج ۔۔۔۔کبھی تخت نشین بادشاہ کی طرح مہربان تو کبھی تختہ دار کے جلاد سے بھی کٹھور ۔۔۔۔۔۔۔۔کبھی روپ رنگ کی سجاوٹ کا ہر رنگ تو کبھی ظلم وحشت کی سیاہی بن جاتا ہے یہ سب تیاری ان دونوں کے لیے کی جارہی تھی ۔عشق کی لازوال داستان شروع ہونے والی تھی بیڑیوں کے قفل بند ہونے والے ہیں جس کی چابی شہرِ سحر کے صیاد کے ہاتھ میں ہونی تھی ۔۔۔ جس بیڑی کا دوسرا سرا سناش کے پیروں میں تھا طلسم تو ہر ڈور توڑ کر جاچکی تھی ۔شہرِسحر میں محبت کی سب سے خوبصورت منفرد ممتاز اور وحشی مثلث بنے والی تھی ۔خون جان مال اولاد کے خطرناک کھیل کھیلے جانے والے تھے ۔اس مثلث کے ہر ایک کونے پر کھڑے شخص کا دوسرے سے فاصلہ ایک جتنا ہوگا اور اس فاصلے میں کھڑے ہوں گے صیاد غفران آدم اور زولفشان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اس وقت کسی شاپنگ مال میں کھڑی تھی ۔اگلے ہفتے حنا کی منگنی تھی اسکے لیے اسے ڈریس لینی تھی ۔جب اسے اپنے عقب سے آواز آئی ۔۔۔

” ہاں علی میں پہنچ گیا ہوں تو کہاں ہے ؟….” اے ۔ایس اسکے پیچھے کھڑا تھا ۔

” میں سکنڈ فلور پر ہوں آجا وقت لگ جانا ہے کافی ۔۔۔۔۔”

” چل ٹھیک ہے میں آرہا ہوں۔۔۔۔۔” وہ فون بند کرتا لفٹ میں گُھس گیا ۔۔

وہ اس سے بچتی بچاتی باہر نکل آئی جب اسکی نظر سامنے پڑی وہ بلیک جیٹ کی کار وہ کیسے بھوک سکتی ہے ۔۔۔

” یہ تو اس ساون کے اندھے کی گاڑی ہے اچھا بیٹا میرا فسٹ ڈے خراب کیا تھا اب تو دیکھ میں کیا کرتی ہوں ۔۔۔” اسنے دل ہی دل میں سوچا اور اپنا کام کرنے کے بعد اندر اسے اس کام میں پونا گھنٹہ لگا تھا شکر وہ باہر نہیں آیا لیکن جب وہ اندر آئی وہ اسے سامنے سے آتا دِکھ گیا اسنے گزرتے ہوئے چند سو کے نوٹ اسکے سر سے وار کر پھینک دیے ۔۔۔۔وہ حیرت سے منہ کھولے اسے دیکھ رہا تھا پھر نظر انداز کر کے آگے بڑھ گیا ۔اے ۔ایس مال سے جب باہر آیا تو اسکے ہاتھ میں پکڑے شاپنگ بیگ نیچے کر گئے سامنے کا منظر دیکھ اسکے تو حواس گُم ہوگئے ۔۔اسکی گاڑی کے چاروں ٹائرز غائب تھے ۔

علی بھی اسکے پیچھے پیچھے باہر آگیا وہ بھی حیران رہ گیا ۔۔۔

” اے ۔۔۔ایس ٹائرز کہاں گئے ؟….”

گاڑی چھوڑ کر جو تم جاؤ گے ۔۔۔۔۔

بڑا پچھتاؤ گے۔۔۔۔۔بڑا پچھتاؤ گے ۔۔۔۔۔۔

سنیاں سنیاں گلیاں وچ تو ٹھوک نہ لویں ۔۔۔۔۔۔۔۔

پنگے میرے نال فیر نہ لویں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” سحر کو ستاو گے بڑا پچھتاؤ۔۔۔۔۔۔۔

” لالاالالا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

علی نے ابھی پوچھا ہی تھا جب وہ گاتی باہر آئی ۔۔۔۔۔۔

” ارے یہ آپ کی گاڑی تھی مجھے لگا اسکا کوئی والی وارث نہیں تو میرے ڈریس کے پیسے کم پڑ رہے تھے میں نے اس کے ٹائرز بیچ دیے ۔پانچ ہزار ڈریس میں لگ گئے ایک ہزار کا آپکے کے دوست کا صدقہ دے دیا اور یہ دو ہزار اسنے ہزار ہزار کے دو نوٹ علی تھما دیے جو حیرت سے اتنی بے خوف لڑکی دیکھ رہا تھا ۔

” اے ۔ایس اسنے ساٹھ لاکھ کی گاڑی کے ٹائرز آٹھ ہزار میں بیچ دیے۔۔۔” مگر اے۔۔ایس کسی بھی سن نہیں رہا تھا ۔

” کیا نام لیا تم نے اسکا اے ۔۔۔ایس ۔ہاہاہا انگلش کے چھبیس حروف میں سے صرف دو حروف ہی ملے تھے نام رکھنے کے لیے وہ بھی ناترتیب اے۔ایس نہیں اے ۔بی ہوتا۔۔۔

“چھی۔۔۔۔۔۔علی نے حیرت سے کہا ۔۔۔

” اوئے چھی نہیں سی ہوتا ہے اس لیے کہتی ہوں سکول میں دوبارہ ایڈمیشن کے لو او انگلش ہی نہیں آتی تو ایڈمیشن کا پتہ کیسے ہوگا داخلہ ۔۔۔داخلہ کہتے ہیں اسے ۔۔۔۔۔

“اے ۔ایس تو اسے کچھ کہ کیوں نہیں رہا ۔۔۔۔” وہ تو اب تک اس گاڑی کو دیکھ رہا تھا جو ایک ماہ پہلے شوروم نکلی تھی جس کے ٹائرز آٹھ ہزار میں بیچ دیے گئے تھے ۔۔۔

” سنبھالو اپنے اے ۔ایس ٹی یو وی کو اسکی سٹی گُم ہوگئی ہے ۔۔۔۔” یہ کہ ک اسنے شوٹ مارنے کی ۔۔۔

” اے ۔ایس تو چپ کیوں ہے تو ٹھیک ہے؟ ۔۔۔علی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا اسے کے ساتھ اے ایس نے بھاگنا شروع کیا راستے میں کسی کی سائیکل چھینی اور اسکے پیچھے لگا لی ۔اسکے ویسپا کی سپیڈ کو اسنے سائیکل کی ڈبل سپیڈ سے کور کیا تھا ۔اور اسے سامنے جاکر کھڑا ہوگیا ۔۔۔۔

یکدم بریک لگنے کی وجہ سے وہ گِرتے گِرتے بچی ۔۔اسنے بلیو چیک شرٹ پہنے اس شخص کو دیکھا جو اسے مسکرا کر دیکھ رہا تھا ۔اے ۔ایس نے ایک نظر اپنے گردوپیش کا جائزہ لیا وہ کوئی رہائشی علاقہ تھا جہاں لوگ آجا رہے تھے ۔اسنے سحر کو دیکھ کر معصوم سے منہ بنا کر کہا ۔۔۔

” نہیں بیگم تم ایسا نہیں کرسکتی تمہاری طبعیت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔۔” وہ با بلند آواز میں کہ رہا تھا اور سحر کا منہ کھلا رہ گیا ۔۔۔” بیگم “

” ہاں بیگم مجھے پتا ہے ایسی حالت میں بہت سارے عجیب کام کرنے کا دل کرتا ہے لیکن ویسپا نہیں یہ بہت خطرناک ہوگا ۔۔۔۔” وہ آنے جانے والے لوگوں کو سُنا سُنا کر کہ رہا تھا ۔

” اوے تمہارا دماغ تو خراب ہوگیا کیا بکواس کر رہے ہو ۔۔۔۔۔”

” دیکھو بیگم تم چاہے غصہ کرو یا ڈانٹو میں تمہں یہ چلانے نہیں دوں گا میں خود۔ چلاؤ گا ۔۔۔۔”کیا ہوا بیٹا کوئی مسئلہ ہے ۔ایک ضعیف راہگیر نے رُک کے پوچھا ۔

” دیکھیں نہ انکل جھگڑے کن گھروں میں نہیں ہوتے گھر تھوڑی نہ چھوڑ دیتے ہیں وہ بھی اس حالت میں ۔۔۔۔۔۔”اسنے معصوم سا منہ بنا کر کہا ۔

” انکل میں اِسے نہیں جانتی ؟۔۔۔۔..”

” دیکھا انکل اتنے غصے میں ہے کہ مجھے پہچاننے سے بھی انکار کر رہی ہے اوپر سے دوائی بھی نہیں لی اسنے ۔۔۔۔۔”

” دوائی کس چیز کی دوائی بیٹا ۔۔۔۔”

” انکل دماغ کی اسکو دورے پڑتے ہیں ڈاکٹر نے کہا تھا اسکا خیال رکھنا میں تھوڑی دیر گھر سے کیا نکلا یہ دیکھیں یہ سکوٹر لے کر اکیلی باہر آگئی اب اسکو پھر دورہ پڑا ہے سب بھول گئی اب یہ کہے گی اسکی اور میری شادی بھی نہیں ہوئی ۔۔۔۔” اسنے مصنوعی روتے ہوئے کہا ۔۔

” ہاں تو نہیں ہوئی اسکی اور میری شادی اللہ قسم انکل میں نہیں جانتی اسے ۔۔۔۔۔۔”وہ حیران تھی اسکو پلان نازل ہوتے ہیں

” ہائے ربا دیکھا انکل سب بھول گئی ہے اوپر سے کہ رہی ہے مجھے یہ سکوٹر چلانا ہے انکل یہ تو بیمار ہے کسی کو اڑا دیا تو پر میری سن ہی نہیں رہی ۔۔۔۔۔۔” مگرمچھ کے آنسو بہے جارہے تھے ۔

” انکل یہ جھوٹ بول رہا ہے مجھ سے بدلہ لے رہا ہے میں نے اسکی گاڑی کے ٹائرز بیچ دیے اسلیے کر رہا ہے یہ سب ۔۔۔۔۔”

” ہاں انکل سہی کر رہی اتنی حالت خراب ہوگئی ہے پہلے ٹائرز بیچے پھر پوری گاڑی بیچ دی اپنا آپ ۔۔۔انکل اپنا آپ گروی رکھ کر میں نے یہ سکوٹر لیا ہے اب یہ اس کے پیچھے پڑ گئی ہے ۔۔۔۔۔۔” اس کی مظلومیت دیکھ کر وہاں اور بھی لوگ اکٹھے ہوگئے تھے ۔

” انکل آپ ۔۔اپ بڑے ہیں نہ ہمارے بڑے ہیں نہ آپ اسے کہے نہ غصہ نہ کرے گھر جا کر دوائی لے لے ۔” وہ اس بزرگ کا ہاتھ پکڑے معصومیت سے کہ رہا تھا ۔

” ہاں ۔۔ہاں بیٹا میں سمجھتا ہو اسے تم فکر نہ کرو ۔۔۔۔۔۔۔” وہ بزرگ اسکے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتا ہوا کہ رہ تھا ۔

” دیکھو بیٹا تم بلکل ٹھیک ہو جاؤ گی اتنا پیار کرنے والا شوہر ہے اتنا خیال رکھتا ہے تم انشاللہ ٹھیک ہو جاؤ گی ۔۔” کوئی عورت سحر کا بازو پکڑے اسے پیار سے سمجھا رہی تھی ۔

” آنٹی میں اب بھی ٹھیک ہوں یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے بدلہ لے رہا مجھے سے ۔۔۔۔” مگر تب تک اے ۔ایس ویسپا پر چڑ ھ کر بیٹھ چکا تھا ۔

” ارے اُترو میرا ہے یہ ۔۔۔۔” وہ اسے نیچے کھینچ رہی تھی ۔

” ہاں بیگم تمہارا ہی ہے میں بھی یہ ہمارا گھر بھی چلو چلتے ہیں ۔۔۔”وہ بڑی محبت پاش نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔

” بیٹا تو جا اپنے شوہر کے ساتھ جا وہ چلا لے گا ۔۔۔۔”لوگوں نے اسے زبردستی اسکے پیچھے بیٹھا دیا وہ نہ نہ کرتی رہ گئی ۔اسنے بیٹھ کر اے ۔ایس کے کندھے پر ہاتھ رکھا جس سے ایک مدھم اور خوبصورت سی مسکراہٹ بے ساختہ اسکے چہرے پر آئی تھی ۔

” آپ سب کا بہت بہت شکریہ !!!..” یہ کہتا وہ اسے لیکر نکل گیا اور سیدھا مکینک کی دوکان پر لے آیا ۔۔۔

” مکینک اس سکوٹر کا انجن ٹائرز ایک ایک پُرزا ا ثالم نہیں بچنا چاہے سارا کھول دو ۔۔۔۔۔”

“نہیں ایسا نہیں کرنا یہ اسکا نہیں میرا ہے ۔۔۔۔۔۔”

مگر اے ۔ایس مکینک کو پیسے دےچکا تھا اور اسنے اپنا کام شروع کردیا ۔وہ وہیں سر پکڑ کر بیٹھ گئی جب اسکا فون بجنے لگا ۔۔۔” حِنا کی کال تھی وہ اٹھانا نہیں چاہتی تھی مگر اے ۔ایس نے کال پِک کرلی ۔۔

” ہیلو !!.ہیلو!! سحر تو کدھر ہے ۔۔۔۔۔۔”

” حنا تیرے ویسپا کا پوسٹ مارٹم ہوگیا ۔۔۔۔۔”

” کیا ۔۔۔کیا تیرا ایکسیڈنٹ ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

اسنے اکتا کر فون بند کردیا ۔

” کیا نام لیا اسنے تمہارا سحر یار ۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔۔حروفِ تہجی کے اڑتیس حروف میں سے صرف تین حروف ملے تھے نام رکھنے کے لیے وہ بھی بغیر کسی نقطے کے کوئی چلو نقطلہ لگاتے ہیں سحر نہیں زہر ہے ہاں یہ ٹھیک ہے زہر ہاں تو مس زہر اب مجھ سے دوبارہ پنگا نہ لینا ۔۔۔۔” وہ حیرت سے سر پکڑے اپنے سکوٹر کو دیکھ رہی تھی جو پرُزہ پُرزہ ہوگیا تھا ۔

” اے ۔ایس نے آسمان کے طرف دیکھ کر کہا ۔۔۔

” یار مقابل تو معیار دیکھ کر بھیجا کرو یہ چھپکلی ہاتھ مار کر دیوار پر ہی مار دینی ہے میں نے ۔۔۔۔۔.”

مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ چھپکلی جونک بن کر اسکی سانوں سے لپٹنے والی تھی ۔۔۔۔۔۔ناول # شہرِ سحر

از قلم #بنتِ اسلم

قسط نمبر 4……

کیا ہوا ہے سحر آج تو اتنی اپ سیٹ کیوں ہے ؟” ۔۔

” کام سے فارغ ہوکر حِنا سے ملنے آئی تھی وہ دونوں کیفے میں بیٹھی تھیں اور سحر کا موڈ کافی خراب تھا ۔

” یار میرے ساتھ مشکلات ایسے جُڑی ہیں جیسے نومولود بچے کے ساتھ امبیلیکل کورڈ ۔۔۔۔۔۔”

“ہاہاہا آج تجھے کیا ہوا ہے ایسی مثالیں کیوں دے رہی ہے ؟…”

” تو اور کیا کہوں تنگ آگئی ہوں میں ان حالات سے روز کوئی نہ کوئی مسئلہ گاؤں سے آنے کے بعد رہائیش کا مسئلہ پھر جاب کا مسئلہ کرایے کا مسئلہ اور اب یہ افلاطون پتا نہیں کہاں سے پیچھے پڑ گیا ہے .”

” کون؟ کس کی بات کر رہی ہے ؟..” اسنے ابھی تک اسے اے۔ایس کے بارے میں نہیں بتایا تھا کیونکہ وہ خود نہیں جانتی تھی وہ کون ہے ۔۔

” بس ہے کوئی تو بتا انکل نے میرا مطلب سر کچھ کہا تجھ سے میرے بارے میں۔۔۔” اسنے صبح والی بات یاد کرتے وہ پوچھا ۔

” ہاں بتا رہے تھے تمہاری دوست آج فسٹ ڈے لیٹ تھی کافی زیادہ ۔۔۔۔”

” یار یہ پاکستان کی لوکل بسیں تجھے پتا تو ہے کبھی وقت پر اتی نہیں اوپر سے اتنے نلے ڈرائیور ۔ ۔۔ “

” تجھے یاد کے دو ماہ پہلے تونے اور میں نے ویسپا چلانا سیکھا تھا ۔ “

” ہاں کیوں کیا ہوا ؟۔۔”

” دیکھ میں نے تو نئی گاڑی لے لی ہے وہ فالتو کھڑا ہے تو لےلے اور جب تو اپنا انتظام کر لے گی مجھے واپس کر دینا ایسے تمہارا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اور وہ بھی چلتی رہے گی ۔۔۔

” تیرے پاپا کو کوئی مسئلہ تو نہیں ہوگا؟ “۔۔۔۔۔۔

” پاپا کیوں غصہ کرے گے وہ میرا ہے اور انھیں تو یاد بھی نہیں میں انھیں بتا دوں گی ۔افٹرآل تو ان کی امپلوئے بھی ہے ۔۔۔۔”

” چل ٹھیک ہے تیرا کون کون سا سا احسان چُکاو گی میں ۔۔۔۔”

” بکواس نہ کر اٹھ گھر چلتے ہیں ۔۔۔۔” وہ وہاں سے گھر لیے چل دی ۔

بس کے ذریعے وہ زاہد ویلا آیا جہاں علی اسی کا انتظار کر رہا تھا ۔

” اے ۔ایس تو نے مجھے فون کر کے گاڑی لے آنے کو کیوں کہا اور تو خود کدھر چلا گیا تھا ؟”

” کسی کو سبق سکھانے گیا تھا سِکھا دیا ۔۔۔۔۔”

” کِسے کس سے پنگا لے کر آیا ہے ؟”

” وہی کل والی لڑکی جسکی وجہ سے امریکہ والا کنٹریکٹ گیا ہاتھ سے آج اسکا جاب کا فسٹ ڈے تھا میں نے لیٹ کروا دیا اور تجھے پتا کس کے آفس میں کام کرتی ہے ۔۔۔۔”

” کس کے ؟…”

” نعیم چاچو کے اور تجھے تو پتا ہے وہ کتنے وقت کے پابند ہیں تجھے تو پتا ہونا چاہیے تو نے بھی تو وقت پر ان کے گھر بارات لے کر جانا ہے ۔۔۔۔”اسنے چائے کا سِپ لیتے ہوئے کہا ۔

“ہم انکل ہے تو وقت کے معاملے میں غصے والے پتا نہیں کیا بنا ہوگا اسکا ۔اچھا تو واپس کیسے آیا ہے ؟..”

” بس سے ۔۔۔۔۔” رسانی سے دیا گیا ۔

” کیا تو اس لڑکی کے لے بسوں میں دھکے کھا کر آیا ہے ۔۔۔۔”

” ارے دھکے نہیں کھانے سکون سے آیا ہوں اسکی ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ۔۔۔۔” اسنے چور نظروں سے علی کو دیکھا جیسے اسکی اپنی چوری پکڑی گئی ہو ۔۔۔۔۔

” سیریسلی !!!اے ۔ایس تو نے یہ کیا ۔”

” اچھا چل چھوڑ تیری اور حنا کی منگنی کب ہے ؟..”

” اگلے ماہ کی کوئی ڈیٹ فکس کرنی ہے ..”

” دیکھ اب بھی وقت ہے سوچ لے حنا نعیم چاچو کی بیٹی ہے اور چاچو تو ۔۔۔۔۔” اسکی بات ابھی ادھوری تھی ۔

” اچھا بس کر پہلے ہی دماغ کھا گئی ہے ہماری منگنی میں آئمہ بیگ کو بلاؤ کہاں سے بلاؤں بھی ۔۔۔۔۔۔”

” ہاہاہاہاہاہاہاہاہا تو تو گیا علی پھر شادی پر تو ارجیت سنگھ مانگے گی ۔۔۔۔۔”

وہ دونوں ہی کھلکھلا ک ہنس پڑے ۔۔۔

……………….

دن گزرنے لگے تھے مگر عشق اتنا وقفہ کہاں دیتا ہے یہ تو سہی وقت کا انتظار کر تا اور سہی وقت پر تیر کمان سے چھوڑتا ہے جو اپنے نشانے تک کا لہو نچوڑ دیتا ہے پہلے ایک ٹھنڈی پھوار بنتا ہے پھر بدن جھلسانے والا لاوا کبھی دھوپ میں سایہ تو کبھی ٹھنڈی چھاؤں میں بھی چبھنے لگتا ہے ۔۔۔۔۔کبھی برستی بوندوں کا ساز ہوتا ہے تو کبھی صحرا میں مدد کی آخری گونج ۔۔۔۔کبھی تخت نشین بادشاہ کی طرح مہربان تو کبھی تختہ دار کے جلاد سے بھی کٹھور ۔۔۔۔۔۔۔۔کبھی روپ رنگ کی سجاوٹ کا ہر رنگ تو کبھی ظلم وحشت کی سیاہی بن جاتا ہے یہ سب تیاری ان دونوں کے لیے کی جارہی تھی ۔عشق کی لازوال داستان شروع ہونے والی تھی بیڑیوں کے قفل بند ہونے والے ہیں جس کی چابی شہرِ سحر کے صیاد کے ہاتھ میں ہونی تھی ۔۔۔ جس بیڑی کا دوسرا سرا سناش کے پیروں میں تھا طلسم تو ہر ڈور توڑ کر جاچکی تھی ۔شہرِسحر میں محبت کی سب سے خوبصورت منفرد ممتاز اور وحشی مثلث بنے والی تھی ۔خون جان مال اولاد کے خطرناک کھیل کھیلے جانے والے تھے ۔اس مثلث کے ہر ایک کونے پر کھڑے شخص کا دوسرے سے فاصلہ ایک جتنا ہوگا اور اس فاصلے میں کھڑے ہوں گے صیاد غفران آدم اور زولفشان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اس وقت کسی شاپنگ مال میں کھڑی تھی ۔اگلے ہفتے حنا کی منگنی تھی اسکے لیے اسے ڈریس لینی تھی ۔جب اسے اپنے عقب سے آواز آئی ۔۔۔

” ہاں علی میں پہنچ گیا ہوں تو کہاں ہے ؟….” اے ۔ایس اسکے پیچھے کھڑا تھا ۔

” میں سکنڈ فلور پر ہوں آجا وقت لگ جانا ہے کافی ۔۔۔۔۔”

” چل ٹھیک ہے میں آرہا ہوں۔۔۔۔۔” وہ فون بند کرتا لفٹ میں گُھس گیا ۔۔

وہ اس سے بچتی بچاتی باہر نکل آئی جب اسکی نظر سامنے پڑی وہ بلیک جیٹ کی کار وہ کیسے بھوک سکتی ہے ۔۔۔

” یہ تو اس ساون کے اندھے کی گاڑی ہے اچھا بیٹا میرا فسٹ ڈے خراب کیا تھا اب تو دیکھ میں کیا کرتی ہوں ۔۔۔” اسنے دل ہی دل میں سوچا اور اپنا کام کرنے کے بعد اندر اسے اس کام میں پونا گھنٹہ لگا تھا شکر وہ باہر نہیں آیا لیکن جب وہ اندر آئی وہ اسے سامنے سے آتا دِکھ گیا اسنے گزرتے ہوئے چند سو کے نوٹ اسکے سر سے وار کر پھینک دیے ۔۔۔۔وہ حیرت سے منہ کھولے اسے دیکھ رہا تھا پھر نظر انداز کر کے آگے بڑھ گیا ۔اے ۔ایس مال سے جب باہر آیا تو اسکے ہاتھ میں پکڑے شاپنگ بیگ نیچے کر گئے سامنے کا منظر دیکھ اسکے تو حواس گُم ہوگئے ۔۔اسکی گاڑی کے چاروں ٹائرز غائب تھے ۔

علی بھی اسکے پیچھے پیچھے باہر آگیا وہ بھی حیران رہ گیا ۔۔۔

” اے ۔۔۔ایس ٹائرز کہاں گئے ؟….”

گاڑی چھوڑ کر جو تم جاؤ گے ۔۔۔۔۔

بڑا پچھتاؤ گے۔۔۔۔۔بڑا پچھتاؤ گے ۔۔۔۔۔۔

سنیاں سنیاں گلیاں وچ تو ٹھوک نہ لویں ۔۔۔۔۔۔۔۔

پنگے میرے نال فیر نہ لویں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” سحر کو ستاو گے بڑا پچھتاؤ۔۔۔۔۔۔۔

” لالاالالا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

علی نے ابھی پوچھا ہی تھا جب وہ گاتی باہر آئی ۔۔۔۔۔۔

” ارے یہ آپ کی گاڑی تھی مجھے لگا اسکا کوئی والی وارث نہیں تو میرے ڈریس کے پیسے کم پڑ رہے تھے میں نے اس کے ٹائرز بیچ دیے ۔پانچ ہزار ڈریس میں لگ گئے ایک ہزار کا آپکے کے دوست کا صدقہ دے دیا اور یہ دو ہزار اسنے ہزار ہزار کے دو نوٹ علی تھما دیے جو حیرت سے اتنی بے خوف لڑکی دیکھ رہا تھا ۔

” اے ۔ایس اسنے ساٹھ لاکھ کی گاڑی کے ٹائرز آٹھ ہزار میں بیچ دیے۔۔۔” مگر اے۔۔ایس کسی بھی سن نہیں رہا تھا ۔

” کیا نام لیا تم نے اسکا اے ۔۔۔ایس ۔ہاہاہا انگلش کے چھبیس حروف میں سے صرف دو حروف ہی ملے تھے نام رکھنے کے لیے وہ بھی ناترتیب اے۔ایس نہیں اے ۔بی ہوتا۔۔۔

“چھی۔۔۔۔۔۔علی نے حیرت سے کہا ۔۔۔

” اوئے چھی نہیں سی ہوتا ہے اس لیے کہتی ہوں سکول میں دوبارہ ایڈمیشن کے لو او انگلش ہی نہیں آتی تو ایڈمیشن کا پتہ کیسے ہوگا داخلہ ۔۔۔داخلہ کہتے ہیں اسے ۔۔۔۔۔

“اے ۔ایس تو اسے کچھ کہ کیوں نہیں رہا ۔۔۔۔” وہ تو اب تک اس گاڑی کو دیکھ رہا تھا جو ایک ماہ پہلے شوروم نکلی تھی جس کے ٹائرز آٹھ ہزار میں بیچ دیے گئے تھے ۔۔۔

” سنبھالو اپنے اے ۔ایس ٹی یو وی کو اسکی سٹی گُم ہوگئی ہے ۔۔۔۔” یہ کہ ک اسنے شوٹ مارنے کی ۔۔۔

” اے ۔ایس تو چپ کیوں ہے تو ٹھیک ہے؟ ۔۔۔علی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا اسے کے ساتھ اے ایس نے بھاگنا شروع کیا راستے میں کسی کی سائیکل چھینی اور اسکے پیچھے لگا لی ۔اسکے ویسپا کی سپیڈ کو اسنے سائیکل کی ڈبل سپیڈ سے کور کیا تھا ۔اور اسے سامنے جاکر کھڑا ہوگیا ۔۔۔۔

یکدم بریک لگنے کی وجہ سے وہ گِرتے گِرتے بچی ۔۔اسنے بلیو چیک شرٹ پہنے اس شخص کو دیکھا جو اسے مسکرا کر دیکھ رہا تھا ۔اے ۔ایس نے ایک نظر اپنے گردوپیش کا جائزہ لیا وہ کوئی رہائشی علاقہ تھا جہاں لوگ آجا رہے تھے ۔اسنے سحر کو دیکھ کر معصوم سے منہ بنا کر کہا ۔۔۔

” نہیں بیگم تم ایسا نہیں کرسکتی تمہاری طبعیت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔۔” وہ با بلند آواز میں کہ رہا تھا اور سحر کا منہ کھلا رہ گیا ۔۔۔” بیگم “

” ہاں بیگم مجھے پتا ہے ایسی حالت میں بہت سارے عجیب کام کرنے کا دل کرتا ہے لیکن ویسپا نہیں یہ بہت خطرناک ہوگا ۔۔۔۔” وہ آنے جانے والے لوگوں کو سُنا سُنا کر کہ رہا تھا ۔

” اوے تمہارا دماغ تو خراب ہوگیا کیا بکواس کر رہے ہو ۔۔۔۔۔”

” دیکھو بیگم تم چاہے غصہ کرو یا ڈانٹو میں تمہں یہ چلانے نہیں دوں گا میں خود۔ چلاؤ گا ۔۔۔۔”کیا ہوا بیٹا کوئی مسئلہ ہے ۔ایک ضعیف راہگیر نے رُک کے پوچھا ۔

” دیکھیں نہ انکل جھگڑے کن گھروں میں نہیں ہوتے گھر تھوڑی نہ چھوڑ دیتے ہیں وہ بھی اس حالت میں ۔۔۔۔۔۔”اسنے معصوم سا منہ بنا کر کہا ۔

” انکل میں اِسے نہیں جانتی ؟۔۔۔۔..”

” دیکھا انکل اتنے غصے میں ہے کہ مجھے پہچاننے سے بھی انکار کر رہی ہے اوپر سے دوائی بھی نہیں لی اسنے ۔۔۔۔۔”

” دوائی کس چیز کی دوائی بیٹا ۔۔۔۔”

” انکل دماغ کی اسکو دورے پڑتے ہیں ڈاکٹر نے کہا تھا اسکا خیال رکھنا میں تھوڑی دیر گھر سے کیا نکلا یہ دیکھیں یہ سکوٹر لے کر اکیلی باہر آگئی اب اسکو پھر دورہ پڑا ہے سب بھول گئی اب یہ کہے گی اسکی اور میری شادی بھی نہیں ہوئی ۔۔۔۔” اسنے مصنوعی روتے ہوئے کہا ۔۔

” ہاں تو نہیں ہوئی اسکی اور میری شادی اللہ قسم انکل میں نہیں جانتی اسے ۔۔۔۔۔۔”وہ حیران تھی اسکو پلان نازل ہوتے ہیں

” ہائے ربا دیکھا انکل سب بھول گئی ہے اوپر سے کہ رہی ہے مجھے یہ سکوٹر چلانا ہے انکل یہ تو بیمار ہے کسی کو اڑا دیا تو پر میری سن ہی نہیں رہی ۔۔۔۔۔۔” مگرمچھ کے آنسو بہے جارہے تھے ۔

” انکل یہ جھوٹ بول رہا ہے مجھ سے بدلہ لے رہا ہے میں نے اسکی گاڑی کے ٹائرز بیچ دیے اسلیے کر رہا ہے یہ سب ۔۔۔۔۔”

” ہاں انکل سہی کر رہی اتنی حالت خراب ہوگئی ہے پہلے ٹائرز بیچے پھر پوری گاڑی بیچ دی اپنا آپ ۔۔۔انکل اپنا آپ گروی رکھ کر میں نے یہ سکوٹر لیا ہے اب یہ اس کے پیچھے پڑ گئی ہے ۔۔۔۔۔۔” اس کی مظلومیت دیکھ کر وہاں اور بھی لوگ اکٹھے ہوگئے تھے ۔

” انکل آپ ۔۔اپ بڑے ہیں نہ ہمارے بڑے ہیں نہ آپ اسے کہے نہ غصہ نہ کرے گھر جا کر دوائی لے لے ۔” وہ اس بزرگ کا ہاتھ پکڑے معصومیت سے کہ رہا تھا ۔

” ہاں ۔۔ہاں بیٹا میں سمجھتا ہو اسے تم فکر نہ کرو ۔۔۔۔۔۔۔” وہ بزرگ اسکے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتا ہوا کہ رہ تھا ۔

” دیکھو بیٹا تم بلکل ٹھیک ہو جاؤ گی اتنا پیار کرنے والا شوہر ہے اتنا خیال رکھتا ہے تم انشاللہ ٹھیک ہو جاؤ گی ۔۔” کوئی عورت سحر کا بازو پکڑے اسے پیار سے سمجھا رہی تھی ۔

” آنٹی میں اب بھی ٹھیک ہوں یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے بدلہ لے رہا مجھے سے ۔۔۔۔” مگر تب تک اے ۔ایس ویسپا پر چڑ ھ کر بیٹھ چکا تھا ۔

” ارے اُترو میرا ہے یہ ۔۔۔۔” وہ اسے نیچے کھینچ رہی تھی ۔

” ہاں بیگم تمہارا ہی ہے میں بھی یہ ہمارا گھر بھی چلو چلتے ہیں ۔۔۔”وہ بڑی محبت پاش نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔

” بیٹا تو جا اپنے شوہر کے ساتھ جا وہ چلا لے گا ۔۔۔۔”لوگوں نے اسے زبردستی اسکے پیچھے بیٹھا دیا وہ نہ نہ کرتی رہ گئی ۔اسنے بیٹھ کر اے ۔ایس کے کندھے پر ہاتھ رکھا جس سے ایک مدھم اور خوبصورت سی مسکراہٹ بے ساختہ اسکے چہرے پر آئی تھی ۔

” آپ سب کا بہت بہت شکریہ !!!..” یہ کہتا وہ اسے لیکر نکل گیا اور سیدھا مکینک کی دوکان پر لے آیا ۔۔۔

” مکینک اس سکوٹر کا انجن ٹائرز ایک ایک پُرزا ا ثالم نہیں بچنا چاہے سارا کھول دو ۔۔۔۔۔”

“نہیں ایسا نہیں کرنا یہ اسکا نہیں میرا ہے ۔۔۔۔۔۔”

مگر اے ۔ایس مکینک کو پیسے دےچکا تھا اور اسنے اپنا کام شروع کردیا ۔وہ وہیں سر پکڑ کر بیٹھ گئی جب اسکا فون بجنے لگا ۔۔۔” حِنا کی کال تھی وہ اٹھانا نہیں چاہتی تھی مگر اے ۔ایس نے کال پِک کرلی ۔۔

” ہیلو !!.ہیلو!! سحر تو کدھر ہے ۔۔۔۔۔۔”

” حنا تیرے ویسپا کا پوسٹ مارٹم ہوگیا ۔۔۔۔۔”

” کیا ۔۔۔کیا تیرا ایکسیڈنٹ ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

اسنے اکتا کر فون بند کردیا ۔

” کیا نام لیا اسنے تمہارا سحر یار ۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔۔حروفِ تہجی کے اڑتیس حروف میں سے صرف تین حروف ملے تھے نام رکھنے کے لیے وہ بھی بغیر کسی نقطے کے کوئی چلو نقطلہ لگاتے ہیں سحر نہیں زہر ہے ہاں یہ ٹھیک ہے زہر ہاں تو مس زہر اب مجھ سے دوبارہ پنگا نہ لینا ۔۔۔۔” وہ حیرت سے سر پکڑے اپنے سکوٹر کو دیکھ رہی تھی جو پرُزہ پُرزہ ہوگیا تھا ۔

” اے ۔ایس نے آسمان کے طرف دیکھ کر کہا ۔۔۔

” یار مقابل تو معیار دیکھ کر بھیجا کرو یہ چھپکلی ہاتھ مار کر دیوار پر ہی مار دینی ہے میں نے ۔۔۔۔۔.”

مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ چھپکلی جونک بن کر اسکی سانوں سے لپٹنے والی تھی ۔۔۔۔۔۔