Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam NovelR50472 Shehr-e-Sahar Episode 20
No Download Link
Rate this Novel
Shehr-e-Sahar Episode 20
Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam
اگلی صبح وہ بہت پر سکون اٹھا تھا مسکراتا ہوا وہ باہر آیا جہاں غفران دستر خوان بچھائے اسکا انتظار کر رہا تھا ۔اسکے چہرے پر ایک مدھم سی مسکراہٹ تھی ۔
” خیریت ہے اسیر یہ مسکراہٹ کیوں ؟” ۔۔۔۔۔
آج میں طلسم سے ملنے جارہا ہوں ۔” اسنے ایک لقمہ توڑ کر منہ میں ڈالا امیر زادہ ہونے کے باوجود بھی اس میں زرا غرور اور تکبر نہیں تھا ابھی وہ نیچے بیٹھ کر ہی کھا رہا تھا ۔
” لیکن طلسم نے تمہیں منع کیا تھا وہاں آنے سے اسیر تمہاری شکل آدم سے بہت ملتی ہے کہیں صیاد تمہیں پہچان نہ لے “
” آپ فکر نہ کریں چچا میں نے اسکا بھی حل سوچ لیا ہے ” یہ کہ کر وہ اٹھا اور وہی خاکی کرتہ پہن لیا آدھے چہرے کو اسنے کپڑے سے ڈھانپ لیا تھا ۔” گندگی بہت ہوئی ہے شہر میں زرا صاف صفائی کر آئیں ” لمبا سا جھاڑو اٹھا کر وہ باہر آگیا ۔اسے سیدھا محل جانا تھا جو ڈھونڈنا زرا بھی مشکل نہیں تھا ۔وہ طلسم سے ملنے اپنی راہ پر گامزن ہوگیا تھا ۔
رات بھر سناش کا ایک ایک لفظ اسکے کانوں میں گونجتا رہا تھا جس کی وجہ سے اسکی نیند بھی پوری نہیں ہوئی تھی وہ تھکی ماندہ سی اٹھی ۔اسے بس اسیر کی فکر کھائے جارہی تھی ۔” اسیر آپ ٹھیک تو ہیں آپ یہاں مت آئیے گا یہ جگہ بہت خطرناک ہے یہ آپکو پہچان لیں گے ۔پلیز مت آئیے گا ۔۔۔” وہ صبح کی پھوٹتی کرنوں میں بس ایک دعا مانگ رہی تھی کہ سناش اور اسکا آمنا سامنا کبھی نہ ہو جو اس سے ملنے نکل چکا تھا ۔
رات ایک عرصے بعد اسے سکون کی نیند آئی تھی وہ مسکراتا انگڑائی لیتا اٹھا ۔شہزادہ اپنی جگہ زمہ داریاں اپنی جگہ لیکن حقیقت سے تو وہ چھبیس ستائیس سال کا ایک لڑکا ہی تھا جس کی محبت لوٹ کر آئی تھی ۔
” طلسم اٹھ گئی ہونگی ۔آج سے ہمیں انھیں اپنی محبت کا احساس دلانا ہے انھیں اپنا بنانا شروع کرنا ہے ۔” وہ پر بوش ہوکر بستر سے اٹھا ۔
تینوں ہی اپنی اپنی محبت کی حفاظت کے لیے دعائیں مانگ رہے تھے تھوڑے تھوڑے خوش تھے مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ آج کیا ہونے والا تھا آج منصوبے نہیں جنگ شروع ہونے والی تھی ۔وہ راستے میں جابجا جھاڑو لگاتا محل تک پہنچ چکا تھا ۔اسنے ایک گہری نظر سر سے پیر تک اس محل کو دیکھا جہاں اسکے بعد اسی کی وجہ سے اسکے خاندان کو مار دیا گیا ۔ وہ آرام آرام سے اندر آرہا تھا ادھر ادھر نظر دوڑاتا ہر طرف کنیزوں غلاموں کی بھر مار تھی۔مگر اسکی نظر جسے ڈھونڈ رہی تھی وہ مل نہیں رہی تھی ۔وہ ڈھونڈتا جھاڑو لگاتا آگے بڑھ رہا تھا جب اسکی کی ٹکر کسی سے ہوگئی ۔کندھا کندھے ٹکرانے کی وجہ سے وہ سر سے پیر تک لڑکھڑا گیا تھا مگر دوسرے کو کوئی فرق نہیں پڑا تھا ۔معزرت ! سوری ! دونوں نے ایک ساتھ کہا تھا اسیر اسکی بات پر حیران نہیں ہوا تھا مگر اسکے لفظ پر سناش کو حیرت ضرور ہوئی تھی اسنے رخ موڑ کر اسے دوبارہ بلایا ” رکیں ! وہ بھی پلٹ چکا تھا ۔” جی ؟” اسے ابھی یہ نہیں پتا تھا وہ کون ہے .” کیا کہا آپ نے ؟ “
وہ میں آپ سے ٹکرا گیا تھا تو سوری او میرا مطلب معزرت کہا تھا “
تم ہو کون پہلے تمہیں یہاں نہیں دیکھا ” وہ اس وقت میدان میں تلوار بازی کی مشق کے۔لیے جا رہا تھا اسلیے اسنے قمیض نہیں پہنی تھی اور اسیر اسکی باڈی کو دیکھ رہا تھا ۔ایک ہاتھ اسنے خالی چھوڑ رکھا تھا اور دوسرے ہاتھ میں تلوار پکڑ رکھی تھی اسیر نے پہلے اسکی تلوار کو دیکھا پھر اپنے ہاتھ میں جھاڑو ” آپ کے عشق نے کہاں سے کہاں پہنچا دیا طلسم ” اسکی اپنی ہنسی نکل گئی تھی ۔ تب تک سناش اسکے ہاتھوں میں جھوڑا دیکھ چکا تھا ۔” اچھا تو تم خاکروب ہو .”
جی خاکروب ہو محل کی صفائی کرنے آیا تھا ۔” سناش !! ” وہ ابھی اسکی بات سن ہی رہا تھا جب صیاد نے اسے پکارا اسنے اور اسیر نے پلٹ کر اسے دیکھا ۔جی ابا ۔وہ اسکی طرف بڑھ چکا تھا مگر اسیر کی آنکھوں میں تو لہو اتر آیا تھا اسے دیکھ کر اسکے سامنے بس صرف وہ تھا جو اسکے خاندان کی تباہی کا زمہ دار تھا اسکو اس پر اس قدر غصہ تھا کہ وہ پکار اٹھا ” صیاد !!!” صیاد نے اور سناش نے ایک ساتھ پلٹ کر دیکھا مگر پیچھے کوئی نہیں تھا انھوں نے ادھر ادھر دیکھا کوئی نہیں تھا وہ دونوں آگے بڑھ گئے لیکن صیاد کے چہرے پر ایک تعجب
تھا ” مجھے اسیے کیوں لگا جیسے آدم نے پکارا ” ادھر طلسم اسے دیوار کے ساتھ لگائے اسکے منہ پر ہاتھ رکھے چوری سے صیاد کو جاتا دیکھ رہی تھی ۔ ” اسیر آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟” لیکن وہ تو صرف اسے دیکھ رہا تھا جو ہلکے گلابی رنگ کے گاؤن میں جالی دار دہپٹہ سر پر لیے چھوٹا سا تاج سر پر ناگن کی طرح آنکھوں میں لگا سرمہ گلابی ہونٹ ماتھے پر بےبی کٹ وہ حسین نہیں حسین تر لگ رہی تھی ۔ اسنے سکھ کا سانس لیکر منہ سے رومال کھولا ادھر ادھر دیکھا وہاں کوئی نہیں تھا اسنے سب سے پہلے طلسم کی گال پر کس کیا تھا ۔ جس پر اسکی بڑی بڑی آنکھیں پوری کھل گئی تھیں ۔” طلسم تم نے مجھے پہچانا کیسے ؟”
“پہچان تو میں نے آپکو تبھی لیا تھا جب آ پ نے سناش کو سوری بولا تھا ۔یہاں پر انگلش میں معزرت کرنے والا صرف میرا ساون کا اندھا ہی ہوسکتا ہے ۔لیکن اسیر آپ یہاں کرکیا رہے ہیں ؟”
” اپنی بیگم سے ملنے آیا تھا “اسنے اسکو زورسے گلے لگایا تھا ۔” اسیر چھوڑے مجھے کسی نے دیکھ لیا تو ؟”
وہ اس سے الگ ہوگیا ” اسیر آپ یہاں سے جائیں آپکو صیاد نے دیکھ لیا تو ٹھیک نہیں ہوگا ۔”
ہاں جا رہا ہوں تم سے ملنے آیا تھا بس ایک دفعہ اپنا خیال رکھنا اور ہاں مجھ سے ملنے آجایا کرنا ۔اسکے ماتھے پر لب رکھ کر وہ جانے لگا تھا جب اچانک کچھ یاد آنے پر وہ پلٹا ” طلسم اگر سناش کے لیے تمہارا دل بہک گیا تو وہ بے جا نہ ہوگا ۔” مسکرا کر وہ پلٹ گیا جب پیچھے سے پکار آئی ” میرے دل میرے پاس ہے کب جو بہک جائے گا وہ تو پہلے کسی نے چرا لیا ۔۔” مسکراتا ہوا اسے سن کر وہ آگے بڑھ گیا تھا۔محل سے باہر جانے کے راستے پر وہ گامزن ہی تھا جب کسی کی بلند آواز نے اسکے قدم روک دیے ” روکو !” وہ سناش تھا جو غصے میں تلوار تھامے اسکی طرف بڑھ رہا تھا ۔” اسنے کہیں مجھے طلسم کے ساتھ دیکھ تو نہیں لیا تب تک طلسم بھی وہاں پہنچ چکی تھی کیونکہ سناش کی آواز نہایت بلند تھی وہ اسکے قریب پہنچ چکا تھا جب اسنے اسکے کرتے میں پھسے بازوبند کو نکالا ۔” یہ بازو بند تمہارے پاس کیا کر رہا ہے ” اسکے ہاتھ میں کنگن نما کوئی گہنہ تھا جو سونے کا لگ رہا تھا اب اسے یاد آیا یہ طلسم نے اپنے بازو پر پہنا تھا اسنے جب اسے گلے سے لگایا تھا تب کرتے میں پھنس گیا ہوگا ۔” وہ مجھے نہیں۔ پتا یہ میرے پاس کیسے آیا !”
یہ تو طلسم کا ہے تم طلسم کے کمرے میں کیا کرنے گئے تھے؟” وہ غصیل نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔
صفائی ۔۔صفائی کرنے گیا تھا ۔۔صفائی کرنے گئے تھے یا چوری کرنے ۔”
نن نہیں چوری کرنے میں نہیں گیا تھا مجھے نہیں پتا یہ میرے پاس کیسے آیا ؟.
طلسم بھی وہاں پہنچ چکی تھی ۔” سناش جانے دیں ہوسکتا غلطی سے آگیا ہو ؟”
نہیں طلسم جتنا ہم آپکو جانتے ہیں آپ اپنی چیزیں کھلی نہیں چھوڑتیں تو غلطی سے آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ایک تو اسنے چوری کی دوسری بات کر بھی آپکی لی یہ بات برداشت نہیں کی جائے گی اسے سزا ملے گی ۔”
نن۔۔۔نہیں سناش جانے دیں میں نے معاف کیا اسے ہوسکتا ہے اگر اسنے چوری کی بھی ہو تو مجبور ہو اسے ضرورت ہوسکتی ہے ۔”
طلسم اسے ضرورت تھی تو ہمیں بتاتا ہم کیا اسکی مدد نہیں کرتے اور ویسے بھی ہم نے اسے پہلے کبھی نہیں دیکھا یہاں شمس !!!
سپاہیوں کے ساتھ ساتھ شمس بھی وہاں پہنچ چکا تھا ” جی شہزادے !”
اسنے چوری کی ہے اور قانون کے مطابق اسکے ہاتھ کٹوا دو ! طلسم کی تو سانس اٹک گئی تھی اور اسیر کے ہاتھوں سے جھاڑو ایسے چھوٹا جیسے اسکے ہاتھ کٹ چکے ہوں ۔” شمس تمہیں سنائی دیا ہم نے کیا کہا! وہ اتنی زور سے چیخا تھا کہ صدمے میں گم طلسم ڈر گئی تھی ۔
” سن۔۔سناش رک جائیں اسے معاف کردیں ایسے مت کریں ۔” وہ اسکی منتیں کر رہی تھی ۔
” معاف کردیں شہزادے آئیندہ ایسا نہیں ہوگا ۔۔” وہ بھی ہاتھ جوڑ رہا تھا اب وہ اس وقت کو کوس رہا تھا جب وہ یہاں آیا تھا ۔
” آئیندہ کچھ کرنے کا موقع ہی تو نہیں دینا تمہیں ۔۔”سپاہی اسے لے جانے لگے تھے جب وہ زور سے بولی ” روکو ! “
” سناش اسنے ہمارے زیور چوری کیے ہیں تو یہ مجرم بھی ہمارا ہوا اسے سزا بھی ہم دینگے۔
لیکن طلسم اسکی ضرورت نہیں ہے ہم اسے سزا دے چکے ہیں ۔
لیکن سناش یہ مجرم ہمارا تھا تو اسے سزا دینے کا فیصلہ بھی ہم کریں گے شمس اسے بندی بنا کر کال کوٹھری میں ڈال دو یہ ہمارا قیدی بن کر رہے گا اور مہر لگا دو اس پر ” اسیرِ طلسم کی ! اسنے حیرت سے اسکی جانب دیکھا تھا کہاں اور کس جگہ آدم کا قول پورا ہوا تھا ۔اسکے کانوں میں تو صرف ایک وعدہ گونج رہا تھا ” اسیر میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں میں آپکو کبھی اس نام سے نہیں پکارو گی ۔
” لیکن طلسم ! سناش کچھ کہنا چاہتا مگر اس سے پہلے وہ بول پڑی ” شمس آپ کو سنائی نہیں دیا ہم نے کیا کہا لے جائیں اسے !
جو حکم شہزادی ! شمس اسے سپاہیوں سمیت کال کوٹھری کی طرف بڑھ گیاتھا ۔
” اچھا کیا طلسم آپ نے اسے سزا ملنی تھی یہ آپکا بازو بند آپکی اجازت ہو تو ہم پہنا دیں ۔” وہ اسے لیے آگے بڑھا ہی تھی جب اسنے ہاتھ سے کھینچ لیا ” ہمارے ہاتھ ہیں ہم پہن لیں گے خود ! وہ اسے لیکر کر اندر کی طرف چلی گئی کمرے میں آ تے ہی اسنے اسے اٹھاکر زمیں پر پٹکا تھا اور خود نیچے بیٹھ گئی ” اسیر اس لیے کہتی تھی میں مت آئیں محل یہاں کے لوگ بہت ظالم ہیں اگر میں وہاں نہ پہنچتی تو سناش آپکے ہاتھ کے ساتھ ۔۔” بس اس سے آگے وہ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی ۔
ادھر شمس اسے جیل لے آیا تھا دروازے میں کھڑے ہوکر اسکا جرم بتایا گیا تھا ۔
” چور ہے شہزادی طلسم کے زیور چرائے ہیں انکا قیدی ہے یہ اس پر اسیرِ طلسم کی مہر لگانی ہے ۔” اسیر نے نظر اٹھا کر سامنے دیکھا ناجانے کتنے قیدی تھے جو محل کے ناجانے کتنے عہداروں کے قیدی تھے کوئی اسیر صیاد تھا کوئی اسیر سناش لیکن ان سب میں وہ واحد تھا جس نے اپنی کلائی پر گوندی گئی مہر کو دیکھا جس پر اسیرِ طلسم لکھا تھا ۔سپاہی اسے آگے لے جانے لگے تھے ۔تمام قیدی سلاخوں کے ساتھ لگے اس نئے غلام کو دیکھ رہے تھے جو حسین بھی تھا اور جوان بھی لیکن اسے سلاخوں کے پیچھے نہایت لاچار محروم بوسیدہ جسم نظر آرہے تھے جن کے تن پر نہ تو لباس پورا تھا نہ آنکھوں میں بینائی کوئی زخمی تھا تو کوئی آخری سانس لے رہا تھا سانس ختم ہوتی جارہی تھی مگر انکی اسیری نہیں ۔جیل کی تمام دیوراوں پر خون کے دھبے تھے ۔وہ کالے سیاہ بوڑھے زخمی وجود اسے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے عرصے بعد کوئی ایسا مرد دیکھ رہے تھے ورنہ یہاں جو بھی آتا وہ یا تو زخمی ہوتا یا ضعیف اسے ایک کال کوٹھری میں دھکیل کر دروازہ بند کردیا گیا تھا ۔جہاں پہلے سے ایک قیدی سر گھٹنوں میں دیے بیٹھا تھا وہ اداس حیرت زدہ پریشان سے وہاں کھڑا ہوگیا ۔جب اس اسیر نے سر اٹھا کر دیکھا ” تو صیاد بھٹی میں جلنے کےلیے ایک اور ایندھن آگیا۔
تم کون ہو ؟ وہ آہستہ سے چل کر اسکے پاس آ بیٹھا ۔
میں وہی ہوں جو تم ہو ! لمبے بال لمبی داڈھی آنکھوں میں محرومی اداسی پھٹا لباس بڑے ناخن جو غلیظ تھے چہرے پر زخم کا نشان اسکی عمر کوئی تیس بتیس کی ہوگی ۔
” جو میں ہوں مطلب ؟ اسکے جواب میں اسنے اپنی کلائی اسکے سامنے کی جس پر اسیرِ طلسم کی مہر لگی تھی ۔
” تم ۔۔تم طلسم کے قیدی کیسے بنے ؟ ۔۔”
” چند ماہ پہلے میں اسی محل میں بگھی کوچوان تھا شہزادی طلسم کو انکے ماموں جان کے یہاں میں ہی لے کر جانے والا تھا مگر بگھی کا پہیہ نکلنے کی وجہ سے ہم کھائی میں گر گئے سپاہی جب طلسم کو ڈھونڈنے آئے تھے میں انھیں زخمی حالت میں ملا تھا جان تو بچا لی انھوں نے لیکن جہنم میں ڈال دیا یہ کہ کر تم طلسم کے مجرم ہو تم نے بگھی ٹھیک سے نہیں چلائی تھی سناش تو میری گردن اڑا دینا چاہتا مگر شمس سے میری واقفیت ہونے کی وجہ انھوں مجھے یہاں قیدی کر دیا اب سنا ہے طلسم زندہ واپس آگئی ہیں مگر میری آزادی کا پروانہ کوئی نہیں لایا اور نہ لائے گا کیونکہ یہ مکڑی کا جالا ہے اس سے صرف تب نکل سکتے ہیں جب آپکی سانس ختم ہو جائے ۔تم کس جرم میں آئے ہو ؟ “
” چو ۔۔چوری کی جرم مگر میں نے کی نہیں تھی وہ شاید غلطی سے میرے پاس آگیا لیکن۔ انھوں نے مجھے یہاں سزا دے دی ۔”
” فکر نہ کر تیرے جیسے ناجانے کتنے بے جرم یہاں قید ہیں تو بھی ہم سب کا حصہ بن گیا تیری سانس بھی یہیں ختم ہوگی ۔”
” اوئے چل تجھے دوسری جیل میں ڈالنا ہے شہزادی کا حکم ہے کہ اس قیدی کو اکیلا بند کرنا ہے ۔۔”
” اچھا دوست چلتا ہوں اپنا خیال رکھنا زندگی رہی تو پھر ملاقات ہوگی ۔ ” وہ سپاہی اسے لیکر وہاں سے چلا گیا ۔” نہیں میری سانس یہاں ختم نہیں ہوگی یہاں سے ایک نیا جنم شروع ہوگا صرف میرا نہیں ہم سب کا ۔” اسنے نہایت عزم سے کہا ۔
ادھر کمرے میں طلسم۔کو ایک پل کا چین نہیں تھا وہ کبھی ادھر کبھی اُدھر کبھی بیٹھ جاتی کبھی کھڑی ہوجاتی سانس لینا تک دشوار ہوگیا تھا روباش بھی اسکے آگے پیچھے گھوم رہا تھا ۔
” دیکھ لیا اپنے سناش کو کس قدر ظالم ہے ! ” وہ اپنا سارا غصہ روباش پر نکال رہی تھی ۔
” طلسم اس میں سناش کی نہیں اسیر کی غلطی ہے جب تم نے اسے منع کیا تھا تو وہ کیوں آیا تھا ۔”
” تمہیں کبھی سناش کی غلطی نظر آتی بھی ہے تو تم میرے پاس کیا کر رہے ہو اسکے کیوں نہیں ہوجاتے .”
” طلسم میرا مطلب وہ نہیں سناش نے جو کچھ بھی کیا وہ تمہارے لیے کیا تمہں پتا تو ہے وہ تمہیں لیکر کتنا حساس ہے ۔”
“حساس ہے تو کیا مجھ پر پڑنے والی ہر نظر پھوڑ دے گا ۔پتا نہیں اسیر کیسے ہونگے میں نے کہا تھا نہیں آتے واپس وہیں رہ لیے ہیں مگر میری ایک نہیں سنی جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا ہے ۔
سناش میدان میں تلوار بازی میں مگن تھا مگر دھیان ادھر ٹہر ہی نہیں رہا تھا ۔حریف کے حملے کا دفاع کرتے کرتے بھی وہ ایک ہی خیال میں ڈوبا تھا ” طلسم کا یہ روپ ہم نے پہلی بار دیکھا ہے پہلے بھی لوگوں کو قیدی بنایا گیا ہے انھیں سزا ملی ہے مگر اتنا غصہ انھوں نے پہلی بار کیا تھا ہم پر غصیل نظر بھی پہلی بار ڈالی اتنا تلخ لہجہ بھی پہلی بار تھا اور پہلی بار انھوں نے خود کہ کر کسی پر اپنے نام کی مہر لگوائی ہر بار طلسم کا نیا روپ دکھائی دے رہا ہے ۔” وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کے حریف نے اسکی پشت پر تلوار چلائی تھی مگر اسکی پشت سے آدھی انگلی کی دوری پر پہنچ کر وہ مڑا اور اسکی تلوار پر ضرب لگا کر اسے گرا دیا ۔
” شہزادے آپکوپتا کیسے چلا آپکے پیچھے سے وار ہو رہا ہے ۔”
آہٹ ! آہٹ پر نظر رکھا کرو آصف ! یہ آہٹ ہی ہوتی ہے جو آنے والے طوفان کی خبر دیتی ہے آہٹ پر قابو پا لو گے تو طوفان میں سنبھل جاؤ گے ۔”
آہٹ تو کچھ ہمیں بھی محسوس ہوئی ہے شہزادی کے رویے میں تو کیا اس پر بھی قابو پا سکیں گے ۔”
اسنے ایک مشکوک سی نظر اس پر ڈال کر کہا ۔” آصف آپ جانتے ہیں اگر ہم ضرب لگانے میں زرا بھی چونک جاتے تو آپکی گردن اس وقت گھاس پر پڑی ہوتی ۔”
نشانہ اور آپکا چوک جائے ہو ہی نہیں سکتا ….تو جان لو کہ اگر چوک جاتا تو چوکتا نہیں ! اسے تنبہ کر کے وہ وہاں سے چلا گیا ۔میدان سے باہر آکر اسنے ایک گہرا سانس لیا ” طلسم کس کس کی نظروں سے بچاؤ میں آپکو کس کس کے سوالوں کا جواب دوں لیکن آپکے رویے میں آنے والے طوفان کی آہٹ ہم نے بھی محسوس کی ہے ۔”
سارا دن وہ بے چین رہی تھی اسے اسیر سے ملنا تھا مگر دن میں وہ کیسے ملتی اسلیے رات گئے وہ کال کوٹھری میں آئی جہاں چند ایک سپاہی موجود تھے ۔جیلوں کے قفل اتنے مضبوط تھے کہ وہاں سے کسی کا بھاگنا ممکن ہی نہیں تھا ۔اسیر کی دی گئی پازیب وہ اتار کر ہاتھوں میں پکڑے آئی تھی انھیں خود سے دور تو وہ کرتی ہی نہیں تھی ۔تاکہ کسی کو آہٹ نہ ہوسکے وہ ایک ایک کر کے تمام قید خانے دیکھ رہی تھی وہ دیوار سے ٹیک لگائے ہاتھوں اور پیروں میں بیڑیاں باندھے وہ کسی گہری سوچ میں غرق تھا ۔
” اسیر ! اسنے انتہائی آہستہ آواز میں کہا
طلسم تم یہاں کیا کررہی ہو ؟ وہ سلاخوں کے قریب ہوا ۔
میں آپکو کو دیکھنے آئی تھی آپ ٹھیک ہیں ؟ طلسم کی بات پر اسنے اپنی کلائی کو دیکھا جہاں اسیرِ طلسم کی مہر لگی تھی ۔
” ایم رئیلی سوری اسیر میں جانتی ہوں آپ مجھ سے ناراض ہیں میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ میں آپکو اس حقیقت کا احساس کبھی نہیں دلاؤں گی مگر مجبوراً مجھے یہ کرنا پڑا ۔۔۔” اسکی انکھیں نم ہوگئی تھیں اور وہ بھی افسردہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ماحول میں گمبھیرتا بڑھتی جارہی تھی کوئی کچھ نہیں بول رہا تھا کہ اچانک وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسنے لگے طلسم سلاخوں کو پکڑے اسے ہنستا ہوا دیکھ رہی تھی اور وہ اندر فاتحانہ ہنسی ہنس رہا تھا شمس بھی وہاں ہنستا ہوا آگیا تھا ۔” تو جیسا سوچا تھا مکھن کی طرح ویسا ہوتا چلا گیا ۔بغیر کسی شک و شعبہ کے میں اس محل کا حصہ بن گیا ہے ۔”
” جی ابن آدم آپ اب اس محل کا حصہ بن چکے ہیں اب جو کرنا ہے وہ کرنے میں آسانی رہے گی ۔”
