Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam NovelR50472 Shehr-e-Sahar Episode 7
No Download Link
Rate this Novel
Shehr-e-Sahar Episode 7
Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam
طلب ہے تو ۔۔۔ تو ہے نشہ
غلام ہے دل یہ تیرا ۔۔۔۔۔۔
اسنے گھما کر اسکی پشت کو سینے سے لگایا اپنی باہوں سمیت اسکی باہوں کو سمیٹ کر تھوڑی اسکے کندھے پر ٹکا دی ۔انکھیں بند کرلیں ایک ایک تان سر اسکے اندر اتر رہا تھا ۔وہ جھومنے لگا ۔۔۔
کھل کے زرا جی لوں تجھے ۔۔
۔اجا میری باہوں میں آ۔۔۔۔
اسنے اسکی پشت سینے سے لگائے ایک ہاتھ آگے باندھے ہوئے تھا ۔دوسرا ہاتھ رینگتا ہوا آہستہ آہستہ اسکے بازو سے ہاتھ تک پہنچا جسے اسنے اپنے اور اسکے سر سے اوپر اٹھایا ۔گھوما کر اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا خود سے دور کیا اور پھر اپنی جناب کھینچ کر ہاتھ چھوڑ دیا قریب آنے پر وہ ہاتھ خودبخود اسکے سینے پر لگ گئے ۔اے آیس نے ایک گہری نظر اس پر ڈالی ۔
مریضِ عشق ہوں میں ۔۔۔
کردے دوا۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاتھ رکھ دے تو دل پہ زرا ۔
سالسہ کا ہر سٹپ وہ بخوبی کر رہا تھا ۔اسے محسوس کررہا تھا اس رات کی طرح منظر دوہرایا جانے لگا تھا جگنو اسکے گرد گھومنے لگے پرندے گھونسلوں میں بچے سوتے چھوڑ کر آئے تھے چاند چپکے سے بادلوں کی اوٹ میں سے دیکھ رہا تھا ۔رات کی سیاہی انھیں دنیا کی نظر سے۔ چھپا لینا چاہتی تھی مگر جگنو ایک منور دیوار بنے کھڑے تھے ۔حنا اور علی کا تو حیرت سے برُا حال تھا کہ یہ بے زبان کیڑا ان کا مداح کیوں ہے یہ ان کے ساتھ محوِ رقص کیوں ہے کیوں انکے قریب کسی کو آنے نہیں دے رہا ۔انھوں نے ایک نظر ان جگنوؤں کا دیکھا اور پھر ان دونوں کو جو اپنی راس لیلہ میں اس قدر مگن تھے جیسے گوکل برسانہ کے رادھا کرشن ۔۔
تجھے میرے رب نے ملایا ۔۔۔
میں نے تجھے آپنا بنایا ۔۔۔۔۔
اب نہ بچھڑنا خدایا ۔۔۔۔۔۔۔
محبت روح کی ہے لازم غذا ۔۔۔۔
ہاتھ رکھ دے تو دل پہ زرا۔۔۔۔۔
گوکل برسانہ میں کرشن بانسری بجا تا تھا۔ رادھا اسکے گرد گھومتی تھے مگر یہاں نہ تو کرشن بانسری بجا رہا تھا نہ کوئی رادھا اسکے کندھے پر سر رکھے کھڑی تھی ۔ایک الگ ہی راگ تھا جو ان کے اندر بج رہا تھا انھیں دنیا سے بیگانہ کیے جا رہا تھا ۔اسکی شہادت کے انگلی تھامے وہ اسے اپنے گرد گھوما رہا تھا ایک ہاتھ پشت پر باندھ رکھا تھا گھوماتے گھوماتے اسنے اسے کمر سے پکڑ کر اپنے سے اوپر اٹھایا جس پر تالیوں اور ہوٹنگ میں اضافی ہوگیا ۔وہ اسے آہستہ آہستہ نیچے اتار رہا تھا ۔ڈانس اپنے آخری مراحل میں تھا اور اب سب سے خوبصورت حصہ تھا جب اسنے اسے گھُما کر اپنی باہوں میں گرایا
مریضِ عشق ہوں میں ۔۔۔۔کردے دوا۔۔۔
ہاتھ دکھ دے ۔۔۔۔تو دل پے زرا ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر طرف تالیاں ہوٹنگ ہورہی تھی ۔وہ دونوں ایک دو سرے کو پرمسرور نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔جس انسان سے محبت ہو جائے اس سے حسین کوئی نہیں ہوتا ۔رُخ یار سے اگر آنچل ہٹ جائے تو وقت کی رفتار خودبخود تھم جاتی ہے ۔دو نینوں کی سیاہ پلکوں کے ایک ایک بال سے لیکر گردن پر نامعلوم تل کو دیکھنے کے بعد بھی ایسا لگتا ہے وقت کتنی جلدی گُزر گیا کہ اسے غور سے دیکھنے کا وقت ہی نہیں ملا وصلِ یار سے لیکر وصالِ یار تک حسرت رہ جاتی ہے حالِ دل بیان کرنے کی اور مل جائے تو دیکھنے سے فرصت نہیں ملتی کجا زبان کچھ کہے اور جب تک زبان ہلتی تب تک وصل کے لمحے ختم ہوجاتے ہیں یا چاہتیں بڑھنے لگتی ہیں حادثے پھر سر اٹھانے لگتے ہیں اور یہی اس کے ساتھ ہوا اسکے کانوں میں وہ الفاظ گونجنے لگے ۔۔۔۔۔
دور ہٹو مجھ سے من نہیں بھرا کل تو بہت موقعیں ملے ہونگے میرے قریب آنے کے ۔۔۔۔
” تو کیا مطلب تھا میری تصویریں بنائی ویڈیو بنائی اور بھی پتہ نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک سیکنڈ لگا تھا اسے اپنی باہوں سے زمیں پر گرانے میں سب کے ہاتھ وہیں ساکن ہوگئے تھے سحر حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی ۔
” او سوری مجھے فضول بوجھ اٹھانے کی عادت نہیں ہے اور نہ ہی سب کو سنبھالنا میرا کام ۔۔۔۔”
وہ حیرت زدہ سی اسے دیکھ رہی تھی اب اسے اسکی باتیں یاد آنے لگی ۔
” دوبارہ اپنی شکل مجھے مت دیکھانا ورنہ ہر حد بھول جاؤ گا ہر بار تمہاری عزت کی حفاظت کا ٹھیکہ میں نے نہیں لے رکھا ۔”
وہ غصے سے اٹھی جوس کا گلاس لیے اسکے سر پر پہنچی گئی اسے بازو سے پکڑ کر سیدھا کیا اور سارا جوس اسکے سر پر انڈیل دیا ۔جوس قطرہ قطرہ بہہ رہا تھا وہ آنکھیں بند کیے اپنی تزلیل کو محسوس کر رہا تھا ۔وہ شہر کا سب سے بڑا ٹیکسٹائلر تھا اور ابھی ابھی ایک لڑکی کے ہاتھوں زلیل ہوا تھا وہ آپنا غصہ نکال کر دور جا کھڑی تھی جب اسنے غصے سے اسکا ہاتھ پکڑا اور کھینچنے لگا وہ مضاحمت کرتی رہ گئی علی حنا سب اسے روکتے رہ گئے اسنے گاڑی میں بٹھایا اور کسی سنسان کنسٹرکشن سائٹ پر لے آیا وہاں ہر طرف ویرانی تھی صرف سو واٹ کا ایک بلب جگمگا رہا تھا ۔وہاں لا کر اسنے پھینکنے کے انداز میں اسے چھوڑا اسنے ادھر اُدھر نظر گھما کر دیکھا
” کیوں لائے ہو مجھے یہاں تمہارا پرابلم کیا ہے کیوں پڑے ہو میرے پیچھے ۔۔۔۔۔۔۔۔”
” شٹ اپ!جسٹ شٹ اپ!!!……اسنے ایک نظر سر سے پیر تک اسے دیکھا اور کوٹ اتار کر پھینک دیا ۔۔
” یہ کیا کر رہے ہو تم ؟…”
اسے شرٹ کے بٹن کھولتا دیکھ کر وہ گھبرا گئی ۔۔۔
” تمہاری وش پوری کر رہا ہوں بہت شوق ہے نہ تمہیں میرے قریب آنے کا ۔۔۔۔”شرٹ کے بٹن کھولتا وہ آگے بڑھتا جارہا تھا اور وہ پیچھے ۔۔۔
” اس دن کس کرنا چاہتی تھی نہ مجھے تو یہاں تمہاری خواہش پوری کردیا ہوں یہاں کوئی نہیں ہے اور ویسے بھی اس دن تم نشے میں تھی فیل نہیں کر پاتی ۔۔۔۔”
” بکواس بند کرو اپنی میں ایسا کچھ نہیں چاہتی تھی اور ۔۔۔اور دور رہو مجھ سے ۔۔۔۔۔” شرٹ کے تمام بٹن کھل چکے تھے اسکے قریب آکر ہاتھ اسنے اسکے اردگرد دیوار پر ٹکا لیے ۔۔۔
” دیکھو دو۔۔۔دور رہو مجھ سے تم یہ غ۔۔غلط کر رہے ہو ۔۔۔۔۔۔” وہ اسکی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھ رہی تھی ۔
” اچھا جو اس دن ہورہا تھا وہ غلط نہیں تھا اب کیوں غلط لگ رہا جب ڈانس کر رہی تھی میرے میں چھپ کر بیٹھی تھی مجھے دیکھ کر گانے گا رہی تھی وہ سب غلط نہیں تھی ۔۔۔۔”
میں نے کہا دور ہٹو مجھ سے ۔۔۔۔۔اسنے اسے پیچھے دھکیلا مگر اسنے بازو پکڑ کر دونوں پیچھے باندھ دیے ۔۔
” کول ڈاؤن بھوکی شیرنی تمہارا یہ ہتھیار میرا کچھ بیگاڑ سکتا ہے ؟ تمہیں میں نے کہا تھا دوبارہ یہ شکل مجھے مت دیکھانا ورنہ ہر حد بھول جاؤں ۔۔۔۔۔۔” وہ اسکے چہرے پر انگلی پھیر رہا تھا جو ےٹھوڑی تک جا کر رک گئی ۔” یہ بھی کہا تھا اسےدھمکی مت سمجھنا ۔تمہاری عزت کی حفاظت کا ٹھیکہ میں نے نہیں لےرکھا۔۔۔۔۔اسنے اسکا دوپٹہ اتار کر پھینک دیا ۔۔۔
” ایم ۔۔۔ایم سوری مجھ سے غلطی ہو گئی ۔۔۔۔۔” اسکی گرم سانسیں اسے اپنے کان کے قریب محسوس ہورہی تھی ۔۔۔
” ہاں ۔۔۔کچھ کہا تم نے ۔۔۔۔” اسکے کلون کی خوشبو اسے مدہوش کر رہی تھی اسکے کان کے بندے کا کالا موتی دل مچل رہا تھا اسے چھونے کے لے کان سے آگے آئی بالوں کی کچھ لٹوں کو اپنی انگلی پر لپیٹ کر کان کر پیچھے قید کر دیا اسکے کان کے قریب جا کر کہا ” تمہیں پتا ہے تم کس قدر حسین ہو ۔۔۔” اسے خود نہیں معلوم تھا وہ کیا کہ رہا ہے دوبارہ اسکی سرمے سے بھری آنکھوں کو دیکھا جس سے آنسو ٹپک رہے تھے
” تمہاری آنکھیں ۔۔۔۔۔انکھیں اتنی گہری کیوں ہیں ۔اسنے ایک آنسو اپنی انگلی کے پور پر سمیٹا ۔۔۔۔۔ ” یہ ۔۔۔۔یہ تمہاری آنکھ کا موتی ایسا لگ رہا ہے ابھی میری انگلی میں جذب ہو جائے گا تم مجھ میں سما جاؤ گی ۔۔اسے معلوم ہی نہیں تھا وہ مدہوشی میں کیا کچھ کہے جا رہا تھا ۔اسنے ہاتھ بڑھا کر اسکے کان کے بندے کے سیاہ موتی کو چھوا ۔۔۔” یہ زیادہ سیاہ ہے یا تمہاری آنکھیں تمہاری آنکھوں سے آگے نہیں بڑھ پاتا پوری صورت کب دیکھوں گا مجھے خود پتا نہیں۔اسنے ایک ہاتھ اسکے بالوں میں پھنسایا ۔۔۔” ریشم بھی اتنی ملائم نہیں ہوتی ۔۔۔” وہ اسے خود سے دور کر رہی تھی مگر ہاتھ اسنے پیچھے زور سے باندھ رکھے تھے۔اسکےکان کے قریب وہ اسے ہر احساس بتا رہا تھا ۔” تمہاری چوڑیاں کچھ دیر پہلے ان کی کھنک میں وہ میوزک سنائی نہیں دے رہا تھا میرے قدم تمہاری چوڑیوں کی کھنک پر جھوم رہے تھے جو اب میرے ہاتھوں میں ٹوٹ رہی ہیں ۔” وہ پھر اسکی آنکھوں پر جھک گیا اسکی پلکوں کو اپنی انگلی پر اٹھایا ۔۔” اس جھرنے سے پانی کی بوندیں جب ٹپک ٹپک گرتی ہیں تو لگتا ہے میرا دل اس سیلاب میں ڈوب جائے گا تمہارے ایک ایک نقش پر تفسیر لکھ سکتا ہوں مگر آنکھوں سے فرصت ملے گی تو تمہیں دیکھو گا نہ ۔۔۔
وہ اسکی گردن پر جھکا ہی تھا جب پسینےکی ایک بوند اسکی کنپٹی پر نظر آئی وہ طنزیہ مسکراہٹ سے دور ہوا ۔۔۔
” میری قربت تو تم سے برداشت نہیں ہوتی میرے لمس سے تو مر جاؤ گی تم ۔جاؤ معاف کیا تمہیں اے ایس نے اپنا معیار ابھی اتنا نہیں گرایا کہ تم جیسوں کو منہ لگائے ۔۔۔۔ اسے وہیں چھوڑ کر کوٹ اٹھایا اور بٹن بند کرتا وہاں سے نکل گیا یہ سوچے بغیر کہ اسے کہاں چھوڑ کر جا رہا ہے ۔گاڑی چلاکر وہ وہاں سے کچھ دور آگیا تھا جب اسنے فون چیک کیا علی حنا نعیم چاچو سب کی بہت ساری مسڈ کالز تھیں اسنے علی کو کال بیک کی ۔۔
” ہیلو اے ایس تو کدھر ہے ؟”
” واپس آرہا ہوں ۔۔۔۔”
“.تم دونوں ٹھیک ہو ؟”
ہاں ٹھیک ہیں ۔۔۔۔۔
سحر تمہارے ساتھ ہی ہے نہ؟..
نہیں وہ تو ۔۔۔۔۔اسے اب احساس ہوا تھا وہ اسے کہاں چھوڑ آیا ہے اسنے فون بند کیا اور گاڑی ریورس میں لے لی بھاگتا دوڑتا اندر پہنچا جہاں سامنے کا منظر اسی غلطی کا خمیازہ تھا ۔وہ کوئی مزدور تھا جو اسے کھینچ رہا تھا زبردستی کرنے کی کوشش کررہا تھا وہ اسے خود سے دور کر رہی تھی ۔اسنے گردن سے پکڑ کر دور کیے اسے سحر کے چہرے پر تھپڑ کے نشان اور ناک سے نکلتا خون دیکھ کر اسکی تو جان کندل آگئی تھی ایک منٹ لگا تھا اسکا دماغ خراب ہونے میں اسنے اسے پیٹنا شروع کر دیا ٹانگیں تھپڑ مُکے اسے جو سمجھ آرہا تھا وہ اس پر برسائی جارہا تھا ۔مار کھا کھا کر وہ آدھ موا سا ہوگیا تھا جب اسنے اسے جبڑے سے پکڑ کر اوپر کیا ۔۔
” اسے۔ چھونے کی اجازت تو ہوا کو نہیں ہے تو نے ہاتھ کیسے لگایا۔”
اسکا ہاتھ اب اسکے ہاتھ میں تھا ۔” اس ہاتھ سے چھوا ہے نہ ۔۔۔” اسنے بازو پکڑ کر گھما دیا ہڈی چٹکنے کی آواز آئی ۔اسنے اسے اٹھا کر اپنے سامنے کیا ۔۔” ان آنکھوں سے دیکھا ہے نہ ۔۔” اسنے زوردار دو مکے اسکی آنکھوں پر مارے ۔وہ بے ہوش ہو کر وہیں گر پڑا ۔اسنے ادھر اُدھر نظر دوڑا کر اسکا دوپٹہ ڈھونڈا اور اسکے پاس چلا گیا جو دیوار کے ساتھ سر گھٹنوں میں دیے رو رہی تھی ۔اسنے دوپٹہ اسکے سر پر دے کر ہاتھ وہیں رہنے دیا ۔
” ایم ۔۔ایم سوری مجھے پتا نہیں تھا۔۔۔۔۔”بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ خوف زدہ سی اسکے سینے سے لگ گئی اسکے سر پر رکھا اے ایس کا ہاتھ ہوا میں معلق ہی رہ گیا ایک ٹھنڈا ہوا کا جھونکا انھیں چھو کر گزرا اور تب پہلی بار اسے اپنے سینے میں بائیں جانب کسی چیز کر دھڑکنے کی آواز آئی دھک!دھک!دھک! اسکے دل کے دھڑکنے کی آواز پہلی بار اتنی واضح آئی تھا اسی مقام سے جہاں سحر کا سر تھا اسنے بے ساختہ باہیں اسکے گرد حائل کر لیں ۔۔
ابھی مجھ میں کہیں باقی تھوڑی سی ہے زندگی
جگی دھڑکن نئی جانا زندہ ہوں میں تو ابھی ۔۔۔۔۔
وہ کانپ رہی تھی اسنے اسکے گرد باہوں کا گھیرا سخت کر لیا وہ رو نہیں رہی تھی ڈری ہوئی تھی ۔اسنےٹھوڑی اسکے سر پر رکھ کر آنکھیں بند کرلیں جس میں سے ایک آنسو ٹوٹ کر اسکے بالوں میں جذب ہوگیا وہ سانس بھی نہیں لے رہا تھا کہ کہیں اپنی ہی سانسوں کی آواز سے وہ دھڑکن کی آواز دوبارہ نہیں سن پائے گا ۔۔
کچھ ایسی لگن ۔۔
اس لمحے میں ہے ۔
یہ لمحہ کہاں تھمے گے ۔۔۔
اب ہے سامنے ۔۔۔۔
اسے چھو لوں زرا ۔۔۔۔
مر جاؤں یا جی لوں زرا ۔۔۔
ہوش سنبھالنے کے بعد اسنے غصے سے اسے دھکیلا ۔۔
” اب کیا کرنے آئے ہو یہاں ؟..”
” سحر مجھے پتا نہیں تھا یہ سب ہوجائے گا مجھے ۔۔۔مجھے معاف کر دو ۔۔۔۔”
” پتہ نہیں تھا سب پتا تھا یہی سب کرنے تو تم لائے تھے یہاں ۔۔۔”ناک سے خون اب تک بہہ رہا تھا ۔
” سحر تمہیں جو کرنا ہے کہنا ہے بعد میں کہنا لینا ابھی ہو سپٹل چلت کتنا خون نکل رہا ہے ۔”
” کیا دیکھنے آئے تھے میرے عزت کے لُٹنے کا منظر جو میں نہیں کر سکا کسی اور نے کردیا یا نہیں۔” اسنے اپنی ناک کر چھوا ۔۔۔۔” اب یہ ڈراما کیوں یہی وحشی پن تو تم دکھانے لائے تھے نہ اب افسوس کیوں رہا ہے تمہیں۔۔۔۔۔،”
” نہیں ۔۔۔نہیں ۔۔۔۔یہ نہیں چاہتا تھا میں غصے میں تھا ۔۔۔۔”
” غصے میں میری عزت جان داؤ پر لگا دی ۔۔۔۔۔”اس بات وہ وہ شرمندہ ہوگیا تھا ۔
” مجھے کوئی مار دیتا پھینک دیتا تو تمہارے غصے کو تسکین مل جاتی میری عزت کسی کے حوس کا شکار بن جاتی تم خوش ہوجاتے تم نے سوچا یتیم لڑکی کونسا کوئی پوچھے گا یتیموں کو کون پوچھتا ہے ۔۔۔” یہ بات تو اسے معلوم نہیں۔ تھی ۔
سحر دیکھو میری بات سنو ابھی چلو یہاں سے پلیز !! وہ اسکے منع کرنے کر باوجود اسکے قریب آگیا ۔” میں نے کہا دور رہو مجھ سے ورنہ میں تمہیں مار دوں گی ۔۔” ….” مار دینا یار لیکن ابھی چلو ۔۔۔۔” اسنے آپنا کوٹ اسے اُوڑھایا اور اسکے مزاحمت کرنے کے باوجود بھی اسے گاڑی میں بیٹھا دیا اب وہ کچھ نارمل تھی خون بھی رک چکا تھا ۔اسنے اسے ٹشو دیا جو اسنے نہیں لیا خود باکس سے نکال لیا ۔سارے راستے وہ گاڑی سے باہر دیکتھی آئی تھی ۔
” حنا سے بات کر لو وہ پریشان ہو رہی ہے ۔۔۔۔” اسنے فون اسکی جانب کیا ۔اسنے بنا دیکھے فون پکڑ لیا ۔
” ہاں حنا میں ٹھیک ہو۔نہیں سب ٹھیک فکر نہ کر ۔۔۔” یہ کہ کر اسنے فون اسے لوٹا دیا ۔
حنا اسے گھر چھوڑ دوں گا میں وہ ٹھیک ہے بلکل تجھے اپنے بھائی پر ٹرسٹ ہے یا نہیں۔ حنا مجھے پتا ہے غصے میں بھی کسی لڑکی سے بات کیسے کرنی ہے وہ ٹھیک ہے اسے سمجھانے لایا تھا کچھ ڈرانے یا دھمکانے نہیں۔میں گاڑی چلا رہا ہوں بعد میں کرتے ہیں ۔
” تمہارا گھر آگیا ہے۔۔۔۔” وہ ابھی بات کررہی رہا تھا جب وہ گاڑی سے اتر گئی ۔وہ اسے جاتا دیکھتا رہا تھا اسنے منہ پھیر لیا ” یہ کیا ہوگیا اے ایس یہ تو نہیں سوچا تھا تو نہ ۔۔۔” وہ افسوس سر جھٹک رہا تھا جب اسے کچھ ٹوٹنے کی آواز آئی وہ فوراً باہر آیا گاڑی کی ایک بیک لائٹ ٹوٹ چکی تھی اور دوسری کا وہ نشانہ لے رہی تھے ۔۔
” یہ کیا کر رہی ہو ۔۔۔۔” اسکے کہتے کہتے اسنے پتھر لائٹ پر دے مارا ۔
” یہ بتانے کے لیے کہ سحر آفندی تم سے ڈرتی نہیں ہے ۔۔۔۔” یہ کہ کر وہ رکی نہیں لیکن اس بار وہ غصے میں نہیں تھا اسے خوشی ہو رہی تھی وہ ٹھیک ہے ۔اسنے ایک نظر اپنی گاڑی کی ٹوٹی لائٹس کو دیکھا ۔
” علی صحیح کہتا ہے مجھے اپنی گاڑی کا صدقہ دینا چاہیے اس بلا سے چھٹکارہ پانے کے لیے ۔۔۔”
وہ گاڑی بہت آرام سے چلا رہا تھا اسے واپس جانے کی جلدی نہیں تھی ایک مدھم مسکراہٹ تھی جو اسکے چہرے پر تھی کیوں تھی اسے خود نہیں معلوم تھا اسنے بوریت مٹانے کے لیے ایف ایم چلا لیا تھا ۔
نشے سی چڑھ گئی ۔۔۔۔اوئے ۔۔۔کُڑی نشے سی چڑھ گئی ۔۔۔
پتنگ سی لڑ گئی اوئے ۔۔۔کُڑی پتنگ سج لڑ گئی ۔۔۔۔۔۔
ایسے کھینچے دل کے پیچے ۔۔۔۔گلے ہی پڑھ گئی ۔۔۔۔
اوئے ۔۔۔اوئے۔۔۔۔۔نشے سی چڑھ گئی اوئے کُڑی نشے سی چڑھ ۔۔۔۔
کسی چینل کر یہ گانا بج رہا تھا جو بلکل اسکے دل کا حال گیا کر رہا تھا اب اسے اس مسکراہٹ کی سمجھ آنے لگی تھے کیوں وہ مسکرا رہا ہے وہ بے ساختہ اسکی بات دوہرا گیا ۔۔۔۔” سحر آفندی تم سے ڈرتی نہیں ہے بھوکی شیرنی ۔۔۔۔۔”
اڑتی پتنگ جیسے مست ملنگ ۔۔۔جیسے مستی سی چڑھ گئی ہم کو ترنت ۔۔۔۔
ایسے لگتی کرنٹ جیسے نکلا وارنٹ جیسے ابھی ابھی تو اتری ہو نیٹ ڈائریکٹ ۔
” ویسے تو کسی کو تعریف نہیں۔ کرتا بٹ یہ ضرور کہوں گا تم جیسے لڑکی میں نے کبھی نہیں دیکھی اتنی بولڈ مجھ سے پنگا لے لیا فیصل آباد کے سب سے بڑے بزنس مین سے
The Aseer Shahnawaz سے پنگا لے لیا مگر تم ایک غلطی کر گئی کہ میں تھوڑے الگ دماغ کا ہوں مگر تم سے محبت ہوگئی یہ تو الگ دماغ بھی کہ رہا ہے ۔تمہیں کیا لگتا ہے مجھے تم سے محبت آج ہوئی ہے مجھے تم سے محبت چھے مہینے پہلے سے ہے جب میں نے تمہیں پہلی بار حنا کے ساتھ دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک فتح مند اور پراسرار مسکراہٹ سے وہ گاڑی چلا رہا تھا ۔”
