Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam NovelR50472 Shehr-e-Sahar Episode 15
No Download Link
Rate this Novel
Shehr-e-Sahar Episode 15
Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam
اگلے دن علی اور حنا صبح کی فلائٹ سے امریکہ چلے گئے تھے انھوں نے اپنا ریسیپشن امریکہ میں کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔اسیر اور طلسم نے کرنے سے ہی انکار کردیا تھا۔کچھ دن بعد اسیر بھی آفس جانے لگا تھا ۔ان چند دنوں میں اسنے سارا گھر چھان مارا تھا مگر اسے تختی کہیں نہیں ملی تھی ۔
” طلسم ہم نے کہیں غلط انسان تو نہیں چن لیا ۔۔۔” روباش پریشان نہیں یہ سوچ کر ڈر گیا تھا ۔
” نہیں روباش ایسا نہیں ہوسکتا اس کا نام اسیر ہے وہ ہیبت کو دیکھ سکتا دو نشانیاں پوری ہوئی ہیں ایسا نہیں ہو سکتا کہ تختی نہ ہو ۔”
ہے تو کہاں ہے ہر جگہ تلاش کر لیا مگر کہیں بھی نہیں ہے ۔” وہ اپنے کمرے میں آگئی تھی ۔
” سٹور روم کچن روف کوئی جگہ نہیں چھوڑی کہیں اسنے وہ تختی جلا یا توڑ تو نہیں دی ۔ یہ طلسم کا ڈر بول رہا تھا ۔
طلسم ایسا نہ کہو ایسا نہیں ہوسکتا اچھی طرح دھونڈو ورنہ ساری محنت بیکار چلی جائے گی اور تم نے اس سے نکاح بھی کرلیا ۔
روباش میں اسیر سے محبت اسلیے نہیں کرتی کیونکہ وہ وہی ہے جسے ہم ڈھونڈنے آئے تھے مجھے نہیں پتا کیوں کرتی ہوں کرتی ہوں ۔بات کرتے کرتے اسکی نظر اچانک سامنے دیوار پر پڑی جس پر ایک پینٹگ کے پیچھے سے مکڑی نکل رہی تھی ۔
” شازیہ!! شازیہ ! اسنے فوراً شازیہ کو بلایا ۔۔۔” جی بہو بیگم ؟…”
شازیہ اس پینٹگ کے پیچھے مٹی بہت ہے جالے بھی ہونگے اسے اتار کر صاف کر دو ۔۔۔اسنے نہایت نرمی سے کہا ۔
” وہ بہو بیگم اسیر بابا نے منع کیا ہے کہ اس پینٹگ کو ہاتھ نہیں لگانا نہ ہی ویسے اور نہ ہی صاف کرنے کے لیے ۔۔۔”
لیکن کیوں ۔۔۔؟ ۔۔۔۔وہ تو ہمیں نہیں پتا بہو بیگم مگر اسیر بابا نے منع کیا ہے
” ٹھیک ہے تم جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔” طلسم کیا تم بھی وہی سوچ رہی ہو جو میں ؟؟؟
روباش میں سوچ نہیں رہی میں کرنے والی ہوں ۔۔اسنے آگے بڑھ کر وہ پینٹگ ہٹائی اور وہی ہوا جو امید تھی تختی اسکے پیچھے لٹک رہی تھی گرد سے اٹی لیکن اسکے لفظ مٹے نہیں تھے ۔” اخر کار میری محنت ضائع نہیں ہوئی وہ ہمیں مل ہی گئی ۔۔۔۔۔روباش کی اس بات پر طلسم نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔تمہاری محنت ؟؟؟
ہاں تم نے بھی کی تھوڑی تھوڑی مدد اچھا پڑھو تختی پر کیا لکھا ہے ۔۔۔
اسنے تختی پر لکھی تحریر کو پڑھنا شروع کیا ۔
” نام اسیر پہچان اسیرِ طلسم شہرِسحر کا باشندہ
اسیر اسیروں کا نجات دہندہ ۔۔”
تختی پر لکھی تحریر پڑھ کر وہ کچھ لمحوں کے لیے سکتے میں آگئی تھی حالانکہ اسے خوش ہونا چاہیے تھے اب تو شک کی کوئی گنجائش بچی ہی نہیں تھی لیکن وہ خوش نہیں تھی وہ آنے والے وقت سے ڈر گئی تھی کہ وہاں اسیر کے ساتھ کیا ہوگا وہ اسے سب بتائے گی کیسے اسے وہاں لیکر جائے گی کیسے سناش کا سامنا وہ۔کیسے کرے گی آٹھ ماہ اور چند دن کا وقت اسے لگ رہا تھا جیسے ایک لمحے میں سب ہوگیا ہو اسنے ایک سرد آہ لی۔مثلث پوری ہونے والی تھی ٹکڑے جڑ گئے تھے ۔وقت آگیا تھا اسیر ابن آدم کی سناش ابنِ صیاد سے ملاقات کا ۔۔۔
یا ہووووو!!!! طلسم اب ہم شہر سحر واپس جائے گے تم اسیر کو سچ کب بتاؤ گی ؟مگر وہ اسے سن نہیں رہی تھی اسنے پھر پکارہ طلسم ! لیکن وہ اپنی ہی سوچ میں بڑبڑانے لگی ۔
” کیا ہوگا جب صیاد کو پتا چلے گا کہ آدم کی دوسری اولاد زندہ ہے وہ تو اسے جان سے مار دے گا ۔اور سناش اسے معلوم ہوگا کہ اسیر میرا شوہر ہے وہ اسکے ساتھ کیا کرے گا ۔۔نہیں روباش میں اسیر کو بھیڑیوں کی بستی میں نہیں لے جاسکتی وہ اسے مار دیں گے ۔۔۔”
تو تم یہ چاہتی ہو کہ وہ بھیڑیے شہر سحر کو پھاڑ دیں چیر ڈالیں اسے طلسم تم پاگل ہوگئی ہو اسیر شہر سحر کا نجات دہندہ ہے آدم نے اسے قرار دیا تھا تم اسے یہاں لینے آئی ہو اور اب خود غرض ہورہی ہو۔۔”
” ہاں میں ہو رہی ہوں خود غرض روباش وہ یہاں بہت نازوں سے پلا ہے معصوم ہے وہ کیسے صیاد جیسے گدھ اور سناش جیسے بہادر کے سامنے رہے گا وہ اسے نقصان پہنچائے گے اسے تکلیف دیں گے اور مجھے یہ ملال مارتا رہے گا کہ میں اسے یہاں لائی تھی ۔۔۔”
طلسم تمہارا دماغ بلکل خراب ہوگیا ہے تم وعدے سے مکر رہی دیکھو تم اسیر کو سچ بتاؤ اس سے تو پوچھ لو وہ کیا چاہتا ہے ۔
ہاں یہ ٹھیک ہے میں اسے سب سچ بتا دوں گی پھر جو اسکا فیصلہ ہو گا مجھے منظور ہوگا لیکن ایک بار اسے سب سمجھاؤ گی ضرور ۔۔۔
سارا دن وہ یہی سوچتی رہی تھی کہ وہ اسے بتائے گی کیسے اسے سب بتائے گی کیسے پھر اسنے کچھ سوچ کو ہر چیز دو دن بعد کرنے کی ٹھان لی تاکہ وہ اپنی بات ثابت کر سکے ۔ان دو دنوں میں اسنے اسے اسکے حصے کی تمام محبت دی تھی سکھ دیا تھا پیار دیا تھا کیونکہ وہ جانتی تھی آنے والا وقت کتنا مشکل ہونا تھا ۔اور آخرکار دو دن بعد چودھویں کا چاند تلوار بن کر اسکے سر پر لٹک گیا جو اسے ہر حال میں خود پر گرانی تھی وہ اور وقت نہیں لے سکتی تھی ۔وہ اپنے بیڈ پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر کچھ کام کر رہا تھا جب وہ آہستہ گھبرائی ہوئی اندر آئے وہ اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو مروڑ رہی تھی پریشانی اسکے چہرے پر واضح تھی ۔اسنے لیپ ٹاپ سے سرسری سی نظر ہٹا کر اسے دیکھا ۔
طلسم کیا ہوا تم ٹھیک تو ہو ؟ اسکا زرد پڑتا رنگ دیکھ کر وہ پریشان ہوگیا تھا ۔
اسنے ایک نظر اسکے معصوم فکر مند چہرے کو دیکھا اور دل میں سوچا رہنے دے طلسم پھر خیال آیا تیرا فرض ہےاور اسکے ماں باپ کا سچ جاننا اسکا حق بھی ہے اسنے ایک گہری سانس لی اور الماری کی طرف بڑھی ۔تختی ہاتھ میں لیے اسکے پاس آکر بیٹھ گئی ۔
” اسیر مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے ۔۔۔” لیکن اسکی نظر اس تخت پر پڑ چکی تھی ۔
” آپ نے پینٹگ ہٹائی تھی شازیہ نے آپ کو بتایا نہیں تھا ۔۔۔”
بتایا تھا لیکن ۔۔۔۔۔۔اسکی بات ابھی ادھوری ہی تھی ۔۔۔” پھر بھی آپ نے اسے نکالا وہاں کیوں ؟
” اسیر وہی بتانے لگی تھی میرے بات سنو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ اسکی کوئی بات سن نہیں رہا تھا ۔۔” میں نے پوچھا آپ نے یہ تختی کیوں نکالی ؟” اسنے غصے سے لیپ ٹاپ بند کردیا ۔
کیونکہ یہ آپ کی حقیقت ہے ۔۔۔۔بس یہی تو وہ سننا نہیں چاہتا تھا اسے دکھ بھی ہو رہا تھا اوہ غصہ بھی آرہا تھا ۔
” نہیں یہ فقط ایک مذاق ہے ایسا کچھ نہیں ہے ۔وہ حقیقت تسلیم نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
یہ سچ ہے اسیر مذاق نہیں ہے ایک ایک لفظ سچ ہے ۔۔۔۔۔
کہا نہ یہ سب جھوٹ ہے نہیں ہوں میں ایسا ۔۔۔۔اسنے تختی اٹھا کر نیچے پھینک دی تھی ۔۔
” نہیں اسیر یہ سچ ہے آپ اس دنیا کے نہیں ہیں شہرِ سحر سے ہیں وہ آپ کی دنیا ہے ۔۔۔”اسنے حیرت سے اسکی جانب دیکھا ۔
” تمہیں ان سب پر یقین ہے کہ کوئی دوسری دنیا بھی ہوسکتی ہے ۔۔”اسکا سوال سن کر اسنے ایک گہری سانس لی ۔
اسیر آپ جنات پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ ہیں ؟
طلسم ان کا ذکر قرآن میں ہے اور قرآن حقیقت ہے۔
قرآن پر یقین ہے اس بات پر یقین ہے خدا سب کچھ کرسکتا ہے تو اس بات پر کیوں نہیں کہ ایسا کوئی شہر بھی ہوسکتا ہے خدا بنا سکتا ہے ۔
پوری دنیا چھان چکا ہوں میں کوئی شہر نہیں ہے ایسا ۔۔۔۔اسیر اسکا نام شہرِ سحر ہے وہ اپنے آپ میں الگ دنیا ہے ۔جہاں ہم جیسے لوگ رہتے ہیں مگر کچھ خاص تاقتوں خوبیوں کے ساتھ ۔۔۔۔
تم اتنے یقین سے کیسے کہ سکتی ہو کہ واقعی میں ہی کوئی ایسی دنیا ہوگی ؟
کیونکہ اسیر میں بھی شہرِ سحر سے ہوں ۔۔۔یہ وہ ایٹم بم تھا جو اسیر کے سر پر پھوڑا تھا ۔۔” میں شہر سحر کے راجا زولفشان کی بیٹی شہزادی طلسم ہوں اور میں یہاں آپ کو لینے آئی تھی ۔ہیبت وہ جن آپکو یاد کے جو آپکو نظر آتا تھا وہ میرا ہی ہے میں ہی اسے آپ کے سامنے لاتی تھی ۔اپ زاہد انکل۔کے نہیں آدم کے بیٹے ہیں شہرِ سحر کے جادوگر کے آپ اس دنیا سے ہیں ہی نہیں وہاں کے لوگ مصیبت میں ہیں اپنے نجات دہندہ کا انتظار کر رہے ہیں اور وہ آپ ہیں آپ انھیں بچا سکتے ہیں ۔۔۔” وہ اسکا ہاتھ تھامے نرمی سے کہ رہی تھی ۔اور وہ اسے غور سے اسے دیکھ رہا تھا پھر اچانک اسنے اسے سینے سے لگا لیا زور سے اسکے بالوں پر لب رکھے اور آہستہ آہستہ ان پر ہاتھ پھیرنے لگا ۔۔
” طلسم میں سمجھ سکتا ہوں تم گھر میں اکیلی ہوتی ہو نہ اینیمیٹڈ فلمیں دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے یہ سب سچ ہوتا ہے مگر میری جان ایسا کچھ نہیں ہوتا سب جھوٹ ہوتا ہے ۔۔۔” اسکے سینے سے لگے اسنے ایک گہری سانس لی سب کچھ توقع کے مطابق ہورہا تھا وہ اتنی جلدی کہاں ماننے والا تھا ۔۔۔” اسیر ایک بات کہوں ؟ اس محبت بھرے لہجے پر۔ تو وہ فدا ہوجاتا تھا ۔۔۔بولو ۔۔۔
اسیر آپ کا منہ توڑنے کا دل کر رہا ہے توڑ دوں ؟ اسکی بات پر اسکی ہنسی نکل گئی تھی ۔۔۔کیوں ؟؟
” تو اور کیا کہوں میں آپ سے اتنی سنجیدہ بات کررہی ہوں آپ کو مذاق لگ رہا ہے یہ دیکھیں وہ تختی اٹھا کر اسکے پاس لائی ۔۔
یہ دیکھیں کیا لکھا ہے اس پر نام اسیر آپ کا نام اسیر ہے اور پہچان اسیرِ طلسم یعنی طلسم کا غلام کون ہے طلسم میں ہوں طلسم آپ میرے غلام ہیں آدم نے آپکو میرا غلام قرار دیا تھا ۔۔اس بات پر تو اسنے اب غور کی تھی جب طلسم نے اپنا اصلی نام بتایا تھا تب اسے یاد بھی آیا تھا مگر وہ نظر انداز کرگیا کہ شاید اتفاق ہو مگر دنیا میں کچھ بھی اتفاق نہیں ہوتا جب جب جوجو ہونا تب تب سوسو ہوتا ہے ۔۔۔” اور کیا لکھا ہے شہر سحر کا باشندہ اسیر اسیروں کا نجات دہندہ سمجھنے کی کوشش کریں ۔”
طلسم دیکھو رات بہت ہوگئی ہے تم آرام کر و یہ سب صبح تک تمہارے ذہن سے نکل جائے گا ۔۔۔۔
” اسیر آپ کو میری بات پر یقین نہیں تو آئیں ۔۔۔۔” اب اسے وہ آخری چیز کرنی پڑی کیونکہ صرف وہی اسے یقین دلا سکتی تھی کہ وہ کس دنیا سے ہے وہ اسے ہاتھ پکڑے چھت پر لائی آسمان پر چودھویں کا چاند چمک رہا تھا ۔اسکا ہاتھ پکڑے اسنے چاند کی طرف اشارہ کیا جس سے وہ قریب آگیا اسیر کے حواس تو وہ منظر دیکھتے ہی اڑ گئے تھے ۔وہ حیرت سے طلسم کو دیکھ رہا تھا جس نے ایک نظر مسکرا کر اسے دیکھا اور پھر چاند کو اور نظم پڑھنی شروع کی وہ اب بھی طلسم کو دیکھ رہا تھا ۔جو بول رہی تھی ۔
اک اجنبی سا احساس ہے ۔۔
لگتا کوئی پر پل میرے پاس ہے ۔۔۔
تم بن بنجر سی راہوں پر ۔۔۔۔۔
ریت کا ہر زرا اداس ہے ۔۔۔۔۔
وہ ابھی یہاں ہی پہنچی تھی جب اسیر خود بخود بول اٹھا ۔۔
اسیر ِ طلسم ہوں میں ۔۔۔۔
وہ طلسم ساز ہے شہر سحر کے باشندے ہم ۔۔۔
بے جرم نہ قید کا کوئی جواز ہے ۔۔۔
نظم مکمل ہونے کے بعد چاند میں ایک دروازہ کھل گیا تھا جو بلکل ویسا ہی تھا جیسا وہ طخواب میں دیکھا کرتا تھا ۔منظر اسکے لیے اتنا خوفناک تھا کی وہ لڑکھڑا کر گر گیا اسکی سانس الجھ گئی تھی ۔اسیر آپ ٹھیک ہیں ؟
۔۔مجھے اندر جانا میں یہاں نہیں رکنا چاہتا ۔۔۔وہ اٹھ کر اندر کی جانب چلا گیا ۔طلسم نے دروازہ بند کردیا جو غائب ہوگیا سب کچھ لمحوں میں ہوا تھا۔
وہ اپنے کمرے میں سر پکڑے صوفے پر بیٹھا تھا اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ سب حقیقت بھی ہوسکتا اسکا خواب اصل شکل بھی اختیار کر سکتا ہے وہ آہستہ سے اندر آئی اور اسکے پاس ہی نیچے بیٹھ گئی ۔
” اسیر دیکھا نہ میں جھوٹ نہیں بول رہی تھی سب سچ ہے ۔۔”اسنے ایک ڈری ہوئی نظر اس پر ڈالی ۔۔،” طلسم مجھے سب بتاؤ میں کون کیا ہوں ؟”
اسنے ایک گہرا سانس لیکر غفران کی بتائیں باتیں اسے من و من بتا دیں حقیقت ختم ہونے تک اسیر کی انھیں نم اور لال دونوں ہوچکی تھیں وہ سر جھکائے سب سن رہا تھا وہ دوبارہ اسکے پاس آکر کر بیٹھ گئی وہ کوئی ردِ عمل نہیں دے رہا تھا ۔
” اسیر اگر آپ چاہیں تو ہم واپس نہیں جائے گے ہم یہیں رہے گے میں بھی واپس نہیں جاؤں گی یہ غلط ہے مگر مجھے آپ سے عزیز کوئی نہیں ہے ۔۔لیکن وہ اب بھی سوچے جارہا تھا پھر کافی دیر بعد بولا ۔۔
مجھے علی اور حنا کو واپس بلانا ہوگا ۔۔۔ہاں مجھے بلانا ہوگا ۔۔۔یہ کہ کو وہ اپنے فون کی طرف بڑھا ۔
” اسیر انھیں کیوں بلانا ہوگا ؟ “
ہم چلے جائیں گے تو کسی کی تو ہونا پڑے گا یہاں بزنس سنبھالنے کے لیے گھر تو رحیم بابا سنبھال لیں گے ۔۔ وہ علی کو ساتھ ساتھ کال بھی کر رہا تھا ۔
چلے جائیں گے مطلب اسیر آپ وہاں جانا چاہتے ہیں ؟۔ کیا مطلب جانا چاہتے ہیں میں جاؤں گا ضرور جاؤں گا ۔۔
اسیر آپکی جان کو خطرا بھی ہوسکتا ہے وہاں۔..”
طلسم اس شخص نے میرے ماں باپ میرے بھائی کو مار دیا اور میں یہاں ڈرپوکوں کی طرح اپنی جان بچا کر بیٹھا رہوں نہیں ہوسکتا میں انکا بدلہ ضرور لوں گا میں واپس جاؤں گا ۔۔علی کا نمبر لگ گیا تھا وہ اس سے بات کرتا باہر چلا گیا تھااور وہ وہیں صوفے کے ساتھ نیچے بیٹھتی گئی ۔روباش لاکٹ سے باہر آگیا تھا ۔
طلسم مجھے سمجھ نہیں۔ آرہی تم یہ سب کیوں کر رہی ہو تم اسے یہاں لینے آئے تھی اب کیوں اسے لے جانے سے انکار کر رہی ہو ۔
روباش میں خود نہیں جانتی میں ایسا کیوں کررہی ہوں مجھے ڈر لگ رہا ہے میں واپس جاؤں گی اتنے سارے سوال ہونگے کہاں تھی کیوں تھی کہاں رہی کیا جواب دوں گی ؟
جس طلسم کو میں جانتا ہوں وہ تو سوال جواب سے نہیں ڈرتی جو لڑکی ایک دنیا سے دوسری دنیا میں آئی بنا ڈرے ہر مشکل کا سامنا کیا وہ اپنے شہر کے سوالوں سے ڈر گئی جہاں تمہارے دفاع کے لیے سناش ہے ۔
وہی تو سب سے بڑی مشکل اسی کا تو سامنا میں نہیں کرنا چاہتی اسکا دل ٹوٹ جائے گا ہوسکتا ہے اسے صبر آگیا ہو کہ میں مر گئی ہوں واپس نہیں آؤں گی مگر اب اگر میں گئی تو وہ مجھے ہاتھ کا چھالا بنا لے گا اور اسیر میں اسیر کے بغیر مرجاوں گی ۔۔۔۔
طلسم مجھے کچھ نہیں ہوگا تم فکر نہ کرو ۔۔۔اسیر کمرے میں واپس آگیا تھا اسکا دل دھک سے رک گیا تھا کہ کہیں اسنے سناش کا زکر سن نہ لیا ہو مگر اسنے صرف آخری جملہ سنا تھا ۔
“ طلسم تم فکر نہ کرو مجھے کچھ نہیں ہم دونوں واپس جائیں گے اور لوٹ کر بھی آئیں گے ۔اسکے ماتھے کو چوم کر اسنے اسے سینے سے لگا لیا ۔
“ اسیر آپ نہیں جانتے وہ جگہ کتنی خطرناک ہے مجھے بس آپ کی فکر ہے اسکے سینے سے لگی وہ بس سوچ رہی تھی ۔
میں نے علی کو فون کردیا ہے وہ کل اجائے گا کل بھی پوری رات کی چاند ہے ہم واپس ضرور جائیں گے ۔
اسنے اسے خود سے الگ کیا اسکا پورا چہرا آنسوں سے بھیگ چکا تھا آنے والے وقت کو سوچ کر ۔لال گیلے چہرے پر چند بال چپک گئے تھے ۔اسنے بڑے پیار سے انھیں پیچھے کیا آنسو صاف کیے چہرا ہاتھوں میں لیکر ماتھا چوما ۔۔” آج ہم اس دنیا میں اس شہر میں آخری بار ہیں کل ہم وہاں چلے جائے گے جہاں سے ہم آئے تھے تو آخری بار اس رات کو حسین یادگار بنا لیتے ہیں ناجانے وہاں ایک دوسرے کو دیکھنے کا موقع بھی نصیب ہو یا نہ ۔۔۔” اسکی بات پر اسکا دل دھڑکنا بند ہوگیا تھا ۔
