334.6K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shehr-e-Sahar Episode 3

Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam

فیصل آباد۔۔۔۔

صبح 7:30 ۔۔۔۔۔۔۔۔

سحر !سحر! اٹھو ساڑھے سات ہوگئے ہیں ۔۔۔۔۔سگفتہ بیگم اسکے اوپر سے کمفرٹر کھینچ رہی تھیں ۔۔۔۔” اٹھ جاؤ لڑکی انٹرویو دینے نہیں جانا تھا ۔الفاظ تھے یا پانی کا جگ کسی نے ڈال دیا تھا وہ کرنٹ کھا کر اٹھی ۔۔۔

شگفتہ بیگم اسے اٹھا کر نیچے چلے گئ تھیں ۔

وہ اٹھی تیار ہوئی اور نیچے آئی جہاں وہ اسکا ناشتہ پر انتظار کر رہی تھیں ۔وہ نظریں چراتی بیٹھ گئی اور چائے کپ میں ڈالنے لگی ۔۔۔۔

” تو کھُل ہی گئی جناب کی آنکھ ۔۔۔۔۔” انکا موڈ کافی خراب تھا ۔

” جی وہ ۔۔۔رات کو دیر تک تیاری کرتی رہی تھی اس وجہ سے تھوڑی ۔۔۔۔۔۔۔لیٹ ہوگئ

۔۔۔۔۔”

” چلو دعا کرتی ہوں یہ جاب تمہیں مل جائے ۔۔۔۔۔”

” شکریہ آنٹی ۔۔۔” اسنے مسکرا کر انھیں دیکھا ۔۔

” ہاں تاکہ تم پچھلے دو ماہ کا کرایہ ادا کر سکو ۔۔۔۔” اور اسی کے ساتھ سحر کے ہاتھ میں پکڑا کپ دھڑام ۔۔۔۔

” ستیاناس لڑکی یہ کیا کیا ۔۔روز کوئی نہ کوئی نقصان تم میری سب سے بڑی غلطی ہو ۔۔۔۔۔۔”

” سو ۔۔سوری آنٹی وعدہ کرایے کے ساتھ ان کے پیسے بھی ادا کر دوں کی گی ۔۔۔۔” یہ کہتی وہ گھر سے نکل گئی ۔

وہ اس وقت بس سٹاپ پر کھڑی تھی اور دعائیں بھی مانگی رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” اللہ پاک ! میری مدد فرمائیں میری مشکلات حل کر دیں ۔یہ جاب مجھے مل جائے پھر ہر مسئلہ حل ہو جائے گا ۔محنت تو بہت کی ہے مگر اپ بھی ساتھ رہنا ۔۔۔۔” وہ کریم کلر کے سوٹ میں کُھلے بال اور شفون کا اُڑتا آنچل سادہ بھی منفرد لگ رہا تھا ۔

” بس آج کوئی پرابلم نہ ہو آج اگر جاب مل گئی تو اس کرنانی چڑیل کا مکان چھوڑ دوں گی کوئی اور مکان دیکھوں گی بس آج اپنی رحمت تھوڑی زیادہ رکھنا ۔۔۔”وہ یہ دعا مانگ ہی رہی تھی جب ایک گاڑی زناٹے سے گزرتی اسُکے کپڑوں پر کیچڑ گرا کر گزر گئی ۔۔۔

” اوئے خبیس کی اولاد دھیان سے نہیں چلا سکتے کیا ؟”

وہ جیٹ بلیک کلر کی گاڑی کچھ دور جا کر رُک گئی ۔سحر نے نظر اٹھا کر اُسے دیکھا جہاں سے کوئی ہاتھ باہر نکال کر اُسے بلا رہا تھا ۔ اُسنے نظر انداز کر دیا ۔

اُسنے اپنے سائیڈ مرر سے اُس ڈھیٹ لڑکی دیکھا جو اپنے کپڑے جھاڑ رہی تھی ۔وہ اُسکے پاس آیا ۔

” کیا کہا تم نے ؟ ” ۔۔۔سحر نے نظر اٹھا کر سفید تھری پیس میں ملبوس نوجوان کو دیکھا جس نے آنکھوں پر سیاہ چشمہ لگا رکھا تھا ۔اُسکے چہرے پر داڈھی کا الگ ہی رعب تھا ۔

” خبیس بولا ہے دھیان سے نہیں چلا سکتے بلکہ تم تو اُڑا رہے تھے پتا نہیں کہاں کہاں سے اجاتے ہیں ۔”اُسنے اسکی شخصیت کو کچھ خاطر میں نہیں لایا تھا ۔

” تم جانتی ہو تم کس سے بات کر رہی ہو ؟..”

” مجھے لگا ہی تھا کہ تم انسان نہیں ہو غرور اور تکبر کے پُتلے ہو اس لیے معافی مانگنے کی بجائے اور بد تمیزی کر رہے ہو ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری ۔۔۔۔۔”

” اچھا تو تم بہت ڈاؤن ٹو ارتھ ہو زبان تو تمہاری بھی گز لمبی ہے ۔”

اسنے گھور کر اسے دیکھا ۔۔” ڈاؤن ٹو ارتھ ہوں اسلیے اب تک بات کر رہی ہوں ورنہ تمہارا تو منہ توڑ دینا چاہیے تھا ۔۔۔” اسنے ایک نظر سحر کے لال سرخ چہرے کو دیکھا ۔دو لمحے تو چہرے سے نظریں ہٹانا ہی بھول گیا مگر پھر سنبھل گیا ۔۔

” ہاں تو تمہیں کس نے کہا تھا راستے میں کھڑے ہونے کے لیے ۔۔۔۔”

” کیا !! میں ۔۔۔۔میں راستے میں کھڑی تھی تم واقعی ہی اندھے ہو وہ دیکھو کیا لکھا ہے ” ویٹنگ ایریا ” بس سٹاپ ہے یہ ۔سارے کپڑے خراب کر دیے میرے ۔۔۔”

او ! تو اب سمجھا میں تم یہ سب تماشا کیوں کر۔رہی تھی ۔یہ لو ایسی چار ڈریسزز اور لے لینا یہی تو کام ہے تم جیسی لڑکیوں کا ۔۔۔۔۔اُسنے چند نوٹ اُسکے ہاتھ میں تھما دیے ۔۔۔

سحر نے ایک نظر نوٹوں کو اور پھر اسے دیکھا جو حقارت سے اُسے دیکھ رہا تھا وہ غصے میں تھی مگر اب عروج پر پہنچ چکی تھی ۔اُسنے غصے سے وہی نوٹ اس پر اچھال دییے ۔۔۔

” اپنے کپڑوں کی فکر میں خود کر لوں گی تم ان پیسوں سے تہذیب و ادب کی کتابیں خرید لینا یا دوبارہ سکول میں ایڈمیشن لے لینا کیونکہ آپ کو تمیز بلکل نہیں آتی سکول میں بہت اچھے سے سکھاتے ہیں ۔۔۔۔۔” بس آگئی تھی وہ چلی گئی اور وہ حیرت زدہ سے اسکو دیکھ رہا تھا وہ اُسکے پیچھے جانے لگا تھا جب علی نے روک ۔۔۔

” اے ۔ایس فارنرز کے ساتھ میٹنگ ہے دیر ہوگئی تو مسئلہ ہو جائے گا ۔چھوڑو اِسے ۔۔۔۔وہ بھی اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا ۔

ایک ہی شہر کے دو باشندے مخالف سمت میں چل دیے اس بات سے نا آشنا کہ وقت نے ان کی سانس تک ایک لکھی ہے ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام علیکم سر ! کیا میں اندر آ سکتی ہوں ۔۔۔” اُسنے دروازے پر دستک دے کر پوچھا ۔

” جی جی آئے مس سحر آفندی میں آپ ہی کا انتظار کر رہا تھا ۔” نعیم صاحب نے نظر اٹھا کر دروازے میں کھڑی لڑکی کو سر سے پاؤں تک دیکھا ۔

” لگتا ہے آپ کے ساتھ راستے میں کوئی حادثہ پیش آگیا تھا ” اُسکے کپڑوں پر کیچڑ کے داغ اسکی حالت کا پتہ دے رہے تھے ۔

” جی ۔جی سر وہ راستے میں ایک بدتمیز جاہل گاڑی والا کیچڑ اچھال گیا پر میں نے بھی جانے نہیں دِیا اچھی بھلی کر کے آئی ہوں یار رکھے آئیندہ پنگا نہیں لے گا میں تو ۔۔۔۔.” بات کرتے کرتے اُسے جیسے یاد آگیا وہ کہاں بیٹھی ہے ۔

” ہاہاہا ۔۔۔حِنا نے سہی کہا تھا آپ کچھ زیادہ بولتی ہیں۔۔۔۔۔” انکی بات پر وہ کچھ شرمندہ سی ہوگئی ۔

” حِنا کی کال آئی ہے مجھے انھوں نے آپ کے بارے میں بتایا تو آپ مجھے اپنے ڈیزائینز اور سی وی دِکھا دیں ۔۔۔۔۔”

جی ضرور سر یہ دیکھیں ۔۔۔۔” اسنے انھیں ایک فائلز تھما دی ۔۔۔۔

” ہہہمم …ڈیزائن اور کولیفیکیشن تو اچھی ہے آپکی مگر آپ سے بہت بہتر امیدوار ہوکر جاچکے ہیں اور آپ تھوڑا لیٹ بھی ہیں ۔۔۔”

” میں جانتی ہوں بٹ میرے لیے یہ جاب بہت ضروری ہے تو پلیز سر۔۔۔۔۔۔

” جی ۔جاب تو آپ کو تبھی مل گئی تھی جب حِنا نے مجھے کال کی تھی یہ رہا آپ کا اپوائنٹمنٹ لیٹر آپ کل سے جوائن کر سکتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ “

” تھینک یو سر تھینک یو سو۔مچ ۔۔۔۔۔” اُن کا شکریہ ادا کرنے کے بعد وہ باہر آئی اور سب سے پہلی کال حِنا کو کی تھی ۔۔

” اسلام علیکم حِنا تھینک یو یار تو نہ ہوتی تو پتہ نہیں میرا کیا ہوتا ۔۔۔۔۔”

” ارے پاگل ہوگئی ہے کیا دوستی میں نو سوری نو تھینک یو میں تیرے لیے ہمیشہ موجود ہوں ۔۔۔۔۔”

” اچھا تیرے پاپا کیسے ہیں مطلب غصے والے ہیں یا نرم ۔۔” اپنے باس کے بارے میں پہلے پتہ ہو تو اچھا رہتا ہے ۔

” ویسے تو زیادہ غصہ نہیں کرتے مگر وقت کے بہت پابند ہیں تو کوشش کرنا وقت پر آیا کرے ورنہ وہ ناراض ہوں گے ۔۔۔۔۔” اسے بات کرتی وہ باہر نکل گئی ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ دونوں اس وقت کانفرنس روم میں بیٹھے تھے ۔علی فارنرز کے ساتھ کوئی بات کر رہا تھا اور اے۔ایس کسی سوچ میں گم تھا بار بار ایک آواز اسکے کانوں میں پڑ رہی تھی اور وہ تھی سحر کی اُسکا لال غُصے والا چہرا باربار اُسکے سامنے آرہا تھا ۔

” اے ۔ایس میٹنگ سٹارٹ میٹنگ سٹارٹ کرو ۔۔۔”علی کی آواز سے وہ خیالوں باہر آیا ۔اُسنے پریزنٹیشن شروع کی مگر آج وہ دھیان نہیں دے پا رہا تھا بار بار اُسکی آواز اُسکے کانوں میں پڑ رہی تھی ۔

” خبیس بولا ہے دیکھ کر نہیں چلا سکتے ۔۔۔۔” اُسکا ایک ایک لفظ اسے ڈسڑب کر رہا تھا اسنے بہت کوشش کی اور جیسے تیسے کرکے میٹنگ ختم کی اور اسکے رویے پر علی ہکا بکا رہ گیا ۔علی فارنرز کو لیکر باہر چلا گیا جو چہرے سے مطمئین نہیں لگ رہے تھے ۔اُنکے جانے کے بعد اے۔ایس نے فون اٹھا کر پروجیکٹر کی سکرین مارا اور سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔

” اے ۔ایس تمہیں کیا ہوگیا تھا آج دھیان کدھر تھا تمہارا ؟؟؟” علی انھیں چھوڑنے کے بعد واپس آیا ۔

” پتا نہیں۔ یار وہ صبح والی لڑکی ۔۔۔۔” اسکی بات ابھی ادھوری ہی تھی ۔

” کیییا !!! تو اس لڑکی کو سوچ رہا تھا ؟…”

” میں اسے سوچ نہیں رہا تھا خیر چھوڑ میٹنگ تو خراب ہوگئی یاد ۔۔۔۔”

” ہاں وہ تو ہو گئی وہ کافی ناخوش تھے یہ کانٹریکٹ تو گیا ..”

علی نے افسوس سے سر جھٹکا ۔

یہ سب اُس لڑکی کی وجہ سے ہوا ہے اسکا ہرجانہ اسے ادا کرنا پڑے گا ۔۔۔” اسنے غصے سے مکا ٹیبل پر مارا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلے دن وہ وقت پر بس سٹاپ پر کھڑی تھی ۔اج اسنے بلیک چغن کا کُرتہ پہنا ہوا تھا سادہ وائٹ ٹراؤزر اور سفید شفون کے دوپٹہ کمر تک کھلے بال وہ حسین تھی تو چاندنی رات کے طرح ۔۔۔۔۔۔آج اسکا فسٹ ڈے تھا اور وہ بہت خوش لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ ابھی کونسا شطان اُسکے پاس آنے والا ہے ۔وہ گاڑی میں بیٹھا اس کے آنے کا انتظار کر رہا تھا آج اُسے آفس نہیں جانا تھا جمعہ کو وہ اکثر آفس نہیں جاتا تھا ۔سفید شلوار قمیص کی آ ستینیں موڑے وہ سٹیرنگ پر ہاتھ رکھے اپنی گِرے آنکھوں سے اسکا سر سے پاؤں تک جائزہ لے رہا تھا ۔ داڑھی سے بھرے اس دلنشین چہرے پر ایک دلفریب مسکراہٹ ائی تھی ۔وہ حسین تھا تو طلوعِ آفتاب کے منظر جیسا ۔۔۔۔۔

۔۔

وہ آہستہ سے گاڑی چلا کر اُسکے پاس آیا وہ اِس بلیک گاڑی کو کیسے بھول سکتی تھی ۔وہ باہر آیا سحر نے سر سے لیکر پاؤں تک پشاوری چپل پر سفید کاٹن کا سوٹ پہنے اس شطان کو دیکھا جو اسے دیکھ کر دانت نکال رہا تھا ۔

” پہچانا مجھے مس ڈاؤن ٹو ارتھ۔۔۔۔۔”

” اگر میں نے تمہارا منہ توڑ کر تمہارے منہ کا جغرافیہ بگاڑ دیا ہوتا تو شاید نہیں ” یہ اسنے دل میں سوچا تھا کہا تو بس یہی ۔۔۔۔۔

” تمہارے جیسے ناجانے کتنے نمونے روز ملتے ہیں سب کو یاد رکھوں گی تو میموری فُل ہو جائے گی ۔۔۔۔”

” اچھا بھول گئی اوہو اب تو یاد دلانا پڑے گا ۔” اسنے بیچارا سا منہ بنا کر کہا ۔بس نے آکر ہارن بجایا وہ جانی لگی تھی جب اسنے روک لیا ۔۔۔

” کہاں جارہی ہو؟ ۔۔۔۔” اففففف اتنا معصوم سوال ۔۔۔۔۔۔۔

” یار تمہاری فیملی تمہیں گھر سے نکالتی کیوں اگر تمہیں کچھ نظر نہیں آتا کبھی تم کسی پر کیچڑ اچھال کر چلے جاتے بس سٹینڈ ویٹنگ ایریا اور سڑک میں فرق تمہیں نظر نہیں آتا ہٹو پیچھے بس آگئی ہے مجھے جانا میرا جاب کا فسٹ ڈے ہے میں لیٹ نہیں ہونا چاہتی ۔۔۔۔”

” ارے جھوٹی میں تو یاد ایک ایک بات یاد ہے میری ۔۔۔۔۔” مگر وہ اسے نظر انداز کرکے بس میں سوار ہو گئی ۔۔اچھا تو فسٹ ڈے ہے آج ۔۔۔۔۔۔” کچھ سوچ کر وہ بس ڈرائیو کے پاس گیا ۔اس سے بات کرنے کے بعد وہ واپس سحر کی ونڈو سائیڈ پر آیا۔اسے تھمز اپ دیا اور دانت نکال کر بائے کہ رہا تھا ۔سحر اسکے عجیب رویے پر حیران تھی ۔بس چل پڑی وہ کوئی فائل دیکھنے لگی تقریباً آدھے گھنٹے بعد اسنے حیرت سے سر اٹھا کر دیکھا کہ وہ اب تک پہنچی کیوں نہیں مگر جیسے ہی ڈرائیور نے یو ٹرن لیا اسکے تو چھکے چھوٹ گئے وہ واپس اسی بس سٹینڈ پر کھڑی تھی ۔جہاں وہ ابھی تک دانت نکال کر اسے ہائے کہ رہا تھا اسنے کھاجانے والی نظروں سے اسے دیکھا ۔وہ بس میں سوار ہوگیا اتفاقاً سحر کے ساتھ والی سیٹ خالی تھی وہ وہیں بیٹھ گیا مگر وہ دیکھ کہاں رہی تھی وہ تو سوچ رہی تھی کہ آفس جاکر جواب کیا دے گی وہ بھی فسٹ ڈے اسے تو یہ بھی معلوم نہ چلا کہ وہ افلاطون اسکی ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا ۔۔۔۔۔۔

” تو کیسی لگی لانگ ڈرائیو آن لوکل مس ڈاؤن ٹو ارتھ۔۔۔۔۔۔۔۔”مگر ابھی بھی نہیں سن رہی تھی ۔۔

” مس ڈاؤن ٹو ارتھ آر یو زندہ ۔۔۔۔۔” اسنے اسکے سامنے ہاتھ لہرایا وہ ہوش میں آئی تو اسے اپنے ساتھ بیٹھا دیکھ کر اسکا ضبط جواب دے گیا ۔اسنے مارنے کے لیے مکا بنایا جِسے ایے۔ایس نے پکڑ لیا وہ چھوٹا سا نرم سا مکا اسکے سخت اور کشادہ ہاتھ میں سما سا گیا سحر کے لمس سے اسے ایک عجیب خوبصورت سا احساس ہوا مگر وہ نظر انداز کر گیا ۔۔۔

” اوہو بھوکی شیرنی تو یہ ہتھیار ہیں تمارا ایک چیتے کو مارنے کا ۔۔۔۔” اسنے اسکی پتلی سی کلائی پکڑ کر کہا جو اسنے کھینچ کر چھڑا لی ۔

” تم نے کیا ہے نہ یہ تم نے ڈرائیور کو پیسے دیے ہیں نہ ۔۔۔۔۔”

“ہاں ..” اسنے کندھے اچکا کر کہا سحرکا دل عش عش کر رہا تھا اسکی ڈھیٹائی پر ۔۔۔۔۔۔۔۔

” وجہ محترم بھی بتا دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ “

” ارے یار جب تمہیں کچھ یاد ہی نہیں رہتا تو جاب کیسے کرو گی تمہاری فیملی تمہیں گھر سے نکالتی کیوں ۔۔۔۔.” جیسے کو تیسا والا جواب آیا تھا ۔

وہ منہ پھلا کر بیٹھ گئی اب وہ اسے کہتی بھی تو کیا کہتی ۔۔۔

بس محوِسفر تھی خاموشی مہمان بنے بیٹھی تھی اور اے ۔ایس اپنی غلطی پر پچھتا رہا تھا کہ وہ کیوں اس گھٹیا بس میں بیٹھ گیا ۔پہلی بار وہ لوکل پر سفر کررہا تھا ۔اوپر سے ونڈو سے آتی ہوا بار بار اسکے بال خراب کر رہی تھی ۔اسنے ونڈو بند کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا بنا یہ دیکھے کہ وہ سحر کے کس قدر قریب آگیا تھا ۔ااسنے ایک آوارہ نظر اسکے چہرے کو دیکھا مگر وہ وہیں ساکن ہوگئی بڑی آنکھیں جن کو کاجل کی سیاہی نے آتا کالا کردیا کہ کوئی دیکھے تو اندھیری رات میں گُم ہوجائے ۔ہوا سے اڑتے بال جیسے ڈور کی قید سے آزاد پتنگ بےلگام ہوا کی لہروں کے ساتھ اُڑ رہی ہو ایک لمحے کو اسکا دل کیا تھا وہ انھیں پکڑ کا کان کے پیچھے قید کر دے ۔کان کے خیال سے اسنے نظر گھوما کر اسکے کان کو دیکھا جہاں ایرنگ کا شفاف موتی شبنم کو وہ قطرہ لگ رہا تھا جِسے چھونے سے بھی ڈر لگے کے کہیں وہ ہماری انگلی میں ہی جذب نہ ہو جائے ۔نظریں پھر آنکھوں کا تعاقب کرنے لگی تھیں ۔گھنی سیاہ پلکیں اٹھ کر پھر جھک چکی تھیں ۔انکی شیپ ایسی تھی جیسے کوئی کوہ پیما پستی سے بلندی کی طرف جائے ۔سفید آئی بال پر سیاہ لینز پرنور دن میں سورج گرہن لگتا تھا۔وقت تو جیسے اس کے لیے تھم سا گیا تھا ۔چہرے کے باقی نقوش کو دیکھنے کا تو وقت ہی نہیں ملا نظر تو ابھی آنکھوں کو مکمل نہیں دیکھ پائی تھیں کہ جب ڈرائیور نے بریک لگا دی ۔وہ ایک جھٹکے سے سیدھا ہوا ۔وہ حیران تھا وہ یہ کیا کر رہا تھا ۔سہی نام رکھا تھا اسکا کسی نے سحر ایک جادو ہی تھا جس میں وہ جکڑتا جارہا تھا ۔۔اسنے نظر گھوما کر اسے دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

” کیا ہے ؟؟؟….” اسے اپنی طرف ایسے دیکھتا پا کر وہ کچھ ہچکچا سا گیا ۔

” راستہ دو مجھے جانا ہے ۔۔۔۔” وہ اٹھ کھڑا حیرت سے کہ اسنے اسکی بات مانی کیوں ایسا کیوں لگ جیسے یہ اسکا حکم تھا اور اسے ماننا اسکا فرض ۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اس وقت نعیم صاحب کے سامنے انکے آفس میں بیٹھی تھی جو اسے افسوس اور حیرت کے ملے جلے تاثرات سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔

” سر وہ میرے پاس پبلک ٹرانسپورٹ کے علاوہ کوئی طریقہ نہیں ہے آنے کا اور پاکستان کی پبلک ٹرانسپورٹ کا آپ کو پتا ہے اسلیے تھوڑا لیٹ ہوگئی سر ایم سوری ۔۔۔۔۔۔” وہ کمزور دلیلیں دے رہی تھی کیا بتاتی کس آفت سے جان چھڑا کر آئی ہے ۔۔۔۔۔

” آج آپ کا فسٹ ڈے تھا مس سحر آفندی اور پہلے دن ہی پینتالیس منٹ لیٹ ہیں آگے کیا کریں گی ؟….”

” سر ایم رئیلی سوری میں آئیندہ دھیان رکھو گی کبھی لیٹ نہیں ہونگی پلیز سر ۔۔۔۔۔۔”

” چلیں پہلے دن کی پہلی غلطی سمجھ کر معاف کر دیتے ہیں مگر آئیند دھیان رکھے جائے اور اپنا کام کریں ۔۔۔۔۔۔۔”

” تھینک یو سر تھینک یو سو مچ۔۔۔۔۔” انکا شکریہ ادا کرکے وہ باہر آئی اور ایک ہی دعا کی ۔۔۔” کاش اسکی اور میری ملاقات دوبارہ کبھی نہ ہو۔۔۔۔۔۔”

مگر یہ کیسے کو سکتا ہے کہ شہ رگ ہوا سے دور رہے پروانہ شمع کو بھول جائے.