334.6K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shehr-e-Sahar Episode 17

Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam

غیر ہوگیا ہے وہ اسے آپکا غم کھا گیا شہزادی ہر روز جب بھی میں محل میں کام کے لیے جاتا ہوں وہ آپکے کے کمرے میں ملتے ہیں آپکی چیزوں کو دیکھتے رہتے ہیں کہتے رہتے ہیں کہ آپ ایک دن ضرور آئے گی آپ کیسے مر سکتی ہیں اگر میری سانس چل رہی ہے تو آپکا دل بھی لازمی دھڑک رہا ہوگا ۔۔۔۔۔”

” اے غفران تو سناش کی باتیں چوری چوری سنتا ہے تجھے شرم نہیں آتی جو ایسے چوری باتیں سنتے ہیں نہ قیامت والے دن انکا الگ سے حساب ہوگا سیسہ پگھلا کر ڈالیں گے تیرے کانوں میں ۔۔۔” روباش کھانے والی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔

” شہزادی آپ اسیر کو محل اپنے ساتھ لیکر جائیں گی ؟ ،”

نہیں غفران ابھی نہیں ابھی تو مجھے خود معلوم نے میں جواب کیا دوں گی سب کو سناش کا سامنا میں کیسے کروں گی ۔

” ویسے ہی جیسے ایک دوست دوسرے دوست سے ملتا ہے جیسے ایک روح جسم سے ملکر اسے زندہ کردیتی ہے جیسے سورج کی کرنیں دنیا کو پر نور کردیتی ہیں ویسے ہی تم سناش سے ملو وہ تم سے کوئی سوال نہیں کرے گا ۔۔جواب اسیر نے دیا تھا ۔

” اسیر آپ جانتے کہ سناش مجھ سے ۔۔۔۔” ناجانے کیوں وہ جملہ مکمل نہیں کرسکی ۔

کہ وہ تم سے عشق کرتا ہے ۔کوئی اندھا بھی سن کر بتا سکتا ہے کہ جو انسان اپنا جاہ و جلال حسن تیاگ کر روگی بنا بیٹھا ہے وہ کوئی عاشق ہی ہوسکتا ہے ۔مجھے اس سے جلن نہیں ہورہی مجھے رشک آرہا ہے کہ ایک تو اسنے محبت کی دوسرا تم سے کی اور تیسرا بے انتہا کی کہ دنیا ہی بھول بیٹھا اس سے ملو اسے سمجھاؤ وہ سمجھ جائے گا اور مجھے کسی بات کی پریشانی نہیں ہے مجھے تم پر پورا یقین ہے کہ تم صرف میری ہوں ۔” لیکن محبت جب جفت کو طاق کردیتی ہے تو ظلم و وحشت انتہا کردیتی ہے ۔

” اسیر میں آپکو وہاں نہیں لے جاسکتی وہاں آپکی جان کو خطرا ہے مجھے ڈر ہے کہ کہیں کوئی آپکو پہچان نہ لے اور صیاد کی نظر باز جیسے ہے میں آپکو خطرا مول نہیں سکتی ۔”

آپ ٹھیک کہ رہی ہیں شہزادی ہمیں جو کرنا ہے ہم یہاں رہ کر کرے گے صیاد کو کبھی پتہ نہیں چلے گا کے آدم کا بیٹا زندہ ہے ۔

غفران نے انکلیے اوپر اپنا کمرا کھول دیا تھا خود وہ نیچے تیخانے میں ہی سوگیا تھا ۔اسیر بستر سے نیچے بیٹھا تھا کسی گہری سوچ میں وہ غرق بھی اسکے پاس نیچے ہی بیٹھ گئی ۔

اسیر کیا سوچ رہے ہیں ؟…. بچپن میں ہمیشہ سنتے تھے کہ زندگی بدلنے کے لیے ایک لمحہ بھی کافی ہوتا آج اسے سچ ہوتا دیکھ رہا ہوں تو عجیب لگ رہا ہے کہاں وہ اسیر شاہنواز جو بڑے بڑے بزنس مینز کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھتا تھا حقیقت میں وہ ایک غلام ہے قیدی ہے اسیر طلسم ہوں ۔

نہیں اسیر میں اپ کو کبھی بھی یہ کہ کر نہیں پکاروں گی کبھی اسیر طلسم نہیں بننے دوں گی ۔

مجھے پتہ تم کبھی مجھے اس نام سے مخاطب نہیں کرو گی کیونکہ تم میں غرور نہیں ہے تم تو میرے مس ڈاؤن ٹو ارتھ ہو !! اسنے اسکے گال پر ہاتھ رکھا تھا ۔

آئی لو یو ! وہ اسکے لبوں کی طرف بڑھا ہی تھا کہ اسنے اسے پیچھے کیا ۔۔” غفران آ جائے گا ہم اکیلے نہیں ہے ۔وہ ایک سانس خارج کر کے سیدھا ہوا پھر اچانک بولا ۔” طلسم غفران چچا اگر میرے چچا ہیں تو تم بھی انھیں چچا کہا کرو تم انکا نام کیوں لیتی ہو؟”

” خبردار طلسم جو تم نے اس غفران کو چچا پھوپھا ماموں کہا تو اسکا نام تو نک چڑا زافران ہونا چاہیے ۔۔۔۔” روباش ایک دم لاکٹ سے باہر آگیا اسیر ایک جھٹکے سے اس سے دور ہوا وہ دونوں حیرت سے اڑتے ہوئے جن کو دیکھ رہے تھے جسے دیکھ کر اسیر کے دل میں پہلا جملہ آتا تھا کیوٹ سو کیوٹ مگر ناجانے کیوں وہ اس سے آکھڑا اکھڑا رہتا تھا ۔وہ طلسم کے کندھے پر بیٹھ گیا تھا ۔”کیوٹی پائے میرا مطلب روباش تم مجھے سے ناراض کیوں ہو؟”

” کیونکہ تمہاری وجہ سے طلسم کو اس دنیا میں جانا پڑا اور سناش کی یہ حالت ہوگئی ۔۔” وہ منہ پھُلائے بیٹھا تھا

” اس میں میرا کیا قصور ہے ؟”

تمہارا ہی قصور ہے اب بھی تمہاری شادی طلسم سے ہوگئی ہے سناش کو پتہ چلے گا تو اسے کتنی تکلیف ہوگی ۔بات تو اسکی بھی غلط نہیں تھی اسنے جانے انجانے میں کسی کو اتنا بڑا دکھ دے دیا تھا ۔طلسم کے آنسوں تو پھر سے جاری ہوگئے تھے روباش کھڑکی سے باہر چلا گیا تھا اسے فکر تھی تو بس آپنے سب سے اچھے دوست سناش کی وہ اسے محل میں دیکھنے گیا تھا .وہ ہچکیوں کے ساتھ رو رہی تھی ۔

” طلسم ! طلسم میری جان کیا ہوگیا ہے ؟” اسنے اسکا چہرا ہاتھوں میں تھاما ۔

” اسیر مجھے نہیں پتہ تھا کہ سناش کی یہ حالت ہو جائے گی مجھے علم نہیں تھا کہ وہ مجھ سے اتنی محبت کرتا ہے کہ روگی ہوجائے گا ۔وہ میرا بچپن کا دوست تھا ۔ہمیشہ ہر تکلیف میں مشکل میں میرے سامنے کھڑا رہتا تھا ۔اتنی محبت کرنے کے باوجود مجھے کبھی ہاتھ نہیں لگایا سوائے میرے پیر کے انگوٹھے کے وہ بہت اچھا اتنا کہ کسی کو بھی اس سے لازوال عشق ہوسکتا ہے مگر میں نہیں۔ کر سکی صیاد نے جو ابا اور امی کے ساتھ کیا وہ مجھے سناش سے بھی دور لے گیا اور پھر یہ دل آپکے لیے دھڑکنے لگا بتائے اس میں کیا قصور ہے میرا؟

نہیں اس میں نہ تو تمہارا قصور ہے نہ سناش کا دل پر زور نہیں چلتا پیار کے گہرے ساغر میں سیپ کا موتی ہوتا ہے یہ من اب یہ کس کے قسمت میں کس پر آئے یہ وہ خود طے کرتا ہے ہم زبردستی کسی کو اپنے ساتھ باندھ کر تو رکھ سکتے ہیں مگر اسے خود سے محبت نہیں کروا سکتے ۔تم کہ رہی ہو اسنے تمہیں کبھی چھوا نہیں زبردستی نہیں کی تو وہ تمہیں حاصل نہیں فتح کرنا چاہتا تھا اور جب کسی جنگجو سے اسکی منزل اسکی فتح کا صلہ عین وقت پر چھن جائے تو وہ ٹوٹ جاتا ہے تمہارا قصور بس اتنا ہے تم اسے میدان میں جنگ کرتا چھوڑ گئی اور جس کے لیے وہ لڑ رہا تھا وہ ہی نہ رہا تو وہ کس کے لیے جستجو کرتا اسلیے اسنے دنیا سے بےگانگی اختیار کرلی جسے تم واپس لا سکتی ہو سناش کو اسکی جستجو واپس کردو۔۔۔

” کیسے کردوں اسیر جس میں اسکے حریف آپ ہیں ؟”

” تمہیں کس نے کہا کہ اسکی جنگ میں اسکا حریف میں ہوں ۔اسکا حریف میں نہیں وہ خود ہوگا اسے خود سے لڑ کر اپنے آپ پر قابو پانا ہوگا کہ وہ اس انسان کی حسرت چھوڑ دے جو اسکی قسمت میں نہیں ہے ۔اگر خدا ہمیں وہ انسان نہیں دے رہا تو ضروری نہیں کہ ہم شاید اس انسان کے قابل نہیں یہ بھی ہوسکتا ہے وہ انسان ہمارے قابل نہ ہو ہو سکتا ہے کہ خدا نے اسکے لیے ایک بہترین شخص ڈھونڈ رکھا ہو۔سناش کو خود سے لڑ کر بس یہ جاننا ہے کہ جو انسان آپ کا نہیں ہوسکتا کسی اور سے اسکا نصیب جڑا ہے اسے چھوڑ دینا بہتر ہے اس سے تکلیف اور ازیت کم ہوجاتی ہے ۔تمہیں اتنا کرنا ہے کہ اسے ایک بار پھر میدان جنگ میں اتارنا ہے ۔” وہ سر جھکائے اسکی باتیں سن رہی تھی ۔

” اور اگر میرا دل بہک گیا تو ؟ اسنے ایسے ہی پوچھ لیا تھا ۔

” تو مجھے بتا دینا میں خاموشی سے اپنی دنیا میں چلا جاؤں گا کیونکہ تمہاری خوشی میری خوشی ۔۔۔” اسنے اسکے ماتھے پر لب رکھ دیے تھے ۔

اسیر میرا دل کبھی بھی بہک نہیں سکتا یہ آپ سے محبت کرتا تھا اور آپ ہی سے کرتا رہے گا ۔

میں کیسے مان لوں تم محبت کرتی ہوں ثبوت دو ۔۔

ہیں کیوں یقین نہیں اور کیسا ثبوت دوں ؟ اسکے جواب میں وہ اسکی جانب مڑ گیا ” کس کرو !!

“ اسیر غفران اجائے ۔۔۔۔۔اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے وہ اسے اپنے قابو میں کر چکا تھا ۔اسے گھونٹ گھونٹ پینے کے بعد وہ اس سے الگ ہوا ۔” معزرت شہزادی میں نے آپکو کس کرلیا ۔۔۔” اس بات پر دونوں کھلکھلا کر ہنس پڑے ۔اسکے کندھے پر سر رکھے وہ دونوں نیچے ہی سو گئے تھے ۔

ادھر روباش محل میں سناش نے کمرے میں تھا مگر وہ کمرے میں نہیں تھا پھر وہ طلسم کے کمرے میں آیا وہ ہیں نیچے بستر کے پاس بیٹھا تھا طلسم کی چوڑایاں اسکے کپڑے زیور جوتے تک اسکے سامنے قالین پر پڑے تھے ۔اور خود وہ بے ہو شوں کی طرح انھیں دیکھ رہا تھا ۔روباش کا دل اور بجھ گیا تھا .وہ کبھی اسکی چوڑیوں کو ہاتھ میں اٹھا کر دیکھتا کبھی اسکے کپڑوں کو ۔۔۔” سناش تم فکر مت کرو کل طلسم اجائے گی ۔اور اسنے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ تمہاری بچپن والی دوست بن جائے گی اب بے رخی نہیں کرے گی ۔۔۔۔”

صبح سب کے لیے ایک نیا رخ لانے والی تھی کسی کی آزادی کا پیخام آنا تھا تو کسی کی اسیری شروع ہوجانی تھی ۔

شہر سحر میں اسیر کی نئی صبح کا سورج طلوع ہوچکا تھا۔وہ اسکے کندھے پر سر رکھے ابھی تک سو رہی تھی ۔اسنے مندمل آنکھوں سے اسے دیکھا ۔” طلسم اٹھو شہر سحر میں ہماری پہلی صبح کا آغاز ہوچکا ہے ۔” لیکن وہ سوئی کب تھی جو وہ اسے اٹھاتا ۔۔” اسیر مجھے آج واپس محل جانا ہوگا ۔” اسیر کا دل اداس ضرور ہوگیا تھا مگر اسکی ہمت بڑھانے کے لیے اسے ہمت دکھانی تھی ۔” ہاں تو اٹھو اور جاؤ جان چھوڑو میری ویسے بھی میں تنگ آگیا ہوں تم سے لڑ لڑ کر ۔۔۔” وہ ایک دم سیدھی ہوئی ..” اسیر آپ مجھ سے تنگ ہیں ۔” ۔۔۔۔

ہاں تو اور میں تمہیں یہاں لایا ہی اسلیے تھا کہ تم سے جان چھڑا سکوں ۔۔وہ سنجیدہ سا منہ بنا کر کہ رہا تھا ۔اسنے دو پل حیرت سے اسکی جانب دیکھا اور پھر اٹھ کر چل دی ۔” کہاں جا رہی ہو؟”

محل آپکو تو جان چھڑانی تھی نہ مجھ سے ۔۔۔۔۔۔اسنے اسے کھینچ کر اپنے پہلو میں گرایا اسکے چہرے پر آئے بال پیچھے کیے ۔۔” تم سے جان چھڑا لوں گا تو سانس بند نہ ہو جائے گی میری ۔۔”

” اسیر میں محل جا کر جواب کیا دوں گی کے میں کہاں تھی ؟”اسکی بات سن کر وہ سوچ میں پڑ گیا پھر اٹھ کر ایک پٹی اور رنگ لے آیا ۔

اسیر یہ سب کیوں ۔۔۔” وہ ابھی پوچھ ہی رہی تھی جب اسنے ایک پٹی پر ہلکا سا لال رنگ لگا کر اسکے سر پر باندھ دیا ۔۔” شہزادی مبارک ہو آپکی یاداشت واپس آگئی اب آپ محل جاسکتی ہیں ۔”

اسیر آپکو واقعی ہی منصوبے نازل ہوتے ہیں ۔”

” طلسم اٹھو اٹھو ہمیں محل جا نا ہے سناش کے پاس جانا ہے چلو .” وہ لہراتا ہوا گا رہا تھا ۔” تم ساری رات کدھر تھے ؟” طلسم کو تو اب یاد آیا تھا کہ اسکا لاکٹ کھلا ہوا ہے ۔

سناش کے پاس اسکے قریب لیکن چھپ کر مگر اب تو اسکے سامنے جاؤں گا!! طلسم تمہارے سر پر کیا ہوا اے اسیر تو نے کیا کیا طلسم کے ساتھ اسکا سرہی پھاڑ دیا ۔۔اسنے اسکا گلہ پکڑ لیا تھا ۔

اسیر نے اس سے اپنا گلہ چھڑایا تھا جیسے گردن سے چپکی چیونٹی کو اتارا جاتا ہے۔۔” تمہارا سائز ہے میرا گلہ پکڑنے کا؟”

ہمت بہت ہے ؟ آپ دونوں اٹھ گئے چلیں کھانا کھا لیں ۔غفران اندر آیا تھا ۔وہ تینوں ناشتے کے میز پر بیٹھے جہاں اسیر سامنے پلیٹ میں پڑے کھانے کو دیکھ رہا تھا خالص گھی کہ پراٹھے اور ساتھ میں پتہ نہیں کس چیز کا سالن تھا ۔طلسم نے پہلے پلیٹ کو دیکھا پھر اسیر کو اسکے کان میں کہا ” یہاں پروٹین شیک نہیں ملے گا اور نہ ہی کارن فلیکس یہی کھانا پڑے گا ۔”

لیکن طلسم میں موٹا ہوجاو گا ۔وہ دبے الفاظ میں کہ رہا تھا ۔

لڑنا ہے نہ صیاد سے کھائیں اسے ۔۔اسنے زبردستی لقمہ اسکے منہ میں ڈال دیا تھا جو اسنے چبا لیا ۔۔” مزے کا ہے “

شہزادی آپ نے سوچ لیا ہے کہ آپ محل واپس جا کر کیا جواب دیں گی ۔

ہاں غفران میں نے سوچ لیا ہے بلکہ اسکا حل بھی اسیر نے دیا تھا ۔ٹھیک ہے شہزادی میرا خیال ہے آپکو جانا چاہیے ابھی کیونکہ ابھی صیاد محل سے نکل چکا ہوگا ۔اپ جائیں ۔

اسنے اداس نظرسے اسیر کو دیکھا جس کا ہاتھ رُک چکا تھا ۔اور پھر مسکرا کر بولا ۔۔” طلسم جاؤ اپنے دوست کر پاس اسے تمہاری ضرورت ہے ۔” اپنا دکھ درد اداسی سمیٹ کر وہ مسکرایا تھا ۔

وہ لوگ دروازے تک پہنچ چکے تھے وہ اسیر کو دیکھنا نہیں چاہتی تھی تاکہ وہ رک نہ سکے ۔

شہزادی آپکے کے کپڑے ؟ غفران کی آواز پر اسنے اپنے کپڑوں کو دیکھا اسنے سادا گلابی رنگ کی فراک سفید چوڑی دار پاجامہ اور سفید شفون کا دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا ۔کھلے بال ماتھوں پر بےبی کٹ ۔۔۔” شہزادی یہ لباس شہر سحر کی مناسبت سے ٹھیک نہیں ہے ۔”روباش !!! اور اسی وقت روباش اسکے ہاتھوں میں اتے ہی ایک چھڑی بن گیا تھا جسے اسنے اپنے گرد گھومایا ” سِنسا !!”اسکے کپڑے تبدیل ہوچکے تھے ۔کالا لال جالی دار چوغہ سر پر جالی دار لال رنگ کا آنچل جو آدھے پر ٹِکا ہوا تھا ۔ ایک چھوٹا سا تاج بھی اسکے سر پر آگیا تھا ۔وہ پورا شاہانہ لباس تھا جسے دیکھ کر اسیر کا سانس اٹک گیا تھا ۔

” اب ٹھیک ہے شہزادی اب آپ جائیں تاکہ ہمیں محل کے حالات سے آگاہی ملتی رہے ۔” وہ جانا نہیں چاہتی تھی مگر یہ اسکی مجبوری تھی ۔اسیر مسکرا کر اسے جاتا دیکھ رہا تھا ۔اپنے آنسوں وہ اسے دیکھنا نہیں چاہتا تھا ۔وہ باہر گلی میں آگئی ۔اسنے ایک گہرا سانس لیا اور چلنا شروع کیا یہاں روباش لاکٹ میں کم ہی قید رہتا تھا ۔وہ اسکے ساتھ ساتھ ہنستا مسکراتا جارہا تھا ۔وہ جس جس جگہ سے گزر رہی تھی وہاں وہاں شور مچتا جارہا تھا ” شہزادی طلسم لوٹ آئیں ! شہزادی زندہ ہیں ! شہزادی واپس آگئیں ! ..” سارا شہر خوشی نہال ہوتا جارہا تھا انکی سب سے اچھی نٹ کھٹ شہزادی جو لوٹ آئی تھی ۔ وہ محل کے باہر کھڑی تھی ۔” اسلام علیکم قصرِذولفشان ایک وقت تھا جب میں تمہیں خدا خافظ کر گئی تھی تب نہیں جانتی تھی کہ واپس آ بھی سکوں گی یا نہیں لیکن وقت کے اس دوانت میں پاسے مجھے ایک بار پھر یہاں کھینچ لائے جہاں مجھے اپنوں کے بیچ رہ کر ان سے لڑنا ہے قصرِصیادقصرِ قصر زولفشان بنانا ہے ۔۔” وہ شاہانہ انداز غرور سے اندر کی جانب بڑھی وہ جہاں جہاں سے گزرتی جارہی تھی سپاہیوں کی گردنیں جھکتی جارہی تھیں کیونکہ طلسم یہاں نہ ہونے کے باوجود اسکے لیے بنائے گئے سناش کے اصول وہ اب تک نہیں بھولے تھے ۔کسی نے اس سے کوئی سوال نہیں کیا تھا ۔وہ آتے ہی زرینہ بیگم کے کمرے میں چلی گئی ۔پورے محل میں ایک کہرام سا مچ گیا تھا ۔اور یہ خبر اپنے کمرے میں موجود اداس سناش کو بھی مل چکی تھی ۔

” شہزادے! شہزادے ! طلسم شہزادی ۔۔۔” اسکے کانوں میں تو جیسے کسی نے جان ڈال دی ہو وہ بھاگ کر اسکے پاس آیا اسے کندھوں سے پکڑا ” شہزادی طلسم کیا ؟؟”

شہزادی طلسم واپس ۔۔۔واپس آگئی ہیں وہ زندہ ہیں ۔۔۔رانی صاحبہ کے کمرے دیکھا انھیں …” یہ سنا تھا کہ وہ سب چھوڑ چھاڑ کر بھاگنے لگا بنا دیکھا کہ راستے میں آتے کنیزوں غلاموں کے ہاتھوں میں پکڑی چیزوں سے ٹکراتا گِراتا اسے بس پچاس قدم دور جانا تھا ۔

کروں سجدا ایک خدا کو ۔۔۔۔

پڑھوں کلمہ یا میں دعا دوں ۔۔۔

دونوں ہی ایک خدا اور محبت ۔۔۔

خدا کے نام پر سجدے میں سر جھکنا عبادت ہے ۔۔۔

وہ دل اللہ کا گھر ہے جس دل میں محبت ہے ۔

اسلام علیکم امی جان کیسی ہیں ؟ آتے ہی سب سے پہلے وہ زرینہ بیگم کے کمرے میں ائی تھی انکا چہرا ہاتھ چومنے کے بعد انکے ہاتھ میں وہ ایک کونے پر بیٹھی تھی ۔انکی حالت آٹھ ماہ بعد بھی ویسی ہی تھی لیکن انکی خیال میں خدمت میں کوئی کمی نہیں آئی تھی سناش کی اپنی حالت خراب تھی مگر اپنی تائی جان کا خیال رکھنا وہ پھر بھی نہیں بھولا تھا ۔” آگئی ہوں واپس اسے لیکر جو بدلہ لے سب کا امی لیکن مجھے آپ کو ایک اور بات بھی بتانی ہے کہ میں نے اس سے شادی کر لی ہے ۔

طلسم! بات کرتے کرتے اسکی سانس اٹک گئی تھی سناش کی آواز وہ کیسے بھول سکتی تھی ۔وہ ایک دم سے مڑی ۔وہ دروازے میں کھڑا تھا ۔سانس ساکن ہوگئی تھی ۔وہ اسکے سامنے تھے ۔وقت ایک بار اسے وہاں لے گیا تھا جب اسنے پہلی بار اسکی جوانی کے اس سراپے کو دیکھا تھا ۔وہی سیاہ بڑی بڑی آنکھیں جن میں آج بھی وہ گونج کی طرح گم تھا ۔وہی لال گلاب سے ہونٹ جنہیں گلاب نے سینچا تھا ۔وہی گھنیری پلکیں جن کی بلندی کو وہ کبھی پار نہیں کر پایا تھا ۔ناک میں نوز پن کا وہ موتی جسے چھوئے بغیر اسکی شب کا اختتام نہیں ہوتا تھا ۔وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اسکے قریب جارہا تھا ۔کمرے میں ہر طرف خاموشی تھی اسنے اشارے سے ساری کنیزوں کو وہاں سے جانے کا اشارہ کر دیا۔ اس خاموشی میں بڑھتی دھڑکنوں انتشار سانسوں اور اٹھتے قدموں کی چاپ نے ایک ساز سا بنا دیا تھا ۔اسکے چہرے سے ایک لمحے کے لیے بھی نظر نہیں ہٹ رہی تھی ۔جو چیز سناش کی شخصیت میں سب سے پہلے واپس آئی تھی وہ اسکی طلسم کو دیکھ کر آنے والی مسکراہٹ تھی ۔جو خالص اسکے لیے تھے ۔