334.6K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shehr-e-Sahar Episode 25

Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam

” تیری شکل نہ کسی سے بہت ملتی ہے کوئی جو بہت اچھا تھا سب کا سوچتا تھا سب کی فکر کرتا خود غلام تھا لیکن سب کے دلوں پر راج کرتا تھا ۔ناجانے کہاں چلا گیا آدم تیرے ماتھے پر انقلاب کی لکیریں نظر آتی ہیں مجھے تجھ پر پورا یقین ہے ۔” آنکھیں نم ضرور ہوگئی تھیں مگر اسنے صبر کرلیا ۔ وہ باری باری سب جیلوں کے قریب جارہا تھا وہاں وہ کوچوان بھی حیرت انگیز نظروں سے سب دیکھ رہا تھا ۔

” تم ۔۔۔تم باہر کیسے ؟” ۔۔۔۔اسیر طلسم تھا میں بنا لیا انھوں نے اپنا غلام۔

اور میں نے کہا تھا میرے سانسیں یہاں ختم نہیں ہونگی بلکہ یہاں سے ایک نئی زندگی شروع ہوگی ہم سب کی ۔وہ مسکرا کر وہاں سے چلا گیا تھا اور وہ کوچوان سوچتا رہ گیا ۔

شام کا اندھیرا پھیلتا جارہا تھا آسمان تاروں سے بھرتا جارہا تھا وہ پھوارے کے پاس بیٹھی آسمان کو دیکھ رہی تھی اسیر ہاتھ باندھے اسے دیکھ رہا تھا جب سناش وہاں اسکے پاس آکر بیٹھ گیا جواب میں طلسم نے مسکرا کر دیکھا اسنے پہلے طلسم کو دیکھا پھر اسیر کو بہت غور سے ” تمہاری آنکھیں بہت دلکش ہیں اسیر ہم نے ایسی آنکھیں پہلے کبھی نہیں۔ دیکھیں غور سے دیکھو تو لگتا ہے چودھویں کا چاند تمہاری آنکھوں میں قید ہوگیا ہو “سناش کی بات پر اسنے حیرت سے طلسم کو دیکھا اتنی خوبصورت تعریف تو کبھی کسی نے نہیں کی تھی دوسری دنیا میں بھی بس کہا جاتا تھا تمہاری آنکھیں منفرد ہیں ۔”شکریہ !

” وہ طلسم سے مخاطب ہوگیا جب وہ چپکے سے طلسم سے اجازت لیکر چلا گیا ۔

” آج رات کتنی خوبصورت لگ رہی ہے نہ پوری ہے کامل جانتی ہیں کیوں ؟”

” کیونکہ آج ایک پورا چاند اسکی آغوش میں ہے اسے یہ بھی پتا ہے کہ کل یہ اسکے پاس نہیں رہے گے پھر بھی آج کتنے غرور سے پھن پھیلائے پھیلی ہے ۔اسے اس بات کا زرا سا بھی ڈر نہیں کہ کل یہ رات خالی ہوگی وہ جس چاند کو اپنے آپ میں بسا کر سب نچھاور کیے جارہی ہے وہ چلا جائے گا ۔” اسکا جواب سن کر سناش بے حد دلکشی سے مسکرایا تھا ۔

” یہی تو ہماری غلطی ہے کل ہجر ہے اسکے غم سے قربت کے لمحے بھی کھو دیتے ہیں ہم یہ کیوں سوچتے ہیں کل کیا ہوگا ہم یہ کیوں نہیں دیکھتے آج ہمارے پاس کیا ہے وہ کل ہم سے دور چلا جائے وہ ابھی ہمارے قریب ہے ۔کل جن آنکھوں کو ہم دیکھ نہیں پائیں گے آج ان میں ڈوب کر گفتگو کا وقت ہے ۔جن زلفوں کو کل کھو دیں گے آج انکی سیاہی میں ڈوب کر کھل کر سانس لینے کا وقت ہے ۔ کل جب ہونٹوں سے دو لفظ سنے کو ترس جائیں گے آج انھیں سننے کا انھیں چھونے کا وقت ہے ۔کل جس جسم کو سیرابوں میں چھو نہیں پائیں گے آج اس سے لپٹ جانے کا وقت ہے ۔ کل جسے تنہائی میں محسوس کرنا ہے آج اسکی باہوں میں بکھر جانے کا وقت ہے ۔کل جس کی خوشبو کو محسوس کرنا ہے آج اسے سانسوں میں بسانے کا وقت ہے ۔ہجر تو کل ہے ابھی تو رات کی شبستان میں ایک ہوجانے کا وقت ہے ۔” وہ محبت بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا اور وہ رخ پھیر گئی تھی اسکی آنکھوں کی تپش وہ کبھی برداشت نہیں کر پاتی تھی اور اب تو اجازت بھی نہیں تھی ۔

” سناش خوف نہیں آتا کہ میں اگر آپ سے محبت نہ کرسکی تو آپکو نہ ملی تو ؟” اسکی بات پر ایک گہرا سانس لیا گیا تھا ۔

” مت پوچھیں جو بات جو خوف میں سوچنا بھی نہیں چاہتا اپنے آپ سے نہیں کہ پاتا وہ میں آپکو کیسے بتاؤں ۔”

” سناش ہمیں آرام کرنا ہے بہت تھک گئے ہیں ہم جاسکتے ہیں ؟ “

اسنے ایک گہرا سانس لیا اور اثبات میں سر ہلا دیا ۔وہ کپڑے سنبھالتی اندر چلی گئی اور وہ وہیں بیٹھا آسمان کو دیکھتا رہا اور مسکراتا رہا

اب پھر میرے حصے میں آئے گا سمجھوتہ کوئی ۔۔۔

آج پھر کہ گیا سمجھدار ہو تم ۔۔۔۔۔۔۔۔

“نہیں ایسا کیوں ہورہا ہے میں کیا سوچ رہی ہوں سناش کی باتوں کو کیوں سوچ رہی ہوں آنکھیں بند کرتی ہوں تو پہلے اسیر پھر سناش کا چہرا کیوں آرہا ہے سامنے ۔۔۔۔” یہی سوچتی سوچتی وہ کمرے میں آگئی تھی جہاں اسیر نئی بنائی میز لگا رہا تھا ۔وہ تیز قدموں سے اسکے پاس آئی اور اسے بازو سے پکڑ کر سیدھا کیا اور اسکے سینے سے لگ گئی جس پر وہ ہکا بکا رہ گیا ۔”میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں اسیر میں تمہارے علاؤہ کسی کو نہیں سوچنا چاہتی سناش کو بھی نہیں اسیر مجھے چھپا لو اپنے آپ میں کہیں مجھے ڈر لگ رہا ہے اپنے آپ سے کہیں جگہ دے دو میں کسی کو نظر نہ آؤ آج ۔۔۔آج پورے چاند کی رات ہے کاملیت کی رات مجھے اپنا بنا لو اس پہلے میرا دل بہک جائے ۔سناش میری سوچوں پر حاوی ہوتا جارہا ہے ۔”اور اسنے ایک جھٹکے سے خود سے الگ کیا جس وہ لڑکھڑا گئی اسنے اپنی نگاہیں دروازے پر ٹکا لیں ۔اسکے اس عمل پر وہ حیران رہ گئی ۔مگر کچھ لمحے بعد ہی وہاں ایک کنیز آگئی ۔” سلام شہزادی ! طلسم نے پہلے اس کنیز کو دیکھا اور پھر اسیر کو جو پھر سے میز سے کچھ کرنے لگا تھا۔

” کیا کام ہے ؟”” شہزادی وہ راجہ کا حکم ہے کہ آپکو آگاہ کر دیا جائے کے کل آپکی کی ماموں زاد شہزادی فاریہ آرہی ہیں ۔”

” ٹھٹ ۔۔ٹھیک ہے تم جاؤ ! ” وہ جانے والی تھی جب اسیر نے منہ موڑ کر اسکے پیروں میں بندھی گھنگر والی پازیب کو دیکھا ۔

” تم۔۔تمہیں کیسے پتہ چلا وہ آنے والی ہے ؟”

” آہٹ ہر طوفان کے آنے سے پہلے آہٹ آتی ہے اسکے پیروں میں بندھی پازیب کی جھنکار مجھے سنائی دے گئی تھی اسلیے تمہیں خود سے الگ کرنا پڑا ۔”

اور وہ سر پکڑے بیٹھتی چلی گئی ۔” آہٹ ہر طوفان کے آنے سے پہلے آہٹ آتی ۔” اسنے قرب سے آنکھیں بند کی جس میں پھر اسے سناش کا مسکراتا چہرا نظر آیا تھا اسلیے اسنے فوراً کھول لیں ۔اسنے آگے بڑھ کر دروازے بند کیے اور کھڑکیاں بھی اور نیچے اسکے پاس آگیا اسکا چہرا اپنے ہاتھوں میں لیا ۔” اب بتاؤ کیا ہوا ؟,”

” اسیر سناش کو سب بتا دیتے ہیں آدم کا چچا کا تمہارا میرا وہ بہت اچھا ہے وہ سمجھ جائے گا وہ پھر میرا انتظار نہیں کرے مجھے اپنی محبت کا احساس دلانے کی کوشش نہیں کرے گا آگے بڑھ جائے میری مشکل بھی حل ہو جائے گی چلو اسے سب سچ بتا دیتے ہیں ” وہ اسکا ہاتھ پکڑے اٹھنے لگی تھی کہ اچانک رک گئی ۔” لیکن اگر وہ نہ سمجھا تو اسے غصہ آگیا تو وہ تمہیں مار دے گے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے گا تمہارے تم اسکا مقابلہ نہیں کرپاو گے وہ تم سے کہیں زیادہ طاقتور ہے بچن سے لیکر اب تک جنگ کا کوئی فن نہیں ہے جو اسنے نہیں سیکھا اور غصے میں تو وہ وحشی ہوجاتا جسم کے جس حصے پر ہاتھ ڈالتا ہے گوشت کھینچ کر نکال لیتا ہے وہ تمہیں نہیں چھوڑے گا ۔” اور وہ دم سادھے اسے سنے جارہا تھا ۔” اسیر ایک ایک کام کرتے ہیں آج آج پورا چاند ہے یہاں سے چلے جاتے ہیں کسی کو کچھ پتا نہیں چلے گا پلیز چلتے ہیں ۔” وہ التجایا نظروں سے اسکی جانب دیکھ رہی تھی ۔وہ آہستہ سے اسکے ہونٹوں کی جانب بڑھا جب اسنے اسے دور کردیا ” پہلے مجھے بتاؤ ہم جارہے ہیں نہ ؟” اسنے اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے اور نرمی سے اسکے لبوں کو اپنے حصار میں لیا ۔وہ ساتھ ساتھ اسکی ہاتھوں کی انگلیوں کو بھی سہلا رہی تھا ۔کچھ دیر بعد اسنے اسے الگ کیا اسکی گال پر ہاتھ رکھا ۔” محسوس ہوا میں ہوں احساس ہوا میرے ہونے کا پتہ چلا اکیلی نہیں ہو ؟ ” اسنے اثبات میں سر ہلایا ۔” تو کس بات کا ڈر ہے تمہیں ؟”

” تمہاری جان کا ؟۔”…..کچھ نہیں ہوگا میری جان کو ہوگا سناش مجھے سے کہیں زیادہ طاقتور کھینچ لیتا ہوگا ماس لیکن مت بھولو طلسم سناش معصوم ہے بھولا چلاک نہیں ہے یہاں جنگ جسموں کی طاقت سے لڑی جاتی ہے لیکن جس دنیا میں پلہ بڑھا ہوں وہاں جسمانی جنگ سے زیادہ دماغی جنگ لڑی جاتی اس دنیا سے کہیں زیادہ گندی اور غلیظ جالسازیاں وہاں کی جاتی ہیں سناش دماغی جنگ نہیں لڑ سکتا اسے دماغوں سے کھیلنا نہیں آتا مجھے آتا ہے اور یہ جنگ ہم نے طاقت سے نہیں دماغ سے لڑنی ہے اسلیے سناش مجھے کچھ نہیں کرسکتا “

” تو پھر اسےبتا دیتے ہیں نہ وہ سمجھ جائے گا اسکا انتظار ختم اسیر تم نہیں جانتے مجھے کتنی شرمندگی ہوتی ہے جب وہ مجھے اپنی محبت کا احساس دلانے کی کوشش کرتا ہے اور میں رخ پھیر لیتی ہوں بہانہ بنا کر اس سے دور چلی جاتی ہوں پلیز !”

” نہیں طلسم ابھی ہم اسے کچھ نہیں بتا سکتے ابھی ہمیں اسکی بہت ضرورت ہے ابھی تو ہمیں اسے شہر سحر کا ایسا حکمران بنانا ہے جو اسکی کایا پلٹ دے گا ۔”

” کیا ! سناش کو کیوں ؟”

“طلسم میری بات سنو سناش اچھا ہے وہ لوگوں کا بھالا سوچتا ہے لیکن صیاد نے اسے ہمیشہ یہ جنگی فنون میں مصروف رکھا ہے اسے کبھی کسی اور طرف جانے ہی نہیں دیا ہمیں اسکی توجہ وہاں سے ہٹا کر عوام کی طرف کرنی ہے وہ بہت کچھ کرسکتا ہے طلسم اگر وہ شہر سحر کی باگ ڈور سنا ش کے ہاتھ میں آگئی تو کایا پلٹ دے گا ۔”اوروہ حیرت سے اسکی جانب دیکھ رہی تھی اسنے ایک دم اسکے ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹا دیے ۔”تمہارے کہنے کا مطلب ہے ہم سناش کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کریں گے “

” خدا کا خوف کرو طلسم اسکی اچھائی کو بروئے کار لانے کو فائدہ کہ کر لعنت مت بناؤ جو اسکا فرض ہے میں صرف اسکا راستہ بتا رہا ہوں اس ملک کا شہزادہ ہے نہ وہ تو کیا فرض نہیں بنتے اسکے ؟”

“لیکن کیسے وزیر تو شہباز ہے اور وہ چچا کا بہت اچھا دوست بھی بلکہ انکے ہر گناہ کا ساتھی بھی ہم اسے کیسے اس عہدے سے ہٹائیں گے ۔”

“ وہ میں نے سوچ لیا ہے تم فکر مت کرو بس کچھ دن انتظار کرو اور ابھی سو جاؤ بہت دیر ہوگئی ہے میں بھی جارہا ہوں ” وہ جانے لگا تھا جب اسنے پیچھے سے ہاتھ پکڑ لیا ۔” مت جاؤ مجھے نیند نہیں آرہی ” وہ مڑا اسے باہوں میں اٹھایا اور بیڈ تک لایا خود بھی اسکے ساتھ ہی لیٹ گیا اسکا سر اپنے سینے پر رکھ لیا اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا ۔” اسیر آپ نے مجھے بتایا نہیں کہ آپ کیا کرنے والے ہیں ۔”

“ طلسم رات بہت ہوگئی ہے سو جائیں بہت جلد پتا چل جائے گا آپکو ۔۔” اسکے سینے پر سر رکھے وہ آنکھیں موند گئی ۔” اور وہ من ہی من مسکرا رہا تھا آج کتنے دنوں بعد وہ اسکے اتنا قریب تھی اسکی گرم سانسوں کی تپش اسے اپنے سینے پر محسوس ہورہی تھی ۔ سورج نکلنے سے پہلے وہ اسے سوتا چھوڑ کر چھپ چھپا کر باہر آگیا تھا ۔اور سب سے پہلے محل سے باہر نکل گیا ۔

صبح جب اسکی آنکھ کھلی تو سب عام سا لگ رہا تھا لیکن وہ وہاں نہیں تھا وہ اسے تلاش کرتی کرتی باہر جہاں سناش کچھ تیاریاں کر وا رہا تھا اسے دیکھ کر اسکی جانب آگیا .” صبح بخیر طلسم آپ اس وقت یہاں ؟

” وہ ہم ۔۔۔ہم ابھی ابھی اٹھے تھے تو ویسے ہی باہر آگئے یہ سب کیا ہورہا ہے ؟”

” آپ کو نہیں پتا آج آپکے ماموں جان اور انکی بیٹی شہزادی فاریہ آرہی ہیں بتایا تو تھا ۔” انکی آنے کے لیے ایک خاص راہداری بنائی جارہی تھی صیاد کے تعلقات طلسم ماموں سے بہت اچھے تھے وہ ایک تاجر بھی تھا الاتِ جراحی شہرِ سحر کو وہ مہیا کیا کر تے تھے ۔

” ہاں بتایا تھا .” آخرکار اسکی نظر اسیر پر پڑی جو درخت پر چڑھا اضافی شاخوں کی چھانٹی کر رہا تھا پسینے میں شرابور وہ اپنے کام میں مگن تھا وہ اس قدر محنتی اور سمجھدار تھا کہ صرف طلسم نہیں سناش کی نظروں میں بھی آگیا تھا اسلیے وہ اکثر کاموں میں اسے ملوث کرنے لگا تھا ۔طلسم اس درخت کے نیچے آکر کر کھڑی تھی گردن اوپر کی جانب اٹھائے اسے دیکھ رہی تھی جب اسنے انگلی سے پسینہ پونچھ کر پھینکا تھا اور اسکی بوندیں طلسم کے چہرے پر گری تھیں جس سے وہ مسکرا اٹھی اور اندر کی جانب چلی گئی ۔تیار ہونے ۔

سہ پہر کے قریب پورا محل داخلہ دروازے پر کھڑا تھا ۔بگھی انپہچی تھا جس میں سے سب سے پہلے ایک شاہانہ لباس پہنے آدمی اترا تھا ۔

” اسلام علیکم راجہ صیاد کیسے ہیں آپ ؟ وہ سب سے پہلے صیاد سے ملا تھا بگھی کی دائیں جانب کوچوان کے قریب سناش کھڑا مسکرا رہا تھا طلسم بھی اسکے ساتھ ہی کھڑی تھی ۔

” واعلیکم اسلام او زاکر خوش آمدید !”

بگھی سے ہلکے نیلے گاؤن میں ملبوس کانچی نیلی آنکھوں سے مسکراتی ایک لڑکی اتری تھی جسے دیکھ کر غلام تو غلام کنیزیں بھی نظر پلٹنا بھول گئی تھیں ۔گول چہرا چھوٹی مناسب نیلی آنکھیں لال گال گلابی ہونٹ طلسم سے زیادہ نہیں مگر طلسم سے کم حسین تو شہزادی فاریہ بھی نہیں تھی جسے دیکھ کر کسی نے مدھم آواز سے سناش اسیر اور طلسم کے کان میں سرگوشی کی تھی ” “آہٹ “وہ اندر سی معصوم سے لڑکی طلسم سے صرف ایک سال چھوٹی تھی ۔وہ خوبصورت تھی لیکن طلسم کے سامنے اسکی شخصیت کہیں دب جاتی تھی لیکن اسے بات کا زرابھی افسوس نہیں تھا وہ طلسم کی بہن کم دوست زیادہ تھی ۔طلسم ! وہ آگے بڑھ کر اسکے گلے لگنے والی تھی کہ گاؤن پیروں میں اٹکنے کی وجہ سے لڑکھڑا گئی جسے سناش نے سنبھالا تھا ۔” اختیاط سے شہزادی ۔” اسنے ایک سرسری سی نظر اس شہزادے پر ڈالی جو اسکا ہاتھ تھامے اسے دیکھ بھی نہیں رہا تھا ۔” فاریہ تم ٹھیک ہو ؟” طلسم نے اسے کندھے سے پکڑ کر پوچھا اور اسی وقت سناش نے اسکا ہاتھ چھوڑا دیا بچپن میں فاریہ نے سناش کو دیکھا تھا اور آج دیکھ رہی تھی جو سنجیدہ سا چہرا بنائے صیاد اور زاکر کے پاس چلا گیا تھا ۔” طلسم یہ سناش تھا نہ !” اسکی نظر اب بھی سناش پر تھی جو کسی بات پر مسکرا کر اثبات میں سر ہلا رہا تھا اسکا رنگ چاند جیسا سفید نہیں تھا کندن سا تھا جو دھوپ پڑنے پر اور بھی چمک رہا تھا ہلکا بھاری جسم مناسب نیلی آنکھیں مدھم مسکراہٹ جو ہوئی تو صرف طلسم کےلیے ہوتی تھی وہ فاریہ کے دل پر چھپ گئی تھی ۔ ” ہاں سناش ہی تھا۔” ۔۔۔۔” یہ کتنا حسین ہے ! وہ اسے دیکھتی بے اختیار بول گئی جو سامنے سر جھکائے مسکرا کر صیاد اور زاکر کی گفتگو سن رہا تھا اسکے چہرے کے تاثرات سے تو لگ رہا تھا کہ اسی کی تعاریف ہورہی ہے ۔فاریہ کی بات پر طلسم تو کچھ حیران ہوئی مگر اس کے پیچھے کھڑے اسیر نے گردن اٹھا کر پہلے فاریہ کو دیکھا اور پھر سناش کو کیا اس مثلث کو چکور بنانے والا آگیا تھا یا ضرب لگا کر توڑنے والا۔

” فاریہ ! آپنے نام کی پکار سن کر وہ طلسم کی جانب متوجہ ہوئی ۔” وہ ہم کہہ رہے تھے کہ ہم تو آپ سے ملنے آئے تھے آپکی گمشدگی کی خبر ملی تھی ہمیں اسلیے اب آپ ٹھیک ہیں ؟” وہ ابھی پوچھ ہی رہی تھی جب زاکر اسکے پاس آگیا ۔” اسلام علیکم ماموں جان کیسے ہیں اور آپکی طبعیت کیسی ہے اب ؟”

” ہم تو ٹھیک ہیں طلسم لیکن ہمیں پتہ چلا تھا آپ ہمارے پاس ہی آرہی تھیں جب آپکی بگھی کھائی میں گر گئی ۔”

” جی ماموں جان آپکا خط آیا تھا آپکی بیماری کا آپ سے ملنے آرہی تھیں شہزادی طلسم .”

” خط ۔لیکن ہم نے تو کوئی خط بھیجا ہی نہیں تھا .” پہلا راز کھل گیا تھا جس پر سناش اور صیاد ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے اور طلسم سانس روکے کھڑی تھی ۔یہ تو سوچا ہی نہیں تھا ۔

” نہیں زاکر تمہارا خط آیا تھا ہم نے خود طلسم کے ہاتھ میں دیکھا تھا آپکی بیماری کا خط وہ۔”

” میں سچ کہہ رہا ہوں میں نے کوئی خط نہیں بھیجا اورمجھے کچھ بھی تو نہیں ہوا ۔اپ فاریہ سے پوچھ سکتے ہیں ۔”وہ سب اپنی باتوں میں لگے تھے جب اسیر طلسم کے کان کے پاس سرگوشی کرنے لگا ۔

” تو یعنی وہ خط ہمیں محل سے باہر لانے کی سازش تھی یعنی ہماری بگھی کا گرنا اتفاق نہیں تھا قاتلانہ حملے ہم پر پہلے بھی ہوچکے ہیں ۔” اسیر نے کتنی خوبصورتی سے دو صورتوں کو جوڑ دیا تھا ۔

” اور پھر بھی آپکی قسمت اچھی ہے کہ آپ بچ جاتی ہیں ۔” یہ الفاظ صیاد کے تھے ۔لیکن سناش تو مسکرانا ہی بھول گیا تھا پریشان ہوگیا ۔۔” کون مروانا چاہتا ہے طلسم کو ؟ اور صیاد یہ سوچ رہا تھا کہ ” میرے علاوا اسکا کونسا دشمن پیدا ہوگیا جس نے اسے خط لکھا چلو اچھا اسکے مرنے کی بعد بات دبانی آسان ہوگی اور اسیر سوچ رہا تھا ” سوچتے رہو کون کس کے ساتھ کھیل رہا ہے مسکراتے رہو وقت بتائے گا اصلی کھلاڑی کون ہے ۔”اور طلسم بس ایک ہی بات سوچ رہی تھی ” آئی لو یو اسیر !”وہ تمام لوگ اندر کی جانب بڑھ گئے تھے جب طلسم نے اسیر کا ہاتھ پکڑ کر اپنی جانب کھینچا اور اسکے قریب تر ہوتا چلا گیا ۔” طلسم چھوڑو مجھے کوئی دیکھ لے گا ۔” وہ داخلی دروازے ہر کھڑے سپاہیوں کو دیکھ رہا تھا جو بی فیٹرز کی طرح نہ ہل رہے تھے سانس لینے کا بھی پتہ نہیں تھا ۔وہ ادھر ادھر دیکھ رہا تھا جب اسنے اسکی گال پر بوسہ دیا تھا اسنے حیرت سے اسکی جانب دیکھا ” تھینک یو ! تمام لوگ کافی آگے چلے گئے تھے سناش کو فاریہ نے باتوں میں لگایا تھا جس سے وہ پیچھے دیکھ نہیں پارہا تھا .ادھر اسیر نے اسکے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا ۔” کہا تھا جب تک میں ہوں کسی بات کا ڈر نہیں میں تمہارے ساتھ سایہ کی طرح رہوں گا لیکن طلسم تم مجھ سے دور رہا کرو اتنے پاس نہ رکھا کرو خود کے اتنا قریب سناش کو شک ہوتا جارہا ہے مجھ پر کل وہ مجھ سے پوچھ رہا تھا تمہارے گھر والے کون ہیں بتاؤ شکل سے تو چور نہیں لگتے ؟”

” نہیں وہ ایسا نہیں ہاں پوچھا ہوگا سرسری سا پوچھا ہوگا ۔مسلسل شک نہیں کرتا ابھی تو بھول بھی گیا ہوگا سب .” وہ ابھی یہ بات کرہی رہے تھے جب کوئی خنجر سیدھا اسیر کی پشت پر لگا جو گوشت کے اندر دھنس گیا ” آ ہ !!! ” ایک درد بھری کراہ نکلی تھی اسکے منہ سے وہ نیچے بیٹھتا چلا گیا ہاتھ بڑھا کر اسنے خنجر کو چھوا تھا جس سے تکلیف اور بڑھ گئی تھی ۔” اسیر آپ ۔۔اپ ٹھیک ہیں ۔یہ۔۔۔۔۔یہ کیسے ہوا ۔”

” طلسم خنجر ۔۔خنجر نکالو وہ اشاروں سے بول رہا تھا ۔”

مم۔۔میں کیسے نکالوں ؟ وہ تو ڈرتی اس خنجر کو چھو بھی نہیں رہی تھی ۔” طلسم نکالو !!” اسنے چیخ کر کہا تھا جس پر اسنے ڈرتے ڈرتے اسے ہاتھ میں لیا اور ہمت کرکے آنکھیں بند کیے کھینچ کر نکالا جس سے اسکے منہ سے دوسری آہ نکلی تھی اسنے خنجر وہیں پھینک دیا اور اسکی جانب متوجہ ہوگئی جو کچھ کچھ سنبھل رہا تھا ۔” اسیر تم ۔۔تم ٹھیک ہو نہ کتنا درد ہورہا ہوگا ؟” وہ اسکے زخم کو چھونے لگے تھی جب اسنے اسے ہاتھ سے منع کردیا ” خبردار جو مجھے ہاتھ بھی لگیا یہ بے وقوفی میں تمہیں نہیں کرنے دوں گا !”

” سپاہی ! سپاہی ! وہ زور زور سے چلانے لگی چند سپاہی وہاں پہنچ چکے تھے ” اسے طبیب کے پاس لے چلو !” انھوں نے اسے کندھوں پر اٹھایا اور اندر کی جانب لے گئے ۔طلسم نے وہ خنجر اٹھا کر دیکھا ۔” نہیں وہ ایسا نہیں کرسکتا وہ ایسا کیوں کرے گا اسے اسیر سے کیا بیر ہوگا ۔”

” ادھر سناش سب کو بیٹھانے کے بعد طلسم کو ڈھونڈتا باہر آگیا جب اسنے محسوس کیا کے اسکا خنجر اسکے پاس نہیں ہے ۔” ہمارا خنجر کہاں گیا ۔تلاش کرتے کرتے وہاں پہنچ گیا وہ طبیب کے کمرے کے باہر چکر کاٹ رہی تھی ۔ ” طلسم آپ طبیب کے کمرے کے باہر کیا کر رہی آپ ٹھیک اور آپ چلی کہاں گئی تھیں ؟”

” سناش ہمیں آپ سے کچھ پوچھنا ہے ؟” غصے اور آنسوؤں سے اسکا چہرا تر ہوگیا تھا اندر طبیب اسیر کے زخم پر مرہم پٹی کر رہا تھا ۔

” طلسم آپ رو رہی تھیں کیا ہوا ہے سب ٹھیک ہے ؟” اسکا چہرا دیکھ سناش کا دل بے چین ہوگیا تھا ۔اسنے اسکے سامنے خنجر کردیا ۔”

طلسم ہمارا خنجر آپکے پاس ہے ہم کب سے ڈھونڈ رہے ہیں آپ پھر لیکر بھاگ گئی تھیں لیکن کب آپکی یہ عادت جائے گی نہیں “

” ادھر آئیں میں آپکو بتاتی ہوں یہ کہاں تھا وہ اسے لیے اندر آگئی جہاں طبیب اسکے پٹی لگا رہا تھا ۔” شہزادی آپکو کہا تھا باہر رہیں !” اسیر کی پیٹھ پر زخم دیکھ کر سناش کچھ پریشان ہوا ۔” اسیر یہ گھاؤ کیسے آیا تمہیں ؟”

” آپکا خنجر اسکی پشت میں پیوست تھا سناش آپ نے اسیر پر خنجر سے وار کیا ؟” وہ پرملال اور غصیل نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔جس پر سناش نے ناسمجھی سے اسے دیکھا ۔” ہم نے کیا ہم نے کب کیا ہم نے آپکو بتایا تو ہے کہ ہمارا خنجر مل نہیں رہا تھا ہم کیسے کر سکتے ہیں ۔”

” سناش جھوٹ مت بولیں یہ آپ ہی کا خنجر ہے آپکے سوا اسے کوئی استمعال نہیں کرتا آپکو کیا بیر ہے اس غلام سے کیا بگاڑا ہے اسنے آپکا کیوں حسد کرتے ہیں آپ ان سے ۔” غصے میں وہ کیا کچھ بولے جارہی تھی سناش اور اسیر دونوں ہی حیرت سے اسکا منہ دیکھ رہے تھے ۔شمس نے ماتھا۔ پیٹ لیا تھا ۔

” کک۔۔کیا کہا طلسم آپ نے جھوٹ اور ہم آپکو لگتا ہے ہم جھوٹ بول سکتے ہیں پہلے کبھی ہم نے آپ سے جھوٹ بولا ہے اور حسد اس سے ایک غلام سے حسد کیوں کریں گے آپکو پتہ ہے آپ کیا بول رہی ہیں ۔؟” وہ بھی غصے میں۔ لال ہوگیا تھا طلسم کی بات اسے تیر کی طرح چبھی تھی ۔غصے سے اسکا سانس پھولنے لگا تھا اسیر اُٹھ کھڑا تھا اور دروازے کی جانب گیا لیکن پھر آکر سناش کے پیچھے کھڑے ہوگیا ۔” طلسم ہم آپ سے پوچھتے ہیں۔ کون ہے یہ غلام کیا خاصیت ہے اس میں جس کے لیے آپ ہر بار ہمارے خلاف کھڑے ہوجاتی ہیں ۔پہلے تو ایسا نہیں ہوتا تھا ۔”

” پہلے جیسا بھی ہوتا تھا اپ بھی پہلے ایسے نہیں تھے آپ بھی غلاموں پر ظلم نہیں کرتے تھے ابھی کل آپ نے انکے لیے اتنا کچھ کروایا اور آج ۔۔اج اس مضلوم پر خنجر چلا دیا ۔” اور وہ پیچھے سے اسے چپ رہنے کا اشارہ کر رہا تھا ۔

” طلسم ہم آپ سے کیا کہہ رہے ہیں ہم نے اس پر حملہ نہیں کیا آپکو یقین کیوں نہیں ہے لیکن پہلے تو اسے تکلیف ہم نے نہیں دی تھی لیکن اب ہم دیں گے ۔” اسی کے ساتھ اسنے وہی خنجر گھما کر پیچھے کھڑے اسیر کے پیٹ میں گھسا دیا تھا جس پر طلسم بلکل ساکن رہ گئی تھی اور وہ منہ کھولے سناش کو دیکھ رہا تھا جو غصے سے آگ بگولہ ہوا پڑا تھا ۔” ہر اُس وجہ کو ختم کر دیں گے ہم جو ہمارے اور طلسم کے اختلاف کی وجہ بنے گی ۔”خنجر اس کے پیٹ میں ہی چھوڑ کر وہ وہاں سے چلا گیا ۔طبیب اسیر کو سنبھال چکا تھا اسنے خنجر بھی نکال لیا تھا ایک ہی دن میں اسنے موت کو دو دفعہ دیکھ لیا تھا ۔ ” یہ کیا کیا شہزادی آپ نے سناش کو غصہ دلا دیا آپ نہیں جانتی غصے میں کس قدر وحشی ہوجاتا ہے ۔”اور وہ دم سادھے اسیر کو دیکھ رہی تھی جو دو دو زخموں کے ساتھ بھی اففف تک نہیں کررہا تھا ۔ ” پیٹھ کا زخم زیادہ گہرا نہیں تھا مگر یہ زخم گہرا ہے لیکن شکر ہے وار ایک ہی دفعہ ہوا ہے ۔ “

اور اسیر دکھ بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا کے دیکھتے ہی دیکھتے اندھیرا اس کی آنکھوں کے سامنے چھانے لگا اور وہ بے ہوش ہوکر وہیں بستر پر گر گیا ۔ اسے بستر پر گرتا دیکھ وہ بھی بے ہوش ہوگئی تھی ۔” شہزادی ! شہزادی طلسم ! ۔” طبیب اسکی جانب بڑھ گیا تھا شمس باہر کنیزوں کو بلانے گیا تھا ۔” کنیز ! کنیز جلدی آؤ شہزادی طلسم بےہوش ہوگئی ہیں! یہ آواز وہاں سے جاتے سناش کے کانوں میں بھی پڑ گئی تھی جو الٹے قدموں بھاگا تھا ۔

” طلسم ! طلسم اٹھیں ! اسنے اسکا سر اٹھا کر اپنے گود میں رکھا اسکے چہرے کو تھپا رہا تھا اسنے سوالیہ نگاہوں سے طبیب کو دیکھا ” شہزادے صدمے کی وجہ سے بے ہوش ہیں۔ “

” صدمہ ۔” اسنے پہلے طلسم کو دیکھا پھر بستر پر بے ہوش اسیر کو