334.6K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shehr-e-Sahar Episode 6

Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam

ڈانس نے بعد وہ وہ دونوں ایک دوسرے کے بے حد قریب تھے آنکھیں چار ہوگئی تھیں ہوا سحر کے بالوں کے ساتھ شرارتیں کر رہی تھی ۔لب لبوں کو چھونے کے لیے آگے بڑھتے جارہے تھے کہ کسی احساس کے تحت اے ایس خود اس سے دور ہوگیا ہاتھ چھڑا لیا رُخ پھیر گیا

” یہ کیا کر رہا ہے تو وہ نشے میں ہے تو تو نہیں تجھے تو پتاکے گناہ ہے یہ لمحہ جتنا حسین لگ رہا ہے اسکے بعد اتنا ہی ازیت ناک ہوگا ساری زندگی کےلیے اسکی نظروں میں گنہگار بن جائے گا ۔وہ لڑکی ہے اسکی عزت تیرے ہاتھ میں ہے اسکے بعد اپنے آپ سے نظروں نہیں ملا پائے گے ہم دونوں حواس میں رہ ۔۔۔۔۔”

وہ مُڑااسکا ہاتھ پکڑ کر گاڑی کی طرف چلا گیا اسے گاڑی میں بیٹھا کر گاڑی سٹارٹ کرنے لگا جب اسکے گانے پر اسکے کان کھڑے ہوگئے ۔۔۔۔

تیری جوانی بڑی مست مست ہے۔۔۔۔۔

پیار کا موسم ۔۔۔کالی ہیں راتیں ۔۔۔۔۔

بھیگی پڑی ہیں ۔۔۔۔۔الفت کہ باتیں ۔۔۔۔۔

پیار کرنے کا یہی وقت وقت ہے ۔۔۔

تیری جوانی بڑی مست مست ہے۔۔۔۔

وہ اسے گھور گھور کر گا رہی تھی جب اے ایس نے جھک کر دیکھا اسکی شرٹ کے دو بٹن کھُلے تھے اسنے فوراً بند کیے ۔۔۔

” ابے یار اب کیا اپنی عزت بھی بچانی پڑے گی ۔۔”

شرٹ کے بٹن بند کرنے کے بعد گاڑی سٹارٹ کی ۔

تیرے مست مست دو نین ۔۔۔۔

میرے دل کے گئے چین ۔۔۔۔

تیرے مست مست دو نین ۔۔۔

اے ایس ایک نظر مرر میں اپنی گرے آنکھوں کو دیکھا اور پھر اسے ۔۔۔۔۔

” غزب ٹھرکی لڑکی ہے ۔۔۔۔۔۔”

تمام راستے وہ عجیب عجیب گانے گاتی آئی تھی ۔گھر پہنچنے کے بعد وہ اسے کسی کمرے چھوڑ کر جانے لگا تھا جب اسنے پیچھے سے اسکا ہاتھ کھینچا ۔۔۔

” ہم تم ایک کمرے میں بند ہوں ۔۔۔۔۔

اور چابی کھو جائے ۔۔۔۔۔۔”

” تم نے نہ آج مجھے بالی ووڈ کی پوری ایلبم سنائی بس کردو۔۔۔۔” مگر اسنے اسکا ہاتھ اتنی زور سے کھینچا کہ وہ خود بیڈ پر گِر گئی اور وہ اسکے اوپر ۔۔۔وہ پھر ایک دوسرے کے قریب تھے پتا نہیں قدرت کی نیت کیا تھا ۔

” تم نہ مجھے ۔۔۔۔۔۔” وہ اپنی بڑی بڑی آنکھوں کو اے ایس پر مسلط کیا بول رہی تھی ۔

” تم نہ مجھے ۔۔۔۔۔۔۔”….

” میں نہ تمہیں ۔۔۔۔۔۔” وہ سنا چاہتا تھا اب کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔

” تم نہ مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم نہ مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” اب بول بھی دو ۔۔۔۔۔”

” تم نہ مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” مگر بعد مکمل کرنے سے پہلے ہی وہ سو گئی ۔۔۔

” سحر !! شِٹ!! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ اٹھ کر جانے لگا تھا کہ واپس آیا اسکے فون میں اپنا نمبر ڈائل کیا اور اپنے فون پر مسڈ کال دی ۔مسکرا کر اسے دیکھا

Thank you for making my day so special ……

وہ چلا گیا وہ بھی نیند کی آغوش میں سو گئی پرندے بھی گھونسلوں میں آرام کرنے لگے پھول اپنی پتیوں کو سمیٹ چکے جگنو اپنی روشنی لیگ کہیں چھُپ گئے ہوا موھم ہوگئی رات آہستہ آہستہ سرکنے لگی ۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلی صبح جب وہ اٹھی تو اسکا سر کافی بھاری تھا اسنے اپنا فون چیک کیا کسی نمبر سے بہت ساری تصویریں اور ویڈیوز آئی ہوئیں تھی ۔وہ جیسے جیسے دیکھتی گئی اسکی آنکھیں حیرت سے کھلتی جارہی تھیں ۔کہیں وہ گاڑی کے بونٹ پر بیٹھی تھی کہیں اسکے کوٹ میں منہ چھپائے ۔۔۔۔وہ دیکھ ہی رہی تھی جب فون انے لگا ۔

” اسلام علیکم!…..”

وا۔۔واعلیکم اسلام ! تمہارے پاس میرا نمبر کہاں سے آیا ؟…

کل کا سارا دن میرے ساتھ گزارنے کے بعد یاد آیا پوچھنے کا میرے پاس نمبر کہاں سے آیا ۔۔۔

ہاں وہ تو پتا چل ہی رہا ہے تمہیں دیکھ کر ۔۔۔وہ تصویروں کی بات کررہی تھی ۔

” یار میں نے ابھی تک ہر قسم کا پیاکڑ دیکھا ہے جو پی کر مار پیٹ کرتے ہیں۔ لڑائی جھگڑا کرتے ہیں۔گالی گلوچ کرتے ہیں چوری کرتے ہیں مگر تم۔۔۔۔۔تم تو رومینٹک قسم کی پیاکڑ ہو رومینس کرتی ہو ۔۔۔۔۔

” رومینٹک قسم کی مطلب کیا کیا میں نے ۔۔۔۔۔۔۔”

” کیا کیا یہ پوچھو کیا نہیں کیا تم نے میرے شرٹ کے دو بٹن کیا کھل گئے تم تو وہ بہودہ سا گانا گانے لگی کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں تیری جوانی بڑی مست مست ہے۔۔۔۔۔۔”

” کیییا!!!! میں نے یہ گایا ۔۔۔۔۔”نہیں نہیں صرف یہ نہیں بالی ووڈ کے جتنے گانے تمہیں اتے تھے تم نے سب گائے ہیں اور کس بھی ۔۔۔۔۔۔وہ بات کرتے کرتے رُک گیا ۔

کس!!!!۔۔۔وہ ڈر۔گئی تھی یہ کہنے والا ہے

” کس کس حرکت کا بتاؤ جو تم نے فن لینڈ میں کی جو میرا خرچہ کروایا ۔۔۔۔۔”

” میں نے کل یہ سب کیا تمہیں اتنا شرمندہ کر۔وایا ۔۔۔۔۔۔” وہ رونے لگی ۔

” سحر !!!.مگر کال کٹ گئی تھی ۔۔

” علی آفس سنبھال لینا میں تا ہوں ۔۔۔۔۔۔” اپنا فون اور والٹ اٹھا کر وہ باہر آیا تقریباً بیس منٹ کے اندر وہ اسکے گھر پہنچا اور بازو سینے پر باندھ کر دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا ۔سامںے صوفے پر وہ سر پر کپڑا باندھے بیٹھی تھی ۔ایک ہاتھ سر پر ایک گھنٹہ سینے سے لگائے فُل پینڈو سٹائل میں بیٹھی تھی ۔

” کپڑا باندھنے سے اگر نشہ نہیں اترا تو پنکھے سے لٹک کر دیکھ لو ۔۔۔۔۔”

“تم !!! “

” ہاں میں سرپرائز !سرپرائز! وہ کیا ہے نہ میں نے سوچا دیکھ او کل والی اتری یا نہیں۔۔۔۔۔۔۔”

” تم جاؤ مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی ۔۔۔”

” اچھا کل مجھے جانے نہیں دے رہی تھی اور آج تمہیں مجھ سے بات نہیں کرنی ۔۔۔۔”

“یہ دیکھو میرے جُڑے ہاتھ غلطی ہوگئی جو اس حالت میں تم میرے ساتھ تھے ۔۔۔۔۔”وہ کافی غصے میں تھی جس کا احساس اسے بہت جلدی ہوگیا ۔” سحر میرا وہ مطلب نہیں تھا ۔۔۔۔”

جو بھی مطلب تھا صاف ہوگیا تم مجھے یہ جتا رہے ہو کہ میں بھی باقی لڑکیوں کی طرح تمہاری دُمچھلی بنی گھوم رہی تھی ۔

“سحر تم غلط سوچ رہی ہو میرا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا۔۔۔۔۔”

” تو کیا مطلب تھا میری تصویریں بنائی ویڈیو بنائی غلط فائدہ اٹھایا اور بھی پتا نہیں کیا ۔۔۔۔۔” یہ بات اسے برُی لگی تھے اسنے بازو سے پکڑ اپنے قریب کیا ۔۔

” اس سے آگے کچھ کہا تو اے ایس کا وہ روپ دیکھو گی جو تمہارے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔۔”

” دور ہٹو مجھ سے من نہیں بھرا کل تو بہت موقع ملے ہونگے میرے قریب آنے کے ۔۔۔۔” یہ بات اسے اور تپا گئی تھی اسنے اسے صوفے پر گریا اور جھک کر کہا ۔

” کل جب تم مجھے کس کرنے والی تھی مجھے تمہیں روکنا ہی نہیں چاہیے تھا ۔اس گھٹیا الزام سے بچنے کے لیے مگر وہ تو پھر بھی لگ گیا تو کر ہی لیتا تو کیا کر لیتی تم اپنی نظروں میں گر جاتی ۔۔۔” وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کہ رہا تھا ۔

” تم جیسے ناجانے کتنے لڑکیاں روز میرے آگے پیچھے پھِرتی ہیں یہاں آیا ہوں تو خود کو خاص مت سمجھنا بتانے آیا تھا کہ آیندہ یہ شکل مجھے مت دیکھانا ورنہ ہر حد بھول جاؤ گا ہر بار تمہاری عزت کی حفاظت کا ٹھیکہ میں نے نہیں لےرکھا ۔۔۔”

یہ کہ کر وہ چلا گیا اور وہ اسکی پشت کو دیکھتی رہی پہلی بار وہ اتنے غصے میں بات کر کے گیا تھا ۔گاڑی میں بیٹھنے کر بعد اسنے زوردار مُکا سٹیرنگ پر مارا اسکے کانوں میں۔ ایک ہی آواز گونج رہی تھی ” تو تم سنبھال لینا تم ہو نہ میرے ساتھ ۔۔”

کیوں خوابوں پے تیرے سائے ہیں ۔۔۔۔۔۔

دل کیوں ہے تنہا میرا ۔۔۔۔۔۔

کیوں خاموشی ہےزباں میری۔۔۔۔۔

اشکوں سے کہ پاؤں نہ ۔۔۔۔۔۔

کیوں درد ہے اتنا ۔۔۔۔

تیرے عشق میں ۔۔۔۔۔۔

ربا وے۔۔۔۔ربا وے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہماری زندگی میں ہر روز ناجانے کتنے لوگ آتے ہیں جاتے ہیں کچھ ملتے ہیں کچھ کھو جاتے ہیں لیکن بہت کم ہوتے ہی۔ جو ہماری سوچ کا حصہ بن جاتے ہیں جو سوچ بن جائے وہ اجنبی نہیں رہتے پھر انھیں اپنی سوچ سے نکالنا تھوڑا مشکل ہو جاتا ہے اور آ گ پر تیل کا کام کرتا ہے اسی شخص کا بار بار ٹکرنا یعنی وہ صرف سوچ کا نہیں ہماری زندگی کا بھی حصہ دار ہوتا ہے ۔لیکن کئی دفعہ ہم اپنی انا اور غصے میں اس سے دور چلے جاتے ہیں مگر قدرت جسے ساتھی قرار دے دے وہ الگ نہیں ہوتا ۔قدرت کوئی نہ کوئی راستہ طریقہ ایسا ضرور نکالتی ہے کہ وہ پھر اسی موڑ پر ملجاتے ہیں جہاں سے سب شروع ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمام مہمان آ چکے تھے تیاری مکمل کرلی گئی تھی مگر پھر بھی رسم ابھی ادا نہیں ہوئی تھی کیونکہ حنا کی دوست ابھی نہیں آئی تھی

” حنا یار بس کردے کوئی نہیں آنا تیری دوست رسم کرلے قسمے بڑی بھوک لگی ہے ۔۔۔” اے ایس پیٹ پکڑے اسے کہ رہا تھا ۔

” بس پانچ منٹ اور ۔۔۔۔” اسنے پانچ کا نشان بنا کر کہا ۔

” یار تو تو ایسے کر رہی جیسی تیری دوست نہیں کوئین الزبتھ ہوگئی ۔۔۔۔”

” اسے دیکھو گے نہ تو بتا نہ کوئین الزبتھ سے کم بھی نہیں ۔۔۔۔۔یہ لو آگئی۔۔۔۔۔” علی اور اے ایس دونوں نے سامنے دیکھا علی نے تو حیرت سے کہا “یہ !!!”مگر اے ایس کی تو نظر ہی پلٹنا بھول گئی ۔۔۔

بلیک ویلوٹ کی گھٹنوں تک آتی فراک جس کا بارڈر پر گوٹا لگا تھا گولڈن چوڑی دار پاجامہ اور بلیک دوپٹہ گوٹا کناری والا کانوں میں ہلکے سے لمبے بُندے اور کھلے بال جنہیں ایک طرف سے چند لٹیں اٹھا کر پِن اپ کی تھیں۔پوری آ ستینیں اور گول گلا ۔۔۔۔۔۔۔

محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے ۔۔۔۔

اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پر دم نکلے ۔۔۔۔۔

وہ سٹیج پر پہنچ چکی تھی ۔اسنے پہلے ایک نظر علی کو دیکھا اور پھر دونوں نے اے ایس کو جو حنا سے مخاطب تھا ۔” حنا تمہاری دوست آگئی ہے تو رسم کر لیں ۔۔۔۔”

رسم کے دوران سحر حنا کے پیچھے تھی اور اے ایس علی کے پیچھے مگر وہ دونوں تو ایسے تھے جیسے کبھی پہلے ملے ہی نہیں تھے ۔دونوں ہی ایک دوسرے کا مکمل۔نظر انداز کر رہے تھے ۔

رسم کے بعد کسی نے کپل ڈانس کا مشورہ دیا جس پر سب اتفاق کر گئے تھے تمام جوڑے ایک دائرے میں کھڑے تھے اور بیچ میں تھا کپل آف دی ڈے حنا اور علی ۔ سحر کو بھی کسی نے ڈانس آفر کیا جو اسی کے آفس کا کولیگ تھا وہ منع نہیں کر پائی اسے دیکھ کر اے ایس کو کچھ زیادہ اچھا نہیں لگاوہ بھی ضد میں کسی کے ساتھ دائرے میں کھڑا ہوگیا ۔سحر اور اے ایس کے درمیان صرف ایک جوڑی کھڑی تھی تمام کپل ڈانس کی پوزیشن میں کھڑے تھے میوزک شروع ہوگیا ایک عجب رومانوی سی فضا پھیل گئی ۔۔۔

طلب ہے تو ۔۔۔

تو ہے نشہ ۔۔۔۔

غلام ہے۔۔۔۔۔۔

دل یہ تیرا ۔۔م۔۔

کھل کے زرا جی لوں تجھے

۔۔۔

اجا میری باہوں میں آ۔۔۔۔۔

تمام جوڑے ایک دوسرے کے قریب آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس گانے کا الفاظ کو محسوس کر رہے تھے ۔مدھم سا مسکرا رہے تھے ۔

مریضِ عشق ہوں میں کر دے دوا۔۔۔۔۔۔

ہاتھ رکھ دے تو دل پے زرا ۔۔۔۔

ہوووووو۔۔۔۔۔۔

ہاتھ رکھ دے تو دل پر زرا۔۔۔۔۔۔

محبت بڑی مطلبی ہوتی ہے جس سے ہوجائے اس پر کسی کی نظر برداشت نہیں کرتی اور کرنے والے کو یہ بھی پتہ نہ ہو کہ محبت ہوگئے ہے تو اسکی شرارتیں اور بڑھ جاتی ہیں بنا کسی بات کے حق جمانا شروع کر دیتی ہے ۔یہی سب اسکے ساتھ بھی ہورہا تھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کچھ دونوں پہلے وہ جس لڑکی سے لڑ کر آیا ہے اسے کسی اور کے ساتھ دیکھ کر کیوں برداشت نہیں کر پارہا کیوں اسے غصے آرہا ہے اس لڑکے پر جو اسے بار بار اپنے قریب کر رہا ہے اسے ہاتھ کیوں لگا رہا ہے وہ اسے دور کر رہی تھی مگر وہ ڈانس کا فایدہ اٹھا رہا تھا ۔

Hey guys let’s change the partner for twist around the circle

یہ اے ایس کے الفاظ تھے تاکہ سحر گھوم کر اسکے پاس اجائے آئیڈیا سب کو پسند اگیا پارٹنرز گھومنا شروع ہوگئے تھے ۔سحر پہلے اے ایس کے ساتھ والے لڑکے کے پاس آئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تجھے میرے رب نے ملایا ۔۔۔

میں نے تجھے اپنا بنایا ۔۔۔

اب نہ بچھڑنا خدایا ۔۔۔۔۔۔۔

محبت روح کی ہے لازم غذا ۔۔۔۔

اور یہی وہ وقت تھا جب وہ گھوم کر اسکے پاس آئی اور ہاتھ اسکے سینے رکھ دیے ۔۔

ہاتھ رکھ دے تو دل زرا ۔۔۔۔۔۔۔۔

اب وہ اسکے پاس تھی اس سے نظریں چراتی مگر وہ تو نظریں جمائے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔گانا ختم ہوچکا تھا مگر علی نے ڈی جے سے کہ کر یہی گانا دوبارہ لگوایا اور ایک نام بلند آواز میں کہا ۔۔۔۔۔” اے ایس! اے ایس !……اسکے ساتھ سب لوگ اسکا نام پکارنے لگے ۔وہ سحر کا ہاتھ پکڑے دائرے میں آیا ۔میوزک بجنا شروع ہوچکا تھا الفاظ وہی تھے ساز وہی تھا مگر اس بار صرف وہ دونوں تھے ۔دائرے کے بیچ آتے ہی اسنے اسکی کمر پر ہاتھ رکھا اسکا ہاتھ تھام کر اوپر اٹھایا اپنے قریب کیا قدم آگے پیچھے چلنے لگے