416.8K
35

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shehr-e-Sahar Episode 29

Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam

دن آہستہ سے گزرنے لگے تھے سناش پچھلے گزرنے والے سالوں میں ہونے والی کاروائیاں دیکھ رہا تھا بہت زیادہ گھپلہ کیا گیا تھا شہرِ سحر کو چھوڑ کر ہر چیز پر خرچہ کیا گیا تھا زولفشان کی حکومت میں بننے والے حریفوں سے ہاتھ ملائے گئے تھے شہر سحر سے لوگوں کو غلام بنا کر دوسرے علاقوں میں بھیجے گئے تھے بہت ساری زمینوں پر زبردستی قبضہ کیا گیا تھا بہت ساری اضافی عمارتیں بنائی گئی تھیں جو زخائر کے لیے تھیں اور وہ ذخیرا زیادہ تر شراب اور عجیب و غریب چیزوں کی تھی جو مہنگے داموں سے خریدے گئے تھے جو یہاں کے حکمران اپنے لیے استعمال کرتے تھے شہر سحر کی عوام کے لیے کچھ نہیں تھا ۔شہر سحر میں کوئی چند ایک درس گاہیں تھیں جن کے استاد بچوں کی تعلیم پر کوئی خاص توجہ نہیں دی تھی ۔شہر سحر کے بچوں کو بنیادی تعلیم بھی نہیں دی گئی تھی ۔سارا کا سارا نظام بگڑا ہوا تھا ۔طبیب خانے بھی کوئی زیادہ کارآمد نہیں تھے شہر سحر کا غریب طبقہ مفلسی کی زندگی گزار رہے تھے ان پر ظلم سو الگ ۔”

صیاد کتب خانے میں بیٹھا کوئی اہم کتاب پڑھ رہا تھا جب سناش نے چند کاغذ لاکر میز پر پھینکے انھیں دیکھ کر صیاد نے حیرت سے اسے دیکھا ۔” ابا آپ نے آخری بار وزیر شہباز سے شہرِ سحر کے بارے میں کب بات کی تھی ۔” جس بات کا ڈر تھا وہی ہو رہا تھا ۔” کیا ہوا سناش ؟”

” اب شہرِ سحر کو وہ لوگ اندر سے کھا گئے اور آپ کو اس بات کا علم ہی نہیں ہے حیرت کی بات ہے اور سب سے زیادہ بڑی بات شہرِ سحر کے لوگوں کو غلام بنا کر دوسرے شہروں میں بیچا جارہا ہے وہ بھی ان لوگوں کو جو تایا جان کے حریف تھے ۔اپ سے چھپا کر بردہ فروشی کا بازار چلا رہا تھا وہ ۔” صیاد کا تو گلہ سوکھ گیا تھا یہ سب تو انھوں نے مل کر کیا تھا ان سے رقمیں لے کر انھیں زبردستی غلام جو کسی کا باپ تھا کسی کا بیٹا کسی کا بھائی تھا جسے زبردستی پکڑ کر اپنوں سے دور کیا گیا تھا ۔شہر سحر کے بچوں کو بنیادی تعلیم تک نہیں دی گئی وہ کرتے کیا رہے ہیں۔مجھے تو لگتا ہے ان دونوں نے صرف اپنے خزانے بھرے ہیں کیونکہ اتنا خزانہ تو شہر کے پاس نہیں ہے جتنا انکی تجوریوں میں بھرا پڑا ہے ۔” وہ غصے سے لال ہوا پڑا تھا ۔

” وہ تو اچھا ہے ابا کہ راجہ بنے سے پہلے ہی ہمیں یہ موقع مل گیا کہ ہم شہر کے حالات سے واقف ہو سکیں ہمیں یہ سب روکنا ہوگا ابا اور اس میں آپ ہماری مدد کریں گے ۔”صیاد نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا ۔

” دیکھیے ابا زبیر اور شہباز نے جو کچھ بھی کیا سب کچھ آپکے کی غیر آگاہی میں کیا اور ہمیں وہ سب مل کر ٹھیک کرنا ہوگا کرنا صرف یہ ہے ابا آپ راجہ ہیں تو آپکو ایسے احکام جاری کرنے ہیں جو شہرِ سحر کی فلاح کے لیے ہوں مطلب جو کچھ انھوں نے خراب کیا ہے اسے ٹھیک کرنا ہوگا ۔”

” سناش چھوڑو جو جیسے چل رہا ہے ویسے چلنے دو اتنی محنت کی کیا ضرورت ہے او ویسے بھی شہر سحر کی عوام خوش تو ہے ۔”

” ابا وہ خوش نہیں ہے انھوں نے صرف اس میں خوش رہنا سیکھا ہے جو انکے پاس ہے ہمیں راجہ ہونے کے ناطے انھیں خوش رکھنا ہے تو ہمیں کرنے دیں یہ لیں اور اس پر دستخط کرکے مہر لگا دیں ۔” اسنے ایک فرمان اسکے سامنے رکھا ۔” یہ کیا ہے ؟”

” ابا یہ حکم ہے کہ شہباز اور زبیر کا محل انکے تما غلام اور انکی تمام مال ومتاع حکومت ضبط کررہی ہے اور جیل سے آزاد ہونے کے بعد وہ خود کفیل ہونگے !”

” سناش ایسا مت کرو وہ اس شہر کے بہت پرانے وفادار رہےہیں اور ۔۔۔۔۔”

” وفادار ابا ! انھوں نے صرف ہیرا نہیں چرایا تھا شہرِ سحر کی بنیاد چرائی ہے اور انھوں نے وہ مال ومتاع شہر سحر کو لوٹ کر بنایا ہے آپ بس اس حکم نامے پر دستخط کریں اور ہمیں اجازت دیں جو شہرِ سحر کا ہم اسے اسی پر خرچ کریں اور اب آپ انکا ساتھ دے رہیں ہیں کہیں ایسا تو نہیں کہ ان سب کے بارے میں آپ کو پتا تھا ۔” اسنے پہلی بار اپنے باپ پر انگلی اٹھائے تھی ۔

” نہیں سناش ہمیں ۔۔۔ہمیں اس بارے میں کچھ پتہ نہیں تھا اور ویسے بھی میں شہر سحر کا راجہ ہو میں تو اسکا بھلا ہی چاہوں گا نہ !”

” مجھے پتا ہے ابا انھوں نے آپکو کچھ نہیں بتایا ہوگا وہ یہ سب آپکی آگاہی کے بغیر کر رہے ہوں گے اسلیے تو ہم آپکو یہ سب بتا رہے ہیں کیونکہ ہمیں پتا ہے ہمارے آبا ہماری بات ٹالتے نہیں ہیں اور ہم کہہ بھی تو سچ رہے ہیں اور میرے ابا ہمیشہ سچ کا ساتھ دیتے ہیں ۔” وہ فخریہ نظروں سے صیاد کو دیکھا اور صیاد کا ڈر پسینہ بن کر اسکے ماتھے پر آگیا تھا سناش کو سچ پتا لگنے پر مجھ سے نفرت کرے گا نہیں میرا بیٹا مجھ سے نفرت نہیں کرے گا میں اسے موقع ہی نہیں دوں گا ۔اور پورے شہر سحر میں میرے بیٹے جتنا حسین سمجھدار اور بہادر کوئی نہیں ہے اسے کوئی بھی میدان جنگ میں نہیں ہرا سکتا ابھی تو یہ ان حالات کی طرف متوجہ ہے مگر بہت جلد میں اسے واپس اپنے کاموں پر مصروف کردوں گا پر ابھی تو مجھے اسکی سننی پڑے گی ۔” اسنے اس فرمان پر دستخط کرکے مہر لگا دی ۔ساش وہ فرمان لیکر باہر آگیا تھا اور ان دونوں کے محل جانے کی تیاری کرنے لگا۔اسیر مسکرا اسکی یہ ساری کاروائی دیکھ رہا تھا بس یہ تو کرنا تھا اولاد سےبے لوث محبت انسان سے کبھی کبھی بہت بڑی غلطیاں کروا دیتی ہے جیسے مہا بھارت میں دھتراشٹ نے اپنے بیٹے کے پیار میں اپنا پورا خاندان ختم کر لیا تھا ویسے ہی صیاد بھی اپنی گناہوں کی لنکا اپنے ہی بیٹے کے ہاتھوں جلتی دیکھے گا ۔شہباز اور زبیر کا تمام مال و متاع ضبط کرلیا گیا تھا تمام شہر سے شراب خانے اور غلاموں کی سودہ گری روک دی گئی تھی ۔تمام شراب اور عیاش خانوں کو دینی مدارس میں تبدیل کروا دیا گیا تھا ۔چند عمارتوں کو طبیب خانوں میں تبدیل کیا گیا تھا جہاں شاہی طبیبوں کو بٹھایا گیا تھا علاج کا تمام سامان اور جڑی بوٹیاں مخصوص علاقوں سے برآمد کی گئی تھیں اور وہ اسی مال سے کی گئی تھیں جو شہباز اور زبیر کی تجوریوں سے لیا گیا تھا ۔ لیکن مشکل جو سب سے بڑی کھڑی تھی وہ تھی تعلیم دینے کے لیے معلم جو شہر سحر کا تمام رسم الخط اور سمجھ بوجھ رکھتے ہوں جو انھیں دینی تعلیم بھی دیے سکیں اور اسکا حل بھی اسیر نے دیا تھا قید خانے میں پچھلے پچس سالوں سے قید وہ اسیر جو کبھی زولفشان کے دور میں حکومت کے حصہ دار ہوا کرتے تھے جنہوں نے صیاد کے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور بندی بنا لیے گئے سارا کھیل اسیر کھیل رہا تھا وہ بھی سناش اور طلسم کی مدد سے یعنی راجہ صیاد صرف نام کا رہ گیا تھا حکومت اسیر کی شروع ہوچکی تھی ۔ان قیدیوں میں سے کافی قیدی ایسے تھے جو شہر سحر کی تاریخ ارتقا پیش آنے والی مشکالات رسم الخط کے بارے میں بہت اچھے سے جانتے تھے مگر ایک سوال جو ان سب سے پوچھا گیا تھا وہ تھا شہر سحر جس جگہ موجود ہے وہاں پہلے کیا تھا اور وہ ہیرا کیسے شہر سحر کی بنیاد بنا تھا جس سے وہ لوگ پریشانی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے مگر انھوں نے بتانے سے انکار کردیا تھا کہ وہ زولفشان سے وعدے میں بندھے ہیں زولفشان چلا گیا مگر وعدہ اب بھی موجود ہے یہ راز راز ہی رہے تو بہتر ہے ورنہ اسکے حکمران لوٹ آئیں گے ۔ ” یہ بات سن کر وہ تینوں خاموش تو ہوگئے تھے مگر اسیر کو ایک راز کھولنے کے لیے مل گیا تھا ۔

ملک میں مہنگائی بڑھ گئی تھی خریدو فروخت کم تھی کیونکہ زمین پر کاشتکاری کم ہونے کی وجہ سے لوگ مہنگے داموں چیزیں لینے پر مجبور تھے پیٹ بھرنے کے لیے انھیں یا تو اپنی کوئی چیز بیچنے پڑتی یا غلامی اختیار کرنی پڑتی ۔اس کا حل سناش نے خود تلاش کیا تھا باقی بچے غلاموں کو حکومتی زمینوں پر کاشت کاری کرنے کے لیے کہا گیا تھا جن میں سے محصول حکومتی زخائر اور کسانوں کو اپنا اپنا حصہ دیا جانا تھا ۔سالوں سے قید اسیروں نے پہلی بار ہاتھوں میں درانتی ہل چلایا تھا قید خانے سے نکلتے ہی سورج کی پہلی کرن چہرے پر پڑتے ہی انھوں نے پہلے خدا اور پھر سناش کا شکریہ ادا کیا تھا ۔صیاد کے ہاتھوں سے سب نکلتا جارہا تھا اور کچھ نہیں کر پارہا تھا اپنے بیٹے کی محبت قائم رکھنے کے لیے وہ خاموش تھا لیکن اندر ہی اندر اس پلٹتی کایا کو دیکھ رہا تھا ۔اسکی اپنی تجوری بھی رک چکی تھی تمام مال شہر سحر کے قومی خزانے میں جما ہونے لگا تھا ۔سناش ایک سکہ بھی آپنے پاس نہیں رکھتا تھا ۔دوسرے علاقوں میں بیچے جانے والے غلام جن کی عوض انھیں بے تحاشا دولت ملتی تھی جو انکی اپنی ہوتی تھی سناش نے وہ بھی روک دی تھی ۔جن سے وہ تمام حکمران صیاد سے ملنے آئے تھے مگر اس بار ان سے گفتگو سناش نے کی تھی ۔صیاد کی بات سچ تھی پورے شہر سحر میں سناش جتنا کوئی سمجھدار نہیں تھا اور اسکا نظارا اب ہر کوئی دیکھ رہا تھا اسیر کو کچھ کرنے اور سوچنے کی ضرورت ہی نہیں پڑ رہی تھی ان حکمرانوں کو ایک مخصوص کمرے میں بٹھایا گیا تھا ۔صیاد بھی وہیں بیٹھا تھا مگر خاموش کیونکہ سناش ابھی نہیں آیا تھا اور جب وہ آیا تو اتنی شان سے آیا کہ ناچاہتے ہوئے بھی سب کھڑے ہوگئے ۔موزو گفتگو سب جانتے تھے ۔

“ بات یہ کہ اب سے شہر سحر کے غلام آپ کو بیچے نہیں جائیں گے ؟”

“ مگر کیوں پہلے اتنے سال ہمیں غلام مہیا کیے گئے ہیں اور انکے بدلے شہر سحر کو بھاری قیمتیں بھی دی گئی ہیں جو نہ صرف شہر سحر کے لیے مفید ہیں بلکہ آپ کے ذاتی مال کا بھی ذخیرا تھیں ۔”

“ دیکھیں شہر سحر سے غلام دوسرے علاقوں میں بیچے جاتے تھے اس بات کا علم ہمیں نہیں تھا مگر اب یہ نہیں ہوگا شہر سحر کوئی غلام بھی کہیں نہیں جائے گا شہر سحر کے غلام یہاں کے لیے ہی کام کریں گے ۔” سناش کی بات پر ان سب نے حیرت سے صیاد کو دیکھا ” علم نہیں تھا ۔” اور صیاد نے انھیں خاموش رہنے کا اشارہ کیا ۔” لیکن سناش اگر ہم ایسا کریں گے تو ان علاقوں سے ہمارے تعلقات خراب ہوجائیں گے اور ایک راج چلانے کے لیے تعلقات کا ہونا لازمی ہے .”

“ اسکا حل بھی ہم سوچ کر آئے ہیں جس سے انکے اور ہمارے تعلقات بھی رہیں گے اور بردہ فروشی بھی نہیں ہوگی۔اپ سب ہمیں بتائیں آپ کے علاقوں میں کس چیز کی پیداوار سب سے قلیل ہوتی ہے ۔”

ان تمام میں اپنے علاقے میں کم کاشت ہونی والی فصلوں کے نام بتائیں اور یہ بھی بتایا کہ وہ انھیں پہلے سے ہی کسی اور علاقوں سے برآمد کر رہے ہیں ۔”

اس بار یہ تمام فصلیں شہر سحر میں کاشت ہونگی اور شہر سحر بھی آپکو انکا نمونہ بھیجے گا جتنے اچھے اور مضبوط شہر سحر کے غلام تھے اتنی ہی اچھی اور معیاری شہر سحر کی پیداوار بھی ہوگی ۔کیوں ابا ہم سہی سوچ رہے ہیں نہ ” اسنے مسکرا کر صیاد کی طرف دیکھا جس نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔

“ لیکن غلاموں سے اپکو زیادہ فائدہ ہوتا اگر یہ کر بھی لیں تھی اسکے لیے آپکو ایک مخصوص رقم دی جائے گی جس میں آپکا کوئی اپنا کوئی کوئی فائیدہ ہوگا ۔”

“ کسی ملک کی حکومت کا ذاتی فائدہ تب ہوتا ہے جب اسکے ملک کو فائدہ ہو اسکے ملک کو دوسرے علاقوں میں عزت کی نظر سے دیکھا جائے میں نہیں چاہتا کہ شہر سحر اپنے فائدہ کے لیے اپنی عوام کو بیچ رہا ہے اگر آپکو یہ معاہدہ منظور ہیں تو بتائیں ۔”سناش کی بات پر ان سے نے کچھ دیر ایک دوسرے سے بات کی پھر ایک بولا ۔” ہمارے علاقے میں سب سے کم پیداوار چاول کی رہی ہے جسے ہم برآمد کرنے پر مجبور ہیں اگر شہر سحر کی چاول کی پیداور اور معیار اچھا ہوا تو ہم آپ سے چاول خریدہ کریں گے ۔”تمام نے اس معاہدے پر منظوری دے دی تھی مگر معاہدہ دستخط نہیں گیا تھا پہلے شہر سحر کو وہاں نمونے بھیجنے تھے ۔ سناش نے تمام حکومتی زمینوں پر ان تمام چیزوں کی پیداوار شروع کروا دی تھی شہر سحر کے وہ قیدی جو بے مول محنت کرکے تھک گئے تھے وہ خوشی خوشی وہ کام کرہے تھے ۔پورے شہر سحر کے لوگ گھوڑے پر سوار سناش کے ہاتھ چومنے کے لیے دھکا مکی کر رہے تھے ۔اور وہ مسکراتا ہوا سب کو دیکھ رہا تھا جب وہی لوہار ہاتھ میں تلوار لیے اسکے پاس آیا وہ وہی تھا جس نے باپ کو قید کرکے زبردستی اسکی زمین کے لی گئی تھی مگر اب اسکی زمین اور اسکا باپ دونوں واپس آگئے تھے اسکا باپ اپنی ہی زمیں پر شہر سحر کی فلاح کے لیے محنت کررہا تھا وہ اس سے روز مل پاتا تھا اسکے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا سکتا تھا یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں صیاد کے لیے کچھ نہیں تھیں مگر سناش کے لیے وہ مسکراہٹ بہت تھی ۔اسنے اسکے ہاتھوں سے وہ تلوار کی جو خالص لوہے سے بنی تھی جس کے اوپر شہر سحر کے رسم الخط میں سناش لکھا تھا جسے سناش نے دیکھ کر پہلے تلوار کو اچھے طریقے سے دیکھ پھر نیچے اترا آصف سے تلوار بازی کی مشق بھی کی اور مسکرا کر اس لوہار کو دیکھا ۔” یہ تم نے بنائی ہے ۔”

“ جی سرکار میں ہمیشہ سے بناتا آیا ہوں جو وہ لوگ لیتے ہیں جو تلوار بازی کی مشق کرتے ہیں مگر شہر سحر کی فوج کے لیے یہ ہتھیار شہزادی طلسم کے ماموں جان کے ہاں سے منگوائے جاتے ہیں یہ تو میں نے آپکو تحفہ تن دی تھی آپ نے ہمارے لیے اتنا کچھ کیا ہے ۔”

لیکن سناش کی سوچ تو کہیں اور رک گئی تھی ۔وہ واپس محل آیا اور سیدھا صیاد کے کمرے میں چل گیا ۔” ابا یہ دیکھیں !” اسنے وہ تلوار صیاد کے ہاتھوں میں دی ۔ ” ابا یہ شہر سحر کے لوہار نے بنائی ہے ابا ہم ہر بار ماموں جان سے فوج کے لیے ہتھیار خریدتے ہیں اسکے لیے ہمیں انھیں بھاری قیمت دینی پڑتی ہے تاکہ ہماری فوج سب سے اچھی اور مضبوط رہے مگر اسکے لیے ہم نے کبھی اپنے ہی شہر میں بننے والے ہتھیاروں کو دیکھا ہی نہیں یہ کسی طور بھی ان سے کم نہیں ہے ۔”

” لیکن سناش وہ ہمیں بہت وقت سے ہتھیار دے رہے ہیں تو انھیں یوں اچانک سے کیسے منع کردیں ۔”

” دیکھیں ابا جہاں تک ہم نے دیکھا ہے قومی خزانہ اتنا کثیر نہیں جتنا ہونا چاہیے تھا شہباز اور زبیر نے بہت لوٹا ہے اور اب جب ہم غلام نہیں بیچ رہے تھے ہمیں تجارت محدود ہوگئی ہے اسلیے ہم ان چیزوں پر پیسہ کو خرچ کریں جو ہم خود بنا سکتے ہیں آج سے یہ لوہار شہر سحر کی فوج کے لیے ہتھیار بنایا کریں گے . آپ ہماری بات مان رہے ہیں نہ ابا ؟”

” ٹھیک ہے سناش تم جیسا چاہو گے ویسا ہی ہوگا ویسے بھی تم سپہ سالار ہو واپس لوٹ کر تمہیں ۔۔۔”

” شہر سحر کی حالت بہتر کیے بغیر میں کسی اور کام میں توجہ نہیں لگانا چاہتا “اسنے دو ٹوک جواب دیا تھا جس پر صیاد اسکا منہ دیکھتا رہ گیا تھا ۔” مگر پھر فوج کا کیا ہوگا سناش انکو تیاری مشق کون دیکھے گا ؟”