Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam NovelR50472 Shehr-e-Sahar Episode 30
No Download Link
Rate this Novel
Shehr-e-Sahar Episode 30
Shehr-e-Sahar by Bint-e-Aslam
” آصف! وہ بہت اچھے سے سنبھال رہا ہے ہمیں بس شہر سحر کو سدھار کر اسے محفوظ وزیر کے ہاتھوں میں دینا ہے ۔”اپنی بات کہ کر وہ وہاں سے چلا گیا تھا ۔اور صیاد پریشانی کے عالم میں اسے جاتا دیکھ رہا تھا ۔” اگر سناش سب ایسے ہی دیکھتا رہا تو شہباز اور زبیر کبھی بھی باہر نہیں آ پائیں گے اور انھوں نے اگر سناش کو سب بتا دیا کہ ہیرا چھپایا نہیں پہلے بھی چوری کیا گیا تھا اسکے عزیز تایا جان کو ہم نے مارا تھا شہر سحر کی تباہی میں ہم سب ملوث ہیں تو وہ ہم سے بہت دور چلا جائے گا نہیں ہمیں یہ سب ہونے سے پہلے اسے روکنا ہوگا ۔ یہ سب سوچ کر وہ قید خانے میں شہباز اور زبیر سے ملنے آیا تھا جو دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے جو حالت وہ اپنے غلاموں کی کرتے آئے تھے وہی حالت آج انکی ہوگئی تھی صیاد کو دیکھ کر وہ دونوں سلاخوں کے قریب آئے ۔” اب کیا کرنے آئے ہو صیاد اب بھی نہ آتے اپنے بیٹے کے سامنے تو کچھ بول نہ سکے اب کیا ہماری بد حالی کا منظر دیکھنا ہے اگر یہ سب ایسے ہی چلتا رہا اور ہم یہاں رہے تو مت بھولنا تمہارے بیٹے کو سب بتا دیں گے ہمارے ہر گناہ میں تم بھی ملوث تھے بلکہ سب کیا ہی تم نے اتنی محنت سے جو عیش و آرام دولت ہم نے کمائی تھی تمہارا بیٹا ان بھوکے ننگے لوگوں پر لگاتا جارہا ہے ہمیں یہاں سے جلد نکالو ورنہ اچھا نہیں ہوگا ۔” یہ سارا غصہ شہباز نے نکالا تھا ۔
” اپنی بکواس بند کرو اور یہ بتاؤ ایسا کیا لالچ ان پڑا تھا جو ہمارے پاس موجود ہیرے کو ہی چرا لیا اور یہ بے واقوف ایک آنکھ سے نہیں عقل سے بھی اندھا ہے سارے دربار کے سامنے چیختا ہوا آیا کہ ہیرا چوری ہوگیا اور سناش کو سب بتا دیا ۔” زبیر شرمندگی سے سر جھکا گیا ۔” میں نے پہلے بھی کہا تھا اب بھی کہ رہا ہوں میں نے وہ ہیرا چوری نہیں کیا مجھے نہیں پتا کہ وہ ہیرا میری تجوری میں کیسے آیا میں تو اپنے کمرے میں سو رہا تھا اور صبح محل آگیا ۔”
” اچھا تو تمہارے کہنے کا مطلب۔ ہے وہاں قدموں کے نشان تمہاری روح لگا آئی تھی ہیرا خودبخود آگیا تیرے ہی غلام تیرے خلاف گواہی دیں گے کیونکہ ہمارا کوئی دشمن ۔۔” اسے جیسے کچھ یاد آیا ۔
” مجھے اک بات بتاؤ تم دونوں تیس سال پہلے اس رات زولفشان کی موت کے بعد جب تم لوگ غفران شہوار اور آدم کو مارنے گئے تھے تب شہوار تو مر گیا تھا مگر آدم ملا تھا کیونکہ ادم اور غفران ہی تھے جو بچ گئے تھے مگر غفران کی اتنی اوقات نہیں کے وہ ہم سے بدلہ لے سکے مگر آدم ؟”
” نہیں اس رات لاش صرف شہوار کی ملی تھی نہ تو غفران ملا تھا نہ ہی آدم آدم غائب ہوگیا تھا کہیں آدم تو ” شہباز نے حیرت سے صیاد کو دیکھا ۔” مجھے بھی لگتا ہے کیونکہ کچھ دونوں سے مجھے ایسا لگ رہا جیسے بہت جانے پہچانے مگر انجان وجود میرے آس پاس ہے خون کی بوند ملی تھی جس سے آدم کے خون کی خوشبو آرہی تھی آدم کی پکار وہی آواز مجھے لگتا ہے آدم واپس آگیا ہے ۔”
” نہیں ایسا کیسے ہوسکتا اہے اگر آدم زندہ تھا تو اتنے سالوں بعد کیوں آیا تبھی واپس کیوں نہیں آگیا ۔”
” وہ مجھے نہیں پتا مگر اس رات سے اگلے دن تک شہر سحر کا چپہ چپہ چھان مارا تھا ہم نے مگر آدم کا کہیں نہیں تھا مجھے لگتا ہے وہ دوسری دنیا میں جو چاند کے اس پار ہے وہاں چلا گیا ہوگا اور اب زیادہ تاقتور بن کر آیا ہے ۔”
” اگر ایسا ہے تو پتہ لگواو صیاد کے کہیں ہمارا کال واپس تو نہیں آگیا !” شہباز پہلے بھی آدم سے کترا کر رہتا تھا ۔
” اسی کے لیے کوشش کررہا ہوں اور آج رات وہ کام پورا بھی ہوجائے گا۔” اسنے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا ۔
” کییا !!!! صیاد چند دنوں سے محل کے پیچھے چاندنی سے بات کرنے کی کوشش کر رہا ہے تمہارا مطلب رات کے تاروں سے ؟” اسیر کو شمس نے صیاد کی کروائی بتائی تو جس پر اسکی ہنسی چھوٹ رہی تھی تارے کیا بتائیں گے ؟ مگر طلسم پریشان ہوگئی تھی ۔” یہ ممکن ہے اسیر اگر تین راتوں کی مسلسل کوشش سے چاندنی یعنی رات کی پری آگئی تھی وہ رات کا ہر راز بتا دے گی یعنی چاند کا دروازہ کتنی بار کھل چکا ہے اور منظر بھی دکھا دے گے ۔” اس بار اسیر کے حواس کچھ ہلے تھے ۔
” اور آج آخری اور تیسری رات ہے اگر وقت سے صیاد کے علم کو روکا نہ گیا تو اسے سب پتا چل جائے گا !”
مگر کیسے ؟ ۔۔۔۔” رات کی چاندنی آنکھیں بند کرکے تصور میں آتی ہے اگر صیاد کا تصور توڑ دیا جائے تو شاید چاندنی واپس چلی جائے اور پھر صیاد جو اسے بلانے میں پہلے سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے ۔”
” مگر تصور ٹوٹے گا کیسے ؟”
” شور سے بڑا سے بڑا تصور بھی شور کی حد پار کرنے کے بعد ٹوٹ جاتا ہے ہمیں وہاں شور مچانا ہوگا ۔”اسیر نے کچھ سوچ کر کہا ۔
” مگر محل کے پیچھے کوئی نہیں جاتا صیاد س۔ کو منع کر۔رکھا ہے ؟.”
” سب کو کیا ہے مگر اپنے بچوں کو تو نہیں طلسم تم تینوں سناش اور فاریہ تمہیں صیاد کا تصور توڑنا ہے ۔”
” مگر میں سناش کو وہاں لیکر کیسے جاؤں گی ؟”۔۔۔” جیسے ہمیشہ اسے اپنے پیچھے بھگاتی ہو اور فاریہ کوبھی .”
لیکن اسیر میں ۔۔۔وہ کچھ پریشان ہوگئی تھی ۔” میری بھوکی شیرنی شکار سے ڈر رہی ہے تم کرلو گی طلسم !” اسنے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔ اسے بس رات کا انتظا تھا ۔رات ہوتے ہی صیاد محل کے پیچھے تیار کیے اس درخت کے گرد آگیا جہاں اسنے چاندنی کو بلانے کا طریقہ ڈھونڈا تھا ۔وہ اسکے گرد کھڑا ہوکر کچھ پڑھنے لگا وہ تین دن سے گھنٹوں یہاں بڑھ رہا تھا مگر ابھی تک چاندنی نہیں آئی تھی مگر آج اسکی آخری کوشش تھی جس میں اسے کامیابی مل جانی تھی ۔ ادھر طلسم سناش کے کمرے میں ائی تھی جہاں فاریہ پہلے سے موجود تھی اسے دیکھ کر طلسم کو تھوڑا سا برا بھی لگا تھا یہ یہاں کیا کر رہی ہے ۔پھر سنبھل کر آگے آئی ۔” طلسم آپ یہاں کیا کررہی ہیں اس وقت ؟” اسے دیکھ کر سناش فاریہ کی بات سنے بغیر اٹھ گیا تھا جو فاریہ کو برا لگا تھا ۔طلسم مسکرا کر آگے آئی ” سناش وہ ۔۔۔۔۔ہم ۔۔۔۔وہ ۔۔۔فاریہ آپ پہلے سے زیادہ موٹی نہیں ہوگئی !” سناش اور فاریہ حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے ۔” اور سناش آپ نے بھی جب سے تلوار بازی کی مشق چھوڑی آپ بھی موٹے ہوگئے ہیں ہمیں دیکھیں ہم کتنے چست ہیں “
” طلسم آپ اس وقت ہمیں یہ بتانے آئی ہیں ۔” سانش نے اپنے اور فاریہ کی طرف انگلی کر کے کہا ۔
” نہیں وہ تو ہم اپنے کمرے میں بیٹھے بیٹھے اکتا گئے تھے تو سوچا آپ سے مل لیں کچھ باتیں ہوجائیں گی ۔” اسکی بات پر سناش نے حیرت اور پرمسرت نگاہوں سے اسے دیکھا ۔” آپ اس وقت ہمارے کمرے میں ہم سے باتیں کرنے آئی ہیں !”
” ہاں اور آپ بات میں بدلیے مجھے لگتا ہے آپ دونوں کو بھگانا دوڑنا چاہیے تاکہ آپ پہلے جیسے ہوجائیں “
” طلسم ہم بلکل ٹھیک ہیں اور جہاں تک رہی بھاگنے کی بات تو ہمارے محل میں آج تک ہمیں پکڑ نہیں سکا ۔”
اس میں کیا پکڑ تو ہمیں بھی آج تک کوئی نہیں سکا سناش بھی ہار جاتے تھے ۔”
” ہاہا طلسم آپ ہمیشہ کیوں بھول جاتیں ہیں ہم آپ کو پکڑ لیتے ہیں ہم آپ سے تیز بھاگتے ہیں ۔”
” اچھا ایسی بات ہے تو ہمیں پکڑ کر دیکھائیں آپ دونوں !” طلسم نے اترا کر کہا ۔
” نہیں طلسم ہم بہت تھک گئے ہیں ابھی نہیں ۔” سناش نے تھکا ماندہ سا منہ بنا کر کہا ” اور ہمیں بھی نیند آرہی ہے اس لیے اس وقت ہم یہ کرنا نہیں چاہتے ۔”
دیکھا آپ لوگ ہوہی ایسے گئے ہیں بھاگا ہی نہیں جاتا آپ سے اسلیے بہانے بنا رہے ہیں ۔”
طلسم ایسی کوئی بات نہیں اگر یہ بات ہے تو ہم آپکو پکڑ کر بتاتے ہیں ۔یہ کہہ کر فاریہ طلسم کی طرف بڑھی تھیں جب وہ اپنے کپڑے سنبھالتی بھاگ نکلی ۔” ارے روکیں یہ کیا کر رہی ہیں آپ دونوں !” سناش بھی انکے پیچھے بھاگ نکلا تھا ۔
ادھر تین دن کی کڑی محنت کے بعد صیاد نے جب اپنا تصور مضبوط کرکے چاندنی کو بلا لیا تھا وہ سفید رنگ کی ایک خوبصورت سی پری تھی جس کی پوشاک تاروں کی طرح چمک رہی تھی اسکے سر پر ایک تاج تھا جس پر قطبی ستارہ لگا تھا ۔اسکی میں حیرت اور پر اسراریت تھی ۔” کیا بات ہے صیاد آج آپکو ہماری کیا ضرورت پڑ گئی ؟”
” چاندنی ہمیں تم سے رات کے راز جاننے ہیں اور ہمیں جاننا ہے چاند سے دوسری دنیا کا دروازہ کھلا تھا یا نہیں ۔” وہ آنکھیں بند کیے تصور میں موجود اس پری سے گفتگو کر رہا تھا ۔
” ہاں کھلا تھا !” پری نے دو ٹوک جواب دیا جسے سن کر صیاد کچھ دیر سکتے میں آگیا تھا ۔
سناش طلسم فاریہ ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے محل سے باہر آگئے تھے طلسم راستے میں انھیں چڑاتی آرہی تھی جس سے فاریہ کو اور بھی غصہ آرہا تھا وہ اور تیز بھاگ رہی تھی اور سناش انھیں روکنے کے لیے بھاگ رہا تھا اور پھر طلسم نے وہ کیا جو اسے کرنے کے لیے کہا گیا تھا اسنے محل کے پیچھے کی راہ اختیار کی ۔۔
” چاند کا دروازہ کتنی بار کھل چکا ہے اور کس نے کھولا تھا ؟”
” دو بار چاند کا دروازہ کھل چکا ہے یہ کہہ کر پری نے اپنے ہاتھ سے ایک منظر دکھایا تھا جس میں آدم ڈرا سہما سا چاند کے پاس کھڑا تھا اسکے بائیں ہاتھ میں ایک ٹوکری تھی اس ٹوکری میں کیا تھا صیاد کو نہیں پتا تھا اسنے کچھ پڑھا چاند سے دروازہ کھل گیا اور آدم اس ٹوکری سمیت اندر اندر چلا گیا منظر وہیں ختم ہوگیا ۔” صیاد کی تو حیرت اور خوف کی انتہا تھی یعنی اس رات واقعی آدم دوسری دنیا میں چلا گیا تھا اور وہ زندہ ہے مگر اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر اور اس ٹوکری میں کیا تھا ۔
طلسم بھاگتی ہوئی وہاں پہنچ چکی تھی صیاد پر اسکی نظر بھی پڑ گئی وہ اسکی طرف بھاگی ۔
” اور دوسری دفعہ کس نے کھولا تھا ۔” اسنے ابھی یہ سوال کیا ہی تھا کہ طلسم زور سے آکر اس سے ٹکرائی اور جھٹکے سے اسکی آنکھیں کھل گئیں تصور ٹوٹ گیاتھا چاندنی غائب ہوگئی راز راز ہی رہ گیا ۔صیاد نے نظر گھما کر طلسم کو دیکھا سناش اور فاریہ بھی وہاں پہنچ چکے تھے اور ان دونوں کو دیکھ کر رک گئی تھی ۔صیاد کا پارا ساتویں آسمان پر پہنچ گیا تھا ۔ اسنے ہاتھ اٹھا کر ایک زور دار تھپڑ طلسم کو مارا تھا جو بیچ میں آئے سناش کے لگ گیا تھا ۔وہ اچانک ان دونوں کے درمیان کھڑا ہوگیا تھا ٹھپڑ کا نشان سناش کے چہرے پر آچکا تھا لیکن وہ پھر بھی خاموش تھا اسنے ایک خاموش پر نم نگاہ صیاد پر ڈالی جو حیرت سے اسکی جانب دیکھ رہا تھا یہ کیا کیا سناش تم بیچ میں کیوں آئے اور وہ خاموشی سے طلسم کا ہاتھ پکڑے وہاں سے چلا گیا جسے دیکھ کر فاریہ کو تکلیف ہورہی تھی طلسم کے حصے کی مار بھی کھانے کو تیار ہے وہ اور طلسم حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی جو خاموشی سے اسکا ہاتھ پکڑے چل رہا تھا فاریہ بھی انکے پیچھے چلی گئی صیاد سے کچھ دور جانے کے بعد وہ اسکے مقابل آئی اور اسکے گال پر ہاتھ لگایا اسکے بھی آنسو خود بخود نکلنے لگے تھے ۔” کیوں کیا سناش آپ نے ایسا غلطی ہماری تھی ہمیں سزا ملنے دیتے آپ کیوں آئے بیچ میں ؟”
” آپ نے جان بوجھ کر کیا تھا .” سناش کی بات پر وہ کچھ ڈر سی گئی کیا تو اسنے جان بوجھ کر رہی تھا ” آپ نے جان بوجھ کر کیا نہیں نہ غلطی سے ہوا ابا آپ پر ہاتھ اٹھا رہے تھے غصے میں بعد میں انھیں پچھتاوا ہوتا شرمندگی ہوتی ہم بس انھیں اس شرمندگی سے بچا رہے تھے اور آپکو تھپڑ پڑتا ہم دیکھ نہیں سکتے تھے اور آپ اتنی حیران کیوں ہورہی ہیں کیا ہم نے بچپن میں آپ کے حصے کی مار نہیں کھائی تھی کیا ؟”
” سناش بچپن کی بات اورتھی اب معاملات بہت الگ ہیں آپ راجہ بنے والے ہیں مار کھاتے اچھے نہیں لگے گے ۔”
” راجہ میں شہر سحر کا بنے والا ہوں آپ کے لیے میں آج بھی وہی ہوں اپنے حصے کی مار کھانے کے لیے تیار اور طلسم ہم نے کہا تھا نہ ہم آپکو ہمیشہ پکڑ لیتے ہیں دیکھیے آج پھر پکڑ لیا ۔” اسنے اپنے ہاتھ میں پکڑا اسکا ہاتھ اوپر اٹھایا جسے دیکھ کر طلسم نے پہلے اسکے فتح سے مسکراتے چہرے کو دیکھا اور پھر بے ساختہ اسکے گلے لگ گئی جس پر وہ خود حیران رہ گیا دور کھڑی فاریہ نے ایک گہرا سانس لیا ۔” نہیں طلسم یہ مت کرو تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا تم اسکے قریب نہیں جاؤ گی اسے کامیاب نہیں ہونے دو گی ۔” سناش حیرت سے کچھ دیر دیکھتا رہا یہ کیا ہوا پھر اسنے بازو اسکے گرد حائل کردیں ۔” دیکھا طلسم ہم نے کہا تھا ایک دن ہماری محبت کا احساس آپکو ہونے لگے گا ۔”وہ جو آنکھیں بند کیے ہوئی تھی اسکی بات سن کر اس سے دور ہوگئی اور نفی میں سر ہلاتی وہاں سے چلی گئ طلسم ! طلسم،! لیکن وہ بھاگ کر اپنے کمرے میں آکر بند ہوگئی تھی دروازے کے ساتھ بیٹھتی چلی گئی ” نہیں یہ نہیں ہوسکتا میں ۔۔۔۔میں اسیر سے محبت کرتی ہوں سناش سے نہیں وہ ۔۔۔وہ میرا دوست اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔۔”
” طلسم جب تمہیں جھوٹ بولنا نہیں آتا تو کیوں بولتی ہو!” روباش ایک دم اسکے سامنے آیا ۔
” روباش جاؤ یہاں سے مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی .” ۔۔۔” نہیں جاؤں گا میں تمہیں تمہارے سوالوں کا جواب دینے آیا ہوں تم سناش سے محبت کرنے لگی ہو اسکی محبت کا احساس تمہیں ہونا لگا کہہ دو طلسم خود سے کے سناش کی مخلصی اسکی عادات اسکی سیرت اسکی فکر اسکی مسکان تمہیں بھانے لگی ہے تک اس سے محبت کرنے لگی ہوں ۔
” روباش میں شادی شدہ ہوں کسی اور کو سوچنا گناہ ہے میرے لیے اسیر سے بےوفائی ہے تم مجھے اپنی باتوں میں نہیں الجھا سکتے تمہیں لیا لگتا ہے تمہاری باتوں میں آجاؤ گی کبھی نہیں ” اپنے آنسوں صاف کرکے وہ اٹھ کھڑی تھی اوروہ اسکے گرد۔ کر کاٹ رہا تھا ۔” میں تمہیں نہیں الجھا رہا تم خود الجھی ہو اپنے انتخاب پر کہ جسے چنا تھا اور کسے چن لیا .”
” شہر سحر کیا دوسری دنیا میں بھی اسیر جیسا کوئی نہیں ہے میرا انتخاب سب سے بہترین ہے ۔”
” سناش جیسا پورے کائنات میں نہیں ہے تم مجھے موازنہ کرکے بتاؤ کیا اسیر سناش جتنا خوبصورت ہے ارے وہ بکھرے بال اور نہ دھُلے چہرے سے بھی باہر جائے تھے دل فنا ہوجاتے ہیں ۔اس جیسے مسکان دیکھی ہے کہیں جو موسم کھلا دیتی ہے ۔اس جیسا جلال دیکھا ہے کہیں جو آگ کو اسکے سامنے مدھم کردے دیکھی ہے سنا ش جیسے مضبوط جسامت جو جسے ہاتھ لگائے زمین سے اوپر اٹھا دیتا ہے جو تمہاری ایک خروش دیکھ کر تڑپ اٹھتا ہے اسنے کبھی تکلیف دی تمہیں اس
اسیر کی طرح جیسے تمہیں وہ غصے میں اس عمارت میں چھوڑ آیا تھا مرنے کے لیے کیسے وہ زبردستی تمہارے قریب آرہا تھا کیسے اسنے تماہری چوڑیاں تمہارے ہاتھوں میں توڑ دیں تھیں کیسے اسنے پہلے تماری بات کا یقین نہیں کیا تھا وہ تو تمہیں چھونے سے بھی ڈرتا ہے تکلیف دینا تو دور کی بات وہ تو تم پر کسی کی نظر نہ پڑنے دے ۔” اور وہ صدمے کی حالت میں روباش کو دیکھ رہی تھی ۔ ” روباش موازنہ وہاں ہوتا ہے جہاں مقابلہ ہو سناش اور اسیر کے درمیان کوئی مقابلہ نہیں ہوہی نہیں سکتا سناش میرا اچھا دوست ہے اور اسیر میری محبت بس .”
” اچھا اپنے دل پر ہاتھ رکھ آنکھیں بند کر کے پوچھو اس سے کس سے محبت کرتا ہے یہ رکھو کرو !”اسکی بات پر اسنے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں بند کرلیں “ اسیر کو وہ چہرا سامنے آیا تھا جب وہ بس کے باہر کھڑا اسے الوداع کرہا تھا وہ دانتوں والی ہنسی اسکے چہرے پر بے ساختہ مسکان لے آئی تھی اسکی اور اسیر کی شادی فسٹ نائٹ شہر سحر آنے سے پہلے والی رات اسکا محل میں ملنے آنا سب کچھ اسی کا نظر آرہا تھا کہ اچانک منظر بدل گیا تلوار بازی کرتا سناش سامنے آگیا تھا وہ مدھم مسکراتا چہرا اسنے ایک جھٹکے سے آنکھیں کھول دیں تھیں ۔” کون نظر آیا ؟” روباش اب بھی وہیں اٹکا تھا ” اسیر !” اسنے یہ کہہ کر روباش کو پھر سے لاکٹ میں قید کردیا تھا ۔ اور خود زبدستی لیٹ گئی تھی ۔
اسیر اپنے کمرے میں طلسم کے خیالوں میں ہی کھویا تھا سناش خوشی سے جھوم رہ تھا کہ اسکی محبت پایہ تکمیل پر پہنچنے والی ہے فاریہ بے چین سی اپنے کمرے میں ٹہل رہی تھی طلسم نے مجھ سے کہا تھا وہ اسکے قریب نہی جائے گی اور آج اور صیاداسکی تو نیند اڑ گئی تھی ۔” تو اس رات آدم دوسری دنیا میں چلا گیا تھا اور دوسری بار چاند کا دروازہ کھلا ہے یعنی وہ واپس آگیا ہے پہلے سے زیادہ طاقتور ہوکر وہ خون بھی اسی کا تھا مجھے ہماری بھی اسی نے تھا اور ہیرا بھی اسی نے بتایا تھا مگر وہ سامنے کیوں نہیں آرہا چھپا کیوں ہے مجھے صبح ہی تلاشی کے لیے سپاہی بھیجنے ہوں گے اسے ڈھونڈنا ہوگا لو جی صیاد تو نکل گیا رونگ نمبر پر طلسم نے سہی وقت پر اسکا تصور توڑ دیا۔
انگلی صبح جب وہ اٹھی تو ہوا میں ایک عجیب سی آہٹ ہوئی تھی جیسے آج کچھ ہونے والا ہے مگر وہ نظر انداز کرکے باہر آگئی تیار ہوکر کھانا کھا وہ کافی اچھے موڈ تھے سناش نے ہمیشہ کی طرح اسیر کو کسی کام میں لگا رکھا تھا اور خود کسی سے کوئی بات کرہا تھا ۔اسیر بگھی پر کوئی سامان رکھوا رہا تھا قدم اٹھے تو اسیر کے پاس جانے کے لیے تھے جسے اسیر نے مسکرا کر خوش آمدید کہا مگر راستے میں کسی بات پر کھلکھلا کر ہنسے سناش کی طرف مُڑ گئے اور اسیر دیکھتا ہی رہ گیا پھر مسکرا کر سر جھٹک گیا ۔
“ کیا ہوا سناش آپ کس بات پر ہنس رہے تھے ؟”۔۔۔” کچھ نہیں یہ کہ رہے ہیں طلسم اگر نہیں مان رہیں تو ان کو جلد منا لیں اس سے پہلے انکا دل کسی اور پر آئے اور ہم اسلیے ہنس رہے تھے کہ انھیں تو پتا ہی نہیں کہ آپ عنقریب ماننے والی ہیں ایسا ہے نہ طلسم ؟” وہ سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا جب طلسم نے اس آدمی کو جانے کا کہ دیا ۔” سناش آپ آج کہاں جارہے ہیں بگھی تیار کیوں کروائی ہے ۔
“ ہم آج شہر سحر کے مدرسوں کا دورہ کرنے جارہا تھا آپ چلیں گی ساتھ ؟”۔۔۔” بلکل ہم ضرور چلیں گے ہمیں تو بچے بہت ہی پسند ہیں اور ہم نے تو سوچ لیا ہے ہمیں تو بہت سارے بچے چاہیے .” وہ خوشی میں بول گئی تھی جس پر سناش حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا اور اسیر جاتے جاتے شرارت سے اسے کہ گیا تھا “اچھا جی !” وہ بڑی شرارت بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا جب وہ سناش کے ساتھ آگے بڑھ گئی ۔
وہ اسکے ساتھ مدرسے آئی تھی تمام بچے سبق پڑھنے میں لگے تھے وہ اس پاس کی جگہ دیک رہی تھی یہ وہی جگہ تھی جہاں پہلے شراب زخیرا کی جاتی تھی اور آج یہ ایک مدرسی ہے جسے سناش نے تبدیل کیا تھا تبھی ایک بچہ سناش کے پاس ایک چھوٹا سا بھول لیکر آیا تھا سناش نے گھٹنوں پر جھک کر اس سے پہلے پھول لیا اور پھر اسکی گال پر بوسہ دیا اور وہ بچہ بھی اسے چوم کر بھاگ گیا طلسم سناش کی عاجزی کو دیکھ کر فدا ہوگئی تھی ۔وہ شہر سحر کی گلیوں میں اسکے ساتھ ساتھ گھوم رہی تھی پہلی بار وہ شہر سحر کے ہر باشندے کے چہرے پر مطمئین مسکراہٹ دیکھ رہے تھی جو صرف سناش کی وجہ سے تھی وہ اس لوہار کی دوکان پر تھا جہاں بنے ہتھیاروں کو وہ دیکھ رہا پیدل گزرتے لوگ اسکا ہاتھ چوم چوم کر جارہے تھے اور عورتیں طلسم کا جب ایک فقیر نے اچانک سناش کا ہاتھ طلسم کے ہاتھ میں دے دیا ” خدا آپ کی جوڑی سلامت رکھے!” اس دعا سے سنا ش کو جی اٹھا تھا مگر طلسم کا سانس بند ہوگیا تھا اسنے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ ہٹایا اور اس سے الگ گھوڑوں کی جانب جانے لگی تھی جب ایک بوڑھی عورت جس کی کمر جھک چکی تھی اسکا ہاتھ پکڑے کھڑی ہوگئی ۔” مت کرو ایسا اسے کچھ پل خوشی کے دو کیونکہ اسکی سانسیں گنی جاچکی ہیں !”اسکی بات نے تو جیسے طلسم کی حواس گم کردیے تھے ۔” کک۔۔۔کس کی سانسیں گنی جاچکی ہیں ؟”اسکے سوال پر اس بوڑھی عورت نے بھیڑ میں مسکراتے سناش کو دیکھا اور اچانک غائب ہوگئی ۔وہ اسے ڈھونڈتی رہی مگر وہ اسے کہیں نہیں ملی پریشان سے وہ محل واپس آگئی ” اس بڑُھیا نے یہ کیوں کہا کہ سناش کی سانسیں گنی جاچکی ہیں ۔” وہ راہداری سے گزر رہی تھی جب کسی نے اسے کھینچ کر دیوار کے ساتھ لگا لیا وہ اسیر تھا جو ابھی بھی اسے شرارت بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا سے دیکھ کر اسکی ساری پریشانی ختم ہوگئی ۔” ہاں تو صبح میری بیگم کیا کہہ رہی تھی اسے کتنے بچے چاہیے ؟” اسکے چہرے پر انگلی پھیرتے وہ اس سے پوچھ رہی تھی جس کے جواب نے طلسم نے اسے گریبان سے پکڑ کر اور قریب کیا اور اسکے کان میں کہا ” ڈھیر سارے !”
وہ اس سے دور ہونے لگا تھا مگر طلسم نے خود اسے روک دیا ۔” طلسم چھوڑو کوئی دیکھ لے گا !” جس پر طلسم حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی ” اسیر میں لڑکی ہوں یہ مجھے کہنا تھا ” وہ ایک دوسرے کو دیکھتے رہے طلسم کی سیاہ آنکھیں ابھی ویسی ہی تھیں وہیں گہرائی وہی معصومیت وہ آج بھی اسکی آنکھوں سے آگے بڑھ نہیں پایا تھا لب ایک دوسرے کی طرف بڑھتے جارہے تھے کہ بس ایک دوسرے کو چھونے سے پہلے کسی کی آواز آگئی ” طلسم !” وہ ایک جھٹکے سے ایک دوسرے دور ہوئے وہ سنا ش تھا جو لال انگارا آنکھوں سے انھیں دیکھ رہا تھا طلسم کی جان حلق کو آگئی تھی مگر اسیر لڑکھڑایا نہیں تھا ۔” یہ کیا ہو رہا تھا ؟” اسکی تلوار میان سے نکل چکی تھی ۔” سناش میری بات سنو کچھ غلط مت سمجھنا ایسا کچھ نہیں ہے جیسا تم سمجھ رہے ہو .” طلسم کی بات پر اسیر نے حیرت سے اسے دیکھا ” کچھ نہیں تھا !”
یہ نہیں بچے گا آج وہ آپ کے اتنا قریب تھا جتنا ہم نے کبھی آ نے کا بھی نہیں سوچا اسکی ہمت کیسے ہوئی آپکے اس قدر قریب آنے کی ۔ ! تلوار لیکر وہاں گے بڑھا تھا لیکن اسیر کے قدم ہلے بھی نہیں تھے ۔” سناش اسے کچھ مت کریے گا وہ بے قصور ہے اسے کچھ مت کریے گا سناش اسے کچھ مت کریے گا وہ شوہر ہے میرا !’ یہ بات اسنے چیخ کر کہہ تھی جس سے سناش کی تلوار اسیر کی گردن سے آدھی انگلی تک جاکر رک گئی تھی ۔” ہاں سناش اسیر میرا غلام نہیں میرا شوہر ہے
