Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Last Episode

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Last Episode

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Last Episode

الموسٹ ون منتھ ہوگیا ہے تمہاری پریگنینسی کو،، بہت بہت مبارک ہو” الٹراساؤنڈ کے دوران ڈاکٹر ثمینہ سے یہ خبر سن کر حنین کے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ حیا کے رنگ بھی شامل ہوئے وہ جو پرسوں سے اپنے اندر تبدیلی محسوس کر رہی تھی فی الحال کسی سے شیئر کئے بنا،، نوین کے پاس جانے سے پہلے وہ ڈاکٹر ثمینہ (جو کہ ڈاکٹر مرتضٰی کی وائف تھی) کے پاس آئی
“تھینک یو، یہ خبر سن کر آزھاد بہت خوش ہوگا”
حنین مسکراتی ہوئی بولی
“تو تم نے ابھی تک آزھاد سے شیئر نہیں کیا”
ڈاکٹر ثمینہ واپس اپنی چیئر پر بیٹھتی ہوں حنین سے پوچھنے لگیں تو حنین بھی بیڈ سے اٹھ کر ان کے سامنے والی چیئر پر بیٹھ گئی
“ابھی تو فی الحال کسی سے شیئر نہیں کیا۔۔ آج شام آزھاد کے آفس سے آنے کے بعد ہی یہ نیوز اسے سناؤ گی”
حنین کو یقین تھا اس خبر سے آزھاد ہی نہیں بلکہ شاہنواز اور وجیہہ بھی بہت خوش ہوں گے
“اوکے،، یہ کچھ میڈیسن لکھ رہی ہوں ٹائم پر لیتی رہنا پراپر ڈائٹ کے ساتھ احتیاط بھی کرنی ہے اور فور ویک کے بعد میرے پاس دوبارہ چکر لگانا۔۔۔ بیس منٹ بعد الٹراساؤنڈ رپورٹ سامنے والے روم سے کلیکٹ کر لینا”
ڈاکٹر ثمینہ لیٹر پیڈ سے پرچہ پھاڑ کر حنین کی طرف بڑھایا جسے وہ تھام کر اسپتال سے باہر نکل آئی جہاں فضل اس کا کار میں ویٹ کر رہا تھا
“فضل تم ایسا کرو گھر چلے جاؤ یہاں سے میں ٹیکسی کر کے اپنی کزن کی طرف جاؤگی”
حنین فضل کے ساتھ نوین کی طرف نہیں جانا چاہتی تھی وہ بس نوین کو دیکھنا چاہتی تھی اس کے ساتھ ایک ڈیڑھ گھنٹہ گزارنا چاہتی تھی کیونکہ اس کے بعد نوین کو لندن چلے جانا تھا
“پر میم آزھاد سر ناراض ہوں گے۔۔ میں آپ کو خود چھوڑ دیتا ہوں آپ کی کزن کی طرف” فضل حنین کو دیکھتا ہوا بولا
“آزھاد سے میری ابھی فون پر بات ہو چکی ہے میں انہیں بتا چکی ہوں وہ مجھے خود وہاں سے پک کر لیں گے”
حنین اس کو مطمئن کرنے کے بعد رخصت کرتی ہوئی ٹیکسی کو ہاتھ کے اشارے سے رکنے لگی
****
“ہنی میری جان تم آگئی میرے پاس میں کب سے تمہارا انتظار کر رہی تھی مجھے معلوم تھا میری چھوٹی مجھ سے ضرور ملنے آئے گی”
حنین جب نوین کے پاس اس کے فلیٹ میں پہنچی تو نوین اسے گلے لگاتی ہوئی بولی جیسے وہ اسی کے انتظار میں بیٹھی ہو حنین اس کے گلے لگ کر رو دی
“یہ کیا حالت بنا لی آپ نے اپنی، کیوں برباد کر لیا آپ نے خود کو اپنے ہاتھوں۔۔ کیا ملا آپ کو دربدر ہو کر، سارے رشتے کھو کر”
حنین اس سے الگ ہو کر اس کی حالت دیکھتی ہوئی رو کر بولی وہ کافی کمزور لگ رہی تھی چہرے کی تروتازگی کہیں غائب ہوچکی تھی آنکھوں کے گرد گہرے حلقے گھر کر گئے تھے وہ کہیں سے نوین مرزا نہیں لگ رہی تھی
“کچھ برباد نہیں کیا میں نے، کوئی رشتہ نہیں چاہیے مجھے اپنی بہن کے علاوہ۔۔ بس تم میرے پاس ہوگی میں ٹھیک ہو جاؤ گی”
نوین پیار سے اس کا چہرہ تھامتی ہوئی کہنے لگی حنین کو مزید رونا آیا وہ اس کی بہن تھی وہ کس حالت میں پہنچ گئی تھی
“آنے کیسے دیا اس نے تمہیں میرے پاس”
نوین یقیناً حنین سے آزھاد کے بارے میں پوچھ رہی تھی
“اسے نہیں معلوم ابھی، آپی مزنہ نے مجھے آپ کے بارے میں بتایا تھا مجھے بالکل یقین نہیں ہو رہا۔۔۔ آپکو کینسر” حنین اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی بولی وہ اس کی بیماری کا سن کر کل رات سے کتنی افسردہ تھی
“میں تمہارے ہاتھ کا بنا ہوا ناشتہ کرنا چاہتی ہوں میں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا بہت بھوک لگ رہی ہے مجھے اس وقت”
نوین حنین کو دیکھتی ہوئی بولی حنین سر ہلا کر اپنا بیگ وہی رکھتی ہوئی کچن میں چلی گئی تو نوین مسکرا دی
“سدا کی بھولی اور بیوقوف میری پیاری سی ہنی”
نوین نے بولتے ہوئے اس کا بیگ اٹھایا ارادہ صرف اس کا موبائل نکالنے کا تھا مگر اس میں ایک انولپ دیکھ کر نوین اسے کھول کر دیکھنے لگی۔۔۔ الٹراساؤنڈ کی رپورٹ دیکھ کر اس کے چہرے کے تاثرات تبدیل ہوئے اسے غصہ آنے لگا مگر اس وقت غصہ دکھا کر وہ کام خراب نہیں کرنا چاہتی تھی اسلئے حنین کا موبائل اور ریپورٹ اٹھا کر اپنے پاس رکھنے لگی
****
دو گھنٹے گزرنے کے بعد جب حنین واپس گھر نہیں آئی تو وجیہہ مزید گھنٹہ بھر گزار کر اس کو کال کرنے لگی مگر حنین کا نمبر مسلسل آف جا رہا تھا تو اس نے آزھاد کو کال کرکے حنین کے بارے میں بتایا۔۔۔
آزھاد اس وقت آفس میں موجود تھا جب وجیہہ نے اسے بتایا کہ حنین اپنی کزن مزنہ سے ملنے گئی ہے تب آزھاد بری طرح چونکا،، آزھاد کو حیرت ہوئی کہ حنین نے وجیہہ سے جھوٹ کیوں بولا وہ جانتا تھا مزنہ اپنے ہزبینڈ کے ساتھ آوٹ آف سٹی دو دن پہلے ہی گئی تھی اسے کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا وہ فوراً آفس سے گھر آیا
“فضل کونسی کزن کے گھر چھوڑا ہے تم نے حنین کو”
آزھاد گھر پہنچ کر ڈرائیور سے حنین کے بارے میں پوچھنے لگا
“سر میم نے تو مجھ سے کہا تھا آپ اپنے ان کی کزن کے گھر واپس لے آئیں گے اور وہ آپ کی اجازت سے ہی ٹیکسی میں اپنی کزن کے گھر گئی تھی میں نے تو انہیں ہسپتال چھوڑا تھا بس”
فضل آزھاد کو بتانے لگا تو آزھاد اسپتال کا نام سن کر مزید کنفیوز ہوا اس کا دماغ صرف ایک طرف ہی جا رہا تھا مگر وہ نوین کے پاس پہنچنے سے پہلے فضل کے بتائے ہوئے ہسپتال جانا چاہتا تھا تاکہ پوری کہانی معلوم ہو سکے
****
“یہ آپ کس کے گھر لے آئے مجھے ڈاکٹر کہاں ہیں آپ کے” حنین نوین کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی۔۔ نوین اسے اپنے ڈاکٹر سے ملوانے کا کہہ کر ایک دوسرے فلیٹ میں لے آئی تھی جو کہ ایک کمرے کا فلیٹ تھا
“کونسا ڈاکٹر مزنہ سے تو میں نے جھوٹ بولا تھا تاکہ تمہارے دل میں اپنی بہن کے لئے سوئی محبت جاگے اور تم میرے پاس آ جاؤ”
نوین مسکراتی ہوئی حنین کو بتانے لگی حنین حیرت سے اسے دیکھنے لگی
“اپنی بیماری کا جھوٹ بولا، اتنی بڑی بات جھوٹ بولی آپ نے آخر کیا ملے گا آپی آپ کو یہ سب کرکے”
حنین حیرت سے نوین کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
“اپنی بہن،،، مجھے کسی سے کوئی سروکار نہیں ہے ہنی، میں بس چاہتی ہوں کہ میں اور تم پہلے کی طرح مل کر ساتھ رہے ہمیشہ ہمیشہ اور کوئی دوسرا ہم دونوں بہنوں کے بیچ میں نہ آئی”
نوین اس کے بال پیار سے سنوارتی ہوئی بولی
“ہم دونوں ساتھ ہی تو رہتے تھے اور اپنی اپنی شادیوں کے باوجود ہم دونوں ہمیشہ ہمیشہ ساتھ رہ سکتے تھے مگر آپ سب کچھ اپنے ہاتھ سے ختم کرچکی ہیں اب ان سب باتوں کا کوئی فائدہ نہیں،، آزھاد میرا ویٹ کر رہا ہوگا مجھے گھر جانا ہے”
حنین کمرے سے نکلنے لگی تو نوین نے اس کا بازو پکڑا
“ہم دونوں بہنیں سے شادی سے پہلے ساتھ رہتے تھے شادی کے بعد تو آزھاد آگیا ہمارے بیچ میں اور تم اس کے ساتھ رہنے لگی میرے دشمن کے ساتھ مگر اب نہیں اب تم ایسا نہیں کر سکتی۔۔۔ اب تم آزھاد کے پاس نہیں جاؤ گی بلکہ میرے ساتھ لندن جاو گی۔۔ میں نے سارے ڈاکومنٹس تیار کروا لیے ہیں آج رات دو بجے کی فلائیٹ ہے ہماری،، اب تم یہی رہو میں اپنی چند ضروری چیزیں لے کر آتی ہو یہی سے ہمیں ایئرپورٹ نکلنا ہوگا”
حنین حیرت سے منہ کھولے نوین کی کی بات سن رہی تھی
“کہیں نہیں جانا مجھے آپ کے ساتھ میں آزھاد کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں”
وہ نوین کو جتاتی ہوئی بولی۔۔۔ نوین بغیر کسی ردعمل کے اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگی مگر جب حنین کی نظر نیچے اپنے پیٹ کی طرف پڑی جہاں نوین نے چاقو کی نوک رکھی ہوئی تھی وہ خوف اور صدمے سے نوین کو دیکھنے لگی،، نوین مسکرائی
“ڈر گئی،، پگلی تمہیں تھوڑی مار سکتی ہو تمہیں تو پالا پوسا ہے اتنا بڑا کیا ہے البتہ یہ جو وجود تمہارے اندر پل رہا ہے اس کو ختم کرتے ہوئے مجھے ذرا تکلیف نہیں ہوگی اس لئے خاموشی سے یہی بیٹھو میں آتی ہوں تھوڑی دیر میں” نوین پتھریلے تاثرات کے ساتھ اس کو کہتی ہوئی باہر نکل گئی اس کے جانے کے بعد حنین ہوش میں آئی اس نے بھاگ کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی مگر وہ لاک تھا حنین زور زور سے دروازہ بجانے لگی۔۔۔ وہاں سے فرار ہونے کا اور کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں تھا وہ تھک کر بیڈ پر بیٹھ کر رونے لگی
****
وہ جلدی جلدی میں اپنے ڈاکومنٹس جو کہ بہت ضروری تھے گھر پر ہی بھول چکی تھی اس وجہ سے اسے دوبارہ اپنے فلیٹ میں آنا پڑا وہ سارے ڈاکومنٹس رکھنے کے بعد جب گھر سے نکل رہی تھی تب اسے محسوس ہوا جیسے کہ کوئی اس کے پیچھے کھڑا ہے
“ہنی کہاں پر ہے”
دروازہ لاک کرتی ہوئی نوین نے آزھاد کی آواز سن کر اپنے پیچھے مُڑ کر دیکھا اس کے ہاتھ سے گھبراہٹ کے مارے کیز نیچے گر گئی
“مجھے کیا معلوم کہاں ہے وہ”
نوین کا جواب سن کر آزھاد نے آگے بڑھ کر نوین کا بازو زور سے پکڑا اور اسے کھینچتا ہوا واپس فلیٹ کے اندر لے گیا اور دھکا دینے کے بعد دروازہ لاک کیا
“یہ کیا حرکت ہے میں تمہارا منہ توڑ کر رکھ دو گی”
نوین فرش سے اٹھ کر آزھاد کے پاس آئی اس سے پہلے وہ اپنا ہاتھ اٹھا کر آزھاد کا گال سرخ کرتی آزھاد اس کا ہاتھ پکڑ چکا تھا جبکہ دوسرے ہاتھ سے اس کی گردن پکڑتا ہوا بولا
“ہنی کہاں ہیں جواب دو”
وہ نوین کی گردن دباتا ہوا بولا
“مجھے کیا معلوم ہے ہنی کہاں پر ہے میں کہتی ہو چھوڑو مجھے”
نوین اس کا ہاتھ اپنی گردن سے ہٹاتی ہوئی بمشکل بول پائی
“نوین میں قسم کھا کر کہہ رہا ہوں میں تمہیں جان سے مار ڈالوں گا مجھے بتا دو ہنی کہاں پر ہے” آزھاد کو اس عورت پر شدید غصہ آیا جو اس کی زندگی میں کسی جُونگ کی طرح چمٹ کر رہ گئی تھی وہ مزید اس کی گردن پر اپنے ہاتھ سے دباؤ ڈالنے لگا جس سے نوین تڑپنے لگ گئی
“ہنی کہاں پر ہے جواب دو مجھے” آزھاد غصے میں زور سے چیختا ہوا بولا
“مار ڈالو،،، نہیں بتاؤں گی”
تکلیف کی شدت سے نوین کا چہرہ سرخ ہونے لگا بہت مشکلوں سے اس کے منہ سے یہی الفاظ ادا ہوئی جو آزھاد کے کان میں پڑے
آزھاد نے نوین کی گردن چھوڑ کر اسے دھکا دیا نوین ایک بار پھر فرش پر گری اب وہ زور زور سے کھانس رہی تھی اور ساتھ ہی اپنا سانس بحال کر رہی تھی۔۔۔ آزھاد غصے میں لب بھینچے اسے دیکھ رہا تھا نوین آزھاد کو بے بس کھڑا دیکھ کر ہنسنے لگی اس وقت
وہ آزھاد کو کوئی جنونی یا پاگل عورت لگی مگر وہ حنین اور اپنے بچے کو اس پاگل عورت کی بھینٹ نہیں چڑھا سکتا تھا بلکہ اسے اندر کہیں ڈر تھا کہ کہیں وہ حنین یا پھر اس کے بچے کو نقصان ہی نہ پہنچا چکی ہو۔۔۔ اس کی مکروہ ہنسی دیکھ کر آزھاد اس کے پاس آیا اور اس کے بالوں کو مٹھی میں جکڑتا ہوا اسے اٹھانے لگا
“مجھے مجبور مت کرو نوین کے میں تمہارے ساتھ جانوروں سے بھی زیادہ بدتر سلوک کرو۔۔ تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ تم مجھے ہنی کے بارے میں بتا دوں”
وہ اپنا غصہ بمشکل ضبط کرکے اس کے بال مٹھی میں جھکڑتا ہوا پوچھنے لگا
“اب تم اپنی بیوی کا چہرہ کبھی بھی نہیں دیکھ پاؤگے اور سب سے پہلے میں تمہارے بچے کو ختم کروگی”
نوین کی بات سن کر آزھاد نے غصے میں اس کا سر دیوار پر دے مارا جس سے نوین کی زور دار چیخ نکلی
“بتاؤ مجھے ہنی کہاں ہے میں تمہیں واقعی مار ڈالوں گا” آزھاد کی آنکھوں میں خون اترنے لگا مگر وہ ڈھیٹ بنی ہوئی تکلیف برداشت کر رہی تھی
وہ جانتی تھی اس وقت آزھاد بھی تکلیف میں ہے یہ سوچ نوین کے ذہن میں آئی تو وہ ہنسنے پر مجبور ہو گئی ایک بار پھر اس کی ہنستی آزھاد کو طیش دلا گئی وہ اس کو بالوں سے کھینچ کر اسے کچن میں لے جانے لگا اور شیلف پر موجود چھریوں کے سیٹ میں سے ایک بڑی سی چھری نکالی
“تم مجھے نہیں مار سکتے آزھاد ورنہ تم اپنی بیوی اور بچے کو ہمیشہ کے لئے کھودو گے”
نوین ہنستی ہوئی آزھاد سے بولی
“مجھے معلوم ہے میں تمہیں مار نہیں سکتا مگر میں آج تمہیں موت سے بھی زیادہ بدتر اذیت دوں گا”
آزھاد نے مٹھی میں جکڑے ہوئے اسکے بالوں کو چھوڑا اور اس کی کلائی پکڑی
“میں آخری دفعہ تم سے پوچھ رہا ہوں ہنی کے بارے میں بتادو”
آزھاد اس کا ہاتھ شیلف پر رکھنے کے بعد چھری کی نوک اس کے ہاتھ پر رکھ کر پوچھنے لگا۔۔۔ نوین کی خاموشی پر اس نے چھری کی نوک پر زور ڈالا خون ابھر کر باہر آیا ساتھ ہی نوین کی دردناک چیخیں بھی نکل گئی وہ چاہ کر بھی آزھاد سے اپنا ہاتھ نہیں چھوڑا سکی
“ہنی کہاں ہے”
آزھاد چیختا ہوا نوین سے پوچھنے لگا
“نہیں بتاؤں گی” نوین درد سے کراہتی ہوئی بولی آزھاد نے چھری کی نوک اس کے ہاتھ سے باہر نکالی اور اس کے ہاتھ کی چھوٹی انگلی پر چھری رکھی
“نوین تم مجھے مجبور کر رہی ہوں خود کو اذیت دینے پر مجھے بتا دو ہنی کہاں پر ہے”
آزھاد کو لگ رہا تھا وہ پاگل ہو چکی ہے جو اتنی تکلیف اور اذیت برداشت کرنے کے باوجود اپنی ضد میں اپنا ہی نقصان کرے جارہی ہے یا پھر وہ صرف اس کو تکلیف اور اذیت دینے کے لیے ایسا کر رہی تھی
جب نوین خاموش رہی تو آزھاد نے چھری پھینک کر غصے میں اس کا سر زور سے شیلف پر مارا دے مارا ایک بار پھر اس کی چیخیں گونجی ساتھ ہی اس کے سر سے خون بھی جاری ہوا وہ تکلیف سے غشی میں جانے لگی تب آزھاد نے پانی سے بھرا ہوا جگ اس کے سر پر انڈیل دیا اور اس کا ہاتھ چھوڑا نوین ایک بار پھر سے چیختی ہوئی فرش پر جا گری
“نہ میں تمہیں مرنے دوں گا نہ ہی میں تمہیں بے ہوش ہونے دوں گا صرف اور صرف اذیت دونگا مجھے ہنی کے بارے میں بتا دوں”
وہ نوین کو گردن سے پکڑ کر اٹھاتا ہوا بولا نوین کے اندر اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ اس کے ہاتھ اپنی گردن سے ہٹا سکے تکلیف کی شدت سے اس کی آنکھیں بند ہو رہی تھی
حنین کا روتا ہوا چہرہ اسے یاد آیا شاید حنین کے آخری لفظ یہی تھی کہ وہ آزھاد کے ساتھ رہنا چاہتی ہے وہ آزھاد کو ایڈریس بتانے لگی اور اب وہ بےہوش ہو چکی تھی
****
اپنے گالوں پر انگلیوں کا لمس محسوس کرکے حنین نیند سے جاگی، اس کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئی۔۔۔ اگر کوئی بھوت اس کے سامنے بیٹھا ہوتا تو وہ تب اتنی حیرت ذدہ نہیں ہوتی جتنی حیرت اسے اپنے سامنے بیٹھے آزھاد کو دیکھ کر ہوئی۔۔۔ وہ یہاں پہنچ گیا تھا۔ ۔۔ آزھاد کے ہاتھ میں اسکا پاسپورٹ تھا
وہ ہاتھ میں اس کا پاسپورٹ لیے سنجیدگی سے حنین کو دیکھ رہا تھا حنین نے اٹھنے کی کوشش کی مگر آزھاد نے اس کے کندھوں پر اپنے ہاتھ سے دباؤ ڈال کر دوبارہ بیڈ پر لٹا دیا
“مجھے چھوڑ کر لندن جانے کا ارادہ تھا آج رات کی فلائٹ سے”
آزھاد اس کے اوپر جھک کر اس کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ لاتے ہوئے پوچھنے لگا وہ ابھی بھی حیرت سے آزھاد کو دیکھ رہی تھی
“آزھاد”
حنین نے بولنے کے لیے لب کھولے تو آزھاد اسکے ہونٹوں پر اپنی انگلی رکھی اور اس کی تھوڑی پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا۔۔ ۔ اس سے پہلے حنین مزاحمت کرتی وہ حنین کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں کی گرفت میں لے چکا تھا۔۔۔ تھوڑی سے گردن کا فاصلہ طے کرنے کے بعد باقی کی سرحد پار کرتا ہوا وہ حنین کا پیٹ اپنے لبوں سے چھونے لگا
“میرے باپ بننے کی خبر کو مجھ سے نہیں چھپانا چاہیے تھا تمہیں”
وہ سر اٹھا کر اب سنجیدگی سے حنین کو دیکھتا ہوا کہنے لگا
“آزھاد آپی نے اپنی بیماری کا جھوٹ بول کر مجھے یہاں بلوایا تھا مجھے یہاں سے لے چلو مجھے آپی سے بہت خوف آرہا ہے”
حنین اٹھ کر آزھاد کے گلے لگ کر بولنے لگی۔۔۔ اسے اب بھی یقین نہیں آرہا تھا آزھاد اسے لینے یہاں پر آ چکا ہے
“تمہیں یہاں آنے سے پہلے مجھے بتانا چاہیے تھا،، اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو”
وہ حنین کو خود سے الگ کرکے شکوہ کرتا ہوا بولا جس پر حنین شرمندہ ہوئی
“اب تو میں چاہ کر بھی تم پر نہ غصہ کر سکتا ہوں نہ ہی تمہیں کوئی سزا دے سکتا ہوں اتنی بڑی خوشی کی خبر جو ملی ہے مجھے”
وہ حنین کو دیکھتا ہوا بولا یقیناً وہ اپنے بچے کے بارے میں اس سے کہہ رہا تھا حنین ایک بار پھر اس کے سینے سے لگی آزھاد نے اس کے گرد اپنے بازو حائل کیے
“گھر چلو مما اور ڈیڈ پریشان ہو رہے ہوں گے”
وہ حنین سے بولتا ہوا اٹھا تو حنین بھی بیڈ سے اٹھی مگر ان کے نکلنے سے پہلے نوین ہیاں پہنچ چکی تھی وہ دونوں نوین کو دیکھ کر حیرت زدہ ہوگئے
حنین تو اس کا بگڑا ہوا حُلیہ اور اس کے چہرے اور ہاتھ پر خون دیکھ کر حیرت زدہ اور پریشان تھی مگر آزھاد کی نظر اس کے ہاتھ میں موجود پسٹل پر تھی۔۔۔ نوین دروازہ لاک کر کے ان دونوں کے پاس آنے لگی
“آپی یہ سب کیا ہے”
حنین پریشان ہوکر اس سے اتنا ہی بولی
“یہ سب تمہاری اس کمینے شوہر نے میرے ساتھ کیا ہے” وہ ان دونوں سے چار قدم کے فاصلے پر کھڑی حنین سے بولنے لگی
آزھاد نے حنین کا بازو پکڑ کر اسے اپنی پشت پر کھڑا کیا تاکہ وہ حنین کو اور اپنے بچے کو سیف کر سکے آزھاد کو یقین ہو چلا تھا کہ نوین پاگل ہو چکی ہے، وہ آزھاد سے بدلہ لینے کے لیے اسے اذیت دینے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے
“شدید نفرت کرتی ہوں میں تم سے، یہ نفرت بے وجہ بے مقصد نہیں ہے تم نے ہمیشہ مجھے نیچے دکھایا، مجھے ہرایا، مجھ سے ہر بار دو قدم آگے رہے سب کے سامنے میری عزت دو کوڑی کی کردی،، مجھ سے شانواز کو چھینا، میرا گھر برباد کیا،، میری بہن کو مجھ سے دور کیا اور اب اسے بھی چھیننا چاہتے ہو۔۔۔ سب کچھ چھین لیا تم نے مجھ سے،، مجھے اذیت پہنچائی،، میں آج تمہیں نہیں چھوڑوں گی۔۔۔ ان سب باتوں کا انتقام لوں گی تم سے” نوین پستول کا رخ اس کی طرف کرتی ہوئی بولی تو حنین ایکدم آزھاد کے سامنے آ کر کھڑی ہوئی
“ہنی پیچھے ہٹو پلیز”
آزھاد حنین کو بازوؤں سے پکڑتا ہوا تیزی سے بولا
“نہیں آزھاد ایک منٹ رک جاؤ مجھے آپی اسے بات کرنے دو”
حنین نے اپنے بازو اسے چھڑوانے چاہے مگر آزھاد اسے پیچھے ہٹانے لگا
“آپی اس کو مارنے سے پہلے مجھے مار دینا کیونکہ اگر اسے کچھ ہوا تو میں بھی زندہ نہیں رہ پاؤگی”
حنین نوین کو دیکھ کر چیختی ہوئی بولی حنین پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں تھی آزھاد نے حنین کو اپنے حصار میں لیا،، نوین کی طرف آزھاد کی پشت تھی۔۔۔ تاکہ وہ حنین کو سیف رکھ سکے
گولی چلنے کی آواز پر جہاں حنین کے منہ سے دلخراش چیخ نکلی وہی آزھاد حنین کو اپنے حصار سے آزاد کرتا ہوا پیچھے مڑا
“نوین”
آزھاد اس سے پہلے اس کی طرف بڑھتا ناوین کا بےجان وجود فرش پر گر چکا تھا اس کی کنپٹی سے نکلتا ہوا خون اب فرش کو رنگین کر رہا تھا آزھاد بے یقینی سے آنکھیں کھولے نوین کا مردہ وجود دیکھ رہا تھا
“آپی”
حنین جیسے ہوش میں آئی وہ زور سے چیختی ہوئی نوین کے مردہ وجود کی طرف بڑھنے لگی مگر آزھاد دوبارہ اسے اپنے حصار میں لے چکا تھا اور سختی سے اس کے گرد اپنے بازو حائل کر چکا تھا۔۔۔ حنین آزھاد کے سینے سے لگی تڑپ کر رو رہی تھی آزھاد نوین کو بے یقینی سے دیکھ رہا تھا جس نے اپنی ضد ختم نہیں بلکہ اپنی نفرت کی آگ میں انتقام کے چکر میں اپنا اختتام کرلیا
ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *