Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode05
Rate this Novel
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode01 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode02 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode03 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode04 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode05 (Watching)Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode06 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode07 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode08 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode09 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode10 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode11 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode12 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode13 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode14 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode15 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode16 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode17 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode18 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode19 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode20 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode21 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode22 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode23 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode24 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode25 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode26 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode27 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode28 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode29 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode30 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode31 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode32 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode33 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode34 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode35 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode36 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Last Episode
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode05
Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode05
اچھا ناں سوری اب نہیں رو گی”
حنین اس کو سریز موڈ میں دیکھ کر روتی ہوئی بولی
“باہر نکلو”
اب کی بار وہ غصے میں حنین کو آنکھیں دکھاتا ہوا بولا۔۔ ناچار حنین کو کار سے باہر نکلنا پڑا
اب وہ حنین کا ہاتھ پکڑ کر سڑک کراس کرتا ہوا جھاڑیوں کے اندر کی طرف اسے لے گیا۔۔۔ حنین چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر بعمشکل ہی اس کے ساتھ چلنے پر مجبور تھی
“وہ جو بڑا سا درخت نظر آرہا ہے اس کے پیچھے جاو جلدی”
آزھاد دس قدم دور ایک بڑے سے درخت کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتا ہوا اسے آرڈر دینے لگا ساتھ ہی اس کو پانی کی بوتل بھی تھمائی
“اور تم”
حنین گھبراتی ہوئی اسے دیکھ کر بولی
“میں یہی کھڑا ہوں”
آزھاد اس کی طرف پشت کرکے کھڑا ہوگیا
“اور اگر دوبارہ سے کوئی سانپ یا پھر کوئی”
حنین نے اپنے خوف کے پیش نظر خدشہ ظاہر کرنا چاہا
“ہنی پانچ منٹ کے اندر واپس آو”
آزھاد غصے میں اسے بولا
حنین نے درخت کے پیچھے جاتے ہوئے دو بار پیچھے مڑ کر دیکھا،، آزھاد اس کی طرف پیٹھ کیے کھڑا تھا
“کیا تم سو گئی ہو” تھوڑی دیر گزرنے کے بعد آزھاد نے اونچی آواز میں پوچھا
“خاموشی سے ویسے ہی کھڑے رہو”
آزھاد کو حنین کی آواز سنائی دی
“ہنی ڈیئر یہ تم کون سے کاموں میں لگ گئی ہو”
مزید تھوڑی دیر گزری آزھاد پھر بولا
“کیا تم تھوڑی دیر چپ نہیں رہ سکتے”
حنین پھر جھنجھلاتی ہوئی بولی
“کیا سیلاب لے کر آنا ہے تمہیں اس جگہ پر”
آزھاد وہاں پر کھڑا بیزار ہوتا ہوا دوبارہ بولا
“کیا تم ہر دوسری لڑکی سے اسی طرح بات کرتے ہو،، تمہیں بات کرنے کی تمیز ہے کہ نہیں”
اچانک حنین اس کے سامنے آ کر بولی آزھاد ایک بار پھر غصے میں اپنے سامنے کھڑی اس احسان فراموش لڑکی کو گھورنے لگا جو اپنا مطلب نکالنے کے بعد ایک دم چوڑھی ہوگئی تھی
“تمہیں اپنے گھر کے لئے واپسی کرنی ہے یا پھر اسی جگہ پر سڑھنا ہے”
آزھاد حنین کو اس کے لہجے کی سنگینی کا احساس دلاتا ہوا بولا
“نہ تمہاری کار ٹھیک ہے نہ تمہارا موبائل ٹھیک ہے پہلے تم اپنی مدد خود تو کرو اور یہ پکڑو اپنی جیکٹ”
حنین جیکٹ اتار کر اس کی طرف اچھالتی ہوئی وہاں سے جانے لگی
“میری تازہ تازہ رائے تمہارے بارے میں یہ ہے کہ تم ایک احسان فراموش اور موقع پرست لڑکی ہو”
آزھاد اس کے پیچھے آتا ہوا بولا
“میرا بھی اپنے بارے میں کچھ ایسا ہی خیال ہے اور مجھے یہ بھی لگتا ہے ایک لڑکی کو کسی لڑکے کے سامنے ایسا ہی ہونا چاہیے”
حنین اس کو دیکھتی ہوئی بولی آزھاد اسے غور سے دیکھنے لگا وہ چاہ کر بھی اس کے چودہ طبق روشن نہیں کرسکا،، اتنے میں انہیں کار کی آواز سنائی دی وہ دونوں ہی وہاں سے باہر کی سائڈ نکلے
_____________
“تھینک گاڈ”
حنین کو دور سے کوسٹر آتی دکھائی دی جس میں وہ مزنہ کے ساتھ آئی تھی اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں رہی،، وہ آزھاد کو اگنور کرکے کوسٹر کو ہاتھ کے اشارے سے رکنے لگی آزھاد اپنی جیکٹ ہاتھ میں پکڑا وہی کھڑا ہوا حنین کو خوش ہوتے ہوئے دیکھ رہا تھا
“ہنی ڈیئر میں چاہو گا تم مجھے یہاں سے جاکر بالکل نہ بھولو بلکہ اپنے دماغ میں محفوظ رکھو”
آزھاد حنین کو دیکھتا ہوا نہ جانے کیو کہہ گیا
“تم کہیں سے بھی اس قابل نہیں ہو کہ تمہیں یاد رکھا جاسکے، ہاں تمہاری شکل یاد آجائے تو اس وقت صرف ایک لفظ دماغ میں آسکتا ہے اور وہ ہے بدتمیز”
حنین رات سے اب تک کے سارے احسانات بھلا کر بے مروتی کی انتہا کرتی ہوئی بولی۔۔۔۔
مگر اس کی بات پر آزھاد کے چہرے پر مسکراہٹ آئی،،،
زندگی میں پہلی بار اپنی طبعیت سے ہٹ کر اس نے کسی لڑکی کی اتنی ہیلپ کی تھی اور وہ پہلی لڑکی تھی جو آزھاد کو اتنی باتیں سنا رہی تھی اور اپنی نیچر کے برخلاف جا کر آزھاد اس کی اتنی باتیں سن بھی رہا تھا۔۔۔
کوسٹر کے قریب آنے پر حنین نے ایک دفعہ پھر اسے ہاتھ کے اشارے سے روکا
“حنین تم یہاں کیا کر رہی ہو، تمہیں کچھ احساس بھی ہے کتنی پریشان ہوگئی تھی میں،، سب تمہیں رات سے ڈھونڈ رہے ہیں اور تم کتنی بدتمیز اور لاپرواہ لڑکی ہو،، تمہاری وجہ سے ہم سب پریشان ہوئے ابھی ہم یہاں سے تمہاری گمشدگی کی رپورٹ کروانے جارہے تھے اور یہ کون ہے تمہارے ساتھ”
کوسٹر روکنے کے ساتھ ہی مزنہ کوسٹر سے اتری اور حنین کو دیکھ کر نان اسٹاپ شروع ہوگئی۔۔۔ مزنہ نے ڈر کے مارے ابھی تک نوین یا پھر صالحہ میں سے حنین کے بارے میں کسی کو کچھ بھی نہیں بتایا تھا
“مزنہ میرے ساتھ ایک ٹریجیڈی”
حنین نے مزنہ کو بتانا چاہتا تب آزھاد حنین کے پاس آیا اور اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے بول پڑا
“ہنی تم نے مزنہ کو نہیں بتایا تھا کہ تمہیں یہاں پر مجھ سے ملنے آنا تھا”
آزھاد سنجیدگی سے حنین کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا جس پر حنین آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی کوسٹر میں موجود تمام افراد باری باری باہر نکل رہے تھے
“یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم”
آزھاد کو ایک بار دوبارہ گھٹیا پن پر اترتا ہوا دیکھ کر حنین غصے میں بولی
“ایک منٹ تم چپ کرو حنین، کون ہیں آپ اور حنین کو کیسے جانتے ہیں” مزنہ الجھتی ہوئی آزھاد سے مخاطب ہو کر بولی
“یہ تو خود سوچنے کی بات ہے ہنی کسی غیر لڑکے سے تو یوں ملنے نہیں آئے گی وہ بھی اتنی رات کو،،، کیا مجھے اب بھی بتانا پڑے گا کہ میں حنین کا بوائے فرینڈ ہو”
آزھاد حنین کو احسان فراموشی کی سزا دیتا ہوا مزنہ سے بولا جس پر حنین صدمے سے آزھاد کو دیکھنے لگی وہ پہلے بھی اسے اس کی آپی کی نظروں میں مشکوک کر چکا تھا اور اب مزنہ کی نظر میں بھی
“ریلیکس ہنی ڈئیر مزنہ تمہاری اچھی فرینڈ ہے اور یہ تمہاری آپی کو ہمارے بارے میں کچھ نہیں بتائے گی۔۔۔ ویسے بھی مما ڈیڈ کو لےکر میں نیکسٹ منتھ آ ہی جاؤں گا تمہاری آپی سے ملوانے”
اب آزھاد حنین کے پریشان چہرے کو دیکھتا ہوا بولا
جبکہ مزنہ آزھاد کی بات سن کر خاموش رہی
“تم اپنی جیکٹ اور موبائل بھی وہی چھوڑ کر آگئی تھی”
مزنہ حنین کو دیکھ کر کہنے لگی
“مجھ سے ملنے کی خوشی میں دونوں چیزیں بھول گئی تھی، بٹ ڈونٹ وری میری جیکٹ رات میں میرے ساتھ ہنی نے بھی شئیر کرلی تھی”
آزھاد حنین کو دیکھ کر مسکراتا ہوا مزنہ کو جواب دینے لگا۔۔۔ مزنہ اثبات میں سر ہلا کر واپس کوسٹر میں بیٹھ گئی جبکہ حنین اسے بے یقینی سے دیکھے جارہی تھی
“ارے آزھاد آپ یہاں کیا کر رہے ہیں، حنین کو جانتے ہیں آپ پہلے سے”
کافی دیر سے خاموش کھڑی ماریہ آزھاد کے پاس آکر بولی
“اوو تو تم بھی ہنی کی کلاس فیلو ہو”
آزھاد اپنے دوست اسامہ کی سسٹر کو دیکھ کر پہچان گیا تھا تبھی ماریہ سے پوچھنے لگا
“نہیں حنین تو جونیئر ہے ہم سے، میں مزنہ کے ساتھ پڑھتی ہوں”
ماریہ مسکراتی ہوئی اسے بولی
“ماریہ ایسا ہے کہ مجھے تمہارے موبائل سے ایک کال کرنی ہے ہنی اپنا موبائل لانا بھول گئی تھی اور میرے موبائل کی بیٹری لو ہو گئی ہے”
آزھاد اب کام کی بات پر آتا ہوا ماریہ سے بولا اور پھر ماریہ کے موبائل سے کال کرکے اپنے ڈرائیور کو یہاں کا ایڈریس سمجھانے لگا تاکہ وہ اسے یہاں سے آ کر لے جائے
“کوشش کرنا اب دوبارہ تمہارا مجھ سے سامنا نہ ہو”
حنین جاتے جاتے آزھاد کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولی
“ڈارلنگ اتنے بڑے بڑے ڈائیلاگز نہیں بولتے،، اس ایک رات میں جتنے میں نے تم پر احسان کیے ہیں ان سب احسانوں کا بدلہ سود سمیت واپس لینے جلد آؤں گا۔۔۔ یہ سب جو میں نے تمہارے ساتھ کیا ہے وہ اسلیئے کہ تم مجھے اچھی طرح سے یاد رکھو اور دوسرا تمہیں یہ بھی بتانا تھا میں تمہاری سوچ سے بھی دس گناہ زیادہ بدتمیز ہو۔۔۔ تیسری ملاقات ہماری بہت جلد ہوگی انتظار کرنا میرا”
آزھاد حنین کو مسکرا کر آنکھ مارتا ہوا اپنی کار میں بیٹھ گیا
****
“کومی میرا بےبی اتنا خاموش کیوں بیٹھا ہے آج”
آزھاد جب گھر پہنچا تب اسے وجیہہ سے کل رات کے متعلق معلوم ہوا وہ سب سے پہلے کومل کو دیکھنا چاہتا تھا جو صبح سے ہی اپنے کمرے میں گم سم سی بیٹھی تھی آزھاد اس کے برابر میں بیڈ پر بیٹھتا ہوا بولا
“بھائی جب اس رات اس نے یوں کر کے کپڑے اتارے ناں”
کومل کچھ سوچتی ہوئی بولنے لگی اور ساتھ ہی اپنی شرٹ اتارنی چاہی ویسے ہی آزھاد نے جلدی سے اس کے دونوں ہاتھ پکڑے
“اے بری بات،، بھائی نے منع کیا تھا ناں اس طرح سے دوبارہ کرنے کو،، اچھے بچے اس طرح نہیں کرتے۔۔۔ بالکل اچھا نہیں لگتا”
آزھاد اس کی شرٹ ٹھیک کرتا ہوا نرمی سے اسے سمجھانے لگا
“کومی کو بھی اچھا نہیں لگا تھا اس وقت، وہ بہت زور سے رو رہی تھی”
کومل آزھاد کو دیکھتی ہوئی بولی اسکی آنکھوں میں عجیب بےبسی کی کیفیت شامل تھی تب آزھاد نے اپنا ہاتھ اس کے ہونٹوں پر رکھ کر اسکا منہ بند کر دیا اور کومل کو گلے سے لگا لیا
“ششش کومل خاموش ہوجاو”
ایسا پہلی بار نہیں تھا جب اس نے کپڑے اتارنے والا ایکٹ کیا تھا یا پھر ایسی باتیں دہرائی ہو جیسے سن کر انسان دوسرے سے نظر نہ ملا پائے
“فضل۔۔۔ فضل۔۔۔ کوثر کہاں پر ہے”
آزھاد نے سرونٹ کو بلا کر کوثر کا پوچھا کومل ابھی بھی آزھاد کے گلے سے لگی ہوئی تھی
“سر وہ آج صبح میڈم (وجیہہ) سے چھٹی لے کر اپنے گھر چلی گئی تھی اسے ضروری کام تھا کچھ”
فضل نے آزھاد کو کوثر کے بارے میں انفارم کیا تو آزھاد کا موڈ خراب ہوا
“کال کرکے اسے یہاں پر شام تک آنے کے لیے کہو اور اسے یہ بھی اچھی طرح سمجھا دینا کہ میں کومل کی طرف سے کوئی بھی لاپرواہی برداشت نہیں کروں گا۔۔۔ یہاں جاب کرنی ہے تو ڈھنگ سے کرے۔۔۔ ڈراز میں سے مجھے کومل کا میڈیسن باکس نکال کر دو”
آزھاد سمجھ گیا کہ کوثر کی غیر موجودگی اور وجیہہ کی طبیعت خرابی کی وجہ سے کومل نے صبح کی میڈیسن نہیں لی ہوگی تبھی اس کی رات کے بعد دوبارہ ایسی کنڈیشن ہو رہی ہے۔۔۔ آزھاد نے کومل کو میڈیسن کھلائی تب دروازہ ناک ہوا
“عباس اندر آجاؤ میں بھی تمہارے پاس ہی آنے والا تھا”
دروازے پر موجود عباس سے آزھاد مخاطب ہوا۔۔۔ کومل عباس کو دیکھ کر دوبارہ آزھاد کے گلے لگ گئی
“میں دراصل تمہاری سسٹر کی طبیعت پوچھنے آیا تھا،، فضل نے بتایا تم بھی یہی موجود ہو اس لیے بیڈروم میں آگیا۔۔۔ آئی تھینگ ہم بعد میں بات کر لیتے ہیں”
عباس کومل کی حرکت دیکھ کر، اس کی آنکھوں میں اپنے لیے خوف اجنبی پن دیکھتا ہوا آزھاد سے بولا
“اس کی ضرورت نہیں ہے تم یہی بیٹھو،، کومل کو میڈیسن دے کر ویسے بھی میں تمہارے پاس ہی آنے والا تھا، تمہارا شکریہ ادا کرنے۔۔۔ مما نے بتایا کہ کل تم نے کس طرح ہماری ہیلپ کی”
آزھاد نے عباس کو چیئر پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔ کومل آزھاد کے سینے میں آدھا چہرا چھپائے ایک آنکھ سے سامنے بیٹھے عباس کو دیکھنے لگی
“شکریہ کرنے کی تمہیں بھی ضرورت نہیں جب دوست کہا ہے تو پھر شکریہ جیسی فارملیٹیز میں کیا پڑنا”
عباس مسکراتا ہوا آزھاد کو دیکھتا ہوا بولا مگر وہ اپنے اوپر کومل کی نظر محسوس کر سکتا تھا
“تمہارا ہاتھ کیسا ہے اب، زخم زیادہ گہرا تو نہیں آیا”
آزھاد نے عباس سے پوچھا
“بھائی یہ انکل کون ہیں”
عباس کے کچھ بولنے سے پہلے کومل نے آزھاد کے سینے سے چہرہ ہٹایا اسے دیکھ کر پوچھنے لگی۔۔۔ اب کی بار عباس کومل کے منہ سے اپنے لیے انکل کا لفظ سن کر مسکراتا ہوا اسے دیکھنے لگا جبکہ اس آزھاد نے کومل کو آنکھیں دکھائی
“کومی یہ انکل نہیں ہے بھائی کے فرینڈ ہیں”
آزھاد پیار سے کومل کو سمجھانے لگا
“نہیں بہت گندے انکل ہیں یہ کل رات کو مجھے پکڑ رہے تھے یہاں سے پکڑا تھا کومی کو”
کومل آزھاد کو اپنی بات کا یقین دلاتے ہوئے اپنے ہاتھوں کی طرف اشارہ کرکے بتانے لگی۔۔۔ کل رات جب وہ کومل کو کچن سے کھینچ کر باہر لا رہا تھا تب اس نے واقعی کومل کے ہاتھوں کو بہت سختی سے پکڑے تھے کیوکہ وہ قابو میں نہیں آرہی تھی
“کومل کیا آپ مجھ سے دوستی کریں گیں جیسے میں آپ کے بھائی کا فرینڈ ہوں ویسے ہی میں آپ کا بھی فرینڈ بننا چاہتا ہوں”
عباس کومل کو دیکھتا ہوا بولا آزھاد عباس کو دیکھنے لگا مگر عباس کومل کے چہرے کے تاثرات دیکھنے لگا جو کہ اس کی بات سن کر خفا خفا سے تھے
“آپ نے کومی بےبی کو آنٹی بولا تھا اس لیے وہ اب آپ کی فرینڈ نہیں بنے گی” کومل ماتھے پر شکن لاتی ہوئی عباس کو دیکھ کر بولی جس پر عباس کو اپنی ہنسی ضبط کرنی پڑی
“اوکے پھر میں اپنے کان پکڑ کر آپ سے سوری کر لیتا ہوں اب تو آپ میری فرینڈ بنیں گی”
عباس کومل کو دیکھتا ہوا دوبارہ پوچھنے لگا آزھاد کومل کے پاس بیٹھا خاموشی سے ان دونوں کی باتیں سن رہا تھا
“سوری”
عباس اپنے دونوں کان پکڑتا ہؤا بولا جس پر کومل بچوں کی طرح تالیاں بجا کر ہنسنے لگی
“فرینڈز”
کومل نے بیڈ سے اتر کر عباس کے آگے ہاتھ بڑھایا عباس نے ایک نظر آزھاد کو دیکھا۔۔۔۔ آزھاد کے چہرے پر اس وقت ہلکی سی اسمائل تھی جیسے اسے عباس کا کومل سے بے تکلف ہونا برا نہیں لگا مگر سچ تو یہ تھا کوئی بھی پاگل لڑکی سے دوستی کرنے کا رسک نہیں لے سکتا تھا کومل سے زیادہ تر لوگ ڈرتے تھے
عباس نے کومل سے ہاتھ ملایا تو کومل عباس کی کلائی پر بینڈیچ دیکھنے لگی جہاں کل رات اس نے عباس کو زخم دیا تھا ویسے ہی کومل کے مسکراتے لب سکھڑ گئے اس کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی تو عباس نے بھی مسکرانا بند کیا اور خاموشی سے کومل کو دیکھنے لگا
اب وہ اپنے دونوں کان پکڑے عباس کو دیکھنے لگی یعنی اسے اپنی کل والی حرکت یاد تھی اور وہ اپنی حرکت پر شرمندہ تھی جس کا اظہار وہ کان پکڑ کر رہی تھی اور اس سے معافی مانگ رہی تھی
اس کے معصوم سے انداز پر عباس کے ساتھ ساتھ آزھاد کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آئی عباس نے مسکرا کر اس کے دونوں ہاتھ کانوں سے نیچے کیے
****
“آزھاد تمہاری سسٹر کی میموری کافی شارپ ہے وہ باتیں یاد رکھتی ہے یہ ایک اچھی علامت ہے”
آزھاد نے کومل کو میڈیسن دی تھی وہ اس کے زیر اثر سو رہی تھی تب آزھاد اور عباس لان میں آ کر بیٹھے عباس آزھاد کو دیکھتا ہوا کہنے لگا
“ہاں ڈاکٹرز کہتے تو ہیں اسے کچھ عرصہ لگے گا اس فیس سے نکلنے میں۔۔۔ کبھی کبھی وہ نارمل لڑکی کی طرح ری ایکٹ کرتی ہے مگر کبھی کبھی ہو بالکل اپنے حواسوں میں نہیں ہوتی،،، کس کے سامنے کیا بات کرنا ہے کس طرح کا عمل کرنا ہے اسے سمجھ نہیں آتا”
آزھاد کے لہجے میں افسردگی کا رنگ گُھلا ہوا تھا
“تمہاری سسٹر ٹھیک ہو سکتی ہے، تھوڑی زیادہ محنت توجہ اور ٹائم سے مجھے یقین ہے”
عباس آزھاد کو اداس دیکھ کر اس کی امید باندھتا ہوا بولا تو آزھاد افسردگی سے مسکرایا
“ٹائم اور توجہ ہی تو دیتے آرہے ہیں پچھلے ایک سال سے”
آزھاد عباس کو کہنے لگا عباس سے بات کرتے ہوئے اس وقت وہ اپنی شخصیت سے بالکل الٹ لگ رہا تھا
“اگر تم مائینڈ نہیں کرو تو کومل کے ساتھ میں تھوڑا سا ٹائم اسپینڈ کر لیا کرو”
عباس کی بات پر آزھاد نے چونک کر اسے دیکھا
“سوری اگر تمہیں برا لگا تو میرا مطلب تھا ایسے کیسز میں گھر والوں کی توجہ کے علاوہ اگر کوئی ایسا انسان جسے کومل اپنا دوست سمجھئے تو وہ اچھا محسوس کرے گی کہ ہر نارمل انسان کی طرح اس کا بھی دوست ہے بس ایسے ہی کچھ سوچ کر بولا میں نے” عباس آزھاد کے سنجیدہ تعصورات دیکھ کر اسے وضاحت دینے لگا
“تمہیں معلوم ہے عباس جب میں پاکستان واپس آیا تو میری فصیح اور مُکرم سے دوستی ہوئی اس کے باوجود میں نے اپنی دوستی کو لمٹ میں رکھا ہے میں نے کبھی انہیں اپنے گھر آنے کی دعوت نہیں دی جبکہ تم سے دوسری ملاقات میں تمہیں یہاں رہنے کی آفر کی،، وجہ جانتے ہو کیو۔۔۔ کیوکہ تھوڑا بہت ہی سہی لیکن مجھے لوگوں کی نیتوں کا ان کے چہرے سے اندازہ ہوجاتا ہے۔۔ میں اپنی بہن سے بہت پیار کرتا ہوں اور اگر تم اس کے فرینڈ بنے ہو تو مجھے یقین ہے تم اس کے ایک اچھے دوست ثابت ہوگے”
آزھاد کی بات سن کر عباس نے شکر ادا کیا کہ آزھاد نے اس کی باتوں کا غلط مطلب نہیں لیا
“اگر مائنڈ نہیں کروں تو کیا میں پوچھ سکتا ہوں آخر کیا وجہ ہوئی جو کومل یوں” عباس کی بات پر آزھاد ایک بار پھر چونک کر سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگا
تب ہی مین گیٹ سے کار اندر داخل ہوئی جس میں سے کوثر نکلی آزھاد کی بات سن کر فضل نے ڈرائیور کو اسے لینے کے لئے بھیج دیا تھا
“پھر کبھی بتاؤں گا کوثر آگئی ہے اسے کچھ ضروری بات کرنی ہے”
آزھاد مسکرا کر چیئر سے اٹھتا ہوا بولا تو عباس نے اثبات میں سر ہلایا وہ سمجھ نہیں پایا آزھاد نے اس کو ٹالا ہے یا ان ڈائریکٹ انکار کیا ہے یا وہ واقعی اسے بعد میں بتانے کا ارادہ رکھتا ہے آزھاد کو جاتا ہوا دیکھ کر وہ بھی اپنی انیکسی میں چلا گیا.
جاری ہے
