Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode04

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode04

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode04

نیند میں عباس کو کسی کی چیخوں کی آوازیں سنائی دیں جیسے دور سے کہیں کوئی زور زور سے چیخ رہا تھا
“دیا”
عباس نیند میں بڑبڑایا پھر اسے دروازے کی دستک سنائی دی تو عباس کی آنکھ کھلی۔۔۔ وہ آوازیں دیا کی نہیں تھی سچ مچ کوئی چیخ رہا تھا وہ بیڈ سے اٹھ کر اپنے کمرے سے باہر نکلا
“سر کومل بےبی کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی ہے،، آج شاہنواز سر اور آزھاد سر دونوں ہی گھر پر موجود نہیں ہیں۔۔۔۔ میم اور میں انھیں نہیں سنبھال سکتے آپ پلیز کومل بےبی کو آکر دیکھ لیں”
عباس کے دروازہ کھولتے ہیں کوثر پریشان ہو کر بولنے لگی عباس ساری صورتحال کو سمجھتا ہوا کوثر کے ساتھ چل دیا
****
“کومل بیٹا نہیں خدارا اسے چھوڑ دو پلیز، میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں”
کوثر کے پیچھے عباس پہنچے تو اسے وجیہہ کی آواز سنائی دی وہ کچن کے دروازے پر وہیل چیئر پر بیٹھی رو رہی تھی
“عباس بیٹا دیکھیں کومل کو سمجھائے میرا دل بیٹھا جا رہا ہے یہ اپنے آپ کو نقصان نہ پہنچا دے کہیں”
عباس کو آتا دیکھ کر وجیہہ بے بسی سے روتی ہوئی بولی
“آنٹی آپ پریشان مت ہو،، کوثر آپ آنٹی کو لے جائیں یہاں سے”
عباس وجیہہ کو تسلی دیتا ہوا کوثر سے بولا وہ سر ہلا کر وہیل چیئر چلاتی ہوئی وہاں سے وجیہہ کو لے گئی
عباس نے جیسے ہی کچن میں قدم رکھا فوراً ہی نیچے بیٹھ گیا اگر وہ نیچے نہ بیٹھتا تو کومل کا وار خالی نہیں جاتا کانچ کا جگ فرش پر گر کر چھناکے سے ٹوٹا عباس نے سر اٹھا کر کومل کو دیکھا وہ ہاتھ میں بڑی سی چھری لیے گھڑی تھی
“لاؤ کومل یہ چھری مجھے دے دو” عباس اٹھ کر کومل کے قریب آئستہ قدم بڑھاتا ہوا بولا
“دور رہو تم مجھ سے ورنہ میں تمہیں مار ڈالوں گی”
کومل نے شیلف سے گلاس اٹھا کر دوبارہ عباس کا نشانہ لیا وہ ایکدم سائڈ پر ہوا کانچ کا گلاس کرچیوں کی صورت فرش پر بکھر گیا۔۔۔ کل شام کی طرح وہ عباس کو کوئی بچی نہیں لگ رہی تھی، نہ ہی وہ اس وقت چھوٹے بچوں کی طرح ری ایکٹ کر رہی تھی بلکہ پنک کلر کے نائٹ ڈریس، شرٹ اور ٹراؤزر میں کھلے بالوں کے ساتھ وہ اب بالکل ایک ڈری سہمی لڑکی لگ رہی تھی
“کومل دیکھو یہ چھری مجھے دے دو میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا پرامس”
عباس مزید قدم بڑھاتا ہوا اس کے قریب آیا
“میں نے کہا نہ، دور رہو مجھ سے”
کومل نے عباس کو اپنے قریب آتا دیکھ کر اپنا ہاتھ بلند کرکے خود پر وار کرنا چاہا مگر اب کومل کا چھری والا ہاتھ وہ مضبوطی سے پکڑ چکا تھا
“میں کہتی ہو چھوڑ دو مجھے ورنہ میں تمہیں مار ڈالوں گی”
کومل چیختی ہوئی عباس کو دیکھ کر بولی اب وہ پوری طاقت لگا کر چھری سے عباس کی طرف وار کرنا چاہ رہی تھی اس کی آنکھیں بے خوف تھی اور چہرے پر عجیب وحشت طاری تھی
عباس نے بہت ممکن کوشش کی تھی کہ کومل اپنے آپ کو نقصان نہ پہنچا سکے لیکن جب اس نے دوسرے ہاتھ سے اس سے چھری پکڑنے کی کوشش کی تو وہ اپنے آپ کو نہیں بچا سکا چھری سے اس کی کلائی پر کٹ لگا مگر وہ کومل کے ہاتھ سے چھری نیچے گرانے میں کامیاب ہوگیا تھا
“چھوڑو مجھے میں کہتی ہو چھوڑو”
اب کومل پر ایک جنون طاری تھا وہ زور زور سے دونوں ہاتھ چلاتی ہوئی دیوانہ وار چیختی ہوئی عباس کو مارنے لگی عباس نے اس کے دونوں ہاتھوں کو قابو کیا
“خاموشی سے چلو اپنے کمرے میں” عباس اب غصے میں کومل کو دیکھ کر بولا پھر اس کو مضبوطی سے پکڑ کر کچن سے باہر نکالنے لگا
“چھوڑو مجھے”
اب کومل نیچے فرش پر بیٹھ کر پاوں زمین سے رگڑتی ہوئی زور زور سے اپنے ہاتھ عباس کو مارنے لگی
“ایسے نہیں مانو گی تم”
عباس نے کومل کو فرش سے اٹھا کر کھڑا کیا اور اپنے کندھے پر ڈالا
“کون سا روم ہے ان کا”
وہ اب بھی زور زور اپنے ہاتھ عباس کی کمر پر مارتی ہوئی چیخ رہی تھی،، جس کا عباس نے نوٹس لیے بغیر کوثر سے پوچھا۔ ۔۔
کوثر نے کومل کے کمرے کا دروازہ کھولا عباس اسکو اس کے روم میں لے کر آیا اور اس کو بیڈ پر لٹانے لگا
وجیہہ روتی ہوئی کبھی آزھاد کا نمبر ملا رہی تھی تو کبھی شاہنواز کا۔۔
مگر آزھاد کا سیل آف تھا اور شاہنواز کے موبائل پر مسلسل بیلز جارہی تھی
عباس کومل کو مضبوطی سے پکڑنے کے باوجود،، وہ مسلسل چیخیں مار کر بیڈ سے اٹھنے کی کوشش کر رہی تھی اور زور زور سے اپنے پاؤں چلا رہی تھی تب کوثر نے جلدی سے سرنج نکالی اور کومل کے بازو میں انجیکٹ کی۔۔۔ جس سے کومل ہوش و خروش سے بیگانہ ہوگئی تب عباس نے اس کے دونوں بازو چھوڑے
“سر آپ کے تو زخم آیا ہے”
کوثر نے عباس کی کلائی کو دیکھتے ہوئے کہا وجیہہ بھی فکرمندی سے اسے دیکھنے لگی
عباس کے ہاتھ سے نکلتا ہوا خون کومل کے ہاتھ اور آستین پر بھی لگا ہوا تھا مگر اب وہ بے ہوش تھی
“اٹس اوکے زخم زیادہ گہرا نہیں ہے” عباس وجیہہ کو پریشان دیکھتا ہوا مسکرا کر کہنے لگا
“زخم۔ تو زخم ہوتا ہے کوثر جاو فرسٹ ایڈ باکس لے کر آؤ” وجیہہ آنسو صاف کرتی ہوئی کوثر سے بولی
“آنٹی آپ پریشان مت ہوں میں ٹھیک ہوں”
عباس وجیہہ کو دیکھتا ہوا کہنے لگا بیٹا
“آپ یہاں بیٹھ جاؤ آپ نے میری بیٹی کی جان بچاتے ہوئے اپنے آپ کو زخمی کر لیا”
عباس کرسی پر بیٹھا تو وجیہہ اس کے ہاتھ کا جائزہ لیتی ہوئی بولی
“آنٹی مجھے واقعی پین نہیں ہو رہا مگر آپ اس طرح پریشان ہوگی تو مجھے اچھا نہیں لگے گا”
وجیہہ عباس کو پریشان دیکھ کر بولا وجیہہ کوثر کی لائے فرسٹ ایڈ باکس سے عباس کی بینڈیج کرنے لگی
___________
“تم۔۔۔ تم تو وہی ہونا جس نے آپی کے سامنے خود کو میرا بوائے فرینڈ کہہ کر مجھے پھنسایا تھا”
شاید بے ہوش ہونے سے پہلے وہ اپنے حواسوں میں موجود نہیں تھی،، مگر اب ہوش میں آنے کے بعد وہ آزھاد کو اچھی طرح پہچان گئی تھی اس کی بات سن کر آزھاد کے چہرے پر مسکراہٹ آئی
“تم نے مجھے پہچان لیا ویسے ایک راز کی بات بتاؤ بھولا تو میں تمہیں اس دن کے بعد سے خود بھی نہیں ہو”
آزھاد نے پچھلی سیٹ پر ذرا جھک کر رازدارانہ انداز میں حنین سے کہا حنین سیٹ سے اٹھ کر بیٹھ گئی
“میرے سامنے زیادہ ڈائیلاگز مارنے کی ضرورت نہیں ہے کیوکہ میں اپنا سیل نمبر تمہیں آج بھی نہیں دینے والی”
حنین نے کار میں بیٹھے اس شخص کی خوش فہمی کو دور کرتے ہوئے جواب دیا
“اب سیل نمبر کی کیا ضرورت ہے تم خود میرے کار میں موجود ہو”
آزھاد کی بڑبڑاہٹ حنین نے صاف سنی تو اسے تھوڑی دیر پہلے والا واقعہ یاد آ گیا وہ کار میں بیٹھے اس اجنبی سے کیوں باتیں کر رہی تھی اور وہ اس پر بھی کیسے بھروسہ کر سکتی تھی
“کیا ہوا”
آزھاد اس کے سیریز فیس ایکسپریشن دیکھتا ہوا پوچھنے لگا تو حنین ہوش کی دنیا میں آئی اور اپنے اوپر آزھاد کی جیکٹ سے خود کو کور کرتی ہوئی وہ ایک دم کار سے اتری
“ہنی،، کیا ہوا۔۔۔ بات تو سنو”
اسے کار سے اترتا دیکھ کر آزھاد خود بھی کار سے نکلا اور حنین کو پکارا
“ہنی مجھے صرف آپی کہتی ہیں، وہ بھی پیار سے۔۔۔ تمہیں مجھے اس نام سے پکڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے”
حنین نے مڑ کر ایک بار پھر اس کی خوش فہمی کو دور کرنا ضروری سمجھا
“تو میں بھی تو تمہیں پیار سے بول رہا ہوں یار”
آزھاد اس کے ساتھ چلتا ہوا بولا
“کیوں”
حنین رک کر اسے دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
“سمپل پیاری جو لگ رہی ہو اس لئے” آزھاد نے آسان سے لفظوں میں اسے دیکھ کر کہا پھر مسکرایا۔۔۔ وہ آزھاد کو دیکھ کر گھورتی ہوئی وہاں سے جانے لگی
“اچھا یہ تو بتا دو جا کہاں رہی ہو اتنی رات کو وہ بھی اکیلے”
اب کی بار آزھاد نے بڑی نرمی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر پوچھا تو حنین نے زور سے اس کا ہاتھ جھٹکا
“تم نے سمجھ کیا رکھا ہے مجھے،، آخر کیوں اتنا فری ہو رہے ہو پہلی ملاقات سے۔۔۔ جس طرح کے تم مرد لگ رہے ہو اس طرح کے مرد مجھے زہر لگتے ہیں اور جس طرح کی تم مجھے لڑکی سمجھ رہے ہو میں اس طرح کی لڑکی ہرگز نہیں سمجھ آیا تمہیں”
حنین اچھی طرح اس کی طبیعت صاف کرتی ہوئی بولی
“کس طرح کا مرد لگ رہا ہوں میں تمہیں اور کس طرح کی لڑکی نہیں ہوں تم”
آزھاد نے اپنے سامنے کھڑی اس احسان فراموش لڑکی کو دیکھ کر پوچھا جس کی تھوڑی دیر پہلے اس نے اپنا موبائل شہید کرکے جان بچائی تھی اور ابھی بھی وہ اس کے احساس سے ہی پوچھ رہا تھا کیوکہ اسکا اتنی رات کو سنسان جگہ پر اکیلے جانا آزھاد کو مناسب نہیں لگا تھا
“لڑکیاں دیکھ کے فلرٹ کرنے والا مرد۔۔۔ تمہاری یہ نیو ماڈل کار مہنگا سیل فون اور برانڈ کپڑوں دیکھ کر کوئی دوسری لڑکی امپریس ہو سکتی ہے مگر میں نہیں”
حنین اس کی مزید عزت افزائی کرتی ہوئی بولی
“تمہارے پاس شکل ہے جو تم سے فلرٹ کیا جائے گورا رنگ لمبے بال خوبصورتی کی علامت نہیں۔۔۔ چھوٹا قد، چپٹی ناک واپس کرو میری جیکٹ اور بھاڑ میں جاؤ میری بلا سے”
آزھاد اب اس سے بالکل اسی لہجے میں مخاطب ہوا جیسے وہ عام طور پر لڑکیوں سے مخاطب ہوتا تھا جبکہ دوسری طرف حنین کا صدمے میں سے منہ کھلا رہ گیا۔۔۔ اس کی ہائٹ کم تھی مگر ناک۔ ۔۔ ناک تو ہرگز چپٹی نہیں تھی۔۔۔ حنین نے بے ساختہ اپنی ناک کو چھوا۔۔۔ اور دانت پیس پر آزھاد کی جیکٹ اتار کر اس کی طرف اچھالی اور غصے میں تن فن کرتی وہاں سے جانے لگی جبکہ آزھاد سر جھٹک کر اپنی جیکٹ شولڈر پر رکھتا ہوا اپنی گاڑی کی طرف مڑا
حنین ابھی چند قدم ہی چلی تھی تو اسے رات کے سناٹے میں سانپ کی پھنکار سنائی دی، چاند کی روشنی میں اس نے ایک بڑے سانپ کو دیکھا جو جھاڑیوں میں سے نکل کر رینگتا ہوا سڑک پر آ رہا تھا
“آزھاد”
خوف کے مارے وہ زور سے چیخ کر آزھاد کا نام پکارتی ہوئی دوبارہ اس کی طرف بھاگی،، وہ جو اپنی کار کی طرف بڑھ رہا تھا حنین کے چیخنے پر دوبارہ اس کی طرف مڑا حنین بھاگتی ہوئی اس کے پاس آئی اور اس کے دونوں بازو پکڑے
“وہاں پر بہت بڑا سانپ ہے مجھے ابھی ابھی نظر آیا، آئی تھینک ہم دونوں کو کار میں بیٹھنا چاہیئے”
حنین ڈر کے مارے بڑی بڑی آنکھیں کرتی ہوئی خوف کے آثار چہرے پر لیے آزھاد کو بتانے لگی
“فلرٹ کرنے کا ویسے یہ بھی اچھا طریقہ ہے”
وہ حنین کے ہاتھ اپنے بازو سے ہٹاتا ہوا بولا اور کار کی طرف بڑھنے لگا تب حنین نے دوبارہ اس کا ہاتھ پکڑا
“مجھے ڈر لگ رہا ہے اور تم مرد ہو کر ایک لڑکی کے ساتھ اس طرح کیسے کر سکتے ہو”
حنین کو رونا آنے لگا
“اب کیا اپنی گود میں اٹھا کر تمہیں کار میں ڈالو، گندی شکلیں بنا کر رونا بند کرو ورنہ تمہیں بین بجاتا ہوا دیکھ کر سانپ یہی آجائے گا اور چپ کرکے کار میں بیٹھو”
وہ ابھی بھی بنا لحاظ کئے بولا اپنا ہاتھ چھڑا کر کار میں بیٹھ گیا، حنین اس کی بات کو اگنور کرتی ہوئی جلدی سے خود بھی کار کی پچھلی سیٹ پر بیٹھی۔۔۔ وہ کار میں بیٹھ کر اپنے آنسو صاف کر رہی تھی آزھاد نے مڑ کر ایک نظر حنین کو دیکھا پھر اپنے برابر والی سیٹ پر پانی کی بوتل اٹھا کر حنین کی طرف بڑھائی جسے حنین پکڑ کر گھٹاگھٹ پانی پینا شروع کردیا
“مجھے سردی بھی لگ رہی ہے”
جب پیاس بجھی تو اب وہ دوبارہ روتی ہوئی آزھاد کو دیکھ کر بولی
“تو میں کیا کرو”
آزھاد نے لاپروا انداز میں اس سے پوچھا
“یہ اپنی جیکٹ دے دو پلیز”
حنین اس بڑھتی ہوئی سردی میں اسکی جیکٹ کو ندیدوں کی طرح دیکھتی ہوئی بولی
“کیوں دے دو میں تمہیں اپنی جیکٹ، کیا میں فولاد کا بنا ہوا نظر آرہا ہو، یہ سردی مجھ پر بھی افیکٹ کر سکتی ہے”
آزھاد نے بےمروتی کی حد کرتے ہوئے کہا۔۔۔ جس پر حنین نے منہ پر تو نہیں مگر دل میں اسے گالی سے نوازا
“نہ دو، کوئی بات میں نہیں،،، میں تمہیں اچھا خاصا مرد سمجھ رہی تھی تبھی غلطی سے مانگ لی یہ جیکٹ”
حنین نے بھی لاپروا انداز اختیار کرتے ہوئے اسے بولا
“میں اچھا خاصا مرد ہی ہو،، یقین نہیں آ رہا تو دو کیا۔۔۔ اپنی مردانگی کا ثبوت”
آزھاد پچھلی سیٹ پر جھکتا ہوا حنین سے پوچھنے لگا۔۔۔ حنین پیچھے سیٹ پر ٹیک لگا کر پوری سیٹ کے اندر گھس گئی
“نہیں مجھے اس کار میں تمہارے ساتھ اکیلے نہیں بیٹھنا”
حنین کار کا لاگ کھول کر اترنے لگی
“ہنی ڈیئر شرافت سے کار میں بیٹھی رہو کیوکہ سانپ نے اگر تمہیں کاٹ لیا۔۔۔ تو وہ زہر بھی مجھے ہی نکالنا پڑے گا”
حنین نے کار کے دروازہ بند کیا اور بےبسی سے آزھاد کو دیکھنے لگی۔۔۔ تب آزھاد نے اپنی جیکٹ اس کے اوپر اچھالی جو حنین پہننے لگی
“کیا کر رہی تھی تم اتنی رات کو اس جگہ پر اکیلے”
آزھاد اس کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا تو حنین نے اس کو مزنہ کے ساتھ فارم ہاوس آنے سے لےکر دوسرے فارم ہاؤس سے دو لڑکوں کے پیچھے لگنے اور پھر کتے سے جان بچانے والا واقعہ سنایا۔۔۔
حنین کو وہ ان دو لڑکوں جیسا نہیں لگا، ہاں چہرے سے وہ مغرور اور بات کرنے کا انداز اس کا بدتمیزوں والا تھا۔۔۔ مگر اس کی آنکھوں سے ان لڑکوں کی طرح ہوس نہیں ٹپک رہی تھی
“یعنی پہلے تم نے دو ٹانگوں والے کُتوں کو اپنے پیچھے لگایا۔۔۔ پھر ان سے بچ کر نکلی تو چار ٹانگوں والا کُتا تمہارے پیچھے لگا،،، تب تم یہاں پہنچی”
آزھاد نے اس کی بات سن کر لمبا سانس کھینچا اور حنین کو دیکھا
“تم یہاں آخر کس کا انتظار کر رہے ہو یہاں رکنا خطرے سے خالی نہیں ہے چلو یہاں سے”
حنین تو اب مزنہ کے ساتھ یہاں آ کر پچھتا رہی تھی آزھاد کو یوں ریلیکس بیٹھا دیکھ کر وہ بولی
“مشورہ دینے کا شکریہ کار خراب ہے میری”
آزھاد اس کو دیکھتا ہوا بولا پھر مڑ کر کار کی سیٹ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا
“کیا مطلب کار خراب ہے۔۔۔ اب ہم کیا کریں گے”
حنین اس کی بات سن کر پریشانی سے پوچھنے لگی
“لفٹ لینے کا انتظار ہنی ڈیئر جب تک کوئی دوسری کار یہاں سے نہیں گزرتی تب تک”
وہ حنین کو دیکھے بغیر کار کی سیٹ سے ٹیک لگائے انکھیں بند کیا بولا
حنین کی کتے سے جان بچانے کے چکر میں اس کے موبائل کا بھی کچومر نکل گیا تھا اب وہ بھلا یہاں پر کیسے کسی کو مدد کے لیے بلا سکتا تھا اگر حنین اس کے ساتھ موجود نہیں ہوتی تو وہ اکیلا ہی ڈیڑھ دو گھنٹے کا فاصلہ طے کرکے فصیح اور مُکرم کے پاس پیدل چلا جاتا حنین کی وجہ سے اسے خود بھی رات کو سردی میں اس سنسان جگہ پر گزارنی تھی
آزھاد کی بات سن کر حنین کی شکل رو دینے والی ہوگئی۔۔۔ وہ خود اکیلے جانے کا رسک ہرگز نہیں لے سکتی تھی اور رات کو اس طرح کسی اجنبی کے ساتھ اکیلے گاڑی میں تنہا بیٹھ کر وقت گزارنا اسے سخت امتحان لگ رہا تھا وہ صرف دعا کر سکتی تھی کہ جلد سے جلد کوئی دوسری کار یہاں پر آجائے
****
سسکیوں کی آواز سن کر آزھاد نے آنکھیں کھولی صبح کا آغاز ہوچکا تھا۔۔۔ سیٹ سے ٹیک لگائے کب آنکھ لگی آزھاد کو خبر بھی نہیں ہوئی،، سر موڑ کر اس نے پچھلی سیٹ پر دیکھا تو حنین اس کی جیکٹ پہنے ہوئے دونوں پاؤں سیٹ کے اوپر رکھے رونے میں مصروف تھی
“کیا مسئلہ ہوگیا تمہارے ساتھ صبح صبح”
صبح ہوتے ہی اس کی روتی شکل دیکھ کر آزھاد جی بھر کے بیزار ہوا تھا جتنی پیاری شکل کی وہ مالک تھی اتنی ہی گندی شکل بناکر روتی تھی
“نہ ہی میں تمہیں اپنا مسئلہ بتا سکتی ہو اور نہ ہی تم کچھ کر سکتے ہو اس لیے خاموش ہو کر بیٹھ جاؤ پلیز”
حنین بے بسی سے اسے دیکھتی ہوئی بولی اور آنسو پوچھنے لگی
“سُوسُو؟؟؟”
وہ حنین کو دیکھ کر اندازہ لگاتا ہوا بولا کیوکہ جس طرح وہ بے بسی شو کررہی تھی اس کی بات سے یہی اندازہ لگایا جاسکتا تھا ورنہ صبح صبح اسے اور کیا مسئلہ ہو سکتا تھا۔۔۔ آزھاد کی بات سن کر حنین بلاوجہ شرمندہ ہونے لگی وہ اس بات سے انکار بھی نہیں کر سکتی تھی اسے مزید رونا آنے لگا وہ کہاں پھنس گئی تھی اور تین گھنٹے سے وہ کس اذیت میں مبتلا تھی برداشت کرنے کے سوا کچھ کر بھی نہیں پارہی تھی،، اور اب تو اس سے برداشت بھی نہیں ہورہا تھا
“کس نے کہا تھا رات کو آدھی پانی کی بوتل چڑھا جاؤ ایسا تو ہونا ہی تھا”
آزھاد بظاہر افسوس کا اظہار کرتا ہوا بولا مگر اس کی شکل دیکھ کر کہیں سے نہیں لگ رہا تھا کہ اسے افسوس ہو رہا ہے۔۔حنین کو مزید دونا آنے لگا
“اچھا رو تو نہیں یار،،، یہ پکڑو پانی کی بوتل اور وہاں اس سائیڈ پر جاؤ” آزھاد نارمل انداز میں اس کی طرف پانی کی بوتل بڑھاتا ہوا اسے جھاڑیوں کی طرف اشارہ کرنے لگا
“تمہارا کہنے کا کیا مطلب ہے یوں اس طرح کھلے میں”
حنین نے رونا بھول کر غصے میں اپنی بات ادھوری چھوڑی
“تو تم کیا چاہتی ہو یہاں کار میں”
آزھاد حیرت زدہ ہو کر اس سے پوچھنے لگا
“شٹ آپ،، تمہیں تو ذرا بھی تمیز نہیں کہ لڑکی سے کیسے بات کی جاتی ہے” حنین اس کے بولنے پر ایک دم بولی مگر آزھاد کے بگڑے ہوئے تیور دیکھ کر ایک دم نرم پرگئی
“میرا مطلب ہے کہ ایک لڑکی اس طرح یوں باہر۔۔۔ بھلا کیسے”
آزھاد کو اپنی طرف غصے میں دیکھ کر اب وہ ارام سے اسے بولی تھی۔۔۔ کیا معلوم وہ اس کو اپنی کار سے ہی اتار دے اور دوبارہ اسے اپنی جیکٹ چھین لیتا
“تو تمہارے لئے یہاں پر واش روم کہاں سے ارینج کرو ملکہ عالیہ۔۔۔ تمہیں جو کرنا ہے وہ کرو ویسے بھی یہ تمہارا مسئلہ ہے اور کافی ذاتی قسم کا مسئلہ ہے مگر دھیان رکھنا میری کار خراب نہ ہو”
آزھاد اسے وارننگ دیتا ہوا لاپرواہ انداز میں دوبارہ سیٹ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا
جس پر حنین کو دوبارہ رونا آنے لگا
“اُف”
اس کے رونے پر آزھاد ایک دفعہ پھر بیزار ہوا ہاتھ میں پانی کی بوتل پکڑ کر کار کا دروازہ کھول کر باہر نکلا
“چلو نکلو،،، فوراً باہر نکلو میری کار سے”
اب وہ حنین کی سائیڈ کا پچھلا دروازہ کھول کر اسے بولنے لگا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *