Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode13

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode13

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode13

تمہیں جہاں جانا ہے شوق سے جاؤ وجیہہ تمہارے ساتھ نہیں جائے گی”
شاہنواز آزھاد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس سے بولا آزھاد شاہنواز کو کوئی بھی جواب دیئے بغیر چلتا ہوا وجیہہ کے پاس آیا
“آپ، میں اور کومل اب اس گھر میں نہیں رہے گے، میں کوثر کو اور ساجدہ کو بھیج رہا ہوں ضرورت کی چیزیں اور کپڑے پیکنگ کرنے کے لئے”
آزھاد وجیہہ کے پاس آکر اسے دیکھتا ہوا بولا
“آزھاد یہاں بیٹھو میرے پاس میں اور کومل اس گھر سے کہیں نہیں جائے گے اور نہ ہی تم کہیں جاؤ گے”
وجیہہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے پاس بٹھاتی ہوئی بولی وجیہہ کی بات بات سن کر آزھاد نے حیرانگی سے اسے دیکھا وہی شاہنواز استہزائیہ ہنس کر کمرے سے نکل گیا
“کیو کہا آپ نے ڈیڈ کے سامنے ایسا،، کیوں ہونے دے رہی ہیں آپ اپنے ساتھ ایسا۔۔۔ جب آپ کے پاس آپ کا بیٹا موجود ہے تو کیا ضرورت ہے ایسے کھوکھلے سہارے کی آپ کو،،، میں آپ کے ساتھ کسی بھی قسم کی زیادتی یا حق تلفی ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتا مما”
آزھاد وجیہہ کو دیکھتا ہوا بےبسی سے بولا ایک بار پھر اسے شدید غصہ آنے لگا
27 سال میں کبھی بھی شاہنواز نے مجھ سے زیادتی نہیں کی، کبھی بھی میرا حق نہیں مارا تمہارے ڈیڈ نے،، اچھے شوہر ہونے کا ثبوت دیا ہے آزھاد مگر جب محبت بوڑھی اور معذور ہو جائے تو مرد بیچارہ کس سے شکوہ کرے۔ ۔۔۔ شکایت ہے مجھے تمہارے ڈیڈ سے مگر وہ میرا اور شاہنواز کا معاملہ ہے ہم دونوں میاں بیوی کے بیچ کا معاملہ۔۔۔ نوین کے یہاں آنے سے پہلے شاہنواز مجھ سے اجازت لے چکا ہے اور میں اسے اجازت دے چکی ہوں۔۔۔ ویسے بھی جو ہونا تھا وہ ہو چکا ہے بیٹا یوں شور شرابے سے چیخ و پکار سے کچھ بھی پہلے جیسا نہیں ہوسکتا نا،، اور اب اگے جو ہونا ہے وہ بھی ہوکر رہے گا۔۔۔ بس میں اس گھر میں مزید کوئی طوفان یا تماشہ نہیں دیکھنا چاہتی۔۔۔۔ وعدہ کرو آزھاد تم نوین کے یہاں آنے کے بعد کوئی تماشہ ہنگامہ نہیں کروگے”
وجیہہ تحمل سے آزھاد کو اپنی بات سمجھاتے ہوئے آخر میں اس سے وعدہ لینے لگی کیوکہ آزھاد کے چہرے کے اتار چڑھاؤ بتا رہے تھے وہ چپ ہرگز نہیں بیٹھنے والا
“یہ کون سی محبت ہے مما آپ کی ڈیڈ سے، انہوں نے آپ کے ساتھ عمر کے اس حصے میں بے وفائی کی اور آپ ہیں کہ ان کی خوشی کی خاطر۔۔۔ یہ سب آپ ان کی خوشی کی خاطر کر رہی ہیں ناں”
آزھاد وجیہہ کا ہاتھ تھام کر پوچھنے لگا وجیہہ اپنی آنکھ میں آئے آنسو پوچھنے لگی
“شاہنواز میری حق تلفی نہیں کرے گا وہ مجھ سے اور نوین سے برابری کا سلوک رکھے گا اس نے وعدہ کیا ہے مجھ سے،، وہ مجھے یہاں سے نہیں جانے دے گا آزھاد۔۔۔ نہ ہی اس عمر میں، میں دربدر ہونا چاہتی ہوں۔۔۔ بس میں چاہتی ہو سب اس گھر میں خوش رہے تم وعدہ کرو ایسے ہی ہوگا”
وجیہہ ایک بار پھر آزھاد سے وعدہ لینے لگی۔۔۔ آزھاد نے وجیہہ کا تھاما ہوا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگایا
“اگر آپ خوش رہے گیں تو میں کوشش کرو گا کہ سب خوش رہے لیکن آپ کی آنکھوں میں آنسو آئے تو میں پرومس کرتا ہوں اس دن اس گھر کا ہر فرد روئے گا”
آزھاد وجیہہ کو بولتا ہوا کمرے سے نکل گیا
****
آج تین دن گزر گئے تھے اور آزھاد کا تین دن سے یہی معمول تھا آفس سے گھر آنے کے بعد وہ اپنے فلیٹ میں چلا آتا فصیح اور مُکرم کے ساتھ تین دن سے لگا تار ڈرنک کر رہا تھا یہ فلیٹ آزھاد کا اسی کام میں استعمال ہوتا
“تین دن سے تو نے مجھے پریشان کر دیا یار ۔۔۔ تو جگر ہے اپنا وہ بات بتا جو تجھے روز پینے پر مجبور کر دیتی ہے میں تیرا دوست، تیرا یار، تیرا بھائی تیری ہیلپ کروں گا۔۔۔ بول دے تجھے کیا پرابلم ہے تجھے کیا چاہیے”
آزھاد گلاس سے منہ سے لگائے وائن پینے میں مگن تھا تب فصیح اس سے پوچھنے لگا مگر آزھاد نے فصیح کی بات سن کر بغیر کچھ بولے گلاس ٹیبل پر رکھا اور اپنا سر صوفے کے پیچھے ٹیک کر آنکھیں بند کرلی
“تو بول نہ تجھے کیا چاہیے میرے دوست”
فصیح خود بھی نشے میں آزھاد کا ہاتھ ہلاتا ہوا دوبارہ اس سے پوچھنے لگا جس پر آزھاد نے نشے سے سرخ آنکھیں کھول کر فصیح کو گھورا اور فصیح کا ہاتھ جھٹکا اپنے لئے دوبارہ ڈرنگ بنانے لگا
“تو اس کو کیا دے سکتا ہے سالے تُو تو خود اپنے باپ کے رحم وکرم پر چل رہا ہے”
مُکرم نشے میں بے ڈھنگے پن سے قہقہہ لگاتا ہوا فصیح کا مذاق اڑانے لگا
“تو چپ کر بے،، اسکی حالت دیکھ ایسے وقت پر دوست کام آتے ہیں۔۔۔ آزھاد مسئلہ بتا یار، بول دے کیا چاہیے تیرے کو”
فصیح نشے میں دھت دوبارہ آزھاد سے پوچھنے لگا
“انتقام۔۔۔۔ انتقام لینا ہے مجھے، بدلہ چاہیے میرے کو۔۔۔ اور کیا چاہیے۔۔۔ کیا چاہیے آزھاد کو”
آزھاد نشے میں فصیح کو دیکھتا ہوا بولا پھر سوچنے لگا
اپنے باپ اور نوین سے اسے انتقام لینا تھا اس کے علاوہ اور کیا چاہیے تھا اس کو۔ ۔۔ نشے سے چور آنکھوں کے سامنے اس کا حسین چہرا نظر آیا
“ہاں۔۔۔۔ ہنی وہ بھی چاہیے آزھاد کو”
آزھاد یاد کرتا ہوا بولا پھر زور سے ہنستا ہوا گلاس میں بچی ہوئی ڈرنگ پینے لگا
“میں تیرا دوست تجھے ہنی لا کر دو گا، تُو فٹافٹ ایڈریس بول۔۔ ایک کال کرنے کی دیر ہے میرے آدمی آج رات کو ہی تیری ہنی اس کے گھر سے اٹھا لائے گے”
فصیح ہوش کھوئے ہوئے پہلے ہی بیٹھا تھا جوش میں آکر آزھاد سے بولا
“فصیح تو دکھنے میں جتنا چیپ ہے اس سے زیادہ چیپ تیری لینگویج ہے۔۔۔ مت منہ کھولا کر یار میرے سامنے،، وہ بھابی ہے تیری آئندہ اس کا نام مت لینا عزت دے اسے،، ورنہ میں تیرے یہ سارے دانت توڑ دو گا۔۔۔ اور ٹوٹے ہوئے دانتوں کے ساتھ تو جتنا واہیات لگے گا ناں۔۔۔ کوئی لڑکی پیسے لے کر بھی تجھے منہ نہیں لگائے گی”
آزھاد نشے کی حالت میں فصیح کو وارن کرتا ہوا بولا۔۔۔ فصیح اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموشی سے سعادت مندی کا مظاہرہ کرتا ہوا پیچھے ہو کر بیٹھ گیا۔۔۔ آزھاد نے اپنے لئے ایک اور پیک بنایا
“آج تم دونوں کو ایک راز کی بات بتاتا ہوں۔۔۔ جب میں نے اسے پہلی دفعہ دیکھا تو وہ پہلے یہاں آئی اور چپک کر رہ گئی”
آزھاد اپنی کنپٹی پر انگلی ما کر، انگلی کو گھماتا ہوا بولا پھر وہ اپنی انگلی دل کی طرف لے آیا
“اس کے بعد یہاں۔۔۔ اور اب وہ مجھے ہر جگہ دکھتی ہے یار وہ دیکھ ابھی بھی سامنے کھڑی ہے”
آزھاد اب سامنے دروازے کی طرف انگلی سے اشارہ کرتا ہوا بولا فصیح اور مُکرم دونوں بے وقوفوں کی طرح دروازے کی طرف حنین کو ڈھونڈنے لگے
“بہت بے بسی محسوس ہو رہی ہے یار مُکرم، تین دن سے میں اسے بہت شدت سے یاد کر رہا ہوں مگر وہ سامنے نہیں آ رہی”
اس وقت وہ بہت زیادہ نشے میں تھا اتنا کہہ چلنے کے لیے قدم بھی اٹھاتا تو لڑکھڑا کر گر پڑتا
“ابے سالے ڈرا کیوں رہا ہے تو،، ابھی تو کہہ رہا تھا کہ وہ دروازے کے پاس کھڑی ہے”
فصیح نشے میں بند ہوتی ہوئی آنکھیں کھول کر آزھاد کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“نہیں سمجھو گے تم دونوں، کوئی بھی نہیں سمجھے گا،، کوئی نہیں سمجھ سکتا”
آزھاد ان دونوں کی طرف دیکھ کر بولا دوبارہ صوفے کے پیچھے سر ٹیک کر اپنی آنکھیں بند کر لی
“میں سمجھ گیا بیٹا تجھے کون سا مرض لاحق ہو گیا ہے۔۔۔ اے فصیح بہت سیریس کنڈیشن ہے اسکی، کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا سالے۔۔۔ یہ دوست ہے اپنا”
مُکرم فصیح کو دیکھتا ہوا بولا پھر اپنے ڈرائیور کو کال کر کے آزھاد کے فلیٹ پر بلایا تاکہ ڈرائیور ان دونوں کو انکے گھر چھوڑ سکے
****
وائٹ کلر کی میکسی جس پر سلور اور گولڈن کلر کا کام ہوا تھا اس پر ریڈ کلر کی لپ اسٹک لگائے وہ بے حد حسین لگ رہی تھی۔۔۔ یہ ڈریس اس نے نوین کے ساتھ جا کر چار دن پہلے خاص آج کے فنکشن کے لیے لیا تھا آج اس نے نوین سے ضد کرکے فرسٹ ٹائم میک اپ بھی کروایا تھا
اس وقت حنین نوین کے دونوں ہی بیوٹی سلون میں موجود تھی۔۔۔ نوین پرپل اور آسمانی کلر کی میکسی میں خود بھی بہت پیاری لگ رہی تھی مگر حنین کو دیکھ کر بے ساختہ اس کا دل چاہا کہ وہ اپنی بہن کی نظر اتارے
“یہ غلط بات ہے چھوٹی، آج کی وی آئی پی گیسٹ میں ہوں مگر مجھے لگتا ہے سب کی نظریں تم پر سے ہٹیں گی تو کوئی مجھے دیکھے گا”
نوین مسکراتی ہوئی اسے پیار سے دیکھتی ہوئی بولی
“سب کے بارے میں تو ایسا نہیں کہہ سکتے البتہ سر کی نظریں صرف آپ پر ہی ٹکی رہے گی اتنا مجھے معلوم ہے”
حنین کی بات سن کر نوین مسکرا دی
“چلو اب باقی کی باتیں کار میں کرلینا ڈرائیور آگیا ہے ہمیں لینے”
نوین مکمل تیار ہوچکی تھی تبھی حنین سے بولی
“ایسے مت بولیں آپی ابھی میرا ہیئر اسٹائل بننا باقی رہ گیا ہے” حنین نوین کو بتانے لگی
“اف ہنی شاہنواز دو بار کال کر چکے ہیں اور ہم آلریڈی لیٹ ہو چکے ہیں وہاں سارے گیسٹ آ چکے ہیں بس ہمارا ہی انتظار ہورہا ہے۔۔۔ ویسے بھی کھلے بال زیادہ سوٹ کریں گے اب چلو بس”
نوین کے پاس شاہ نواز کی دو بار کال چکی تھی اس نے ڈرائیور بھیج دیا تھا تاکہ وہ ان دونوں کو ہوٹل لے آئے جہاں آج بڑے پیمانے پر تقریب ارینج کی گئی تھی
“آپی آج پہلی دفعہ تو آپ نے اتنا تیار ہونے دیا ہے پلیز زیادہ دیر نہیں لگے گی صرف ففٹین منٹ لگے گے”
حنین ضد کرتی ہوئی بولی
“ابھی 20 منٹ کا راستہ بھی طے کرنا ہوگا ہنی،، ٹھیک ہے میں ڈرائیور کے ساتھ جا رہی ہوں، وہ مجھے چھوڑ کر تمہیں دوبارہ لینے آ جائے گا تب تک تم کمپلیٹ تیار ہوچکی ہوگی سیل فون ہے نا تمہارے پاس”
نوین نے خود ہی حل نکالتے ہوئے کہا
وہ حنین کا دل بھی نہیں توڑنا چاہتے تھی کیوکہ حنین کو صبح کی فلائٹ سے پنڈی روانہ ہونا تھا اور آج کی رات صالحہ کے پاس کے اسٹے کرنا تھا مگر نوین کا شاہنواز کے پاس بھی پہنچنا ضروری تھا۔۔۔ اس لیے وہ ڈرائیور کے ساتھ نکل گئی
****
“ایکسکیوزمی حنین آپ کا ہی نام ہے”
ریسیپشن پر بیٹھی ہوئی لڑکی حنین کے پاس آ کر پوچھنے لگی جس پر حنین نے اقرار میں سر ہلایا
“آپ کا ڈرائیور آگیا ہے، وہ آپ کو بلا رہا ہے باہر”
وہ لڑکی حنین کو ڈرائیور کا میسج دینے لگی
حنین نے موبائل میں ٹائم دیکھا ابھی مشکل سے دس منٹ ہی گزرے تھے اور اس کے موبائل پر ڈرائیور کی کوئی کال بھی نہیں آئی تھی وہ کنفیوز ہو کر پارلر سے باہر نکلی سامنے ایک لڑکا کھڑا تھا جو کسی سے موبائل پر بات کر رہا تھا
حنین کو دیکھ کر اس نے ایک نظر دوبارہ اپنے موبائل کی اسکرین پر ڈالی پھر دوبارہ حنین کو غور سے دیکھنے لگا
“چلیے میم آپ کا ویٹ ہو رہا ہے”
وہ لڑکا حنین کے پاس آکر کہنے لگا
“مگر تم کون ہو تم نے تو ہمیں پک نہیں کیا تھا”
حنین کنفیوز ہو کر بولی
“میں انہی کا ڈرائیور ہوں، سر شاہنواز نے ہی مجھے یہاں آپ کو لینے کے لئے بھیجا ہے”
وہ چار قدم کے فاصلے پر کھڑا حنین کو بولنے لگا
“رکو ذرا مجھے بات کرنے دو”
حنین اپنا موبائل کلج سے نکال کر نوین کو کال ملانے لگی۔۔۔ تبھی وہ لڑکا حنین کے قریب آیا
“ہوشیاری دکھائے بغیر خاموشی سے کار میں بیٹھو”
حنین نے اپنا سر نیچے کر کے دیکھا اس لڑکے کے ہاتھ میں پستول تھی جس کا رخ حنین کے پیٹ کی طرف تھا۔۔۔ حنین خوف سے اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔۔۔ ڈرائیور کے چہرے پر بالکل سنجیدگی طاری تھی
پالر کے گیٹ پر گارڈ بھی موجود تھے مگر اتنے قریب پسٹل دیکھ کر حنین کی ہمت نہیں ہوئی وہ پیچھے مڑ کر گارڈز کو دیکھتی یا پھر کوئی بھی آواز نکالتی اس لئے خاموشی سے چلتی ہوئی اس کار کی طرف آئی،، جس کی طرف اس ڈرائیور نے اشارہ کیا تھا ڈرائیور اس کے پیچھے ہی چل رہا تھا
ڈرائیور نے کار کا دروازہ کھولا تو حنین اندر بیٹھ گئی۔۔۔ جیسے ہی ڈرائیور نے کار کا دروازہ بند کیا وہ پھرتی سے دوسرے سائڈ کا دروازہ کھول کر باہر نکلنے لگی مگر دروازہ لاک تھا
“زیادہ چلاک بننے کی ضرورت نہیں ہے خاموشی سے بیٹھی رہو”
وہ لڑکا ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر پیچھے مڑ کر حنین کو آنکھیں دکھاتا ہوا کہنے لگا
“دیکھو تم جتنے پیسوں کے لئے کام کر رہے ہو میں تمہیں اس سے دگنی قیمت دو گی پلیز مجھے جانے دو”
حنین پریشان ہو کر اس لڑکے کو دیکھتی ہوئی بولی
اس لڑکے نے اپنی پاکٹ سے رومال نکالا اور حنین کے ہاتھ پکڑنے سے پہلے اس کی ناک پر رکھ دیا اس کے بعد حنین ہوش و خروش سے بیگانہ ہوگئی
ڈرائیور کے موبائل پر کال آنے لگی جسے اس نے ریسیو کی
“جی سر کام ہوگیا ہے میں میڈم کو لے کر 15 منٹ کے اندر فلیٹ میں پہنچ رہا ہوں”
___________
فلیٹ کے بیسمنٹ میں مسلسل چکر کاٹتا ہوا آزھاد واجد کا انتظار کر رہا تھا واجد نے اسے بتایا کہ وہ حنین کو لے کر پہنچنے والا ہے تب سے آزھاد بیسمنٹ میں چکر کاٹتے ہوئے ہر دو سے تین منٹ بعد ایک نظر کلائی پر بندھی ہوئی ریسٹ واچ پر ڈالتا۔۔۔ واجد کی کار بیسمنٹ کے اندر داخل ہوئی تو آزھاد نے سکون کا سانس لیا
“تم تو پندرہ میں اپنے آنے والے تھے دس منٹ اوپر کیسے لگے”
واجد کار سے نکل کر آزھاد کے پاس آیا تو آزھاد اس سے پوچھنے لگا
“سر مین روڈ پر کافی ٹریفک تھا وہاں سے آنا تھوڑا رسکی تھا اس لیے تھوڑے لونگ روڈ سے آیا ہوں”
واجد آزھاد کو بتا رہا تھا مگر آزھاد کی نظر کار میں بے ہوش بیٹھی حنین پر تھی جس کا سر سیٹ سے نیچے ڈھلک رہا تھا۔۔۔۔ واجد نے آزھاد کی نظروں کا تعاقب کرکے کار کا دروازہ کھولا وہ حنین کو اٹھانے لگا تب آزھاد سخت لہجے میں بولا
“ہاتھ مت لگاؤ اسے واجد”
واجد سیدھا ہو کر آزھاد کو دیکھنے لگا جس کی پیشانی پر ناگوار بل اچانک نمودار ہوئے
“سر میں تو ہیلپ کر رہا تھا”
واجد گلا کھنگار کر اپنی صفائی پیش کرنے لگا
“میں نے تم سے مدد مانگی صرف وہ کام کرو جو بولا جائے”
آزھاد بولتا ہوا کار کے پاس آیا اور بے ہوش پڑے حنین کے وجود کو اپنے بازو میں اٹھاتا ہوا اسے لفٹ تک لایا
فلیٹ کا لاک واجد نے کھولا تھا تو آزھاد حنین کو لے کر اندر داخل ہوا
“جاو واجد باقی کا کام مکمل کرو اور اب کی بار دیر نہیں ہونی چاہیے اور اپنے موبائل سے حنین کی تصویر بھی ڈیلیٹ کرو”
آزھاد واجد کو دیکھتا ہوا آرڈر دینے لگا۔۔۔ واجد یس سر کہہ فلیٹ سے نکل گیا
آزھاد حنین کو بیڈروم میں لاکر بیڈ پر لٹا چکا تھا حنین کا کلچ اپنے پاس رکھ کر وہ باہر کا دروازہ بند کر کے فصیح اور مُکرم کو کال کرتا ہوا دوبارہ بیڈ روم میں آیا۔۔۔
حنین آنکھیں بند کئے بیڈ پر لیٹی ہوئی ابھی بھی بے ہوش تھی مگر ساتھ ساتھ وہ آزھاد کے ہوش بھی اڑا رہی تھی،، آزھاد نے فرسٹ ٹائم اسے اتنا تیار سجا سنورا دیکھا تھا،، بیڈ پر حنین کے پاؤں کے پاس بیٹھ کر وہ حنین کے پاؤں میں موجود سینڈل کے اسٹیپ کھولنے لگا
“دیکھا اپنی ضد کا انجام، یہ ہوتا ہے بات نہ سننے کا نتیجہ۔۔۔ کتنے پیار سے سمجھا رہا تھا بات سن لو میری،،، اب اس طرح کتنا برا محسوس کرو گی ہوش میں آکر، مگر کوئی دوسرا آپشن چھوڑا بھی تو نہیں تمہاری بہن نے،، میرے باپ نے خود تم نے”
آزھاد حنین کے بےحد قریب آ کر اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے باتیں کر رہا تھا۔۔۔ اس کی نظریں کبھی حنین کے ہونٹوں کا فوکس کرتی تو کبھی گردن سے نیچے بھٹک کر خوبصورت ابھار پر ٹھہرتی وہ حنین کا ملائم گال پر اپنی انگلیاں پھیرتا ہوا اس کے ہونٹوں پر جھکنے والا تھا تب ہنی نے آنکھیں کھولیں
آزھاد کو اپنے اتنے قریب اپنے پر جھکا ہوا دیکھ کر وہ اس کے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھکر پوری قوت سے اسے دھکا دیتی ہوئی ایک جھٹکے سے اٹھ کر کھڑی ہوئی
آزھاد کا چہرہ دیکھ کر لمحے بھر لگا تھا حنین کو یہ سمجھنے میں کہ پوری کہانی کیا ہے حنین تیزی سے بیڈ روم کے دروازے کی طرف بھاگی اور زور زور ہینڈل گھما کر دروازہ کھولنے کی کوشش کرنے لگی
“اب یہ دروازہ تب کُھلے گا جب میں چاہوں گا”
آزھاد بیڈ سے اٹھ کر حنین کے پاس آتا ہوا بولا تو حنین مڑ کر آزھاد کو دیکھنے لگی
“تم میرے ساتھ کچھ غلط نہیں کرسکتے آزھاد۔۔۔ پلیز مجھے یہاں سے جانے دو”
حنین چیختی ہوئی بولی تو آزھاد نے حنین کے قریب کر کے اسے بازوں سے پکڑا
“آج میں تمہاری ایک نہیں سنوں گا،، نہ تمہارے یہ آنسو کام آئے گے نہ ہی تمہاری التجائیں کام آئی گی۔۔۔ آج صرف وہی ہوگا جو میں چاہوں گا”
آزھاد اٹل انداز میں بولتا ہوں حنین کو واپس بیڈ کی طرف لایا اور بیڈ پر دھکا دیا حنین بیڈ پر جا گری
****
جب ڈرائیور حنین کو لینے دوبارہ بیوٹی پارلر پہنچا تو معلوم ہوا وہ پانچ منٹ پہلے کسی اور کار میں نکل چکی ہے
ڈرائیور نے یہ خبر موبائل پر شاہنواز کو سنائی۔۔۔ شاہنواز نے فوری طور پر یہ بات نوین کو نہیں بتائی بلکے ڈرائیور کو فوراً آزھاد کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے بھیجا کہ وہ اس وقت کہاں پر موجود ہے کیوکہ آزھاد خود شاہنواز کی کال ریسیو نہیں کر رہا تھا جبکہ دوسری طرف شاہنواز نوین کو مسلسل بہلائے جا رہا تھا کہ حنین ٹریفک میں پھنسی ہوئی ہے تھوڑی دیر میں آجائے گی مگر جب مزید ایک گھنٹہ گزر گیا اور حنین کا کچھ معلوم نہیں ہوا نا ہی ڈرائیور نے واپس آکر کوئی خبر نہیں دی تو شاہنواز بھی پریشان ہوگیا
“شاہنواز ایک گھنٹے سے اوپر ہو چکا ہے حنین کیوں نہیں آئی پلیز معلوم کریں نہ میری بہن کا، اس کا موبائل کب سے آف جا رہا ہے”
نوین اب روتی ہوئی شاہنواز سے بولی
“نوین تم دیکھ تو رہی ہو میں مسلسل ٹرائے کر رہا ہوں پلیز اس طرح اپنے چہرے سے پریشانی شو مت کرو، یہاں پر گیسٹ موجود ہیں اور نہ ہی اپنے دماغ کو دکھاؤ۔۔۔ حنین کا ابھی تھوڑی دیر میں معلوم ہو جائے گا”
شاہنواز نوین کو دلاسہ دیتا ہوا کہنے لگا مگر جیسے ہی اس کی نظر اینٹرنس پر پڑی تو ٹکی کی ٹکی رہ گئی۔۔۔
آزھاد بلیک ڈنر سوٹ میں مبلوس پینٹ کی پاکٹ میں اپنے دونوں ہاتھ ڈالے، چلتا ہوا اسی کی جانب آ رہا تھا اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی چال میں ایک غرور۔۔۔ جسے دیکھ کر شاہنواز کا خون کھولنے لگا شاہنواز کی طرح نوین بھی آزھاد کو ہی دیکھ رہی تھی
“بہت بہت مبارک ہو ڈیڈ زندگی میں ایک اور نیا ہم سفر، میں دعا تو نہیں دے سکتا کہ یہ سفر آگے چل کر آپ کی زندگی کو خوشگوار بنائے مگر تھوڑی سی امید ضرور دلا سکتا ہوں۔۔۔ ویسے آج کے دن اس پر مسرت موقع پر میں بھی آپ دونوں کے لیے ایک پریزنٹ،، سرپرائز گفٹ لایا ہوں امید ہے آپ دونوں کو پسند آئے گا”
آزھاد اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجائے شاہنواز کو دیکھ کر کہہ رہا تھا اور شاہنواز سمیت نوین کی نظریں بھی آزھاد کے پیچھے اس ڈولی پر تھی جسے آزھاد کے آنے کے بعد وہاں لایا گیا تھا۔۔۔ وہ ڈولی ابھی بھی دو لڑکے پکڑے کھڑے تھے
آزھاد شاہنواز سے بولتا ہوا مڑا اور ہاتھ کے اشاروں سے ان لڑکوں کو جانے کے لیے کہا۔۔۔ تقریب میں موجود سب لوگ آہستہ آہستہ وہی ارد گرد جمع ہو چکے تھے
“باہر آو”
آزھاد نے تھوڑا سا جھک کر ڈولی کی طرف اپنا ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا آزھاد کے ہاتھ کو ایک نسوانی ہاتھ نے تھاما
وائٹ کلر کی لونگ میکسی چہرے کو سرخ دوپٹے سے گھونگٹ کی صورت چہرہ چھپائے۔۔۔۔ نوین نے بے ساختہ شاہنواز کا بازو بہت زور سے پکڑا تھا وہ آنکھیں پھاڑ کر یہ خوفناک منظر دیکھ رہی تھی سامنے کوئی اور نہیں تھی یقیناً گھونگٹ میں اس کی بہن تھی۔۔۔۔ آزھاد اب بھی چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ سجائے نازک سا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامے قدم بڑھاتا ہوا شاہنواز کے پاس آیا،، جو بہت مشکلوں سے ضبط کیا ہوا کھڑا تھا
“لیڈیز اینڈ جینٹلمین جیسے کہ آج کی یہ تقریب خاص کر مشہور بزنس مین شاہنواز شاہ نے اپنی دوسری وائف اور دوسری شادی کو متعارف کروانے کے لئے رکھی ہے،،، تو میں آزھاد شاہ اپنے ڈیڈ کی اس تقریب کو چار چاند لگانے اور اس تقریب کی مزید رونق بڑھانے کے لیے ساتھ ہی اپنے نکاح کا بھی اعلان کرتا ہوں۔۔۔ جو کہ یہاں آنے سے تھوڑی دیر پہلے انجام دیا جاچکا ہے”
آزھاد نے باآواز آعلانیہ انداز میں سب کو دیکھتے ہوئے کہا اور آخر میں شاہنواز اور نوین کو دیکھا جیسے وہ اپنے کارنامے کی ان سے داد وصول کرنا چاہ رہا ہو۔۔۔ آزھاد کی اس خبر پر جہاں شاہنواز مشکل سے اپنے غصہ کو ضبط کر کے رہ گیا وہی نوین کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا
“کیا ہوا بھئی آپ سب لوگوں کو سانپ کیوں سونگ گیا میں زور دار تالیوں کی آواز میں اپنی زوجہ کا گھونگھٹ اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہوں” آزھاد کے بولنے پر مختلف قہقہوں کے ساتھ تالیاں کی آوازیں گونج اٹھی۔۔۔ آزھاد نے مسکرا کر نوین کے خوف سے سفید پڑتے چہرے پر جبکہ شاہنواز کہ غصے اور ضبط کی مانند سرخ پڑتے چہرے پر نظر ڈالی اور مڑ کر وہ گھونگھٹ اٹھانے لگا
“اپنا چہرہ تو اوپر کرو ڈارلنگ”
گھونگھٹ اٹھانے کے بعد وہ حنین کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ کر آہستہ سے کہتا ہوا حنین کی ٹھوڑی کے نیچے اپنی انگلی ٹکا کر خود اس کا چہرہ اوپر کرنے لگا
حنین نے اپنا سر اٹھایا،، کافی زیادہ رونے کے باعث اس کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھی،، نوین جوکہ اندیشوں میں گھری ہونے کے باوجود کتنی دعا کر رہی تھی یہ صرف آزھاد کا گھٹیا مذاق ہو،، گھونگھٹ میں اس کی بہن ہرگز نہ ہو حنین کو دیکھ کر شاید وہ صدمے سے نیچے گر جاتی اگر بروقت اسے شاہنواز نہ تھامتا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *