Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode25

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode25

جی فرمائیے کس سلسلے میں ملنا ہے آپ کو”
ڈاکٹر شہلا نے اپنے سامنے بیٹھے نوجوان سے پوچھا جوکہ اپنے موبائل میں مصروف تھا
“میری گرل فرینڈ کی پریگنینسی کو فور منتھس ہوگئے ہیں کوئی بھی ڈاکٹر اسکے ابورشن کے لئے ریڈی نہیں سب کا کہنا ہے کہ کافی رسک ہے میں چاہتا ہوں آپ میری ہیلپ کریں”
سامنے بیٹھے نوجوان نے موبائل سے اپنی نظر ہٹا کر بغیر جھجھکے اپنا مسئلہ ڈاکٹر شہلا کو بتایا اور ڈاکٹر شہلا سے ان کی مدد چاہی
“دیکھیے مسٹر سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ اپنی وائف کے متعلق نہیں گرل فرینڈ کے متعلق بات کر رہے ہیں۔۔۔ ہم ایسے کیسس میں ہاتھ نہیں ڈالتے اس طرح ہاسپٹل کی ریپوٹیشن خراب ہوتی ہے اور دوسری اہم بات فور منتھ پریگنینسی اس ناٹ آرلی اسٹیج۔ ۔۔ یہ واقعی رسکی ہے میں اس سلسلے میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتی”
ڈاکٹر شہلا نے اپنے سامنے بیٹھے اس نوجوان کو دیکھتے ہوئے جواب دیا جس کے برانڈ کپڑوں اور ہاتھ میں پکڑے مہنگے موبائل سے اس کی مالی حیثیت کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔۔۔
ڈاکٹر شہلا کی بات سن کر اس نوجوان نے اپنی پوکیٹ سے نوٹوں کا ایک موٹا بنڈل نکال کر ٹیبل پر رکھا۔۔۔ ڈاکٹر شہلا نے ایک نظر ٹیبل پر پڑے 5000 کے نوٹوں کے بنڈل کو دیکھا اور پھر اس نوجوان کو جو اب ڈاکٹر شہلا کی طرف دیکھ رہا تھا
“آپ کیا سمجھ رہی ہیں میں ان پیسوں کی لالچ میں آکر اپنے پروفیشن سے بے ایمانی کروں گی” وہ اماؤنٹ کافی زیادہ تھی مگر شہلا کو یہ سب بولنا پڑا۔۔۔ اس نوجوان نے دوبارہ ایک اور ایسا ہی بنڈل نکال کر ٹیبل پر رکھا
“بے ایمانی کیسی ڈاکٹر، یہ تو ایڈوانس پیمنٹ ہے بس میں چاہتا ہوں کے آپ میری ہیلپ کریں اور میری گرل فرینڈ اور مجھے اس پریشانی سے نجات دلائیں”
اب کی بار وہ نوجوان پیسوں کے ساتھ ساتھ خود بھی انسسٹ کرنے لگا
“دیکھیں آپ سمجھنے کی کوشش کریں یہ واقعی رسکی ہے”
ڈاکٹر شہلا نے ٹیبل پر پڑے پیسوں کو دیکھتے ہوئے ایک بار پھر اس نوجوان کو سمجھانا چاہا
“آپ اس کی ٹینشن مت لیں، چاہے تو آپ ابھی مجھ سے کسی بھی پیپرز پر سائن لے سکتی ہیں میں ریڈی ہو” نوجوان اب پیسوں کا بنڈل ڈاکٹر شہلا کی طرف سرکاتا ہوا بولا
“ٹھیک ہے پھر کل آپ میرے پاس پیشنٹ کو لے آئیے گا۔۔۔۔ باقی کی اماؤنٹ میں کیس کرنے کے بعد اسی طرح کیش کی صورت۔۔۔”
ڈاکٹر شہلا نوٹوں کے بنڈل کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہنے لگی تو آزھاد اپنے موبائل سے ویڈیو بنائی گئی ویڈیو چیک کرنے لگا۔۔۔۔ آزھاد کے نوبائل ست اپنی آواز سن کر ڈاکٹر شہلا کے ہاتھ سے رقم ٹیبل پر گری وہ غصے میں گھور کر آزھاد کو دیکھنے لگی
“رزلٹ کافی اچھا ہے اس کیمرے کا دیکھیں کتنی پیاری لگ رہی ہیں آپ اس طرح ٹیبل سے پیسے اٹھاتے وقت”
آزھاد موبائل کی اسکرین رخ ڈاکٹر شہلہ کی طرف کرتا ہوا مسکرا کر بولا
“کس نیوز چینل کی رپورٹنگ کر رہے ہو تھے تم”
ڈاکٹر شہلا غصے میں آزھاد کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
“کیوں اب آپ اُلٹا مجھے پیسے دیں گیں۔۔۔ گھبرائیے نہیں میں کسی نیوز چائنل کا نمائندہ نہیں ہوں”
آزھاد مسکرا کر نوٹوں کا بنڈل واپس اپنی پاکٹ میں رکھتا ہوا بولا
“میں تمہاری ہیلپ کر رہی تھی اور تم۔۔۔ کیا چاہتے ہو مجھ سے”
ڈاکٹر شہلا کو اس نوجوان پر کافی غصہ آ رہا تھا
“یہ اچھی بات ہے کہ انسان فوراً کام کی بات پر آجائے”
اب آزھار اپنا موبائل بھی پاکٹ میں رکھتا ہوا بولا
“تو ڈاکٹر شہلہ مجھے تمہاری مدد نہیں گواہی چاہیے جو کہ اگر تم نے نہیں دی تو یہ ویڈیو ایک چینل پر نہیں ہر نیوز چینل پر چلے گی۔۔۔ پھر واقعی تمہارے اس ہوسپٹل کے ساتھ ساتھ تمہاری ریپوٹیشن کو بھی مٹی میں ملنے سے کوئی نہیں روک سکتا”
آزھاد بالکل نارمل طریقے سے اپنا کام نہ کرنے کی صورت ڈاکٹر شہلا کو بھیانک نتائج سے آگاہ کرنے لگا
_____________
“کیسا لگا کومی بےبی کو عباس کا گھر”
عباس کا گھر مکمل ہوچکا تھا آج صبح وہ آزھاد کو کال پر بتا کر کومل کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے آیا تھا
“بہت پیارا ہے یہ، اب عباس اور کومی بےبی اس گھر میں رہے گے بہت مزہ آئے گا”
کومل تالیاں بجاتی ہوئی خوش ہو کر بولی
“نہیں اس گھر میں صرف عباس رہے گا کومی بےبی اپنے گھر میں رہے گی اپنی مما ڈیڈ اور بھائی کے ساتھ”
عباس اسے آرام سے سمجھانے لگا جس سے کومل کے چہرے پر مسکراہٹ غائب ہوگئی
“کومی بےبی تو تمہاری فرینڈ ہے نہ تم کومی بےبی کو اپنے ساتھ نہیں رکھو گے اپنے گھر میں”
کومل ناراض ہوتی ہوئی اب اسے پوچھنے لگی
“فرینڈز ایک ساتھ ایک گھر میں نہیں رہتے، ایک ساتھ ایک گھر میں رہنے کے لئے فرینڈز کو ہسبینڈ اور وائف بننا پڑتا ہے اور کل جب کومی بےبی ٹھیک ہو جائے گی تب شاید عباس کومی بےبی کا دوست بھی نہ رہے۔۔۔ کومی بےبی اس سے ڈرنے لگے اس سے نفرت کرنے لگے”
عباس غور سے کومل کا چہرہ دیکھتا ہوا اسے کہنے لگا
“کتنی مشکل باتیں کر رہے ہو تم کومی بےبی سے،، چھوٹا بےبی ایسی باتیں نہیں سمجھتا”
کومل معصومیت سے عباس کو سمجھانے لگی
“چھوٹا بےبی کارٹون دیکھے گا عباس کے ساتھ”
عباس کومل کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا جس پر کومل نے سعادت مندی سے اقرار میں گردن ہلائی
عباس اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ایک کمرے میں لے آیا
جہاں فرنیچر کے نام پر صرف ایک صوفہ موجود تھا کومل کو صوفے پر بٹھاتا ہوا وہ کمرے کا دروازہ بند کرنے لگا اور اپنا موبائل نکال کر ایک ویڈیو لگائی موبائل کومل کے ہاتھ میں پکڑا دیا تو وہ ویڈیو کو غور سے دیکھنے لگی
وہ کوئی کارٹون کی ویڈیو ہرگز نہیں تھی بلکہ کسی مووی کا کلپ تھا اس ویڈیو میں ایک لڑکی اور دو لڑکے موجود تھے وہ تینوں باتیں کر رہے تھے کومل غور سے ویڈیو دیکھنے لگی اور عباس کومل کو دیکھنے لگا
اچانک کومل کے چہرے کے تاثرات تبدیل ہونے لگے کیونکہ وہ لڑکے اس لڑکی کو پکڑ کر زبردستی بیڈ پر لٹا رہے تھے کومل کی آنکھوں کی پتلیاں ایک جگہ ٹھہر گئی ماتھے پر پسینے آنے لگے اور نچلہ لب لرزنے لگا
“کیا اس کے ساتھ بھی اسی طرح ہوا تھا کومل”
عباس جُھک کر کومل کے کان میں پوچھنے لگا۔ ۔۔
کومل نے اسے دیکھ کر موبائل دور پھینکا کیوکہ ویڈیو میں اس لڑکی کی شرٹ پھاڑی جا رہی تھی۔۔۔ کومل نے اپنے دونوں ہاتھ کراس بنا کر سینے پر رکھے اب وہ دونوں پاؤں اوپر کرکے صوفے پر بیٹھ گئی اس کے چہرے پر ابھی بھی خوف طاری تھا جیسے اسے کچھ یاد آرہا تھا
“بتاؤ کومل وہاں اور کیا دیکھا تم نے”
عباس نے ڈری سہمی کومل کا کندھا پکڑا تو وہ فوراً صوفے سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی
“نہیں اسے چھوڑ دو تم اس کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو،، تم تو مجھ سے۔۔۔”
وہ خوفزدہ نظروں سے عباس کو دیکھتی ہوئی بولی
عباس صوفے سے اٹھ کر کومل کے قریب آیا اور کومل کو دوبارہ صوفے پر دھکا دیا،، کومل نے جلدی سے اٹھنے کی کوشش کی تاکہ وہ یہاں سے فرار ہوسکے مگر عباس نے کومل کے دونوں پاؤں کھینچ کر اسے دوبارہ لٹا دیا
“اسی طرح پاؤں پکڑے تھے ناں ان میں سے ایک نے”
بولتے ہوئے عباس کے چہرے پر عجیب اذیت کے آثار نمایاں تھے
“اُسید نہیں اسکو چھوڑ دو پلیز اس کو چھوڑ دو”
کومل روتی ہوئی زور زور سے چیخنے لگی
عباس اس کے اوپر جھکنے لگا تو وہ پوری قوت سے اسے دھوکہ دیتی ہوئی بھاگنے لگی مگر روم کا دروازہ لاک تھا عباس کومل کے قریب پہنچا وہ عباس کو خوفزدہ نظروں سے دیکھ رہی تھی عباس نے جیسے ہی کومل کا ہاتھ اپنی طرف کھینچا کومل اس کی باہوں میں جھول گئی
****
“اچھا ہوا تم اپنے روم سے نکل کر آج خود کھانے کی ٹیبل پر آگئی”
وجیہہ نے نوین کو دیکھ کر کہا تو نوین ہلکا سا مسکرا دی اس وقت کھانے کی میز پر وجیہہ کے علاوہ شاہنواز اور حنین بھی موجود تھے
“کمرے میں اکیلے لیٹ کر دل مزید افسردہ ہو رہا تھا اس لئے سوچا سب کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا لیا جائے” نوین کرسی پر بیٹھتی ہوئی بولی اس کے طنز پر شاہنواز اور حنین دونوں نے اسے دیکھا
کیونکہ جو شرط نوین نے حنین کے سامنے رکھی تھی وہ حنین کے لیے کسی امتحان سے کم نہیں تھی کل نوین کے کمرے سے جانے کے بعد وہ دوبارہ اس کے کمرے میں نہیں آئی تھی
جبکہ شاہنواز نوین کی بات پر اسے دیکھتا رہ گیا ایسے موقع پر جب اس نے اپنا بچہ کھویا تھا، شاہنواز تو اس کے ساتھ رہنا چاہتا تھا مگر نوین نے ہی اسے وجیہہ کے پاس بھیجا وہ خود اپنی بہن کے پاس سونا چاہتی تھی تو پھر اسے یو نوین کا طنز کرنا سمجھ میں نہیں آیا
“بہت اچھے کیا جو ایسا سوچا اب بتاؤ کیا کھاؤ گی ایسا کرو یہ ویجیٹیبل سوپ لے لو۔۔ حنین بیٹا بہن کو سوپ نکال کر دو”
وجیہہ پرسوں سے ہی نوین کے کھانے پینے کا اچھی طرح خیال رکھ رہی تھی وجہ شاید یہی تھی کہ نوین کا آزھاد کی وجہ سے نقصان ہوا تھا وہ اس نقصان کی تلافی اس کا خیال رکھ کر کر رہی تھی
“کومل نے کھانا کھا لیا وہ کہاں پر ہے”
جب سے شاہنواز آفس سے آیا تھا اسے کومل نظر نہیں آئی تھی اس لیے وہ وجیہہ سے پوچھنے لگا
“عباس اسے اپنے ساتھ لے کر گیا تھا، آنے ہی والے ہوگیں وہ دونوں”
وجیہہ کھانا کھاتے کے ساتھ شاہ نواز کو بتانے لگی
“وجیہہ میں نے آپکو پہلے بھی کہا تھا مجھے کومل کا یوں اسطرح اس لڑکے کے ساتھ باہر جانا پسند نہیں،، کومل نے جانے کی ضد کی تھی، گھر میں اور کوئی اسے ٹائم نہیں دیتا، وہ لڑکا شریف ہے یا کومل اس سے اٹیچ ہوگئی ہے پلیز یہ سب باتیں مجھ سے مت کریے گا اور آئندہ اس بات کا خیال رکھیے گا”
شاہنواز کا موڈ خراب ہوچکا تھا مگر وہ آرام سے وجیہہ کو اپنی بات سمجھانے لگا
“اوکے ڈنر کے بعد میں عباس کو کال کر کے کہہ دیتی ہو وہ کومل کو گھر لے آئے”
وجیہہ شاہنواز کے تاثرات دیکھر بولی اب سب ہی خاموشی سے کھانا کھا رہے تھے
“بڑی خاموشی سے کھانا کھایا جا رہا ہے،، نحوست کے بادل ابھی تک چھٹے نہیں اس گھر سے” سب خاموشی سے ڈنر کر رہے تھے تب آزھاد گھر میں داخل ہوا اور نوین کی طرف دیکھتا ہوا بولا
سب نے نظر اٹھا کر آزھاد کو دیکھا وہ چہرے پر مسکراہٹ لائے گھر کے ایک ایک فرد کو دیکھ رہا تھا آج وہ دو دن بعد گھر کے اندر آیا تھا
“کھانا خاموشی سے ہی کھایا جاتا ہے آزھاد اگر تم نے بھی ڈنر کرنا ہے تو چیئر پر آکر بیٹھ جاو اور خاموشی سے ڈنر کرو”
وجیہہ آزھاد کو دیکھتی ہوئی نرمی سے بولی
“ڈنر تو بس اب مجھے ہی کرنا ہے بھوک بہت لگی ہے مگر اس طرح روکھے پھیکے انداز میں ڈنر کرنے کا مزا نہیں آئے گا۔۔۔۔ چلیں آج ڈنر کے ساتھ ساتھ ایک ڈراما بھی دیکھتے ہیں۔۔۔ یقیناً آپ سب لوگ بہت زیادہ انجوائے کریں گے”
آزھاد ہال میں موجود بڑے سائز کی ایل۔ای۔ڈی کے پاس جاکر اپنی پاکٹ سے یو۔ایس۔بی نکال کر ایل۔ای۔ڈی میں لگاتا ہوا بولا اور ٹیبل پر بالکل نوین کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا
“کیا کوئی مجھے فرائیڈ شریمپ (Fried shrimp) اٹھا کر دے سکتا ہے”
آزھاد کے بولنے پر حنین نے اس کو دیکھا اتفاق سے فرائیڈ شریمپ پلیٹ میں اسی کے پاس رکھے تھے۔ ۔۔ آزھاد کو پلیٹ پکڑاتے ہوئے اس کی انگلیوں نے حنین کے نازک ہاتھوں کو چھوا تھا۔۔۔ وہ غور سے حنین کے تاثرات دیکھ رہا تھا مگر حنین سب ہی کی طرح تجسس کے تحت ایل۔ای۔ڈی پر نظر جمائے اسکرین کو دیکھنے لگی
“شہلا میں چاہتی ہوں تم ایک فیک رپورٹ بناؤ میرے لیے جس میں ڈیڑھ یا دو منتھ پریگنینسی شو کردو۔۔۔ شاہنواز اس رپورٹ کو دیکھ کر ہمارے خوفیہ نکاح کا راز کھول سکتے ہیں ورنہ جہاں ایک سال گزر گیا ہے مجھے لگ رہا ہے چند سال اور گزر جائے گے،، میں ان سے فورس نہیں کرسکتی کہ سب کو ہمارے نکاح بتائے مگر یہ رپورٹ دیکھ کر وہ خود کوئی اسٹیپ لینگے جو میرے لیے فائدے مند ہوگا اور یقیناً جب اس کا مجھے فائدہ ہوگا تو تمہیں بھی فائدہ پہنچے گا کیونکہ تم میری فرینڈ ہو میرے مشکل میں کام آنے والی۔۔۔ یہ پیمنٹ میں تمہیں صرف رپورٹ بنانے کی دے رہی ہوں اور اس ڈرامے کو جب بھی ختم کرنا ہوگا تب میں تمھارے پاس دوبارہ آؤں گی”
ایل۔ای۔ڈی کی بڑی اسکرین پر جو ویڈیو چل رہی تھی ٹیبل پر بیٹھے ہوئے تمام افراد کی آنکھوں میں ویڈیو کو دیکھ کر بے یقینی اور حیرت موجود تھی جبکہ نوین اپنی آنکھوں میں خوف سمائے اسکرین پر نظریں جمائے ہوئی تھی
صرف ایک آزھاد ہی تھا جو مزے سے ڈنر کو انجوائے کر رہا تھا اور کھانے سے بھرپور طریقے سے انصاف کر رہا تھا
کل ڈاکٹر شہلا نے اس شرط پر اسے یہ ویڈیو دی تھی کہ آزھاد اپنے پاس سے اس کے سامنے وہ ویڈیو ڈیلیٹ کرے جو آزھاد نے اس کی بنائی تھی۔ ۔۔ ڈاکٹر شہلا کے خود اپنے کرتوت ٹھیک نہیں تھے مگر وہ ہر دوسرے بندے کے کارنامے، جو اس کے پاس دو نمبر کام سے آتا تھا۔۔۔ اپنے کمرے میں لگے کیمرے میں اپنے پاس حفاظت سے رکھتی
نوین نے آنکھوں میں غضب ناک تاثرات سمائے آزھاد کو دیکھا اب آزھاد کھانا کھاتے ہوئے نظر اٹھا کر اسی کو دیکھ رہا تھا جیسے وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں باور کرا رہا ہوں یہ تھا اس سے ٹکر لینے کا انجام
شاہنواز نے نوین کی طرف دیکھا، کیا کیا نہیں تھا شاہنواز کی آنکھوں میں غصہ، شکایت، کرچی کرچی ہوتا اعتبار۔۔۔ نوین اس سے نظریں چرا گئی شاہنواز ٹیبل سے اٹھ کر روم میں چلا گیا
نوین کی نظر اب حنین پر پڑی وہ آنکھوں میں ملامت اور دکھ لیے اپنی بہن کو دیکھ رہی تھی نوین کو اس سے بھی نظریں چرانی پڑی، حنین آنکھوں میں آئی نمی صاف کرتی ہوئی ٹیبل سے اٹھ کر اپنے روم کی طرف چلی گئی تو آزھاد مسکراتا ہوا سر نفی میں ہلا کر سوفٹ ڈرنک پینے لگا
نوین نے اب کی بار وجیہہ کو دیکھا تھا اس کی آنکھوں میں صرف اور صرف نوین کے لئے ناگواری تھی۔۔۔ آج وجیہہ کو اس کے لیے اپنی رائے بدلنی پڑی وہ اسے ایک سلجھی ہوئی اور محبت کرنے والی لڑکی لگتی تھی مگر وہ ایک جھوٹی اور ڈرامے باز لڑکی تھی جو اسی کے بیٹے کو سب کی نظروں میں برا بنانے چلی تھی۔۔۔ وجیہہ نوین کو جس انداز میں دیکھ رہی تھی نوین کی بے ساختہ شرمندگی سے نظریں جھک گئی۔۔ وجیہہ کو بھی اب وہاں رکنا بےمقصد لگا اس لیے وہ بھی ویل چیئر چلاتی اپنے کمرے میں چلی گئی
نوین دوبارہ نظر اٹھا کر اپنے سامنے بیٹھے آزھاد کو دیکھا اب اس کی آنکھیں غصے اور ضبط سے سرخ ہو رہی تھی وہ دوبارہ قہر برساتی نظروں سے آزھاد کو دیکھ رہی تھی
“کیسا فیل ہو رہا ہے یقیناً تمہیں رونا آرہا ہے”
آزھاد سنجیدگی سے نوین کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا۔۔۔ نوین نے آزھاد کو دیکھا آزھاد کی آنکھیں صاف اس کا مذاق اڑا رہی تھی
“یہ تم نے میرے ساتھ نہیں اپنے ساتھ بہت برا کیا ہے آزھاد، میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں” نوین دانت پیستی ہوئی آزھاد سے بولی باوجود ضبط کے اس کی آنکھوں نم ہونے لگی
“ارے تم تو واقعی رونے لگ گئی”
آزھاد اس کا مذاق اڑاتا ہوا اب کی بار ہنسا
“آج تک تم نے ڈیڈ کو ایک لونگ اور کئیرنگ ہسبنڈ کے روپ میں دیکھا ہوگا۔۔۔ آج تم مسٹر شاہنواز کا ایک الگ روپ دیکھو گی۔۔۔ دل کو تھوڑا زیادہ مضبوط کرکے اپنے کمرے میں جانا ہوگا تمہیں”
آزھاد کو چار دن پہلے اپنے منہ پر پڑنے والا شاہنواز کا وہ تھپڑ یاد آیا۔۔۔ جو شاہنواز نے اس کو نشے کی حالت میں مارا تھا۔۔۔ وہ تھپڑ یاد کرکے آزھاد کو ایک بار پھر ہنسی آنے لگی۔۔۔ اس لیے وہ نوین کو مشورہ دیتا ہوا بولا
“دل کو تو اب تمہیں بھی مضبوط کرنا ہوگا۔۔۔ جو آج تم نے میرے ساتھ کیا ہے،، میں خاموش ہرگز نہیں بیٹھوں گی”
نوین کا اپنے سامنے بیٹھے اس شخص کو دیکھ کر خون کھولنے لگا تھا
“خاموش تو اب میں بھی نہیں بیٹھوں گا۔۔۔ بہت دن عیش کرلی تمہاری بہن نے،، اور بہت ڈرامہ دیکھ لیا سب نے تمہاری جھوٹی پریگنیسی کا۔۔۔ اب میں تمہیں بناؤ گا سچی مچ کی خالہ۔۔۔ مطلب اپنے بچوں کی خالہ”
وہ نوین کو آنکھ مار کے کمینگی سے مسکراتا ہوا بولا اسکی اس مسکراہٹ پر نوین کھول کر رہ گئی
“دیکھو نوین انسان کو ایک حد تک زلالت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔۔۔ مگر کیا ہے نہ تمہارا قصور نہیں ہے تم اپنی عادت سے مجبور ہو۔۔ ۔ جو تم سے پیار کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں مطلب میرے ڈیڈ اور تمہاری بہن،، وہ اب تک تمہاری نیچر نہیں سمجھے ہیں جبکہ میں تمہاری رگ رگ سے واقف ہوگیا ہو۔۔۔ اگر تم اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئی اور تم نے دوبارہ اپنی اوقات دکھائی۔۔۔ تو میری یہ بات ذہن نشین کرلو۔۔۔ ابھی میں نے صرف تمہارا اصلی چہرہ ڈیڈ اور ہنی کو دکھایا ہے مگر اب کی بار تمہاری کوئی بھی اونچی حرکت پر میں تمہیں نہ صرف اس گھر سے بلکہ ڈیڈ اور ہنی کی زندگی سے نکال دور پھینکوں گا۔۔۔ اب دفع ہو جاؤ میری نظروں کے سامنے سے”
آزھاد نے حقارت بھری نظر اس پر ڈالی اور لائٹر سے سگریٹ جلاتا ہوا اسموکنگ کرنے لگا تب اسکے موبائل پر عباس کی کال آنے لگی۔ ۔۔ وہ آج اسکی اجازت سے کومل کو اپنے ساتھ لے کر گیا تھا
نوین آزھاد کی بات سن کر واقعی وہاں سے چلی گئی تھی اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ حنین اور شاہنواز کا کیسے سامنا کرے گی
****
“عباس کیا ہوا ہے کومل کو، میں نے اسے تمہارے ساتھ اس لیے بھیجا تھا کہ تم اس کی حفاظت کرسکتے ہو” آزھاد عباس کی کال سن کر فوراً ہسپتال آیا، کوریڈور میں ہی اسے عباس مل گیا آزھاد پریشان ہوتا ہوا بولا
“آزھاد جب کومل میری ساتھ میرے گھر سے آئی تھی تب تک وہ بالکل نارمل تھی پھر اچانک نجانے اسے کیا ہوا وہ مجھے پہچاننے سے انکار کرنے لگی اور مجھے اُسید کہہ کر پکارنے لگی اور چلاتی ہوئی بےہوش ہوگئی۔۔۔۔ میں اسے گھر لانے کی بجائے یہاں اسپتال لے آیا”
عباس آزھاد کو بتانے لگا تو آزھاد کے چہرے پر فکرمندی کے آثار اور بھی زیادہ نمایاں ہوگئے وہ عباس کی بات سن کر کومل کے پاس ہسپتال کے روم میں آگیا
“بھائی”
کومل جو خوف سے ڈری سہمی بیڈ پر بیٹھی تھی روم میں آزھاد کو آتا دیکھ کر آزھاد کی طرف لپکی
“کومل میری جان کیا ہوا،، پریشان مت ہوں میں آگیا ہوں”
آزھار ڈری سہمی اپنی بہن کو گلے لگاتا ہوا پیار سے کہنے لگا
“بھائی مجھے یہاں کیوں لایا گیا ہے مجھے کیا ہوا ہے میں تو بالکل ٹھیک ہو ناں۔۔۔ ۔ مما ڈیڈ کہاں پر ہیں، وہ میرے پاس کیوں نہیں ہیں ان دونوں کو بلائے بھائی”
کومل گھبراتی ہوئی آزھاد کو بول رہی تھی اور آزھاد اس کے انداز پر چونکا وہ بالکل نارمل لڑکی کی طرح بات کر رہی تھی نہ کہ کسی بچی کی طرح۔۔۔۔ وہ آزھاد کو کومی بےبی نہیں بلکہ اپنی بہن کومل لگی
“پریشان کیوں ہو رہی ہو مما ڈیڈ گھر پر موجود ہیں،، ہم تھوڑی دیر میں گھر چلتے ہیں بالکل ریلکس ہو جاؤ میں ہوں نا یہاں پر تمہارے پاس”
آزھاد کومل کو بولتا ہوں بیڈ پر بٹھانے لگا
“آپ تو یہاں پر موجود نہیں تھے ناں آپ واپس پاکستان کب آئے۔۔۔ بھائی دیا تو ٹھیک ہے ناں وہ ٹھیک کیسے ہو سکتی اس کے ساتھ تو اُسید نے۔۔۔”
کومل بولتی ہوئی آنکھیں بند کر کے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھامنے لگی
“کومل یہاں دیکھو میری طرف سب ٹھیک ہے تم پلیز دماغ پر زور مت ڈالو اپنے مائیڈ کو ریلیکس رکھو”
آزھاد کومل کا چہرہ تھام کر اسے سمجھانے لگا مگر وہ آزھاد کی بات سن کر وہ غشی میں چلی گئی
****
نوین بہت مشکلوں سے ہمت جمع کرکے اپنے کمرے میں گئی سامنے راکنگ چئیر پر چہرے پر حددرجہ سنجیدگی لائے شاہنواز بیٹھا ہوا تھا
آج آزھاد نے اس کی پوزیشن سب کے سامنے ہی بہت اکورڈ کر دی تھی۔۔۔ اب اسے اپنے آپ کو کلیئر کرنا تھا نوین چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی شاہنواز کے پاس پہنچی
“شاہنواز ایم سوری آج میری وجہ سے آپ کا بہت دل دکھا”
نوین سر جھکا کر شاہنواز سے کہنے لگی تو شاہنواز چیئر سے اٹھ کر کھڑا ہوا۔۔۔۔ نوین سر اٹھا کر شاہنواز کو دیکھا ہی تھا کہ شاہنواز زوردار تھپڑ نوین کے گال پڑ جڑ دیا
“صرف دل دکھایا ہے تم نے میرا، آج تم نے میرا اعتبار توڑا ہے مجھے سب کے سامنے شرمندہ کیا ہے۔۔۔ اتنا بڑا جھوٹ بولا تم نے مجھ سے،، بےوقوف بنایا مجھے،، اتنا بڑا دھوکا دیا تم نے مجھے۔۔۔ میرا دل تو چاہ رہا ہے اس وقت۔۔۔”
اب کی بار شاہنواز نے اپنا ہاتھ دوبارہ فضا میں بلند کیا تو نوین نے ایک دم اپنا چہرہ پیچھے کر لیا۔۔۔ شاہنواز غصے میں نوین کو دیکھنے لگا اور اپنا ہاتھ نیچے کیا اب وہ غصے مہں نوین کو گھور رہا تھا
“میرا مقصد صرف ہمارے نکاح کو سب کے سامنے لانا تھا شاہنواز اور کچھ بھی نہیں آپ قسم لے لیں”
نوین دوبارہ سرجھکا کر شاہنواز سے بولی۔۔۔ پڑنے والے تھپڑ کی شدت سے اس کا گال ابھی بھی جل رہا تھا
“ناجائز تعلق رکھ تھا میں نے تمہارے ساتھ یا تم سے افیئر چلایا تھا نکاح کیا تھا میں نے۔۔۔ اور اس نکاح کو فوری طور پر تم بھی سب کے سامنے نہیں لانا چاہتی تھی”
شاہنواز غصے میں غراتا ہوا نوین سے بولا
“مجھے معاف کر دیں شاہنواز پلیز مجھ سے ناراض مت ہوئیے گا”
نوین نے روتے ہوئے شاہنواز سے معافی مانگی اور اس کے گلے لگنا چاہا مگر شاہنواز نے اس کا بازو پکڑ کر اسے دھکا دیا جس سے وہ صوفے پر جا گری
“آزھاد کے ساتھ کیا گیم کھیلنا چاہ رہی تھی تم،، نوین اگر میں نے تمہیں اپنی بیوی بنایا ہے۔۔۔ تو یہ ہرگز مت بھولو کے آزھاد میرا بیٹا ہے میرا خون،، اتنی سطحی سوچ رکھتی ہو تم میری اولاد کے لیے۔۔۔ آئندہ اگر آزھاد کے خلاف تمہارے دماغ میں کچھ بھی پلا تو میں تمہیں کھڑے کھڑے فارغ کر دوں گا”
شاہنواز غصے میں نوین کو بولتا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا۔۔۔ اور نوین اپنے گال پر ہاتھ رکھے اپنے آنسوؤں کو ضبط کرنے کی کوشش کرنے لگی.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *