Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel NovelR50794 Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode34

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode34

Shaam E Inteqam by Zeenia Sharjeel Episode34

آزھاد کومل کو عباس کے گھر سے واپس لے آیا۔۔۔ ڈرائیونگ کے دوران ان دونوں کی آپس میں عباس والے موضوع پر کوئی بات نہیں ہوئی۔۔ مگر آزھاد کے عباس بات کرنے پر کومل مطمئن تھی۔۔۔ کھانے خاموشی سے کھایا گیا کھانے کے بعد وجیہہ نے آزھاد کو اپنے کمرے میں بلایا جبکہ حنین آزھاد کے بیڈروم میں آ کر لیٹ گئی
ایک گھنٹے بعد جب آزھاد بیڈروم میں آیا تو حنین کو دوسری کروٹ لئے بیڈ پر لیٹا دیکھا وہ روم کا دروازہ لاک کرکے حنین کے پاس بیڈ پر آکر بیٹھا جھگ کر حنین کے کندھے پر اپنے ہونٹ رکھتا ہوا اس کا رخ اپنی طرف کیا حنین سیدھی ہو کر لیٹی آزھاد کو دیکھنے لگی آزھاد تکیہ پر اپنی کہنی ٹکائے اسے دیکھتے ہوئے اس کا گال اپنی انگلیوں کے پوروں سے چھونے لگا
“کیا کہہ رہی تھی آنٹی تم سے”
حنین بڑی سنجیدگی سے آزھاد کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی تو آزھاد کے چہرے پر مسکراہٹ آئی
“اپنے بیٹے کو کمرے میں بُلاکر اس کی بیوی کی برائیاں کررہی تھیں”
آزھاد کی بات سن کر حنین نے اسے اسمائل دی
“مجھے ان پر پورا یقین ہے وہ ایسا کبھی بھی نہیں کرسکتی”
حنین کی بات سن کر آزھاد مسکرانے لگا اور اس کا ہاتھ تھام کر اپنے ہونٹوں سے لگایا
“چلو یہ بھی اچھی بات ہے مما اور تمہارے درمیان روایتی ساس بہو والا رشتہ موجود نہیں ہے”
آزھاد حنین کو چھیڑتا ہوا بولا
“بتاؤ نا آنٹی کیا کہہ رہی تھی”
حنین دوبارہ ضد کرتی ہوئی آزھاد سے پوچھنے لگی
“کیا کہنا یار انہوں نے ڈانٹ رہی تھی مجھے، میری غلطی بتارہی تھی اپنی تربیت یاد دلارہی تھی اور مجھے شرمندہ کر رہی تھی جو میں اتنا خاص نہیں ہوا”
آزھاد بالکل سنجیدگی سے حنین کو بتانے لگا۔۔ اس کی آخری بات پر حنین نے افسوس سے اسے دیکھا
“تمہیں آپی کے ساتھ اتنا برا سلوک نہیں کرنا چاہیے تھا آزھاد، انہیں کتنی تکلیف ہوئی ہوگی”
حنین کا دماغ نوین کی طرف گیا تو وہ آزھاد سے شکوہ کرنے لگی حنین کی بات سن کر آزھاد اٹھ کر بیٹھ گیا
“پھر شروع ہوگئی تم اپنی بہن کی سائیڈ لینا۔۔ تمہیں تکلیف دیتے ہوئے اس نے یہ سوچا کہ تمہیں کتنی تکلیف ہو رہی ہوگی کیسی بہن ہے تمہاری، میں نے تو آج تک کومل پر کبھی مذاق میں بھی ہاتھ نہیں لگایا اور اس نے تمہارے ساتھ کتنا برا سلوک کیا ہے۔۔۔ آخر کس بات پر اس نے اتنا اوور ری ایکٹ کیا ہنی”
آزھاد حنین کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“وہ نہیں چاہتی تھی میرا اور تمہارا ریلیشن آگے بڑھے شاید انہیں آج اندازہ ہو گیا کہ۔۔۔”
حنین ادھوری بات چھوڑ کر خاموش ہو گئی جبکہ آزھاد ماتھے پر شکن لائے حنین کی بات سننے لگا اور سیگریٹ منہ میں دبائے نورین کی سوچ پر غصہ کرتا ہوا اسموگنگ کرنے لگا
“اوئے غصہ کرنے کی نہیں ہورہی ٹھیک کرو اپنا موڈ”
حنین آزھاد کے ماتھے پر شکنیں دیکھ کر اس کو گریبان سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ کر سگریٹ اس کے منہ سے نکال کر پھینکتی ہوئی بولی
“تمہیں نہیں آتا شوہر کا موڈ ٹھیک کرنا”
وہ حنین کے اوپر جھک کر سنجیدگی سے اس سے پوچھنے لگا تو حنین نے نفی میں سر ہلایا
“میں سکھاؤ”
آزھاد بولتا ہوا حنین کی گردن پر جھگا اور اپنے ہونٹ رکھ دیئے اس کے نائٹ ڈریس کے بٹن کھولنے لگا
” پہلے یہ بتاؤ تم نے صبح مُکرم کے رشتے کے لیے ایگری کیو کیا۔۔۔ وہ کومل کے ساتھ بالکل بھی سوٹ نہیں کرے گا آزھاد”
حنین اس کے شولڈر پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے کرتی ہوئی بولی
“کل رات کو تو تم کہہ رہی تھی مُکرم اتنا برا بھی نہیں”
آزھاد اسے کل والی بات یاد دلانے لگا
“اچھے ہونے کا یہ مطلب تھوڑی کے اسے بہن کے لیے سوچ لیا جائے۔۔۔۔ کومل بہت سینسیٹو ہے اسکے لیے کوئی بہت کیئرنگ سا انسان ہونا چاہیے”
حنین اپنی رائے دیتی ہوئی بولی تو آزھاد کا دماغ عباس کی طرف چلا گیا
“میں بھی بہت سینسیٹو ہو اب خاموشی سے لیٹی رہو”
آزھاد اسکی شولڈر سے شرٹ نیچے کرتا ہوا بولا اسکی جلد پر اب بھی سرخی موجود تھی
“درد تو نہیں ہو رہا”
وہ حنین کے کندھے اور بازو پر نرمی سے اپنی انگلیاں پھیرتا ہوا پوچھتا لگا حنین نے نفی میں سر ہلایا آزھاد اب نرمی سے ان نشانات کو اپنے ہونٹوں سے چھونے لگا
“تم آج رات بھی مجھے ڈرانے کا ارادہ رکھتے ہو”
وہ اپنے بازو پر آزھاد کے ہونٹوں کا لمس محسوس کر کے پوچھنے لگی
“تمہیں میرا قریب آنا ڈراتا ہے”
آزھاد اس پر جھکا اسے آنکھیں دکھاتا ہوا پوچھنے لگا
“تمہاری شدتیں نہیں سہہ پاتی میں، تم نے مجھے کل رات سونے نہیں دیا”
وہ اپنی نگاہیں نیچی کرکے بولی۔۔ آزھاد نے مسکرا کر اس کے ماتھے کو اپنے ہونٹوں سے چھوا
“تم نے پورا ایک مہینہ خود کو مجھ سے دور رکھا شدتیں تو برداشت کرنی پڑے گی نہ پھر،، ویسے کل رات تم پورے دو گھنٹے سوئی تھی”
آزھاد بہت پیار سے اسے بتانے لگا
“پورے دو گھنٹے نہیں صرف دو گھنٹے”
حنین آنکھیں دکھا کر اسے جتاتی ہوئی بولی
“اوکے سوجانا مگر دس منٹ بعد، قسط نمبر تین میں کل دکھاو گا بھرپور شدتوں کے ساتھ”
آزھاد بولتا ہوا دوبارہ اسکی گردن پر جھکا۔۔۔ اب وہ گردن سے حدود پار کر رہا تھا
“آزھاد”
حنین نے آنکھیں بند کرکے اس کو پکارا مگر آزھاد اپنے ہاتھوں کی انگلیاں کھولے اپنا ہاتھ نرمی سے حنین کے چہرے پر رکھ چکا تھا۔۔۔ شاید وہ اس وقت اپنے کام میں مداخلت برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں تھا۔۔۔اسلیے حنین کو دس منٹ خاموش رہنا پڑا
_____________
نوین سو کر اٹھی تو اس کا موڈ خراب تھا کل رات شاہنواز وجیہہ کو اس کے روم میں چھوڑنے گیا تو ایک گھنٹے بعد واپس آیا جس پر نوین نے ذرا بھی اعتراض نہیں کیا مگر رات کے آخری پہر جب نوین کی آنکھ کھلی تب شاہنواز اس کے روم میں موجود نہیں تھا وہ یقیناً اس کے سونے کے بعد دوبارہ وجیہہ کے پاس اس کے روم میں چلا گیا تھا۔۔۔ پہلی بار اسے شانواز اوجیہ پر بے حد غصہ آیا
ڈریس چینج کرکے اس نے ڈائنگ ہال میں قدم رکھا تو ٹیبل پر شاہنواز اور وجیہہ تو موجود نہیں تھے البتہ صبح صبح آزھاد کی فضول حرکتیں دیکھ کر وہ مزید چڑ گئی۔۔
حنین اپنے ہاتھ سے نیوالے بنا کر اسکے منہ میں ڈال رہی تھی اور وہ نیوالے کے ساتھ ساتھ جان بوجھ کر حنین کی انگلی کاٹ رہا تھا اور اس کی حرکت پر حنین اسے گھورتی ہوئی اپنی ہنسی بھی چھپا رہی تھی
نوین خاموشی سے ڈائینگ ٹیبل پر آئی اور کرسی کسکا کر بیٹھ گئی۔۔۔ آزھاد اب سیدھا بیٹھ کر کافی کے سپ لینے لگا جبکہ حنین نوین کو دیکھتی ہوئی خاموشی سے اپنا ناشتہ کرنے لگی
“کھلاؤ ناں ہنی یار جیسے تھوڑی دیر پہلے اپنے چھوٹے چھوٹے پیارے پیارے ہاتھ سے کھلا رہی تھی”
آزھاد کافی کا مگ رکھتا ہوا حنین کو دیکھ کر کہنے لگا نوین خار بھری نظر اس پر ڈالی جبکہ حنین آزھاد کو آنکھیں دکھانے لگی
“شرم آ رہی ہے اپنی آپی کے سامنے،، چلو میں تمہیں اپنے ہاتھ سے کھلا دیتا ہوں” آزھاد نے اپنی پلیٹ سے فرینچ ٹوس اٹھا کر حنین کے منہ کی طرف بڑھایا
“آزھاد پلیز”
حنین آہستہ سے بولتی ہوئی اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں منع کرنے لگی اور اس سے ہاتھ سے فرینچ ٹوس لے کر خود کھانے لگی۔۔۔ نوین ایسی ہوگئی جیسے وہ ان دونوں کو دیکھ ہی نہ رہی ہو
“دوسروں کے سامنے کتنا شرماتی ہو یار تم اور اکیلے میں اُففف۔۔۔ آج شرافت سے میرے آفس جانے کے بعد اپنے نیلس کاٹ لینا،، کل رات بہت زخمی کیا ہے تم نے مجھے”
آزھاد مزے سے کافی پیتا ہوا بولا حنین منہ کھولے اس کے جھوٹ بولتا دیکھنے لگی جبکہ نوین ایسے پوز کر رہی تھی جیسے اس نے اپنے کانوں میں روئی ڈال لی ہو
“آزھاد تم لیٹ ہو رہے ہوں تمہیں آفس جانا چاہیے اب”
حنین آزھاد کو گھورتی ہوئی آہستہ سے بولی
“چلا جاؤ گا میری جان مگر آج تم بلیک ڈریس میں ریڈی رہنا کیوکہ میں آج بھی اپنی بلیک اینڈ وائٹ نائٹ کو کل رات کی طرح کلر فل بنانا چاہتا ہوں”
حنین اس کی بات سن کر ناراض نظروں سے آزھاد کو دیکھنے لگی وہ نوین کو سنانے کے لیے بہت فضول بول رہا تھا جبکہ حنین کے دیکھنے پر آزھاد ڈھیٹ بن کر مسکرا رہا تھا
اتنے میں شاہنواز ویل چیئر تھامے وجیہہ کے ساتھ ناشتے کی ٹیبل پر آیا نوین ان دونوں کو بھی نظر انداز کیے اپنا ناشتہ کرنے لگی
“نوین میڈیسن لی تھی تم نے صبح کی”
شاہنواز اپنی کرسی پر بیٹھتا ہوا نوین سے پوچھنے لگا
“ظاہری بات ہے اپنا خیال میں خود ہی رکھو گی اور کون رکھے گا”
نوین کسی کو دیکھے بغیر اپنی پلیٹ میں جھکی ہوئی بولی
“میں نے تمہیں کل رات کو کچھ کہا تھا”
شاہنواز نوین کو دیکھتا ہوا بولا اس کی بات سن کر نوین نے ایک نظر شاہنواز کو دیکھا وہ اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ کہہ رہا تھا نوین اٹھ کر حنین کے پاس آئی
“سوری کل میں نے تم پر غصہ کیا، مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا”
وہ حنین کے سامنے کھڑی ہوکر بولی تو حنین کرسی سے اٹھ کر اس کے گلے لگ گئی نوین اسے پیار کرنے لگی۔۔۔ آزھاد سر جھٹک کر آفس جانے کے لیے اٹھنے لگا
“آزھاد”
وجیہہ نے اسے پکارا تو وجیہہ کا اشارہ سمجھ کر اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں منع کرنے لگا جس پر وجیہہ نے اسے آنکھیں دکھائی تب وہ نوین کے سامنے آیا
“سوری میں نے کل تم پر غصہ کیا مجھے لگا تھا کہ مجھے ایسا ہی کرنا چاہیے تھا مگر یہ مما کا خیال تھا کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا”
وہ نوین کو بول کر کندھے اچکا کو وہاں سے چلا گیا۔۔۔ نوین اپنے دانت پیس کر رہ گئی جبکہ وجیہہ شاہنواز کو دیکھنے لگی
“اب تو میں واقعی جاننا چاہتا ہوں آپ نے کیا کھا کر اس کو پیدا کیا ہے”
شاہنواز ہلکی آواز میں سرگوشی کرتا ہوا وجیہہ سے بولا
****
آج آزھاد کا برتھ ڈے تھا یعنیٰ اس کا اسپیشل ڈے اور حنین آج کے دن اس کے لئے بہت اچھا سا تیار ہونا چاہتی تھی۔۔۔ وہ تھوڑی دیر پہلے ہی پالر سے گھر آئی تھی اور آئینے میں کھڑی اپنا جائزہ لے رہی تھی۔۔۔ ٹیل اسٹائل میکسی میں وہ شاید اس لیے بھی اور زیادہ پرکشش لگ رہی تھی کیوکہ وہ میک اپ نہیں کرتی تھی۔۔ آج صبح آزھاد نے جو ڈائمنڈ کا نیکلیس اسے پریزینٹ کیا تھا، اپنے گلے کی زینت بنا کر وہ اپنے روم سے باہر نکلی
“اتنا زیادہ تیار ہونے کی ضرورت کیا تھی”
حنین ہال میں آئی تو نوین اس کو دیکھتی ہوئی بولی
“آج آزھاد کا برتھڈے ہے”
تیار ہوکر تو نوین بھی کھڑی تھی مگر پھر بھی حنین نے اسے یاد دلایا
“تو”
نوین سوالیہ نظروں سے حنین سے پوچھنے لگی اور حنین کو سمجھ میں نہیں آیا اس “تو” کا وہ نوین کو کیا جواب دے
“تو اسی وجہ سے حنین آزھاد کے لیے تیار ہوئی ہے ایسا کیا ہوگیا آخر”
وجیہہ سلک کی ساڑھی باندھ ویل چیئر پر ہال میں آتی ہوئی نوین سے بولی
“میں تو اس لیے کہہ رہی تھی اسے بہت جلدی نظر لگ جاتی ہے اسی وجہ سے میں اسے میک اپ نہیں کرنے دیتی”
نوین ایک دم اپنے چہرے کے تاثرات نارمل کرتی ہوئی وجیہہ کو بتانے لگی
“تمہاری بات ٹھیک ہے شادی سے پہلے لڑکیوں کو اتنا تیار نہیں ہونا چاہیے مگر اب حنین میرڈ ہے اپنے شوہر کے لئے تیار ہونے میں کوئی برائی نہیں۔۔۔ اور پیار سے دیکھنے والی نظر نقصان نہیں پہنچاتی ہے بے فکر رہو”
وجیہہ نوین کو دیکھتی ہوئی بولی حنین خاموشی رہی
“ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ وجیہہ، شاہنواز ابھی تک نہیں آئے کب تک نکلنا ہے ہمیں”
نوین وجیہہ سے شاہنواز کے متعلق پوچھنے لگی
“آزھاد نے تھوڑی دیر پہلے کال کر کے مجھے بتایا تھا وہ اور سر ہوٹل پہنچ جائیں گے ہمہیں ڈرائیور کے ساتھ ہوٹل جانا ہے”
حنین وجیہہ اور نوین کو باری باری دیکھتی ہوئی بولی
****
“اگر مجھے معلوم ہوتا میری بیوی نے آج میرے اس طرح ہوش اڑانے ہیں تو قسم سے آج کی یہ پارٹی میں کینسل کروا دیتا اور تمہیں بیڈ روم سے باہر نہیں نکلنے دیتا”
آزھاد تھوڑی دیر پہلے ہوٹل پہنچا تھا سب سے مل کر مبارکباد وصول کرتا ہوا وہ حنین کے پاس آیا گہری نظروں سے اس کا جائزہ لینے کے بعد بولا
“یہ پبلگ پلیس ہے آزھاد، یہاں اس طرح مت دیکھو پلیز”
حنین اس کی نظروں سے نروس ہو کر اسے بولنے لگی
“پبلک پلیس ہے اسی لئے تو فاصلہ رکھ کر صرف دیکھنے پر کام چلا رہا ہوں۔۔۔ جب بیڈ روم میں پہنچ کر تمہیں قریب سے دیکھوں گا۔۔۔ یقین جانو آج تمہیں اپنی خیریت محسوس نہیں ہوگی آج قسط نمبر پانچ وہ بھی جذباتی انداز میں”
وہ حنین کو مزید نروس کرتا ہوا بولا
“مینی مینی ہیپی ریٹنز آف دی ڈے۔۔ تمہارے لئے میں کوئی گفٹ نہیں لا سکی دراصل گفٹ میں تمہیں ایسا دینا چاہ رہی تھی جو تمہیں ساری زندگی یاد رہے،، اس لیے اپنا گفٹ ادھار سمجھو مجھ پر”
آزھاد حنین سے باتیں کر رہا تھا تب نوین آزھاد کے پاس آکر بولی
“میں انتظار کرو گا تمہارے گفٹ کا”
آزھاد نوین کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا اور وہاں سے چلا گیا۔۔۔ حنین کنفیوز ہو کر نوین کو دیکھنے لگی وہ ایک نظر حنین کو دیکھ کر مسکراتی ہوئی وہاں سے چلی گئی
****
اس کی آنکھیں کافی دیر سے صرف ایک ہی شخص کی منتظر تھی اور جب وہ اسے داخلی راستے سے اپنی طرف آتا ہوا دکھائی دیا تو کومل کی آنکھیں خوشی سے روشن ہوگئی۔۔۔
“یہ ٹھیک نہیں ہے میں نے کال رات کال پر تم سے ننھی سی فرمائش کی تھی اور تم نے آج وہ پوری نہیں کی”
عباس کومل کے قریب آیا اسے دیکھتا ہوا بولا
“آپ چاہ رہے تھے میں بھائی کی برتھ ڈے والے دن آپکی ننھی سی فرمائش پر لونگ اسکرٹ پر دو پونیاں باندھ یہاں آتی”
کومل عباس کو آنکھیں دکھاتی ہوئی پوچھنے لگی
“عباس کومی بےبی کو مس کر رہا ہے”
عباس کومل کو چھیڑتا ہوا اپنی مسکراہٹ چھپاکر بولا
“اور یہ جو کومل کھڑی ہے آپکے سامنے اسکی کیا ویلیو ہے آپکی نظر میں”
کومل خفا ہوتی ہوئی عباس سے پوچھنے لگی
“تو تم کومی بےبی سے جیلس ہو رہی ہو”
عباس اس کا خفا خفا سا روپ آنکھوں میں سماتا ہوا پوچھنے لگا۔۔۔ کومل اسکی بات سن کر جانے لگی
“کومل رکو پلیز”
عباس اسکا جاتا ہوا دیکھ کر ایک دم بولا کومل واپس مڑ کر عباس کو دیکھنے لگی
“کومی بےبی عباس کی فرینڈ تھی جبکہ کومل کو عباس اپنی وائف بنا کر اپنے گھر میں لانا چاہتا ہے اور مزید اپنی ویلیو جاننی ہے تو جلدی سے میری زندگی میں آجاو،، گرانٹی دیتا ہو کومل خود پر رشک کرے گی”
عباس کی بات سن کر کومل پلکیں جھکا کر مسکرانے لگی
“مما سے مل لیں وہ تھوڑی دیر پہلے بھائی سے آپ کا پوچھ رہی تھی”
کومل اسکی پر شوخ نظروں سے گھبراتی ہوئی کہنے لگی
“میں نے نزہت خالہ سے بات کرلی ہے آج، جلد ہی انہیں تمہارے گھر لے کر آو گا”
عباس کومل کو دیکھتا ہوا بولا تو کومل اس کی بات سن کر مسکرا دی
****
“کیسا ہے بڈی بہت بہت مبارک ہو”
آزھاد باری باری فصیح اور مُکرم سے ملا اور مبارک باد وصول کی
“دیکھ یار میں تو یہ پریزنٹ وریزنٹ دینے کے بالکل بھی فارم میں نہیں ہوں بلکہ الٹا مجھے تیرے فلیٹ میں رہنا پڑ رہا ہے وہ بھی اپنے باپ کی وجہ سے”
فصیح دکھی انداز میں آزھاد کو دیکھتا ہوا بولا
“تو کس نے مشورہ دیا تھا ایک ماڈل سے شادی کرنے کو انکل نے تو پھر یہی اسٹیپ لینا تھا”
فصیح کی شادی کے دوسرے دن بعد ہی فصیح کے فادر نے اسے اور اس کی بیوی کو گھر سے بے دخل کر دیا اور جب سے ہی فصیح اپنی بیوی کے ساتھ آزھاد کے فلیٹ میں رہ رہا تھا
“دیکھو یار ماڈلنگ وہ پہلے کرتی تھی اب وہ تم دونوں کی بھابھی ہے اس لئے زرا تمیز سے”
آزھاد کی بات سن کر فصیح آزھاد کے ساتھ ساتھ مُکرم کو بھی دیکھتا ہوا بولا کیونکہ تھوڑی دیر پہلے مُکرم بھی اس کی بیوی کی ماڈلنگ پر کوئی کمنٹ پاس کر رہا تھا
“نیا نیا بخار چڑھا ہے اس کو عشق کا جلدی اتر جائے گا” مُکرم آزھاد کے ہاتھ پر تالی مارتا ہوا بولا تو آزھاد ہنسا
“اے مُکرم تو فضول کی مت ہانک۔۔۔ چل آزھاد تھوڑا دوستی کا فرض نبھا پیسوں کی ضرورت ہے مجھے والٹ نکال جلدی سے”
فصیح آزھاد کو دیکھتا ہوا بولا کیوکہ اس کے اکاؤنٹ میں موجود رقم چند دنوں میں ہی تیزی سے خرچ ہو چکی تھی
“دوستی کا فرض میں اپنا فلیٹ رہنے کے لیے تمہیں دے کر نبھا چکا ہوں تم بھول رہے ہو”
آزھاد فصیح کو یاد دلاتا ہوا بولا
“اب دوست ہوکر تو ایسا کرے گا میرے ساتھ”
فصیح مظلوم شکل بنا کر بولا تو آزھاد کو والٹ نکالنا پڑا
“سالے وہ جو تُو نے بیس ہزار کی رقم مجھ سے پرسوں لی تھی اس کا کیا کیا” مُکرم کہ بولنے پر آزھاد چونک کر اسے دیکھنے لگا جبکہ فصیح دانت پیس کر مُکرم کو آنکھیں دکھانے لگا
“تجھے نہیں معلوم ان عورتوں کے اخراجات گھر داری کا الگ پنگا، تو کیوں رُک گیا یار دے ناں پیسے۔۔ یہ ایسے ہی بک کر رہا ہے”
فصیح مُکرم کو آنکھیں دکھاتا ہوا آزھاد سے بولا
“فی الحال یہی اماؤنٹ ہے میرے پاس اسی سے کام چلاؤ۔۔۔ اب جب اتنا بڑا قدم اٹھا لیا ہے تو ذمہ داری بھی نبھاؤ”
آزھاد 25000 کی اماؤنٹ اسے دیتا ہوا بولا
“اچھا اب زیادہ لیکچر نہیں دے”
فصیح آزھاد کو بولتا ہوا اماؤنٹ اپنے والٹ میں رکھنے لگا تو آزھاد کی نظر عباس پر پڑی تو وہ اس سے ملنے چلا گیا
“وہاں سامنے بیٹھ میں بھابھی سے مل کر آتا ہوں”
مکرم حنین کو دور سے دیکھ کر فصیح کو کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا
فصیح پاس والی ٹیبل پر جانے لگا تب اسے سامنے سے نوین آتی دکھائی دی اسے دیکھ کر فصیح کو روکنا پڑا۔۔۔ وہ کافی دیر سے ان تینوں کو دیکھ رہی تھی فاصلہ کم ہونے کی وجہ سے ان کی تھوڑی بہت گفتگو بھی سن چکی تھی
“تو تم آزھاد کے دوست ہو فصیح”
نوین فصیح کے پاس آ کر اس سے بولی
“جی میرا نام فصیح ہے۔۔ آپ یقیناً آزھاد کی وائف کی سسٹر ہیں”
فڈیح نوین کو پہچان چکا تھا جب ہی وہ اپنا تعارف کروانے کے بعد نوین سے پوچھنے لگا
“مسز شاہنواز ہوں میں اور اپنا یہی تعارف مجھے پسند ہے”
نوین سنجیدگی سے اسے جتاتی ہوئی بولی فصیح غور سے نوین کو دیکھنے لگا پھر اسے دیکھ کر مسکرایا
“جس میں آپ کمفرٹیبل فیل کریں میم، ہم بھی اسی میں خوش۔۔۔ تو کہیے مسسز شاہنواز میرے لائق کوئی خدمت”
فصیح مسکراتا ہوا دوستانہ لہجے میں نوین سے بولا
“خدمت تو تم میری کرسکتے ہو جس کا تمہیں اچھا معاوضہ بھی ملے گا مگر کام میں ایمانداری شرط اوّل ہے”
نوین غور سے فصیح کو دیکھتی ہوئی بولی
“آپ مجھ پر مکمل بھروسہ کر سکتی ہیں میسز شاہنواز مجھے خوشی ہوگی کہ میں آپ کے کام آ سکوں”
فصیح نے مسکراتے ہوئے اسے اپنا اعتبار دلایا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *